بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المنافقون — Surah Munafiqun
آیت نمبر 10
کل آیات: 11
قرآن کریم المنافقون آیت 10
آیت نمبر: 10 — سورۃ المنافقون islamicurdubooks.com ↗
وَ اَنۡفِقُوۡا مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ فَیَقُوۡلَ رَبِّ لَوۡ لَاۤ اَخَّرۡتَنِیۡۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَکُنۡ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰﴾
جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے اور اُس وقت وہ کہے کہ "اے میرے رب، کیوں نہ تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہو جاتا"
اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راه میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں
اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے، اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا،
اور جو کچھ ہم نے تمہیں رزق دیا ہے اس سے (میری راہ میں) خرچ کرو قبل اس سے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے اور پھر وہ کہے کہ میرے پروردگار! تونے مجھے کیوں نہ تھوڑی سی مدت تک مہلت دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوکار بندوں میں سے ہو جاتا۔
اور اس میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمھیں دیا ہے، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے، پھر وہ کہے اے میرے رب! تونے مجھے قریب مدت تک مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیک لوگوں میں سے ہو جاتا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

موت کے وقت خواہش اعمال ٭٭

اس آیت میں تو کافروں کی مذمت کا ذکر ہے، دوسری آیت میں نیک عمل میں کمی کرنے والوں کے افسوس کا بیان اس طرح ہوا ہے، «حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدهمْ الْمَوْت قَالَ رَبّ اِرْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْت كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:99-100] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب ان میں سے کسی کو موت آنے لگتی ہے، تو کہتا ہے، میرے رب! مجھے لوٹا دے، تو میں نیک اعمال کر لوں ‘۔ یہاں فرماتا ہے ’ موت کا وقت آگے پیچھے نہیں ہوتا، اللہ خود خبر رکھنے والا ہے کہ کون اپنے قول میں صادق ہے اور اپنے سوال میں حق بجانب ہے یہ لوگ تو اگر لوٹائے جائیں تو پھر ان باتوں کو بھول جائیں گے اور وہی کچھ کرنے لگ جائیں گے جو اس سے پہلے کرتے رہے ‘۔ ترمذی میں { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر وہ شخص جو مالدار ہو اور اس نے حج نہ کیا ہو یا زکوٰۃ نہ دی ہو وہ موت کے وقت دنیا میں واپس لوٹنے کی آرزو کرتا ہے، ایک شخص نے کہا: اللہ کا خوف کیجئے واپسی کی آرزو تو کافر کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: جلدی کیوں کرتے ہو؟ سنو! قرآن فرماتا ہے: پھر آپ نے یہ پورا رکوع تلاوت کر سنایا اس نے پوچھا: زکوٰۃ کتنے میں واجب ہے فرمایا: دو سو اور اس سے زیادہ میں، پوچھا: حج کب فرض ہو جاتا ہے، فرمایا: جب راہ خرچ اور سواری خرچ کی طاقت ہو۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3316،قال الشيخ الألباني:-ضعیف] ‏‏‏‏ ایک مرفوع روایت بھی اسی طرح مروی ہے لیکن موقوف ہی زیادہ صحیح ہے، ضحاک رحمہ اللہ کی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما والی بھی منقطع ہے، دسری سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے وہ بھی ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے زیادتی عمر کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اجل آ جائے پھر مؤخر نہیں ہوتی، زیادتی عمر صرف اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو نیک صالح اولاد دے، جو اس کے لیے اس کے مرنے کے بعد دعا کرتی رہے اور دعا اسے اس کی قبر میں پہنچتی رہے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ موضوع] ‏‏‏‏ اللہ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ المنافقون کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ»

📖 احسن البیان

10۔ 1 خرچ کرنے سے مراد زکوٰۃ کی ادائیگی اور دیگر امور خیر میں خرچ کرنا ہے۔ 10۔ 2 اس سے معلوم ہوا کہ زکواۃ کی ادائیگی اور انفاق فی سبیل اللہ میں اور اسی طرح اگر حج کی استطاعت ہو تو اس کی ادائیگی میں قطعا تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ موت کا کوئی پتہ نہیں کس وقت آجائے؟ اور یہ فرائض اس کے ذمے رہ جائیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 10) ➊ {وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ …: ” مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی تیسری آیت کی تفسیر۔ نفاق سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے جتنا ہو سکے مرنے سے پہلے خرچ کرنے کا حکم دیا۔ ➋ { مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُوْلَ …:} یعنی مرتے وقت یہ دعا اور تمنا کرنا بے کار ہے، عقل مند کا کام یہ ہے کہ مہلت سے فائدہ اٹھائے اور مرنے سے پہلے آخرت کا سامان تیار کرے۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۴۴) اور سورۂ مومنون (۹۹، ۱۰۰)۔ ➌ {فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ:” فَاَصَّدَّقَ “} اصل میں {”فَأَتَصَدَّقُ“} ہے، اس پر نصب اس لیے آیا ہے کہ یہ{” لَوْ لَاۤ “} کے جواب میں ہے جو تحضیض کے لیے ہے اور اس میں طلب اور شرط کا مفہوم پایا جاتا ہے اور اس پر ”فاء“ آ رہی ہے جس کے بعد {”أَنْ“} ناصبہ مقدر ہے اور {” اَكُنْ “} مجزوم اس لیے ہے کہ اس کا عطف جواب شرط کے محل پر ہے اور اس پر ”فاء“ نہیں آ رہی، گویا اصل کلام اس طرح ہے: {”رَبِّ أَخِّرْنِيْ إِلٰی أَجَلٍ قَرِيْبٍ فَإِنْ أَخَّرْتَنِيْ أَتَصَدَّقْ وَ أَكُنْ مِّنَ الصَّالِحِيْنَ۔“}
← پچھلی آیت (9) پوری سورۃ اگلی آیت (11) →