پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا
مولانا محمد جوناگڑھی
پاک ہے وه اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں، یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو، راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے گرداگرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں، بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
پاک ہے وہ (خدا) جو اپنے بندہ (خاص) کو رات کے ایک حصہ میں مسجد الحرام سے اس مسجدِ اقصیٰ تک لے گیا جس کے گرد و پیش ہم نے برکت دی ہے تاکہ ہم انہیں اپنی (قدرت کی) کچھ نشانیاں دکھائیں بے شک وہ بڑا سننے والا، بڑا دیکھنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پاک ہے وہ جو رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو حرمت والی مسجد سے بہت دور کی اس مسجد تک لے گیا جس کے اردگرد کو ہم نے بہت برکت دی ہے، تاکہ ہم اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بلاشبہ وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سرگزشت معراج کا تسلسل ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی ذات کی عزت و عظمت اور اپنی پاکیزگی و قدرت بیان فرماتا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس جیسی قدرت کسی میں نہیں۔ وہی عبادت کے لائق اور صرف وہی ساری مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔ وہ اپنے بندے یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی رات کے ایک حصے میں مکہ مکرمہ کی مسجد سے بیت المقدس کی مسجد تک لے گیا۔ جو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے سے انبیاء کرام علیہم السلام کا مرکز رہا۔ اسی لیے تمام انبیاء علیہم السلام وہیں آپ کے پاس جمع کئے گئے اور آپ نے وہیں ان سب کی امامت کی۔ جو اس امر کی دلیل ہے کہ امام اعظم اور رئیس مقدم آپ ہی ہیں۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ و علیہم اجمعین۔
اس مسجد کے اردگرد ہم نے برکت دے رکھی ہے۔ پھل، پھول، کھیت باغات وغیرہ سے۔ یہ اس لیے کہ ہمارا ارادہ اپنے اس محترم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زبردست نشانیاں دکھانے کا تھا۔ جو آپ نے اس رات ملاحظہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں، مومنوں، کافروں، یقین رکھنے والوں اور انکار کرنے والوں سب کی باتیں سننے والا ہے اور سب کو دیکھ رہا ہے۔ ہر ایک کو وہی دے گا، جس کا وہ مستحق ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ معراج کی بابت بہت سی حدیثیں ہیں جو اب بیان ہو رہی ہیں۔
صحیح بخاری شریف میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ معراج والی رات جب کہ کعبۃ اللہ شریف سے آپ کو بلوایا گیا، آپ کے پاس تین فرشتے آئے، اس سے پہلے کہ آپ کی طرف وحی کی جائے۔ اس وقت آپ بیت اللہ شریف میں سوئے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک جو سب سے آگے تھا اس نے پوچھا کہ یہ ان سب میں سے کون ہیں؟ درمیان والے نے جواب دیا کہ یہ ان سب میں بہترین ہیں۔ تو سب سے اخیر والے نے کہا۔ پھر ان کو لے چلو۔ بس اس رات تو اتنا ہی ہوا۔ پھر آب نے انہیں نہ دیکھا۔
دوسری رات پھر یہ تینوں آئے۔ اس وقت بھی آپ سو رہے تھے۔ لیکن آپ کا سونا اس طرح کا تھا کہ آنکھیں سوتی تھیں اور دل جاگ رہا ہوتا۔ تمام انبیاء کی نیند اسی طرح کی ہوتی ہے۔ اس رات انہوں نے آپ سے کوئی بات نہ کی۔ آپ کو اٹھا کر چاہِ زمزم کے پاس لٹا دیا اور آپ کا سینہ گردن تک خود جبرائیل علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے چاک کیا۔ اور سینے اور پیٹ کی تمام چیزیں نکال کر اپنے ہاتھ سے دھوئیں۔ جب خوب پاک صاف کر چکے تو آپ کے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جس میں سونے کا ایک بڑا پیالہ تھا جو حکمت وایمان سے پر تھا۔ اس سے آپ کے سینے کو اور گلے کی رگوں کو پر کر دیا گیا۔ پھر سینے کو سی دیا گیا۔
پھر آپ کو آسمان دنیا کی طرف لے چڑھے۔ وہاں کے دروازوں میں سے ایک دروازے کو کھٹکھٹایا۔ فرشتوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا جبرائیل۔ پوچھا آپ کے ساتھ کون ہیں؟ فرمایا میرے ساتھ محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا۔ کیا آپ کو بلوایا گیا ہے جواب دیا کہ ”ہاں“، سب بہت خوش ہوئے اور مرحبا کہتے ہوئے آپ کو لے گئے۔
آسمانی فرشتے بھی کچھ نہیں جانتے کہ زمین پر اللہ تعالیٰ کیا کچھ کرنا چاہتا ہے۔ جب تک کہ انہیں معلوم نہ کرایا جائے۔ آپ نے آسمان دنیا پر آدم علیہ السلام کو پایا۔ جبرائیل علیہ السلام نے تعارف کرایا کہ ”یہ آپ کے والد آدم علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے۔“ آپ نے سلام کیا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا، مرحبا کہا اور فرمایا ”آپ میرے بہت ہی اچھے بیٹے ہیں۔“ وہاں دو نہریں جاری دیکھ کر آپ نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ”یہ نہریں کیا ہیں“؟ آپ نے جواب دیا کہ ”نیل اور فرات کا عنصر۔“ پھر آپ کو آسمان میں لے چلے۔ آپ نے ایک اور نہر دیکھی، جس پر لؤلؤ اور موتیوں کے بالاخانے تھے، جس کی مٹی خالص مشک تھے۔ پوچھا یہ کون سی نہر ہے؟ جواب ملا کہ یہ نہر کوثر ہے۔ جسے آپ کے پروردگار نے آپ کے لیے خاص طور پر مقرر کر رکھی ہے۔
پھر آپ کو تیسرے آسمان پر لے گئے۔ وہاں کے فرشتوں سے بھی وہی سوال جواب وغیرہ ہوئے، جو آسمان اول پر اور دوسرے آسمان پر ہوئے تھے۔ پھر آپ کو چوتھے آسمان پر چڑھایا گیا۔ ان فرشتوں نے بھی اسی طرح پوچھا اور جواب پایا وغیرہ۔ پھر پانچویں آسمان پر چڑھائے گئے۔ وہاں بھی وہی کہا سنا گیا، پھر چھٹے پر پھر ساتویں آسمان پر گئے، وہاں بھی بات چیت ہوئی۔ ہر آسمان پر وہاں کے نبیوں سے ملاقاتیں ہوئیں جن کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے جن میں سے مجھے یہ یاد ہیں کہ دوسرے آسمان میں ادریس علیہ السلام، چوتھے آسمان میں ہارون علیہ السلام، پانچویں والے کا نام مجھے یاد نہیں، چھٹے میں ابراہیم علیہ السلام اور ساتویں میں موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام۔
جب آپ یہاں سے بھی اونچے چلے تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا ”اے اللہ میرا خیال تھا کہ مجھ سے بلند تو کسی کو نہ کرے گا“ اب آپ اس بلندی پر پہنچے جس کا علم اللہ ہی کو ہے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے اور اللہ تعالیٰ آپ سے بہت نزدیک ہوا۔ بقدر دو کمان کے بلکہ اس سے کم فاصلے پر۔ پھر اللہ کی طرف سے آپ کی جانب وحی کی گئی۔ جس میں آپ کی امت پر ہر دن رات میں پچاس نمازیں فرض ہوئیں۔ جب آپ وہاں سے اترے تو موسیٰ علیہ السلام نے آپ کو روکا اور پوچھا کیا حکم ملا؟ فرمایا ”دن رات میں پچاس نمازوں کا۔“ کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ آپ کی امت کی طاقت سے باہر ہے۔ آپ واپس جائیں اور کمی کی طلب کیجئے۔“
آپ نے جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا کہ گویا آپ ان سے مشورہ لے رہے ہیں۔ ان کا بھی اشارہ پایا کہ ”اگر آپ کی مرضی ہو تو کیا حرج ہے“؟ آپ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف گئے اور اپنی جگہ ٹھہر کر دعا کی کہ ”اے اللہ ہمیں تخفیف عطا ہو۔ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔“ پس اللہ تعالیٰ نے دس نمازیں کم کر دیں۔ پھر آپ واپس لوٹے۔ موسیٰ علیہ السلام نے آپ کو پھر روکا اور یہ سن کر فرمایا۔ جاؤ اور کم کراؤ۔ آپ پھر گئے، پھر کم ہوئیں، یہاں تک کہ آخر میں پانچ رہ گئیں۔
موسیٰ علیہ السلام نے پھر بھی فرمایا کہ ”دیکھو میں بنی اسرائیل میں اپنی عمر گزار کر آیا ہوں۔ انہیں اس سے بھی کم حکم تھا لیکن پھر بھی وہ بے طاقت ثابت ہوئے اور اسے چھوڑ بیٹھے۔ آپ کی امت تو ان سے بھی ضعیف ہے، جسم کے اعتبار سے بھی اور دل، بدن، آنکھ کان کے اعتبار سے بھی۔ آپ پھر جائیے اور اللہ تعالیٰ سے تخفیف کی طلب کیجئے۔ آپ نے پھر حسب عادت جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا۔ جبرائیل علیہ السلام آپ کو پھر اوپر لے گئے، آپ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ اے اللہ میری امت کے جسم، دل، کان آنکھیں اور بدن کمزور ہیں۔ ہم سے اور بھی تخفیف کر۔
اسی وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ نے جواب دیا «لبیک وسعدیک» ، فرمایا: سن میری باتیں بدلتی نہیں جو میں نے اب مقرر کیا ہے یہی میں ام الکتاب میں لکھ چکا ہوں۔ یہ پانچ ہیں پڑھنے کے اعتبار سے اور پچاس ہیں ثواب کے اعتبار سے۔ جب آپ والپس آئے موسیٰ علیہ السلام نے کہا، کہو سوال منظور ہوا؟ آپ نے فرمایا۔ ہاں کمی ہو گئی یعنی پانچ کا ثواب پچاس کا مل گیا ہر نیکی کا ثواب دس گنا عطا فرمایا جانے کا وعدہ ہو گیا۔
موسیٰ علیہ السلام نے پھر فرمایا کہ میں بنی اسرائیل کا تجربہ کر چکا ہوں، انہوں نے اس سے بھی ہلکے احکام کو ترک کر دیا تھا، آپ پھر جائیے اور کمی طلب کیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اے کلیم اللہ میں گیا، آیا، اب تو مجھے کچھ شرم سی محسوس ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا اچھا پھر تشریف لے جائیے۔ بسم اللہ کیجئے۔ اب جب آپ جاگے تو آپ مسجد الحرام میں ہی تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7517] صحیح بخاری شریف میں یہ حدیث کتاب التوحید میں بھی ہے اور صفۃ النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی ہے۔
یہی روایت شریک بن عبداللہ بن ابو نمر سے مروی ہے لیکن انہوں نے اضطراب کر دیا ہے بوجہ اپنی کمزوری حافظہ کم بالکل ٹھیک ضبط نہیں رکھا۔ ان احادیث کے آخر میں اس کا بیان آئے گا۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ بعض اسے واقعہ خواب بیان کرتے ہیں شاید اس جملے کی بنا پر جو اس کے آخر میں وارد ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ اس حدیث کے اس جملے کو جس میں ہے کہ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ قریب ہوا اور اتر آیا بس بقدر دو کمان کے ہو گیا۔ بلکہ اور نزدیک۔ شریک نامی راوی کی وہ زیادتی بتاتے ہیں جس میں وہ منفرد ہیں۔ اسی لیے بعض حضرات نے کہا کہ آپ نے اس رات اللہ عزوجل کو دیکھا۔
لیکن سیدہ عائشہ، سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم ان آیتوں کو اس پر محمول کرتے ہیں کہ آپ نے جرئیل علیہ السلام کو دیکھا۔ یہی زیادہ صحیح ہے اور امام بیہقی رحمہ اللہ کا فرمان بالکل حق ہے اور روایت میں ہے کہ { جب آپ سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے؟ تو آپ نے فرمایا۔ وہ نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟ اور روایت میں ہے کہ میں نے نور کو دیکھا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:178]
یہ جو سورۃ النجم میں ہے «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ» ’ یعنی پھر وہ نزدیک ہوا اور اتر آیا۔ ‘ ۱؎ [53-النجم:8] اس سے مراد جبرائیل ہیں جیسے کہ ان تینوں بزرگ صحابیوں رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بیان ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تو کوئی اس آیت کی اس تفسیر میں ان کا مخالف نظر نہیں آتا۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے پاس براق لایا گیا۔ جو گدھے سے اونچا اور خچر سے نیچا تھا، جو ایک ایک قدم اتنی اتنی دور رکھتا تھا، جتنی دور اس کی نگاہ پہنچے۔ میں اس پر سوار ہوا وہ مجھے لے چلا، میں بیت المقدس پہنچا اور اسی کنڈے میں اسے باندھ دیا، جہاں انبیاء علیہ السلام باندھاہ کرتے تھے، پھر میں نے مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی۔ جب وہاں سے نکلا تو جبرائیل علیہ السلام میرے پاس ایک برتن میں شراب لائے اور ایک میں دودھ۔ میں نے دودھ کو پسند کر لیا، جبرائیل نے فرمایا تم فطرت تک پہنچ گئے۔ }
پھر اوپر اولیٰ حدیث کی طرح آسمان اول پر پہنچنا، اس کا کھلوانا، فرشتوں کا دریافت کرنا، جواب پانا، ہر آسمان پر اسی طرح ہونا، بیان ہے۔ پہلے آسمان پر آدم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، جہنوں نے مرحبا کہا اور دعائے خیر کی۔ دوسرے آسمان پر یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام سے ملاقات ہونے کا ذکر ہے، جو دونوں آپس میں خالہ زاد بھائی بھائی تھے۔ ان دونوں نے بھی آپ کو مرحبا کہا اور دعائے خیر دی، پھر تیسرے آسمان پر یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، جنہیں آدھا حسن دیا گیا ہے، آب نے بھی مرحبا کہا، نیک دعا کی، پھر چوتھے آسمان پر ادریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، جن کی بابت فرمان الٰہی ہے «وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا» ۱؎ [19-مريم:57] ’ ہم نے اسے اونچی جگہ اٹھا لیا ہے۔ ‘
پانچویں آسمان پر ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، چھٹے آسمان پر موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، ساتویں آسمان پر ابراہیم علیہ السلام کو بیت المعمور سے تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے دیکھا۔ بیت المعمور میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں، مگر جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے، جس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے اور جس کے پھل مٹکے جیسے۔
اسے امر رب نے ڈھک رکھا تھا، اس خوبی کا کوئی بیان نہیں کر سکتا۔ پھر وحی ہونے کا اور پچاس نمازوں کے فرض ہونے کا اور موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے واپس جا جا کر کمی کرا کرا کر پانچ تک پہنچنے کا بیان ہے۔ اس میں ہر بار کے سوال پر پانچ کی کمی کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ { آخر میں آپ سے فرمایا کیا جو نیکی کا ارادہ کرے گو وہ عمل میں نہ آئے تاہم اسے ایک نیکی کا ثواب مل جاتا ہے اور اگر کرلے تو دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اور گناہ کے صرف ارادے سے گناہ نہیں لکھا جاتا اور کر لینے سے ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے- } ۱؎ [صحیح مسلم:162]
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس رات آپ کو اسراء بیت اللہ سے بیت المقدس تک ہوا اسی رات معراج بھی ہوئی اور یہی حق ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ { براق کی لگام بھی تھی اور زین بھی تھی۔ جب وہ سواری کے وقت کسمسایا تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا کیا کر رہا ہے؟ واللہ تجھ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے، آپ سے زیادہ بزرگ شخص کوئی سوار نہیں ہوا۔ پس براق پسینہ پسینہ ہو گیا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3131،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سرگزشت معراج ٭٭
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب مجھے میرے رب عزوجل کی طرف چڑھایا گیا تو میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جن کے تانبے کے ناخن تھے، جن سے وہ اپنے جہروں اور سینوں کو نوچ اور چھیل رہے تھے۔ میں نے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ تو جواب دیا گیا کہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزت وآبرو کے درپے رہتے تھے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4878،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے کہ { معراج والی رات جب میں موسیٰ علیہ السلام کی قبر سے گزرا تو میں نے انہیں وہاں نماز میں کھڑا پایا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2375]
{ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ سے مسجد اقصٰی کے نشانات پوچھے آپ نے بتانے شروع کئے ہی تھے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، آپ بجا ارشاد فرما رہے ہیں اور سچے ہیں۔ میری گواہی ہے کہ آپ رسول اللہ ہیں۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1329:صحیح] سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ رکھا تھا۔
مسند بزار میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں سویا ہوا تھا کہ جبرائیل علیہ السلام آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ دیا۔ پس میں کھڑا ہو کر ایک درخت میں بیٹھ گیا جس میں پرندوں کے مکان جیسے تھے ایک میں جبرائیل علیہ السلام بیٹھ گئے وہ درخت پھول گیا اور اونچا ہونا شروع ہوا یہاں تک کہ اگر میں چاہتا تو آسمان کو چھو لیتا۔ میں تو اپنی چادر ٹھیک کر رہا تھا، لیکن میں نے دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام سخت تواضع اور فروتنی کے عالم میں ہیں، تو میں جان گیا کہ اللہ کی معرفت کے علم میں یہ مجھ سے افضل ہیں، آسمان کا ایک دروازہ میرے لیے کھولا گیا۔ میں نے ایک زبردست عظیم الشان نور دیکھا، جو حجاب میں تھا اور اس کے اس طرف یاقوت اور موتی تھے، پھر میری جانب بہت کچھ وحی کی گئی۔ } ۱؎ [بزار کشف الاستار:47/1]
دلائل بیہقی میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے اور آپ کی پیٹھ کو انگلی سے اشارہ کیا، آپ ان کے ساتھ ایک درخت کی جانب چلے جس میں پرندوں کے گھونسلے جیسے تھے الخ اس میں یہ بھی ہے کہ جب ہماری طرف نور اترا تو جبرائیل علیہ السلام تو بیہوش ہو کر گر پڑے الخ پھر میری جانب وحی کی گئی کہ نبی اور بادشاہ بننا چاہتے ہو؟ یا نبی اور بندہ بننا چاہتے ہو اور جنتی؟ جبرائیل علیہ السلام نے اسی طرح تواضع سے گرے ہوئے، مجھے اشارے سے فرمایا کہ تواضع اختیار کرو، تو میں نے جواب دیا کہ اے اللہ میں نبی اور بندہ بننا منظور کرتا ہوں۔ } ۱؎ [مجمع الزوائد:18252:ضعیف و مرسل]
اگر یہ روایت صحیح ہو جائے تو ممکن ہے کہ یہ واقعہ معراج کے سوا اور ہو کیونکہ اس میں نہ بیت المقدس کا ذکر ہے نہ آسمان پر چڑھنے کا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
بزار کی ایک روایت میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا لیکن یہ روایت غریب ہے }۔ ۱؎ [ضعیف]
ابن جریر میں ہے کہ { براق نے جب جبرائیل کی بات سنی اور پھر وہ آپ کو سوار کرا کر کے لے چلا تو آپ نے راستے کے ایک کنارے پر ایک بڑھیا کو دیکھا پوچھا یہ کون ہے؟ جواب ملا کہ چلے چلئے۔ پھر آپ نے چلتے چلتے دیکھا کہ کوئی راستے سے یکسو ہے اور آپ کو بلا رہی ہے پھر آپ آگے بڑھے تو دیکھ کہ اللہ کی ایک مخلوق ہے اور باآواز بلند کہہ رہی ہے «السلام علیک یا اول السلام علیک یا اخر السلام علیک یا حاشر» ، جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا جواب دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سلام کا جواب دیا۔ پھر دوبارہ ایسا ہی ہوا، پھر تیسری مرتبہ بھی یہی ہوا، یہاں تک کہ آپ بیت المقدس پہنچے۔ وہاں آپ کے سامنے پانی، شراب اور دودھ پیش کیا گیا، آپ نے دودھ لے لیا جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا آپ نے راز فطرت پالیا۔ اگر آپ پانی کے برتن لے کر پی لیتے تو آب کی امت غرق ہو جاتی اور اگر آپ شراب پی لیتے تو آپ کی امت بہک جاتی۔ پھر آپ کے لیے آدم علیہ السلام سے لے کر آپ کے زمانے تک کے تمام انبیاء بھیجے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی امامت کرائی اور اس رات نماز سب نے آپ کی اقتداء میں پڑھی۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا راستے کے کنارے جس بڑھیا کو آپ نے دیکھا تو وہ گویا یہ دکھایا گیا کہ دنیا کی عمر اب صرف اتنی ہی باقی ہے جیسے اس بڑھیا کی عمر اور جس کی آواز پر آپ تو جہ کرنے والے تھے وہ دشمن اللہ ابلیس تھا اور جن کی سلام کی آوازیں آب نے سنیں وہ ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام تھے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22020:ضعیف] اس میں بھی بعض الفاظ میں غرابت ونکارت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور روایت میں ہے کہ { جب میں براق پر جبرائیل علیہ السلام کی معیت میں چلا تو ایک جگہ انہوں نے مجھ سے فرمایا یہیں اتر کے نماز ادا کیجئے جب میں نماز پڑھ چکا تو فرمایا۔ جانتے ہو کہ یہ کون سی جگہ ہے؟ یہ طیبہ (یعنی مدینہ) ہے یہی ہجرت گاہ ہے۔ پھر ایک اور جگہ مجھ سے نماز پڑھوائی اور فرمایا ”یہ طور سینا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا۔ پھر ایک اور جگہ نماز پڑھوا کر فرمایا۔ یہ بیت لحم ہے جہاں عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے پھر میں بیت المقدس پہنچا۔ وہاں تمام انبیاء علیہم السلام جمع ہوئے، جبرائیل علیہ السلام نے مجھے امام بنایا۔ میں نے امامت کی، پھر مجھے آسمان کی طرف چڑھالے گئے پھر آپ کا ایک ایک آسمان پر پہنچنا، وہاں پیغمبروں سے ملنا مذکور ہے۔ فرماتے ہیں جب میں سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچا تو مجھے ایک نوارنی ابر نے ڈھک لیا میں اسی وقت سجدے میں گر پڑا، پھر آپ پر پچاس نمازوں کا فرض ہونا اور کم ہونا وغیرہ کا بیان ہے۔ آخر میں موسیٰ علیہ السلام کے بیان میں ہے کہ میری امت پر تو صرف دو نمازیں مقرر ہوئی تھیں لیکن وہ انہیں بھی نہ بجا لائے۔ آپ پھر پانچ سے بھی کمی چاہنے کے لیے گئے تو فرمایا گیا کہ میں نے تو آسمان و زمین کی پیدائش والے دن ہی تجھ پر اور تیری امت پر یہ پانچ نمازیں مقرر کر دی تھیں۔ یہ پڑھنے میں پانچ ہیں اور ثواب میں پچاس ہیں۔ پس تو اور تیری امت اس کی حفاظت کرنا آپ فرماتے ہیں اب مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ کا یہی حکم ہے۔ پھر جب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھے پھر واپس لوٹنے کا مشورہ دیا لیکن چونکہ میں معلوم کر چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حتمی حکم ہے، اس لیے میں پھر اللہ کے پاس نہ گیا }۔ ۱؎ [سنن نسائی:451،قال الشيخ الألباني:منكر]
ابن ابی حاتم میں بھی معراج کے واقعہ کی مطول حدیث ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ { جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی مسجد کے پاس اس دروازے پر پہنچے جسے باب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہا جاتا ہے وہیں ایک پتھر تھا جسے جبرائیل علیہ السلام نے اپنی انگلی لگائی تو اس میں سوراخ ہو گیا، وہیں آپ نے براق کو باندھا اور مسجد پر چڑھ گئے۔
بیچوں بیچ پہنچ جانے کے بعد جبرائیل علیہ السلام نے کہا آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ آرزو کی ہے کہ وہ آپ کو حوریں دکھائے؟ آپ نے فرمایا ہاں، کہا آئیے، وہ یہ ہیں ”سلام کیجئے“ وہ صخرہ کے بائیں جانب بیٹھی ہوئی تھیں، میں نے وہاں پہنچ کر انہیں سلام کیا، سب نے میرے سلام کا جواب دیا، میں نے پوچھا، تم سب کون ہو؟ انہوں نے کہ ہم نیک سیرت، خوبصورت، حوریں ہیں ہم بیویاں ہیں اللہ کے پرہیز گار بندوں کی جو نیک کار ہیں، جو گناہوں کے میل کچیل سے دور ہیں، جو پاک کرکے ہمارے پاس لائے جائیں گے پھر نہ نکالے جائیں گے ہمارے پاس ہی رہیں گے، کبھی جدا نہ ہوں گے ہمیشہ زندہ رہیں گے کبھی نہ مریں گے۔
میں ان کے پاس سے چلا آیا۔ وہیں لوگ جمع ہونے شروع ہو گئے اور ذرا سی دیر میں بہت سے آدمی جمع ہو گئے۔ مؤذن نے اذان کہی تکبیر ہوئی اور ہم سب کھڑے ہو گئے۔ منتظر تھے کہ امامت کون کرائے گا؟ جو جبرائیل علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آگے کردیا۔ میں نے انہیں نماز پڑھائی جب فارغ ہوا تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا جانتے بھی ہو کن کو آپ نے نماز پڑھائی؟ میں نے کہا نہیں فرمایا آپ کے پیچھے آپ کے یہ سب مقتدی اللہ کے پیغمبر تھے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ مبعوث فرما چکا ہے۔ پھر میرا ہاتھ تھام کر آسمان کی طرف لے چلے۔ پھر بیان ہے کہ آسمانوں کے دروازے کھلوائے۔ فرشتوں نے سوال کیا۔ جواب پاکر دروازے کھولے وغیرہ۔ پہلے آسمان پر آدم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی انہوں نے فرمایا: ”میرے بیٹے اور نیک نبی کو مرحبا ہو۔“ اس میں چوتھے آسمان پر ادریس علیہ السلام سے ملاقات کرنے کا ذکر بھی ہے۔ ساتویں آسمان پر ابراہیم علیہ السلام سے ملنے اور ان کے بھی وہی فرمانے کا ذکر ہے جو آدم علیہ السلام نے فرمایا تھا۔
{ پھر مجھے وہاں سے بھی اونچا لے گئے۔ میں نے ایک نہر دیکھی، جس میں لؤلؤ یاقوت اور زبرجد کے جام تھے اور بہترین، خوش رنگ، سبز پرند تھے۔ میں نے کہا یہ تو نہایت ہی نفیس پرند ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا ہاں ”ان کے کھانے والے ان سے بھی اچھے ہیں“ پھر فرمایا معلوم بھی ہے؟ میں نے کہا نہیں فرمایا ”وہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرما رکھی ہے“ اس میں سونے چاندی کے آبخورے تھے جو یاقوت و زمرد سے جڑاؤ تھے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید تھا۔ میں نے ایک سونے کا پیالہ لے کر پانی بھر کر پیا تو وہ شہد سے بھی زیادہ میٹھا تھا اور مشک سے بھی زیادہ خوشبودار تھا۔ جب میں اس سے بھی اوپر پہنچا تو ایک نہایت خوش رنگ بادل نے مجھے آگھیرا جس میں مختلف رنگ تھے، جبرائیل علیہ السلام نے تو مجھے چھوڑ دیا اور میں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑا۔ پھر پچاس نمازوں کے فرض ہونے کا بیان ہے۔ پھر آپ واپس ہوئے، ابراہیم علیہ السلام نے تو کچھ نہ فرمایا لیکن موسیٰ علیہ السلام نے آپ کو سمجھا بجھا کر واپس طلب تخفیف کے لیے بھیجا، الغرض اسی طرح آپ کا باربار آنا، بادل میں ڈھک جانا دعا کرنا، تخفیفی ہونا، ابراہیم علیہ السلام سے ملتے ہوئے آنا اور موسیٰ علیہ السلام سے بیان کرنا ہاں تک کہ پانچ نمازوں کا رہ جانا وغیرہ بیان ہے۔ }
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پھر مجھے جبرائیل علیہ السلام لے کر نیچے اترے میں نے ان سے پوچھا کہ جس آسمان پر میں پہنچا وہاں کے فرشتوں نے خوشی ظاہر کی ہنس ہنس کر مسکراتے ہوئے مجھ سے ملے بجز ایک فرشتے کے کہ اس نے میرے سلام کا جواب تو دیا مجھے مرحبا بھی کہا لیکن مسکرائے نہیں یہ کون ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ مالک ہیں۔ جہنم کے داروغہ ہیں، اپنے پیدا ہونے سے لے کر آج تک وہ ہنسے ہی نہیں اور قیامت تک ہنسیں گے بھی نہیں کیونکہ ان کی خوشی کا یہی ایک بڑا موقعہ تھا۔ واپسی میں قریشیوں کے ایک قافلے کو دیکھا جو غلہ لا دے جا رہا تھا، اس میں ایک اونٹ تھا جس پر ایک سفید اور ایک سیاہ بورا تھا، جب آپ اس کے قریب سے گزرے تو وہ چمک گیا اور مڑ گیا اور گر پڑا اور لنگڑا ہو گیا اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پہنچا دئے گئے۔ صبح ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس معراج کا ذکر لوگوں سے کیا۔ مشرکوں نے جب یہ سنا تو وہ سیدھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے لو تمہارے پیغمبر صاحب تو کہتے ہیں کہ وہ آج کی ایک ہی رات میں مہینہ بھر کے فاصلے کے مقام تک ہو آئے۔ آپ نے جواب دیا کہ اگر فی الواقع آپ نے یہ فرمایا ہو تو آپ سچے ہیں، ہم تو اس سے بھی بڑی بات میں آپ کو سچا جانتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ آپ کو آن کی آن میں آسمان سے خبریں پہنچتی ہیں۔ مشرکوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ کی سچائی کی کوئی علامت بھی آپ پیش کر سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں میں نے راستے میں فلاں فلاں جگہ قریش کا قافلہ دیکھا۔ ان کا ایک اونٹ جس پر سفید و سیاہ رنگ کے دو بورے ہیں، وہ ہمیں دیکھ کر بھڑ کا، گھوما اور چکر کھا کر گر پڑا اور ٹانگ ٹوٹ گئی جب وہ قافلہ آیا لوگوں نے ان سے جا کر پوچھا کہ راستے میں کوئی نئی بات تو نہیں ہوئی؟ انہوں نے کہا ہاں ہوئی۔ فلاں اونٹ فلاں جگہ اس طرح گرا وغیرہ۔ کہتے ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ کی اسی تصدیق کی وجہ سے انہیں صدیق کہا گیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے سوال کی
پاک ہے (1) وہ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے (2) کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ (3) تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے (4) رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں (5) یقیناً اللہ تعالیٰ خوب سننے دیکھنے والا ہے۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورۂ بنی اسرائیل، سورۂ کہف اور سورۂ مریم کے متعلق فرمایا: [ إِنَّهُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الْأُوَلِ، وَ هُنَّ مِنْ تِلاَدِيْ ] [ بخاری، التفسیر، سورۃ بني إسرائیل: ۴۷۰۸ ] ”یہ پہلی قدیم سورتوں میں سے ہیں اور یہ میرے قدیم مال میں سے ہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ یہ سورت مکی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ زمر پڑھا کرتے تھے۔ [ مسند أحمد: 68/6، ح: ۲۴۴۴۲، عن عائشۃ رضی اللہ عنہا۔ ترمذی: ۲۹۲۰، و صححہ الألباني ] (آیت 1) ➊ {سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ: } اس سورت کی ابتدا اللہ تعالیٰ کو ہر ایسی چیز سے پاک قرار دینے سے کی جو اس کے جلال کے لائق نہیں، چنانچہ فرمایا: «سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ» طنطاوی نے فرمایا، اس کی سب سے اچھی نحوی ترکیب یہ ہے کہ {” سُبْحٰنَ “} اسم مصدر ہے اور فعل محذوف {” سَبَّحْتُ “} یا {” اُسَبِّحُ “ } کا مفعول مطلق ہے اور {” الَّذِيْۤ “} کی طرف مضاف ہے، یعنی میں اس (اللہ) کا ہر عیب اور کمی سے پاک ہونا بیان کرتا ہوں جو اپنے بندے…۔ (التفسیر الوسیط) معلوم ہوا کہ آگے کوئی ایسا کام بیان ہونے والا ہے جس کا واقع ہونا انسانی طاقت سے باہر ہے، اس لیے بات یہیں سے شروع فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان تمام عیبوں، کمزوریوں اور نارسائیوں سے پاک ہے جو مخلوق میں پائی جاتی ہیں اور وہ ان کاموں پر قادر ہے جن پر اس کے سوا کوئی قدرت نہیں رکھتا۔ ➋ { اَسْرٰى:} شیخ سلیمان الجمل نے فرمایا: {” اَسْرٰى “} اور {”سَرٰی“} دونوں کا معنی ہے، وہ رات کو چلا، دونوں فعل لازم ہیں، پہلے کا مصدر {”اَلْإِسْرَاءُ“} ہے اور دوسرے کا {”اَلسُّرٰي“} بروزن {” اَلْهُدٰي“}، اس لیے اسے متعدی بنانے کے لیے {” بِعَبْدِهٖ “ } میں باء لائی گئی ہے، جس سے معنی ”وہ رات کو چلا“ کے بجائے ”اس نے (اپنے بندے کو) رات کو چلایا“ ہو گیا۔“ اس سے رات کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راتوں کو قیام، دعائیں، اسراء و معراج، راتوں کا سفر سب اس کی دلیل ہیں۔ ➌ {بِعَبْدِهٖ:} ”اپنے بندے“ کا لفظ اس محبت اور تعلق کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ اگر پیار و محبت اور آپ کی عظمت و شان کے اظہار کے لیے اس سے زیادہ یہاں کوئی لفظ موزوں ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسی کو ذکر فرماتا، لفظ {”عَبْدٌ“ } منتخب ہی اس لیے فرمایا کہ تمام مخلوقات کی صفات میں سب سے اونچی اور بڑی صفت اللہ تعالیٰ کی عبودیت اور بندگی ہے، پھر خاص اپنی طرف نسبت کرکے مزید رتبہ بڑھا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا عبد (بندہ، غلام) قرار دینے میں یہ بھی اشارہ ہے کہ مالک اور معبود صرف اللہ تعالیٰ ہے، باقی سب اس کے بندے، غلام، اس کے سامنے عاجز اور مطیع ہیں، کیونکہ {” عَبْدٌ “} کا معنی یہی ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا» [ مریم: ۹۳ ] ”زمین و آسمان میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔“ مقصد یہ ہے کہ عبودیت اور الوہیت، یعنی بندگی اور خدائی کے مقام کا فرق بالکل واضح ہو جائے، انھیں ایک نہ سمجھ لیا جائے، جیسا کہ مسیحیت میں ہوا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، عیسیٰ علیہ السلام کو اور ان کی والدہ کو ایک ہی معبود قرار دے دیا، انھوں نے عبودیت اور الوہیت کے فرق کو نہ سمجھا۔ بعض جھوٹے مسلمانوں نے بھی احد اور احمد کو ایک قرار دے لیا۔ یہ آیت ان کی واضح تردید کرتی ہے۔ علامہ قاسمی نے امام ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب {”طَرِيْقُ الْهِجْرَتَيْنِ“} سے نقل فرمایا کہ تمام مخلوق میں سے کامل وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبودیت (بندگی) میں سب سے کامل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب اور بلند مرتبہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: [ وَاللّٰهِ! مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُوْنِيْ فَوْقَ مَنْزِلَتِيَ الَّتِيْ أَنْزَلَنِيَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ ] [ مسند أحمد: 153/3: ۱۲۵۵۸، سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۰۹۷، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ”اللہ کی قسم! اے لوگو! میں پسند نہیں کرتا کہ تم مجھے میرے اس مرتبے سے بلند قرار دو جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا کیا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: [ لَا تُطْرُوْنِيْ كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَي ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ فَقُوْلُوْا عَبْدُ اللّٰهِ وَ رَسُوْلُهُ ] [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «واذکر فی الکتاب مریم…» : ۳۴۴۵ ] ”مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھاؤ جیسا کہ نصاریٰ نے مسیح ابن مریم کو حد سے بڑھا دیا، میں تو صرف اس کا عبد (بندہ) ہوں، سو تم مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔“ اللہ تعالیٰ نے آپ کا ذکر آپ کے بلند ترین مقام اسراء و معراج میں عبودیت کے نام سے فرمایا، چنانچہ فرمایا: «سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ» اور دعوت کے مقام میں فرمایا: «وَ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ» [ الجن: ۱۹ ] اور چیلنج کے مقام میں فرمایا: «وَ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا» [ البقرۃ: ۲۳ ] ➍ { لَيْلًا:} زمحشری نے فرمایا، اگر تم کہو کہ {” إِسْرَاءٌ“} کا معنی ہی رات کو چلنا ہے، پھر {” لَيْلًا “} کہنے کا مقصد کیا ہے؟ تو میں کہتا ہوں کہ {” لَيْلًا “} کا لفظ نکرہ کی صورت میں لانے سے رات کی اس مدت کو جس میں سفر کیا، کم بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رات کے ایک تھوڑے سے حصے میں مکہ سے شام تک کا چالیس راتوں کا فاصلہ طے کروا دیا، کیونکہ تنکیر یہاں بعضیہ (بلکہ بقول بعض تقلیل وتحقیر) کا معنی دے رہی ہے (یہ بات ترجمہ میں بھی ملحوظ رکھی گئی ہے)۔ یاد رہے! چالیس راتوں یا ایک مہینے سے زائد دنوں کا سفر ایک طرف کا ہے، آنے جانے کا دگنا سمجھ لیں۔ ➎ { مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا:} مسجد حرام کعبہ کے اردگرد والی مسجد، کیونکہ اسے کئی طرح کی حرمت حاصل ہے۔ بعض علماء پورے حرم کو مسجد حرام کہتے ہیں۔ جس رات یہ سفر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر سوئے ہوئے تھے۔ وہاں سے آپ کو حطیم کعبہ میں لایا گیا اور پھر آپ حطیم سے براق پر سوار ہو کر مسجد اقصیٰ (دور ترین مسجد) یعنی بیت المقدس پہنچے، اس وقت مکہ سے سب مسجدوں سے دور پائی جانے والی مسجد یہی تھی، چونکہ سفر کی ابتدا حطیم سے ہوئی، اس لیے کئی علماء صرف مسجد کے حصے ہی کو مسجد حرام کہتے ہیں۔ بیت المقدس سے معراج (سیڑھی) کے ذریعے سے اوپر ساتوں آسمانوں سے گزر کر سدرۃ المنتہیٰ پہنچے، راستے میں متعدد جلیل القدر انبیاء علیہم السلام سے ملاقاتیں ہوئیں، جنت و دوزخ کا مشاہدہ بھی کیا، سدرہ کے پاس ہی جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا، وہیں آپ کو پہلے پچاس نمازوں اور آخر میں روزانہ پانچ نمازوں کا حکم ہوا، پھر پلٹ کر بیت المقدس آئے تو آپ نے امام بن کر تمام انبیاء علیہم السلام کے ساتھ نماز ادا کی۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اسی کو ترجیح دی ہے، لیکن قاضی عیاض وغیرہ کا خیال ہے کہ انبیاء کی امامت آپ نے واپسی پر نہیں بلکہ معراج کو جاتے ہوئے کروائی ہے۔ بہرحال اس کے بعد مسجد حرام تشریف لائے۔ واقعۂ اسراء و معراج کی تفصیلات کے لیے تفسیر ابن کثیر اور کتب احادیث کا مطالعہ فرمائیں۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بڑی تفصیل، ترتیب اور سلیقے سے روایات جمع فرما دی ہیں۔ ➏ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کے سفر کا نام ”اسراء“ ہے، جو یہاں مذکور ہے اور وہاں سے سدرۃ المنتہیٰ تک کا سفر ”معراج“ کہلاتا ہے۔ اس کا ذکر سورۂ نجم اور کتب احادیث میں ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں بہت سی احادیث مع سند ذکر فرمائی ہیں، ان میں سے بعض روایات کے آخر میں فرمایا کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس حدیث کے الفاظ دلیل ہیں کہ معراج اسی رات ہوئی ہے جب آپ مکہ سے بیت المقدس گئے ہیں اور یہی حق ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔“ ➐ قرطبی نے فرمایا کہ اسراء کا واقعہ حدیث کی تمام کتابوں میں ثابت ہے اور اسلام کے زیر نگیں تمام علاقوں کے صحابہ سے مروی ہے، اس لحاظ سے یہ متواتر ہے۔ نقاش نے اسے نقل کرنے والے بیس صحابہ ذکر کیے ہیں۔ گو بعض جزئیات میں اختلاف ہے مگر اصل واقعہ بلاشک و شبہ ثابت ہے۔ (قرطبی) ➑ علمائے سلف و خلف رحمۃ اللہ علیھم کا عقیدہ ہے کہ یہ واقعہ بیداری میں روح اور جسم سمیت پیش آیا اور قرآن میں لفظ {”بِعَبْدِهٖ “} سے بھی اس کی شہادت ملتی ہے، کیونکہ عبد صرف روح کو نہیں کہتے، بلکہ روح مع جسد کو کہتے ہیں۔ پھر اگر یہ خواب کا واقعہ ہوتا تو کفار قریش اسے نہ جھٹلاتے، کیونکہ خواب میں تو ہر ایک کو عجیب و غریب واقعات پیش آتے رہتے ہیں اور نہ قرآن ہی {” سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ “} کی تمہید کے ساتھ اسے بیان کرتا، کیونکہ ان تمہیدی الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اہم اور خرق عادت واقعہ بیان کیا جا رہا ہے، پھر {” لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا “} اور {” مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى “} (نجم: ۱۷) میں بھی سر کی آنکھوں سے دیکھنے کا ذکر ہے، پھر براق پر سواری بھی جسمانی معراج کی دلیل ہے۔ بعض علماء نے آیت کریمہ: «وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ» [ بنی إسرائیل: ۶۰ ] میں لفظ {” الرُّءْيَا “} سے استدلال کیا ہے کہ یہ خواب کا واقعہ ہے، مگر محققین علمائے لغت نے تصریح کی ہے کہ لفظ {” الرُّءْيَا “ } (جو {”رَأَي يَرَي“} کا مصدر ہے) بیداری میں آنکھوں کے دیکھنے پر بھی استعمال ہوتا ہے، یہاں یہی مراد ہے اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے تصریح فرمائی ہے: [ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلٰی بَيْتِ الْمَقْدِسِ ] [ بخاری، مناقب الأنصار، باب المعراج: ۳۸۸۸ ] ”یہ آنکھوں کا دیکھنا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس رات دکھایا گیا جس رات آپ کو بیت المقدس لے جایا گیا۔“ معلوم ہوا کہ اس آیت سے ان علماء کا استدلال درست نہیں ہے، تمام صحابہ روایتاً و درایتاً اس پر متفق ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج بیداری کی حالت میں ہوئی اور جسم کے ساتھ ہوئی۔ صرف عائشہ اور معاویہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ معراج خواب میں ہوئی، مگر ایک تو یہ روایت سنداً منقطع ہے اور پھر ان کی اپنی رائے اور آیت کریمہ «وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ» [ بنی إسرائیل: ۶۰ ] سے استدلال ہے جو صحابہ کے متفقہ فیصلے کے مقابلے میں توجہ کے قابل نہیں۔ (شوکانی، ابن کثیر) ➒ علامہ جمال الدین قاسمی کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ اسراء بعثت نبوی کے بعد ہوا ہے اور یہ کہ وہ ہجرت سے ایک سال پہلے تھا۔ زہری اور ابن سعد وغیرہ کا یہی کہنا ہے، امام نووی نے بھی یہ بات یقین سے کہی ہے، ابن حزم رحمہ اللہ نے مبالغہ کرتے ہوئے اس پر اجماع نقل فرمایا ہے اور کہا ہے کہ یہ (اسراء و معراج) رجب ۱۲ نبوی میں ہوئی ہے۔ طبیعت کو اطمینان اس بات پر ہوتا ہے کہ اسراء و معراج کے واقعات ابوطالب اور خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد ہوئے ہیں، کیونکہ اس دوران میں مشرکین کی ایذا بہت بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ انعام ان کی طرف سے پیش آنے والی ایذا سے تسلی دینے کے لیے اور آپ کی عزت افزائی اور تکریم کے لیے عطا فرمایا۔ اشرف الحواشی میں ہے کہ اکثر روایات کے مطابق یہ قصہ ہجرت سے ایک سال قبل کا ہے۔ امام ابن حزم رحمہ اللہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور ملا امین عمری نے اسے قطعی قرار دیا ہے۔ بعض روایات میں تین سال قبل بھی مذکور ہے۔ علامہ شنقیطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحیحین میں ”شریک عن انس“ کی سند سے جو مذکور ہے کہ اسراء مذکور خواب میں واقع ہوا، وہ کتاب و سنت کی صریح نصوص اور اہل السنۃ والجماعہ کے عقیدے (کہ اسراء و معراج بیداری میں جسمانی ہوئی) کے خلاف نہیں، کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ پہلے یہ سب کچھ آپ کو خواب میں دکھایا گیا ہو اور پھر اس کی تصدیق بیداری میں دکھا کر کی گئی ہو، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا: «لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِيْنَ» [ الفتح: ۲۷ ] ”تم مسجد حرام میں ضرور بضرور داخل ہوگے، اگر اللہ نے چاہا، امن کی حالت میں، اپنے سر منڈاتے ہوئے اور کتراتے ہوئے۔“ پھر بیداری میں اس کی تصدیق بالفعل بھی فرما دی گئی۔ اس کی تصدیق عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے وہ صبح کے طلوع ہونے کی طرح دن کو سامنے آ جاتا۔ علاوہ ازیں انس رضی اللہ عنہ سے شریک کے علاوہ بہت سے حفاظ نے یہ روایت بیان کی ہے، لیکن کسی نے بھی شریک کے خواب میں دیکھنے والے الفاظ بیان نہیں کیے۔ اہل علم کی ایک جماعت نے فرمایا کہ شریک بن عبد اللہ بن ابی نمر نے انس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت صحیح یاد نہیں رکھی۔ امام مسلم نے فرمایا کہ شریک نے یہ حدیث ثابت بنانی (انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد) کی طرح بیان کی اور اس میں کچھ چیزیں آگے پیچھے کر دیں اور کچھ کم زیادہ کر دیں۔ دوسرے تمام حفاظ کی روایت صحیح ہے اور اس میں شریک والے الفاظ نہیں ہیں۔ ➓ بعض لوگ معراج کی رات میں لیلۃ القدر کی طرح خصوصی قیام اور تلاوت و ذکر کا اہتمام کرتے ہیں، اگر اس کی کوئی حقیقت ہوتی تو کم از کم کسی صحیح سند کے ساتھ اس مہینے اور دن کی تعیین ضرور معلوم ہوتی، جس میں یہ واقعہ ہوا اور صحابہ بھی اس رات اس کا اہتمام کرتے، جبکہ ستائیس (۲۷) رجب کی کوئی صحیح روایت موجود نہیں اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ سے اس رات کی خاص عبادت کا کہیں ذکر ہے، رہی آتش بازی اور چراغاں تو وہ آتش پرستوں کے ساتھ مشابہت ہے جس سے پرہیز لازم ہے۔ ⓫ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی زیارت کی ہے یا نہیں، یہ بحث سورۂ نجم (۹) «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى» میں آئے گی اور معراج کے واقعہ کا بقدر ضرورت ذکر بھی وہیں ہو گا۔ (ان شاء اللہ) ⓬ { الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ:} یعنی وہاں ظاہری اور مادی برکات بھی ہیں کہ وہاں چشموں، نہروں اور ہر قسم کے غلے اور پھلوں کی بہتات ہے اور معنوی و باطنی اعتبار سے بھی وہ خطہ بابرکت ہے کہ بیت المقدس میں چاروں مقدس کتابیں پڑھی گئیں، بہت سے انبیاء و رسل وہاں مبعوث ہوئے، وہاں دنیا میں کعبۃ اللہ کے بعد بنائی جانے والی دوسری مسجد ہے، جو ان تین مساجد میں شامل ہے جن کے علاوہ کسی جگہ ثواب کی نیت سے کجاوے کس کر جانا منع ہے۔ قرآن مجید میں کئی جگہ یہ اصطلاح بیت المقدس اور شام کے لیے آئی ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ نَجَّيْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا لِلْعٰلَمِيْنَ» [ الأنبیاء: ۷۱] ”اور ہم نے اسے اور لوط کو اس سرزمین کی طرف نجات دی جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی۔“ اور فرمایا: «وَ لِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ عَاصِفَةً تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا» [ الأنبیاء: ۸۱ ] ”اور سلیمان کے لیے ہوا (مسخر کر دی) جو تیز چلنے والی تھی، اس کے حکم سے اس زمین کی طرف چلی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی۔“ ان تمام آیات سے مراد سرزمین شام ہے۔ ⓭ { لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا:} اسراء میں پیش آنے والی نشانیاں، مثلاً آپ کے مکان کی چھت کا کھولا جانا، جبریل علیہ السلام کا آپ کا سینہ مبارک چاک کرکے دل کو زم زم سے دھو کر ایمان و حکمت سے بھر کر پھر ملا دینا، براق کی سواری جس کا قدم حد نگاہ پر پڑتا تھا، مہینوں کا سفر لمحوں میں طے ہونا، بیت المقدس میں دودھ اور شراب کا پیش کیا جانا اور آپ کا دودھ کو پسند فرمانا، انبیاء علیہم السلام کی ملاقات اور امامت وغیرہ، پھر سفر معراج کی بے شمار نشانیاں ان کے علاوہ ہیں جن کے متعلق فرمایا: «لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى» [ النجم: ۱۸ ] ”بلاشبہ یقینا اس نے اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔“ ⓮ {اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پہلے {” سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى “} میں اپنا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ فرمایا، پھر {” بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ “} اور {” لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا “} میں تین مرتبہ جمع متکلم برائے تعظیم کے ساتھ، پھر اس آیت کے آخر میں {”اِنَّهٗ هُوَ “} غائب کے ساتھ اور اس سے اگلی آیت میں پھر جمع متکلم کے ساتھ فرمایا ہے، پھر بھی سمجھنے میں کسی جگہ کوئی الجھن پیش نہیں آئی بلکہ لطف محسوس ہوتا ہے۔ کلام کا یہ اسلوب بلاغت کا کمال ہے، اسے عربی میں التفات کہتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ واقعۂ اسراء سن کر اہلِ ایمان کے اسے تسلیم کرنے کو اور کفار کے اس سے انکار کو اور دونوں نے اس پر جو کچھ کہا اور کیا یقینا وہ صرف وہی (اللہ) ہے جو سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا اور اس کے مطابق ہر ایک سے معاملہ کرنے والا اور جزا و سزا دینے والا ہے۔
ہم نے اِس سے پہلے موسیٰؑ کو کتاب دی تھی اور اُسے بنی اسرائیل کے لیے ذریعہ ہدایت بنایا تھا، اِس تاکید کے ساتھ کہ میرے سوا کسی کو اپنا وکیل نہ بنانا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اسے بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنا دیا کہ تم میرے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ بنانا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کیا کہ میرے سوا کسی کو کارسام نہ ٹھہراؤ،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اسے بنی اسرائیل کے لئے ذریعۂ ہدایت بنایا کہ (دیکھو) میرے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ بنانا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا کہ تم میرے سوا کوئی کارساز نہ پکڑو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طوفان نوح کے بعد ٭٭
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے واقعہ کے بیان کے بعد اپنے پیغمبر کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام کا ذکر بیان فرماتا ہے قرآن کریم میں عموماً یہ دونوں بیان ایک ساتھ آئے ہیں اسی طرح تورات اور قرآن کا بیان بھی ملا جلا ہوتا ہے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کا نام تورات ہے۔ وہ کتاب بنی اسرائیل کیلئے ہادی تھی انہیں حکم ہوا تھا کہ اللہ کے سوا کسی اور کو ولی اور مددگار اور معبود نہ سمجھیں ہر ایک نبی اللہ کی توحید لے کر آتا رہا ہے۔ پھر انہیں کہا جاتا ہے کہ اے ان بزرگوں کی اولادو جنہیں ہم نے اپنے اس احسان سے نوازا تھا کہ طوفان نوح کی عالمگیر ہلاکت سے انہیں بچا لیا اور اپنے پیارے نبی نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی پر چڑھا لیا تھا۔ تمہیں اپنے بڑوں کی طرح ہماری شکر گزاری کرنی چاہیئے دیکھو میں نے تمہاری طرف اپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے۔ مروی ہے کہ نوح علیہ السلام چونکہ کھاتے پیتے اور پہنتے غرض ہر وقت اللہ کی حمد و ثنا بیان فرماتے تھے اس لیے آپ کو شکر گزار بندہ کہا گیا۔ مسند احمد وغیرہ میں { فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے بہت خوش ہوتا ہے جو نوالہ کھائے تو اللہ کا شکر بجا لائے اور پانی کا گھونٹ پئے تو اللہ کا شکر ادا کرے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2734] یہ بھی مروی ہے کہ آپ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے رہتے۔ شفاعت والی لمبی حدیث جو بخاری وغیرہ میں ہے اس میں ہے کہ { جب لوگ طلب شفاعت کے لیے نوح نبی علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو ان سے کہیں گے کہ زمین والوں کی طرف آپ ہی پہلے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام شکر گزار بندہ رکھا ہے۔ آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کیجئے } الخ۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3340]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 2) ➊ {وَ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ:} یعنی جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء کا شرف عطا فرمایا، اسی طرح ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو {” الْكِتٰبَ “} (تورات) سے نوازا۔ قرآن مجید میں عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے ساتھ موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کا ذکر ہوتا ہے، تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت میں پیش آنے والی مشکلات کی مثال پیش نظر رہے اور آپ کی امت کو رسول کی اطاعت اور اس کی نافرمانی کے نتائج پیش نظر رہیں۔ ➋ { وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ:} اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا، یعنی تورات کو یا موسیٰ علیہ السلام کو۔ یہ آیت سورۂ سجدہ کی آیت (۲۳) کے مشابہ ہے۔ ➌ {اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا: ” اَلَّا تَتَّخِذُوْا “} اصل میں {”أَنْ لَا تَتَّخِذُوْا“} ہے۔ یہاں {”أَنْ“} کو مصدریہ مان کر اس سے پہلے لام محذوف مانیں گے، یعنی {”لِئَلَّا تَتَّخِذُوْا“} (تاکہ تم…) یا {”أَنْ“} بمعنی {”أَيْ“} (تفسیر یہ) ہے، یعنی ہم نے موسیٰ کو کتاب دی جس کا خلاصہ اور مطلب یہ ہے کہ…۔ {” وَكِيْلًا “ ”وَكَلَ يَكِلُ“} (سپرد کرنا) سے {”فَعِيْلٌ“} بمعنی مفعول ہے، جس کے سپرد اپنا کام کیا جائے، یعنی میرے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ سمجھو، نہ اپنے کام کسی اور کے سپرد کرو۔
