بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المنافقون — Surah Munafiqun
آیت نمبر 11
کل آیات: 11
قرآن کریم المنافقون آیت 11
آیت نمبر: 11 — سورۃ المنافقون islamicurdubooks.com ↗
وَ لَنۡ یُّؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفۡسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُہَا ؕ وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۱﴾
حالانکہ جب کسی کی مہلت عمل پوری ہونے کا وقت آ جاتا ہے تو اللہ اُس کو ہرگز مزید مہلت نہیں دیتا، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے
اور جب کسی کا مقرره وقت آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہر گز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بخوبی باخبر ہے
اور ہرگز اللہ کسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا وعدہ آجائے اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
اورجب کسی شخص کی مدت پوری ہو جائے توخدا مزید مہلت نہیں دیتا اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
اور اللہ کسی جان کو ہرگز مہلت نہیں دے گا جب اس کا وقت آگیا اور اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کر رہے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

موت کے وقت خواہش اعمال ٭٭

اس آیت میں تو کافروں کی مذمت کا ذکر ہے، دوسری آیت میں نیک عمل میں کمی کرنے والوں کے افسوس کا بیان اس طرح ہوا ہے، «حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدهمْ الْمَوْت قَالَ رَبّ اِرْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْت كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:99-100] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب ان میں سے کسی کو موت آنے لگتی ہے، تو کہتا ہے، میرے رب! مجھے لوٹا دے، تو میں نیک اعمال کر لوں ‘۔ یہاں فرماتا ہے ’ موت کا وقت آگے پیچھے نہیں ہوتا، اللہ خود خبر رکھنے والا ہے کہ کون اپنے قول میں صادق ہے اور اپنے سوال میں حق بجانب ہے یہ لوگ تو اگر لوٹائے جائیں تو پھر ان باتوں کو بھول جائیں گے اور وہی کچھ کرنے لگ جائیں گے جو اس سے پہلے کرتے رہے ‘۔ ترمذی میں { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر وہ شخص جو مالدار ہو اور اس نے حج نہ کیا ہو یا زکوٰۃ نہ دی ہو وہ موت کے وقت دنیا میں واپس لوٹنے کی آرزو کرتا ہے، ایک شخص نے کہا: اللہ کا خوف کیجئے واپسی کی آرزو تو کافر کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: جلدی کیوں کرتے ہو؟ سنو! قرآن فرماتا ہے: پھر آپ نے یہ پورا رکوع تلاوت کر سنایا اس نے پوچھا: زکوٰۃ کتنے میں واجب ہے فرمایا: دو سو اور اس سے زیادہ میں، پوچھا: حج کب فرض ہو جاتا ہے، فرمایا: جب راہ خرچ اور سواری خرچ کی طاقت ہو۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3316،قال الشيخ الألباني:-ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرفوع روایت بھی اسی طرح مروی ہے لیکن موقوف ہی زیادہ صحیح ہے، ضحاک رحمہ اللہ کی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما والی بھی منقطع ہے، دسری سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے وہ بھی ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے زیادتی عمر کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اجل آ جائے پھر مؤخر نہیں ہوتی، زیادتی عمر صرف اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو نیک صالح اولاد دے، جو اس کے لیے اس کے مرنے کے بعد دعا کرتی رہے اور دعا اسے اس کی قبر میں پہنچتی رہے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ موضوع] ‏‏‏‏ اللہ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ المنافقون کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ»

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 11) ➊ {وَ لَنْ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس کی آیت (۴۹) کی تفسیر۔ ➋ { وَ اللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ:} اس میں تنبیہ ہے کہ ہر کام کرتے وقت یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو تمھارے ہر عمل کی پوری خبر ہے۔ اس کے علاوہ اس میں نیک عمل والوں کے لیے وعدہ ہے اور برے عمل والوں کے لیے وعید ہے۔
← پچھلی آیت (10) پوری سورۃ اگلی آیت →