تم اُن لوگوں کی اولاد ہو جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا، اور نوحؑ ایک شکر گزار بندہ تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ان لوگوں کی اوﻻد! جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کردیا تھا، وه ہمارا بڑا ہی شکرگزار بنده تھا
احمد رضا خان بریلوی
اے ان کی اولاد! جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا بیشک وہ بڑا شکرا گزار بندہ تھا
علامہ محمد حسین نجفی
اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کر لیا تھا بے شک وہ (نوح) ایک شکر گزار بندہ تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اے ان لوگوں کی اولاد جنھیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا! بے شک وہ بہت شکر گزار بندہ تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طوفان نوح کے بعد ٭٭
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے واقعہ کے بیان کے بعد اپنے پیغمبر کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام کا ذکر بیان فرماتا ہے قرآن کریم میں عموماً یہ دونوں بیان ایک ساتھ آئے ہیں اسی طرح تورات اور قرآن کا بیان بھی ملا جلا ہوتا ہے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کا نام تورات ہے۔ وہ کتاب بنی اسرائیل کیلئے ہادی تھی انہیں حکم ہوا تھا کہ اللہ کے سوا کسی اور کو ولی اور مددگار اور معبود نہ سمجھیں ہر ایک نبی اللہ کی توحید لے کر آتا رہا ہے۔ پھر انہیں کہا جاتا ہے کہ اے ان بزرگوں کی اولادو جنہیں ہم نے اپنے اس احسان سے نوازا تھا کہ طوفان نوح کی عالمگیر ہلاکت سے انہیں بچا لیا اور اپنے پیارے نبی نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی پر چڑھا لیا تھا۔ تمہیں اپنے بڑوں کی طرح ہماری شکر گزاری کرنی چاہیئے دیکھو میں نے تمہاری طرف اپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے۔ مروی ہے کہ نوح علیہ السلام چونکہ کھاتے پیتے اور پہنتے غرض ہر وقت اللہ کی حمد و ثنا بیان فرماتے تھے اس لیے آپ کو شکر گزار بندہ کہا گیا۔ مسند احمد وغیرہ میں { فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے بہت خوش ہوتا ہے جو نوالہ کھائے تو اللہ کا شکر بجا لائے اور پانی کا گھونٹ پئے تو اللہ کا شکر ادا کرے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2734] یہ بھی مروی ہے کہ آپ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے رہتے۔ شفاعت والی لمبی حدیث جو بخاری وغیرہ میں ہے اس میں ہے کہ { جب لوگ طلب شفاعت کے لیے نوح نبی علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو ان سے کہیں گے کہ زمین والوں کی طرف آپ ہی پہلے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام شکر گزار بندہ رکھا ہے۔ آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کیجئے } الخ۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3340]
3۔ 1 طوفان نوح ؑ کے بعد نسل انسانی نوح ؑ کے ان بیٹوں کی نسل سے ہے جو کشتیئ نوح ؑ میں سوار ہوئے تھے اور طوفان سے بچ گئے تھے۔ اس لئے بنو اسرائیل کو خطاب کر کے کہا گیا کہ تمہارا باپ، نوح ؑ، اللہ کا بہت شکر گزار بندہ تھا۔ تم بھی اپنے باپ کی طرح شکر گزاری کا راستہ اختیار کرو اور ہم نے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا ہے، ان کا انکار کر کے کفران نعمت مت کرو۔
(آیت 3){ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ …:” ذُرِّيَّةَ “} سے پہلے {”يَا“} حرف ندا محذوف ہے، ”اے ان لوگوں کی اولاد…!“ یعنی تم ان صالح لوگوں کی اولاد ہو جنھیں ہم نے نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار کرکے نجات بخشی۔ مقصد بنی اسرائیل کو ایمان اور عمل صالح پر ابھارنا ہے کہ دیکھو تم کن لوگوں کی اولاد ہو، تمھارے لیے اپنے صالح آبا و اجداد کے نقش قدم پر چل کر ایک اللہ کی عبادت کا پابند رہنا، اپنے باپ نوح علیہ السلام کی طرح ہر وقت اسی کا شکر گزار رہنا اور اس کے سوا کسی کو اپنا وکیل، کارساز اور بھروسے کے قابل نہ سمجھنا لازم ہے۔
پھر ہم نے اپنی کتاب میں بنی اسرائیل کو اِس بات پر بھی متنبہ کر دیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے بنی اسرائیل کے لئے ان کی کتاب میں صاف فیصلہ کردیا تھا کہ تم زمین میں دوبار فساد برپا کرو گے اور تم بڑی زبردست زیادتیاں کرو گے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں وحی بھیجی کہ ضرور تم زمین میں دوبارہ فساد مچاؤ گے اور ضرور بڑا غرور کرو گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے اس کتاب (توراۃ) میں بنی اسرائیل کو آگاہ کر دیا تھا کہ تم ضرور زمین میں دو مرتبہ فساد برپا کروگے اور بڑی سرکشی کروگے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں فیصلہ سنا دیا تھا کہ بے شک تم زمین میں ضرور دو بار فساد کرو گے اور بے شک تم ضرور سرکشی کرو گے، بہت بڑی سرکشی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پیشین گوئی ٭٭
جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری تھی اس میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی سے خبر دے دی تھی کہ وہ زمین پر دو مرتبہ سرکشی کریں گے اور سخت فساد برپا کریں گے پس یہاں پر «قضینا» کے معنی مقرر کر دینا اور پہلے ہی سے خبر دے دینا کے ہیں۔ جیسے آیت «وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَٰلِكَ الْأَمْرَ أَنَّ دَابِرَ هَـٰؤُلَاءِ مَقْطُوعٌ مُّصْبِحِينَ» ۱؎ [15-الحجر:66] میں یہی معنی ہیں۔ بس ان کے پہلے فساد کے وقت ہم نے اپنی مخلوق میں سے ان لوگوں کو ان کے اوپر مسلط کیا جو بڑے ہی لڑنے والے سخت جان اور سازو سامان سے پورے لیس تھے وہ ان پر چھا گئے ان کے شہر چھین لیے لوٹ مار کر کے ان کے گھروں تک کو خالی کر کے بے خوف و خطر واپس چلے گئے، اللہ کا وعدہ پورا ہونا ہی تھا کہتے ہیں کہ یہ جالوت کا لشکر تھا۔ پھر اللہ نے بنی اسرائیل کی مدد کی اور یہ طالوت کی بادشاہت میں پھر لڑے اور داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ موصل کے بادشاہ سنجاریب اور اس کے لشکر نے ان پر فوج کشی کی تھے۔ بعض کہتے ہیں بابل کا بادشاہ بخت نصر چڑھ آیا تھا۔
ابن ابی حاتم نے یہاں پر ایک عجیب و غریب قصہ نقل کیا ہے کہ کس طرح اس شخص نے بتدریج ترقی کی تھی۔ اولاً یہ ایک فقیر تھا پڑا رہتا تھا اور بھیک مانگ کر گزارہ کرتا تھا۔ پھر تو بیت المقدس تک اس نے فتح کر لیا اور وہاں پر بنی اسرائیل کو بیدریج قتل کیا۔ این جریر نے اس آیت کی تفسیر میں ایک مطول مرفوع حدیث بیان کی ہے جو محض موضوع ہے اور اس کے موضوع ہونے میں کسی کو ذرا سا بھی شک نہیں ہو سکتا۔ تعجب ہے کہ باوجود اس قدر وافر علم کے امام صاحب نے یہ حدیث وارد کردی ہمارے استاد شیخ حافظ علامہ ابو الحجاج مزی رحمہ اللہ نے اس کے موضوع ہونے کی تصریح کی ہے۔ اور کتاب کے حاشیہ پر لکھ بھی دیا ہے۔ اس باب میں بنی اسرائیلی روایتیں بھی بہت سی ہیں لیکن ہم انہیں وارد کر کے بے فائدہ اپنی کتاب کو طول دینا نہیں چاہتے کیونکہ ان میں سے بعض تو موضوع ہیں اور بعض گو ایسی نہ ہوں لیکن بحمد للہ ہمیں ان روایتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ کتاب اللہ ہمیں اور تمام کتابوں سے بے نیاز کر دینے والی ہے۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں نے ہمیں ان چیزوں کا محتاج نہیں رکھا۔
مطلب صرف اس قدر ہے کہ بنی اسرائیل کی سرکشی کے وقت اللہ نے ان کے دشمن ان پر مسلط کر دئے جنہوں نے انہیں خوب مزہ چکھایا بری طرح درگت بنائی ان کے بال بچوں کو تہ تیغ کیا انہیں اس قدر ذلیل کیا کہ ان کے گھروں تک میں گھس کر ان کا ستیاناس کیا اور ان کی سرکشی کی پوری سزا دی۔ انہوں نے بھی ظلم و زیادتی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی عوام تو عوام انہوں نے تو نبیوں کے گلے کاٹے تھے، علماء کو سر بازار قتل کیا تھا۔ بخت نصر ملک شام پر غالب آیا بیت المقدس کو ویران کردیا وہاں کے باشندوں کو قتل کیا۔ پھر دمشق پہنچا یہاں دیکھا کہ ایک سخت پتھر پر خون جوش مار رہا ہے پوچھا یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا ہم نے تو اسے باپ دادوں سے اسی طرح دیکھا ہے یہ خون برابر ابلتا رہتا ہے ٹھیرتا نہیں اس نے وہیں پر قتل عام شروع کر دیا ستر ہزار مسلمان وغیرہ اس کے ہاتھوں یہاں پہ قتل ہوئے پس وہ خون ٹہر گیا۔ اس نے علماء اور حفاظ کو اور تمام شریف اور ذی عزت لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا ان میں کوئی بھی حافظ تورات نہ بچا۔ پھر قید کرنا شروع کیا ان قیدیوں میں نبی زادے بھی تھے۔ غرض ایک لرزہ خیز ہنگامہ ہوا لیکن چونکہ صحیح روایتوں سے بلکہ صحت کے قریب والی روایتوں سے بھی تفصیلات نہیں ملتی اس لیے ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے نیکی کرنے والا دراصل اپنے لیے ہی بھلا کرتا ہے اور برائی کرنے والا حقیقت میں اپنا ہی برا کرتا ہے جیسے ارشاد ہے۔ آیت «مَنْ عَمِلَ صَالِحًــا فَلِنَفْسِهٖ وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْهَا ۭ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ» ۱؎ [41-فصلت:46] ’ جو شخص نیک کام کرے وہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو برائی کرے اس کا بوجھ اسی پر ہے۔ ‘ پھر جب دوسرا وعدہ آیا اور پھر بنی اسرائیل نے اللہ کی نافرمانیوں پر کھلے عام کمر کس لی اور بے باکی اور بے حیائی کے ساتھ ظلم کرنے شروع کر دئے تو پھر ان کے دشمن چڑھ دوڑے کہ وہ ان کی شکلیں بگاڑ دیں اور بیت المقدس کی مسجد جس طرح پہلے انہوں نے اپنے قبضے میں کرلی تھی اب پھر دوبارہ کرلیں اور جہاں تک بن پڑے ہر چیز کا ستیاناس کر دیں چنانچہ یہ بھی ہو کر رہا۔ تمہارا رب تو ہے ہی رحم و کرم کرنے والا اور اس سے ناامیدی نازیبا ہے، یہ ممکن ہے کہ پھر سے دشمنوں کو پست کر دے ہاں یہ یاد رہے کہ ادھر تم نے سر اٹھایا ادھر ہم نے تمہارا سر کچلا۔ ادھر تم نے فساد مچایا ادھر ہم نے برباد کیا۔ یہ تو ہوئی دنیوی سزا۔ ابھی آخرت کی زبردست اور غیر فانی سزا باقی ہے۔ جہنم کافروں کا قید خانہ ہے جہاں سے نہ وہ نکل سکیں نہ چھوٹ سکیں نہ بھاگ سکیں۔ ہمیشہ کے لیے ان کا اوڑھنا بچھونا یہی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پھر بھی انہوں نے سر اٹھایا اور بالکل فرمان الٰہی کو چھوڑا اور مسلمانوں سے ٹکرا گئے تو اللہ تعالیٰ نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر غالب کیا اور انہیں جزیہ دینا پڑا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 4){وَ قَضَيْنَاۤ اِلٰى بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ فِي الْكِتٰبِ …: ” لَتُفْسِدُنَّ “} اور {” لَتَعْلُنَّ “ } اصل میں{ ” لَتُفْسِدُوْنَنَّ “ } اور{ ”لَتَعْلُوُوْنَنَّ“} تھے۔ اللہ تعالیٰ کا علم بندوں کی طرح محدود نہیں کہ اسے صرف گزشتہ اور موجودہ باتوں ہی کا علم ہو، بلکہ اسے آئندہ کسی بھی وقت ہونے والی ہر بات کا اسی طرح علم ہے جس طرح گزشتہ یا موجودہ کا پوری طرح علم ہے اور ہر گزشتہ یا آنے والا کام اس کے کمال علم و حکمت کے مطابق طے شدہ ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی محکم و مضبوط تدبیر و تقدیر کی وجہ سے کوئی خرابی، کوئی حادثہ پیش نہیں آتا۔ اسی تقدیر کے مطابق انسان کو کچھ اختیار دے کر آزمایا گیا ہے اور وہ اپنے اختیار کو کس طرح استعمال کرے گا، اللہ تعالیٰ کو اس کا بھی پہلے سے علم ہے۔ اس علم کے مطابق اس نے بنی اسرائیل کو تورات سے پہلے ہی آگاہ کر دیا کہ تم زمین میں دو مرتبہ فساد کرو گے اور بہت بڑی سرکشی کرو گے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کو پہلے بتانے کا اور ہماری امت کو یہ خبر دینے کا کیا فائدہ؟ تو جواب یہ ہے کہ مقصد انھیں بتانے کا اور ہمیں اس کی خبر دینے کا یہ ہے کہ فساد اور سرکشی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے، تاکہ ہر شخص اس سے بچنے کی پوری جدوجہد کرے۔ {” الْاَرْضِ “} سے مراد سرزمین شام ہے اور لام عہد کا ہے۔ پچھلی تفسیری آیات یعنی سورۂ انبیاء (۸۱) میں مذکور {” الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا “} سے بھی شام ہی مراد ہے، یا مراد ساری زمین ہے اور یہودیوں کا فساد اور ان کو ملنے والی سزا شام میں بھی واقع ہوئی اور دوسرے علاقوں میں بھی۔
آخرکار جب اُن میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا، تو اے بنی اسرائیل، ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر ہی رہنا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
ان دونوں وعدوں میں سے پہلے کے آتے ہی ہم نے تمہارے مقابلہ پر اپنے بندے بھیج دیئے جو بڑے ہی لڑاکے تھے۔ پس وه تمہارے گھروں کے اندر تک پھیل گئے اور اللہ کا یہ وعده پورا ہونا ہی تھا
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب ان میں پہلی بار کا وعدہ آیا ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے سخت لڑائی والے تو وہ شہروں کے اندر تمہاری تلاش کو گھسے اور یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہونا تھا،
علامہ محمد حسین نجفی
چنانچہ جب ان دونوں میں سے پہلے وعدہ کا وقت آگیا تو ہم نے (تمہاری سرکوبی کیلئے) اپنے کچھ ایسے سخت جنگجو بندے بھیج دیئے جو تمہاری آبادیوں کے اندر گھس گئے اور (خدا) کا وعدہ پورا ہو کر رہا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب ان دونوں میں سے پہلی کا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے سخت لڑائی والے کچھ بندے بھیجے، پس وہ گھروں کے اندر گھس گئے اور یہ ایسا وعدہ تھا جو (پورا) کیا ہوا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پیشین گوئی ٭٭
جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری تھی اس میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی سے خبر دے دی تھی کہ وہ زمین پر دو مرتبہ سرکشی کریں گے اور سخت فساد برپا کریں گے پس یہاں پر «قضینا» کے معنی مقرر کر دینا اور پہلے ہی سے خبر دے دینا کے ہیں۔ جیسے آیت «وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَٰلِكَ الْأَمْرَ أَنَّ دَابِرَ هَـٰؤُلَاءِ مَقْطُوعٌ مُّصْبِحِينَ» ۱؎ [15-الحجر:66] میں یہی معنی ہیں۔ بس ان کے پہلے فساد کے وقت ہم نے اپنی مخلوق میں سے ان لوگوں کو ان کے اوپر مسلط کیا جو بڑے ہی لڑنے والے سخت جان اور سازو سامان سے پورے لیس تھے وہ ان پر چھا گئے ان کے شہر چھین لیے لوٹ مار کر کے ان کے گھروں تک کو خالی کر کے بے خوف و خطر واپس چلے گئے، اللہ کا وعدہ پورا ہونا ہی تھا کہتے ہیں کہ یہ جالوت کا لشکر تھا۔ پھر اللہ نے بنی اسرائیل کی مدد کی اور یہ طالوت کی بادشاہت میں پھر لڑے اور داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ موصل کے بادشاہ سنجاریب اور اس کے لشکر نے ان پر فوج کشی کی تھے۔ بعض کہتے ہیں بابل کا بادشاہ بخت نصر چڑھ آیا تھا۔
ابن ابی حاتم نے یہاں پر ایک عجیب و غریب قصہ نقل کیا ہے کہ کس طرح اس شخص نے بتدریج ترقی کی تھی۔ اولاً یہ ایک فقیر تھا پڑا رہتا تھا اور بھیک مانگ کر گزارہ کرتا تھا۔ پھر تو بیت المقدس تک اس نے فتح کر لیا اور وہاں پر بنی اسرائیل کو بیدریج قتل کیا۔ این جریر نے اس آیت کی تفسیر میں ایک مطول مرفوع حدیث بیان کی ہے جو محض موضوع ہے اور اس کے موضوع ہونے میں کسی کو ذرا سا بھی شک نہیں ہو سکتا۔ تعجب ہے کہ باوجود اس قدر وافر علم کے امام صاحب نے یہ حدیث وارد کردی ہمارے استاد شیخ حافظ علامہ ابو الحجاج مزی رحمہ اللہ نے اس کے موضوع ہونے کی تصریح کی ہے۔ اور کتاب کے حاشیہ پر لکھ بھی دیا ہے۔ اس باب میں بنی اسرائیلی روایتیں بھی بہت سی ہیں لیکن ہم انہیں وارد کر کے بے فائدہ اپنی کتاب کو طول دینا نہیں چاہتے کیونکہ ان میں سے بعض تو موضوع ہیں اور بعض گو ایسی نہ ہوں لیکن بحمد للہ ہمیں ان روایتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ کتاب اللہ ہمیں اور تمام کتابوں سے بے نیاز کر دینے والی ہے۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں نے ہمیں ان چیزوں کا محتاج نہیں رکھا۔
مطلب صرف اس قدر ہے کہ بنی اسرائیل کی سرکشی کے وقت اللہ نے ان کے دشمن ان پر مسلط کر دئے جنہوں نے انہیں خوب مزہ چکھایا بری طرح درگت بنائی ان کے بال بچوں کو تہ تیغ کیا انہیں اس قدر ذلیل کیا کہ ان کے گھروں تک میں گھس کر ان کا ستیاناس کیا اور ان کی سرکشی کی پوری سزا دی۔ انہوں نے بھی ظلم و زیادتی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی عوام تو عوام انہوں نے تو نبیوں کے گلے کاٹے تھے، علماء کو سر بازار قتل کیا تھا۔ بخت نصر ملک شام پر غالب آیا بیت المقدس کو ویران کردیا وہاں کے باشندوں کو قتل کیا۔ پھر دمشق پہنچا یہاں دیکھا کہ ایک سخت پتھر پر خون جوش مار رہا ہے پوچھا یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا ہم نے تو اسے باپ دادوں سے اسی طرح دیکھا ہے یہ خون برابر ابلتا رہتا ہے ٹھیرتا نہیں اس نے وہیں پر قتل عام شروع کر دیا ستر ہزار مسلمان وغیرہ اس کے ہاتھوں یہاں پہ قتل ہوئے پس وہ خون ٹہر گیا۔ اس نے علماء اور حفاظ کو اور تمام شریف اور ذی عزت لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا ان میں کوئی بھی حافظ تورات نہ بچا۔ پھر قید کرنا شروع کیا ان قیدیوں میں نبی زادے بھی تھے۔ غرض ایک لرزہ خیز ہنگامہ ہوا لیکن چونکہ صحیح روایتوں سے بلکہ صحت کے قریب والی روایتوں سے بھی تفصیلات نہیں ملتی اس لیے ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے نیکی کرنے والا دراصل اپنے لیے ہی بھلا کرتا ہے اور برائی کرنے والا حقیقت میں اپنا ہی برا کرتا ہے جیسے ارشاد ہے۔ آیت «مَنْ عَمِلَ صَالِحًــا فَلِنَفْسِهٖ وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْهَا ۭ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ» ۱؎ [41-فصلت:46] ’ جو شخص نیک کام کرے وہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو برائی کرے اس کا بوجھ اسی پر ہے۔ ‘ پھر جب دوسرا وعدہ آیا اور پھر بنی اسرائیل نے اللہ کی نافرمانیوں پر کھلے عام کمر کس لی اور بے باکی اور بے حیائی کے ساتھ ظلم کرنے شروع کر دئے تو پھر ان کے دشمن چڑھ دوڑے کہ وہ ان کی شکلیں بگاڑ دیں اور بیت المقدس کی مسجد جس طرح پہلے انہوں نے اپنے قبضے میں کرلی تھی اب پھر دوبارہ کرلیں اور جہاں تک بن پڑے ہر چیز کا ستیاناس کر دیں چنانچہ یہ بھی ہو کر رہا۔ تمہارا رب تو ہے ہی رحم و کرم کرنے والا اور اس سے ناامیدی نازیبا ہے، یہ ممکن ہے کہ پھر سے دشمنوں کو پست کر دے ہاں یہ یاد رہے کہ ادھر تم نے سر اٹھایا ادھر ہم نے تمہارا سر کچلا۔ ادھر تم نے فساد مچایا ادھر ہم نے برباد کیا۔ یہ تو ہوئی دنیوی سزا۔ ابھی آخرت کی زبردست اور غیر فانی سزا باقی ہے۔ جہنم کافروں کا قید خانہ ہے جہاں سے نہ وہ نکل سکیں نہ چھوٹ سکیں نہ بھاگ سکیں۔ ہمیشہ کے لیے ان کا اوڑھنا بچھونا یہی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پھر بھی انہوں نے سر اٹھایا اور بالکل فرمان الٰہی کو چھوڑا اور مسلمانوں سے ٹکرا گئے تو اللہ تعالیٰ نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر غالب کیا اور انہیں جزیہ دینا پڑا۔
5۔ 1 یہ اشارہ ہے اس ذلت اور تباہی کی طرف جو بابل کے فرمان روا بخت نصر کے ہاتھوں، حضرت مسیح ؑ سے تقریبًا چھ سو سال قبل، یہودیوں پر یروشلم میں نازل ہوئی۔ اس نے بےدریغ یہودیوں کو قتل کیا اور ایک بڑی تعداد کو غلام بنا لیا اور یہ اس وقت ہوا جب انہوں نے اللہ کے نبی حضرت شعیب ؑ کو قتل کیا یا حضرت ارمیا ؑ کو قید کیا اور تورات کے احکام کی خلاف ورزی اور معصیات کا ارتکاب کر کے فساد فی الارض کے مجرم بنے۔ بعض کہتے ہیں کہ بخت نصر کے بجائے جالوت کو اللہ تعالیٰ نے بطور سزا ان پر مسلط کیا، جس نے ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔ حتیٰ کہ طالوت کی قیادت میں حضرت داوٗد ؑ نے جالوت کو قتل کیا۔
(آیت 6،5) ➊ {فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا …:} اس دو مرتبہ کے فساد اور اس کی سزا کی تعیین کا کوئی مضبوط اور قابل اعتماد ذریعہ ہمارے پاس قرآن و سنت کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ تاریخ خصوصاً قبل مسیح کی تاریخ کی نہ کوئی سند ہے نہ اس کے ثبوت کی کوئی اور پختہ دلیل، رہا ان کا فساد تو اس کا شمار ہی نہیں۔ قرآن مجید میں ان کے مذکور فسادات ہی دیکھ لیں، سمندر سے پار ہوتے ہی معبود بنانے کا مطالبہ، پھر سامری کا بچھڑا بنانا اور اس کی عبادت، پھر موسیٰ علیہ السلام سے مسلسل مختلف تقاضے، حتیٰ کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھنے کو موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کی شرط قرار دے دیا۔ پھر جہاد کے لیے نکلنے کی دعوت پر «فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ» [ المائدۃ: ۲۴ ] کہنا، پھر ان کا سود کھانا، رشوت لینا، سبت (ہفتے کے دن) کی تعظیم کے بجائے حیلے کے ساتھ اس میں شکار کرنا۔ ہمسایہ قوموں کے اثر سے بت پرستی اور زنا کا عام ہونا، کتاب اللہ میں تحریف کرنا، لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھانا، اپنے بزرگوں اور نبیوں کو خدا کا درجہ دینا، احبار و رہبان کی تقلید کرنا، احبار و رہبان کا لوگوں کے اموال باطل طریقے سے کھانا اور صحیح دین سے لوگوں کو ہٹانا، اللہ کے نبیوں کو اور نیکی کا حکم دینے والے صالحین کو قتل کرنا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننے کے باوجود ان پر ایمان نہ لانا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے در پے ہونا۔ غرض ان کے فسادات کا کوئی شمار ہی نہیں، اسی طرح ان پر اللہ کے عذاب کا کوڑا مسلسل برستے رہنا بھی صرف دو دفعہ تک محدود نہیں بلکہ قیامت تک بار بار بدترین عذابوں کا نشانہ بننا قرآن مجید میں مذکور ہے، فرمایا: «وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ» [ الأعراف: ۱۶۷ ] ”اور جب تیرے رب نے صاف اعلان کر دیا کہ وہ قیامت کے دن تک ان پر ایسا آدمی ضرور بھیجتا رہے گا جو انھیں برا عذاب دے۔“ اس لیے ان دو مرتبہ کی تعیین ایک مشکل کام ہے۔ مفسرین کا اس تعیین میں اختلاف بھی اس کی دلیل ہے۔ کوئی بابل کے بادشاہ سنحاریب اور اس کے جنگجو ساتھیوں کو اس کا مصداق قرار دیتا ہے، کوئی عمالقہ کو، کوئی بخت نصر کو، بعض جدید مفسرین نے یہاں بائبل سے لمبی چوڑی عبارتیں نقل کیں اور ان میں مذکور بعض واقعات اور شخصیتوں کو اس کا مصداق قرار دیا، حالانکہ بائبل کی کسی بات پر یقین جائز نہیں، سوائے ان باتوں کے جو قرآن و حدیث میں مذکور ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف الفاظ میں فرمایا: [ لاَ تُصَدِّقُوْا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا: «اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ» البقرة: ۱۳۶ ] [ بخاري، الشہادات، باب لا یسأل أہل الشرک…، قبل ح: ۲۶۸۵، تعلیقاً عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”اہل کتاب کو نہ سچا کہو اور نہ انھیں جھوٹا کہو، بلکہ یہ کہہ لیا کرو کہ ہم اللہ پر اور جو کچھ اس نے نازل کیا سب پر ایمان لائے۔“ اسی باب میں امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: [ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِيْنَ! كَيْفَ تَسْأَلُوْنَ أَهْلَ الْكِتَابِ؟ وَكِتَابُكُمُ الَّذِيْ أُنْزِلَ عَلٰی نَبِيِّهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ الْأَخْبَارِ بِاللّٰهِ تَقْرَءُوْنَهُ لَمْ يُشَبْ وَقَدْ حَدَّثَكُمُ اللّٰهُ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ بَدَّلُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ وَغَيَّرُوْا بِأَيْدِيْهِمُ الْكِتَابَ فَقَالُوْا: «هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِيَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا» [البقرة: ۷۹] أَفَلاَ يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مُسَاءَلَتِهِمْ؟ وَلَا وَاللّٰهِ! مَا رَأَيْنَا مِنْهُمْ رَجُلاً قَطُّ يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِيْ أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ ] [ بخاری، الشھادات، باب لا یسأل أھل الشرک عن الشھادۃ وغیرھا: ۲۶۸۵ ] ”اے مسلمانو کی جماعت! تم اہل کتاب سے کس طرح سوال کرتے ہو، حالانکہ تمھاری کتاب جو اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نازل کی گئی وہ تمام خبروں میں سے اللہ کی طرف سے نئی ہے۔ تم اسے ایسی حالت میں پڑھتے ہو کہ اس میں کوئی ملاوٹ نہیں کی گئی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں بتا دیا ہے کہ اللہ نے جو کچھ لکھا تھا اہل کتاب نے اسے بدل دیا اور اپنے ہاتھوں سے کتاب کو تبدیل کر دیا اور یہ کہہ دیا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے ساتھ تھوڑی قیمت خریدیں۔ کیا وہ علم جو تمھارے پاس آیا ہے تمھیں ان سے سوال کرنے سے منع نہیں کرتا؟ اور نہیں، قسم ہے اللہ کی! ہم نے ان میں سے کسی آدمی کو کبھی نہیں دیکھا کہ وہ تم سے اس کے متعلق سوال کرتا ہو جو تم پر نازل کیا گیا ہے۔“ اب ایسی بات جسے سچا کہا ہی نہیں جا سکتا اس پر یقین کیسے ہو سکتا ہے۔ اگرچہ یہ تعیین نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ قرآن مجید محض تاریخ کی کتاب نہیں، نہ ہر جگہ اس میں واقعات پوری ترتیب اور تفصیل کے ساتھ مذکور ہوتے ہیں بلکہ اس میں واقعات کا صرف وہی حصہ بیان ہوتا ہے جو نصیحت وعبرت سے تعلق رکھتا ہے، تاہم اگر کسی معتبر ذریعے سے اس کی تفصیل معلوم ہو جائے تو نصیحت و عبرت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ➋ قرآن مجید کے مطابق مصر سے نکلنے کے بعد موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو ارضِ مقدس میں داخلے کے لیے جہاد کا حکم دیا اور بتایا کہ اس سرزمین کو اللہ تعالیٰ نے تمھاری ملکیت بنانا طے فرما دیا ہے، مگر غلامی کی خوگر اس نسل نے نہایت گستاخانہ الفاظ میں جہاد کے لیے نکلنے سے انکار کر دیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۲۰ تا ۲۶) اس کے نتیجے میں وہ چالیس سال وہیں صحرا میں سرگرداں رہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس دوران وفات پا گئے، اللہ کے اس جلیل القدر پیغمبر کو ارضِ مقدس میں جانے کی اس قدر حسرت تھی کہ انھوں نے وفات کے وقت دعا کی کہ یا اللہ! مجھے ارضِ مقدس سے اتنا قریب کر دے کہ پتھر پھینکنے سے اس زمین میں پہنچ جائے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں وہاں ہوتا تو تمھیں ان کی قبر راستے کی ایک جانب سرخ ٹیلے کے نیچے دکھاتا۔“ [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب وفاۃ موسٰی و ذکرہ بعد: ۳۴۰۷ ] جب وہ نسل جو ان ہوئی جو آزادی کے دور میں پیدا ہوئی تھی تو انھوں نے ارضِ شام اور بیت المقدس کو فتح کیا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں آزادی کے ساتھ حکومت کی نعمت بھی عطا فرمائی۔ یہ دور کتنے عرصے پر محیط تھا، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دین سے دوری اور دنیا کی محبت کی بنا پر وہ آپس میں لڑنے لگے، اللہ تعالیٰ کے احکام کو پس پشت پھینک دیا اور اس قدر فساد فی الارض کے مرتکب ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے وہ سخت جنگ والے بندے بھیجے جن کا یہاں اس آیت میں ذکر ہے۔ وہ ان کے گھروں کے اندر گھس گئے اور ان کے گھروں، زمینوں، عورتوں اور بچوں پر قابض ہو گئے اور انھیں بیت المقدس اور ارضِ شام سے نکال باہر کیا، بیت المقدس میں داخل ہو کر اس کی جتنی بے حرمتی کر سکتے تھے انھوں نے کی۔ یہ پہلے فساد کی سزا تھی۔ اس وقت ان حملہ آوروں کا بادشاہ کون تھا، اللہ تعالیٰ نے واضح نہیں فرمایا۔ اس کے ایک عرصہ بعد بنی اسرائیل کے کچھ سرداروں نے ارض مقدس اور اپنے اسیروں کی واپسی کے لیے وقت کے نبی سے کوئی بادشاہ مقرر کرنے کی درخواست کی، جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق طالوت مقرر کیے گئے۔ یہ مفصل واقعہ سورۂ بقرہ (۲۴۶ تا ۲۵۱) اور اس کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ اس وقت کفار کا بادشاہ جالوت تھا، ممکن ہے بنی اسرائیل پر عذاب کا کوڑا بھی اسی کے ہاتھوں برسا ہو۔ بہرحال کفار کو شکست ہوئی اور داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کر دیا۔ ارض مقدس پر پھر بنی اسرائیل قابض ہو گئے اور اللہ کا دین پھر غالب ہو گیا۔ طالوت کے بعد داؤد علیہ السلام نے جہاد کے ذریعے سے اس سلطنت کو مزید وسیع کیا، ان کے بعد سلیمان علیہ السلام کو ایسی حکومت عطا ہوئی جو ان کی دعا کے مطابق ان کے بعد کسی کے لائق ہی نہیں۔ اس کی تفصیل سورۂ نمل (۱۵ تا ۴۴)، سورۂ ص (۱۷ تا ۴۰)، سورۂ انبیاء (۷۷ تا ۸۲) اور سورۂ سبا (۱۰ تا ۱۴) میں ملاحظہ فرمائیں۔ یہ سب آیات زیر تفسیر آیت: «ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِيْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا» کی تفسیر ہیں۔ ان کی وفات کے بعد پھر اخلاقی زوال اور دنیا پرستی کا دور شروع ہوا، حتیٰ کہ کئی انبیاء وصلحاء، جو گناہ سے منع کرتے تھے، شہید کر دیے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل ختم ہو گیا، مشرک قوموں کی ہمسائیگی اور دوستی کے نتیجے میں شرک، جادو، قتل ناحق، زنا، ڈاکے وغیرہ پھیل گئے اور اللہ کی حدود معطل ہو گئیں، حتیٰ کہ مسیح علیہ السلام کو بھی انھوں نے اپنے خیال میں سولی پر چڑھا دیا۔ اس سے پچھلے حاشیے میں بھی کئی خرابیاں ذکر ہوئی ہیں۔ وہ آپس میں لڑ کر کئی فرقوں اور کئی سلطنتوں میں بٹ گئے۔ انبیاء کو قتل کرنے اور مسیح علیہ السلام کو اپنے خیال میں سولی دینے کے بعد پھر ان پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سخت ترین کوڑا برسا۔ یہ دوسرا موقع تھا کہ ان پر اللہ کے سخت لڑاکا لوگ حملہ آور ہوئے اور ان سے وہ سلوک کیا جو اس سے اگلی آیت {”فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ “} میں مذکور ہے۔
اِس کے بعد ہم نے تمہیں اُن پر غلبے کا موقع دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر ہم نے ان پر تمہارا غلبہ دے کر تمہارے دن پھیرے اور مال اور اوﻻد سے تمہاری مدد کی اور تمہیں بڑے جتھے واﻻ بنا دیا
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہم نے ان پر اُلٹ کر تمہارا حملہ کردیا اور تم کو مالوں اور بیٹوں سے مدد دی اور تمہارا جتھا بڑھا دیا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور پھر ہم نے گردشِ زمانہ کو تمہارے حق میں دشمن کے خلاف کر دیا (تمہیں ان پر غلبہ دے دیا) اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تمہیں کثیر التعداد بنا دیا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہم نے تمھیں دوبارہ ان پر غلبہ دیا اور تمھیں مالوں اور بیٹوں سے مدد دی اور تمھیں تعداد میں زیادہ کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پیشین گوئی ٭٭
جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری تھی اس میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی سے خبر دے دی تھی کہ وہ زمین پر دو مرتبہ سرکشی کریں گے اور سخت فساد برپا کریں گے پس یہاں پر «قضینا» کے معنی مقرر کر دینا اور پہلے ہی سے خبر دے دینا کے ہیں۔ جیسے آیت «وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَٰلِكَ الْأَمْرَ أَنَّ دَابِرَ هَـٰؤُلَاءِ مَقْطُوعٌ مُّصْبِحِينَ» ۱؎ [15-الحجر:66] میں یہی معنی ہیں۔ بس ان کے پہلے فساد کے وقت ہم نے اپنی مخلوق میں سے ان لوگوں کو ان کے اوپر مسلط کیا جو بڑے ہی لڑنے والے سخت جان اور سازو سامان سے پورے لیس تھے وہ ان پر چھا گئے ان کے شہر چھین لیے لوٹ مار کر کے ان کے گھروں تک کو خالی کر کے بے خوف و خطر واپس چلے گئے، اللہ کا وعدہ پورا ہونا ہی تھا کہتے ہیں کہ یہ جالوت کا لشکر تھا۔ پھر اللہ نے بنی اسرائیل کی مدد کی اور یہ طالوت کی بادشاہت میں پھر لڑے اور داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ موصل کے بادشاہ سنجاریب اور اس کے لشکر نے ان پر فوج کشی کی تھے۔ بعض کہتے ہیں بابل کا بادشاہ بخت نصر چڑھ آیا تھا۔
ابن ابی حاتم نے یہاں پر ایک عجیب و غریب قصہ نقل کیا ہے کہ کس طرح اس شخص نے بتدریج ترقی کی تھی۔ اولاً یہ ایک فقیر تھا پڑا رہتا تھا اور بھیک مانگ کر گزارہ کرتا تھا۔ پھر تو بیت المقدس تک اس نے فتح کر لیا اور وہاں پر بنی اسرائیل کو بیدریج قتل کیا۔ این جریر نے اس آیت کی تفسیر میں ایک مطول مرفوع حدیث بیان کی ہے جو محض موضوع ہے اور اس کے موضوع ہونے میں کسی کو ذرا سا بھی شک نہیں ہو سکتا۔ تعجب ہے کہ باوجود اس قدر وافر علم کے امام صاحب نے یہ حدیث وارد کردی ہمارے استاد شیخ حافظ علامہ ابو الحجاج مزی رحمہ اللہ نے اس کے موضوع ہونے کی تصریح کی ہے۔ اور کتاب کے حاشیہ پر لکھ بھی دیا ہے۔ اس باب میں بنی اسرائیلی روایتیں بھی بہت سی ہیں لیکن ہم انہیں وارد کر کے بے فائدہ اپنی کتاب کو طول دینا نہیں چاہتے کیونکہ ان میں سے بعض تو موضوع ہیں اور بعض گو ایسی نہ ہوں لیکن بحمد للہ ہمیں ان روایتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ کتاب اللہ ہمیں اور تمام کتابوں سے بے نیاز کر دینے والی ہے۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں نے ہمیں ان چیزوں کا محتاج نہیں رکھا۔
مطلب صرف اس قدر ہے کہ بنی اسرائیل کی سرکشی کے وقت اللہ نے ان کے دشمن ان پر مسلط کر دئے جنہوں نے انہیں خوب مزہ چکھایا بری طرح درگت بنائی ان کے بال بچوں کو تہ تیغ کیا انہیں اس قدر ذلیل کیا کہ ان کے گھروں تک میں گھس کر ان کا ستیاناس کیا اور ان کی سرکشی کی پوری سزا دی۔ انہوں نے بھی ظلم و زیادتی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی عوام تو عوام انہوں نے تو نبیوں کے گلے کاٹے تھے، علماء کو سر بازار قتل کیا تھا۔ بخت نصر ملک شام پر غالب آیا بیت المقدس کو ویران کردیا وہاں کے باشندوں کو قتل کیا۔ پھر دمشق پہنچا یہاں دیکھا کہ ایک سخت پتھر پر خون جوش مار رہا ہے پوچھا یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا ہم نے تو اسے باپ دادوں سے اسی طرح دیکھا ہے یہ خون برابر ابلتا رہتا ہے ٹھیرتا نہیں اس نے وہیں پر قتل عام شروع کر دیا ستر ہزار مسلمان وغیرہ اس کے ہاتھوں یہاں پہ قتل ہوئے پس وہ خون ٹہر گیا۔ اس نے علماء اور حفاظ کو اور تمام شریف اور ذی عزت لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا ان میں کوئی بھی حافظ تورات نہ بچا۔ پھر قید کرنا شروع کیا ان قیدیوں میں نبی زادے بھی تھے۔ غرض ایک لرزہ خیز ہنگامہ ہوا لیکن چونکہ صحیح روایتوں سے بلکہ صحت کے قریب والی روایتوں سے بھی تفصیلات نہیں ملتی اس لیے ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے نیکی کرنے والا دراصل اپنے لیے ہی بھلا کرتا ہے اور برائی کرنے والا حقیقت میں اپنا ہی برا کرتا ہے جیسے ارشاد ہے۔ آیت «مَنْ عَمِلَ صَالِحًــا فَلِنَفْسِهٖ وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْهَا ۭ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ» ۱؎ [41-فصلت:46] ’ جو شخص نیک کام کرے وہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو برائی کرے اس کا بوجھ اسی پر ہے۔ ‘ پھر جب دوسرا وعدہ آیا اور پھر بنی اسرائیل نے اللہ کی نافرمانیوں پر کھلے عام کمر کس لی اور بے باکی اور بے حیائی کے ساتھ ظلم کرنے شروع کر دئے تو پھر ان کے دشمن چڑھ دوڑے کہ وہ ان کی شکلیں بگاڑ دیں اور بیت المقدس کی مسجد جس طرح پہلے انہوں نے اپنے قبضے میں کرلی تھی اب پھر دوبارہ کرلیں اور جہاں تک بن پڑے ہر چیز کا ستیاناس کر دیں چنانچہ یہ بھی ہو کر رہا۔ تمہارا رب تو ہے ہی رحم و کرم کرنے والا اور اس سے ناامیدی نازیبا ہے، یہ ممکن ہے کہ پھر سے دشمنوں کو پست کر دے ہاں یہ یاد رہے کہ ادھر تم نے سر اٹھایا ادھر ہم نے تمہارا سر کچلا۔ ادھر تم نے فساد مچایا ادھر ہم نے برباد کیا۔ یہ تو ہوئی دنیوی سزا۔ ابھی آخرت کی زبردست اور غیر فانی سزا باقی ہے۔ جہنم کافروں کا قید خانہ ہے جہاں سے نہ وہ نکل سکیں نہ چھوٹ سکیں نہ بھاگ سکیں۔ ہمیشہ کے لیے ان کا اوڑھنا بچھونا یہی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پھر بھی انہوں نے سر اٹھایا اور بالکل فرمان الٰہی کو چھوڑا اور مسلمانوں سے ٹکرا گئے تو اللہ تعالیٰ نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر غالب کیا اور انہیں جزیہ دینا پڑا۔
6۔ 1 یعنی بخت نصر یا جالوت کے قتل کے بعد ہم نے تمہیں پھر مال اور دولت، بیٹوں اور جاہ حشمت سے نوازا، جب کہ یہ ساری چیزیں تم سے چھن چکی تھیں۔ اور تمہیں پھر زیادہ جتھے والا اور طاقتور بنادیا۔
دیکھو! تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لیے بھلائی تھی، اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لیے برائی ثابت ہوئی پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں اُسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اُسے تباہ کر کے رکھ دیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر تم نے اچھے کام کئے تو خود اپنے ہی فائده کے لئے، اور اگر تم نے برائیاں کیں تو بھی اپنے ہی لئے، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے دوسرے بندوں کو بھیج دیا تاکہ) وه تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور پہلی دفعہ کی طرح پھر اسی مسجد میں گھس جائیں۔ اور جس جس چیز پر قابو پائیں توڑ پھوڑ کر جڑ سے اکھاڑ دیں
احمد رضا خان بریلوی
اگر تم بھلائی کرو گے اپنا بھلا کرو گے اور اگر بُرا کرو گے تو اپنا، پھر جب دوسری بار کا وعدہ آیا کہ دشمن تمہارا منہ بگاڑ دیں اور مسجد میں داخل ہوں جیسے پہلی بار داخل ہوئے تھے اور جس چیز پر قابو پائیں تباہ کرکے برباد کردیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(دیکھو) اگر تم اچھے کام کروگے تو اپنے لئے ہی کروگے اور اگر برے کام کروگے تو وہ بھی اپنے لئے کروگے پس جب دوسرا وعدہ آگیا (تو ہم نے اور بندوں کو مسلط کر دیا) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں اسی طرح (جبراً) داخل ہو جائیں جس طرح پہلی بار (حملہ آور) داخل ہوئے تھے اور تاکہ جس جس چیز پر وہ قابو پائیں اسے تباہ و برباد کر دیں۔
عبدالسلام بن محمد
اگر تم نے بھلائی کی تو اپنی جانوں کے لیے بھلائی کی اور اگر برائی کی تو انھی کے لیے، پھر جب آخری بار کا وعدہ آیا (تو ہم نے اور بندے تم پر بھیجے) تاکہ وہ تمھارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ وہ مسجد میں داخل ہوں، جیسے وہ پہلی بار اس میں داخل ہوئے اور تا کہ جس چیز پر غلبہ پائیں اسے برباد کر دیں، بری طرح برباد کرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پیشین گوئی ٭٭
جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری تھی اس میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی سے خبر دے دی تھی کہ وہ زمین پر دو مرتبہ سرکشی کریں گے اور سخت فساد برپا کریں گے پس یہاں پر «قضینا» کے معنی مقرر کر دینا اور پہلے ہی سے خبر دے دینا کے ہیں۔ جیسے آیت «وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَٰلِكَ الْأَمْرَ أَنَّ دَابِرَ هَـٰؤُلَاءِ مَقْطُوعٌ مُّصْبِحِينَ» ۱؎ [15-الحجر:66] میں یہی معنی ہیں۔ بس ان کے پہلے فساد کے وقت ہم نے اپنی مخلوق میں سے ان لوگوں کو ان کے اوپر مسلط کیا جو بڑے ہی لڑنے والے سخت جان اور سازو سامان سے پورے لیس تھے وہ ان پر چھا گئے ان کے شہر چھین لیے لوٹ مار کر کے ان کے گھروں تک کو خالی کر کے بے خوف و خطر واپس چلے گئے، اللہ کا وعدہ پورا ہونا ہی تھا کہتے ہیں کہ یہ جالوت کا لشکر تھا۔ پھر اللہ نے بنی اسرائیل کی مدد کی اور یہ طالوت کی بادشاہت میں پھر لڑے اور داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ موصل کے بادشاہ سنجاریب اور اس کے لشکر نے ان پر فوج کشی کی تھے۔ بعض کہتے ہیں بابل کا بادشاہ بخت نصر چڑھ آیا تھا۔
ابن ابی حاتم نے یہاں پر ایک عجیب و غریب قصہ نقل کیا ہے کہ کس طرح اس شخص نے بتدریج ترقی کی تھی۔ اولاً یہ ایک فقیر تھا پڑا رہتا تھا اور بھیک مانگ کر گزارہ کرتا تھا۔ پھر تو بیت المقدس تک اس نے فتح کر لیا اور وہاں پر بنی اسرائیل کو بیدریج قتل کیا۔ این جریر نے اس آیت کی تفسیر میں ایک مطول مرفوع حدیث بیان کی ہے جو محض موضوع ہے اور اس کے موضوع ہونے میں کسی کو ذرا سا بھی شک نہیں ہو سکتا۔ تعجب ہے کہ باوجود اس قدر وافر علم کے امام صاحب نے یہ حدیث وارد کردی ہمارے استاد شیخ حافظ علامہ ابو الحجاج مزی رحمہ اللہ نے اس کے موضوع ہونے کی تصریح کی ہے۔ اور کتاب کے حاشیہ پر لکھ بھی دیا ہے۔ اس باب میں بنی اسرائیلی روایتیں بھی بہت سی ہیں لیکن ہم انہیں وارد کر کے بے فائدہ اپنی کتاب کو طول دینا نہیں چاہتے کیونکہ ان میں سے بعض تو موضوع ہیں اور بعض گو ایسی نہ ہوں لیکن بحمد للہ ہمیں ان روایتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ کتاب اللہ ہمیں اور تمام کتابوں سے بے نیاز کر دینے والی ہے۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں نے ہمیں ان چیزوں کا محتاج نہیں رکھا۔
مطلب صرف اس قدر ہے کہ بنی اسرائیل کی سرکشی کے وقت اللہ نے ان کے دشمن ان پر مسلط کر دئے جنہوں نے انہیں خوب مزہ چکھایا بری طرح درگت بنائی ان کے بال بچوں کو تہ تیغ کیا انہیں اس قدر ذلیل کیا کہ ان کے گھروں تک میں گھس کر ان کا ستیاناس کیا اور ان کی سرکشی کی پوری سزا دی۔ انہوں نے بھی ظلم و زیادتی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی عوام تو عوام انہوں نے تو نبیوں کے گلے کاٹے تھے، علماء کو سر بازار قتل کیا تھا۔ بخت نصر ملک شام پر غالب آیا بیت المقدس کو ویران کردیا وہاں کے باشندوں کو قتل کیا۔ پھر دمشق پہنچا یہاں دیکھا کہ ایک سخت پتھر پر خون جوش مار رہا ہے پوچھا یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا ہم نے تو اسے باپ دادوں سے اسی طرح دیکھا ہے یہ خون برابر ابلتا رہتا ہے ٹھیرتا نہیں اس نے وہیں پر قتل عام شروع کر دیا ستر ہزار مسلمان وغیرہ اس کے ہاتھوں یہاں پہ قتل ہوئے پس وہ خون ٹہر گیا۔ اس نے علماء اور حفاظ کو اور تمام شریف اور ذی عزت لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا ان میں کوئی بھی حافظ تورات نہ بچا۔ پھر قید کرنا شروع کیا ان قیدیوں میں نبی زادے بھی تھے۔ غرض ایک لرزہ خیز ہنگامہ ہوا لیکن چونکہ صحیح روایتوں سے بلکہ صحت کے قریب والی روایتوں سے بھی تفصیلات نہیں ملتی اس لیے ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے نیکی کرنے والا دراصل اپنے لیے ہی بھلا کرتا ہے اور برائی کرنے والا حقیقت میں اپنا ہی برا کرتا ہے جیسے ارشاد ہے۔ آیت «مَنْ عَمِلَ صَالِحًــا فَلِنَفْسِهٖ وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْهَا ۭ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ» ۱؎ [41-فصلت:46] ’ جو شخص نیک کام کرے وہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو برائی کرے اس کا بوجھ اسی پر ہے۔ ‘ پھر جب دوسرا وعدہ آیا اور پھر بنی اسرائیل نے اللہ کی نافرمانیوں پر کھلے عام کمر کس لی اور بے باکی اور بے حیائی کے ساتھ ظلم کرنے شروع کر دئے تو پھر ان کے دشمن چڑھ دوڑے کہ وہ ان کی شکلیں بگاڑ دیں اور بیت المقدس کی مسجد جس طرح پہلے انہوں نے اپنے قبضے میں کرلی تھی اب پھر دوبارہ کرلیں اور جہاں تک بن پڑے ہر چیز کا ستیاناس کر دیں چنانچہ یہ بھی ہو کر رہا۔ تمہارا رب تو ہے ہی رحم و کرم کرنے والا اور اس سے ناامیدی نازیبا ہے، یہ ممکن ہے کہ پھر سے دشمنوں کو پست کر دے ہاں یہ یاد رہے کہ ادھر تم نے سر اٹھایا ادھر ہم نے تمہارا سر کچلا۔ ادھر تم نے فساد مچایا ادھر ہم نے برباد کیا۔ یہ تو ہوئی دنیوی سزا۔ ابھی آخرت کی زبردست اور غیر فانی سزا باقی ہے۔ جہنم کافروں کا قید خانہ ہے جہاں سے نہ وہ نکل سکیں نہ چھوٹ سکیں نہ بھاگ سکیں۔ ہمیشہ کے لیے ان کا اوڑھنا بچھونا یہی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پھر بھی انہوں نے سر اٹھایا اور بالکل فرمان الٰہی کو چھوڑا اور مسلمانوں سے ٹکرا گئے تو اللہ تعالیٰ نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر غالب کیا اور انہیں جزیہ دینا پڑا۔
7۔ 1 یہ دوسری مرتبہ انہوں نے فساد برپا کیا کہ حضرت زکریا ؑ کو قتل کردیا اور حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی قتل کرنے کے درپے رہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھا کر ان سے بچا لیا۔ اس کے نتیجے میں پھر رومی بادشاہ ٹیٹس کو اللہ نے ان پر مسلط کردیا، اس نے یروشلم پر حملہ کر کے ان کے کشتے کے پشتے لگا دیئے اور بہت سوں کو قیدی بنا لیا، ان کے اموال لوٹ لئے، مذہبی صحیفوں کو پاؤں تلے روندا اور بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کو غارت کیا اور انھیں ہمیشہ کے لئے بیت المقدس سے جلا وطن کردیا۔ اور یوں ان کی ذلت و رسوائی کا خوب خوب سامان کیا۔ یہ تباہی 70 ء میں ان پر آئی۔
(آیت 7) ➊ {فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ …:” لِيَسُوْٓءٗا “ ” سَاءَهُ يَسُوْءُهُ “} کا فعل مضارع ہے، جو اصل میں {” يَسُوْءُوْنَ “} تھا۔ {”لام كَيْ“} کے بعد {” اَنْ “} مقدر کی وجہ سے نون گر گیا۔ یہ فعل متعدی ہے، غمگین کرنا، برا کر دینا، بگاڑ دینا۔ خوشی ہو یا غم، جسمانی یا قلبی راحت ہو یا اذیت اس کا اثر چہرے پر نمایاں ہوتا ہے، خوشی میں چہرہ چمک اٹھتا ہے اور غم سے کالا ہو جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْٓـَٔتْ وُجُوْهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا» [ الملک: ۲۷ ] ”پس جب وہ اس (عذاب) کو قریب دیکھیں گے تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے (بگاڑ دیے جائیں گے) جنھوں نے کفر کیا۔“ لوط علیہ السلام کے غمگین ہونے کے متعلق فرمایا: «سِيْٓءَ بِهِمْ» [ ھود: ۷۷ ] ”وہ ان (مہمانوں) کی وجہ سے مغموم ہو گیا۔“ اور فرمایا: «ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِيْمٌ» [النحل: ۵۸] ”(لڑکی پیدا ہونے کی بشارت ملنے پر) اس کا منہ سارا دن کالا رہتا ہے اور وہ غم سے بھرا ہوتا ہے۔“ {” عَلَوْا “ ”عَلَا يَعْلُوْ“} سے ماضی معلوم جمع مذکرغائب ہے، اس کا مفعول محذوف ہے، یعنی{ ”مَا عَلَوْهُ۔“ ” تَتْبِيْرًا “ } ویران کرنا، برباد کرنا، ٹکڑے ٹکڑے کر کے بکھیر دینا۔ {” لِيُتَبِّرُوْا “} کی تاکید {” تَتْبِيْرًا “} سے کی ہے، اس لیے ترجمہ میں اس کا معنی بری طرح برباد کرنا کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلی دفعہ کا عذاب مکمل {” تَتْبِيْرًا “} یعنی دوسری مرتبہ جیسا بری طرح برباد کرنا نہیں تھا، جب کہ دوسری مرتبہ کا عذاب دشمن کے گھروں میں گھسنے اور مسجد کی بے حرمتی سے کہیں بڑھ کر تھا، اس سے بنی اسرائیل بری طرح خوف و غم میں مبتلا ہوئے، حتیٰ کہ ان کے چہرے بگڑ گئے اور دشمن نے بنی اسرائیل کو اس بری طرح برباد کیا کہ وہ مدتوں اٹھ نہیں سکے۔ ➋ اس دوسری دفعہ والے بندوں سے مراد کون لوگ ہیں، اگرچہ قرآن نے ان کی تعیین نہیں فرمائی، تاہم اگر دیکھا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے وقت یہودی بیت المقدس سے مکمل بے دخل تھے، وہاں نصرانیوں کا قبضہ تھا اور یہودیوں کو داخلے تک کی اجازت نہیں تھی، وہ مدینہ، خیبر اور دنیا کے مختلف خطوں میں بکھرے ہوئے تھے تو اللہ کی طرف سے ان زبردست بندوں کے ان پر مسلط ہو کر انھیں مکمل طور پر تباہ و برباد کرکے قدس سے نکال دینے کا اندازہ ہوتا ہے۔ مؤرخین دوسری مرتبہ کا حملہ آور طیوطوس (ٹیوٹس) رومی کو قرار دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس اس کی تعیین کا کوئی معتبر ذریعہ نہیں۔ یہاں آکر اسرائیلیوں کی تاریخ ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ اس کے بعد وہ دنیا کے مختلف علاقوں میں بکھر گئے، چنانچہ اس کے بعد ان ممالک کی تاریخ کے ضمن ہی میں یہود کی تاریخ کا ذکر آتا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں نے بیت المقدس پر حملہ کیا تو اس وقت یہاں نصرانیوں کی حکومت تھی جنھوں نے مقابلے کی تاب نہ لا کر ۱۶ ھ میں صلح کے ذریعے سے شہر کی چابیاں امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیں۔ قدس سے نکلنے کے بعد تقریباً دو ہزار سال تک یہودی بیت المقدس سے بے دخل رہے۔ مگر جب مسلمانوں نے اللہ کے احکام سے بغاوت اختیار کی، شرک و بدعت، فرقہ پرستی، عیش و عشرت، زنا، شراب، موسیقی، کفار سے دوستی اور ان کی تقلید اختیار کر لی، اپنے ہی دستور و قانون بنا کر کتاب و سنت پر عمل ترک کر دیا۔ دنیا کی محبت میں جہاد چھوڑ بیٹھے تو ان کی بدعملیوں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمن یہودیوں کو دوسرے کفار کی مدد ({بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ}) کے ساتھ پھر ۱۹۶۷ء میں بیت المقدس پر قبضے کا موقع دے دیا، مگر یہ سمجھ لینا کہ اب یہ یہودیوں کے قبضے ہی میں رہے گا درست نہیں، مسلمان اپنے دین کی طرف پلٹیں گے، بلکہ پلٹنا شروع ہو چکے ہیں اور مسلمانوں اور یہودیوں کی جنگ ہو گی، اس میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی نصرت عطا ہو گی جس کا ذکر اس حدیث میں ہے جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُوْنَ الْيَهُوْدَ، فَيَقْتُلُهُمُ الْمُسْلِمُوْنَ، حَتّٰی يَخْتَبِئَ الْيَهُوْدِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ أَوِ الشَّجَرِ، فَيَقُوْلُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرُ يَا مُسْلِمُ! يَا عَبْدَ اللّٰهِ! هٰذَا يَهُوْدِيٌّ خَلْفِيْ، فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ، إِلَّا الْغَرْقَدَ، فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُوْدِ ] [ مسلم، الفتن، باب لا تقوم الساعۃ حتی یمر الرجل…: ۲۹۲۲ ] ”قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ مسلمان یہود سے جنگ کریں گے اور مسلمان انھیں قتل کریں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپے گا تو پتھر یا درخت کہے گا: ”اے مسلم! اے اللہ کے بندے! یہ یہودی میرے پیچھے ہے تو اسے قتل کر دے۔“ سوائے ”غرقد“ نامی درخت کے، کیونکہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے۔“
ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے، لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے، اور کا فر نعمت لوگوں کے لیے ہم نے جہنم کو قید خانہ بنا رکھا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
امید ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے۔ ہاں اگر تم پھر بھی وہی کرنے لگے تو ہم بھی دوباره ایسا ہی کریں گے اور ہم نے منکروں کا قید خانہ جہنم کو بنا رکھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
قریب ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے اور اگر تم پھر شرارت کرو تو ہم پھر عذاب کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کا قید خانہ بنایا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ہو سکتا ہے کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم فرمائے اور اگر تم پھر (فساد و سرکشی کی طرف) لوٹے تو پھر ہم بھی اسی طرح لوٹیں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا دیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تمھارا رب قریب ہے کہ تم پر رحم کرے اور اگر تم دوبارہ کرو گے تو ہم (بھی) دوبارہ کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ بنایا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پیشین گوئی ٭٭
جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری تھی اس میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی سے خبر دے دی تھی کہ وہ زمین پر دو مرتبہ سرکشی کریں گے اور سخت فساد برپا کریں گے پس یہاں پر «قضینا» کے معنی مقرر کر دینا اور پہلے ہی سے خبر دے دینا کے ہیں۔ جیسے آیت «وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَٰلِكَ الْأَمْرَ أَنَّ دَابِرَ هَـٰؤُلَاءِ مَقْطُوعٌ مُّصْبِحِينَ» ۱؎ [15-الحجر:66] میں یہی معنی ہیں۔ بس ان کے پہلے فساد کے وقت ہم نے اپنی مخلوق میں سے ان لوگوں کو ان کے اوپر مسلط کیا جو بڑے ہی لڑنے والے سخت جان اور سازو سامان سے پورے لیس تھے وہ ان پر چھا گئے ان کے شہر چھین لیے لوٹ مار کر کے ان کے گھروں تک کو خالی کر کے بے خوف و خطر واپس چلے گئے، اللہ کا وعدہ پورا ہونا ہی تھا کہتے ہیں کہ یہ جالوت کا لشکر تھا۔ پھر اللہ نے بنی اسرائیل کی مدد کی اور یہ طالوت کی بادشاہت میں پھر لڑے اور داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ موصل کے بادشاہ سنجاریب اور اس کے لشکر نے ان پر فوج کشی کی تھے۔ بعض کہتے ہیں بابل کا بادشاہ بخت نصر چڑھ آیا تھا۔
ابن ابی حاتم نے یہاں پر ایک عجیب و غریب قصہ نقل کیا ہے کہ کس طرح اس شخص نے بتدریج ترقی کی تھی۔ اولاً یہ ایک فقیر تھا پڑا رہتا تھا اور بھیک مانگ کر گزارہ کرتا تھا۔ پھر تو بیت المقدس تک اس نے فتح کر لیا اور وہاں پر بنی اسرائیل کو بیدریج قتل کیا۔ این جریر نے اس آیت کی تفسیر میں ایک مطول مرفوع حدیث بیان کی ہے جو محض موضوع ہے اور اس کے موضوع ہونے میں کسی کو ذرا سا بھی شک نہیں ہو سکتا۔ تعجب ہے کہ باوجود اس قدر وافر علم کے امام صاحب نے یہ حدیث وارد کردی ہمارے استاد شیخ حافظ علامہ ابو الحجاج مزی رحمہ اللہ نے اس کے موضوع ہونے کی تصریح کی ہے۔ اور کتاب کے حاشیہ پر لکھ بھی دیا ہے۔ اس باب میں بنی اسرائیلی روایتیں بھی بہت سی ہیں لیکن ہم انہیں وارد کر کے بے فائدہ اپنی کتاب کو طول دینا نہیں چاہتے کیونکہ ان میں سے بعض تو موضوع ہیں اور بعض گو ایسی نہ ہوں لیکن بحمد للہ ہمیں ان روایتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ کتاب اللہ ہمیں اور تمام کتابوں سے بے نیاز کر دینے والی ہے۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں نے ہمیں ان چیزوں کا محتاج نہیں رکھا۔
مطلب صرف اس قدر ہے کہ بنی اسرائیل کی سرکشی کے وقت اللہ نے ان کے دشمن ان پر مسلط کر دئے جنہوں نے انہیں خوب مزہ چکھایا بری طرح درگت بنائی ان کے بال بچوں کو تہ تیغ کیا انہیں اس قدر ذلیل کیا کہ ان کے گھروں تک میں گھس کر ان کا ستیاناس کیا اور ان کی سرکشی کی پوری سزا دی۔ انہوں نے بھی ظلم و زیادتی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی عوام تو عوام انہوں نے تو نبیوں کے گلے کاٹے تھے، علماء کو سر بازار قتل کیا تھا۔ بخت نصر ملک شام پر غالب آیا بیت المقدس کو ویران کردیا وہاں کے باشندوں کو قتل کیا۔ پھر دمشق پہنچا یہاں دیکھا کہ ایک سخت پتھر پر خون جوش مار رہا ہے پوچھا یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا ہم نے تو اسے باپ دادوں سے اسی طرح دیکھا ہے یہ خون برابر ابلتا رہتا ہے ٹھیرتا نہیں اس نے وہیں پر قتل عام شروع کر دیا ستر ہزار مسلمان وغیرہ اس کے ہاتھوں یہاں پہ قتل ہوئے پس وہ خون ٹہر گیا۔ اس نے علماء اور حفاظ کو اور تمام شریف اور ذی عزت لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا ان میں کوئی بھی حافظ تورات نہ بچا۔ پھر قید کرنا شروع کیا ان قیدیوں میں نبی زادے بھی تھے۔ غرض ایک لرزہ خیز ہنگامہ ہوا لیکن چونکہ صحیح روایتوں سے بلکہ صحت کے قریب والی روایتوں سے بھی تفصیلات نہیں ملتی اس لیے ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے نیکی کرنے والا دراصل اپنے لیے ہی بھلا کرتا ہے اور برائی کرنے والا حقیقت میں اپنا ہی برا کرتا ہے جیسے ارشاد ہے۔ آیت «مَنْ عَمِلَ صَالِحًــا فَلِنَفْسِهٖ وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْهَا ۭ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ» ۱؎ [41-فصلت:46] ’ جو شخص نیک کام کرے وہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو برائی کرے اس کا بوجھ اسی پر ہے۔ ‘ پھر جب دوسرا وعدہ آیا اور پھر بنی اسرائیل نے اللہ کی نافرمانیوں پر کھلے عام کمر کس لی اور بے باکی اور بے حیائی کے ساتھ ظلم کرنے شروع کر دئے تو پھر ان کے دشمن چڑھ دوڑے کہ وہ ان کی شکلیں بگاڑ دیں اور بیت المقدس کی مسجد جس طرح پہلے انہوں نے اپنے قبضے میں کرلی تھی اب پھر دوبارہ کرلیں اور جہاں تک بن پڑے ہر چیز کا ستیاناس کر دیں چنانچہ یہ بھی ہو کر رہا۔ تمہارا رب تو ہے ہی رحم و کرم کرنے والا اور اس سے ناامیدی نازیبا ہے، یہ ممکن ہے کہ پھر سے دشمنوں کو پست کر دے ہاں یہ یاد رہے کہ ادھر تم نے سر اٹھایا ادھر ہم نے تمہارا سر کچلا۔ ادھر تم نے فساد مچایا ادھر ہم نے برباد کیا۔ یہ تو ہوئی دنیوی سزا۔ ابھی آخرت کی زبردست اور غیر فانی سزا باقی ہے۔ جہنم کافروں کا قید خانہ ہے جہاں سے نہ وہ نکل سکیں نہ چھوٹ سکیں نہ بھاگ سکیں۔ ہمیشہ کے لیے ان کا اوڑھنا بچھونا یہی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پھر بھی انہوں نے سر اٹھایا اور بالکل فرمان الٰہی کو چھوڑا اور مسلمانوں سے ٹکرا گئے تو اللہ تعالیٰ نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر غالب کیا اور انہیں جزیہ دینا پڑا۔
8۔ 1 یہ انھیں تنبیہ کی کہ اگر تم نے اصلاح کرلی تو اللہ کی رحمت کے مستحق ہو گے۔ جس کا مطلب دنیا وآخرت کی سرخ روئی اور کامیابی ہے اور اگر دوبارہ اللہ کی نافرمانی کا راستہ اختیار کر کے تم نے فساد فی الارض کا ارتکاب کیا تو ہم پھر تمہیں اسی طرح ذلت و رسوائی سے دو چار کردیں گے۔ جیسے اس سے قبل دو مرتبہ ہم تمہارے ساتھ یہ معاملہ کرچکے ہیں چناچہ ایسا ہی ہوا یہ یہود اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے اور وہی کردار رسالت محمدیہ کے بارے میں دہرایا جو رسالت موسوی اور رسالت عیسوی میں ادا کرچکے تھے جس کے نتیجے میں یہ یہودی تیسری مرتبہ مسلمانوں کے ہاتھوں ذلیل وخوار ہوئے اور بصد رسوائی انھیں مدینے اور خیبر سے نکلنا پڑا۔ 8۔ 2 یعنی اس دنیا کی رسوائی کے بعد آخرت میں جہنم کی سزا اور اس کا عذاب الگ ہے جو وہاں انھیں بھگتنا ہوگا۔
(آیت 8) ➊ {عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ:} یہ اللہ کی رحمت کا بیان ہے کہ اتنی سرکشی اور سزا کے بعد بھی اگر تم واپس پلٹ آؤ اور حد سے بڑھی ہوئی اس دوسری سرکشی اور اس کی وجہ سے ناقابلِ بیان تباہی سے دو چار ہونے کے بعد بھی تورات و انجیل میں مذکور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اختیار کرو تو پوری امید ہے کہ تمھارا رب تم پر رحم فرمائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ اعراف کی آیات (۱۵۶، ۱۵۷) میں فرمایا کہ میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے، سو میں اسے ان لوگوں کے لیے ضرور لکھ دوں گا جو اس رسول کی پیروی کریں گے جو امی نبی ہے، جسے وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ چنانچہ اس بشارت کے مطابق جو اسرائیلی، مثلاً عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وغیرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے وہ رحمت الٰہی کے حق دار بن گئے۔ ➋ { وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا:} یعنی اگر تم پھر دوبارہ حد سے بڑھے اور فساد کبیر کے مرتکب ہوئے تو ہم دوبارہ تمھارے ساتھ وہی پہلے جیسا سلوک کریں گے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو آپ نے یہود مدینہ کے ساتھ صلح کے ساتھ رہنے کا اور متحد ہو کر حملہ آور دشمن کا مقابلہ کرنے کا معاہدہ کیا، مگر بنوقینقاع نے ایک مسلم خاتون کی بے حرمتی کی، پھر معاہدہ توڑ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کر لیا اور آخر کار انھیں مدینہ سے جلا وطن کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ کسی معاملے کے لیے بنونضیر قبیلہ میں تشریف لے گئے تو انھوں نے آپ کو چھت سے پتھر گرا کر شہید کرنے کی سازش کی، جو آپ کے علم میں آ گئی، آپ نے ان کا محاصرہ کر لیا، وہ مقابلہ کی تاب نہ لا سکے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ان کی کتاب تورات میں مذکور سزا دینے کا ارادہ کیا، مگر ان کے ہمدرد عبدا للہ بن ابی منافق کے حد سے بڑھے ہوئے اصرار پر آپ نے ان کی جاں بخشی کرکے انھیں بھی جلاوطن کر دیا۔ پھر تیسرے قبیلے بنوقریظہ نے خندق کے موقع پر جب دس ہزار کفار کے لشکر جرار نے مدینہ جیسی چھوٹی سی بستی پر یلغار کرکے محاصرہ کیا ہوا تھا، انھوں نے عین حالت جنگ میں معاہدہ توڑ کر دشمن کا ساتھ دیا، تو حملہ آوروں سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوقریظہ کا محاصرہ کر لیا۔ وہ مقابلہ نہ کر سکے تو مسلمانوں میں سے اپنے پرانے خیر خواہ اور ہمدرد سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر اپنے آپ کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا، اگر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر حوالے ہوتے تو شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پہلے قبیلوں کی طرح رعایت فرماتے، مگر جب انھوں نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو حَکم مانا، اس امید پر کہ وہ عبد اللہ بن ابی منافق کی طرح ہماری پرانی دوستی کا خیال رکھیں گے تو سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اب وقت آگیا ہے کہ سعد کو اللہ کا حکم نافذ کرنے کے راستے میں کوئی دوستی حائل نہ ہو۔“ چنانچہ انھوں نے وہ فیصلہ کیا جو تورات میں مذکور تھا اور جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اللہ کا فیصلہ قرار دیا۔ چنانچہ ان کے تمام بالغ مرد جو سات سو تھے، قتل کر دیے گئے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی و غلام بنا لیا گیا۔ [ دیکھیے بخاری، المغازی، باب مرجع النبي صلی اللہ علیہ وسلم من الأحزاب…: ۴۱۲۲ ] یہ {” وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا “} کی ایک تفسیر تھی۔ پھر خیبر والوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہاتھ پاؤں توڑ دیے تو امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تمام یہود و نصاریٰ کو پورے جزیرۂ عرب سے جلا وطن کر دیا۔ پھر اللہ کے وعدے کے مطابق ان کی ہر سرکشی پر ان کی سرکوبی کرنے والا کوئی نہ کوئی فرماں روا ہمیشہ ان کا بندوبست کرتا رہا۔ (دیکھیے اعراف: ۱۶۷) قریب زمانے میں ہٹلر نے انھیں عبرت ناک انجام سے دو چار کیا۔ اب تمام کفار نصاریٰ، کمیونسٹوں اور بت پرست ہندوؤں کی پشت پناہی سے، پھر یہ لوگ فلسطین میں قدس پر قبضہ کرکے اپنی ریاست اسرائیل کے نام سے بنا کر فلسطین کے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں اور مسلم دشمنی کی وجہ سے تمام کفار ان کے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اس کے وعدے کے مطابق عنقریب ان کے ساتھ دوبارہ وہی کچھ ہونے والا ہے جو پہلے ہوتا رہا ہے۔ پھر وہ وقت بھی آ کر رہے گا جب مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں پتھر اور درخت بھی ان کے قتل کے لیے مسلمانوں کو ان کی اطلاع دیں گے، جیسا کہ اس سے پہلے صحیح مسلم کی حدیث میں گزرا ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے جسے نافذ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ بنی اسرائیل کی یہ ساری داستان مسلمانوں کو عبرت کے لیے سنائی گئی ہے کہ اگر تم نے ایسا کیا تو تمھارے ساتھ بھی ایسا ہی ہو گا۔ ➌ {وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًا:” حَصِيْرًا “} یا تو {”حَصَرَ يَحْصُرُ حَصْرًا “} (ن) سے ہے، جس کا معنی قید کرنا، گھیرنا ہے، یعنی قید خانہ، یا مراد وہ حصیر (چٹائی) ہے جو بچھائی جاتی ہے، یعنی جہنم ان کا بچھونا بنے گی، جیسا کہ فرمایا: «لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ» [الأعراف: ۴۱ ] ”ان کے لیے جہنم کے بستر ہوں گے۔“
حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے جو لو گ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً یہ قرآن وه راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے اور خوشی سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے کام کریں کہ ان کے لیے بڑا ثواب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
یقیناً یہ قرآن اس راستہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے اور خوشخبری دیتا ہے ان اہلِ ایمان کو جو نیک عمل کرتے ہیں کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یہ قرآن اس (راستے) کی ہدایت دیتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور ان ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں، بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بہترین راہنما قرآن حکیم ہے ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی کتاب کی تعریف میں فرماتا ہے کہ یہ قرآن بہترین راہ کی طرف رہبری کرتا ہے۔ ایماندار جو ایمان کے مطابق فرمان نبوی پر عمل بھی کریں انہیں یہ بشارتیں سناتا ہے کہ ان کے لیے اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے انہیں بےشمار ثواب ملے گا۔ اور جو ایمان سے خالی ہیں انہیں یہ قرآن قیامت کے دن کے درد ناک عذابوں کی خبر دیتا ہے جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» ۱؎ [84-الانشقاق:24] ’ ’ انہیں المناک عذابوں کی خبر پہنچا دے۔ ‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 10،9){اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ هِيَ اَقْوَمُ …: } یعنی یہ قرآن تمام دینی اور دنیوی معاملات میں سب سے سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھنے کا وہ طریقہ سکھایا گیا ہے جس سے اچھا کوئی طریقہ نہیں، مگر ترک دنیا اور رہبانیت اختیار کرنے اور انسانی فطرت کے تقاضوں کو پامال کرنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے، بلکہ اس کے بجائے دنیا میں باعزت اور غالب ہو کر رہنے کا اور انسان کے فطری تقاضوں اور دنیا کی آسائشوں سے بہرہ ور ہونے کا بھی ایسا عمدہ طریقہ سکھایا گیا ہے جو ہر قسم کی زیادتی، سرکشی اور ہوس پرستی سے پاک ہے اور دنیا میں ہر مسلم اور غیر مسلم کے لیے امن و سلامتی کا ضامن ہے۔ ہاں جو لوگ اس پر ایمان لے آئیں اور اس کے مطابق عمل صالح کریں انھیں وہ اجر کبیر کی بھی بشارت دیتا ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہ لائیں انھیں اس بات سے بھی آگاہ کرتا ہے کہ دنیا میں وہ بظاہر کتنے ہی خوش حال اور صاحب مال و اولاد ہوں دنیا میں بھی ان کے لیے عذاب ہے (دیکھیے توبہ: ۵۵۔ طٰہٰ: ۱۲۴ تا ۱۲۷) اور آخرت میں بھی ان کے لیے عذاب الیم ہے جو دنیا کے عذاب سے کہیں زیادہ سخت ہے، جیسا کہ سورۂ طٰہٰ کی مذکورہ آیات کے آخر میں فرمایا: «وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى» ”اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔“ مسلمانوں کے لیے ان دو آیتوں میں دو بشارتیں ہیں، ایک ان کے لیے اجر کبیر کی، دوسری ان کے دشمنوں کا عذاب الیم میں مبتلا ہونا بھی ان کے لیے خوشی کی خبر ہے۔
اور جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ کہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یہ کہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بہترین راہنما قرآن حکیم ہے ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی کتاب کی تعریف میں فرماتا ہے کہ یہ قرآن بہترین راہ کی طرف رہبری کرتا ہے۔ ایماندار جو ایمان کے مطابق فرمان نبوی پر عمل بھی کریں انہیں یہ بشارتیں سناتا ہے کہ ان کے لیے اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے انہیں بےشمار ثواب ملے گا۔ اور جو ایمان سے خالی ہیں انہیں یہ قرآن قیامت کے دن کے درد ناک عذابوں کی خبر دیتا ہے جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» ۱؎ [84-الانشقاق:24] ’ ’ انہیں المناک عذابوں کی خبر پہنچا دے۔ ‘
انسان شر اُس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر مانگنی چاہیے انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انسان برائی کی دعائیں مانگنے لگتا ہے بالکل اس کی اپنی بھلائی کی دعا کی طرح، انسان ہے ہی بڑا جلد باز
احمد رضا خان بریلوی
اور آدمی برائی کی دعا کرتا ہے جیسے بھلائی مانگتا ہے اور آدمی بڑا جلد باز ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور انسان برائی کی دعا اسی طرح کرتا ہے جس طرح اچھائی کی دعا کرتا ہے (دراصل) انسان بڑا ہی جلد باز ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انسان برائی کی دعا کرتا ہے اپنے بھلائی کی دعا کرنے کی طرح اور انسان ہمیشہ سے بہت جلد باز ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بددعا اور انسان ٭٭
یعنی انسان کبھی کبھی دلگیر اور ناامید ہو کر اپنی سخت غلطی سے خود اپنے لیے برائی کی دعا مانگنے لگتا ہے۔ کبھی اپنے مال و اولاد کے لیے بد دعا کرنے لگتا ہے کبھی موت کی، کبھی ہلاکت کی، کبھی بربادی اور لعنت کی۔ «وَلَوْ يُعَجِّلُ اللَّـهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُم بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ» ۱؎ [10-يونس:11] لیکن اس کا اللہ اس پر خود اس سے بھی زیادہ مہربان ہے ادھر وہ دعا کرے ادھر وہ قبول فرما لے تو ابھی ہلاک ہو جائے۔ حدیث میں بھی ہے کہ «لا تَدْعُوا على أنْفُسِكُمْ، ولا على أمْوَالِكُمْ، تُوافِقُوا مِنَ اللَّهِ ساعَةً إجابة فَيَسْجِيبُ فيها» { اپنی جان و مال کے لیے بد دعا نہ کرو ایسا نہ ہو کہ کسی قبولیت کی ساعت میں کوئی ایسا بد کلمہ زبان سے نکل جائے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3009] اس کی وجہ صرف انسان کی اضطرابی حالت اور اس کی جلد بازی ہے۔ یہ ہے ہی جلد باز۔ سیدنا سلمان فارسی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم نے اس موقعہ پر آدم علیہ السلام کا واقعہ ذکر کیا ہے کہ ابھی پیروں تلے روح نہیں پہنچی تھی کہ آپ نے کھڑے ہونے کا ارادہ کیا روح سر کی طرف سے آرہی تھی ناک تک پہنچی تو چھینک آئی آپ نے کہا «الحمدللہ» ۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا «يَرْحَمُكَ اللَّهُ يَا آدَمُ» اے آدم تجھ پر تیرا رب رحم کرے۔ جب آنکھوں تک پہنچی تو آنکھیں کھول کر دیکھنے لگے۔ جب اور نیچے کے اعضاء میں پہنچی تو خوشی سے اپنے آپ کو دیکھنے لگے۔ ابھی پیروں تک نہیں پہنچی تو چلنے کا ارادہ کیا لیکن نہ چل سکے تو دعا کرنے لگے کہ اے اللہ رات سے پہلے روح آجائے۔
11۔ 1 انسان چونکہ جلد باز اور بےحوصلہ ہے اس لیے جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو اپنی ہلاکت کے لیے اسی طرح بد دعا کرتا ہے جس طرح بھلائی کے لیے اپنے رب سے دعائیں کرتا ہے یہ تو رب کا فضل و کرم ہے کہ وہ اس کی بد دعاؤں کو قبول نہیں کرتا یہی مضمون (وَلَوْ يُعَجِّلُ اللّٰهُ للنَّاس الشَّرَّ اسْتِعْجَالَھُمْ بالْخَيْرِ لَقُضِيَ اِلَيْهِمْ اَجَلُھُمْ ۭ فَنَذَرُ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ) 10۔ یونس:11) میں گزر چکا ہے۔
(آیت 11) ➊ {وَ يَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ: ” يَدْعُ “} اصل میں {”يَدْعُوْ“} تھا، مگر مصحفِ عثمانی کے خط میں اسے پڑھنے کے مطابق لکھ دیا گیا، کیونکہ یہ واؤ پڑھنے میں نہیں آتی، جیسا کہ: «سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ» [ العلق: ۱۸ ] میں بھی واؤ نہیں لکھی گئی، اسی لیے مسلمانوں نے اسی مصحف کے خط کی حفاظت کرتے ہوئے واؤ نہیں لکھی۔ فراء نے فرمایا کہ اگر یہ واؤ کے ساتھ لکھا جائے تو بھی درست ہو گا۔ (ابن عاشور) ➋ {” دُعَآءَهٗ بِالْخَيْرِ “} یہ {”كَدُعَائِهِ بِالْخَيْرِ“} تھا، کاف حذف کرنے سے منصوب ہو گیا۔ مفعول مطلق کا بھی یہی معنی ہے، یعنی انسان بعض اوقات غصے میں یا اکتا کر اپنے لیے یا اپنے اہل و عیال کے لیے اللہ تعالیٰ سے بد دعائیں کرتا ہے، مثلاً اللہ کرے میں مر جاؤں، اللہ کرے تمھارا بیڑہ غرق ہو جائے، تمھارا خانہ خراب ہو جائے وغیرہ۔ انسان اسی طرح اصرار سے بددعا کرتا ہے جس طرح حالت اعتدال میں اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے، مثلاً یا اللہ! ہمیں بخش دے، یا اللہ! ہماری حفاظت فرما وغیرہ۔ اسی طرح وہ کفار کے ایمان نہ لانے پر ان کے لیے تباہی و بربادی کی فوراً بددعا کرنے لگتا ہے، حالانکہ اسے کیا خبر کہ ان میں سے کئی لوگوں نے آگے چل کر ایمان لے آنا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی طبیعت میں شروع سے بہت جلد بازی پائی جاتی ہے۔{ ” كَانَ “ } جلد بازی کے استمرار اور تمکن کو ظاہر کر رہا ہے اور ترجمہ بھی اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ {” عَجُوْلًا “} مبالغے کا صیغہ ہے، بہت جلد باز۔ اپنے حق میں بددعا کی ایک بدترین مثال ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کی وہ دعا ہے جس میں انھوں نے اپنے آپ پر پتھر برسانے یا عذاب الیم لانے کی بددعا کی تھی۔ دیکھیے سورۂ انفال (۳۲، ۳۳)۔ ➌ مگر اللہ تعالیٰ ایسا مہربان ہے کہ بددعاؤں کو فوراً قبول نہیں فرماتا اور اگر وہ قبول کرے تو انسان تباہ و برباد ہو جائے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس کی آیت (۱۱)۔
دیکھو، ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے رات کی نشانی کو ہم نے بے نور بنایا، اور دن کی نشانی کو روشن کر دیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کر سکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کر سکو اِسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کر کے رکھا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے رات اور دن کو اپنی قدرت کی نشانیاں بنائی ہیں، رات کی نشانی کو تو ہم نے بےنور کردیا ہے اور دن کی نشانی کو روشن بنایا ہے تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کر سکو اور اس لئے بھی کہ برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرسکو اور ہر ہر چیز کو ہم نے خوب تفصیل سے بیان فرما دیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا تو رات کی نشانی مٹی ہوئی رکھی اور دن کی نشانیاں دکھانے والی کہ اپنے کا فضل تلاش کرو اور برسوں کی گنتی اور حساب جانو اور ہم نے ہر چیز خوب جدا جدا ظاہر فرمادی
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے رات اور دن کو (اپنی قدرت کی) دو نشانیاں بنایا ہے سو ہم نے رات کی نشانی کو دھندلا بنایا اور دن کی نشانی کو روشن بنایا تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل و کرم (رزق) تلاش کرو اور تاکہ برسوں کی گنتی اور (ہر طرح کا) حساب معلوم کر سکو اور ہم نے ہر (ضروری) چیز کو تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا، پھر ہم نے رات کی نشانی کو مٹا دیا اور دن کی نشانی کو روشن بنایا، تاکہ تم اپنے رب کا کچھ فضل تلاش کرو اور تا کہ تم سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کرو۔ اور ہر چیز، ہم نے اسے کھول کر بیان کیا ہے، خوب کھول کر بیان کرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دن اور رات کے فوائد ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے دو کا یہاں بیان فرماتا ہے کہ دن رات اس نے الگ الگ طرح کے بنائے۔ رات آرام کے لیے دن تلاش معاش کیلئے۔ کہ اس میں کام کاج کرو صنعت و حرفت کرو سیر و سفر کرو۔ رات دن کے اختلاف سے دنوں کی، مہینوں کی، برسوں کی گنتی معلوم کر سکو تاکہ لین دین میں، معاملات میں، قرض میں، مدت میں، عبادت کے کاموں میں سہولت اور پہچان ہو جائے۔ اگر ایک وقت رہتا تو بڑی مشکل ہو جاتی سچ ہے «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّـهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِضِيَاءٍ» ۱؎ [28-القصص:71] ’ اگر اللہ چاہتا تو ہمیشہ رات ہی رات رکھتا کوئی اتنی قدرت نہیں رکھتا کہ دن کر دے۔ ‘ «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّـهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ» ۱؎ [28-القصص:72] ’ اور اگر وہ ہمیشہ دن ہی دن رکھتا تو کس کی مجال تھی کہ رات لا دے؟ ‘ یہ نشانات قدرت سننے دیکھنے کے قابل ہیں۔ «وَمِن رَّحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ» ۱؎ [28-القصص:73] ’ یہ اسی کی رحمت ہے کہ رات سکون کے لیے بنائی اور دن تلاش معاش کے لیے۔ ‘ «تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًا * وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:61-62] ’ ان دونوں کو ایک دوسرے کے پیچھے لگاتار آنے والے بنایا تاکہ شکرو نصیحت کا ارادہ رکھنے والے کامیاب ہو سکیں۔ ‘ اسی کے ہاتھ رات دن کا اختلاف ہے وہ رات کا پردہ دن پر اور دن کا نقاب رات پر چڑھا دیتا ہے۔ «يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ ۖ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُّسَمًّى ۗ أَلَا هُوَ الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ» ۱؎ [39-الزمر:1] ’ سورج چاند اسی کی ماتحتی میں ہے ہر ایک اپنے مقررہ وقت پر چل پھر رہا ہے وہ اللہ غالب اور غفار ہے۔ ‘ «وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ * وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» ۱؎ ۱؎ [36-يس:37-38] ’ صبح کا چاک کرنے والا ہے اسی نے رات کو سکون والی بنایا ہے اور سورج چاند کو مقرر کیا ہے یہ اللہ عزیز و حلیم کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے۔ ‘
رات اپنے اندھیرے سے چاند کے ظاہر ہونے سے پہچانی جاتی ہے اور دن روشنی سے اور سورج کے چڑھنے سے معلوم ہو جاتا ہے۔ سورج چاند دونوں ہی روشن اور منور ہیں لیکن ان میں بھی پورا تفاوت رکھا کہ ہر ایک پہچان لیا جا سکے۔ «هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ ۚ مَا خَلَقَ اللَّـهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ» ۱؎ [10-يونس:5] ’ سورج کو بہت روشن اور چاند کو نورانی اسی نے بنایا ہے منزلیں اسی نے مقرر کی ہیں تاکہ حساب اور سال معلوم رہیں۔ ‘ اللہ کی یہ پیدائش حق ہے۔ الخ قرآن میں ہے «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ ۖ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ» ۱؎ [2-البقرة:189] ’ لوگ تجھ سے چاند کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دے کہ وہ لوگوں کے لیے اوقات ہیں اور حج کے لیے بھی۔ ‘ الخ رات کا اندھیرا ہٹ جاتا ہے دن کا اجالا آ جاتا ہے۔ سورج دن کی علامت ہے چاند رات کا نشان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند کو کچھ سیاہی والا پیدا کیا ہے پس رات کی نشانی چاند کو بہ نسبت سورج کے ماند کر دیا ہے اس میں ایک طرح کا دھبہ رکھ دیا ہے۔ ابن الکواء نے امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ چاند میں یہ جھائیں کیسی ہے؟ آپ نے فرمایا اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ ہم نے رات کے نشان یعنی چاند میں سیاہ دھندلکا ڈال دیا اور دن کا نشان خوب روشن ہے یہ چاند سے زیادہ منور اور چاند سے بہت بڑا ہے دن رات کو دو نشانیاں مقرر کر دی ہیں پیدائش ہی ان کی اسی طرح کی ہے۔
12۔ 1 یعنی رات کو بےنور یعنی تاریک کردیا تاکہ تم آرام کرسکو اور تمہاری دن بھر کی تھکاوٹ دور ہوجائے اور دن کو روشن بنایا تاکہ کسب معاش کے ذریعے سے تم رب کا فضل تلاش کرو۔ علاوہ ازیں رات اور دن کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح ہفتوں، مہینوں اور برسوں کا شمار اور حساب تم کرسکو، اس حساب کے بھی بیشمار فوائد ہیں۔ اگر رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات نہ آتی بلکہ ہمیشہ رات ہی رات یا دن ہی دن رہتا تو تمہیں آرام اور سکون کا یا کاروبار کرنے کا موقع نہ ملتا اور اسی طرح مہینوں اور سالوں کا حساب بھی ممکن نہ رہتا۔ 12۔ 2 یعنی انسان کے لئے دین اور دنیا کی ضروری باتیں سب کھول کر ہم نے بیان کردی ہیں تاکہ ان سے انسان فائدہ اٹھائیں، اپنی دنیا سنواریں اور آخرت کی بھی فکر اور اس کے لئے تیاری کریں۔
(آیت 12) ➊ { وَ جَعَلْنَا الَّيْلَ وَ النَّهَارَ اٰيَتَيْنِ:} ان دونوں کو نشانیاں اس لیے قرار دیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے وجود کا، اس کی کمال کاریگری اور قدرت کا اور اس اکیلے کے عبادت کا حق دار ہونے کا پتا چلتا ہے۔ رات اور دن کو بطور دلیل اور نعمت کے قرآن نے متعدد مقامات پر بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ حم السجدہ (۳۷)، یٰسٓ(۳۷)، یونس (۶)، آل عمران (۱۹۰)، بقرہ (۱۶۴)، فرقان (۶۲)، سورۂ زمر (۵) اور دیگر آیات۔ ➋ {فَمَحَوْنَاۤ اٰيَةَ الَّيْلِ …: ” مَحَا يَمْحُوْ مَحْوًا “} (ن) کسی چیز کا نشان ختم کر دینا، مٹا دینا، یعنی رات اور دن جس طرح نشانیاں ہیں اسی طرح ان کا وجود اور ان کا کم یا زیادہ ہوتے ہوئے مسلسل روزانہ ایک دوسرے کے پیچھے آنا بھی نعمت ہیں، کیونکہ رات کی تاریکی اور خاموشی انسان کے سکون، راحت اور نیند کے لیے ضروری ہے اور دن کی روشنی ہر کام کے لیے اور اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ اللہ کا انعام ہے کہ آرام کے لیے رات بنا دی، پھر اسے مٹا کر کام کے لیے دن بنا دیا، اگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ رات یا ہمیشہ دن بنا دیتا تو زندگی کا سلسلہ کس طرح قائم رہ سکتا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۷۱ تا ۷۳)، سورۂ نبا (۹ تا ۱۱) اور سورۂ روم (۲۳)۔ ➌ {وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَ الْحِسَابَ:} یعنی اگر نہ دن رات ہوتے اور نہ رات اور دن کے بتدریج روزانہ چھوٹے یا بڑے ہونے کا سلسلہ ہوتا، نہ چاند کے ہلال سے بدر اور بدر سے ہلال بننے کی منزلیں ہوتیں تو ہمیشہ ایک جیسا موسم رہتا اور سال اور مہینوں کا کچھ پتا نہ چلتا، نہ وقت کا وجود ہوتا جس پر کئی دینی معاملات، مثلاً نماز، روزے، زکوٰۃ، حج، عید، عدت وغیرہ کا اور تمام دنیوی معاملات کا انحصار ہے۔ ➍ { وَ كُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِيْلًا:} یعنی ہر وہ چیز جس میں تمھاری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے، اسے ہم نے خوب کھول کر بیان کر دیا ہے۔ {” تَفْصِيْلًا “} مصدر تاکید کے لیے ہے، اس لیے معنی کیا ہے خوب کھول کر بیان کرنا۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۳۸) اور سورۂ نحل (۸۹)۔ ➎ ان آیات (۱۰ تا ۱۳) کی باہمی مناسبت ابن عاشور اور شاہ عبد القادر; کے کلام کو ملا کر یہ ہے کہ آیت (۱۰) میں جب کفار کے لیے عذاب الیم تیار کرنے کا ذکر فرمایا تو آیت (۱۱) میں کفار کے اس عناد پر مبنی مطالبے کی وجہ بتائی جو وہ مسلمانوں سے کرتے تھے کہ وہ عذاب الیم ابھی لاؤ، چلو ہم پر آسمان گرا دو، اللہ تعالیٰ ہم پر پتھروں کی بارش برسا دے۔ فرمایا انسان جلد بازی سے بغیر سوچے سمجھے اپنے نقصان کی دعا کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت اور خود انسان کی مصلحت کا تقاضا اس کی بددعا کو قبول نہ کرنا ہے۔ (ابن عاشور) آیت (۱۳) میں بتایا کہ کفار کے جلد عذاب کے مطالبے سے یا مسلمانوں کے کفار کو فوراً برباد کرنے کی بددعا سے کچھ حاصل نہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”گھبرانے سے فائدہ نہیں، ہر چیز کا وقت اور اندازہ مقرر ہے، جیسے رات اور دن، کسی کے گھبرانے سے رات کم نہیں ہو جاتی، اپنے وقت پر آپ صبح ہو جاتی ہے۔“ (موضح)
ہر انسان کا شگون ہم نے اُس کے اپنے گلے میں لٹکا رکھا ہے، اور قیامت کے روز ہم ایک نوشتہ اُس کے لیے نکالیں گے جسے وہ کھلی کتاب کی طرح پائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے ہر انسان کی برائی بھلائی کو اس کے گلے لگا دیا ہے اور بروز قیامت ہم اس کے سامنے اس کا نامہٴ اعمال نکالیں گے جسے وه اپنے اوپر کھلا ہوا پالے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہر انسان کی قسمت ہم نے اس کے گلے سے لگادی اور اس کے لیے قیامت کے دن ایک نوشتہ نکالیں گے جسے کھلا ہوا پائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ہر انسان کا (نامہ) عمل اس کی گردن میں ڈال دیا ہے اور قیامت کے دن ہم ایک کتاب (نوشتہ) نکالیں گے جسے وہ اپنے سامنے کھلا ہوا پائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہر انسان کو، ہم نے اسے اس کا نصیب اس کی گردن میں لازم کر دیا ہے اور قیامت کے دن ہم اس کے لیے ایک کتاب نکالیں گے، جسے وہ کھولی ہوئی پائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کے اعمال ٭٭
اوپر کی آیتوں میں زمانے کا ذکر کیا جس میں انسان کے اعمال ہوتے ہیں اب یہاں فرمایا ہے کہ اس کا جو عمل ہوتا ہے بھلا ہو یا برا وہ اس پر چپک جاتا ہے بدلہ ملے گا۔ نیکی کا نیک۔ بدی کا بد۔ خواہ وہ کتنی ہی کم مقدار میں کیوں نہ ہو؟ جیسے فرمان ہے «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ۱؎ [99-الزلزلة:7-8] ’ ذرہ برابر کی خیر اور اتنی ہی شر ہر شخص قیامت کے دن دیکھ لے گا۔ ‘ اور جیسے فرمان ہے «إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ» ۱؎ [50-ق:17-18] ’ دائیں اور بائیں جانب وہ بیٹھے ہوئے ہیں جو بات منہ سے نکلے وہ اسی وقت لکھ لیتے ہیں۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ * كِرَامًا كَاتِبِينَ * يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ * إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ * وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ» ۱؎ [82-الإنفطار:10] ’ تم پر نگہبان ہیں جو بزرگ ہیں اور لکھنے والے ہیں۔ تمہارے ہر ہر فعل سے باخبر ہیں۔ ‘ اور آیت میں ہے «إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [52-الطور:16] ’ تمہیں صرف تمہارے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ ‘ اور جگہ ہے «مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ» ۱؎ [4-النساء:123] ’ ہر برائی کرنے والے کو سزا دی جائے گی۔ ‘ مقصود یہ کہ ابن آدم کے چھوٹے بڑے ظاہر و باطن نیک و بد اعمال صبح شام دن رات برابر لکھے جا رہے ہیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں البتہ ہر انسان کی شامت عمل اس کی گردن میں ہے۔ } ابن لہیعہ فرماتے ہیں یہاں تک کہ شگون لینا بھی۔ ۱؎ [مسند احمد:360/3،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن اس حدیث کی یہ تفسیر غریب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس کے اعمال کے مجموعے کی کتاب قیامت کے دن یا تو اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی یا بائیں میں۔ نیکوں کے دائیں ہاتھ میں اور بروں کے بائیں ہاتھ میں کھلی ہوئی ہو گی کہ وہ بھی پڑھ لے اور دوسرے بھی دیکھ لیں اس کی تمام عمر کے کل عمل اس میں لکھے ہوئے ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يُنَبَّأُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ بَلِ الْإِنسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ» ۱؎ [75-القيامة:13-15] ’ اس دن انسان اپنے تمام اگلے پچھلے اعمال سے خبردار کر دیا جائے گا انسان تو اپنے معاملے میں خود ہی حجت ہے گو اپنی بےگناہی کے کتنے ہی بہانے پیش کر دے۔ ‘ اس وقت اس سے فرمایا جائے گا کہ تو خوب جانتا ہے کہ تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ اس میں وہی لکھا گیا ہے جو تو نے کیا ہے اس وقت چونکہ بھولی بسری چیزیں بھی یاد آ جائیں گی۔ اس لیے درحقیقت کوئی عذر پیش کرنے کی گنجائش نہ رہے گی۔ پھر سامنے کتاب ہے جو پڑھ رہا ہے خواہ وہ دنیا میں ان پڑھ ہی تھا لیکن آج ہر شخص اسے پڑھ لے گا۔ گردن کا ذکر خاص طریقے پر اس لیے کیا کہ وہ ایک مخصوص حصہ ہے اس میں جو چیز لٹکا دی گئی ہو چپک گئی ضروری ہو گئی شاعروں نے بھی اس خیال کو ظاہر کیا ہے۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے بیماری کا متعدی ہونا کوئی چیز نہیں، فال کوئی چیز نہیں، ہر انسان کا عمل اس کے گلے کا ہار ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22131] اور روایت میں ہے کہ { ہر انسان کا شگون اس کے گلے کا ہار ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:343/3:ضعیف] آپ کا فرمان ہے کہ { ہر دن کے عمل پر مہر لگ جاتی ہے جب مومن بیمار پڑتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں اے اللہ تو نے فلاں کو تو روک لیا ہے اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے اس کے جو عمل تھے وہ برابر لکھتے جاؤ یہاں تک کہ میں اسے تندرست کر دوں یا فوت کر دوں۔ } ۱؎ [مسند احمد:146/4:صحیح] قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں «طَائِرَهُ» سے مراد عمل ہیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اے ابن آدم تیرے دائیں بائیں فرشتے بیٹھے ہیں صحیفے کھلے رکھے ہیں داہنی جانب والا نیکیاں اور بائیں طرف والا بدیاں لکھ رہا ہے اب تجھے اختیار ہے نیکی کر یا بدی کر کم کر یا زیادہ تیری موت پر یہ دفتر لپیٹ دئے جائیں گے اور تیری قبر میں تیری گردن میں لٹکا دیئے جائیں گے قیامت کے دن کھلے ہوئے تیرے سامنے پیش کر دئے جائیں گے اور تجھ سے کہا جائے گا لے اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور تو ہی حساب اور انصاف کر لے۔ اللہ کی قسم وہ بڑا ہی عادل ہے جو تیرا معاملہ تیرے ہی سپرد کر رہا ہے۔
13۔ 1 طَائِر کے معنی پرندے کے ہیں اور عُنُق کے معنی گردن کے۔ امام ابن کثیر نے طائر سے مراد انسان کے عمل کے لئے ہیں۔ فِیْ عُنُقِہِ کا مطلب ہے، اس کے اچھے یا برے عمل، جس پر اس کو اچھی یا بری جزا دی جائے گی، گلے کے ہار کی طرح اس کے ساتھ ہوں گے۔ یعنی اس کا ہر عمل لکھا جا رہا ہے، اللہ کے ہاں اس کا پورا ریکارڈ محفوظ ہوگا۔ قیامت والے دن اس کے مطابق اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اور امام شوکانی نے طائر سے مراد انسان کی قسمت لی ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے مطابق پہلے سے لکھ دی ہے، جسے سعادت مند اور اللہ کا مطیع ہونا تھا وہ اللہ کو معلوم تھا اور جسے نافرمان ہونا تھا، وہ بھی اس کے علم میں تھا، یہی قسمت (سعادت مندی یا بدبختی) ہر انسان کے ساتھ گلے کے ہار کی طرح چمٹی ہوئی ہوگی۔ اسی کے مطابق اس کے عمل ہوں گے اور قیامت والے دن اسی کے مطابق فیصلے ہوں گے۔
(آیت 14،13) ➊ { وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓىِٕرَهٗ …: ”طَائِرٌ“} کا لفظی معنی اڑنے والا ہے۔ مراد کسی بھی چیز کا وہ جز ہے جو انسان کے حصے میں آئے، گویا وہ اڑ کر اس کے پاس آتا ہے۔ شگون لینے یا قرعہ ڈالنے کی صورت میں اس کے حق میں نکلنے والا نتیجہ خواہ اچھا ہو یا برا۔ انسان کے حصے میں آنے والی چیز یا اس کا عمل جو اس نے کرنا ہے اور اس کا رزق جو اسے ملنا ہے، سب پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و تمیز دے کر یہ اختیار دیا ہے کہ وہ سیدھے راستے پر چلے یا غلط راستے پر، نیک عمل کرے یا بد، پھر بھی اس نے جو کچھ کرنا ہے، خواہ اس کے اختیار میں ہے، جیسے نیکی یا بدی اور خواہ اس کے اختیار میں نہیں ہے، جیسے اس کی عمر، اسے پیش آنے والے اچھے یا برے حوادث، سب اللہ تعالیٰ کو پہلے سے معلوم ہے اور وہ ہر انسان نے کرنا ہی کرنا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا علم اور اندازہ (تقدیر) غلط نہیں ہو سکتے۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ ہر انسان کے نصیب اور حصے میں جو کچھ آنے والا ہے وہ ہم نے اس کی گردن کے ساتھ لازم کر دیا ہے، جیسے گردن میں پڑا ہوا طوق یا ہار۔ جو چیز کسی کو لازم کر دی جائے اور وہ اس سے جدا نہ ہو سکے اس کے متعلق کہا جاتا ہے: {” أَلْزَمْتُهُ فِيْ عُنُقِهِ “} کہ میں نے اسے اس کی گردن میں چپکا دیا ہے۔ ➋ { يَوْمَ الْقِيٰمَةِ …:} آیت کا پہلا حصہ تقدیر کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور یہ حصہ انسان کے ان اعمال سے متعلق ہے جو اس نے دنیا میں کیے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے تحریر کرنے کے لیے فرشتے مقرر فرما رکھے ہیں۔ دیکھیے سورۂ قٓ (۱۶ تا ۱۸) اور انفطار (۱۰ تا ۱۲) ان کی تیار کردہ کتابِ اعمال قیامت کے دن ہر انسان کے سامنے آ جائے گی، ایسی صورت میں کہ خودبخود کھلی ہو گی، آدمی خواہ پڑھا ہوا ہے یا ان پڑھ، ہر ایک کو حکم ہو گا کہ اپنے اعمال کی کتاب پڑھ لے اور ہر شخص اسے پڑھ لے گا، گویا اس کی زندگی کی مکمل تصویر اس کے سامنے آ جائے گی، جسے وہ پہلے بھی بہانہ سازیوں کے باوجود خوب جانتا ہو گا۔ (دیکھیے قیامہ: ۱۳ تا ۱۵) اس کتابِ اعمال میں اس کا کوئی چھوٹا یا بڑا عمل درج ہونے سے رہ نہیں جائے گا۔ دیکھیے سورۂ کہف (۴۹)۔ ➌ { كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا:} اس کی ترکیب یہ کی جاتی ہے {” كَفٰى “} فعل، باء زائدہ، {”نَفْسِكَ“} فاعل، {” حَسِيْبًا “} تمیز اور {” عَلَيْكَ “} اس کے متعلق ہے۔ یہ ترکیب درست ہے، مگر اس میں کمی صرف یہ ہے کہ باء کو محض زائدہ کہہ دیا گیا ہے، حالانکہ قرآن مجید میں ایک حرف بھی بے مقصد و زائد نہیں، چنانچہ شنقیطی، طنطاوی اور کئی مفسرین نے صراحت فرمائی ہے کہ یہ {” كَفٰى “} کی تاکید کے لیے ہے، یعنی آج تو خود اپنے آپ پر بطور محاسب بہت کافی ہے۔ یہی بات {” وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا “} (بنی اسرائیل: ۶۵) میں بھی ملحوظ رکھیں۔ ➍ نفس کے بطور محاسب کافی ہونے میں وہ صورت بھی شامل ہے کہ جب انسان اس کتابِ اعمال کو جھٹلا دے گا، پھر اللہ کے حکم سے زبان پر مہر لگ جائے گی اور خود انسان کے جسم کا ہر حصہ اپنے اعمال کی شہادت دے گا۔ اب خود اپنے جسم سے زیادہ کافی محاسب کون ہوسکتا ہے۔ دیکھیے سورۂ یس (۶۵)، حم السجدہ (۱۹ تا ۲۳) اور سورۂ مجادلہ (۱۸)۔
پڑھ اپنا نامہ اعمال، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تو خود ہی کافی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
لے! خود ہی اپنی کتاب آپ پڑھ لے۔ آج تو تو آپ ہی اپنا خود حساب لینے کو کافی ہے
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا جائے گا کہ اپنا نامہ (نامہٴ اعمال) پڑھ آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو بہت ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(ہم حکم دیں گے کہ) اپنا نامۂ عمل پڑھ آج تو خود ہی اپنے حساب کے لئے کافی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اپنی کتاب پڑھ، آج تو خود اپنے آپ پر بطور محاسب بہت کافی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کے اعمال ٭٭
اوپر کی آیتوں میں زمانے کا ذکر کیا جس میں انسان کے اعمال ہوتے ہیں اب یہاں فرمایا ہے کہ اس کا جو عمل ہوتا ہے بھلا ہو یا برا وہ اس پر چپک جاتا ہے بدلہ ملے گا۔ نیکی کا نیک۔ بدی کا بد۔ خواہ وہ کتنی ہی کم مقدار میں کیوں نہ ہو؟ جیسے فرمان ہے «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ۱؎ [99-الزلزلة:7-8] ’ ذرہ برابر کی خیر اور اتنی ہی شر ہر شخص قیامت کے دن دیکھ لے گا۔ ‘ اور جیسے فرمان ہے «إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ» ۱؎ [50-ق:17-18] ’ دائیں اور بائیں جانب وہ بیٹھے ہوئے ہیں جو بات منہ سے نکلے وہ اسی وقت لکھ لیتے ہیں۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ * كِرَامًا كَاتِبِينَ * يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ * إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ * وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ» ۱؎ [82-الإنفطار:10] ’ تم پر نگہبان ہیں جو بزرگ ہیں اور لکھنے والے ہیں۔ تمہارے ہر ہر فعل سے باخبر ہیں۔ ‘ اور آیت میں ہے «إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [52-الطور:16] ’ تمہیں صرف تمہارے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ ‘ اور جگہ ہے «مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ» ۱؎ [4-النساء:123] ’ ہر برائی کرنے والے کو سزا دی جائے گی۔ ‘ مقصود یہ کہ ابن آدم کے چھوٹے بڑے ظاہر و باطن نیک و بد اعمال صبح شام دن رات برابر لکھے جا رہے ہیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں البتہ ہر انسان کی شامت عمل اس کی گردن میں ہے۔ } ابن لہیعہ فرماتے ہیں یہاں تک کہ شگون لینا بھی۔ ۱؎ [مسند احمد:360/3،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن اس حدیث کی یہ تفسیر غریب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس کے اعمال کے مجموعے کی کتاب قیامت کے دن یا تو اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی یا بائیں میں۔ نیکوں کے دائیں ہاتھ میں اور بروں کے بائیں ہاتھ میں کھلی ہوئی ہو گی کہ وہ بھی پڑھ لے اور دوسرے بھی دیکھ لیں اس کی تمام عمر کے کل عمل اس میں لکھے ہوئے ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يُنَبَّأُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ بَلِ الْإِنسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ» ۱؎ [75-القيامة:13-15] ’ اس دن انسان اپنے تمام اگلے پچھلے اعمال سے خبردار کر دیا جائے گا انسان تو اپنے معاملے میں خود ہی حجت ہے گو اپنی بےگناہی کے کتنے ہی بہانے پیش کر دے۔ ‘ اس وقت اس سے فرمایا جائے گا کہ تو خوب جانتا ہے کہ تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ اس میں وہی لکھا گیا ہے جو تو نے کیا ہے اس وقت چونکہ بھولی بسری چیزیں بھی یاد آ جائیں گی۔ اس لیے درحقیقت کوئی عذر پیش کرنے کی گنجائش نہ رہے گی۔ پھر سامنے کتاب ہے جو پڑھ رہا ہے خواہ وہ دنیا میں ان پڑھ ہی تھا لیکن آج ہر شخص اسے پڑھ لے گا۔ گردن کا ذکر خاص طریقے پر اس لیے کیا کہ وہ ایک مخصوص حصہ ہے اس میں جو چیز لٹکا دی گئی ہو چپک گئی ضروری ہو گئی شاعروں نے بھی اس خیال کو ظاہر کیا ہے۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے بیماری کا متعدی ہونا کوئی چیز نہیں، فال کوئی چیز نہیں، ہر انسان کا عمل اس کے گلے کا ہار ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22131] اور روایت میں ہے کہ { ہر انسان کا شگون اس کے گلے کا ہار ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:343/3:ضعیف] آپ کا فرمان ہے کہ { ہر دن کے عمل پر مہر لگ جاتی ہے جب مومن بیمار پڑتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں اے اللہ تو نے فلاں کو تو روک لیا ہے اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے اس کے جو عمل تھے وہ برابر لکھتے جاؤ یہاں تک کہ میں اسے تندرست کر دوں یا فوت کر دوں۔ } ۱؎ [مسند احمد:146/4:صحیح] قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں «طَائِرَهُ» سے مراد عمل ہیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اے ابن آدم تیرے دائیں بائیں فرشتے بیٹھے ہیں صحیفے کھلے رکھے ہیں داہنی جانب والا نیکیاں اور بائیں طرف والا بدیاں لکھ رہا ہے اب تجھے اختیار ہے نیکی کر یا بدی کر کم کر یا زیادہ تیری موت پر یہ دفتر لپیٹ دئے جائیں گے اور تیری قبر میں تیری گردن میں لٹکا دیئے جائیں گے قیامت کے دن کھلے ہوئے تیرے سامنے پیش کر دئے جائیں گے اور تجھ سے کہا جائے گا لے اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور تو ہی حساب اور انصاف کر لے۔ اللہ کی قسم وہ بڑا ہی عادل ہے جو تیرا معاملہ تیرے ہی سپرد کر رہا ہے۔
جو کوئی راہ راست اختیار کرے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبا ل اُسی پر ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ (لوگوں کو حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے) ایک پیغام بر نہ بھیج دیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو راه راست حاصل کرلے وه خود اپنے ہی بھلے کے لئے راه یافتہ ہوتا ہے اور جو بھٹک جائے اس کا بوجھ اسی کے اوپر ہے، کوئی بوجھ واﻻ کسی اور کا بوجھ اپنے اوپر نہ ﻻدے گا اور ہماری سنت نہیں کہ رسول بھیجنے سے پہلے ہی عذاب کرنے لگیں
احمد رضا خان بریلوی
جو راہ پر آیا وہ اپنے ہی بھلے کو راہ پر آیا اور جو بہکا تو اپنے ہی برے کو بہکا اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی اور ہم عذاب کرنے والے نہیں جب تک رسول نہ بھیج لیں
علامہ محمد حسین نجفی
جو راہِ راست اختیار کرتا ہے وہ اپنے فائدہ کے لئے ہی کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور ہم اس وقت تک عذاب نازل نہیں کرتے جب تک (اتمامِ حجت کی خاطر) کوئی رسول بھیج نہیں دیتے۔
عبدالسلام بن محمد
جس نے ہدایت پائی تو وہ اپنی ہی جان کے لیے ہدایت پاتا ہے اور جو گمراہ ہوا تو اسی پر گمراہ ہوتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری (جان) کا بوجھ نہیں اٹھاتی اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اچھے یا برے اعمال انسان کے اپنے لئے ہیں ٭٭
جس نے راہ راست اختیار کی، حق کی اتباع کی، نبوت کی مانی اس کے اپنے حق میں اچھائی ہے اور جو حق سے ہٹا صحیح راہ سے پھرا اس کا وبال اسی پر ہے کوئی کسی کے گناہ میں پکڑا نہ جائے گا ہر ایک کا عمل اسی کے ساتھ ہے۔ «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ» [35-فاطر:18] ’ کوئی نہ ہو گا جو دوسرے کا بوجھ بٹائے ‘ اور جگہ قرآن میں ہے آیت «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ» ۱؎ [29-العنكبوت:13] ’ البتہ یہ اپنے بوجھ ڈھولیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ ہی اور بوجھ بھی۔ ‘ اور آیت میں ہے «وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ» ۱؎ [16-النحل:25] ’ ان کے بوجھ کے بھی حصے دار ہوں گے جنہیں بے علمی سے گمراه کرتے رہے۔ ‘ یعنی اپنے بوجھ کے ساتھ یہ ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے جنہیں انہوں نے بہکا رکھا تھا۔ لہٰذا ان دونوں مضمونوں میں کوئی نفی کا پہلو نہ سمجھا جائے اس لیے کہ گمراہ کرنے والوں پر ان کے گمراہ کرنے کا بوجھ ہے نہ کہ ان کے بوجھ ہلکے کئے جائیں گے اور ان پر لادے جائیں گے ہمارا عادل اللہ ایسا نہیں کرتا۔ پھر اپنی ایک اور رحمت بیان فرماتا ہے کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پہنچنے سے پہلے کسی امت کو عذاب نہیں کرتا۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں ہے کہ «تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ ۖ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ * قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ» ۱؎ [67-الملك:8-9] ’ دوزخیوں سے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے والے نہیں آئے تھے؟ وہ جواب دیں گے بیشک آئے تھے لیکن ہم نے انہیں سچا نہ جانا انہیں جھٹلا دیا اور صاف کہہ دیا کہ تم تو یونہی بہک رہے ہو، سرے سے یہ بات ہی ان ہونی ہے کہ اللہ کسی پر کچھ اتارے۔ ‘ «وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ جَهَنَّمَ زُمَرًا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا ۚ قَالُوا بَلَىٰ وَلَـٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَافِرِينَ» ۱؎ [39-الزمر:71] ’ اسی طرح جب یہ لوگ جہنم کی طرف کشاں کشاں پہنچائے جا رہے ہوں گے، اس وقت بھی داروغے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ جو تمہارے رب کی آیتیں تمہارے سامنے پڑھتے ہوں اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے ہوں؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں یقیناً آئے لیکن کلمہ عذاب کافروں پر ٹھیک اترا۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ «وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ ۚ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ ۖ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِن نَّصِيرٍ» ۱؎ [35-فاطر:37] ’ کفار جہنم میں پڑے چیخ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہمیں اس سے نکال تو ہم اپنے قدیم کرتوت چھوڑ کر اب نیک اعمال کریں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ کیا میں نے تمہیں اتنی لمبی عمر نہیں دی تھی تم اگر نصیحت حاصل کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے اور میں نے تم میں اپنے رسول بھی بھیجے تھے جنہوں نے خوب اگاہ کر دیا تھا اب تو عذاب برداشت کرو ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ ‘ الغرض اور بھی بہت سی آیتوں سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر رسول بھیجے کسی کو جہنم میں نہیں بھیجتا۔
صحیح بخاری میں آیت «إِنَّ رَحْمَتَ اللَّـهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:56] ’ بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے۔ ‘ کی تفسیر میں ایک لمبی حدیث مروی ہے جس میں جنت دوزخ کا کلام ہے۔ پھر ہے کہ { جنت کے بارے میں اللہ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا اور وہ جہنم کے لیے ایک نئی مخلوق پیدا کرے گا جو اس میں ڈال دی جائے گی جہنم کہتی رہے گی کہ کیا ابھی اور زیادہ ہے؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:7449] اس کے بابت علما کی ایک جماعت نے بہت کچھ کلام کیا ہے دراصل یہ جنت کے بارے میں ہے اس لیے کہ وہ دار فضل ہے اور جہنم دار عدل ہے اس میں بغیر عذر توڑے بغیر حجت ظاہر کئے کوئی داخل نہ کیا جائے گا۔ اس لیے حفاظ حدیث کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ راوی کو اس میں الٹا یاد رہ گیا اور اس کی دلیل بخاری مسلم کی وہ روایت ہے جس میں اسی حدیث کے آخر میں ہے کہ { دوزخ پرُ نہ ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھ دے گا اس وقت وہ کہے گی بس بس اور اس وقت بھر جائے گی اور چاورں طرف سے سمٹ جائے گی۔ } اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت کے لیے ایک نئی مخلوق پیدا کرے گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4850]
باقی رہا یہ مسئلہ کہ کافروں کے جو نابالغ چھوٹے بچے بچپن میں مر جاتے ہیں اور جو دیوانے لوگ ہیں اور نیم بہرے اور جو ایسے زمانے میں گزرے ہیں جس وقت زمین پر کوئی رسول یا دین کی صحیح تعلیم نہیں ہوتی اور انہیں دعوت اسلام نہیں پہنچتی اور جو بالکل بڈھے حواس باختہ ہوں ان کے لیے کیا حکم ہے؟ اس بارے میں شروع سے اختلاف چلا آ رہا ہے۔ ان کے بارے میں جو حدیثیں ہیں وہ میں آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں پھر ائمہ کا کلام بھی مختصرا ذکر کروں گا، اللہ تعالیٰ مدد کرے۔
پہلی حدیث مسند احمد میں ہے { چار قسم کے لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے گفتگو کریں گے ایک تو بالکل بہرا آدمی جو کچھ بھی نہیں سنتا اور دوسرا بالکل احمق پاگل آدمی جو کچھ بھی نہیں جانتا، تیسرا بالکل بڈھا پھوس آدمی جس کے حواس درست نہیں، چوتھے وہ لوگ جو ایسے زمانوں میں گزرے ہیں جن میں کوئی پیغمبر یا اس کی تعلیم موجود نہ تھی۔ بہرا تو کہے گا اسلام آیا لیکن میرے کان میں کوئی آواز نہیں پہنچی، دیوانہ کہے گا کہ اسلام آیا لیکن میری حالت تو یہ تھی کہ بچے مجھ پر مینگنیاں پھینک رہے تھے اور بالکل بڈھے بے حواس آدمی کہیں گے کہ اسلام آیا لیکن میرے ہوش حواس ہی درست نہ تھے جو میں سمجھ کر سکتا رسولوں کے زمانوں کا اور ان کی تعلیم کو موجود نہ پانے والوں کا قول ہو گا کہ نہ رسول آئے نہ میں نے حق پایا پھر میں کیسے عمل کرتا؟ اللہ تعالیٰ ان کی طرف پیغام بھیجے گا کہ اچھا جاؤ جہنم میں کود جاؤ اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر وہ فرماں برداری کر لیں اور جہنم میں کود پڑیں تو جہنم کی آگ ان پر ٹھنڈک اور سلامتی ہو جائے گی۔ } ۱؎ [مسند احمد:24/4،قال الشيخ الألباني:حسن] اور روایت میں ہے کہ { جو کود پڑیں گے ان پر تو سلامتی اور ٹھنڈک ہو جائے گی اور جو رکیں گے انہیں حکم عدولی کے باعث گھسیٹ کی جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:841،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن جریر میں اس حدیث کے بیان کے بعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی ہے کہ اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں کلام اللہ کی آیت «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» [17-الإسراء:15] الخ پڑھ لو۔
دوسری حدیث ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ ہم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ابو حمزہ مشرکوں کے بچوں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ گنہگار نہیں جو دوزخ میں عذاب کئے جائیں اور نیکوکار بھی نہیں جو جنت میں بدلہ دئے جائیں۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4090]
تیسری حدیث ابو یعلیٰ میں ہے کہ { ان چاورں کے عذر سن کر جناب باری فرمائے گا کہ اوروں کے پاس تو میں اپنے رسول بھیجتا تھا لیکن تم سے میں آپ کہتا ہوں کہ جاؤ اس جہنم میں چلے جاؤ جہنم میں سے بھی فرمان باری سے ایک گردن اونچی ہو گی اس فرمان کو سنتے ہی وہ لوگ جو نیک طبع ہیں فوراً دوڑ کر اس میں کود پڑیں گے اور جو بد باطن ہیں وہ کہیں گے اللہ پاک ہم اسی سے بچنے کے لیے تو یہ عذر معذرت کر رہے تھے اللہ فرمائے گا جب تم خود میری نہیں مانتے تو میرے رسولوں کی کیا مانتے اب تمہارے لیے فیصلہ یہی ہے کہ تم جہنمی ہو اور ان فرمانبرداروں سے کہا جائے گا کہ تم بیشک جنتی ہو تم نے اطاعت کر لی۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4224:ضعیف]
چوتھی حدیث مسند حافظ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کی اولاد کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا وہ اپنے باپوں کے ساتھ ہے۔ پھر مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا وہ اپنے باپوں کے ساتھ، تو کہا گیا یا رسول اللہ انہوں نے کوئی عمل تو نہیں کیا آپ نے فرمایا ہاں لیکن اللہ انہیں بخوبی جانتا ہے۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:10290:ضعیف]
پانچویں حدیث۔ حافظ ابوبکر احمد بن عمر بن عبدالخالق بزار رحمہ اللہ اپنی مسند میں روایت کرتے ہیں کہ { قیامت کے دن اہل جاہلیت اپنے بوجھ اپنی کمروں پر لادے ہوئے آئیں گے اور اللہ کے سامنے عذر کریں گے کہ نہ ہمارے پاس تیرے رسول پہنچے نہ ہمیں تیرا کوئی حکم پہنچا اگر ایسا ہوتا تو ہم جی کھول کر مان لیتے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا اب اگر حکم کروں تو مان لو گے؟ وہ کہیں گے ہاں ہاں بیشک بلا چون و چرا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا اچھا جاؤ جہنم کے پاس جا کر اس میں داخل ہو جاؤ یہ چلیں گے یہاں تک کہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے اب جو اس کا جوش اور اس کی آواز اور اس کے عذاب دیکھیں گے تو واپس آ جائیں گے اور کہیں گے اے اللہ ہمیں اس سے تو بچا لے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو تم اقرار کر چکے ہو کہ میری فرمانبرداری کرو گے پھر یہ نافرمانی کیوں؟ وہ کہیں گے اچھا اب اسے مان لیں گے اور کر گزریں گے۔ چنانچہ ان سے مضبوط عہد و پیمان لیے جائیں گے، پھر یہی حکم ہو گا یہ جائیں گے اور پھر خوفزدہ ہو کر واپس لوٹیں گے اور کہیں گے اے اللہ ہم تو ڈر گئے ہم سے تو اس فرمان پر کار بند نہیں ہوا جاتا۔ اب جناب باری فرمائے گا تم نافرمانی کر چکے اب جاؤ ذلت کے ساتھ جہنمی بن جاؤ۔ آپ فرماتے ہیں کہ اگر پہلی مرتبہ ہی یہ بحکم الٰہی اس میں کود جاتے تو آتش دوزخ ان پر سرد پڑ جاتی اور ان کا ایک رواں بھی نہ جلاتی۔ } ۱؎ [مسند بزار:3433:ضعیف] امام بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث کا متن معروف نہیں ایوب سے صرف عباد ہی روایت کرتے ہیں اور عباد سے صرف ریحان بن سعید روایت کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اسے ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ بتلایا ہے۔ یحییٰ بن معین اور نسائی رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں ان میں کوئی ڈر خوف کی بات نہیں۔ ابوداؤد رحمہ اللہ نے ان سے روایت نہیں کی۔ ابوحاتم رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ شیخ ہیں ان میں کوئی حرج نہیں۔ ان کی حدیثیں لکھائی جاتی ہیں اور ان سے دلیل نہیں لی جاتی۔
چھٹی حدیث۔ امام محمد بن یحییٰ ذہلی رحمہ اللہ روایت لائے ہیں کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے خالی زمانے والے اور مجنون اور بچے اللہ کے سامنے آئیں گے ایک کہے گا میرے پاس تیری کتاب پہنچی ہی نہیں، مجنوں کہے گا میں بھلائی برائی کی تمیز ہی نہیں رکھتا۔ بچہ کہے گا میں نے سمجھ بوجھ کا بلوغت کا زمانہ پایا ہی نہیں۔ اسی وقت ان کے سامنے آگ شعلے مارنے لگے گی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسے ہٹا دو تو جو لوگ آئندہ نیکی کرنے والے تھے وہ تو اطاعت گزار ہو جائیں گے اور جو اس عذر کے ہٹ جانے کے بعد بھی نافرمانی کرنے والے تھے وہ رک جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا جب تم میری ہی براہ راست نہیں مانتے تو میرے پیغمبروں کی کیا مانتے؟ ۱؎ [مسند بزار:2176:ضعیف]
ساتویں حدیث۔ انہی تین شخصوں کے بارے میں اوپر والی احادیث کی طرح ہے۔ { اس میں یہ بھی ہے کہ جب یہ جہنم کے پاس پہنچیں گے تو اس میں سے ایسے شعلے بلند ہوں گے کہ یہ سمجھ لیں گے کہ یہ تو ساری دنیا کو جلا کر بھسم کر دیں گے دوڑتے ہوئے واپس لوٹ آئیں گے پھر دوبارہ یہی ہو گا اللہ عز و جل فرمائے گا۔ تمہاری پیدائش سے پہلے ہی تمہارے اعمال کی خبر تھی میں نے علم ہوتے ہوئے تمہیں پیدا کیا تھا اسی علم کے مطابق تم ہو۔ اے جہنم انہیں دبوچ لے چنانچہ اسی وقت آگ انہیں لقمہ بنا لے گی۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:83/20:ضعیف جداً]
آٹھویں حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہا کی روایت ان کے اپنے قول سمیت پہلے بیان ہو چکی ہے۔ بخاری و مسلم میں آپ ہی سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر بچہ دین اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔“ جیسے کہ بکری کے صحیح سالم بچے کے کان کاٹ دیا کرتے ہیں۔ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر وہ بچپن میں ہی مر جائے تو؟ آپ نے فرمایا اللہ کو ان کے اعمال کی صحیح اور پوری خبر تھی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6599] مسند کی حدیث میں ہے کہ { مسلمان بچوں کی کفالت جنت میں ابراہیم علیہ السلام کے سپرد ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:326/2:قال الشيخ الألباني:حسن] صحیح مسلم میں حدیث قدسی ہے کہ { میں نے اپنے بندوں کو موحد یکسو مخلص بنایا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865] ایک روایت میں اس کے ساتھ ہی مسلمان کا لفظ بھی ہے۔
نویں حدیث حافظ ابوبکر برقانی اپنی کتاب المستخرج علی البخاری میں روایت لائے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے لوگوں نے باآواز بلند دریافت کیا کہ مشرکوں کے بچے بھی؟ آپ نے فرمایا ہاں مشرکوں کے بچے بھی۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ مشرکوں کے بچے اہل جنت کے خادم بنائے جائیں گے۔ } ۱؎ [مسند بزار:2172:ضعیف]
دسویں حدیث مسند احمد میں ہے کہ { ایک صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں کون کون جائیں گے۔ آپ نے فرمایا نبی اور شہید بچے اور زندہ درگور کئے ہوئے بچے۔ } ۱؎ [مسند احمد:409/5:صحیح] علماء میں سے بعض کا مسلک تو یہ ہے کہ ان کے بارے میں ہم توقف کرتے ہیں، خاموش ہیں ان کی بھی گزر چکی۔ بعض کہتے ہیں یہ جنتی ہیں ان کی دلیل معراج والی وہ حدیث ہے جو صحیح بخاری شریف میں سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے اپنے اس خواب میں ایک شیخ کو ایک جنتی درخت تلے دیکھا، جن کے پاس بہت سے بچے تھے۔ سوال پر جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں اور ان کے پاس یہ بچے مسلمانوں کی اور مشرکوں کی اولاد ہیں، لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کی اولاد بھی؟ آپ نے فرمایا ہاں مشرکین کی اولاد بھی۔ بعض علماء فرماتے ہیں یہ دوزخی ہیں کیونکہ ایک حدیث میں ہے کہ وہ اپنے باپوں کے ساتھ ہیں۔ بعض علماء کہتے ہیں ان کا امتحان قیامت کے میدانوں میں ہو جائے گا۔ اطاعت گزار جنت میں جائیں گے، اللہ اپنے سابق علم کا اظہار کر کے پھر انہیں جنت میں پہنچائے گا اور بعض بوجہ اپنی نافرمانی کے جو اس امتحان کے وقت ان سے سرزد ہو گی اور اللہ تعالیٰ اپنا پہلا علم آشکارا کر دے گا۔ اس وقت انہیں جہنم کا حکم ہو گا۔ اس مذہب سے تمام حدیثیں اور مختلف دلیلیں جمع ہو جاتی ہیں اور پہلے کی حدیثیں جو ایک دوسری کو تقویت پہنچاتی ہیں اس معنی کی کئی ایک ہیں۔
شیخ ابوالحسن علی بن اسماعیل اشعری رحمہ اللہ نے یہی مذہب اہل سنت و الجماعت کا نقل فرمایا ہے۔ اور اسی کی تائید امام بہیقی رحمہ اللہ نے کتاب الاعتقاد میں کی ہے۔ اور بھی بہت سے محققین علماء اور پرکھ والے حافظوں نے یہی فرمایا ہے۔ شیخ ابو عمر بن عبد البر رحمہ اللہ عزی نے امتحان کی بعض روایتیں بیان کر کے لکھا ہے اس بارے کی حدیثیں قوی نہیں ہیں اور ان سے جحت ثابت نہیں ہوتی اور اہل علم ان کا انکار کرتے ہیں اس لیے کہ آخرت دار جزا ہے، دار عمل نہیں ہے اور نہ دار امتحان ہے۔ اور جہنم میں جانے کا حکم بھی تو انسانی طاقت سے باہر کا حکم ہے اور اللہ کی یہ عادت نہیں۔ امام صاحب رحمہ اللہ کے اس قول کا جواب بھی سن لیجئے، اس بارے جو حدیثیں ہیں، ان میں سے بعض تو بالکل صحیح ہیں۔ جیسے کہ ائمہ علماء نے تصریح کی ہے۔ بعض حسن ہیں اور بعض ضعیف بھی ہیں لیکن وہ بوجہ صحیح اور حسن احادیث کے قوی ہو جاتی ہیں۔ اور جب یہ ہے تو ظاہر ہے کہ یہ حدیثیں حجت و دلیل کے قابل ہو گئیں۔ اب رہا امام صاحب کا یہ فرمان کہ آخرت دار عمل اور دار امتحان نہیں وہ دار جزا ہے۔ یہ بیشک صحیح ہے لیکن اس سے اس کی نفی کیسے ہو گئی کہ قیامت کے مختلف میدانوں کی پیشیوں میں جنت دوزخ میں داخلے سے پہلے کوئی حکم احکام نہ دئے جائیں گے۔ شیخ ابوالحسن اشعری رحمہ اللہ نے تو مذہب اہلسنت والجماعت کے عقائد میں بچوں کے امتحان کو داخل کیا ہے۔ مزید براں آیت قرآن آیت «يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ» ۱؎ [68-القلم:42] اس کی کھلی دلیل ہے کہ منافق و مومن کی تمیز کے لیے پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدے کا حکم ہو گا۔ صحاح کی احادیث میں ہے کہ { مومن تو سجدہ کر لیں گے اور منافق الٹے منہ پیٹھ کے بل گر پڑیں گے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4919] بخاری و مسلم میں اس شخص کا قصہ بھی ہے { جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا کہ وہ اللہ سے وعدے وعید کرے گا سوا اس سوال کے اور کوئی سوال نہ کرے گا اس کے پورا ہونے کے بعد وہ اپنے قول قرار سے پھر جائے گا اور ایک اور سوال کر بیٹھے گا وغیرہ۔ آخر میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ابن آدم تو بڑا ہی عہد شکن ہے اچھا جا، جنت میں چلا جا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:806]
پھر امام صاحب کا یہ فرمانا کہ انہیں ان کی طاقت سے خارج بات کا یعنی جہنم میں کود پڑنے کا حکم کیسے ہو گا؟ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ یہ بھی صحت حدیث میں کوئی روک پیدا نہیں کر سکتا۔ خود امام صاحب اور تمام مسلمان مانتے ہیں کہ پل صراط پر سے گزرنے کا حکم سب کو ہو گا جو جہنم کی پیٹھ پر ہو گا اور تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہو گا۔ مومن اس پر سے اپنی نیکیوں کے اندازے سے گزر جائیں گے۔ بعض مثل بجلی کے، بعض مثل ہوا کے، بعض مثل گھوڑوں کے، بعض مثل اونٹوں کے، بعض مثل بھاگنے والوں کے، بعض مثل پیدل جانے والوں کے، بعض گھٹنوں کے بل سرک سرک کر، بعض کٹ کٹ کر جہنم میں پڑیں گے۔ پس جب یہ چیز وہاں ہے تو انہیں جہنم میں کود پڑنے کا حکم تو اس سے کوئی بڑا نہیں بلکہ یہ اس سے بڑا اور بہت بھاری ہے۔ اور سنئے حدیث میں ہے کہ { دجال کے ساتھ آگ اور باغ ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنوں کو حکم دیا ہے کہ وہ جسے آگ دیکھ رہے ہیں اس میں سے پی لیں وہ ان کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی کی چیز ہے۔ } پس یہ اس واقعہ کی صاف نظیر ہے۔ اور لیجئے بنو اسرائیل نے جب گو سالہ پرستی کی اس کی سزا میں اللہ نے حکم دیا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کریں ایک ابر نے آکر انہیں ڈھانپ لیا اب جو تلوار چلی تو صبح ہی صبح ابر پھٹنے سے پہلے ان میں سے ستر ہزار آدمی قتل ہو چکے تھے۔ بیٹے نے باپ کو اور باپ نے بیٹے کو قتل کیا، کیا یہ حکم اس حکم سے کم تھا؟ کیا اس کا عمل نفس پر گراں نہیں؟ پھر تو اس کی نسبت بھی کہہ دینا چاہیئے تھے کہ اللہ کسی نفس کو اس کی برداشت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔
ان تمام بحثوں کے صاف ہونے کے بعد اب سنئے۔ مشرکین کے بچپن میں مرے ہوئے بچوں کی بابت بھی بہت سے اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سب جنتی ہیں، ان کی دلیل وہی معراج میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس مشرکوں اور مسلمانوں کے بچوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھنا ہے اور دلیل ان کی مسند کی وہ روایت ہے جو پہلے گزر چکی کہ آپ نے فرمایا بچے جنت میں ہیں۔ ہاں امتحان ہونے کی جو حدیثیں گزریں وہ ان میں سے مخصوص ہیں۔ پس جن کی نسبت رب العالمین کو معلوم ہے کہ وہ مطیع اور فرمانبردار ہیں ان کی روحیں عالم برزخ میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس ہیں اور مسلمانوں کے بچوں کی روحیں بھی۔ اور جن کی نسبت اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ قبول کرنے والی نہیں، ان کا امر اللہ کے سپرد ہے، وہ قیامت کے دن جہنمی ہوں گے۔ جیسے کہ احادیث امتحان سے ظاہر ہے۔ امام اشعری رحمہ اللہ نے اسے اہل سنت سے نقل کیا ہے اب کوئی تو کہتا ہے کہ یہ مستقل طور پر جنتی ہیں کوئی کہتا ہے یہ اہل جنت کے خادم ہیں۔ گو ایسی حدیث داؤد طیالسی میں ہے لیکن اس کی سند ضعیف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دوسرا قول یہ ہے کہ مشرکوں کے بچے بھی اپنے باپ دادوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے جیسے کہ مسند وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ { وہ اپنے باپ دادوں کے تابعدار ہیں۔ یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا بھی کہ باوجود بےعمل ہونے کے؟ آپ نے فرمایا وہ کیا عمل کرنے والے تھے، اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:84/6:صحیح] ابوداؤد میں ہے { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کی اولاد کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا وہ اپنے باپ دادوں کے ساتھ ہیں۔ میں نے کہا مشرکوں کی اولاد؟ آپ نے فرمایا وہ اپنے باپ دادوں کے ساتھ ہیں۔ میں نے کہا بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی عمل کیا ہو؟ آپ نے فرمایا وہ کیا کرتے یہ اللہ کے علم میں ہے۔ } [سنن ابوداود:4712،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند کی حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے تو میں ان کا رونا پیٹنا اور چیخنا چلانا بھی تجھے سنا دوں۔ } ۱؎ [مسند احمد:208/6:ضعیف] امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے روایت لائے ہیں کہ { سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ان دو بچوں کی نسبت سوال کیا جو جاہلیت کے زمانے میں فوت ہوئے تھے آپ نے فرمایا وہ دونوں دوزخ میں ہیں جب آپ نے دیکھا کہ بات انہیں بھاری پڑی ہے تو آپ نے فرمایا اگر تم ان کی جگہ دیکھ لیتیں تو تم خود ان سے بیزار ہو جاتیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا اچھا جو بچہ آپ سے ہوا تھا؟ آپ نے فرمایا سنو مومن اور ان کی اولاد جنتی ہے اور مشرک اور ان کی اولاد جہنمی ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ» ۱؎ [52-الطور:21] ’ جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ان کی اتباع ایمان کے ساتھ کی۔ ہم ان کی اولاد انہی کے ساتھ ملا دیں گے۔ ‘ } ۱؎ [مسند عبد بن حمید:135/1:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد میں محمد بن عثمان راوی مجہول الحال ہیں اور ان کے شیخ زاذان نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابو داؤد میں حدیث ہے کہ { زندہ درگور کرنے والی اور زندہ درگور کردہ شدہ دوزخی ہیں۔ } ابوداؤد میں یہ سند حسن مروی ہے { سیدنا سلمہ بن قیس اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اپنے بھائی کو لیے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری ماں جاہلیت کے زمانے میں مر گئی ہیں، وہ صلہ رحمی کرنے والی اور مہمان نواز تھیں، ہماری ایک نابالغ بہن انہوں نے زندہ دفن کر دی تھی۔ آپ نے فرمایا ایسا کرنے والی اور جس کے ساتھ ایسا کیا گیا ہے دونوں دوزخی ہیں یہ اور بات ہے کہ وہ اسلام کو پالے اور اسے قبول کر لے۔}
تیسرا قول یہ ہے کہ ان کے بارے میں توقف کرنا چاہیئے کوئی فیصلہ کن بات یکطرفہ نہ کہنی چاہیئے۔ ان کا اعتماد آپ کے اس فرمان پر ہے کہ ان کے اعمال کا صحیح اور پورا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ بخاری میں ہے کہ مشرکوں کی اولاد کے بارے میں جب آپ سے سوال ہوا تو آپ نے انہی لفظوں میں جواب دیا تھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1383] بعض بزرگ کہتے ہیں کہ یہ اعراف میں رکھے جائیں گے۔ اس قول کا نتیجہ یہی ہے کہ یہ جنتی ہیں اس لیے کہ اعراف کوئی رہنے سہنے کی جگہ نہیں یہاں والے بالآخر جنت میں ہی جائیں گے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف کی تفسیر میں ہم اس کی تفسیر کر آئے ہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ تو تھا اختلاف مشرکوں کی اولاد کے بارے میں لیکن مومنوں کی نابالغ اولاد کے بارے میں تو علما کا بلا اختلاف یہی قول ہے کہ وہ جنتی ہیں۔ جیسے کہ امام احمد رحمہ اللہ کا قول ہے اور یہی لوگوں میں مشہور بھی ہے اور انشاءاللہ عز و جل ہمیں بھی یہی امید ہے۔ لیکن بعض علماء سے منقول ہے کہ وہ ان کے بارے میں توقف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سب بچے اللہ کی مرضی اور اس کی چاہت کے ماتحت ہیں۔ اہل فقہ اور اہل حدیث کی ایک جماعت اس طرف بھی گئی ہے۔ موطا امام مالک کی ابواب القدر کی احادیث میں بھی کچھ اسی جیسا ہے گو امام مالک رحمہ اللہ کا کوئی فیصلہ اس میں نہیں۔ لیکن بعض متاخرین کا قول ہے کہ مسلمان بچے ت
15۔ 1 البتہ جو مضل (گمراہ کرنے والے) بھی ہوں گے، انھیں اپنی گمراہی کے بوجھ کے ساتھ، ان کے گناہوں کا بار بھی (بغیر ان کے گناہوں میں کمی کیے) اٹھانا پڑے گا جو ان کی کوششوں سے گمراہ ہوئے ہوں گے، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات اور احادیث میں واضح ہے۔ یہ دراصل ان کے اپنے ہی گناہوں کا بھار ہوگا جو دوسروں کو گمراہ کر کے انہوں نے کمایا ہوگا۔ 15۔ 2 بعض مفسرین نے اس سے صرف دنیاوی عذاب مراد لیا ہے۔ یعنی آخرت کے عذاب سے مستثنٰی نہیں ہوں گے، لیکن قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں سے پوچھے گا کہ تمہارے پاس میرے رسول نہیں آئے تھے؟ جس پر اثبات میں جواب دیں گے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ارسال رسل اور انزال کتب کے بغیر وہ کسی کو عذاب نہیں دے گا۔ تاہم اس کا فیصلہ کہ کس قوم یا فرد تک اس کا پیغام نہیں پہنچا، قیامت والے دن وہ خود ہی فرمائے گا، وہاں یقینا کسی کے ساتھ ظلم نہیں ہوگا۔ اسی طرح بہرا پاگل فاترالعقل اور زمانہ فترت یعنی دو نبیوں کے درمیانی زمانے میں فوت ہونے والے لوگوں کا مسئلہ ہے ان کی بابت بعض روایات میں آتا ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ان کی طرف فرشتے بھیجے گا اور وہ انھیں کہیں گے کہ جہنم میں داخل ہوجاؤ اگر وہ اللہ کے اس حکم کو مان کر جہنم میں داخل ہوجائیں گے تو جہنم ان کے لیے گل و گلزار بن جائے گی بصورت دیگر انھیں گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ مسند احمد۔ علامہ البانی نے صحیح الجامع الصغیر میں اسے ذکر کیا ہے چھوٹے بچوں کی بابت اختلاف ہے مسلمانوں کے بچے تو جنت میں ہی جائیں گے البتہ کفار و مشرکین کے بچوں میں اختلاف ہے کوئی توقف کا کوئی جنت میں جانے کا اور کوئی جہنم میں جانے کا قائل ہے امام ابن کثیر نے کہا ہے کہ میدان محشر میں ان کا امتحان لیا جائے گا جو اللہ کے حکم کی اطاعت اختیار کرے گا وہ جنت میں اور جو نافرمانی کرے گا جہنم میں جائے گا امام ابن کثیر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے اور کہا ہے کہ اس سے متضاد روایات میں تطبیق بھی ہوجاتی ہے۔ تفصیل کے لیے تفسیر ابن کثیر ملاحظہ کیجئے۔ مگر صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کے بچے بھی جنت میں جائیں گے۔
(آیت 15) ➊ { مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهٖ …:} مطلب یہ ہے کہ جو شخص سیدھے راستے پر چلتا ہے وہ کسی پر احسان نہیں کرتا، بلکہ اس کا فائدہ اسی کو پہنچتا ہے اور جو اس سے ہٹ کر غلط راستے پر چلتا ہے تو اس کا وبال بھی اسی پرہو گا۔ ➋ {وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى…:” تَزِرُ “ ”وَزَرَ يَزِرُ وِزْرًا“} (ض) بوجھ اٹھانا۔ {” وَازِرَةٌ “ } اسم فاعل ہے اور {”نَفْسٌ“} کی صفت ہے جو یہاں پوشیدہ ہے، یعنی کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، بلکہ ہر ایک کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔ اس مفہوم کی کئی آیات ہیں، دیکھیے سورۂ انعام (۱۶۴) اور سورۂ فاطر (۱۸) وغیرہ۔ ➌ بعض آیات میں کچھ لوگوں کے اپنے گناہوں کے ساتھ دوسروں کے گناہ بھی اٹھانے کا ذکر ہے، جیسا کہ سورۂ نحل (۲۵) اور عنکبوت(۱۳) میں ہے:”وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان کے بھی جن کو وہ بغیر علم کے گمراہ کرتے رہے۔“ تو یہ دراصل دوسروں کا بوجھ نہیں بلکہ دوسروں کو گمراہ کرنے کی وجہ سے خود ان کا اپنا بوجھ ہے، گناہ کرنے والے اپنا بوجھ خود اٹھائیں گے۔ سورۂ مائدہ (۳۲) میں آدم علیہ السلام کے قاتل بیٹے پر ہر قتل کے گناہ کا ایک حصہ ڈالے جانے کا مطلب بھی یہی ہے۔ اسی طرح ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث کہ ”میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے سے عذاب ہوتا ہے“ کا مطلب بھی اہل علم نے یہ بیان فرمایا کہ جب مرنے والا اس کی وصیت کر گیا ہو، یا اسے معلوم ہو کہ گھر والے ایسا کریں گے، مگر اس نے انھیں منع نہ کیا ہو، کیونکہ اس پر لازم تھا کہ گھر والوں کو بھی اللہ کی نافرمانی سے بچاتا۔ (دیکھیے تحریم: ۶) اگر اس کے منع کرنے کے باوجود کوئی شخص بین کرتا ہے، یا گریبان چاک کرتا ہے تو وہ اس سے بری ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے {”كِتَابُ الْجَنَائِزِ“} میں باب باندھا ہے: {” بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَذَّبُ الْمَيِّتُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ “} یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میت کو اس کے گھر والوں کے بعض قسم کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: {” إِذَا كَانَ النَّوْحُ مِنْ سُنَّتِهٖ“} یعنی یہ اس وقت ہے جب بین کرنا اور سننا میت کا طریقہ اور معمول ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِيْكُمْ نَارًا» [ التحریم: ۶ ] ”اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤلٍ عَنْ رَّعِيَّتِهِ ] [ بخاري، النکاح، باب المرأۃ راعیۃ…: ۵۲۰۰ ] ”تم میں سے ہر ایک حکمران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہونے والا ہے۔“ تو جب یہ میت کا معمول اور طریقہ نہ ہو تو وہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمانے کے مطابق «وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى» [ الأنعام: ۱۶۴ ] (اور کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی) کا مصداق ہو گا، یعنی اسے عذاب نہیں ہو گا اور وہ اس فرمانِ الٰہی کی طرح ہو گا: «وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ» [فاطر: ۱۸ ] ”اور اگر کوئی بوجھ سے لدی ہوئی (جان) اپنے بوجھ کی طرف بلائے گی تو اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھایا جائے گا۔“ [ بخاری، الجنائز، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : یعذب المیت ببعض بکاء أھلہ علیہ…، قبل ح: ۱۲۸۴ ] ➍ {وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا:} یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے عدل کا بیان ہے، فرمایا کہ جب تک ہم کوئی پیغام پہنچانے والا نہ بھیجیں جو ان تک اللہ کے احکام پہنچا دے اور حجت پوری ہو جائے ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں۔ یہاں بعض مفسرین نے بچپن یا زمانۂ جاہلیت میں فوت ہونے والوں کے متعلق مختلف اقوال اور ان کے دلائل کے ساتھ لمبی بحث کی ہے، مگر ایسی کہ آدمی کسی نتیجے پر نہیں پہنچتا، اس لیے میں اس بحث کو واضح طریقے سے تحریر کرتا ہوں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بچپن میں فوت ہو جانے والے بچے، خواہ مسلمانوں کے ہوں یا مشرکین کے، ان کو عذاب نہیں ہو گا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے {”بَابُ مَا قِيْلَ فِيْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِيْنَ “} میں اس کے متعلق پہلے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنھم کی روایات ذکر کی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَللّٰهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا عَامِلِيْنَ ] [ بخاری، الجنائز: ۱۳۸۳، ۱۳۸۴ ] ”اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔“ اس کے بعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كُلُّ مَوْلُوْدٍ يُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبْوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَثَلِ الْبَهِيْمَةِ تُنْتَجُ الْبَهِيْمَةَ، هَلْ تَرَی فِيْهَا جَدْعَاءَ؟ ] [ بخاری: ۱۳۸۵ ] ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا اسے نصرانی بنا دیتے ہیں، یا اسے مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے چوپایہ چوپائے کو جنم دیتا ہے (تو مکمل اعضا والا ہوتا ہے) کیا تم ان میں کوئی کان کٹا دیکھتے ہو۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر بچہ مسلمان پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث بیان فرمائی ہے، جس میں ہے کہ جبریل اور میکائیل علیھما السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات اپنے ساتھ لے جا کر بہت سی چیزوں کا مشاہدہ کروایا، اس حدیث میں ہے کہ ہم ایک سرسبز باغ میں پہنچے جس میں ایک بہت بڑا درخت تھا، اس کی جڑ کے پاس ایک بزرگ اور بہت سے بچے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مشاہدات کی حقیقت پوچھی تو فرشتوں نے تمام مشاہدات کے آخر میں سب کی حقیقت بیان کی اور اس مشاہدے کے متعلق بتایا کہ یہ بزرگ ابراہیم علیہ السلام تھے اور وہ بچے لوگوں کے بچے تھے۔ [ بخاری: ۱۳۸۶ ] امام بخاری رحمہ اللہ نے {”كِتَابُ التَّعْبِيْرِ، بَابُ تَعْبِيْرِ الرُّؤْيَا بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ [۷۰۴۷] “} میں یہی حدیث زیادہ تفصیل سے بیان فرمائی ہے۔ اس میں ہے کہ فرشتوں نے بتایا کہ باغ میں جو لمبے قد کے بزرگ تھے وہ ابراہیم علیہ السلام تھے اور وہ بچے جو ان کے اردگرد تھے وہ ایسے بچے تھے جو فطرت پر فوت ہوئے۔ سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ مسلمانوں نے پوچھا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَ أَوْلاَدُ الْمُشْرِكِيْنَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَوْلَادُ الْمُشْرِكِيْنَ ] ”یا رسول اللہ! اور مشرکوں کے بچے بھی؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور مشرکوں کے بچے بھی۔“ امام بخاری رحمہ اللہ کی اس ترتیب سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشرکوں کے بچوں کے متعلق کوئی بات نہیں بتائی گئی، آپ نے یہ بات اللہ کے علم کے سپرد فرمائی، مگر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا گیا تو آپ نے مسلم و مشرک تمام لوگوں کے بچوں کے جنتی ہونے کی صراحت فرما دی۔ البتہ دنیوی احکام میں مشرکوں کے بچوں کا حکم ان کے باپوں والا ہی ہو گا۔ اس لیے جہاد کے دوران حملے میں یا لونڈی و غلام بناتے وقت ان کا حکم مشرکین ہی کا ہو گا۔ ہاں، وہ کلمہ پڑھ لیں تو انھیں مسلمان سمجھا جائے گا۔ رہ گئے اہل فترت و جاہلیت، یعنی عرب کے وہ لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے فوت ہو گئے تو ان تمام کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انھیں اللہ کی طرف سے توحید کا پیغام نہیں پہنچا، بلکہ وہ اپنے آپ کو ملت ابراہیم پر قرار دیتے تھے اور وہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد اور امت تھے۔ ایک لمبی مدت گزرنے کی وجہ سے ممکن ہے دین کے تفصیلی احکام ان کو معلوم نہ رہے ہوں، تاہم اکثریت بلکہ تمام لوگوں کے بت پرستی میں مبتلا ہونے کے باوجود توحید اور دین ابراہیم کا پیغام پہنچانے والے کچھ لوگ ان میں ضرور موجود رہے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملنے سے پہلے بھی کچھ لوگ بتوں کی پرستش نہیں کرتے تھے، یہ لوگ ”حنفاء“ کہلاتے تھے، ان میں زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ بن نوفل بھی شامل ہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: [ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحٍ قَبْلَ أَنْ يَّنْزِلَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ، فَقُدِّمَتْ إِلَي النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةٌ فَأَبٰی أَنْ يَّأَكُلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَالَ زَيْدٌ إِنِّيْ لَسْتُ آكُلُ مِمَّا تَذْبَحُوْنَ عَلٰی أَنْصَابِكُمْ، وَلاَ آكُلُ إِلَّا مَا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ، فَإِنَّ زَيْدَ بْنَ عَمْرٍو كَانَ يَعِيْبُ عَلٰی قُرَيْشٍ ذَبَائِحَهُمْ وَ يَقُوْلُ الشَّاةُ خَلَقَهَا اللّٰهُ وَأَنْزَلَ لَهَا مِنَ السَّمَاءِ الْمَاءِ، وَأَنْبَتَ لَهَا مِنَ الْأَرْضِ، ثُمَّ تَذْبَحُوْنَهَا عَلٰی غَيْرِ اسْمِ اللّٰهِ؟ إِنْكَارًا لِذٰلِكَ وَ إِعْظَامًا لَّهُ ] [ بخاری، مناقب الأنصار، باب حدیث زید بن عمرو بن نفیل: ۳۸۲۶ ] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نبوت ملنے سے پہلے زید بن عمرو بن نفیل کو مقام بلدح کے نچلے حصے میں ملے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دستر خوان پیش کیا گیا تو اس نے اس سے کھانے سے انکار کر دیا، زید نے کہا: ”میں اس میں سے نہیں کھاتا جو تم اپنے نصب کر دہ بتوں وغیرہ پر ذبح کرتے ہو اور میں اس کے سوا نہیں کھاتا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔“ زید بن عمرو قریش پر ان کے ذبیحوں پر عیب لگاتے تھے اور کہتے تھے: ”بھیڑ بکری جو ہے اسے اللہ نے پیدا فرمایا اور اسی نے اس کے لیے آسمان سے پانی اتارا اور زمین سے اس کے لیے پودے اگائے، پھر تم اسے اللہ کے غیر کے نام پر ذبح کرتے ہو۔“ ان کے اس فعل کا انکار کرتے ہوئے اور اسے بہت بڑا گناہ قرار دیتے ہوئے یہ بات کہتے تھے۔“ ورقہ بن نوفل بت پرستی سے بے زار ہو کر نصرانی ہو گئے تھے۔“ [ بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی إلٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ۲ ] اور ظاہر ہے کہ وہ موحد نصرانی بنے ہوں گے، تثلیث والے مشرک نہیں، کیونکہ پھر انھیں بت پرستی چھوڑ کر نصرانی بننے کی ضرورت نہ تھی اور اسی توحید کی وجہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تسلیم کی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں: [ رَأَيْتُ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَائِمًا مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَی الْكَعْبَةِ يَقُوْلُ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ! وَاللّٰهِ! مَا مِنْكُمْ عَلٰی دِيْنِ إِبْرَاهِيْمَ غَيْرِيْ ] [ بخاری، مناقب الأنصار، باب حدیث زید بن عمرو بن نفیل: ۳۸۲۸ ] میں نے زید بن عمرو بن نفیل کو دیکھا وہ کعبے کے ساتھ پیٹھ کا سہارا لے کر کھڑے کہہ رہے تھے: ”اے قریش کی جماعت! اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی شخص میرے سوا دین ابراہیم پر نہیں ہے۔“ الغرض جب ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام سے سیکڑوں سال بعد بھی توحید پر قائم اور اس کا پیغام کھلم کھلا کعبہ میں کھڑے ہو کر دینے والے موجود تھے تو ان سے پہلے ابراہیم و اسماعیل علیھما السلام کے زمانے کے جس قدر قریب جائیں توحید والے اور اپنے آپ کو دین ابراہیم پر قائم کہنے والے یقینا موجود رہے ہیں۔ یہ تو یمن سے آنے والے عمرو بن لحی خزاعی کا بیڑا غرق ہوا کہ اس نے کعبہ میں بت لاکر رکھ دیے، جس کے بعد قریش بھی بت پرستی میں مبتلا ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا: «وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ» [ فاطر: ۲۴ ] ”اور کوئی امت نہیں مگر اس میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا گزرا ہے۔“ یہ ڈرانے والا کوئی امتی بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو تقریباً ۱۴۲۱ برس گزر چکے مگر آپ کی دعوت مسلسل دنیا کے ہر خطے میں جاری ہے اور داعیان اسلام بشارت و نذارت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ زمانۂ فترت میں دو قسم کے لوگ ہو سکتے ہیں، بلکہ آج بھی یہ دونوں قسمیں موجود ہیں، ایک وہ جنھیں کسی ذریعے سے توحید کی دعوت پہنچ گئی، خواہ وہ کسی توحید پر قائم شخص کے ذریعے سے پہنچی ہو یا اس کے مخالف کے ذریعے سے، جیسا کہ ابوسفیان نے اپنے زمانۂ کفر میں ہرقل کے سامنے دین اسلام کا بہترین خلاصہ پیش کیا تھا، پھر انھوں نے نہ توجہ سے سنا، نہ سوچنے کی زحمت کی، نہ اسے تسلیم کیا تو ان کے جہنمی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ انھیں صرف اہل فترت ہونے کی وجہ سے جنتی نہیں کہا جا سکتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «كُلَّمَاۤ اُلْقِيَ فِيْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَذِيْرٌ (8) قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِيْرٌ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ (9) وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ (10) فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ» [ الملک: ۸ تا ۱۱ ] ”جب بھی اس (جہنم) میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو اس کے نگران ان سے پو چھیں گے کیا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں۔ آیا؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں؟ یقینا ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تو ہم نے جھٹلا دیا اور ہم نے کہا اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری، تم تو ایک بڑی گمراہی میں ہی پڑے ہوئے ہو۔ اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوںمیں سے نہ ہوتے۔ پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے، سو دوری ہے بھڑکتی ہوئی آگ والوں کے لیے۔“ یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَفْتَخِرُوْنَ بِآبَائِهِمُ الَّذِيْنَ مَاتُوْا، إِنَّمَا هُمْ فَحْمُ جَهَنَّمَ، أَوْ لَيَكُوْنُنَّ أَهْوَنَ عَلَی اللّٰهِ مِنَ الْجُعَلِ الَّذِيْ يُدَهْدِهُ الْخِرَاءَ بِأَنْفِهِ ] [ ترمذي، المناقب، باب في فضل الشام والیمن: ۳۹۵۵، حسنہ الألباني ] ”کچھ لوگ جو اپنے ان آباء پر فخر کرتے ہیں جو فوت ہو چکے، جو محض جہنم کے کوئلے ہیں، ان پر فخر کرنے سے باز آ جائیں گے ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پاخانے کے اس کیڑے سے بھی ذلیل ہوں گے جو اپنی ناک کے ساتھ پاخانے کو دھکیلتا جاتا ہے۔“ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانۂ جاہلیت میں فوت ہونے والوں کو جہنم کے کوئلے قرار دیا۔ مزید تفصیل سورۂ توبہ کی آیت (۱۱۳) کی تشریح میں تفسیر کی کسی بھی کتاب سے دیکھ لیں۔ اب اہل فترت کے صرف وہ لوگ رہ گئے جنھیں واقعی دعوت نہیں پہنچی تو یہ صرف اہل فترت ہی کے ساتھ خاص نہیں، اب بھی اگر دنیا کے کسی خطے میں واقعی کوئی ایسا شخص موجود ہے جسے بالکل دعوت نہیں پہنچی تو اس آیت {” وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا “} کے تحت حجت پوری کیے بغیر اسے عذاب نہیں ہو گا، خواہ وہ حجت قیامت کے دن پوری کی جائے۔ جہاں تک میں نے مطالعہ کیا ہے ان لوگوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آنے والی احادیث میں سے سب سے صحیح حدیث وہ ہے جو اسود بن سریع اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار آدمی قیامت کے دن اپنی حجت (دلیل) پیش کریں گے، ایک بہرا آدمی جو کچھ نہیں سنتا، ایک احمق آدمی، ایک حد سے بوڑھا اور ایک وہ آدمی جو فترت میں فوت ہوا۔ جو بہرا ہے وہ کہے گا، اے میرے رب! اسلام آیا تو مجھے کچھ سنائی نہ دیتا تھا، احمق کہے گا، اے میرے رب! اسلام آیا اور میں کچھ عقل نہ رکھتا تھا اور بچے مجھے مینگنیاں مارتے تھے، حد سے بوڑھا کہے گا، اے میرے رب! اسلام آیا اور میں کچھ سمجھتا نہ تھا اور جو فترت میں فوت ہوا وہ کہے گا، اے میرے رب! میرے پاس تیرا کوئی پیغام لانے والا نہیں آیا۔ تو اللہ تعالیٰ ان سے ان کے پختہ عہد لے گا کہ وہ جو کہے گا اس کی اطاعت کریں گے؟ تو ان کی طرف پیغام بھیجا جائے گا کہ آگ میں داخل ہو جاؤ، تو جو داخل ہو جائے گا وہ اس پر ٹھنڈک اور سلامتی بن جائے گی اور جو داخل نہیں ہو گا اسے گھسیٹ کر اس میں ڈال دیا جائے گا۔“ [ مسند أحمد: 24/4، ح: ۱۶۳۰۷۔ ابن حبان: ۷۳۵۷ ] صحیح الجامع (۸۸۱) میں شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح فرمایا ہے، ابن کثیر نے فرمایا کہ اسے اسحاق بن راہویہ نے معاویہ بن ہشام سے ایسے ہی روایت کیا اور بیہقی نے اسے کتاب الاعتقاد میں ”حنبل عن علی بن عبد اللہ“ کی سند سے روایت کیا اور فرمایا یہ اسناد صحیح ہے۔ محترم زبیر علی زئی صاحب نے اردو تفسیر ابن کثیر کی تخریج میں اس کی ایک ہم معنی حدیث کو جو اہل جاہلیت کے متعلق ہے، حاکم (۴؍۴۴۹، ۴۵۰) کے حوالے سے حسن لکھا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ اگر پیغام پہنچ جاتا تو کوئی شخص کیا کرتا، مگر ان چاروں کا عذر بھی باقی نہیں رہنے دیا جائے گا، بلکہ قیامت کے دن ان کے امتحان کے بعد اس کے نتیجے کے مطابق ان سے سلوک ہو گا، البتہ بچوں کے امتحان کی کوئی روایت صحیح نہیں۔ [ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ وَعِلْمُہُ أَتَمُّ ]
جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ہم کسی بستی کی ہلاکت کا اراده کرلیتے ہیں تو وہاں کے خوشحال لوگوں کو (کچھ) حکم دیتے ہیں اور وه اس بستی میں کھلی نافرمانی کرنے لگتے ہیں تو ان پر (عذاب کی) بات ﺛابت ہوجاتی ہے پھر ہم اسے تباه وبرباد کردیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں اس کے خوشحالوں پر احکام بھیجتے ہیں پھر وہ اس میں بے حکمی کرتے ہیں تو اس پر بات پوری ہوجاتی ہے تو ہم اسے تباہ کرکے برباد کردیتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو ہم وہاں کے خوشحال لوگوں کو (انبیاء کے ذریعہ سے اپنی اطاعت کا) حکم دیتے ہیں اور وہ (اطاعت کی بجائے) نافرمانی کرنے لگتے ہیں تب اس پر (عذاب کی) بات ثابت ہو جاتی ہے اور ہم اسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ہم ارادہ کرتے ہیں کہ کسی بستی کو ہلاک کریں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پھر وہ اس میں حکم نہیں مانتے تو اس پر بات ثابت ہوجاتی ہے، پھر ہم اسے برباد کر دیتے ہیں، بری طرح برباد کرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تقدیر اور ہمارے اعمال ٭٭
مشہور قرأت تو «أَمَرْنَا» ہے اس امر سے مراد تقدیری امر ہے جیسے اور آیت میں ہے: «أَتَاهَآ أَمْرُنَا لَيْلاً أَوْ نَهَارًا» ۱؎ [10-يونس:24] ’ یعنی وہاں ہمارہ مقرر کردہ امر آجاتا ہے، رات کو یا دن کو۔ ‘ یاد رہے کہ اللہ برائیوں کا حکم نہیں کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ فحش کاریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اس وجہ سے مستحق عذاب ہو جاتے ہیں کہ ہم انہیں اپنی اطاعت کے احکام کرتے ہیں اور برائیوں میں لگ جاتے ہیں پھر ہمارا سزا کا قول ان پر راست آ جاتا ہے جن کی قرأت «أَمُرْنَا» ہے وہ کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہاں کے سردار ہم بدکاروں کو بنا دیتے ہیں وہ وہاں اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں یہاں تک کہ عذاب الٰہی انہیں اس بستی سمیت تہس نہس کر دیتا۔ جیسے فرمان ہے: «وَكَذلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَـبِرَ مُجْرِمِيهَا» ۱؎ [6-الأنعام:123] ’ اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے رئیسوں ہی کو جرائم کا مرتکب بنایا۔ ‘ سیدنا ابن عباسؓ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ہم ان کے دشمن بڑھا دیتے ہیں وہاں سرکشوں کی زیادتی کر دیتے ہیں۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { بہترین مال جانور ہے جو زیادہ بچے دینے والا ہو یا راستہ ہے جو کھجور کے درختوں سے گھرا ہوا ہو۔ } ۱؎ [مسند احمد:468/3:ضعیف] جیسے آپ کا قول ہے { گناہ والیاں نہ کہ اجر پانے والیاں۔ ۱؎ } [سنن ابن ماجه:1578،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
16۔ 1 اس میں وہ اصول بتلایا گیا ہے جس کی روح سے قوموں کی ہلاکت کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور یہ کہ ان کا خوش حال طبقہ اللہ کے حکموں کی نافرمانی شروع کردیتا ہے اور انہی کی تقلید پھر دوسرے لوگ کرتے ہیں، یوں اس قوم میں اللہ کی نافرمانی عام ہوجاتی ہے اور وہ مستحق عذاب قرار پا جاتی ہے۔
(آیت 16) ➊ { وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ …: ” اَمَرْنَا “} امر نہی کی ضد ہے، حکم دینا {”مُتْرَفٌ“} وہ شخص جسے نعمت اور خوش حالی عطا کی گئی ہو اور کھلا چھوڑ دیا گیا ہو کہ جو چاہے کرے۔ کہا جاتا ہے: {” أَتْرَفَتْهُ النِّعْمَةُ “} اسے نعمت نے سرکش اور باغی بنا دیا۔ {”تَدْمِيْرًا “} تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”بری طرح برباد کرنا۔“ ➋ یہ پچھلی آیت کے مفہوم ہی کی تکمیل ہے کہ اللہ تعالیٰ حجت تمام کیے بغیر عذاب نہیں دیتا۔ فرمایا، ہم اس بستی کے خوش حال لوگوں کو حکم دیتے ہیں۔ {” اَمَرْنَا “} کا مفعول محذوف ہے، وہ یا تو {”بِأَمْرٍ“} ہے، یعنی ہم انھیں کوئی حکم دیتے ہیں، یا {”بِالْإِيْمَانِ وَالْعَمَلِ الصَّالِحِ“} ہے، یعنی ہم اس بستی کے رسول یا دوسرے مصلح لوگوں کے ذریعے سے اس کے خوش حال لوگوں کو ایمان اور عمل صالح کا حکم دیتے ہیں۔ {” فَفَسَقُوْا “} تو وہ اس حکم کو یا ایمان اور عمل صالح کے حکم کو نہیں مانتے، بلکہ ملک بھر میں فسق و فجور بپا کر دیتے ہیں تو ان کا عذاب کا حق دار ہونا ثابت ہو جاتا ہے، تو پھر ہم صرف خوش حال لوگوں ہی کو نہیں بلکہ ان کے پیچھے چلنے والے ضعفاء کو بھی بلکہ بستی کی عمارتوں کو بھی بری طرح برباد کر دیتے ہیں۔ ضعفاء کی ہلاکت کے سبب کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۶، ۱۶۷)، احزاب (۶۴ تا ۶۸) اور اعراف (۳۸، ۳۹) اور بستی کی بربادی لفظ {” قَرْيَةً “} سے ظاہر ہو رہی ہے۔ ➌ بعض مفسرین نے {” فَفَسَقُوْا فِيْهَا “} کی مناسبت سے {” اَمَرْنَا “} کا محذوف مفعول {”بِالْفِسْقِ“} نکالا ہے، یعنی جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو فسق کا حکم دیتے ہیں…۔ مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو نیکی کا حکم دیتا ہے اور نافرمانی سے منع کرتا ہے، خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ» [ الأعراف: ۲۸ ] ”کہہ دیجیے بے شک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔“ اور دیکھیے سورۂ نحل (۹۰) اور سبا (۳۴، ۳۵) ہاں اگر یہ تاویل کی جائے تو الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شرعی حکم تو نیکی ہی کا ہوتا ہے مگر کونی حکم (جس کے تحت کائنات چل رہی ہے، کافر کفر کر رہے ہیں، ظالم ظلم کر رہے ہیں، مظلوموں پر ظلم ہو رہا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار حکمتیں ہیں) ہر قسم کا ہو سکتا ہے، اگرچہ یہ کونی حکم بھی شرعی احکام کی نافرمانی اور اللہ اور اس کے رسول کو بھلا دینے کے نتیجے ہی میں ہوتا ہے، چنانچہ ان نافرمانوں کی رسی دراز کر دی جاتی ہے اور دنیا کی نعمتوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے جاتے ہیں کہ جتنی چاہو نافرمانی کر لو، پھر جب قرار داد جرم مکمل ہو جاتی ہے تو اللہ کا عذاب آ جاتا ہے۔ (دیکھیے انعام: ۴۲ تا ۴۵) بعض نے {” اَمَرْنَا “} کا معنی {”أَكْثَرْنَا“} بھی کیا ہے کہ ہم اس کے ”مترفین“ کو بہت بڑھا دیتے ہیں تو وہ فخر میں آ کر نافرمانی پر اتر آتے ہیں۔ ان تینوں معنوں میں سے پہلا معنی زیادہ صحیح ہے جو حاشیہ نمبر (۲) میں ذکر ہوا، اگرچہ دوسرے معنوں کی بھی گنجائش ہے۔
دیکھ لو، کتنی ہی نسلیں ہیں جو نوحؑ کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک ہوئیں تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے نوح کے بعد بھی بہت سی قومیں ہلاک کیں اور تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار اور خوب دیکھنے بھالنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے کتنی ہی سنگتیں (قومیں) نوح کے بعد ہلاک کردیں اور تمہارا رب کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار دیکھنے والا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے نوح کے بعد کتنی ہی قوموں کو (ان کے گناہوں کی پاداش میں) ہلاک کیا اور آپ کا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر ہونے اور دیکھنے کی حیثیت سے کافی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے نوح کے بعد کتنے ہی زمانوں کے لوگ ہلاک کر دیے اور تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں کی پوری خبر رکھنے والا، سب کچھ دیکھنے والا بہت کافی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آل قریش سے خطاب ٭٭
اے قریشیو! ہوش سنبھالو میرے اس بزرگ رسول کی تکذیب کر کے بے خوف نہ ہو جاؤ تم اپنے سے پہلے نوح علیہ السلام کے بعد کے لوگوں کو دیکھو کہ رسولوں کی تکذیب نے ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نوح علیہ السلام سے پہلے کے آدم علیہ السلام تک کے لوگ دین اسلام پر تھے۔ پس تم اے قریشیو کچھ ان سے زیادہ ساز و سامان اور گنتی اور طاقت والے نہیں ہو۔ اس کے باوجود تم اشرف الرسل خاتم الانبیاء کو جھٹلا رہے ہو پس تم عذاب اور سزا کے زیادہ لائق ہو۔ اللہ تعالیٰ پر اپنے کسی بندے کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں خیر و شر سب اس پر ظاہر ہے، کھلا چھپا سب وہ جانتا ہے ہر عمل کو خود دیکھ رہا ہے۔
17۔ 1 وہ بھی اسی اصول ہلاکت کے تحت ہی ہلاک ہوئیں
(آیت 17) ➊ {وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ: } یہ {” كَمْ “} خبر یہ ہے، جس کا معنی ہے ”بہت۔“ قرن ایک زمانے کے لوگ، عام طور پر یہ مدت ایک سو سال بتائی جاتی ہے۔ رسولوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم آنے کے بعد ان کی نافرمانی (فسق) کی وجہ سے نوح علیہ السلام کے بعد ہلاک ہونے والی قوموں اور نسلوں کا بطور مثال ذکر فرمایا کہ مت پوچھو کہ کتنی نسلوں کو ہم نے ہلاک کر دیا، مثلاً عاد، ثمود، شعیب اور لوط علیہ السلام کی قومیں اور قوم فرعون وغیرہ۔ نوح علیہ السلام کے بعد اس لیے فرمایا کہ اس سے پہلے لوگ سب توحید پر تھے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۳)۔ ➋ { وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ …:} اس جملے کا یہاں دو طرح سے تعلق ہے، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام قرون کو ان کے گناہوں کی پاداش ہی میں ہلاک کیا، کیونکہ وہ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے اور دیکھنے والا ہونے میں بہت ہی کافی ہے۔ {” كَفٰى بِرَبِّكَ “} کی ترکیب کے لیے اسی سورت کی آیت (۱۴) ملاحظہ فرمائیں۔ دوسرا تعلق یہ ہے کہ کفار قریش اور پوری امت کو تنبیہ فرمائی کہ یہ مت سمجھنا کہ یہ معاملہ صرف انھی قوموں کے ساتھ ہوا، بلکہ اگر تم بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے احکام نہیں مانو گے اور فسق و فجور کا ارتکاب کرو گے تو تمھارے ساتھ بھی اسی طرح ہو گا، اس لیے اپنی اصلاح کرلو۔ اس میں نافرمانوں کو وعید کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جانشینوں کے لیے تسلی بھی ہے۔
جو کوئی عاجلہ کا خواہشمند ہو، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں، پھر اس کے مقسوم میں جہنم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ملامت زدہ اور رحمت سے محروم ہو کر
مولانا محمد جوناگڑھی
جس کا اراده صرف اس جلدی والی دنیا (فوری فائده) کا ہی ہو اسے ہم یہاں جس قدر جس کے لئے چاہیں سردست دیتے ہیں بالﺂخر اس کے لئے ہم جہنم مقرر کردیتے ہیں جہاں وه برے حالوں دھتکارا ہوا داخل ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
جو یہ جلدی والی چاہے ہم اسے اس میں جلد دے دیں جو چاہیں جسے چاہیں پھر اس کے لیے جہنم کردیں کہ اس میں جائے مذمت کیا ہوا دھکے کھاتا،
علامہ محمد حسین نجفی
جو کوئی دنیا کا خواہشمند ہو تو ہم جسے جتنا دینا چاہتے ہیں اسی (دنیا) میں جلدی دے دیتے ہیں پھر اس کے لئے دوزخ قرار دیتے ہیں جس میں وہ ملامت زدہ اور راندہ ہوا داخل ہوگا (اور اسے تاپے گا)۔
عبدالسلام بن محمد
جو شخص اس جلدی والی (دنیا) کا ارادہ رکھتا ہو ہم اس کو اس میں جلدی دے دیں گے جو چاہیں گے، جس کے لیے چاہیں گے، پھر ہم نے اس کے لیے جہنم بنا رکھی ہے، اس میں داخل ہوگا، مذمت کیا ہوا، دھتکارا ہوا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طالب دنیا کی چاہت ٭٭
کچھ ضروری نہیں کہ طالب دنیا کی ہر ایک چاہت پوری ہو، جس کا جو ارادہ اللہ پورا کرنا چاہے کر دے لیکن ہاں ایسے لوگ آخرت میں خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ یہ تو وہاں جہنم کے گڑھے میں گھرے ہوئے ہوں گے نہایت برے حال میں ذلت و خواری میں ہوں گے۔ کیونکہ یہاں انہوں نے یہی کیا تھا، فانی کو باقی پر دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تھی اس لیے وہاں رحمت الٰہی سے دور ہیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں گھر نہ ہو، یہ اس کا مال ہے جس کا آخرت میں مال نہ ہو، اسے وہی جمع کرتا رہتا ہے جس کے پاس اپنی گرہ کی عقل بالکل نہ ہو۔ } ۱؎ [مسند احمد:71/6:قال الشيخ الألباني:ضعیف] ہاں جو صحیح طریقے سے طالب دار آخرت ہو جائے اور آخرت میں کام آنے والی نیکیاں سنت کے مطابق کرتا رہے اور اس کے دل میں بھی ایمان تصدیق اور یقین ہو عذاب و ثواب کے وعدے صحیح جانتا ہو، اللہ و رسول کو مانتا ہو، ان کی کوشش قدر دانی سے دیکھی جائے گی نیک بدلہ ملے گا۔
18۔ 1 یعنی دنیا کے ہر طالب کو دنیا نہیں ملتی، صرف اسی کو ملتی ہے جس کو ہم چاہیں، پھر اس کو بھی اتنی دنیا نہیں جتنی وہ چاہتا ہے بلکہ اتنی ہی ملتی ہے جتنی ہم اس کے لئے فیصلہ کریں۔ لیکن اس دنیا طلبی کا نتیجہ جہنم کا دائمی عذاب اور اس کی رسوائی ہے۔
(آیت 18) ➊ { مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ …:} صاحب کشاف نے فرمایا، وہ شخص جس کا مقصود جلدی حاصل ہونے والی (یعنی دنیا) ہو اور اس کے سوا اس کا کچھ مقصد نہ ہو، جیسا کہ کفار اور اکثر فاسقوں کا حال ہے تو ہم دنیا کے فوائد میں سے جس قدر چاہتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں عطا فرما دیتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں دو قیدیں لگا دیں، ایک یہ کہ ہم دنیا کی وہ چیز اتنی دیتے ہیں جتنی ہم چاہتے ہیں، دوسری قید یہ کہ صرف اسے دیتے ہیں جس کا ہم ارادہ کرتے ہیں۔ اور واقعی ایسا ہی ہے، آپ ان میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ جتنی بھی تمنا رکھیں انھیں اس کا کچھ حصہ ہی ملتا ہے اور بعض اوقات کچھ بھی نہیں ملتا، سو ان کے لیے دنیا کا فقر اور آخرت کا فقر دونوں جمع ہو گئے۔ رہا متقی مومن تو اس کا مقصود صرف آخرت ہوتا ہے، چنانچہ آخرت میں اس کا غنی ہونا یقینی ہے، اسے پروا نہیں ہوتی کہ دنیا کی آسائش اسے ملتی ہے یا نہیں، اگر اسے دنیا میں بھی مل جائے تو وہ شکر کرتا ہے، اگر نہ ملے تو صبر کرتا ہے، پھر کئی دفعہ فقر اس کے لیے بہتر اور اس کی مراد کے حصول میں زیادہ مددگار ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ ہود (۱۵، ۱۶) اور سورۂ شوریٰ (۲۰)۔ ➋ {” مَذْمُوْمًا “ ”ذَمٌّ“} سے اسم مفعول ہے جو مدح کی ضد ہے۔ {” مَدْحُوْرًا “ ”دُحُوْرٌ“} سے اسم مفعول ہے، جس کا معنی دور کرنا، دفع کرنا ہے، یعنی آخرت میں اس کے عمل کسی طرح بھی قبول نہیں کیے جائیں گے۔
اور جو آخرت کا خواہشمند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہیے، اور ہو وہ مومن، تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس کا اراده آخرت کا ہو اور جیسی کوشش اس کے لئے ہونی چاہیئے، وه کرتا بھی ہو اور وه باایمان بھی ہو، پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدردانی کی جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور جو آخرت چاہے اور اس کی سی کوشش کرے اور ہو ایمان والا تو انہیں کی کوشش ٹھکانے لگی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کوئی آخرت کا طلبگار ہوتا ہے اور اس کے لئے ایسی کوشش بھی کرے جیسی کہ کرنی چاہیئے درآنحالیکہ وہ مؤمن بھی ہو تو یہ وہ ہیں جن کی کوشش مشکور ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
اور جس نے آخرت کا ارادہ کیا اور اس کے لیے کوشش کی، جو اس کے لائق کوشش ہے، جب کہ وہ مومن ہو تو یہی لوگ ہیں جن کی کوشش ہمیشہ سے قدرکی ہوئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طالب دنیا کی چاہت ٭٭
کچھ ضروری نہیں کہ طالب دنیا کی ہر ایک چاہت پوری ہو، جس کا جو ارادہ اللہ پورا کرنا چاہے کر دے لیکن ہاں ایسے لوگ آخرت میں خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ یہ تو وہاں جہنم کے گڑھے میں گھرے ہوئے ہوں گے نہایت برے حال میں ذلت و خواری میں ہوں گے۔ کیونکہ یہاں انہوں نے یہی کیا تھا، فانی کو باقی پر دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تھی اس لیے وہاں رحمت الٰہی سے دور ہیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں گھر نہ ہو، یہ اس کا مال ہے جس کا آخرت میں مال نہ ہو، اسے وہی جمع کرتا رہتا ہے جس کے پاس اپنی گرہ کی عقل بالکل نہ ہو۔ } ۱؎ [مسند احمد:71/6:قال الشيخ الألباني:ضعیف] ہاں جو صحیح طریقے سے طالب دار آخرت ہو جائے اور آخرت میں کام آنے والی نیکیاں سنت کے مطابق کرتا رہے اور اس کے دل میں بھی ایمان تصدیق اور یقین ہو عذاب و ثواب کے وعدے صحیح جانتا ہو، اللہ و رسول کو مانتا ہو، ان کی کوشش قدر دانی سے دیکھی جائے گی نیک بدلہ ملے گا۔
19۔ 1 اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر دانی کے لئے تین چیزیں یہاں بیان کی گئی ہیں، 1۔ ارادہ آخرت، یعنی اخلاص اور اللہ کی رضا جوئی 2۔ ایسی کوشش جو اس کے لائق ہو، یعنی سنت کے مطابق، 3۔ ایمان کیونکہ اس کے بغیر تو کوئی عمل بھی قابل توجہ نہیں۔ یعنی قبولیت عمل کے لئے ایمان کے ساتھ اخلاص اور سنت نبوی کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
(آیت 19){ وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ …:} اس آیت میں عمل کی قبولیت کی تین شرطیں بیان ہوئی ہیں، جن میں بنیادی شرط {”وَ هُوَ مُؤْمِنٌ “} یعنی ایمان ہے، یہ بات بہت سی آیات میں بیان ہوئی ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۲۴)، نحل (۹۷) اور مومن (۴۰) وغیرہ۔ کافر کے نیک اعمال قیامت کے دن بے کار ہوں گے۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۱۸)، فرقان (۲۳) اور نور (۳۹) وغیرہ۔ کیونکہ کافر کی نیکیوں کا بدلہ دنیا ہی میں اسے دے دیا جاتا ہے۔ دیکھیے ہود (۱۵، ۱۶)، شوریٰ (۲۰) احقاف (۲۰) وغیرہ۔ کافر کی نیکیوں کی مثال صدقہ، صلہ رحمی، مہمان نوازی اور مظلوموں کی مدد وغیرہ ہے۔ دوسری شرط اخلاص ہے، جو {” اَرَادَ الْاٰخِرَةَ “ } سے ظاہر ہے اور تیسری شرط آخرت کے لائق عمل صالح ہے، جو {” وَ سَعٰى لَهَا سَعْيَهَا “} سے ظاہر ہو رہی ہے اور یہ وہ عمل ہے جو کتاب و سنت کے مطابق ہو، ایسے عمل کا بدلہ ضرور ملے گا اور کئی گنا یا بے حساب ملے گا، جیسا کہ کئی آیات میں مذکور ہے: «اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ» [ الزمر: ۱۰ ] ”صرف کامل صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔“ تو جس سعی کو اللہ تعالیٰ مشکور قرار دے وہ ایسی ہی ہوتی ہے۔
اِن کو بھی اور اُن کو بھی، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیے جا رہے ہیں، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے، اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہر ایک کو ہم بہم پہنچائے جاتے ہیں انہیں بھی اور ا نہیں بھی تیرے پروردگار کے انعامات میں سے۔ تیرے پروردگار کی بخشش رکی ہوئی نہیں ہے
احمد رضا خان بریلوی
ہم سب کو مدد دیتے ہیں اُن کو بھی اور اُن کو بھی، تمہارے رب کی عطا سے اور تمہارے رب کی عطا پر روک نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ہم ہر ایک کی امداد کرتے ہیں اِن کی بھی اور اُن کی بھی آپ کے پروردگار کی عطا و بخشش سے اور آپ کے پروردگار کی عطا کسی پر بند نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ہم ہر ایک کی مدد کرتے ہیں، ان کی اور ان کی بھی، تیرے رب کی بخشش سے اور تیرے رب کی بخشش کبھی بند کی ہوئی نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حق دار کو حق دیا جاتا ہے ٭٭
یعنی ان دونوں قسم کے لوگوں کو ایک وہ جن کا مطلب صرف دنیا ہے دوسرے وہ جو طالب آخرت ہیں دونوں قسم کے لوگوں کو ہم بڑھاتے رہتے ہیں جس میں بھی وہ ہیں، یہ تیرے رب کی عطا ہے، وہ ایسا متصرف اور حاکم ہے جو کبھی ظلم نہیں کرتا۔ مستحق سعادت کو سعادت اور مستحق شقاوت کو شقاوت دے دیتا ہے۔ اس کے احکام کوئی رد نہیں کر سکتا، اس کے روکے ہوئے کو کوئی دے نہیں سکتا اس کے ارادوں کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ تیرے رب کی نعمتیں عام ہیں، نہ کسی کے روکے رکیں، نہ کسی کے ہٹائے ہٹیں وہ نہ کم ہوتی ہیں نہ گھٹتی ہیں۔ دیکھ لو کہ دنیا میں ہم نے انسانوں کے کیسے مختلف درجے رکھے ہیں ان میں امیر بھی ہیں، فقیر بھی ہیں درمیانہ حالت میں بھی ہیں، اچھے بھی ہیں، برے بھی ہیں اور درمیانہ درجے کے بھی۔ کوئی بچپن میں مرتا ہے، کوئی بوڑھا بڑا ہوکر، کوئی اس کے درمیان۔ آخرت درجوں کے اعتبار سے دنیا سے بھی بڑھی ہوئی ہے کچھ تو طوق و زنجیر پہنے ہوئے جہنم کے گڑھوں میں ہوں گے، کچھ جنت کے درجوں میں ہوں گے، بلند و بالا بالا خانوں میں نعمت و راحت سرور و خوشی میں، پھر خود جنتیوں میں بھی درجوں کا تفاوت ہو گا ایک ایک درجے میں زمین و آسمان کا سا تفاوت ہوگا۔ جنت میں ایسے ایک سو درجے ہیں۔ { بلند درجوں والے اہل علین کو اس طرح دیکھیں گے جیسے تم کسی چمکتے ستارے کو آسمان کی اونچائی پر دیکھتے ہو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3256] پس آخرت درجوں اور فضیلتوں کے اعتبار سے بہت بڑی ہے، طبرانی میں ہے { جو بندہ دنیا میں جو درجہ چڑھنا چاہے گا اور اپنی خواہش میں کامیاب ہو جائے گا وہ آخرت کا درجہ گھٹا دے گا جو اس سے بہت بڑا ہے پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:6101:ضعیف]
20۔ 1 یعنی دنیا کا رزق اور اس کی آسائشیں ہم بلا تفریق مومن اور کافر، طالب دنیا اور طالب آخرت سب کو دیتے ہیں۔ اللہ کی نعمتیں کسی سے بھی روکی نہیں جاتیں۔
(آیت 20) {كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ …: ” مَحْظُوْرًا “ ”حَظَرَ يَحْظُرُ“} (ن) سے اسم مفعول ہے، بمعنی روکنا، یعنی ہم مومن و کافر، نیک و بد ہر ایک کو رزق اور دنیا کی نعمتوں سے نوازتے ہیں، ایسا نہیں کہ گناہ یا کفر کی وجہ سے اس کا رزق بند کر دیں، کیونکہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، نیکی یا بدی کی وجہ سے رزق بند کرنے سے یہ مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ ہاں! اللہ کی تقدیر کے مطابق مومن کا رزق کم یا زیادہ ہو سکتا ہے اور کافر کا بھی۔
مگر دیکھ لو، دنیا ہی میں ہم نے ایک گروہ کو دوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے، اور آخرت میں اُس کے درجے اور بھی زیادہ ہوں گے، اور اس کی فضیلت اور بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
دیکھ لے کہ ان میں ایک کو ایک پر ہم نے کس طرح فضیلت دے رکھی ہے اور آخرت تو درجوں میں اور بھی بڑھ کر ہے اور فضیلت کے اعتبار سے بھی بہت بڑی ہے
احمد رضا خان بریلوی
دیکھو ہم نے ان میں ایک کو ایک پر کیسی بڑائی دی اور بیشک آخرت درجوں میں سب سے بڑی اور فضل میں سب سے اعلیٰ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(دیکھو) ہم نے (یہاں) کس طرح بعض لوگوں کو بعض پر فضیلت دی ہے اور آخرت تو درجات کے اعتبار سے بہت بڑی ہے اور فضیلت کے لحاظ سے بھی بہت بڑی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
دیکھ ہم نے ان کے بعض کو بعض پر کس طرح فضیلت دی ہے اور یقینا آخرت درجوں میں بہت بڑی اور فضیلت دینے میں کہیں بڑی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حق دار کو حق دیا جاتا ہے ٭٭
یعنی ان دونوں قسم کے لوگوں کو ایک وہ جن کا مطلب صرف دنیا ہے دوسرے وہ جو طالب آخرت ہیں دونوں قسم کے لوگوں کو ہم بڑھاتے رہتے ہیں جس میں بھی وہ ہیں، یہ تیرے رب کی عطا ہے، وہ ایسا متصرف اور حاکم ہے جو کبھی ظلم نہیں کرتا۔ مستحق سعادت کو سعادت اور مستحق شقاوت کو شقاوت دے دیتا ہے۔ اس کے احکام کوئی رد نہیں کر سکتا، اس کے روکے ہوئے کو کوئی دے نہیں سکتا اس کے ارادوں کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ تیرے رب کی نعمتیں عام ہیں، نہ کسی کے روکے رکیں، نہ کسی کے ہٹائے ہٹیں وہ نہ کم ہوتی ہیں نہ گھٹتی ہیں۔ دیکھ لو کہ دنیا میں ہم نے انسانوں کے کیسے مختلف درجے رکھے ہیں ان میں امیر بھی ہیں، فقیر بھی ہیں درمیانہ حالت میں بھی ہیں، اچھے بھی ہیں، برے بھی ہیں اور درمیانہ درجے کے بھی۔ کوئی بچپن میں مرتا ہے، کوئی بوڑھا بڑا ہوکر، کوئی اس کے درمیان۔ آخرت درجوں کے اعتبار سے دنیا سے بھی بڑھی ہوئی ہے کچھ تو طوق و زنجیر پہنے ہوئے جہنم کے گڑھوں میں ہوں گے، کچھ جنت کے درجوں میں ہوں گے، بلند و بالا بالا خانوں میں نعمت و راحت سرور و خوشی میں، پھر خود جنتیوں میں بھی درجوں کا تفاوت ہو گا ایک ایک درجے میں زمین و آسمان کا سا تفاوت ہوگا۔ جنت میں ایسے ایک سو درجے ہیں۔ { بلند درجوں والے اہل علین کو اس طرح دیکھیں گے جیسے تم کسی چمکتے ستارے کو آسمان کی اونچائی پر دیکھتے ہو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3256] پس آخرت درجوں اور فضیلتوں کے اعتبار سے بہت بڑی ہے، طبرانی میں ہے { جو بندہ دنیا میں جو درجہ چڑھنا چاہے گا اور اپنی خواہش میں کامیاب ہو جائے گا وہ آخرت کا درجہ گھٹا دے گا جو اس سے بہت بڑا ہے پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:6101:ضعیف]
21۔ 1 تاہم دنیا کی چیزیں کسی کو کم، کسی کو زیادہ ملتی ہیں، اللہ تعالیٰ اپنی حکمت و مصلحت کے مطابق یہ روزی تقسیم فرماتا ہے۔ تاہم آخرت میں درجات کا یہ تفاضل زیادہ واضح اور نمایاں ہوگا اور وہ اس طرح کہ اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر جہنم میں جائیں گے۔
(آیت 21){اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ …: } یعنی دنیا میں سب لوگ رزق، حسن، ذہانت، قوت، اقتدار، غرض کسی چیز میں ایک جیسے نہیں، خواہ مومن ہوں یا کافر، یہ چیزیں مومن کے پاس بھی ہو سکتی ہیں اور کافر کے پاس بھی۔ مگر یہ دنیائے فانی ساری کی ساری بھی اللہ کے ہاں کوئی قیمت نہیں رکھتی۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰهِ جَنَاحَ بَعُوْضَةٍ مَا سَقَی كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ] [ ترمذی، الزھد، باب ما جاء في ھوان الدنیا علی اللّٰہ عزوجل: ۲۳۲۰، صححہ الألباني ] ”اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی پینے کو نہ دیتا۔“ اور دیکھیے سورۂ انعام (۱۶۵) اور سورۂ زخرف (۳۲)۔ آخرت میں جہنم کے درکات اور جنت کے درجات کا فرق اس سے بھی بڑھ کر ہو گا۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ، كَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! تِلْكَ مَنازِلُ الْأَنْبِيَاءِ لاَ يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ؟ قَالَ بَلٰی، وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ رِجَالٌ آمَنُوْا بِاللّٰهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِيْنَ ] [ بخاری، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ و أنہا مخلوقۃ: ۳۲۵۶۔ مسلم: ۲۸۳۱ ] ”اہل جنت اپنے اوپر بالا خانوں والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح مشرق و مغرب میں دور کسی چمک دار ستارے کو دیکھتے ہیں، باہمی درجات کی کمی بیشی کی وجہ سے۔“ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ تو انبیاء کی منازل ہوں گی، جہاں کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکتا؟“ فرمایا: ”کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ وہ مرد ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور انھوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔“
تو اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا ورنہ ملامت زدہ اور بے یار و مدد گار بیٹھا رہ جائیگا
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھہرا کہ آخرش تو برے حالوں بےکس ہو کر بیٹھ رہے گا
احمد رضا خان بریلوی
اے سننے والے اللہ کے ساتھ دوسرا خدا نہ ٹھہرا کہ تُو بیٹھ رہے گا مذمت کیا جاتا بیکس
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ کے ساتھ کوئی الٰہ (معبود) نہ ٹھہراؤ۔ ورنہ ملامت زدہ ہوکر اور بے یار و مددگار ہو کر بیٹھے رہوگے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود مت بنا، ورنہ مذمت کیا ہوا، بے یارومددگار ہوکر بیٹھا رہے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فاقہ اور انسان ٭٭
یہ خطاب ہر ایک مکلف سے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام امت کو حق تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو ذلیل ہو جاؤ گے اللہ کی مدد ہٹ جائے گی۔ جس کی عبادت کرو گے اسی کے سپرد کر دئے جاؤ گے اور یہ ظاہر ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نفع نقصان کا مالک نہیں وہ واحد لا شریک ہے۔ مسند احمد میں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے فاقہ پہنچے اور وہ لوگوں سے اسے بند کروانا چاہے اس کا فاقہ بند نہ ہو گا اور جو اللہ سے اس کی بابت دعا کرے اللہ اس کے پاس تونگری بھیج دے گا یا تو جلدی یا دیر سے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1645:قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث ابوداؤد و طیالسی میں ہے۔ ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 22){لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ …: ” مَخْذُوْلًا “} وہ ہے جس کی مدد وہ چھوڑ دے جس سے اسے مدد کی امید ہو۔ اس آیت میں تمام اعمال کی بنیاد شرک سے پاک ہونا بیان فرمائی گئی ہے۔ بظاہر مخاطب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، مگر درحقیقت ہر انسان اس کا مخاطب ہے، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک کا صدور کیسے ہو سکتا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ بالفرض اگر اللہ کے ساتھ شریک بنانے کا فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سرزد ہو جائے تو پھر آپ کی بھی کوئی تعریف کرنے والا ہو گا نہ کوئی مدد کرنے والا، بلکہ ہر ایک مذمت ہی کرے گا۔ دیکھیے سورۂ زمر (۶۴ تا ۶۷)، حج (۳۱)، مائدہ (۷۲) اور نساء (۱۱۶)۔
تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ: تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو، مگر صرف اُس کی والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو اگر تمہارے پاس اُن میں سے کوئی ایک، یا دونوں، بوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑک کر جواب دو، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پُوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں، نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا
علامہ محمد حسین نجفی
اور آپ کے پروردگار نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اگر تمہارے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے تک پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو۔ اور ان سے احترام کے ساتھ بات کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرو۔ اگر کبھی تیرے پاس دونوں میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ ہی جائیں تو ان دونوں کو ’’اف‘‘ مت کہہ اور نہ انھیں جھڑک اور ان سے بہت کرم والی بات کہہ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اٹل فیصلے محکم حکم ٭٭
یہاں «قَضَىٰ» معنی میں حکم فرمانے کے ہے تاکیدی حکم الٰہی جو کبھی ٹلنے والا نہیں یہی ہے کہ عبادت اللہ ہی کی ہو اور والدین کی اطاعت میں ہمیشہ فرق نہ آئے۔ سیدنا ابی ابن کعب، } ابن مسعود اور سیدنا ضحاک بن مزاحم رضی اللہ عنہم کی قرأت میں «قَضَىٰ» کے بدلے «وصی» ہے۔ یہ دونوں حکم ایک ساتھ جیسے یہاں ہیں ایسے ہی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» ۱؎ [31-لقمان:14] ’ میرا شکر کر اور اپنے ماں باپ کا بھی احسان مند رہ۔‘ خصوصا ان کے بڑھاپے کے زمانے میں ان کا پورا ادب کرنا، کوئی بری بات زبان سے نہ نکالنا یہاں تک کہ ان کے سامنے ہوں بھی نہ کرنا، نہ کوئی ایسا کام کرنا جو انہیں برا معلوم ہو، اپنا ہاتھ ان کی طرف بےادبی سے نہ بڑھانا، بلکہ ادب، عزت اور احترام کے ساتھ ان سے بات چیت کرنا، نرمی اور تہذیب سے گفتگو کرنا، ان کی رضا مندی کے کام کرنا، دکھ نہ دینا، ستانا نہیں، ان کے سامنے تواضع، عاجزی، فروتنی اور خاکساری سے رہنا۔ ان کے لیے ان کے بڑھاپے میں ان کے انتقال کے بعد دعائیں کرتے رہنا۔ خصوصا یہ دعا کہ اے اللہ ان پر رحم کر جیسے رحم سے انہوں نے میرے بچپن کے زمانے میں میری پرورش کی۔ ہاں ایمانداروں کو کافروں کے لیے دعا کرنا منع ہو گئی ہے گو وہ ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں؟
ماں باپ سے سلوک و احسان کے احکام کی حدیثیں بہت سی ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر چڑھتے ہوئے تین دفعہ آمین کہی، جب آپ سے وجہ دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، جس کے پاس تیرا ذکر ہو اور اس نے تجھ پر درود بھی نہ پڑھا ہو۔ کہئے آمین چنانچہ میں نے آمین کہی۔ پھر فرمایا اس شخص کی ناک بھی اللہ تعالیٰ خاک آلود کرے جس کی زندگی میں ماہ رمضان آیا اور چلا بھی گیا اور اس کی بخشش نہ ہوئی۔ آمین کہئے چنانچہ میں نے اس پر بھی آمین کہی۔ پھر فرمایا اللہ اسے بھی برباد کرے۔ جس نے اپنے ماں باپ کو یا ان میں سے ایک کو پا لیا اور پھر بھی ان کی خدمت کر کے جنت میں نہ پہنچ سکا کہئے آمین میں نے کہا آمین۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3545،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد کی حدیث میں ہے { جس نے کسی مسلمان ماں باپ کے یتیم بچہ کو پالا اور کھلایا پلایا یہاں تک کہ وہ بے نیاز ہو گیا اس کے لیے یقیناً جنت واجب ہے اور جس نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا اللہ اسے جہنم سے آزاد کرے گا اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم سے آزاد ہو گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:29/5:صحیح باشواھد] اس حدیث کی ایک سند میں ہے { جس نے اپنے ماں باپ کو یا دونوں میں سے کسی ایک کو پا لیا پھر بھی دوزخ میں گیا اللہ اسے اپنی رحمت سے دور کرے۔ } ۱؎ [مسند احمد:29/5:صحیح باشواھد] مسند احمد کی ایک روایت میں { یہ تینوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوئی ہیں یعنی گردن آزاد کرنا خدمت والدین اور پرورش یتیم۔ } ۱؎ [مسند احمد:344/4:صحیح لغیرہ] ایک روایت میں { ماں باپ کی نسبت یہ بھی ہے کہ اللہ اسے دور کرے اور اسے برباد کرے } الخ۔ ۱؎ [مسند احمد:344/4:صحیح لغیرہ] ایک روایت میں { تین مرتبہ اس کے لیے یہ بدعا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2551] ایک روایت میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر درود نہ پڑھنے والے اور ماہ رمضان میں بخشش الٰہی سے محروم رہ جانے والے اور ماں باپ کی خدمت اور رضا مندی سے جنت میں نہ پہنچنے والے کے لیے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بدعا کرنا منقول ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3545،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک انصاری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ { میرے ماں باپ کے انتقال کے بعد بھی ان کے ساتھ میں کوئی سلوک کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا ہاں چار سلوک (١) ان کے جنازے کی نماز (٢) ان کے لیے دعا و استغفار (٣) ان کے وعدوں کو پورا کرنا (٤) ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور وہ صلہ رحمی جو صرف ان کی وجہ سے ہو۔ یہ ہے وہ سلوک جو ان کی موت کے بعد بھی تو ان کے ساتھ کر سکتا ہے } ۱؎ [سنن ابوداود:5142،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ایک شخص نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا { یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جہاد کے ارادے سے آپ کی خدمت میں خوشخبری لے کر آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا تیری ماں ہے؟ اس نے کہا ہاں فرمایا جا اسی کی خدمت میں لگا رہ۔ جنت اسی کے پیروں کے پاس ہے۔ دو بارہ سہ بارہ اس نے مختلف مواقع پر اپنی یہی بات دہرائی اور یہی جواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دہرایا۔ } ۱؎ [سنن نسائی:3106،قال الشيخ الألباني:صحیح] { آپ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تمہیں تمہارے باپوں کی نسبت وصیت فرماتا ہے اللہ تمہیں تمہاری ماؤں کی نسبت وصیت فرماتا ہے۔ پچھلے جملے کو تین بار بیان فرماکر فرمایا اللہ تمہیں تمہارے قرابت داروں کی بابت وصیت کرتا ہے، سب سے زیادہ نزدیک والا پھر اس کے پاس والا۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3661،قال الشيخ الألباني:حسن] { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دینے والے کا ہاتھ اونچا ہے اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ سے اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے پھر جو اس کے بعد ہو اسی طرح درجہ بدرجہ۔ } ۱؎ [مسند احمد:64/4:صحیح] بزار کی مسند میں ضعیف سند سے مروی ہے کہ { ایک صاحب اپنی ماں کو اٹھائے ہوئے طواف کرا رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے لگے کہ اب تو میں نے اپنی والدہ کا حق ادا کر دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ایک شمہ بھی نہیں۔ } ۱؎ [طبرانی صغیر:255:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
23۔ 1 اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد دوسرے نمبر پر والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے، جس سے والدین کی اطاعت، ان کی خدمت اور ان کے ادب و احترام کی اہمیت واضح ہے۔ گویا ربوبیت الٰہی کے تقاضوں کے ساتھ اطاعت والدین کے تقاضوں کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ احادیث میں بھی اس کی اہمیت اور تاکید کو خوب واضح کردیا گیا ہے، پھر بڑھاپے میں بطور خاص ان کے سامنے ' ہوں ' تک کہنے اور ان کو ڈانٹنے ڈپٹنے سے منع کیا ہے، کیونکہ بڑھاپے میں والدین تو کمزور، بےبس اور لا چار ہوتے ہیں، جب کہ اولاد جوان اور وسائل معاش پر قابض ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں جوانی کے دیوانے جذبات اور بڑھاپے کے سرد و گرم تجربات میں تصادم ہوتا ہے۔ ان حالات میں والدین کے ادب و احترام کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا بہت ہی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ تاہم اللہ کے ہاں سرخ رو وہی ہوگا جو ان تقاضوں کو ملحوظ رکھے گا۔
(آیت 23) ➊ {وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ:} پچھلی آیت میں شرک سے منع فرمانے کے بعد صرف اپنی عبادت کی تاکید کے لیے لفظ {” قَضٰى “} استعمال فرمایا، جس میں انتہائی تاکید پائی جاتی ہے، کیونکہ فیصلہ قطعی ہوتا ہے اور وہ بدلا نہیں جاتا، چنانچہ فرمایا {” قَضٰى “} یعنی قطعی حکم اور فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے سو اکسی کی عبادت نہ کرو، یعنی صرف اس کے بندے بن کر رہو، غیبی قوتوں کا مالک صرف اس کو سمجھ کر اس سے مانگو۔ انتہائی درجے کی محبت اور خوف کے ساتھ انتہائی عاجزی صرف اس کے لیے اختیار کرو۔ تمھارے دل، زبان اور جسم کے ہر حصے کا اس طرح کا ہر فعل مثلاً قیام، سجدہ، رکوع اور قربانی بلکہ پوری زندگی ایسی عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہونی چاہیے۔ ➋ {وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا: ” اِحْسَانًا “} امر {” أَحْسِنُوْا“} کا مصدر ہے، جو تاکید کے لیے ہے اور امر کی جگہ آتا ہے۔ اس کے ساتھ امر کا لفظ ذکر نہیں ہوتا مگر مراد امر تاکیدی ہوتا ہے، یعنی والدین کے ساتھ بہت نیکی کرو۔ {” اِمَّا “} اصل میں {” إِنْ مَا“ } ہے، {”مَا“} شرط کی تاکید کے لیے ہے، یعنی ”اگر کبھی۔“ ان آیات کے نزول کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد اور والدہ دونوں فوت ہو چکے تھے، ان دونوں یا ایک کا بڑھاپے میں پہنچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا کہ بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دینے کے باوجود اصل حکم ہر شخص کو ہے۔ ماں باپ خواہ بوڑھے ہوں یا جوان، ہر حال میں ان کا ادب کرنا اور ان سے نرمی سے بات کرنا فرض اور انھیں جھڑکنا گناہ ہے، مگر چونکہ بڑھاپے میں خدمت کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اور مزاج میں چڑ چڑا پن پیدا ہو جاتا ہے، بلکہ بسااوقات زیادہ بڑھاپے کی وجہ سے ہوش و حواس بھی ٹھکانے نہیں رہتے، اس لیے خاص طور پر بڑھاپے کا ذکر فرمایا۔ ➌ اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر صرف اپنی عبادت کی تاکید کے ساتھ والدین سے احسان کا ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۳۶) اور سورۂ بقرہ (۸۳) دوسرے مقامات پر واضح فرمایا کہ ان سے حسن سلوک لازم ہے، خواہ وہ کافر و مشرک ہوں، بلکہ اگرچہ شرک و کفر کی دعوت بھی دیتے ہوں۔ دیکھیے سورۂ لقمان (۱۵) اور سورۂ عنکبوت (۸) احادیث میں بھی والدین سے حسن سلوک کی بہت تاکید آئی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ، قِيْلَ مَنْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ، أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ] [ مسلم، البر والصلۃ، باب رغم من أدرک أبویہ…: 2551/10 ] ”اس کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو۔“ پوچھا گیا: ”یا رسول اللہ! کس کی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا، ان میں سے ایک کو یا دونوں کو، پھر وہ جنت میں داخل نہ ہوا۔“ ➍ {” عِنْدَكَ “} کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تم والدین کے پاس تھے اور ان کے محتاج تھے، اب وہ بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے تمھارے پاس اور تمھارے محتاج ہیں۔ چنانچہ انھیں ”اف“ بھی نہ کہو، جو اکتاہٹ اور بے ادبی کا ہلکے سے ہلکا لفظ ہے، پھر اس سے زیادہ کوئی سخت لفظ بولنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ ➎ { قَوْلًا كَرِيْمًا:} بعض اہلِ علم نے اس کی تفسیر میں قول کریم کی نقشہ کشی یوں فرمائی کہ ان سے ایسے بات کر جیسے ایک خطا کار غلام اپنے سخت مزاج آقا سے بات کرتا ہے اور بعض نے فرمایا کہ بچپن میں جس طرح تمھارے پیشاب پاخانہ کو صاف کرتے وقت وہ کوئی کراہت محسوس نہ کرتے تھے، بلکہ محبت ہی سے پیش آتے تھے، اب تم بھی ان سے وہی سلوک کرو۔ (بغوی)
اور نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو، اور دعا کیا کرو کہ "پروردگار، ان پر رحم فرما جس طرح اِنہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دنوں نے مجھے چھٹپن (بچپن) میں پالا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کے سامنے مہر و مہربانی کے ساتھ انکساری کا پہلو جھکائے رکھو اور کہو اے پروردگار تو ان دونوں پر اسی طرح رحم و کرم فرما جس طرح انہوں نے میرے بچپنے میں مجھے پالا( اور میری پرورش کی)۔
عبدالسلام بن محمد
اور رحم دلی سے ان کے لیے تواضع کا بازو جھکا دے اور کہہ اے میرے رب! ان دونوں پر رحم کر جیسے انھوں نے چھوٹا ہونے کی حالت میں مجھے پالا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اٹل فیصلے محکم حکم ٭٭
یہاں «قَضَىٰ» معنی میں حکم فرمانے کے ہے تاکیدی حکم الٰہی جو کبھی ٹلنے والا نہیں یہی ہے کہ عبادت اللہ ہی کی ہو اور والدین کی اطاعت میں ہمیشہ فرق نہ آئے۔ سیدنا ابی ابن کعب، } ابن مسعود اور سیدنا ضحاک بن مزاحم رضی اللہ عنہم کی قرأت میں «قَضَىٰ» کے بدلے «وصی» ہے۔ یہ دونوں حکم ایک ساتھ جیسے یہاں ہیں ایسے ہی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» ۱؎ [31-لقمان:14] ’ میرا شکر کر اور اپنے ماں باپ کا بھی احسان مند رہ۔‘ خصوصا ان کے بڑھاپے کے زمانے میں ان کا پورا ادب کرنا، کوئی بری بات زبان سے نہ نکالنا یہاں تک کہ ان کے سامنے ہوں بھی نہ کرنا، نہ کوئی ایسا کام کرنا جو انہیں برا معلوم ہو، اپنا ہاتھ ان کی طرف بےادبی سے نہ بڑھانا، بلکہ ادب، عزت اور احترام کے ساتھ ان سے بات چیت کرنا، نرمی اور تہذیب سے گفتگو کرنا، ان کی رضا مندی کے کام کرنا، دکھ نہ دینا، ستانا نہیں، ان کے سامنے تواضع، عاجزی، فروتنی اور خاکساری سے رہنا۔ ان کے لیے ان کے بڑھاپے میں ان کے انتقال کے بعد دعائیں کرتے رہنا۔ خصوصا یہ دعا کہ اے اللہ ان پر رحم کر جیسے رحم سے انہوں نے میرے بچپن کے زمانے میں میری پرورش کی۔ ہاں ایمانداروں کو کافروں کے لیے دعا کرنا منع ہو گئی ہے گو وہ ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں؟
ماں باپ سے سلوک و احسان کے احکام کی حدیثیں بہت سی ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر چڑھتے ہوئے تین دفعہ آمین کہی، جب آپ سے وجہ دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، جس کے پاس تیرا ذکر ہو اور اس نے تجھ پر درود بھی نہ پڑھا ہو۔ کہئے آمین چنانچہ میں نے آمین کہی۔ پھر فرمایا اس شخص کی ناک بھی اللہ تعالیٰ خاک آلود کرے جس کی زندگی میں ماہ رمضان آیا اور چلا بھی گیا اور اس کی بخشش نہ ہوئی۔ آمین کہئے چنانچہ میں نے اس پر بھی آمین کہی۔ پھر فرمایا اللہ اسے بھی برباد کرے۔ جس نے اپنے ماں باپ کو یا ان میں سے ایک کو پا لیا اور پھر بھی ان کی خدمت کر کے جنت میں نہ پہنچ سکا کہئے آمین میں نے کہا آمین۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3545،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد کی حدیث میں ہے { جس نے کسی مسلمان ماں باپ کے یتیم بچہ کو پالا اور کھلایا پلایا یہاں تک کہ وہ بے نیاز ہو گیا اس کے لیے یقیناً جنت واجب ہے اور جس نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا اللہ اسے جہنم سے آزاد کرے گا اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم سے آزاد ہو گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:29/5:صحیح باشواھد] اس حدیث کی ایک سند میں ہے { جس نے اپنے ماں باپ کو یا دونوں میں سے کسی ایک کو پا لیا پھر بھی دوزخ میں گیا اللہ اسے اپنی رحمت سے دور کرے۔ } ۱؎ [مسند احمد:29/5:صحیح باشواھد] مسند احمد کی ایک روایت میں { یہ تینوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوئی ہیں یعنی گردن آزاد کرنا خدمت والدین اور پرورش یتیم۔ } ۱؎ [مسند احمد:344/4:صحیح لغیرہ] ایک روایت میں { ماں باپ کی نسبت یہ بھی ہے کہ اللہ اسے دور کرے اور اسے برباد کرے } الخ۔ ۱؎ [مسند احمد:344/4:صحیح لغیرہ] ایک روایت میں { تین مرتبہ اس کے لیے یہ بدعا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2551] ایک روایت میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر درود نہ پڑھنے والے اور ماہ رمضان میں بخشش الٰہی سے محروم رہ جانے والے اور ماں باپ کی خدمت اور رضا مندی سے جنت میں نہ پہنچنے والے کے لیے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بدعا کرنا منقول ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3545،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک انصاری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ { میرے ماں باپ کے انتقال کے بعد بھی ان کے ساتھ میں کوئی سلوک کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا ہاں چار سلوک (١) ان کے جنازے کی نماز (٢) ان کے لیے دعا و استغفار (٣) ان کے وعدوں کو پورا کرنا (٤) ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور وہ صلہ رحمی جو صرف ان کی وجہ سے ہو۔ یہ ہے وہ سلوک جو ان کی موت کے بعد بھی تو ان کے ساتھ کر سکتا ہے } ۱؎ [سنن ابوداود:5142،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ایک شخص نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا { یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جہاد کے ارادے سے آپ کی خدمت میں خوشخبری لے کر آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا تیری ماں ہے؟ اس نے کہا ہاں فرمایا جا اسی کی خدمت میں لگا رہ۔ جنت اسی کے پیروں کے پاس ہے۔ دو بارہ سہ بارہ اس نے مختلف مواقع پر اپنی یہی بات دہرائی اور یہی جواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دہرایا۔ } ۱؎ [سنن نسائی:3106،قال الشيخ الألباني:صحیح] { آپ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تمہیں تمہارے باپوں کی نسبت وصیت فرماتا ہے اللہ تمہیں تمہاری ماؤں کی نسبت وصیت فرماتا ہے۔ پچھلے جملے کو تین بار بیان فرماکر فرمایا اللہ تمہیں تمہارے قرابت داروں کی بابت وصیت کرتا ہے، سب سے زیادہ نزدیک والا پھر اس کے پاس والا۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3661،قال الشيخ الألباني:حسن] { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دینے والے کا ہاتھ اونچا ہے اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ سے اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے پھر جو اس کے بعد ہو اسی طرح درجہ بدرجہ۔ } ۱؎ [مسند احمد:64/4:صحیح] بزار کی مسند میں ضعیف سند سے مروی ہے کہ { ایک صاحب اپنی ماں کو اٹھائے ہوئے طواف کرا رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے لگے کہ اب تو میں نے اپنی والدہ کا حق ادا کر دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ایک شمہ بھی نہیں۔ } ۱؎ [طبرانی صغیر:255:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
24۔ 1 پرندہ جب اپنے بچوں کو اپنے سایہء شفقت میں لیتا ہے تو ان کے لئے اپنے بازو پست کردیتا ہے، یعنی تو بھی والدین کے ساتھ اسی طرح اچھا اور پر شفقت معاملہ کرنا اور ان کی اسی طرح کفالت کر جس طرح انہوں نے بچپن میں تیری کی۔ یا یہ معنی ہیں کہ جب پرندہ اڑنے اور بلند ہونے کا ارادہ کرتا ہے تو اپنے بازو پھیلا لیتا ہے اور جب نیچے اترتا ہے تو بازؤں کو پست کرلیتا ہے۔ اس اعتبار سے بازوؤں کے پست کرنے کے معنی، والدین کے سامنے تواضع اور عاجزی کا اظہار کرنے کے ہوں گے۔
(آیت 24) ➊ {وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ: ” جَنَاحَ “} پرندے کے پر کو کہتے ہیں اور بازو کو بھی۔ مطلب یہ کہ جس طرح پرندہ اپنے بچوں کے اوپر اپنے پر جھکا کر انھیں اپنی آغوش میں لے کر ہر سرد و گرم سے محفوظ کر لیتا ہے اس طرح تو بھی رحم کی بنا پر تواضع کے بازو ان پر جھکا دے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد کے حقوق کی والدین کے حقوق کی طرح تاکید نہیں فرمائی، کیونکہ اولاد کے لیے ماں باپ کے دل میں قدرتی طور پر شفقت و محبت موجود ہوتی ہے۔ ہاں جو ظلم وہ اولاد پر کرتے تھے اس سے منع فرمایا۔ اس کا ذکر آگے اسی سورت کی آیت (۳۱) میں آ رہا ہے۔ ➋ { وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا:} معلوم ہوا کہ والدین کے لیے اللہ تعالیٰ سے رحم کی دعا کرنا فرض ہے، کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے، اس لیے روزانہ ان کی زندگی میں اور فوت ہونے کے بعد اپنی دعا کے ساتھ ان الفاظ میں یا دوسرے الفاظ میں ان کے لیے دعا ضرور کرنی چاہیے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے: «رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۠ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ» [ إبراہیم: ۴۱ ] ”اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور ایمان والوں کو، جس دن حساب قائم ہو گا۔“ الا یہ کہ ان میں سے کسی کی وفات کفر پر ہو تو مرنے کے بعد ان کے لیے استغفار جائز نہیں۔ {” رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ“} دعا میں یہ خوبی ہے کہ اس کے ساتھ دعا کرتے ہوئے والدین کے بچپن میں پرورش کا احساس ان کے لیے زیادہ اخلاص اور کوشش کے ساتھ دعا کا تقاضا کرتا ہے۔
تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے اگر تم صالح بن کر رہو تو وہ ایسے سب لوگوں کے لیے در گزر کرنے والا ہے جو اپنے قصور پر متنبہ ہو کر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے تمہارا رب بخوبی جانتا ہے اگر تم نیک ہو تو وه تو رجوع کرنے والوں کو بخشنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے اگر تم لائق ہوئے تو بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تمہارا پروردگار بہتر جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اگر تم صالح اور نیک کردار ہوئے تو وہ توبہ و انابہ کرنے والوں کے لئے بڑا ہی بخشنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تمھارا رب زیادہ جاننے والا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے۔اگر تم نیک ہوگے تو یقینا وہ بار بار رجوع کرنے والوں کے لیے ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گناہ اور استغفار ٭٭
اس سے مراد وہ لوگ ہیں، جن سے جلدی میں اپنے ماں باپ کے ساتھ کوئی ایسی بات ہو جاتی ہے جسے وہ اپنے نزدیک عیب کی اور گناہ کی بات نہیں سمجھتے ہیں، چونکہ ان کی نیت بخیر ہوتی ہے اس لیے اللہ ان پر رحمت کرتا ہے، جو ماں باپ کا فرمانبردار نمازی ہو اس کی خطائیں اللہ کے ہاں معاف ہیں۔ کہتے ہیں کہ اوابین وہ لوگ ہیں جو مغرب و عشاء کے درمیان نوافل پڑھیں۔ بعض کہتے ہیں جو صبح کی نماز ادا کرتے رہیں، جو ہر گناہ کے بعد توبہ کر لیا کریں۔ جو جلدی سے بھلائی کی طرف لوٹ آیا کریں۔ تنہائی میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے خلوص دل سے استغفار کر لیا کریں۔ عبید کہتے ہیں جو برابر ہر مجلس سے اٹھتے ہوئے یہ دعا پڑھ لیا کریں۔ [ دعا ] «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَصَبْتُ فِي مَجْلِسِي هَذَا» ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولیٰ قول یہ ہے کہ جو گناہ سے توبہ کر لیا کریں۔ معصیت سے اطاعت کی طرف آجایا کریں۔ اللہ کی ناپسندیدگی کے کاموں کو ترک کرکے اس کی رضا مندی اور پسندیدگی کے کام کرنے لگیں۔ یہی قول بہت ٹھیک ہے کیونکہ لفظ اواب مشتق ہے اوب سے اور اس کے معنی رجوع کرنے کے ہیں جیسے عرب کہتے ہیں ”اب فلان“ اور جیسے قرآن میں ہے آیت «إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ» [88-الغاشية:25] ’ ان کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے لوٹتے تو فرماتے (دعا) «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» لوٹنے والے توبہ کرنے والے عبادتیں کرنے والے اپنے رب کی ہی تعریفیں کرنے والے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1797]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 25) {رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ …:} ان الفاظ میں والدین کے لیے دل میں شفقت و رحمت نہ رکھنے پر وعید بھی ہے اور ایسی صالح اولاد کے لیے تسلی بھی جن کے والدین کسی جائز وجہ کے بغیر ہی ناراض رہتے ہوں اور اولاد کی ہر قسم کی کوشش کے باوجود کسی طرح خوش نہ ہوتے ہوں، تو فرمایا کہ اگر تم نیک ہو اور تمھارے دل میں والدین کے لیے شفقت و رحمت موجود ہے تو ایسے رجوع کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ بے حد بخشنے والا ہے۔ بعض اہل علم نے یہ معنی بیان فرمایا کہ اگر تم سے خدمت میں کوتاہی ہو گئی یا کوئی زیادتی ہو گئی، پھر تم نے رجوع کیا اور توبہ کر لی تو اللہ معاف فرما دے گا۔
رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق فضول خرچی نہ کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور رشتے داروں کا اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرتے رہو اور اسراف اور بیجا خرچ سے بچو
احمد رضا خان بریلوی
اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے اور مسکین اور مسافر کو اور فضول نہ اڑا
علامہ محمد حسین نجفی
اور (دیکھو) قریبی رشتہ دار کو اس کا حق دے دو اور مسکین و مسافر کو بھی اور (خبردار) فضول خرچی نہ کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور رشتہ دار کو اس کا حق دے اور مسکین اور مسافر کو اور مت بے جا خرچ کر، بے جا خرچ کرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ماں باپ اور قرابت داروں سے حسن سلوک کی تاکید ٭٭
ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کا حکم دے کر اب قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ حدیث میں ہے { اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ سے پھر جو زیادہ قریب ہو اور جو زیادہ قریب ہو۔} ۱؎ [مسند احمد:64/4:صحیح] اور حدیث میں ہے { جو اپنے رزق کی اور اپنی عمر کی ترقی چاہتا ہو اسے صلہ رحمی کرنی چاہیئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5986] بزار میں ہے { اس آیت کے اترتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر فدک عطا فرمایا۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1075:ضعیف] اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ اور واقعہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ یہ آیت مکیہ ہے اور اس وقت تک باغ فدک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں نہ تھا۔ ٧ ھ میں خیبر فتح ہوا تب باغ آپ کے قبضے میں آیا پس یہ قصہ اس پر پورا نہیں اترتا۔ مساکین اور مسافرین کی پوری تفسیر سورۃ برات میں گزر چکی ہے یہاں دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔
خرچ کا حکم کر کے پھر اسراف سے منع فرماتا ہے۔ نہ تو انسان کو بخیل ہونا چاہیے نہ مسرف بلکہ درمیانہ درجہ رکھے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:67] ’ یعنی ایماندار اپنے خرچ میں نہ تو حد سے گزرتے ہیں نہ بالکل ہاتھ روک لیتے ہیں۔ ‘ پھر اسراف کی برائی بیان فرماتا ہے کہ ایسے لوگ شیطان جیسے ہیں۔ «تبذیر» کہتے ہیں غیر حق میں خرچ کرنے کو۔ اپنا کل مال بھی اگر راہ للہ دیدے تو یہ تبذیر و اسراف نہیں اور غیر حق میں تھوڑا سا بھی دے تو مبذر ہے۔ { بنو تمیم کے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مالدار آدمی ہوں اور اہل و عیال کنبے قبیلے والا ہوں تو مجھے بتائیے کہ میں کیا روش اختیار کروں؟ آپ نے فرمایا اپنے مال کی زکوٰۃ الگ کر، اس سے تو پاک صاف ہو جائے گا۔ اپنے رشتے داروں سے سلوک کر سائل کا حق پہنچاتا رہ اور پڑوسی اور مسکین کا بھی۔ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تھوڑے الفاظ میں پوری بات سمجھا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا قرابت داروں مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کر اور بیجا خرچ نہ کر۔ اس نے کہا حسبی اللہ اچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ کے قاصد کو زکوٰۃ ادا کر دوں تو اللہ و رسول کے نزدیک میں بری ہو گیا؟ آپ نے فرمایا ہاں جب تو نے میرے قاصد کو دے دیا تو تو بری ہو گیا اور تیرے لیے اجر ثابت ہو گیا۔ اب جو اسے بدل ڈالے اس کا گناہ اس کے ذمے ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:136/3:صحیح]
یہاں فرمان ہے کہ اسراف اور بیوقوفی اور اللہ کی اطاعت کے ترک اور نافرمانی کے ارتکاب کی وجہ سے مسرف لوگ شیطان کے بھائی بن جاتے ہیں۔ شیطان میں یہی بد خصلت ہے کہ وہ رب کی نعمتوں کا ناشکرا، اس کی اطاعت کا تارک، اس کی نافرمانی اور مخالفت کا عامل ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان قرابت داروں، مسکینوں، مسافروں میں سے کوئی کبھی تجھ سے کچھ سوال کر بیٹھے اور اس وقت تیرے ہاتھ تلے کچھ نہ ہو اور اس وجہ سے تجھے ان سے منہ پھیر لینا پڑے تو بھی جواب نرم دے کہ بھائی جب اللہ ہمیں دے گا ان شاءاللہ ہم آپ کا حق نہ بھولیں گے وغیرہ۔
26۔ 1 قرآن کریم کے ان الفاظ سے معلوم ہوا کہ غریب رشتہ داروں، مساکین اور ضرورت مند مسافروں کی امداد کر کے، ان پر احسان نہیں جتلانا چاہیے کیونکہ یہ ان پر احسان نہیں ہے، بلکہ مال کا وہ حق ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اصحاب مال کے مالوں میں مذکورہ ضرورت مندوں کا رکھا ہے، اگر صاحب مال یہ حق ادا نہیں کرے گا تو عند اللہ مجرم ہوگا۔ گویا یہ حق کی ادائیگی ہے، نہ کہ کسی پر احسان علاوہ ازیں رشتے داروں کے پہلے ذکر سے ان کی اولیت اور اہمیت بھی واضح ہوتی ہے۔ رشتے داروں کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے ساتھ حسن سلوک کو، صلہ رحمی کہا جاتا ہے، جس کی اسلام میں بڑی تاکید ہے۔
(آیت 26) ➊ { وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ …:} قرابت والے سے مراد قریبی رشتے دار ہیں، ماں کی طرف سے ہوں یا باپ کی طرف سے، محرم ہوں یا غیر محرم۔ ان کو پہلے اس لیے رکھا کہ ان کو دینے میں دو اجر ہیں، ایک صلہ رحمی کا اور دوسرا صدقے کا۔ ان کا حق یہ ہے کہ ہر صورت ان سے میل جول اور تعلق قائم رکھا جائے، انھیں دین کی دعوت جاری رکھی جائے، ان کی خوشی اور غم میں شرکت کی جائے۔ جب بھی انھیں مدد کی ضرورت ہو مال و جان سے ان کی مدد کی جائے۔ مسکین اور ابن السبیل (مسافر) کی تفسیر سورۂ توبہ (۶۰) میں دیکھیں۔ ➋ { وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا: ” تَبْذِيْرًا “ ” بَذْرٌ “ } سے مشتق ہے، جس کا معنی بیج ہے، یعنی بیج کی طرح بکھیرنا۔ اللہ تعالیٰ نے قرابت دار، مسکین اور ابن السبیل کو اس کا حق دینے کے ساتھ ہی بے جا خرچ کرنے سے منع فرمایا۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے جائز خرچ کرنے میں بھی میانہ روی کی تاکید فرمائی، خواہ گھر میں خرچ کرے یا صدقہ وغیرہ میں دے۔ آگے آیت (۲۹) میں اس کی تفصیل آ رہی ہے۔ بے جا خرچ کرنے سے مراد یہ ہے کہ ناجائز کاموں میں خرچ کیا جائے (چاہے ایک پیسہ ہی ہو)، یا جائز کاموں میں بغیر سوچے سمجھے اتنا خرچ کیا جائے جو حق داروں کے حقوق ضائع کرنے اور حرام کے ارتکاب کا سبب بنے۔
فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیجا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔ اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ہی ناشکرا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی بند ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک بے جا خرچ کرنے والے ہمیشہ سے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان ہمیشہ سے اپنے رب کا بہت ناشکرا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ماں باپ اور قرابت داروں سے حسن سلوک کی تاکید ٭٭
ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کا حکم دے کر اب قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ حدیث میں ہے { اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ سے پھر جو زیادہ قریب ہو اور جو زیادہ قریب ہو۔} ۱؎ [مسند احمد:64/4:صحیح] اور حدیث میں ہے { جو اپنے رزق کی اور اپنی عمر کی ترقی چاہتا ہو اسے صلہ رحمی کرنی چاہیئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5986] بزار میں ہے { اس آیت کے اترتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر فدک عطا فرمایا۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1075:ضعیف] اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ اور واقعہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ یہ آیت مکیہ ہے اور اس وقت تک باغ فدک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں نہ تھا۔ ٧ ھ میں خیبر فتح ہوا تب باغ آپ کے قبضے میں آیا پس یہ قصہ اس پر پورا نہیں اترتا۔ مساکین اور مسافرین کی پوری تفسیر سورۃ برات میں گزر چکی ہے یہاں دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔
خرچ کا حکم کر کے پھر اسراف سے منع فرماتا ہے۔ نہ تو انسان کو بخیل ہونا چاہیے نہ مسرف بلکہ درمیانہ درجہ رکھے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:67] ’ یعنی ایماندار اپنے خرچ میں نہ تو حد سے گزرتے ہیں نہ بالکل ہاتھ روک لیتے ہیں۔ ‘ پھر اسراف کی برائی بیان فرماتا ہے کہ ایسے لوگ شیطان جیسے ہیں۔ «تبذیر» کہتے ہیں غیر حق میں خرچ کرنے کو۔ اپنا کل مال بھی اگر راہ للہ دیدے تو یہ تبذیر و اسراف نہیں اور غیر حق میں تھوڑا سا بھی دے تو مبذر ہے۔ { بنو تمیم کے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مالدار آدمی ہوں اور اہل و عیال کنبے قبیلے والا ہوں تو مجھے بتائیے کہ میں کیا روش اختیار کروں؟ آپ نے فرمایا اپنے مال کی زکوٰۃ الگ کر، اس سے تو پاک صاف ہو جائے گا۔ اپنے رشتے داروں سے سلوک کر سائل کا حق پہنچاتا رہ اور پڑوسی اور مسکین کا بھی۔ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تھوڑے الفاظ میں پوری بات سمجھا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا قرابت داروں مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کر اور بیجا خرچ نہ کر۔ اس نے کہا حسبی اللہ اچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ کے قاصد کو زکوٰۃ ادا کر دوں تو اللہ و رسول کے نزدیک میں بری ہو گیا؟ آپ نے فرمایا ہاں جب تو نے میرے قاصد کو دے دیا تو تو بری ہو گیا اور تیرے لیے اجر ثابت ہو گیا۔ اب جو اسے بدل ڈالے اس کا گناہ اس کے ذمے ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:136/3:صحیح]
یہاں فرمان ہے کہ اسراف اور بیوقوفی اور اللہ کی اطاعت کے ترک اور نافرمانی کے ارتکاب کی وجہ سے مسرف لوگ شیطان کے بھائی بن جاتے ہیں۔ شیطان میں یہی بد خصلت ہے کہ وہ رب کی نعمتوں کا ناشکرا، اس کی اطاعت کا تارک، اس کی نافرمانی اور مخالفت کا عامل ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان قرابت داروں، مسکینوں، مسافروں میں سے کوئی کبھی تجھ سے کچھ سوال کر بیٹھے اور اس وقت تیرے ہاتھ تلے کچھ نہ ہو اور اس وجہ سے تجھے ان سے منہ پھیر لینا پڑے تو بھی جواب نرم دے کہ بھائی جب اللہ ہمیں دے گا ان شاءاللہ ہم آپ کا حق نہ بھولیں گے وغیرہ۔
27۔ 1 تبذیر کی اصل بذر (بیج) ہے، جس طرح زمین میں بیج ڈالتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ یہ صحیح جگہ پر پڑ رہا ہے یا اس سے ادھر ادھر، بلکہ کسان بیج ڈالے چلا جاتا ہے (فضول خرچی) بھی یہی ہے کہ انسان اپنا مال بیج کی طرح اڑاتا پھرے اور خرچ کرنے میں حد شرع سے تجاوز کرے اور بعض کہتے ہیں کہ تبذیر کے معنی ناجائز امور میں خرچ کرنا ہیں چاہے تھوڑا ہی ہو۔ ہمارے خیال میں دونوں ہی صورتیں تبذیر میں آجاتی ہیں۔ اور یہ اتنا برا عمل ہے کی اس کے مرتکب کو شیطان سے مشابہت ہے اور شیطان کی مماثلت سے بچنا چاہیے وہ کسی ایک ہی خصلت میں ہو، انسان کے لئے واجب ہے، پھر شیطان کو کَفُوْر (بہت ناشکرا) کہہ کر مذید بچنے کی تاکید کردی ہے اگر شیطان کی مشابہت اختیار کرو گے تو تم بھی اس کی طرح کَفُوْر قرار دئیے جاؤ گے۔ (فتح القدیر)
(آیت 27){ اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ۠ كَانُوْۤااِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ …:} بے جا خرچ کرنے والوں کو ہمیشہ سے شیطانوں کے بھائی، یعنی شیطانوں کے ساتھی اور ان جیسے قرار دیا اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ شیطان ہمیشہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں اور صلاحیتوں کی ناشکری کرتے ہوئے انھیں غلط جگہ میں خرچ کرتا ہے، اسی طرح جو شخص مالک کے دیے ہوئے مال کو مالک کی نافرمانی میں خرچ کرتا ہے اس کا بھی یہی حال ہے۔ ترجمے میں ”ہمیشہ“ کا مفہوم {” كَانُوْۤا“} اور {” كَانَ “} سے ظاہر ہو رہا ہے۔ مفسر طنطاوی لکھتے ہیں: {” وَكَانَ الشَّيْطَانُ فِيْ كُلِّ وَقْتٍ وَفِيْ كُلِّ حَالٍ جَحُوْدًا لِنِعَمِ رَبِّهٖ لَا يَشْكُرُهُ عَلَيْهَا “ }
اگر اُن سے (یعنی حاجت مند رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں سے) تمہیں کترانا ہو، اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اُس رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو تلاش کر رہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر تجھے ان سے منھ پھیر لینا پڑے اپنے رب کی اس رحمت کی جستجو میں، جس کی تو امید رکھتا ہے تو بھی تجھے چاہیئے کہ عمدگی اور نرمی سے انہیں سمجھا دے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تو ان سے منہ پھیرے اپنے رب کی رحمت کے انتظار میں جس کی تجھے امید ہے تو ان سے آسان بات کہہ
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر تمہیں ان لوگوں سے پہلوتہی کرنی پڑے اس انتظار میں کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رحمت (کشائش) آئے جس کے تم امیدوار ہو تو ان سے نرم انداز میں بات کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر کبھی تو ان سے بے توجہی کر ہی لے، اپنے رب کی کسی رحمت کی تلاش کی وجہ سے، جس کی تو امید رکھتا ہو تو ان سے وہ بات کہہ جس میں آسانی ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ماں باپ اور قرابت داروں سے حسن سلوک کی تاکید ٭٭
ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کا حکم دے کر اب قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ حدیث میں ہے { اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ سے پھر جو زیادہ قریب ہو اور جو زیادہ قریب ہو۔} ۱؎ [مسند احمد:64/4:صحیح] اور حدیث میں ہے { جو اپنے رزق کی اور اپنی عمر کی ترقی چاہتا ہو اسے صلہ رحمی کرنی چاہیئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5986] بزار میں ہے { اس آیت کے اترتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر فدک عطا فرمایا۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1075:ضعیف] اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ اور واقعہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ یہ آیت مکیہ ہے اور اس وقت تک باغ فدک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں نہ تھا۔ ٧ ھ میں خیبر فتح ہوا تب باغ آپ کے قبضے میں آیا پس یہ قصہ اس پر پورا نہیں اترتا۔ مساکین اور مسافرین کی پوری تفسیر سورۃ برات میں گزر چکی ہے یہاں دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔
خرچ کا حکم کر کے پھر اسراف سے منع فرماتا ہے۔ نہ تو انسان کو بخیل ہونا چاہیے نہ مسرف بلکہ درمیانہ درجہ رکھے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:67] ’ یعنی ایماندار اپنے خرچ میں نہ تو حد سے گزرتے ہیں نہ بالکل ہاتھ روک لیتے ہیں۔ ‘ پھر اسراف کی برائی بیان فرماتا ہے کہ ایسے لوگ شیطان جیسے ہیں۔ «تبذیر» کہتے ہیں غیر حق میں خرچ کرنے کو۔ اپنا کل مال بھی اگر راہ للہ دیدے تو یہ تبذیر و اسراف نہیں اور غیر حق میں تھوڑا سا بھی دے تو مبذر ہے۔ { بنو تمیم کے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مالدار آدمی ہوں اور اہل و عیال کنبے قبیلے والا ہوں تو مجھے بتائیے کہ میں کیا روش اختیار کروں؟ آپ نے فرمایا اپنے مال کی زکوٰۃ الگ کر، اس سے تو پاک صاف ہو جائے گا۔ اپنے رشتے داروں سے سلوک کر سائل کا حق پہنچاتا رہ اور پڑوسی اور مسکین کا بھی۔ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تھوڑے الفاظ میں پوری بات سمجھا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا قرابت داروں مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کر اور بیجا خرچ نہ کر۔ اس نے کہا حسبی اللہ اچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ کے قاصد کو زکوٰۃ ادا کر دوں تو اللہ و رسول کے نزدیک میں بری ہو گیا؟ آپ نے فرمایا ہاں جب تو نے میرے قاصد کو دے دیا تو تو بری ہو گیا اور تیرے لیے اجر ثابت ہو گیا۔ اب جو اسے بدل ڈالے اس کا گناہ اس کے ذمے ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:136/3:صحیح]
یہاں فرمان ہے کہ اسراف اور بیوقوفی اور اللہ کی اطاعت کے ترک اور نافرمانی کے ارتکاب کی وجہ سے مسرف لوگ شیطان کے بھائی بن جاتے ہیں۔ شیطان میں یہی بد خصلت ہے کہ وہ رب کی نعمتوں کا ناشکرا، اس کی اطاعت کا تارک، اس کی نافرمانی اور مخالفت کا عامل ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان قرابت داروں، مسکینوں، مسافروں میں سے کوئی کبھی تجھ سے کچھ سوال کر بیٹھے اور اس وقت تیرے ہاتھ تلے کچھ نہ ہو اور اس وجہ سے تجھے ان سے منہ پھیر لینا پڑے تو بھی جواب نرم دے کہ بھائی جب اللہ ہمیں دے گا ان شاءاللہ ہم آپ کا حق نہ بھولیں گے وغیرہ۔
28۔ 1 یعنی مالی استطاعت کے فقدان کی وجہ سے، جس کے دور ہونے کی اور کشائش رزق کی تو اپنے رب سے امید رکھتا ہے۔ اگر تجھے غریب رشتے داروں، مسکینوں اور ضرورت مندوں سے اعراض کرنا یعنی اظہار معذرت کرنا پڑے تو نرمی اور عمدگی کے ساتھ معذرت کر، یعنی جواب بھی دیا جائے تو نرمی اور پیار و محبت کے لہجے میں نہ کہ ترشی اور بد اخلاقی کے ساتھ، جیسا کہ عام طور پر لوگ ضرورت مندوں اور غریبوں کے ساتھ کرتے ہیں۔
(آیت 28) ➊ {وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ …:” اِمَّا “ ” إِنْ “} اور {” مَا “} سے مرکب ہے، جس میں{ ”مَا“ ”إِنْ “ } کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”اگر کبھی“ کیا گیا ہے، یعنی ذی القربیٰ، مسکین اور ابن السبیل سے اعراض (بے رخی) بخل کرتے ہوئے ہر گز جائز نہیں، صرف ایک صورت میں جائز ہے کہ تمھارے پاس دینے کے لیے اس وقت کچھ نہ ہو، ہاں تمھیں اللہ کی رحمت (حلال اور وافر رزق) کے حصول کی امید ہو (جس سے نا امید ہونا کبھی جائز نہیں) تو ان سے ایسے الفاظ میں معذرت کر لو جن میں نرمی اور آسانی ہو۔ {” مَيْسُوْرًا “} لفظ عموماً مجہول ہی آتا ہے، جیسے کہا جاتا ہے: {” يُسِرَ فُلاَنٌ فَهُوَ مَيْسُوْرٌ، عُسِرَ فُلَانٌ فَهُوَ مَعْسُوْرٌ، نُحِسَ فُلَانٌ فَهُوَ مَنْحُوْسٌ، سُعِدَ فُلاَنٌ فَهُوَ مَسْعُوْدٌ “} اس آیت کی مزید وضاحت سورۂ بقرہ (۲۶۱) میں دیکھیں اور ایسے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے تھے، اس کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ کی آیت (۹۲)۔ ➋ مہائمی رحمہ اللہ نے اس کا ایک اور مفہوم بیان کیا ہے کہ اگر تم مذکورہ لوگوں سے اعراض اس وجہ سے کرو کہ ان سے اعراض کرنے میں تمھیں رب تعالیٰ کی رحمت کے حصول کی امید ہو، مثلاً تمھیں معلوم ہو کہ اگر اسے مال دیا تو یہ اسے نشے پر، زنا پر یا کسی گناہ پر صرف کرے گا تو تب بھی نرمی اور خوش اسلوبی سے اس سے معذرت کرو۔ آیت کے الفاظ میں اس مفہوم کی بھی گنجائش ہے۔
نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ
مولانا محمد جوناگڑھی
اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ اسے بالکل ہی کھول دے کہ پھر ملامت کیا ہوا درمانده بیٹھ جائے
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بیٹھ رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا
علامہ محمد حسین نجفی
اور (دیکھو) نہ تو اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھ لو اور نہ ہی اسے بالکل کھول دو کہ (ایسا کرنے سے) ملامت زدہ (اور) تہی دست ہو کر بیٹھ جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا کرلے اور نہ اسے کھول دے، پورا کھول دینا، ورنہ ملامت کیا ہوا، تھکا ہارا ہو کر بیٹھ رہے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
میانہ روی کی تعلیم ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ اپنی زندگی میں میانہ روش رکھو نہ بخیل بنو نہ مسرف۔ ہاتھ گردن سے نہ باندھ لو یعنی بخیل نہ بنو کہ کسی کو نہ دو۔ یہودیوں نے بھی اسی محاورے کو استعمال کیا ہے اور کہا ہے کہ «وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّـهِ مَغْلُولَةٌ» ’ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ‘ ۱؎ [5-المائدة:64] ان پر اللہ کی لعنتیں نازل ہوں کہ یہ اللہ کو بخیلی کی طرف منسوب کرتے تھے۔ جس سے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب پاک اور بہت دور ہے۔ پس بخل سے منع کر کے پھر اسراف سے روکتا ہے کہ اتنا کھل نہ کھولو کہ اپنی طاقت سے زیادہ دے ڈالو۔ پھر ان دونوں حکموں کا سبب بیان فرماتا ہے کہ بخیلی سے تو ملامتی بن جاؤ گے ہر ایک کی انگلی اٹھے گی کہ یہ بڑا بخیل ہے ہر ایک دور ہو جائے گا کہ یہ محض بے فیض آدمی ہے۔ جیسے زہیر نے اپنے معلقہ میں کہا ہے «وَمَنْ کَانَ ذَا مَالِ وَّیـَبْخَلُ بِمَالِہِ * عَلٰی قُومِہِ یُسَتغَن عَنْہُمْ وَ یُذَمَمَّ» ”یعنی جو مالدار ہو کر بخیلی کرے لوگ اس سے بے نیاز ہو کر اس کی برائی کرتے ہیں۔“ پس بخیلی کی وجہ سے انسان برابن جاتا ہے اور لوگوں کی نظروں سے گر جاتا ہے ہر ایک اسے ملامت کرنے لگتا ہے اور جو حد سے زیادہ خرچ کر گزرتا ہے وہ تھک کر بیٹھ جاتا ہے اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہتا۔ ضعیف اور عاجز ہو جاتا ہے جیسے کوئی جانور جو چلتے چلتے تھک جائے اور راستے میں اڑ جائے۔ لفظ «حسیر» سورۃ تبارک میں بھی آیا ہے۔ ۱؎ [67-الملك:4] پس یہ بطور لف و نشر کے ہے۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { بخیل اور سخی کی مثال ان دو شخصوں جیسی ہے جن پر دو لوہے کے جبے ہوں، سینے سے گلے تک، سخی تو جوں جوں خرچ کرتا ہے اس کی کڑیاں ڈھیلی ہوتی جاتی ہیں اور اس کے ہاتھ کھلتے جاتے ہیں اور وہ جبہ بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی پوریوں تک پہنچ جاتا ہے اور اس کے اثر کو مٹاتا ہے اور بخیل جب کبھی خرچ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے جبے کی کڑیاں اور سمٹ جاتی ہیں وہ ہر چند اسے وسیع کرنا چاہتا ہے لیکن اس میں گنجائش نہیں نکلتی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1443] بخاری و مسلم میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے فرمایا اللہ کی راہ میں خرچ کرتی رہ جمع نہ رکھا کر، ورنہ اللہ بھی روک لے گا، بند باندھ کر روک نہ لیا کر ورنہ پھر اللہ بھی رزق کا منہ بند کر لے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1433] ایک اور روایت میں ہے { شمار کر کے نہ رکھا کر ورنہ اللہ تعالیٰ بھی گنتی کر کے روک لے گا۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2591] صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تو اللہ کی راہ میں خرچ کیا کر، اللہ تعالیٰ تجھے دیتا رہے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:993] بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر صبح دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں ایک دعا کرتا ہے کہ اے اللہ سخی کو بدلہ دے اور دوسرا دعا کرتا ہے کہ بخیل کا مال تلف کر۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1442] مسلم شریف میں ہے { صدقے خیرات سے کسی کا مال نہیں گھٹتا اور ہر سخاوت کرنے والے کو اللہ ذی عزت کر دیتا ہے اور جو شخص اللہ کے حکم کی وجہ سے دوسروں سے عاجزانہ برتاؤ کرے اللہ اسے بلند درجے کا کر دیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2588]
ایک اور حدیث میں ہے { طمع سے بچو اسی نے تم سے اگلے لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔ طمع کا پہلا حکم یہ ہوتا ہے کہ بخیلی کرو انہوں نے بخیلی کی پھر اس نے انہیں صلہ رحمی توڑنے کو کہا انہوں نے یہ بھی کیا پھر فسق و فجور کا حکم دیا یہ اس پر بھی کار بند ہوئے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1698،قال الشيخ الألباني:صحیح] بیہقی میں ہے { جب انسان خیرات کرتا ہے ستر شیطانوں کے جبڑے ٹوٹ جاتے ہیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:350/5:صحیح] مسند کی حدیث میں ہے { درمیانہ خرچ رکھنے والا کبھی فقیر نہیں ہوتا۔ } [مسند احمد:447/1:ضعیف] پھر فرماتا ہے کہ رزق دینے والا، کشادگی کرنے والا، تنگی میں ڈالنے والا، اپنی مخلوق میں اپنی حسب منشا ہیر پھیر کرنے والا، جسے چاہے غنی اور جسے چاہے فقیر کرنے والا اللہ ہی ہے۔ ہر بات میں اس کی حکمت ہے، وہی اپنی حکمتوں کا علیم ہے، وہ خوب جانتا ہے اور دیکھتا ہے کہ مستحق امارت کون ہے اور مستحق فقیری کون ہے؟ حدیث قدسی میں ہے { میرے بعض بندے وہ ہیں کہ فقیری ہی کے قابل ہیں اگر میں انہیں امیر بنا دوں تو ان کا دین تباہ ہو جائے اور میرے بعض بندے ایسے بھی ہیں جو امیری کے لائق ہیں اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو ان کا دین بگڑ جائے۔ } ۱؎ [تفسیر بغوی:1877:ضعیف] ہاں یہ یاد رہے کہ بعض لوگوں کے حق میں امیری اللہ کی طرف سے ڈھیل کے طور پر ہوتی ہے اور بعض کے لیے فقیری بطور عذاب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان دونوں سے بچائے۔ (آمین)
29۔ 1 گزشتہ آیت میں انکار کرنے کا ادب بیان فرمایا اب انفاق کا ادب بیان کیا جا رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان بخل کرے کہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات پر بھی خرچ نہ کرے اور نہ فضول خرچی ہی کرے کہ اپنی وسعت اور گنجائش دیکھے بغیر ہی بےدریغ خرچ کرتا رہے۔ بخل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان، قابل ملامت و ندمت قرار پائے گا اور فضول خرچی کے نتیجے میں محسور (تھکا ہارا اور پچھتانے والا) محسور اس جانور کو کہتے ہیں جو چل چل کر تھک چکا اور چلنے سے عاجز ہوچکا ہو۔ فضول خرچی کرنے والا بھی بالآخر خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ، یہ کنایہ ہے بخل سے اور ' نہ اسے بالکل ہی کھول دے ' یہ کنایہ ہے فضول خرچی سے۔ ملوما محسورا لف نشر مرتب ہے، یعنی ملوم بخل کا اور محسور فضول خرچی کا نتیجہ ہے۔
(آیت 29) {وَ لَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً …: ” مَغْلُوْلَةً “ ”غُلٌّ“} سے مشتق ہے، جس کا معنی گردن کا طوق ہے، جس کے ساتھ ہاتھ بھی باندھ دیے جائیں، جیسا کہ مجرموں اور قیدیوں سے کیا جاتا ہے، مراد بخل اور کنجوسی ہے اور {” الْبَسْطِ “} (کھولنا) سے مراد سخاوت ہے۔ {” مَحْسُوْرًا “} جو تھک ہار کر چلنے سے رہ جائے۔ یعنی بالکل بخیلی کرو گے تو خالق و مخلوق دونوں کے ہاں ملامت کیے ہوئے بن جاؤ گے اور پورا ہاتھ کھول دو گے اور سب کچھ دے کر خالی ہاتھ ہو جاؤ گے تو اہل و عیال کی ملامت کے ساتھ ساتھ زندگی کی دوڑ میں تھک ہار کر بیٹھ رہو گے، پھر ممکن ہے کہ بھیک مانگنے تک کی نوبت آ جائے۔ سب سے بہتر میانہ روی ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَ لَمْ يَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا» [ الفرقان: ۶۷ ] ”اور وہ لوگ (عباد الرحمان ہیں) کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ خرچ میں تنگی کرتے ہیں اور (ان کا خرچ) اس کے درمیان معتدل ہوتا ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًی، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ] [بخاری، الزکوٰۃ، باب لا صدقۃ إلا عن ظہر غنی: ۱۴۲۶ ] ”بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد غنا موجود رہے (انسان فقیر نہ ہو جائے) اور ابتدا ان سے کرو جن کی تم پرورش کر رہے ہو۔“
تیر ا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً تیرا رب جس کے لئے چاہے روزی کشاده کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ۔ یقیناً وه اپنے بندوں سے باخبر اور خوب دیکھنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہارا رب جسے چاہے رزق کشادہ دیتا اور کستا ہے (تنگی دیتا ہے) بیشک وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا دیکھتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تمہارا پروردگار جس کسی کی چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے بے شک وہ اپنے بندوں کے حال سے بڑا باخبر ہے اور بڑا نگاہ رکھنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک تیرا رب رزق فراخ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے، بے شک وہ ہمیشہ سے اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
میانہ روی کی تعلیم ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ اپنی زندگی میں میانہ روش رکھو نہ بخیل بنو نہ مسرف۔ ہاتھ گردن سے نہ باندھ لو یعنی بخیل نہ بنو کہ کسی کو نہ دو۔ یہودیوں نے بھی اسی محاورے کو استعمال کیا ہے اور کہا ہے کہ «وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّـهِ مَغْلُولَةٌ» ’ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ‘ ۱؎ [5-المائدة:64] ان پر اللہ کی لعنتیں نازل ہوں کہ یہ اللہ کو بخیلی کی طرف منسوب کرتے تھے۔ جس سے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب پاک اور بہت دور ہے۔ پس بخل سے منع کر کے پھر اسراف سے روکتا ہے کہ اتنا کھل نہ کھولو کہ اپنی طاقت سے زیادہ دے ڈالو۔ پھر ان دونوں حکموں کا سبب بیان فرماتا ہے کہ بخیلی سے تو ملامتی بن جاؤ گے ہر ایک کی انگلی اٹھے گی کہ یہ بڑا بخیل ہے ہر ایک دور ہو جائے گا کہ یہ محض بے فیض آدمی ہے۔ جیسے زہیر نے اپنے معلقہ میں کہا ہے «وَمَنْ کَانَ ذَا مَالِ وَّیـَبْخَلُ بِمَالِہِ * عَلٰی قُومِہِ یُسَتغَن عَنْہُمْ وَ یُذَمَمَّ» ”یعنی جو مالدار ہو کر بخیلی کرے لوگ اس سے بے نیاز ہو کر اس کی برائی کرتے ہیں۔“ پس بخیلی کی وجہ سے انسان برابن جاتا ہے اور لوگوں کی نظروں سے گر جاتا ہے ہر ایک اسے ملامت کرنے لگتا ہے اور جو حد سے زیادہ خرچ کر گزرتا ہے وہ تھک کر بیٹھ جاتا ہے اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہتا۔ ضعیف اور عاجز ہو جاتا ہے جیسے کوئی جانور جو چلتے چلتے تھک جائے اور راستے میں اڑ جائے۔ لفظ «حسیر» سورۃ تبارک میں بھی آیا ہے۔ ۱؎ [67-الملك:4] پس یہ بطور لف و نشر کے ہے۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { بخیل اور سخی کی مثال ان دو شخصوں جیسی ہے جن پر دو لوہے کے جبے ہوں، سینے سے گلے تک، سخی تو جوں جوں خرچ کرتا ہے اس کی کڑیاں ڈھیلی ہوتی جاتی ہیں اور اس کے ہاتھ کھلتے جاتے ہیں اور وہ جبہ بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی پوریوں تک پہنچ جاتا ہے اور اس کے اثر کو مٹاتا ہے اور بخیل جب کبھی خرچ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے جبے کی کڑیاں اور سمٹ جاتی ہیں وہ ہر چند اسے وسیع کرنا چاہتا ہے لیکن اس میں گنجائش نہیں نکلتی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1443] بخاری و مسلم میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے فرمایا اللہ کی راہ میں خرچ کرتی رہ جمع نہ رکھا کر، ورنہ اللہ بھی روک لے گا، بند باندھ کر روک نہ لیا کر ورنہ پھر اللہ بھی رزق کا منہ بند کر لے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1433] ایک اور روایت میں ہے { شمار کر کے نہ رکھا کر ورنہ اللہ تعالیٰ بھی گنتی کر کے روک لے گا۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2591] صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تو اللہ کی راہ میں خرچ کیا کر، اللہ تعالیٰ تجھے دیتا رہے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:993] بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر صبح دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں ایک دعا کرتا ہے کہ اے اللہ سخی کو بدلہ دے اور دوسرا دعا کرتا ہے کہ بخیل کا مال تلف کر۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1442] مسلم شریف میں ہے { صدقے خیرات سے کسی کا مال نہیں گھٹتا اور ہر سخاوت کرنے والے کو اللہ ذی عزت کر دیتا ہے اور جو شخص اللہ کے حکم کی وجہ سے دوسروں سے عاجزانہ برتاؤ کرے اللہ اسے بلند درجے کا کر دیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2588]
ایک اور حدیث میں ہے { طمع سے بچو اسی نے تم سے اگلے لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔ طمع کا پہلا حکم یہ ہوتا ہے کہ بخیلی کرو انہوں نے بخیلی کی پھر اس نے انہیں صلہ رحمی توڑنے کو کہا انہوں نے یہ بھی کیا پھر فسق و فجور کا حکم دیا یہ اس پر بھی کار بند ہوئے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1698،قال الشيخ الألباني:صحیح] بیہقی میں ہے { جب انسان خیرات کرتا ہے ستر شیطانوں کے جبڑے ٹوٹ جاتے ہیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:350/5:صحیح] مسند کی حدیث میں ہے { درمیانہ خرچ رکھنے والا کبھی فقیر نہیں ہوتا۔ } [مسند احمد:447/1:ضعیف] پھر فرماتا ہے کہ رزق دینے والا، کشادگی کرنے والا، تنگی میں ڈالنے والا، اپنی مخلوق میں اپنی حسب منشا ہیر پھیر کرنے والا، جسے چاہے غنی اور جسے چاہے فقیر کرنے والا اللہ ہی ہے۔ ہر بات میں اس کی حکمت ہے، وہی اپنی حکمتوں کا علیم ہے، وہ خوب جانتا ہے اور دیکھتا ہے کہ مستحق امارت کون ہے اور مستحق فقیری کون ہے؟ حدیث قدسی میں ہے { میرے بعض بندے وہ ہیں کہ فقیری ہی کے قابل ہیں اگر میں انہیں امیر بنا دوں تو ان کا دین تباہ ہو جائے اور میرے بعض بندے ایسے بھی ہیں جو امیری کے لائق ہیں اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو ان کا دین بگڑ جائے۔ } ۱؎ [تفسیر بغوی:1877:ضعیف] ہاں یہ یاد رہے کہ بعض لوگوں کے حق میں امیری اللہ کی طرف سے ڈھیل کے طور پر ہوتی ہے اور بعض کے لیے فقیری بطور عذاب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان دونوں سے بچائے۔ (آمین)
30۔ 1 اس میں اہل ایمان کے لئے تسلی ہے کہ ان کے پاس وسائل رزق کی فروانی نہیں ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے اللہ کے ہاں ان کا مقام نہیں ہے بلکہ یہ رزق کی وسعت یا کمی، اس کا تعلق اللہ کی حکمت و مصلحت سے ہے جسے صرف وہی جانتا ہے۔ وہ اپنے دشمنوں کو قارون بنا دے اور اپنوں کو اتنا ہی دے کہ جس سے یہ مشکل وہ اپنا گذارہ کرسکیں۔ یہ اس کی مشیت ہے۔ جس کو وہ زیادہ دے، وہ اس کا محبوب نہیں، اور وہ قوت لا یموت کا مالک اس کا مبغوض نہیں۔
(آیت 30) ➊ { اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ:} یعنی اگر حد سے زیادہ خرچ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کسی کا فقر دور کرنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کے اختیار میں نہیں، آپ جتنا بھی دے لیں اگر رب تعالیٰ اس کے رزق کا دروازہ کشادہ نہ کرے تو کوئی اسے نہیں کھول سکتا، آپ اللہ کے حکم کے مطابق اعتدال سے خرچ کریں، اس کے فقر و غنا کی فکر آپ کا کام نہیں اور نہ یہ آپ کے بس کی بات ہے۔ ➋ { اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا:} یعنی وہ خوب جانتا ہے کہ کسے کتنا رزق دینا ہے۔ کسی کو زیادہ اور کسی کو کم رزق دینا اس کی حکمت ہے۔ (دیکھیے شوریٰ: ۲۷) اگر سب لوگ برابر ہوتے تو دنیا کے کام چل ہی نہ سکتے۔ (دیکھیے زخرف: ۲۲) دولت مند ہونا یا فقیر ہونا نیکی یا بدی پر منحصر نہیں، بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے۔ (دیکھیے زخرف: ۳۳ تا ۳۵) زبردستی اس فرق کو مٹایا نہیں جا سکتا، جیسا کہ کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کی خواہش اور کوشش تھی، جس کے لیے انھوں نے لاکھوں لوگ تہ تیغ کیے مگر منہ کی کھائی۔ کیونکہ یہ فطرت سے جنگ ہے جو کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔ رہی سرمایہ داری کہ سود اور دوسرے ناجائز طریقوں سے تمام اموال کے مالک صرف چند لوگ بن بیٹھیں اور باقی سب ان کے محتاج ہوں، یہ بھی اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں اور جہاں یہ نظام ہو گا وہ معاشرہ بھی لامحدود ظلم و ستم اور حرص و ہوس کا شکار ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ امیر و فقیر کے اس فرق کو ختم کرنا نہیں بلکہ اعتدال پر رکھنا ضروری ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک طرف ناجائز طریقے سے دولت حاصل کرنے کو حرام قرار دیا، چوری ڈاکے، غصب، دھوکے اور سود کی تمام صورتیں حرام قرار دیں، تو دوسری طرف جائز طریقوں سے کمائی ہوئی دولت کو زکوٰۃ، صدقات، میراث اور دوسرے احکام کے ذریعے سے معاشرے میں پھیلا دینے کا حکم دیا۔ ان احکام پر عمل کرنے کی صورت میں معاشرے میں امیری و غریبی میں اعتدال قائم رہے گا، پھر نہ سرمایہ دارانہ طریقے کی وجہ سے امریکہ اور یورپی ممالک کی طرح دولت چند آدمیوں کی مٹھی میں جمع ہونے سے پیدا ہونے والے مظالم ہوں گے اور نہ اس فطری فرق کو زبردستی اور مصنوعی طریقوں سے ختم کرنے کی کوشش سے وہ خرابیاں پیدا ہوں گی جو روس، چین اور دوسرے کمیونسٹ ممالک میں پیدا ہوئیں کہ انسان انسانیت کے مرتبے سے گر کر محض ایک حیوان بن گیا، لوگوں کو ان کی فطری آزادی سے محروم کر دیا گیا، حتیٰ کہ اس نظام پر مبنی تمام ممالک آخر کار ناکام ہونے کی وجہ سے اسے چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور وہاں کے رہنے والے مظلوم مسلم اور غیر مسلم سب لوگوں کو مسلمانوں کے جہاد کی برکت سے اس نظام سے نجات اور آزادی کی زندگی نصیب ہوئی۔ (فالحمد للہ) اب بھی اگرچہ وہاں اس کی باقیات موجود ہیں، جن کی وجہ سے ظلم و ستم کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا، اس لیے مسلمانوں کا فرض ہے کہ تمام دنیا کو سرمایہ داری، کمیونزم اور دوسرے تمام ظالمانہ نظاموں سے نجات دلا کر اسلام کا نظام عدل نافذ کریں۔ یہ کام اللہ کے فضل سے شروع ہو چکا ہے اور جہاد اسلامی کی برکت سے تمام دنیا پر اللہ کا دین غالب ہو کر رہے گا۔ (ان شاء اللہ) جیسا کہ فرمایا: «هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ» [ التوبۃ: ۳۳ ] ”وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، خواہ مشرک لوگ برا جانیں۔“
اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی در حقیقت اُن کا قتل ایک بڑی خطا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور مفلسی کے خوف سے اپنی اوﻻد کو نہ مار ڈالو، ان کو اور تم کو ہم ہی روزی دیتے ہیں۔ یقیناً ان کا قتل کرنا کبیره گناه ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو مفلسی کے ڈر سے ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی، بیشک ان کا قتل بڑی خطا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور فقر و فاقہ کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ ہم ہی انہیں اور تمہیں روزی دیتے ہیں بے شک انہیں قتل کرنا بڑا جرم ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ہی انھیں رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی۔ بے شک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قتل اولاد کی مذمت ٭٭
دیکھو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہ نسبت ان کے ماں باپ کے بھی زیادہ مہربان ہے۔ ایک طرف ماں باپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنا مال اپنے بچوں کو بطور ورثے کے دو اور دوسری جانب فرماتا ہے کہ انہیں مار نہ ڈالا کرو۔ جاہلیت کے لوگ نہ تو لڑکیوں کو ورثہ دیتے تھے نہ ان کا زندہ رکھنا پسند کرتے تھے بلکہ دختر کشی ان کی قوم کا ایک عام رواج تھا۔ قرآن اس بد انجام رواج کی تردید کرتا ہے کہ یہ خیال کس قدر بودا ہے کہ انہیں کھلائیں گے کہاں سے؟ کسی کی روزی کسی کے ذمہ نہیں سب کا روزی رساں اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سورۃ الانعام میں فرمایا آیت «وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم مِّنْ إِمْلَاقٍ» ۱؎ [6-الأنعام:151] فقیری اور تنگ دستی کے خوف سے اپنی اولاد کی جان نہ لیا کرو۔ تمہیں اور انہیں روزیاں دینے والے ہم ہیں۔ ان کا قتل جرم عظیم اور گناہ کبیرہ ہے۔ خطا کی دوسری قرأت خطا ہے دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ { سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تو کسی کو اللہ کا شریک ٹھیرائے حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تو اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالے کہ وہ تیرے ساتھ کھائیں گے۔ میں نے کہا اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تو اپنی پڑوسن سے زناکاری کرے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:7520]
31۔ 1 یہ آیت سورة الا نعام، 151 میں بھی گزر چکی ہے، حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کے بعد جس گناہ کو سب سے بڑا قرار دیا وہ یہی ہے کہ ان تقتل ولدک خشیۃ ان یطعم معک۔ (صحیح بخاری) ' کہ تو اپنی اولاد اس ڈر سے قتل کردے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی ' آجکل قتل اولاد کا گناہ عظیم طریقے سے خاندانی منصوبہ بندی کے حسین عنوان سے پوری دنیا میں ہو رہا ہے اور مرد حضرات ' بہتر تعلیم و تربیت ' کے نام پر اور خواتین اپنے ' حسن ' کو برقرار رکھنے کے لئے اس جرم کا عام ارتکاب کر رہی ہیں۔ اعاذنا اللہ منہ۔
(آیت 31){وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ …:} اگرچہ اولاد میں لڑکے لڑکیاں دونوں شامل ہیں، مگر عرب کی تاریخ میں اکثر لڑکیوں ہی کو قتل کرنے کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ» [ التکویر: ۸ ] ”اور جب زندہ دفن کی گئی سے پوچھا جائے گا۔“ {” الْمَوْءٗدَةُ “} مؤنث لانے سے ظاہر یہی ہے کہ زندہ درگور لڑکی ہی ہوتی تھی، لیکن اگر اسے ”نفس موء ودہ“ کہا جائے توپھر لڑکا لڑکی دونوں مراد ہو سکتے ہیں، کیونکہ ”نفس“ کا لفظ زبان عرب میں مؤنث ہے، سو معنی ہو گا: ”اور جب زندہ درگور کی ہوئی جان سے سوال کیا جائے گا۔“ اور اگرچہ عام طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ وہ لڑکی کو غیرت کی وجہ سے قتل کرتے تھے، مگر اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی سچا نہیں ہو سکتا۔ اس نے مطلق اولاد لڑکے لڑکی دونوں کا ذکر فرمایا ہے اور قتل کا سبب موجودہ فقر یا آئندہ فقر کا خوف بیان فرمایا ہے، ہاں یہ درست ہے کہ اولاد کو قتل کا باعث فقر کے علاوہ بے جا غیرت بھی تھا۔ {” نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِيَّاكُمْ “} اور {” نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِيَّاهُمْ “} میں تقدیم و تاخیر کی حکمت اور دوسرے فوائد کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۵۱) {” خِطْاً “} اور {”اِثْمٌ“} کا وزن اور معنی ایک ہی ہے، یعنی دانستہ گناہ۔
زنا کے قریب نہ پھٹکو وہ بہت برا فعل ہے اور بڑا ہی برا راستہ
مولانا محمد جوناگڑھی
خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیوں کہ وه بڑی بےحیائی ہے اور بہت ہی بری راه ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے، اور بہت ہی بری راہ،
علامہ محمد حسین نجفی
اور زناکاری کے قریب بھی نہ جاؤ یقینا وہ بہت بڑی بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور زنا کے قریب نہ جائو، بے شک وہ ہمیشہ سے بڑی بے حیائی ہے اور برا راستہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کبیرہ گناہوں سے ممانعت ٭٭
زناکاری اور اس کے اردگرد کی تمام سیاہ کاریوں سے قرآن روک رہا ہے۔ زنا کو شریعت نے کبیرہ اور بہت سخت گناہ بتایا ہے وہ بدترین طریقہ اور نہایت بری راہ ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ { ایک نوجوان نے زناکاری کی اجازت آپ سے چاہی لوگ اس پر جھک پڑے کہ چپ رہ کیا کر رہا ہے، کیا کہہ رہا ہے۔ آپ نے اسے اپنے قریب بلا کر فرمایا بیٹھ جا جب وہ بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا کیا تو اس کام کو اپنی ماں کے لیے پسند کرتا ہے؟ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آپ پر اللہ فدا کرے ہرگز نہیں۔ آپ نے فرمایا پھر سوچ لے کہ کوئی اور کیسے پسند کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تو اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند کرتا ہے؟ اس نے اسی طرح تاکید سے انکار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک اسی طرح کوئی بھی اسے اپنی بیٹیوں کے لیے پسند نہیں کرتا اچھا اپنی بہن کے لیے اسے تو پسند کرے گا؟ اس نے اسی طرح سے انکار کیا آپ نے فرمایا اسی طرح دوسرے بھی اپنی بہنوں کے لیے اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔ بتا کیا تو چاہے گا کہ کوئی تیری پھوپھی سے ایسا کرے؟ اس نے اسی سختی سے انکار کیا۔ آپ نے فرمایا اسی طرح اور سب لوگ بھی۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ کر دعا کی کہ الٰہی اس کے گناہ بخش، اس کے دل کو پاک کر، اسے عصمت والا بنا۔ پھر تو یہ حالت تھی کہ یہ نوجوان کسی کی طرف نظر بھی نہ اٹھاتا۔ } ۱؎ [مسند احمد:257/5:صحیح] ابن ابی الدنیا میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے شرک کے بعد کوئی گناہ زناکاری سے بڑھ کر نہیں کہ آدمی اپنا نطفہ کسی ایسے رحم میں ڈالے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:325/4:اسنادہ مرسل ضعیف]
32۔ 1 اسلام میں زنا چونکہ بہت بڑا جرم ہے، اتنا بڑا کہ کوئی شادی شدہ مرد یا عورت اس کا ارتکاب کرلے تو اسے اسلامی معاشرے میں زندہ رہنے کا ہی حق نہیں ہے۔ پھر اسے تلوار کے ایک وار سے مار دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ حکم ہے کہ پتھر مار مار کر اس کی زندگی کا خاتمہ کیا جائے تاکہ معاشرے میں نشان عبرت بن جائے۔ اس لئے یہاں فرمایا کہ زنا کے قریب مت جاؤ، یعنی اس کے دواعی و اسباب سے بھی بچ کر رہو، مثلًا غیر محرم عورت کو دیکھنا، ان سے اختلاط، کلام کی راہیں پیدا کرنا، اسی طرح عورتوں کا بےپردہ اور بن سنور کر گھروں سے باہر نکلنا، وغیرہ ان تمام امور سے پرہیز ضروری ہے تاکہ اس بےحیائی سے بچا جاسکے۔
(آیت 32) ➊ { وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى …:”فَاحِشَةً “} ایسا قول و فعل جو نہایت قبیح ہو۔ پچھلی آیت میں قتلِ اولاد سے منع فرمایا، جو نسلِ انسانی فنا کرنے کا باعث ہے اور اس آیت میں زنا کے قریب جانے سے منع فرمایا، کیونکہ یہ حد سے بڑھی ہوئی برائی کے ساتھ نسب کا نظام خراب کرنے کا باعث ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خاوند کو نہ بیوی پر اعتماد رہے گا اور نہ اسے اولاد کے اپنا ہونے کا یقین ہو گا، وہ غیرت کی وجہ سے بیوی بچوں کو قتل بھی کر سکتا ہے، جیسا کہ اکثر خبریں آتی رہتی ہیں۔ اگر یہ رسمِ بد عام ہوجائے تو رشتہ داری کا سارا نظام، جو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، ختم ہو جائے گا، نہ باپ کا پتا، نہ کوئی چچا نہ دادا، نہ ان کی اولاد کا علم، نہ ان سے کوئی تعلق نہ رشتہ داری، بلکہ انسان اور حیوان کا فرق ہی ختم ہو جائے گا۔ اس خبیث فعل کی سزا اس وقت مغربی اقوام بھگت رہی ہیں اور انھیں مسلمانوں کے نظام نسب پر شدید حسد ہے، جس کی وجہ سے وہ ان میں بھی بے حیائی اور زنا پھیلانے کا ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔ ➋ اللہ تعالیٰ نے زنا اور بعض دوسرے کاموں کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا ہے اور بعض کاموں کا ارتکاب کرنے سے منع کیا ہے۔ آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس کام کی رغبت طبعی طور پر آدمی کے دل میں ہو اس کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا، جیسے زنا کہ جنسی جذبہ آدمی کا سب سے غالب جذبہ ہے، چنانچہ فرمایا: «وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى» [ بنی إسرائیل: ۳۲ ] اور فرمایا: «وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى يَطْهُرْنَ» [ البقرۃ: ۲۲۲ ] ”اور ان کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔“ اسی طرح یتیم کے مال کے قریب احسن طریقے سے جانے کے سوا منع فرما دیا، کیونکہ مال کی حرص طبعی جذبہ ہے، چنانچہ فرمایا: «وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ» [ بنی إسرائیل: ۳۴ ] البتہ قتل کے ارتکاب سے منع کیا، فرمایا: «وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ» [ بنی إسرائیل: ۳۱ ] اور فرمایا: «وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ» [ بنی إسرائیل: ۳۳ ] کیونکہ کسی کو قتل کرنا انسان کا طبعی تقاضا نہیں ہے۔ ➌ اللہ تعالیٰ نے زنا کے تمام راستے بھی بند فرما دیے جن میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے: (1) اجنبی عورت کے ساتھ خلوت حرام فرما دی، اسی طرح مردوں کو عورتوں سے عام میل جول سے بھی منع فرما دیا۔ چنانچہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ إِلاَّ مَعَ ذِيْ مَحْرَمٍ وَلاَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا رَجُلٌ إِلاَّ وَ مَعَهَا مَحْرَمٌ ] [ بخاری، جزاء الصید، باب حج النساء: ۱۸۶۲ ] ”کوئی عورت سفر نہ کرے مگر کسی محرم کے ساتھ اور اس کے پاس کوئی مرد نہ جائے مگر اس صورت میں کہ اس عورت کے پاس کوئی محرم موجود ہو۔“ مسلم کی اسی روایت میں ہے: [ لاَ يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ ] [ مسلم، الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم إلی حج وغیرہ: ۱۳۴۱ ] ”کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ اکیلا نہ ہو۔“ اسی طرح عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِيَّاكُمْ وَالدُّخُوْلَ عَلَی النِّسَاءِ، فقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ اَلْحَمْوُ الْمَوْتُ ] [ بخاری، النکاح، باب لا یخلون رجل بامرأۃ…: ۵۲۳۲۔ مسلم: ۲۱۷۲ ] ”عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔“ ایک انصاری آدمی نے پوچھا: ”آپ {”حَمْوٌ“} (خاوند کے قریبی مثلاً اس کے بھائی یا چچا زاد یعنی کزن وغیرہ) کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟“ فرمایا: ”حمو“ تو موت ہے۔“ (2) مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہ نیچی رکھنے اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کا حکم دیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نور (۳۰، ۳۱) کیونکہ آنکھیں اور کان دل کا دروازہ ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ عَلَي ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذٰلِكَ لاَ مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ، وَ زِنَا اللِّسَانِ المَنْطِقُ، وَالنَّفْسُ تَتَمَنَّي وَتَشْتَهِيْ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذِٰلكَ كُلَّهُ وَ يُكَذِّبُهُ ] [ بخاری، الاستئذان، باب زنا الجوارح دون الفرج: ۶۲۴۳۔ مسلم: ۲۶۵۷ ] ”اللہ نے ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے، جسے وہ لامحالہ پانے والا ہے، پس آنکھوں کا زنا ان کا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا ان کا سننا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔“ (3) عورتوں کو پردے کا حکم دیا اور زینت کے اظہار سے سخت منع فرمایا۔ دیکھیے سورۂ نور (۳۱) اور سورۂ احزاب (۳۳) اس کے ساتھ ہی مردوں اور عورتوں کے نکاح کی تاکید فرمائی اور نکاح کو نہایت آسان بنا دیا، اگر وسائل مہیا نہ ہوں تو پاک دامن رہنے کی انتہائی کوشش کا حکم دیا۔ دیکھیے سورۂ نور (۳۲، ۳۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَ أَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَ مَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ] [ بخاری، الصوم، باب الصوم لمن خاف علی نفسہ العزبۃ: ۱۹۰۵۔ مسلم: ۱۴۰۰ ] ”تم میں سے جو شخص ضروریات نکاح رکھتا ہو وہ نکاح کرے، کیونکہ یہ نظر کو زیادہ نیچا رکھنے اور شرم گاہ کو (زنا سے) زیادہ محفوظ رکھنے کا والا ہے اور جو طاقت نہ رکھے وہ روزے کو لازم پکڑے، کیونکہ وہ اس کے لیے (شہوت کو) کچلنے کا باعث ہے۔“ (4) زنا کرنے والوں پر، مرد ہوں یا عورت، انتہائی احتیاط کے ساتھ ثبوت قائم کرنے اور پوری شدت کے ساتھ حد نافذ کرنے کا حکم دیا۔ کنواری اور کنوارے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی کی حد مقرر فرمائی، جو رجم سے بہت کم ہے اور غیر کنوارے مرد اور عورت کے لیے سو کوڑے اور رجم کی سزا مقرر فرمائی جو انتہائی سخت سزا ہے۔ اس کی واضح احادیث صحیحین وغیرہ میں معروف ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اللہ کی حد نافذ ہو تو معاشرہ اس گندگی سے بالکل پاک ہو جائے۔ ➍ { اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً:” كَانَ “} دوام کے معنی کے لیے ہے۔ طنطاوی رحمہ اللہ نے اس جگہ {” كَانَ “} کو{ ”مَا زَالَ“} (ہمیشہ سے) کے معنی میں لیا ہے اور {” فَاحِشَةً “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”بے شک وہ ہمیشہ سے بڑی بے حیائی ہے اور برا راستہ ہے۔“ ظاہر ہے کہ زنا بے حیائی میں حد سے بڑھا ہوا کام ہے جو خاندانوں، نسلوں اور معاشروں کو برباد کر دیتا ہے اور خوف ناک جسمانی اور روحانی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ ➎ { وَ سَآءَ سَبِيْلًا:} برا راستہ اس لیے ہے کہ اگر یہ کھل جائے تو اس پر چل کر لوگ آپ کے گھربھی آ پہنچیں گے، پھر کسی کی ماں، بیٹی، بیوی یا بہن کی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔ یہی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان کو سمجھائی تھی جس نے آپ سے زنا کی اجازت مانگی تھی۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”ایک نوجوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے زنا کی اجازت چاہی۔ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے، اسے ڈانٹا اور کہا کہ خاموش ہو جا، تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اُدْنُهْ ] (میرے) قریب آ۔“ وہ قریب آیا اور جب بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا: [ أَتُحِبُّهُ لِأُمِّكَ؟ ] ”کیا تو اس کام کو اپنی ماں کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا:” نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے (ہر گز نہیں)۔“ آپ نے فرمایا: [ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّوْنَهُ لِأُمَّهَاتِهِمْ ] ”تو لوگ بھی اس کام کو اپنی ماں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ نے فرمایا: [ أَفَتُحِبُّهُ لِابْنَتِكَ؟ ] ”اچھا تو اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے (ہر گز نہیں)۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّوْنَهُ لِبَنَاتِهِمْ ] ”لوگ بھی اس کام کو اپنی بیٹیوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَ فَتُحِبُّهُ لِأُخْتِكَ؟ ] ” کیا تو اس کام کو اپنی بہن کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، اللہ کی قسم! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّوْنَهُ لِأَخَوَاتِهِمْ ] ” لوگ بھی اس کام کو اپنی بہنوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: [ أَ فَتُحِبُّهُ لِعَمَّتِكَ ] ”کیا تو اس کام کو اپنی پھوپھی کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، اللہ کی قسم! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّوْنَهُ لِعَمَّاتِهِمْ ] ” لوگ بھی اس کام کو اپنی پھوپھیوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: [ أَ فَتُحِبُّهُ لِخَالَتِكَ؟ ] ”کیا تو اس کام کو اپنی خالہ کے لیے پسند کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، اللہ کی قسم! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے(ہرگز نہیں)۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّوْنَهُ لِخَالَاتِهِمْ ] ”لوگ بھی اس کام کو اپنی خالاؤں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور یہ دعا کی: [ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ، وَ طَهِّرْ قَلْبَهُ وَ حَصِّنْ فَرْجَهُ ] ”الٰہی! اس کے گناہ بخش، اس کے دل کو پاک کر اور اسے عصمت والا بنا۔“ پھر تو یہ حالت تھی کہ یہ نوجوان ایسے کسی کام کی طرف نہیں جھانکتا تھا۔“ [ مسند أحمد: 256/5، ۲۵۷، ح: ۲۲۲۷۴ ]
قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے، پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے، اُس کی مدد کی جائے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ نے حرام کردیا ہے ہرگز ناحق قتل نہ کرنا اور جو شخص مظلوم ہونے کی صورت میں مار ڈاﻻ جائے ہم نے اس کے وارث کو طاقت دے رکھی ہے پس اسے چاہیئے کہ مار ڈالنے میں زیادتی نہ کرے بےشک وه مدد کیا گیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کوئی جان جس کی حرمت اللہ نے رکھی ہے ناحق نہ مارو، اور جو ناحق نہ مارا جائے تو بیشک ہم نے اس کے وارث کو قابو دیا تو وہ قتل میں حد سے نہ بڑھے ضرور اس کی مدد ہونی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس جان کا مارنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہ کرو۔ مگر حق کے ساتھ اور جو شخص ناحق قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو (قصاص کا) اختیار دے دیا ہے پس چاہیئے کہ وہ قتل میں حد سے آگے نہ بڑھے ضرور اس کی مدد کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس جان کو قتل مت کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص قتل کر دیا جائے، اس حال میں کہ مظلوم ہو تو یقینا ہم نے اس کے ولی کے لیے پورا غلبہ رکھا ہے۔ پس وہ قتل میں حد سے نہ بڑھے، یقینا وہ مدد دیا ہوا ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ناحق قتل ٭٭
بغیر حق شرعی کے کسی کو قتل کرنا حرام ہے۔ بخاری مسلم میں ہے { جو مسلمان اللہ کے واحد ہونے کی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہو اس کا قتل تین باتوں کے سوا حلال نہیں۔ یا تو اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا شادی شدہ ہو اور پھر زنا کیا ہو یا دین کو چھوڑ کر جماعت کو چھوڑ دیا ہو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6878] سنن میں ہے { ساری دنیا کا فنا ہو جانا اللہ کے نزدیک ایک مومن کے قتل سے زیادہ آسان ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1395،قال الشيخ الألباني:صحیح] اگر کوئی شخص ناحق دوسرے کے ہاتھوں قتل کیا گیا ہے تو اس کے وارثوں کو اللہ تعالیٰ نے قتل پر غالب کر دیا ہے۔ اسے قصاص لینے اور دیت لینے اور بالکل معاف کر دینے میں سے ایک کا اختیار ہے۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کریمہ کے عموم سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سلطنت پر استدلال کیا ہے کہ وہ بادشاہ بن جائیں گے اس لیے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ انتہائی مظلومی کے ساتھ شہید کئے گئے تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ قاتلان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے طلب کرتے تھے کہ ان سے قصاص لیں اس لیے کہ یہ بھی اموی تھے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی اموی تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس میں ذرا ڈھیل کر رہے تھے۔ ادھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مطالبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے یہ تھا کہ ملک شام ان کے سپرد کر دیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تاوقتیکہ آپ قاتلان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو نہ دیں میں ملک شام کو آپ کی زیر حکومت نہ کروں گا چنانچہ آپ نے مع کل اہل شام کے بیعت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے انکار کر دیا۔ اس جھگڑے نے طول پکڑا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے حکمران بن گئے۔
معجم طبرانی میں یہ روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رات کی گفتگو میں ایک دفعہ فرمایا کہ آج میں تمہیں ایک بات سناتا ہوں نہ تو وہ ایسی پوشیدہ ہے نہ ایسی اعلانیہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو کچھ کیا گیا، اس وقت میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ آپ یکسوئی اختیار کر لیں، واللہ اگر آپ کسی پتھر میں چھپے ہوئے ہوں گے تو نکال لیے جائیں گے لیکن انہوں نے میری نہ مانی۔ اب ایک اور سنو اللہ کی قسم (سیدنا) معاویہ (رضی اللہ عنہ) تم پر بادشاہ ہو جائیں گے، اس لیے کہ اللہ کا فرمان ہے، جو مظلوم مار ڈالا جائے، ہم اس کے وارثوں کو غلبہ اور طاقت دیتے ہیں۔ پھر انہیں قتل کے بدلے میں قتل میں حد سے نہ گزرنا چاہیئے الخ۔ سنو یہ قریشی تو تمہیں فارس و روم کے طریقوں پر آمادہ کر دیں گے اور سنو تم پر نصاری اور یہود اور مجوسی کھڑے ہو جائیں گے اس وقت جس نے معروف کو تھام لیا اس نے نجات پالی اور جس نے چھوڑ دیا اور افسوس کہ تم چھوڑنے والوں میں سے ہی ہو تو مثل ایک زمانے والوں کے ہوؤگے کہ وہ بھی ہلاک ہونے والوں میں ہلاک ہو گئے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:320/10:] اب فرمایا ولی کو قتل کے بدلے میں حد سے نہ گزر جانا چاہیئے کہ وہ قتل کے ساتھ مثلہ کرے۔ کان، ناک، کاٹے یا قاتل کے سوا اور سے بدلہ لے۔ ولی مقتول شریعت، غلبے اور مقدرت کے لحاظ سے ہر طرح مدد کیا گیا ہے۔
33۔ 1 حق کے ساتھ قتل کرنے کا مطلب قصاص میں قتل کرنا ہے، جس کو انسانی معاشرے کی زندگی اور امن و سکون کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح شادی شدہ زانی اور مرتد کو قتل کرنے کا حکم ہے۔ 33۔ 2 یعنی مقتول کے وارثوں کو یہ حق یا غلبہ یا طاقت دی گئی ہے کہ وہ قاتل کو حاکم وقت کے شرعی فیصلہ کے بعد قصاص میں قتل کردیں یا اس سے دیت لے لیں یا معاف کردیں اور اگر قصاص ہی لینا ہے تو اس میں زیادتی نہ کریں کہ ایک کے بدلے میں دو یا تین چار کو مار دیں، یا اس کا مثلہ کر کے یا عذاب دے کر ماریں، مقتول کا وارث، مدد دیا گیا ہے، یعنی امرا و احکام کو اس کی مدد کرنے کی تاکید کی گئی ہے، اس لئے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے نہ یہ کہ زیادتی کا ارتکاب کر کے اللہ کی ناشکری کرے۔
(آیت 33) ➊ { وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ …:} انسانی جان اور عزت کی حفاظت کے لیے قتل اولاد اور زنا کے قریب جانے سے منع کرنے کے بعد اب کسی بھی شخص کو ناحق قتل کرنے سے منع فرمایا۔ قتل مسلم کب ناحق ہے اور کب حق؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِیءٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ، وَ أَنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ إِلاَّ بِإِحْدٰی ثَلاَثٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِيْ، وَالْمُفَارِقُ لِدِيْنِهِ التَّارِكُ لِلْجَمَاعَةِ] [بخاری، الدیات، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «إن النفس بالنفس…» : ۶۸۷۸، عن عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ] ”کسی مسلمان کو، جو کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ پڑھتا ہو، قتل کرنا حلال نہیں، مگر تین چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ، جان کے بدلے جان، غیر کنوارا زانی اور اپنے دین کو ترک کرنے والا، جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا۔“ مگر یہ حصر حقیقی نہیں ہے، کیونکہ بعض دوسرے جرائم میں بھی قتل کا جواز ثابت ہے، مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینا اور محرم کے ساتھ نکاح کرنا وغیرہ۔ (بخاری: ۱۸۴۶۔ ابوداؤد: ۴۴۵۶) اس قتل میں خودکشی بھی داخل ہے، یعنی اپنے آپ کو قتل کرنا بھی جائز نہیں۔ (دیکھیے نساء: ۲۹) قتل عمد کی قباحت کے لیے ملاحظہ فرمائیں سورۂ نساء (۹۳)۔ ➋ { وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًا:} اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو ناحق قتل کردے تو مقتول کے ولی کو اللہ تعالیٰ نے پورا اختیار دیا ہے کہ چاہے تو قصاص لے لے، چاہے دیت لے لے، یا دیت کے بغیر معاف کر دے۔ {”سُلْطٰنًا“} کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلم حکمران پر لازم ہے کہ وہ اسے ان تینوں باتوں کا اختیار دے، پھر اگر وہ قصاص لینا چاہے تو اسے قصاص دلوائے، اگر قاتل یا اس کے ساتھی مزاحمت کریں تو شریعت کی بغاوت پر ان سے جنگ کرے۔ یہ قصاص معاشرے میں سے قتل ناحق کو ختم کرنے کا واحد طریقہ ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۸، ۱۷۹) کفار کے معاشروں میں بدامنی اور بے شمار قتل قصاص نہ ہونے ہی کی وجہ سے ہیں۔ اب مسلم حکمرانوں نے بھی ایک آدھ کے علاوہ قصاص کے حکم اور اس کے شرعی طریقے کو چھوڑ کر کفار کا قانون اپنایا تو اس کے نتیجے میں وہ بھی امن کے بجائے خوف اور بدامنی کا شکار ہوگئے۔ کفار کے ملکوں کی طرح نہ وہاں کسی کی جان محفوظ ہے، نہ مال، نہ عزت وآبرو اور اسے ترقی قرار دیا جا رہا ہے۔ ➌ { فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ:} قصاص لیتے وقت قتل میں زیادتی یہ ہے کہ قاتل کے بجائے کسی اور کو قتل کر دے، یا قاتل کے ساتھ انھیں بھی قتل کرے جو قتل میں شریک نہیں ہیں، یا قتل سے پہلے مثلہ کرے، یعنی اس کے اعضا کاٹے یا مختلف طریقوں سے تکلیف دے دے کر مار دے۔ اس میں صرف یہ استثنا ہے کہ قاتل نے جس طریقے سے قتل کیا ہے اس طریقے سے اسے قتل کر سکتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۹۴)، سورۂ نحل (۱۲۶) اور سورۂ بقرہ کی آیات قصاص (۱۷۸، ۱۷۹)۔ ➍ { اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا:} یعنی مسلم حکومت اور تمام مسلمان اس کی مدد کریں گے، ان سب پر اس کی مدد لازم ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ بھی دنیا اور آخرت میں اس کی نصرت فرمائے گا۔
ما ل یتیم کے پاس نہ پھٹکو مگر احسن طریقے سے، یہاں تک کہ وہ اپنے شباب کو پہنچ جائے عہد کی پابندی کرو، بے شک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ بجز اس طریقہ کے جو بہت ہی بہتر ہو، یہاں تک کہ وه اپنی بلوغت کو پہنچ جائے اور وعدے پورے کرو کیونکہ قول وقرار کی باز پرس ہونے والی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یتیم کے مال کے پاس تو جاؤ مگر اس راہ سے جو سب سے بھلی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچے اور عہد پورا کرو بیشک عہد سے سوال ہونا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ سوائے احسن طریقہ کے یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کے سن و سال (جوانی) تک پہنچ جائے اور (اپنے عہد) کو پورا کرو بے شک عہد کے بارے میں تم سے بازپرس کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور یتیم کے مال کے قریب نہ جائو، مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کا سوال ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یتیم کا مال ٭٭
یتیم کے مال میں بد نیتی سے ہیر پھیر نہ کرو، «وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا» ۱؎ [4-النساء:2] ان کے مال ان کی بلوغت سے پہلے صاف کر ڈالنے کے ناپاک ارادوں سے بچو۔ «وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا ۚ وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ» ۱؎ [4-النساء:6] جس کی پرورش میں یہ یتیم بچے ہوں اگر وہ خود مالدار ہے تب تو اسے ان یتیموں کے مال سے بالکل الگ رہنا چاہیئے اور اگر وہ فقیر محتاج ہے تو خیر بقدر معروف کھالے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا میں تو تجھے بہت کمزور دیکھ رہا ہوں اور تیرے لیے وہی پسند فرماتا ہوں، جو خود اپنے لیے چاہتا ہوں۔ خبردار کبھی دو شخصوں کا والی نہ بننا اور نہ کبھی یتیم کے مال کا متولی بننا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1826] پھر فرماتا ہے وعدہ وفائی کیا کرو جو وعدے وعید جو لین دین ہو جائے اس کی پاسبانی کرو اس کی بابت قیامت کے دن جواب دہی ہو گی۔ ناپ پیمانہ پورا پورا بھر کر دیا کرو لوگوں کو ان کی چیز گھٹا کر کم نہ دو۔ «قِسْطَاسِ» کی دوسری قرأت «قَسْطَاسْ» بھی ہے پھر حکم ہوتا ہے بغیر پاسنگ کی صحیح وزن بتانے والی سیدھی ترازو سے بغیر ڈنڈی مارے تولا کرو، دونوں جہان میں تم سب کے لیے یہی بہتری ہے۔ دنیا میں بھی یہ تمہارے لین دین کی رونق ہے اور آخرت میں بھی یہ تمہارے چھٹکارے کی دلیل ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اے تاجرو تمہیں ان دو چیزوں کو سونپا گیا ہے جن کی وجہ سے تم سے پہلے کے لوگ برباد ہو گئے یعنی ناپ تول۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی حرام پر قدرت رکھتے ہوئے صرف خوف اللہ سے اسے چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں اسے اس سے بہتر چیز عطا فرمائے گا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22306:مرسل]
34۔ 1 کسی کی جان کو ناجائز طریقے سے ضائع کرنے کی ممانعت کے بعد، اتلاف مال (مال کے ضائع کرنے) سے روکا جا رہا ہے اور اس میں یتیم کا مال سب سے زیادہ اہم ہے، اس لئے فرمایا کہ یتیم کے بالغ ہونے تک اس کے مال کو ایسے طریقے سے استعمال کرو، جس میں اس کا فائدہ ہو۔ یہ نہ ہو کہ سوچے سمجھے بغیر ایسے کاروبار میں لگا دو کہ وہ ضائع یا خسارے سے دو چار ہوجائے۔ یا عمر شعور سے پہلے تم اسے اڑا ڈالو۔ 34۔ 2 عہد سے وہ میثاق بھی مراد ہے جو اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ہے اور وہ بھی جو انسان آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ دونوں قسم کے عہدوں کا پورا کرنا ضروری ہے اور نقص عہد کی صورت میں باز پرس ہوگی۔
(آیت 34) ➊ { وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ …:} احسن یہ کہ ہر طرح اس کی حفاظت کرو، اسے کسی کاروبار میں لگا کر بڑھانے کی کوشش کرو، جب جوان ہو جائے تو اس کا مال اس کے سپرد کر دو، یا اس سے اجازت لے کر کاروبار کرو۔ اس مضمون کی تفصیل سورۂ نساء (۲ تا ۱۴) میں ملاحظہ فرمائیں۔ ➋ { وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ …:} اس میں وہ عہد شامل ہے جو اللہ تعالیٰ سے یا بندوں سے کیا جائے، کیونکہ عہد کے متعلق سوال ہو گا اور جو عہد واقرار توڑے گا اسے سزا ملے گی۔
پیمانے سے دو تو پورا بھر کر دو، اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو یہ اچھا طریقہ ہے اور بلحاظ انجام بھی یہی بہتر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ناپنے لگو تو بھر پور پیمانے سے ناپو اور سیدھی ترازو سے توﻻ کرو۔ یہی بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت اچھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ماپو تو پورا ماپو اور برابر ترازو سے تولو، یہ بہتر ہے اور اس کا انجام اچھا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ناپو تولو تو ناپ پوری پوری رکھا کرو اور جب تولو تو صحیح ترازو سے تولو یہی بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہت اچھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ماپ کو پورا کرو، جب ماپو اور سیدھی ترازو کے ساتھ وزن کرو۔ یہ بہترین ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت زیادہ اچھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یتیم کا مال ٭٭
یتیم کے مال میں بد نیتی سے ہیر پھیر نہ کرو، «وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا» ۱؎ [4-النساء:2] ان کے مال ان کی بلوغت سے پہلے صاف کر ڈالنے کے ناپاک ارادوں سے بچو۔ «وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا ۚ وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ» ۱؎ [4-النساء:6] جس کی پرورش میں یہ یتیم بچے ہوں اگر وہ خود مالدار ہے تب تو اسے ان یتیموں کے مال سے بالکل الگ رہنا چاہیئے اور اگر وہ فقیر محتاج ہے تو خیر بقدر معروف کھالے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا میں تو تجھے بہت کمزور دیکھ رہا ہوں اور تیرے لیے وہی پسند فرماتا ہوں، جو خود اپنے لیے چاہتا ہوں۔ خبردار کبھی دو شخصوں کا والی نہ بننا اور نہ کبھی یتیم کے مال کا متولی بننا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1826] پھر فرماتا ہے وعدہ وفائی کیا کرو جو وعدے وعید جو لین دین ہو جائے اس کی پاسبانی کرو اس کی بابت قیامت کے دن جواب دہی ہو گی۔ ناپ پیمانہ پورا پورا بھر کر دیا کرو لوگوں کو ان کی چیز گھٹا کر کم نہ دو۔ «قِسْطَاسِ» کی دوسری قرأت «قَسْطَاسْ» بھی ہے پھر حکم ہوتا ہے بغیر پاسنگ کی صحیح وزن بتانے والی سیدھی ترازو سے بغیر ڈنڈی مارے تولا کرو، دونوں جہان میں تم سب کے لیے یہی بہتری ہے۔ دنیا میں بھی یہ تمہارے لین دین کی رونق ہے اور آخرت میں بھی یہ تمہارے چھٹکارے کی دلیل ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اے تاجرو تمہیں ان دو چیزوں کو سونپا گیا ہے جن کی وجہ سے تم سے پہلے کے لوگ برباد ہو گئے یعنی ناپ تول۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی حرام پر قدرت رکھتے ہوئے صرف خوف اللہ سے اسے چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں اسے اس سے بہتر چیز عطا فرمائے گا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22306:مرسل]
35۔ 1 اجر وثواب کے لحاظ سے بہتر ہے، علاوہ ازیں لوگوں کے اندر اعتماد پیدا کرنے میں ناپ تول میں دیانت داری مفید ہے
(آیت 35) {وَ اَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ …: ” الْكَيْلَ “} سے مراد کسی برتن وغیرہ کو پیمانہ بنا کر غلہ وغیرہ کو ماپنا، مثلاً صاع (ٹوپا) اور مد (پڑوپی) وغیرہ۔ وزن کا معنی تولنا، مثلاً کلو وغیرہ۔ {”اَلْقِسْطَاسُ“} ترازو۔ مجاہد نے فرمایا، رومی میں قسطاس عدل کو کہتے ہیں۔ {”تَاْوِيْلًا “} (انجام) یہ {”أَوْلٌ“} سے مشتق ہے جس کا معنی رجوع ہے، یعنی کوئی کام جس نتیجہ کی طرف پلٹتا ہے، تعبیر کو بھی تاویل کہتے ہیں اور کسی چیز کے اصل مفہوم و مطلب کو بھی۔ انجام کے لحاظ سے بہتر اس لیے کہ پورے ماپ اور تول کی وجہ سے سب لوگوں کا اس پر اعتماد قائم ہو جائے گا، اس کے کاروبار میں برکت اور ترقی ہو گی اور یہ شخص قیامت کے دن کی رسوائی اور لوگوں کے حقوق کے مطالبہ سے محفوظ رہے گا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مطففین کی ابتدائی آیات۔
کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو یقیناً آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ۔ کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں ہے اس کے پیچھے نہ پڑو یقیناً کان، آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں (تم سے) بازپرس کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس چیز کا پیچھا نہ کر جس کا تجھے کوئی علم نہیں۔ بے شک کان اور آنکھ اور دل، ان میں سے ہر ایک، اس کے متعلق سوال ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بلا تحقیق فیصلہ نہ کرو ٭٭
یعنی جس بات کا علم نہ ہو اس میں زبان نہ ہلاؤ۔ بغیر علم کے کسی کی عیب جوئی اور بہتان بازی نہ کرو۔ جھوٹی شہادتیں نہ دیتے پھرو۔ بن دیکھے نہ کہہ دیا کرو کہ میں نے دیکھا، نہ بےسنے سننا بیان کرو، نہ بےعلمی پر اپنا جاننا بیان کرو۔ کیونکہ ان تمام باتوں کی جواب دہی اللہ کے ہاں ہو گی۔ غرض وہم خیال اور گمان کے طور پر کچھ کہنا منع ہو رہا ہے۔ جیسے فرمان قرآن ہے آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ» ۱؎ [49-الحجرات:12] ’ زیادہ گمان سے بچو، بعض گمان گناہ ہیں۔ ‘ حدیث میں ہے { گمان سے بچو، گمان بدترین جھوٹی بات ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6066] ابوداؤد کی حدیث میں ہے { انسان کا یہ تکیہ کلام بہت ہی برا ہے کہ لوگ خیال کرتے ہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4972،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے { بدترین بہتان یہ ہے کہ انسان جھوٹ موٹ کوئی خواب گھڑلے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:7043] اور صحیح حدیث میں ہے { جو شخص ایسا خواب از خود گھڑلے قیامت کے دن اسے یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ دو جو کے درمیان گرہ لگائے اور یہ اس سے ہرگز نہیں ہونا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:7042] قیامت کے دن آنکھ کان دل سب سے بازپرس ہو گی سب کو جواب دہی کرنی ہو گی۔ یہاں «تِلْکَ» کی جگہ «أُولَٰئِكَ» کا استعمال ہے، عرب میں یہ استعمال برابر جاری ہے یہاں تک کہ شاعروں کے شعروں میں بھی۔ مثلاً «ذم المنازل بعد منزلة اللوى والعيش بعد أولئك الأيام» ۔
36۔ 1 فَفَا یَقْفُوْ کے معنی ہیں پیچھے لگنا، یعنی جس چیز کا علم نہیں، اس کے پیچھے مت لگو، یعنی بدگمانی مت کرو، کسی کی ٹوہ میں مت رہو، اسی طرح جس چیز کا علم نہیں، اس پر عمل مت کرو۔ 36۔ 2 یعنی جس چیز کے پیچھے تم پڑو گے اس کے متعلق کان سے سوال ہوگا کہ کیا اس نے سنا تھا، آنکھ سے سوال ہوگا کیا اس نے دیکھا تھا اور دل سے سوال ہوگا کیا اس نے جانا تھا؟ کیونکہ یہی تینوں علم کا ذریعہ ہیں۔ یعنی ان اعضا کو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن قوت گویائی عطا فرمائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا۔
(آیت 36) ➊ {وَ لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ:” لَا تَقْفُ “ ”قَفَا يَقْفُوْ“} (ن) سے نہی کا صیغہ ہے، جس کا معنی پیچھے چلنا ہے۔ {” قَفَوْتُ أَثَرَ فُلاَنٍ“} ”میں فلاں کے نقش قدم پر چلا۔“ {”قَفَا“} گردن کے پچھلے حصے (گدی) کو کہتے ہیں، قافیہ ہر شعر کے آخر میں آنے والا لفظ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مبارک نام {”اَلْمُقَفِّيْ“} بھی ہے، یعنی سب سے پیچھے آنے والا۔(مستدرک حاکم: ۴۱۸۵) یعنی جس قول یا فعل کے درست ہونے کا علم یعنی یقین نہ ہو اس کا پیچھا مت کرو، مطلب یہ کہ نہ خود اس پر عمل کرو نہ آگے کسی کو بتاؤ۔ علم وہ ہے جس کا یقین ہو، صرف گمان کے پیچھے چلنا منع ہے، کیونکہ گمان علم نہیں ہوتا، فرمایا: «وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ» [ النجم: ۲۸ ] ”حالانکہ انھیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيْثِ ] [ بخاری، الأدب، باب: «یأیھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن…» : ۶۰۶۶ ] ”گمان سے بچو، یقینا گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔“ اسی طرح سنی سنائی بات بلا تحقیق بیان کرنا بھی منع ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كَفَی بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُّحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ ] [مسلم، المقدمۃ، باب النھی عن الحدیث بکل ما سمع: ۵، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”آدمی کو جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر وہ بات آگے بیان کر دے جو اس نے سنی ہو۔“ علاوہ ازیں جھوٹی گواہی، کوئی بھی تہمت، جھوٹا خواب بیان کرنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اس کے صحیح ہونے کا علم ہونے کے بغیر بیان کرنا، قرآن و حدیث کی موجودگی میں کسی کی شخصی رائے یا قیاس پر عمل کرنا (تقلید کرنا) یہ سب چیزیں اس میں شامل ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان سب سے منع فرمایا ہے۔ ➋ {اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ …: } یہاں {” كُلُّ اُولٰٓىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔوْلًا “} سے مراد وہ شخص بھی ہو سکتا ہے جس کے کان، آنکھیں اور دل ہیں، یعنی آدمی سے ان تینوں چیزوں میں سے ہر ایک کے بارے میں سوال کیا جانے والا ہے کہ تونے ان اعضا کو کہاں استعمال کیا ہے؟ جس چیز کا علم نہیں تھا اس کا پیچھا کرنے میں اللہ کے عطا کردہ اعضا کیوں استعمال کیے؟ (دیکھیے حجر: ۹۲، ۹۳) اور {” كُلُّ اُولٰٓىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔوْلًا “} کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کان، آنکھیں اور دل میں سے ہر ایک سے خود اس کے متعلق سوال ہونے والا ہے کہ بتاؤ تمھیں اس شخص نے کہاں اور کیسے استعمال کیا۔ دیکھیے سورۂ یس (۶۵) اور حم السجدہ (۱۹ تا ۲۳) بہرحال قرآن کی آیات میں یہ دونوں مفہوم موجود ہیں، دونوں صورتوں میں قیامت کے دن کی اس ہولناک پیشی سے ڈرایا گیا ہے۔ اس آیت کی ہم معنی یہ آیات بھی ملاحظہ فرمائیں سورۂ اعراف (۳۳) اور سورۂ بقرہ (۱۶۸، ۱۶۹)۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ چند الفاظ اسلام کے مکمل منہج کی ترجمانی کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ انسان پر لازم ہے کہ اس بات کی اپنی حد تک پوری تحقیق کر لے کہ میری زبان جو بات کہہ رہی ہے، یا واقعہ بیان کر رہی ہے، یا روایت نقل کر رہی ہے، یا میری عقل جو فیصلہ کر رہی ہے، یا جو کچھ میں نے قطعی طے کیا، یا جو کام میں کرنے جا رہا ہوں اس کا مجھے پورا علم ہے اور میں اس کے نتائج کو پوری طرح جانتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی قرآن نے بات کا رخ تکبر سے ممانعت کی طرف موڑ دیا، کیونکہ یہ انسان کے اپنی حقیقت سے حد سے زیادہ لا علم ہونے کی دلیل ہے۔
زمین میں اکڑ کر نہ چلو، تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو، نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور زمین میں اکڑ کر نہ چل کہ نہ تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ لمبائی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا، اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا
علامہ محمد حسین نجفی
اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چلو کیونکہ تم (اس طرح چلنے سے) نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ لمبائی میں پہاڑوں تک پہنچ سکتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، بے شک تو نہ کبھی زمین کو پھاڑے گا اور نہ کبھی لمبائی میں پہاڑوں تک پہنچے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تکبر کے ساتھ چلنے کی ممانعت ٭٭
اکڑ کر، اترا کر، تکبر کے ساتھ چلنے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو منع فرماتا ہے۔ یہ عادت سرکش اور مغرور لوگوں کی ہے۔ پھر اسے نیچا دکھانے کے لیے فرماتا ہے کہ گو کتنے ہی بلند سر ہو کر چلو لیکن پہاڑ کی بلندی سے پست ہی رہو گے اور گو کیسے ہی کھٹ پٹ کرتے ہوئے پاؤں مار مار کر چلو لیکن زمین کو پھاڑنے سے رہے۔ بلکہ ایسے لوگوں کا حال برعکس ہوتا ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے کہ { ایک شخص چادر جوڑے میں اتراتا ہوا چلا جارہا تھا جو وہیں زمین میں دھنسا دیا گیا جو آج تک دھنستا ہوا چلا جارہا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5789] قرآن میں قارون کا قصہ موجود ہے کہ وہ مع اپنے محلات کے زمین دوز کر دیا گیا۔ ہاں تواضع، نرمی، فروتنی اور عاجزی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بلند کرتا ہے وہ اپنے آپ کو حقیر سمجھتا ہے اور لوگ اسے جلیل القدر سمجھتے ہیں اور تکبر کرنے والا اپنے تئیں بڑا آدمی سمجھتا ہے اور لوگوں کی نگاہوں میں وہ ذلیل و خوار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے کتوں اور سوروں سے بھی زیادہ حقیر جانتے ہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2659] امام ابوبکر بن ابی الدنیا رحمہ اللہ اپنی کتاب المحمول والتواضع میں لائے ہیں کہ ابن الاہیم دربار منصور میں جا رہا تھا ریشمی جبہ پہنے ہوئے تھا اور پنڈلیوں کے اوپر سے اسے دوہرا سلوایا تھا کہ نیچے سے قباء بھی دکھائی دیتی رہے اور اکڑتا اینڈتا جا رہا تھا۔
حسن رحمہ اللہ نے اسے اس حالت میں دیکھ کر فرمایا افوہ نک چڑھا، بل کھایا، رخساروں پھولا، اپنے ڈنڈ بازو دیکھتا، اپنے تیئں تولتا، سمتوں کے ذکر و شکر کو بھولا، رب کے احکام کو چھوڑے ہوئے، اللہ کے حق کو توڑا، دیوانوں کی چال چلتا، عضو عضو میں کسی کی دی ہوئی نعمت رکھتا، شیطان کی لعنت کا مارا ہوا دیکھو جا رہا ہے۔ ابن الاہیم نے سن لیا اور اسی وقت لوٹ آیا اور عذر بہانہ کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا مجھ سے کیا معذرت کرتا ہے اللہ تعالیٰ سے توبہ کر اور اسے ترک کر۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا آیت «وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:37] ۱؎ [ابن ابی دنیا:237] عابد بختری رحمہ اللہ نے آل علی میں سے ایک شخص کو اکڑتے ہوئے چلتا دیکھ کر فرمایا اے شخص جس نے تجھے یہ اکرام دیا ہے اس کی روش ایسی نہ تھی۔ اس نے اسی وقت توبہ کر لی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک ایسے شخص کو دیکھ کر فرمایا جو اکڑ اکڑ کر چل رہا تھا کہ شیطان کے یہی بھائی ہوتے ہیں۔ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں لوگو اکڑ اکڑ کر چلنا چھوڑو اس لیے کہ انسان کے ہاتھ بھی اس کے باقی جسم میں سے ہیں۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ { جب میری امت غرور اور تکبر کی چال چلنے لگے گی اور فارسیوں اور رومیوں کو اپنی خدمت میں لگائے گی تو اللہ تعالیٰ ایک کو ایک پر مسلط کر دے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2261،قال الشيخ الألباني:صحیح] «سَيِّئُهُ» کی دوسری قرأت «سيئه» ہے تو معنی یہ ہوئے کہ جن جن کاموں سے ہم نے تمہیں روکا ہے یہ سب کام نہایت برے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ ہیں۔ یعنی اپنی اولاد کو قتل نہ کرو سے لے کر اکڑ کر نہ چلو تک کے تمام کام۔ اور «سيئه» کی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ آیت «وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:23] سے یہاں تک جو حکم احکام اور جو ممانعت اور روک بیان ہوئی اس میں جن برے کاموں کا ذکر ہے وہ سب اللہ کے نزدیک مکروہ کام ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہی توجیہ بیان فرمائی ہے۔
37۔ 1 اترا کر اور اکڑ کر چلنا، اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ قارون کو اسی بنا پر اس کے گھر اور خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا (فَخَسَفْنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الْاَرْضَ ۣ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ يَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۤ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِيْنَ) 28۔ القصص:81) حدیث میں آتا ہے ' ایک شخص دو چادریں پہنے اکڑ کر چل رہا تھا کہ اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت تک دھنستا چلا جائے گا۔ (صحیح مسلم) اللہ تعالیٰ کو عاجزی پسند ہے۔
(آیت 37) ➊ {وَ لَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا: ” مَرَحًا “} اصل میں حد سے بڑھی ہوئی خوشی کو کہتے ہیں، جس کے ساتھ تکبر اور لوگوں سے اونچا ہونے کا اظہار ہو۔ {” فِي الْاَرْضِ “} سے اس بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ تو اسی زمین سے پیدا ہوا اور اسی کی آغوش میں سمٹ جائے گا۔ (دیکھیے طٰہٰ: ۵۔ مرسلات: ۲۵ تا ۲۷) پھر اس پر یہ تکبر کیسا؟ اسلام کے سکھائے ہوئے ادب کے مطابق اپنی چال میں تواضع اور میانہ روی اختیار کر۔ دیکھیے سورۂ لقمان (۱۸، ۱۹) اور فرقان (۶۳)۔ ➋ { اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ …:} اس میں انسان کو اس کی حیثیت یاد دلائی گئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبر کا برا انجام بہت سی احادیث میں بیان فرمایا ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَّكُوْنَ ثَوْبُهُ حَسَنًا، وَنَعْلُهُ حَسَنَةً، قَالَ إِنَّ اللّٰهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ] [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر وبیانہ:۹۱ ] ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر کبر ہو گا۔“ ایک آدمی نے کہا: ”آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا خوبصورت ہو اور اس کا جوتا خوبصورت ہو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے، کبر تو حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔“ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ لَمْ يَنْظُرِ اللّٰهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ] [ بخاری، اللباس، باب من جر إزارہ…: ۵۷۸۴۔ مسلم: ۲۰۸۵ ] ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کو نہیں دیکھے گا جو اپنی چادر تکبر سے کھینچے۔“ افسوس کہ مسلمان مردوں نے کفار کی تقلید میں اپنی شلواریں، پتلونیں ٹخنوں سے نیچے رکھنے کو عادت بنا لیا ہے اور عذر یہ کرتے ہیں کہ ہم تکبر سے ایسا نہیں کرتے، حالانکہ اگر بے دھیانی میں بے اختیار کپڑا لٹک جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے تکبر سے ایسا نہیں کیا، لیکن جان بوجھ کر لمبی شلوار سلوانا اور اسے جان بوجھ کر ٹخنوں سے نیچے رکھنا صاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی اور واضح تکبر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے از خود چادر لٹکانے ہی کو تکبر میں شمار کیا ہے، چنانچہ جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ سے ایک لمبی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلٰی نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَی الْكَعْبَيْنِ وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيْلَةِ وَإِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيْلَةَ] [أبوداوٗد، اللباس، باب ما جاء في إسبال الإزار: ۴۰۸۴ ] ”اور اپنی چادر نصف پنڈلی تک اٹھاؤ، پھر اگر تم نہیں مانتے تو ٹخنوں تک اور (ٹخنوں سے نیچے) چادر لٹکانے سے بچو، کیونکہ یقینا یہ تکبر سے ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔“ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ بے دین لوگوں کا تو کہنا ہی کیا ہے، آج کل بہت سے لوگ بلکہ کئی جماعتیں جو پاکستان میں، بلکہ دنیا بھر میں اقامت دین کا علم اٹھائے ہوئے ہیں، ان کے مرد دھڑلے سے کپڑا ٹخنے سے نیچے رکھتے ہیں، بلکہ کپڑا اٹھانے والوں کو طنز و مزاح کا نشانہ بناتے ہیں، اس کے برعکس مسلم عورتوں کی اکثریت جنھیں اپنے پاؤں تک چھپانے تھے وہ کپڑا اٹھا کر اپنے حسن کی نمائش کرکے اللہ تعالیٰ کی لعنت کا نشانہ بن رہی ہے۔
اِن امور میں سے ہر ایک کا برا پہلو تیرے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان سب کاموں کی برائی تیرے رب کے نزدیک (سخت) ناپسند ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بُری بات تیرے رب کو ناپسند ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ان سب باتوں میں سے ہر بری بات اللہ کو سخت ناپسند ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ سب کام، ان کا برا تیرے رب کے ہاں ہمیشہ سے ناپسندیدہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تکبر کے ساتھ چلنے کی ممانعت ٭٭
اکڑ کر، اترا کر، تکبر کے ساتھ چلنے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو منع فرماتا ہے۔ یہ عادت سرکش اور مغرور لوگوں کی ہے۔ پھر اسے نیچا دکھانے کے لیے فرماتا ہے کہ گو کتنے ہی بلند سر ہو کر چلو لیکن پہاڑ کی بلندی سے پست ہی رہو گے اور گو کیسے ہی کھٹ پٹ کرتے ہوئے پاؤں مار مار کر چلو لیکن زمین کو پھاڑنے سے رہے۔ بلکہ ایسے لوگوں کا حال برعکس ہوتا ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے کہ { ایک شخص چادر جوڑے میں اتراتا ہوا چلا جارہا تھا جو وہیں زمین میں دھنسا دیا گیا جو آج تک دھنستا ہوا چلا جارہا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5789] قرآن میں قارون کا قصہ موجود ہے کہ وہ مع اپنے محلات کے زمین دوز کر دیا گیا۔ ہاں تواضع، نرمی، فروتنی اور عاجزی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بلند کرتا ہے وہ اپنے آپ کو حقیر سمجھتا ہے اور لوگ اسے جلیل القدر سمجھتے ہیں اور تکبر کرنے والا اپنے تئیں بڑا آدمی سمجھتا ہے اور لوگوں کی نگاہوں میں وہ ذلیل و خوار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے کتوں اور سوروں سے بھی زیادہ حقیر جانتے ہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2659] امام ابوبکر بن ابی الدنیا رحمہ اللہ اپنی کتاب المحمول والتواضع میں لائے ہیں کہ ابن الاہیم دربار منصور میں جا رہا تھا ریشمی جبہ پہنے ہوئے تھا اور پنڈلیوں کے اوپر سے اسے دوہرا سلوایا تھا کہ نیچے سے قباء بھی دکھائی دیتی رہے اور اکڑتا اینڈتا جا رہا تھا۔
حسن رحمہ اللہ نے اسے اس حالت میں دیکھ کر فرمایا افوہ نک چڑھا، بل کھایا، رخساروں پھولا، اپنے ڈنڈ بازو دیکھتا، اپنے تیئں تولتا، سمتوں کے ذکر و شکر کو بھولا، رب کے احکام کو چھوڑے ہوئے، اللہ کے حق کو توڑا، دیوانوں کی چال چلتا، عضو عضو میں کسی کی دی ہوئی نعمت رکھتا، شیطان کی لعنت کا مارا ہوا دیکھو جا رہا ہے۔ ابن الاہیم نے سن لیا اور اسی وقت لوٹ آیا اور عذر بہانہ کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا مجھ سے کیا معذرت کرتا ہے اللہ تعالیٰ سے توبہ کر اور اسے ترک کر۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا آیت «وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:37] ۱؎ [ابن ابی دنیا:237] عابد بختری رحمہ اللہ نے آل علی میں سے ایک شخص کو اکڑتے ہوئے چلتا دیکھ کر فرمایا اے شخص جس نے تجھے یہ اکرام دیا ہے اس کی روش ایسی نہ تھی۔ اس نے اسی وقت توبہ کر لی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک ایسے شخص کو دیکھ کر فرمایا جو اکڑ اکڑ کر چل رہا تھا کہ شیطان کے یہی بھائی ہوتے ہیں۔ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں لوگو اکڑ اکڑ کر چلنا چھوڑو اس لیے کہ انسان کے ہاتھ بھی اس کے باقی جسم میں سے ہیں۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ { جب میری امت غرور اور تکبر کی چال چلنے لگے گی اور فارسیوں اور رومیوں کو اپنی خدمت میں لگائے گی تو اللہ تعالیٰ ایک کو ایک پر مسلط کر دے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2261،قال الشيخ الألباني:صحیح] «سَيِّئُهُ» کی دوسری قرأت «سيئه» ہے تو معنی یہ ہوئے کہ جن جن کاموں سے ہم نے تمہیں روکا ہے یہ سب کام نہایت برے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ ہیں۔ یعنی اپنی اولاد کو قتل نہ کرو سے لے کر اکڑ کر نہ چلو تک کے تمام کام۔ اور «سيئه» کی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ آیت «وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:23] سے یہاں تک جو حکم احکام اور جو ممانعت اور روک بیان ہوئی اس میں جن برے کاموں کا ذکر ہے وہ سب اللہ کے نزدیک مکروہ کام ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہی توجیہ بیان فرمائی ہے۔
38۔ 1 یعنی جو باتیں مذکور ہوئیں، ان میں جو بھی بری ہیں، جن سے منع کیا گیا، وہ ناپسندیدہ ہیں
(آیت 38) ➊ {كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ …: ” وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ “} سے لے کر {” وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا “ } تک پچیس چیزیں بیان فرمائی ہیں، جن میں سے بعض کا حکم دیا گیا ہے اور بعض سے منع کیا گیا ہے۔ ان میں{ ”سَيِّئٌ“ } (بری) وہ ہیں جن سے منع کیا گیا ہے اور وہ چیزیں جن پر عمل کا حکم ہے انھیں بجا نہ لانا بھی {”سَيِّئٌ“} (برا) ہے۔ ان تمام چیزوں میں سے جو بری ہیں وہ ہمیشہ سے اللہ کے ہاں مکروہ (ناپسندیدہ) ہیں۔ ہمیشگی کا مفہوم {” كَانَ “} اد اکر رہا ہے۔ ➋ { مَكْرُوْهًا:} مکروہ کا لفظ فقہاء کی اصطلاح میں حرام سے کم تر درجے کا ہے، یعنی جس کا نہ کرنا اس کے کرنے سے بہتر ہو مگر قرآن و سنت کی اصطلاح میں مکروہ کا لفظ اکثر حرام کے معنی میں آتا ہے، جیسا کہ ان آیات میں منع کردہ تمام چیزیں حرام ہیں، فقہی اصطلاح والی مکروہ نہیں ہیں۔ اس لیے صحیح بخاری اور ترمذی وغیرہ میں باب قائم کرتے وقت لفظ کراہیت لکھا جاتا ہے مگر مراد اس سے حرمت ہی ہوتی ہے۔ بعض اوقات کتاب و سنت میں مکروہ کا لفظ فقہاء والے مکروہ کے معنی میں آتا ہے، مگر اکثر مقامات پر مکروہ کا لفظ حرام ہی کے معنی میں آتا ہے، جیسا کہ زیر تفسیر تمام آیات میں ہے۔
یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تجھ پر وحی کی ہیں اور دیکھ! اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا بیٹھ ورنہ تو جہنم میں ڈال دیا جائے گا ملامت زدہ اور ہر بھلائی سے محروم ہو کر
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ بھی منجملہ اس وحی کے ہے جو تیری جانب تیرے رب نے حکمت سے اتاری ہے تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنانا کہ ملامت خورده اور راندہٴ درگاه ہو کر دوزخ میں ڈال دیا جائے
احمد رضا خان بریلوی
یہ ان وحیوں میں سے ہے جو تمہارے رب نے تمہاری طرف بھیجی حکمت کی باتیں اور اے سننے والے اللہ ساتھ دوسرا خدا نہ ٹھہرا کہ تو جہنم میں پھینکا جائے گا طعنہ پاتا دھکے کھاتا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ سب باتیں حکمت و دانائی کی ان باتوں میں سے ہیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر وحی کی گئی ہیں اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ (خدا) قرار نہ دو ورنہ اس حال میں جہنم میں ڈالے جاؤگے کہ تم ملامت زدہ اور راندۂ بارگاہ ہوگے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس میں سے ہیں جو تیرے رب نے حکمت میں سے تیری طرف وحی کی اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود مت بنا، پس تو ملامت کیا ہوا، دھتکارا ہوا جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ذلیل کن عادتیں ٭٭
یہ احکام ہم نے دئیے ہیں۔ سب بہترین اوصاف ہیں اور جن باتوں سے ہم نے روکا ہے وہ بڑی ذلیل خصلتیں ہیں۔ ہم یہ سب باتیں تیری طرف بذریعہ وحی کے نازل فرما رہے ہیں کہ تو لوگوں کو حکم دے اور منع کرے۔ دیکھ میرے ساتھ کسی کو معبود نہ ٹھیرانا ورنہ وہ وقت آئے گا کہ خود اپنے آپ کو ملامت کرنے لگے گا اور اللہ کی طرف سے بھی ملامت ہو گی بلکہ تمام اور مخلوق کی طرف سے بھی۔ اور تو ہر بھلائی سے دور کر دیا جائے گا۔ اس آیت میں بواسطہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت سے خطاب ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو معصوم ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 39){ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَيْكَ …:} نصیحت کی ابتدا {” وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ “} سے ہوئی تھی اور اسی کے ساتھ بات ختم فرمائی۔ اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۲۲) کی تفسیر۔
کیسی عجیب بات ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تو بیٹوں سے نوازا اور خود اپنے لیے ملائکہ کو بیٹیاں بنا لیا؟ بڑی جھوٹی بات ہے جو تم لوگ زبانوں سے نکالتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا بیٹوں کے لئے تو اللہ نے تمہیں چھانٹ لیا اور خود اپنے لئے فرشتوں کو لڑکیاں بنالیں؟ بےشک تم بہت بڑا بول بول رہے ہو
احمد رضا خان بریلوی
کیا تمہارے رب نے تم کو بیٹے چن دیے اور اپنے لیے فرشتوں سے بیٹیاں بنائیں بیشک تم بڑا بول بولتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تمہارے پروردگار نے تمہیں تو بیٹوں کے لئے منتخب کر لیا اور خود اپنے لئے فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا؟ اس میں شک نہیں ہے کہ تم بڑی سخت بات کہتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
پھر کیا تمھارے رب نے تمھیں بیٹوں کے ساتھ چن لیا اور خود فرشتوں میں سے بیٹیاں بنا لی ہیں؟ بے شک تم یقینا ایک بہت بڑی بات کہہ رہے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مجرمانہ سوچ پر تبصرہ ٭٭
ملعون مشرکوں کی تردید ہو رہی ہے کہ یہ تم نے خوب تقسیم کی ہے کہ بیٹے تمہارے اور بیٹیاں اللہ کی۔ جو تمہیں ناپسند جن سے تم جلو کڑھو بلکہ زندہ درگور کر دو انہیں اللہ کے لیے ثابت کرو۔ اور آیتوں میں بھی ان کا یہ کمینہ پن بیان ہوا ہے کہ «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا * لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا * تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا * أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا * وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا * إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا * لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا * وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:88-95] یہ کہتے ہیں رب رحمان کی اولاد ہے حقیقتاً انکا یہ قول نہایت ہی برا ہے بہت ممکن ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائے، زمین شق ہو جائے، پہاڑ چورا چورا ہو جائیں کہ یہ اللہ رحمان کی اولاد ٹھہرا رہے ہیں حالانکہ اللہ کو یہ کسی طرح لائق ہی نہیں۔ زمین و آسمان کی کل مخلوق اس کی غلام ہے۔ سب اس کے شمار میں ہیں اور گنتی میں اور ایک ایک اس کے سامنے قیامت کے دن تنہا پیش ہونے والا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 40){ اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِيْنَ …:} اس آیت میں مشرکین عرب کی جہالت پر طنز ہے، جو یہ کہہ کر فرشتوں کی عبادت کرتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ دیکھیے سورۂ نجم (۲۱، ۲۲، ۲۷، ۲۸)، زخرف (۱۹) اور نحل (۵۷، ۵۸) فرمایا کتنی بڑی بات کہہ رہے ہو کہ وہ جو ہر شے کا خالق و مالک ہے، اس نے تمھیں اولاد میں سے بیٹوں کے لیے خاص کر لیا جو افضل ہیں اور اپنے لیے بیٹیاں بنا لیں جنھیں تم نہایت ردی اور باعث عار سمجھتے ہو اور بعض اوقات زندہ دفن کرنے سے بھی باز نہیں آتے، یقینا یہ بہت بڑی گستاخی کی بات ہے۔ اگر اس نے اولاد بنانی ہی تھی تو وہ جس طرح کی چاہتا بنا لیتا، پھر وہ محض بیٹیاں ہی کیوں رکھتا؟ (دیکھیے زمر: ۴) وہ تو بیٹے بیٹیوں سے ہے ہی پاک، کیونکہ یہ محتاجی کی دلیل ہے۔ دیکھیے سورۂ اخلاص کی تفسیر، سورۂ بنی اسرائیل کی آخری آیت اور مریم کی آیات (۸۸ تا ۹۵)۔
ہم نے اِس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ ہوش میں آئیں، مگر وہ حق سے اور زیادہ دور ہی بھاگے جا رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے تو اس قرآن میں ہر ہر طرح بیان فرما دیا کہ لوگ سمجھ جائیں لیکن اس سے انہیں تو نفرت ہی بڑھتی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان فرمایا کہ وہ سمجھیں اور اس سے انھیں نہیں بڑھتی مگر نفرت
علامہ محمد حسین نجفی
اور بے شک ہم نے (مطالبِ حقہ کو) اس قرآن میں مختلف انداز میں بار بار بیان کیا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں مگر (اس تکرار) نے ان کی نفرت میں اضافہ کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے اس قرآن میں پھیر پھیر کر بیان کیا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور وہ انھیں نفرت کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دلائل کے ساتھ ہدایت ٭٭
اس پاک کتاب میں ہم نے تمام مثالیں کھول کھول کر بیان فرما دی ہیں۔ وعدے وعید صاف طور پر مذکور ہیں تاکہ لوگ برائیوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچیں۔ لیکن تاہم ظالم لوگ تو حق سے نفرت رکھنے اور اس سے دور بھاگنے میں ہی بڑھ رہے ہیں۔
41۔ 1 ہر ہر طرح کا مطلب ہے، وعظ و نصیحت، دلائل و بینات اور مثالیں و واقعات، ہر طریقے سے بار بار سمجھایا گیا ہے تاکہ وہ سمجھ جائیں، لیکن وہ کفر شرک کی تاریکیوں میں اس طرح پھنسے ہوئے ہیں کہ وہ حق کے قریب ہونے کی بجائے، اور زیادہ دور ہوگئے ہیں۔ اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ قرآن جادو، کہانیاں اور شاعری ہے، پھر وہ اس قرآن سے کس طرح راہ یاب ہوں؟ کیونکہ قرآن کی مثال بارش کی ہے کہ اچھی زمین پر پڑے تو وہ بارش سے شاداب ہوجاتی ہے اور اگر وہ گندی ہے تو بارش سے بدبو میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
(آیت 41){ وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ …: ” نُفُوْرًا “} کا معنی نفرت، بدکنا، دور بھاگنا ہے۔ اس قرآن میں پھیر پھیر کر بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر ضروری بات کو تکرار کے ساتھ مختلف طریقوں سے بار بار بیان کیا ہے، تاکہ ان لوگوں کو نصیحت ہو، مگر نصیحت تو سننے سے ہوتی ہے، جب کہ یہ لوگ جس قدر سنانے کی کوشش کی جائے اسی قدر دور بھاگتے ہیں، سننا ہی نہیں چاہتے، پھر مانیں گے کیسے؟
اے محمدؐ، ان سے کہو کہ اگر اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہوتے، جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، تو وہ مالک عرش کے مقام پر پہنچنے کی ضرور کوشش کرتے
مولانا محمد جوناگڑھی
کہہ دیجیئے! کہ اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسے کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ضرور وه اب تک مالک عرش کی جانب راه ڈھونڈ نکالتے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اگر اس کے ساتھ اور خدا ہوتے جیسا یہ بکتے ہیں جب تو وہ عرش کے مالک کی طرف کوئی راہ ڈھونڈ نکالتے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے پیغمبر(ص)!) آپ کہہ دیجیے کہ اگر اس (خدا) کے ساتھ اور خدا بھی ہوتے جیساکہ یہ (کافر) کہتے ہیں تو وہ ضرور مالکِ عرش تک پہنچنے کا کوئی راستہ تلاش کرتے (اور مقابلہ تک نوبت پہنچ جاتی)۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اگر اس کے ساتھ کچھ اور معبود ہوتے، جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو اس وقت وہ عرش والے کی طرف کوئی راستہ ضرور ڈھونڈتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لوگو عقل کے ناخن لو ٭٭
جو مشرک اللہ کے ساتھ اوروں کی بھی عبادت کرتے ہیں اور انہیں شریک الٰہی مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہی کی وجہ سے ہم قرب الٰہی حاصل کرسکتے ہیں ان سے کہو کہ اگر تمہارا یہ گمان فاسد کچھ بھی جان رکھتا ہوتا اور اللہ کے ساتھ واقعی کوئی ایسے معبود ہوتے کہ وہ جسے چاہیں قرب الٰہی دلوادیں اور جس کی جو چاہیں سفارش کردیں تو خود وہ معبود ہی اس کی عبادت کرتے اس کا قرب ڈھونڈتے ہیں۔ پس تمہیں صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیئے، نہ اس کے سوا دوسرے کی عبادت، نہ دوسرے معبود کی کوئی ضرورت کہ اللہ میں اور تم میں وہ واسطہ بنے۔ اللہ کو یہ واسطے سخت ناپسند اور مکروہ معلوم ہوتے ہیں اور ان سے وہ انکار کرتا ہے اپنے تمام نبیوں رسولوں کی زبان سے اس سے منع فرماتا ہے۔ اس کی ذات ظالموں کے بیان کردہ اس وصف سے بالکل پاک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ان آلودگیوں سے ہمارا مولا پاک ہے، وہ واحمد اور صمد ہے، وہ ماں باپ اور اولاد سے پاک ہے، اس کی جنس کا کوئی نہیں۔
42۔ 1 اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ جس طرح ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ پر لشکر کشی کر کے غلبہ و قوت حاصل کرلیتا ہے، اسی طرح دوسرے معبود بھی اللہ پر غلبے کی کوئی راہ ڈھونڈ نکالتے۔ اور اب تک ایسا نہیں ہوا، جب کہ ان معبودوں کو پوجتے ہوئے صدیاں گزر گئی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود ہی نہیں، کوئی با اختیار ہی نہیں، دوسرے معنی ہیں کہ وہ اب تک اللہ کا قرب حاصل کرچکے ہوتے اور یہ مشرکین جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے ذریعے سے وہ اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں، انھیں بھی وہ اللہ کے قریب کرچکے ہوتے
(آیت 42) ➊ {قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ …: } یعنی اس سے لڑنے اور اس کا تخت الٹ دینے کے لیے جاتے، کیونکہ وہ بھی اپنے کو معبود سمجھتے ہوتے اور جب ایسا نہیں ہوا اور تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کا نظام خالص اپنی مرضی سے چلا رہا ہے اور یہ نظام اپنی پوری ہم آہنگی اور تناسب سے چل رہا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کے مقابلے میں تم نے جتنی زندہ یا مردہ ہستیوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے، وہ سب باطل و بے حقیقت چیزیں ہیں۔ اس آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ مومنون (۹۱، ۹۲) اور انبیاء (۲۲)۔ ➋ اس آیت سے معلوم ہوا کہ عرش پر ہونا صرف رب تعالیٰ کی صفت ہے، کوئی بھی مخلوق عرش پر نہیں جا سکتی، جو لوگ بیان کرتے ہیں کہ معراج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرش پر گئے ان کی بات درست نہیں، کیونکہ یہ آیت اس کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بھی شخصیت کے عرش پر جانے کی کوئی دلیل ثابت نہیں۔ رہی یہ بات کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے یا نہیں؟ اس کی بحث سورۂ نجم کے شروع میں آئے گی۔ (ان شاء اللہ)
پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے اُن باتوں سے جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو کچھ یہ کہتے ہیں اس سے وه پاک اور باﻻتر، بہت دور اور بہت بلند ہے
احمد رضا خان بریلوی
اسے پاکی اور برتری ان کی باتوں سے بڑی برتری،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ پاک ہے اور کہیں برتر و بالا ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ کہتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پاک ہے وہ اور بہت بلند ہے اس سے جو یہ کہتے ہیں، بہت زیادہ بلند ہونا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لوگو عقل کے ناخن لو ٭٭
جو مشرک اللہ کے ساتھ اوروں کی بھی عبادت کرتے ہیں اور انہیں شریک الٰہی مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہی کی وجہ سے ہم قرب الٰہی حاصل کرسکتے ہیں ان سے کہو کہ اگر تمہارا یہ گمان فاسد کچھ بھی جان رکھتا ہوتا اور اللہ کے ساتھ واقعی کوئی ایسے معبود ہوتے کہ وہ جسے چاہیں قرب الٰہی دلوادیں اور جس کی جو چاہیں سفارش کردیں تو خود وہ معبود ہی اس کی عبادت کرتے اس کا قرب ڈھونڈتے ہیں۔ پس تمہیں صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیئے، نہ اس کے سوا دوسرے کی عبادت، نہ دوسرے معبود کی کوئی ضرورت کہ اللہ میں اور تم میں وہ واسطہ بنے۔ اللہ کو یہ واسطے سخت ناپسند اور مکروہ معلوم ہوتے ہیں اور ان سے وہ انکار کرتا ہے اپنے تمام نبیوں رسولوں کی زبان سے اس سے منع فرماتا ہے۔ اس کی ذات ظالموں کے بیان کردہ اس وصف سے بالکل پاک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ان آلودگیوں سے ہمارا مولا پاک ہے، وہ واحمد اور صمد ہے، وہ ماں باپ اور اولاد سے پاک ہے، اس کی جنس کا کوئی نہیں۔
43۔ 1 یعنی واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی بابت جو کہتے ہیں کہ اس کے شریک ہیں، اللہ تعالیٰ ان باتوں سے پاک اور بلند ہے
(آیت 43){ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِيْرًا:} یعنی مشرکین جو اللہ کے ساتھ کوئی معبود بناتے ہیں، یا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے ہر طرح پاک اور بے حد بلند ہے۔ اس کے مقابلے میں کسی کی کوئی مجال نہیں، وہی اس کائنات کا بلاشرکت ِ غیر خود مختار مالک و حاکم ہے۔
اُس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کر رہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بردبار اور درگزر کرنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔ وه بڑا بردبار اور بخشنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس کی پاکی بولتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں اور کوئی چیز نہیں جو اسے سراہتی ہوتی اس کی پاکی نہ بولے ہاں تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے بیشک وہ حلم والا بخشنے والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی بھی ان میں موجود ہیں اس کی تسبیح کرتے ہیں اور کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو۔ لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو بے شک وہ بڑا بردبار، بڑا بخشنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ساتوں آسمان اور زمین اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ بھی جو ان میں ہیں اور کوئی بھی چیز نہیں مگر اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔ بے شک وہ ہمیشہ سے بے حد بردبار، نہایت بخشنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سبحان العلی الاعلی ٭٭
ساتوں آسمان و زمین اور ان میں بسنے والی کل مخلوق اس کی قدوسیت، تسبیح، تنزیہ، تعظیم، جلالت، بزرگی، بڑائی، پاکیزگی اور تعریف بیان کرتی ہے اور مشرکین جو نکمے اور باطل اوصاف ذات حق کے لیے مانتے ہیں، ان سے یہ تمام مخلوق برات کا اظہار کرتی ہے اور اس کی الوہیت اور ربوبیت میں اسے واحد اور لا شریک مانتی ہے۔ ہر ہستی اللہ کی توحید کی زندہ شہادت ہے۔ ان نالائق لوگوں کے اقوال سے مخلوق تکلیف میں ہے۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائے، زمین دھنس جائے، پہاڑ ٹوٹ جائیں۔
طبرانی میں مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام ابراہیم اور زمزم کے درمیان سے جبرائیل و میکائیل مسجد اقصی تک شب معراج میں لے گئے، جبرائیل آپ کے دائیں تھے اور میکائیل بائیں۔ آپ کو ساتوں آسمان تک اڑا لے گئے وہاں سے آپ لوٹے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے بلند آسمانوں میں بہت سی تسبیحات کے ساتھ یہ تسبیح سنی کہ «سَبَّحَتْ السَّمَاوَات الْعُلَى مِنْ ذِي الْمَهَابَة مُشْفِقَات لِذِي الْعُلُوّ بِمَا عَلَا سُبْحَان الْعَلِيّ الْأَعْلَى سُبْحَانه وَتَعَالَى» } ۱؎ [طبرانی:243:اسنادہ ضعیف] مخلوق میں سے ہر ایک چیز اس کی پاکیزگی اور تعریف بیان کرتی ہے۔ لیکن اے لوگو تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے اس لیے کہ وہ تمہاری زبان میں نہیں۔ حیوانات، نباتات، جمادات سب اس کے تسبیح خواں ہیں۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں ثابت ہے کہ { کھانا کھاتے میں کھانے کی تسبیح ہم سنتے رہتے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3579] سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی میں چند کنکریاں لیں، میں نے خود سنا کہ وہ شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح تسبیح باری کر رہی تھیں۔ اسی طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں بھی۔ } ۱؎ [مسند بزار:2413] یہ حدیث صحیح میں اور مسندوں میں مشہور ہے۔ { کچھ لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنیوں اور جانوروں پر سوار کھڑے ہوئے دیکھ کر فرمایا کہ سواری سلامتی کے ساتھ لو اور پھر اچھائی سے چھوڑ دیا کرو، راستوں اور بازاروں میں اپنی سواریوں کو لوگوں سے باتیں کرنے کی کرسیاں نہ بنا لیا کرو۔ سنو بہت سی سواریاں اپنے سواروں سے بھی زیادہ ذکر اللہ کرنے والی اور ان سے بھی بہتر و افضل ہوتی ہیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:440/3:ضعیف] سنن نسائی میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کے مار ڈالنے کو منع فرمایا اور فرمایا اس کا بولنا تسبیح الٰہی ہے۔ } ۱؎ [طبرانی اوسط:3728:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» کا کلمہ اخلاص کہنے کے بعد ہی کسی کی نیکی قابل قبول ہوتی ہے۔ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کلمہ شکر ہے اس کا نہ کہنے والا اللہ کا ناشکرا ہے۔ «اﷲُ اَکْبَرُ» زمین و آسمان کی فضا بھر دیتا ہے، «سُبْحَانَ اﷲِ» کا کلمہ مخلوق کی تسبیح ہے۔ اللہ نے کسی مخلوق کو تسبیح اور نماز کے اقرار سے باقی نہیں چھوڑا۔ جب کوئی «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ» پڑھتا ہے تو اللہ فرماتا ہے میرا بندہ مطیع ہوا اور مجھے سونپا۔ }
مسند احمد میں ہے کہ { ایک اعرابی طیالسی جبہ پہنے ہوئے جس میں ریشمی کف اور ریشمی گھنڈیاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس شخص کا ارادہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ چرواہوں کے لڑکوں کو اونچا کرے اور سرداروں کے لڑکوں کو ذلیل کرے۔ آپ کو غصہ آگیا اور اس کا دامن گھسیٹتے ہوئے فرمایا کہ تجھے میں جانورں کا لباس پہنے ہوئے تو نہیں دیکھتا؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے آئے اور بیٹھ کر فرمانے لگے کہ نوح علیہ السلام نے اپنی وفات کے وقت اپنے بچوں کو بلا کر فرمایا کہ میں تمہیں بطور وصیت کے دو حکم دیتا ہوں اور دو ممانعت۔ ایک تو میں تمہیں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے منع کرتا ہوں دوسرے تکبر سے روکتا ہوں۔ پہلا حکم تو تمہیں یہ کرتا ہوں کہ «لا الہ الا اللہ» کہتے رہو اس لیے کہ اگر آسمان اور زمین اور ان کی تمام چیزیں ترازو کے پلڑے میں رکھ دی جائیں اور دوسرے میں صرف یہی کلمہ ہو تو بھی یہی کلمہ وزنی رہے گا۔ سو اگر تمام آسمان و زمین ایک حلقہ بنا دئے جائیں اور ان پر اس کو رکھ دیا جائے تو وہ انہیں پاش پاش کر دے، دوسرا حکم میرا «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» پڑھنے کا ہے کہ یہ ہر چیز کی نماز ہے اور اسی کی وجہ سے ہر ایک کو رزق دیا جاتا ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:169/2-225:صحیح] ابن جریر میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آؤ میں تمہیں بتلاؤں کہ نوح علیہ السلام نے اپنے لڑکے کو کیا حکم دیا فرمایا کہ پیارے بچے میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ سبحان اللہ کہا کرو، یہ کل مخلوق کی تسبیح ہے اور اسی سے مخلوق کو روزی دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہر چیز اس کی تسبیح و حمد بیان کرتی ہے } اس کی اسناد بوجہ ربذی راوی کے ضعیف ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22325::ضعیف] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ستون، درخت، دروازوں کی چولیں، ان کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز، پانی کی کھڑکھڑاہٹ یہ سب تسبیح الٰہی ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہر چیز حمد و ثنا کے بیان میں مشغول ہے۔ ابراہیم کہتے ہیں طعام بھی تسبیح خوانی کرتا ہے سورۃ الحج کی آیت بھی اس کی شہادت دیتی ہے۔ اور مفسرین کہتے ہیں کہ ہر ذی روح چیز تسبیح خواں ہے۔ جیسے حیوانات اور نباتات۔
ایک مرتبہ حسن رحمہ اللہ کے پاس خوان آیا تو ابویزید قاشی نے کہا کہ اے ابوسعید کیا یہ خوان بھی تسبیح گو ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں تھا۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک تر لکڑی کی صورت میں تھا تسبیح گو تھا جب کٹ کر سوکھ گیا تسبیح جاتی رہی۔ اس قول کی تائید میں اس حدیث سے بھی مدد لی جا سکتی ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرتے ہیں فرماتے ہیں انہیں عذاب کیا جا رہا ہے اور کسی بڑی چیز میں نہیں ایک تو پیشاب کے وقت پردے کا خیال نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خور تھا، پھر آپ نے ایک تر ٹہنی لے کر اس کے دو ٹکڑے کرکے دونوں قبروں پر گاڑ دئے اور فرمایا کہ شاید جب تک یہ خشک نہ ہوں، ان کے عذاب میں تخفیف رہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:218] اس سے بعض علماء نے کہا ہے کہ جب تک یہ تر رہیں گی تسبیح پڑھتی رہیں گی جب خشک ہو جائیں گی تسبیح بند ہو جائے گی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اللہ تعالیٰ حلیم و غفور ہے اپنے گنہگاروں کو سزا کرنے میں جلدی نہیں کرتا، تاخیر کرتا ہے، ڈھیل دیتا ہے، پھر بھی اگر کفر و فسق پر اڑا رہے تو اچانک عذاب مسلط کر دیتا ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے { اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے، پھر جب مواخذہ کرتا ہے تو نہیں چھوڑتا۔ } دیکھو قرآن میں ہے کہ «وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ» [11-هود:102] ’ جب تیرا رب کسی بستی کے لوگوں کو ان کے مظالم پر پکڑتا ہے تو پھر ایسی ہی پکڑ ہوتی ہے ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:4686] الخ اور آیت میں ہے کہ «وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَيَّ الْمَصِيرُ» ۱؎ [22-الحج:48] ’ بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے مہلت دی پھر آخر پکڑلیا۔ ‘ اور آیت میں ہے ’ ہاں جو گناہوں سے رک جائے، ان سے ہٹ جائے، توبہ کرے تو اللہ بھی اس پر رحم اور مہربانی کرتا ہے۔ ‘ جیسے آیت قرآن میں ہے «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [4-النساء:110] ’ جو شخص برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے؟ پھر استغفار کرے تو اللہ کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا۔ ‘ سورۃ فاطر کے آخر کی آیتوں «إِنَّ اللَّـهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا ۚ وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا * وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا * اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ ۚ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ ۚ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ ۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّـهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّـهِ تَحْوِيلًا * أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَكَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعْجِزَهُ مِن شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا» ۱؎ [35-فاطر:41-44] میں یہی بیان ہے۔
44۔ 1 یعنی سب اسی کے مطیع اور اپنے اپنے انداز میں اس کی تسبیح وتحمید میں مصروف ہیں۔ گو ہم ان کی تسبیح وتحمید کو نہ سمجھ سکیں۔ اس کی تائید بعض آیات قرآنی سے بھی ہوتی ہے مثلًا حضرت داؤد ؑ کے بارے میں آتا ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ) 38۔ ص:18) ' ہم نے پہاڑوں کو داؤد ؑ کے تابع کردیا ' بس وہ شام کو اور صبح کو اس کے ساتھ اللہ کی تسبیح (پاکی) بیان کرتے ہیں۔ ' بعض پتھروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَاِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْـيَةِ اللّٰهِ) 2۔ البقرۃ:74) اور بعض اللہ تعالیٰ کے ڈر سے گرپڑتے ہیں، ایک اور حدیث سے ثابت ہے کہ چیونٹیاں اللہ کی تسبیح کرتی ہیں، اسی طرح جس تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب لکڑی کا منبر بن گیا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا تو بچے کی طرح اس سے رونے کی آواز آتی تھی (بخاری نمبر 3583) مکہ میں ایک پتھر تھا جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا کرتا تھا (صحیح مسلم۔ 1782) ان آیات و صحیح حدیث سے واضح ہے کہ جمادات و نباتات کے اندر بھی ایک مخصوص قسم کا شعور موجود ہے، جسے گو ہم نہ سمجھ سکیں، مگر وہ اس شعور کی بنا پر اللہ کی تسبیح کرتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد تسبیح دلالت ہے یعنی یہ چیزیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ تمام کائنات کا خالق اور ہر چیز پر قادر صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وفی کل شیء لہ آیۃ۔ تدل علی انہ واحد۔ ہر چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے کہ تسبیح اپنے حقیقی معنی میں ہے۔
(آیت 44) ➊ {سُبْحٰنَهٗ …:} زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔ {”سَبَحَ يَسْبَحُ“} (ف) کا معنی پانی یا ہوا میں تیزی سے چلنا ہے۔ {”سَبَحَ سَبْحًا وَسِبَاحَةً“} ستاروں کا افلاک میں تیز چلنا، جیسا کہ فرمایا: «وَ كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ» [ یٰسٓ: ۴۰ ] ”اور سب ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔“ گھوڑے کا تیز چلنا، فرمایا: «وَ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا» [النازعات: ۳ ] البتہ باب تفعیل {”اَلتَّسْبِيْحُ“} کا معنی اللہ تعالیٰ کی تنزیہ، یعنی اسے ہر عیب اور کمی سے پاک قرار دینا ہے۔ اصل اس کا بھی اطاعت، عبادت اور پاکیزگی بیان کرنے میں مستعدی و تیزی دکھانا ہے۔ (ملخص از راغب) بعض مفسرین نے کہا، مراد یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں زبانِ حال سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کر رہی ہیں، یعنی ان کی حالت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ انھیں بنانے والا ہر قسم کے عیب سے یا عاجز ہونے سے پاک ہے۔ مگر اس تاویل کی ضرورت تب ہے کہ یہ تمام چیزیں اپنی زبان سے تسبیح نہ کر سکتی ہوں، حالانکہ قرآن مجید سے ثابت ہے کہ ہر چیز میں ادراک اور سمجھ موجود ہے اور اسے اپنی عبادت اور تسبیح کا طریقہ بھی معلوم ہے، لیکن ان کی اپنی زبان ہے جسے ہم نہیں سمجھتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان میں موجود ہر شخص اور پر پھیلاتے ہوئے پرندوں کے متعلق فرمایا کہ وہ اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں اور اس کے بعد فرمایا: «كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِيْحَهٗ» [ النور: ۴۱ ] ”ہر ایک نے یقینا اپنی نماز اور اپنی تسبیح جان لی ہے۔“ اور فرمایا: «اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَ الْاِشْرَاقِ (18) وَ الطَّيْرَ مَحْشُوْرَةً كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ» [ صٓ: ۱۸، ۱۹] ”بے شک ہم نے پہاڑوں کو اس کے ہمراہ مسخر کر دیا، وہ دن کے پچھلے پہر اور سورج چڑھنے کے وقت تسبیح کرتے تھے اور پرندوں کو بھی، جب کہ وہ اکٹھے کیے ہوتے، سب اس کے لیے رجوع کرنے والے تھے۔“ داؤد اور سلیمان علیھما السلام کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی بولی بھی سکھا دی تھی۔ (دیکھیے نمل: ۱۶) بلکہ چیونٹیوں اور پرندوں کے ساتھ ان کی گفتگو بھی سورۂ نمل (۱۷ تا ۲۸) میں ذکر فرمائی۔ اس مقام پر بھی فرمایا: ”اور کوئی بھی چیز نہیں مگر اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔“ معلوم ہوا کہ مراد زبان حال سے تسبیح نہیں، کیونکہ یہ زبان تو ہر شخص سمجھتا ہے اور فی الواقع کائنات کے ہر ذرے کی حالت اپنے پیدا کرنے والے کی لا محدود قدرت کی اور اس کے ہر کمزوری اور ہر عیب سے پاک ہونے کی شہادت دے رہی ہے۔ اس لیے یہاں ہر چیز کا صرف اپنی زبان حال ہی سے نہیں بلکہ اپنی زبان قال سے بھی تسبیح کرنا مراد ہے اور یہ کچھ بعید نہیں۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ وَلَقَدْ كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيْحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ ] [ بخاري، المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام: ۳۵۷۹ ] ”ہم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں) کھانے کی تسبیح سنتے تھے، جب کہ وہ کھایا جا رہا ہوتا تھا۔“ جمادات و نباتات کے سمجھ رکھنے، محبت اور بغض رکھنے اور تسبیح کے مزید واقعات کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۷۴)۔ ➋ { اِنَّهٗ كَانَ حَلِيْمًا غَفُوْرًا:} اسی لیے وہ تمھاری سب گستاخیاں اور نافرمانیاں دیکھتا ہے، مگر قدرت رکھنے کے باوجود تم سے درگزر فرماتا ہے اور تم پر کوئی عذاب نہیں بھیجتا، بلکہ نہ تمھارا رزق بند کرتا ہے اور نہ تمھیں اپنی نعمتوں سے محروم کرتا ہے، اگر اس کا حد سے بڑھا ہوا یہ حلم اور پردہ پوشی نہ ہوتی تو تمھارا کام کب کا تمام ہو چکا ہوتا۔ دیکھیے سورۂ نحل (۶۱) اور سورۂ فاطر (۴۵)۔
جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تو جب قرآن پڑھتا ہے ہم تیرے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ایک پوشیده حجاب ڈال دیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب! تم نے قرآن پڑھا ہم نے تم پر اور ان میں کہ آخرت پر ایمان ہیں لاتے ایک چھپا ہوا پردہ کردیا
علامہ محمد حسین نجفی
(اے پیغمبر(ص)!) جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک پوشیدہ پردہ ڈال دیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب تو قرآن پڑھتا ہے ہم تیرے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک پوشیدہ پردہ بنا دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار کا ایک نفسیاتی تجزیہ ٭٭
فرماتا ہے کہ قرآن کی تلاوت کے وقت ان کے دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں، کوئی اثر ان کے دلوں تک نہیں پہنچتا۔ وہ حجاب انہیں چھپا لیتا ہے۔ یہاں «مَّسْتُورً» ، «ساتِر» کے معنی میں ہے جیسے «میمون» اور «مشئوم» معنی میں یا «من» اور «شائم» کے ہیں۔ وہ پردے گو بظاہر نظر نہ آئیں لیکن ہدایت میں اور ان میں وہ حد فاصل ہو جاتے ہیں۔ مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ { سورۃ «تَبَّتْ يَدَا» کے اترنے پر عورت ام جمیل شور مچاتی دھاری دار پتھر ہاتھ میں لیے یہ کہتی ہوئی آئی کہ اس مذموم کو ہم ماننے والے نہیں ہمیں اس کا دین ناپسند ہے، ہم اس کے فرمان کے مخالف ہیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس تھے، کہنے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ آ رہی ہے اور آپ کو دیکھ لے گی۔ آپ نے فرمایا بیفکر رہو یہ مجھے نہیں دیکھ سکتی اور آپ نے اس سے بچنے کے لیے تلاوت قرآن شروع کر دی۔ یہی آیت تلاوت فرمائی وہ آئی اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہا سے پوچھنے لگی کہ میں نے سنا ہے۔ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ہجو کی ہے، آپ نے فرمایا، نہیں، رب کعبہ کی قسم تیری ہجو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی، وہ یہ کہتی ہوئی لوٹی کہ تمام قریش جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی لڑکی ہوں۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:25:حسن]
«أَكِنَّةً» ، «کنان» کی جمع ہے اس پردے نے ان کے دلوں کو ڈھک رکھا ہے جس سے یہ قرآن سمجھ نہیں سکتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے، جس سے وہ قرآن اس طرح سن نہیں سکتے کہ انہیں فائدہ پہنچے اور جب تو قرآن میں اللہ کی وحدانیت کا ذکر پڑھتا ہے تو یہ بے طرح بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ «نُفُورً» جمع ہے نافر کی جیسے قاعد کی جمع عقود آتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ مصدر بغیر فعل ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا ذُكِرَ اللَّـهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ۖ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ» ۱؎ [39-الزمر:45] ’ اللہ واحد کے ذکر سے بے ایمانوں کے دل اچاٹ ہو جاتے ہیں۔ ‘ مسلمانوں کا «لا الہ الا اللہ» کہنا مشرکوں پر بہت گراں گزرتا تھا ابلیس اور اس کا لشکر اس سے بہت چڑتا تھا۔ اس کے دبانے کی پوری کوشش کرتا تھا لیکن اللہ کا ارادہ ان کے برخلاف اسے بلند کرنے اور عزت دینے اور پھیلانے کا تھا۔ یہی وہ کلمہ ہے کہ اس کا قائل فلاح پاتا ہے اس کا عامل مدد دیا جاتا ہے۔ دیکھ لو اس جزیرے کے حالات تمہارے سامنے ہیں کہ یہاں سے وہاں تک یہ پاک کلمہ پھیل گیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد شیطانوں کا بھاگنا ہے گو بات یہ ٹھیک ہے۔ اللہ کے ذکر سے، اذان سے، تلاوت قرآن سے، شیطان بھاگتا ہے لیکن اس آیت کی یہ تفسیر کرنا غرابت سے خالی نہیں۔
45۔ 1 مَسْتُور بمعنی ساترٍ (مانع اور حائل) ہے مستور عن الابصار (آنکھوں سے اوجھل) پس وہ اسے دیکھتے ہیں۔ اس کے باوجود، ان کے اور ہدایت کے درمیان حجاب ہے۔
(آیت 46،45) ➊ {وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا …: ” اَكِنَّةً “ ” كِنَانٌ “} کی جمع ہے، چھپانے والی چیز، پردہ۔{” وَقْرًا “} بوجھ، مراد بہرا پن ہے۔ {” نُفُوْرًا “ ”نَافِرٌ“} کی جمع ہے، بدکتے ہوئے۔ مصدر بھی ہو سکتا ہے، نفرت کی وجہ سے، یعنی جب انھوں نے آخرت سے انکار کیا اور پھر ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے کہ ہزار سمجھانے کے باوجود انکار کرتے ہی چلے گئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ایک گہرا پردہ حائل ہو گیا، ان کے دلوں پر غلاف چڑھ گئے، مگر ایسے جو کسی کو نظر نہیں آتے، نگاہوں سے پوشیدہ ہیں اور ان کے کان ہر نصیحت کرنے والے کی بات سننے سے بہرے ہو گئے، مگر وہ بدبخت ان پردوں کے حائل ہونے اور قرآن کی تاثیر سے محروم ہونے پر فکر کے بجائے فخر ہی کرتے رہے اور مذاق اڑاتے رہے۔ یہود کا بھی یہی حال تھا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۸۸) مشرکین کا حال اللہ تعالیٰ نے سورۂ حم السجدہ (۵) میں بیان فرمایا ہے۔ اگرچہ اس پردے کا باعث ان کی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی تھی مگر چونکہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے فرمایا کہ آپ کے قرآن پڑھتے وقت ہم یہ پردہ بنا دیتے ہیں۔ ایک معنی اس آیت کا یہ بھی ہے کہ آپ جب قرآن پڑھتے ہیں اور بعض کفار آپ کو نقصان پہنچانے کے لیے آتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان کے درمیان ایک ایسا پردہ حائل کر دیتے ہیں جو نظر نہیں آتا، اس پردے کی وجہ سے وہ آپ کو دیکھ نہیں سکتے اور نہ آپ کو کوئی نقصان یا تکلیف ہی پہنچا سکتے ہیں۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ جب سورۂ لہب اتری تو عوراء ام جمیل (ابولہب کی بیوی) بڑے جوش سے ہاتھ میں پتھر پکڑے ہوئے آئی اور وہ یہ کہہ رہی تھی: {”مُذَمَّمًا أَبَيْنَا، وَأَمْرَهُ عَصَيْنَا وَ دِيْنَهُ قَلَيْنَا “} (ہم مذمم کو نہیں مانتے اور اس کے حکم کی اطاعت نہیں کرتے اور اس کے دین سے دشمنی رکھتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں بیٹھے ہوئے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! یہ عورت آ رہی ہے، مجھے خوف ہے کہ یہ آپ کو دیکھ لے گی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مجھے ہرگز نہیں دیکھے گی“ اور آپ نے اس سے بچنے کے لیے قرآن کی چند آیات پڑھیں، ان میں سے ایک آیت یہ بھی تھی: «وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَ بَيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا» غرض وہ آئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑی ہو گئی، مگر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔ مختصر یہ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے چند باتوں کے بعد وہ چلی گئی۔ [ مسند أبی یعلٰی: ۲۵۔ مستدرک حاکم: 361/2، ح: ۳۳۷۶ ] حاکم نے اسے صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی موافقت فرمائی، اس کے کئی شواہد ہیں، ارنؤوط کی ابن حبان (۶۵۱) پر تعلیق ملاحظہ فرمائیں۔ بہرحال پہلا معنی اور دوسرا دونوں درست ہیں کہ آپ کے قرآن پڑھتے وقت اگر وہ پاس ہوتے ہیں تو قرآن سننے کے باوجود اس پردے کی وجہ سے جس طرح قرآن سننے کا حق ہے نہ اسے سن سکتے ہیں، نہ سمجھتے ہیں اور نہ اثر قبول کرتے ہیں اور اگر وہ ایذا رسانی کی نیت سے آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس پردے کے ذریعے سے ان کی نگاہوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ ➋ { وَ اِذَا ذَكَرْتَ …:} اس آیت کی بہترین تفسیر سورۂ زمر کی آیت (۴۵) ہے، اس کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے، اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دیتے ہیں اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دیئے ہیں کہ وه اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ اور جب تو صرف اللہ ہی کا ذکر اس کی توحید کے ساتھ، اس قرآن میں کرتا ہے تو وه روگردانی کرتے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف ڈال دیے ہیں کہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ٹینٹ (روئی) اور جب تم قرآن میں اپنے اکیلے رب کی یاد کرتے ہو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں نفرت کرتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (ان کے پیہم انکار کی وجہ سے گویا) ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں تاکہ وہ اسے نہ سمجھیں اور کانوں میں گرانی (پیدا کر دیتے ہیں) اور جب آپ قرآن میں اپنے واحد و یکتا پروردگار کا ذکر کرتے ہیں تو وہ لوگ نفرت کرتے ہوئے پچھلے پاؤں پلٹ جاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان کے دلوں پر کئی پردے بنا دیے ہیں، (اس سے) کہ وہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ۔ اور جب تو قرآن میں اپنے رب کا، اکیلے اسی کا ذکر کرتا ہے تو وہ بدکتے ہوئے اپنی پیٹھوں پر پھر جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار کا ایک نفسیاتی تجزیہ ٭٭
فرماتا ہے کہ قرآن کی تلاوت کے وقت ان کے دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں، کوئی اثر ان کے دلوں تک نہیں پہنچتا۔ وہ حجاب انہیں چھپا لیتا ہے۔ یہاں «مَّسْتُورً» ، «ساتِر» کے معنی میں ہے جیسے «میمون» اور «مشئوم» معنی میں یا «من» اور «شائم» کے ہیں۔ وہ پردے گو بظاہر نظر نہ آئیں لیکن ہدایت میں اور ان میں وہ حد فاصل ہو جاتے ہیں۔ مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ { سورۃ «تَبَّتْ يَدَا» کے اترنے پر عورت ام جمیل شور مچاتی دھاری دار پتھر ہاتھ میں لیے یہ کہتی ہوئی آئی کہ اس مذموم کو ہم ماننے والے نہیں ہمیں اس کا دین ناپسند ہے، ہم اس کے فرمان کے مخالف ہیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس تھے، کہنے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ آ رہی ہے اور آپ کو دیکھ لے گی۔ آپ نے فرمایا بیفکر رہو یہ مجھے نہیں دیکھ سکتی اور آپ نے اس سے بچنے کے لیے تلاوت قرآن شروع کر دی۔ یہی آیت تلاوت فرمائی وہ آئی اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہا سے پوچھنے لگی کہ میں نے سنا ہے۔ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ہجو کی ہے، آپ نے فرمایا، نہیں، رب کعبہ کی قسم تیری ہجو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی، وہ یہ کہتی ہوئی لوٹی کہ تمام قریش جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی لڑکی ہوں۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:25:حسن]
«أَكِنَّةً» ، «کنان» کی جمع ہے اس پردے نے ان کے دلوں کو ڈھک رکھا ہے جس سے یہ قرآن سمجھ نہیں سکتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے، جس سے وہ قرآن اس طرح سن نہیں سکتے کہ انہیں فائدہ پہنچے اور جب تو قرآن میں اللہ کی وحدانیت کا ذکر پڑھتا ہے تو یہ بے طرح بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ «نُفُورً» جمع ہے نافر کی جیسے قاعد کی جمع عقود آتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ مصدر بغیر فعل ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا ذُكِرَ اللَّـهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ۖ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ» ۱؎ [39-الزمر:45] ’ اللہ واحد کے ذکر سے بے ایمانوں کے دل اچاٹ ہو جاتے ہیں۔ ‘ مسلمانوں کا «لا الہ الا اللہ» کہنا مشرکوں پر بہت گراں گزرتا تھا ابلیس اور اس کا لشکر اس سے بہت چڑتا تھا۔ اس کے دبانے کی پوری کوشش کرتا تھا لیکن اللہ کا ارادہ ان کے برخلاف اسے بلند کرنے اور عزت دینے اور پھیلانے کا تھا۔ یہی وہ کلمہ ہے کہ اس کا قائل فلاح پاتا ہے اس کا عامل مدد دیا جاتا ہے۔ دیکھ لو اس جزیرے کے حالات تمہارے سامنے ہیں کہ یہاں سے وہاں تک یہ پاک کلمہ پھیل گیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد شیطانوں کا بھاگنا ہے گو بات یہ ٹھیک ہے۔ اللہ کے ذکر سے، اذان سے، تلاوت قرآن سے، شیطان بھاگتا ہے لیکن اس آیت کی یہ تفسیر کرنا غرابت سے خالی نہیں۔
46۔ 1 اکنۃ، کنان کی جمع ہے ایسا پردہ جو دلوں پر پڑجائے وقر کانوں میں ایسا ثقل یا ڈاٹ جو قرآن کے سننے میں مانع ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے دل قرآن کے سمجھنے سے قاصر اور کان قرآن سن کر ہدایت قبول کرنے سے عاجز ہیں، اور اللہ کی توحید سے انھیں اتنی نفرت ہے کہ اسے سن کر تو بھاگ ہی کھڑے ہوتے ہیں، ان افعال کی نسبت اللہ کی طرف، بہ اعتبار خلق کے ہے۔ ورنہ ہدایت سے محرومی ان کے جمود وعناد ہی کا نتیجہ تھا۔
ہمیں معلوم ہے کہ جب وہ کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں تو دراصل کیا سنتے ہیں، اور جب بیٹھ کر باہم سرگوشیاں کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں یہ ظالم آپس میں کہتے ہیں کہ یہ ایک سحر زدہ آدمی ہے جس کے پیچھے تم لوگ جا رہے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
جس غرض سے وه لوگ اسے سنتے ہیں ان (کی نیتوں) سے ہم خوب آگاه ہیں، جب یہ آپ کی طرف کان لگائے ہوئے ہوتے ہیں تب بھی اور جب یہ مشوره کرتے ہیں تب بھی جب کہ یہ ﻇالم کہتے ہیں کہ تم اس کی تابعداری میں لگے ہوئے ہو جن پر جادو کردیا گیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
ہم خوب جانتے ہیں جس لیے وہ سنتے ہیں جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں اور جب آپس میں مشورہ کرتے ہیں جبکہ ظالم کہتے ہیں تم پیچھے نہیں چلے مگر ایک ایسے مرد کے جس پر جادو ہوا
علامہ محمد حسین نجفی
ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ غور سے کیا سنتے ہیں؟ جب یہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں اور (ہم خوب جانتے ہیں) جب یہ ظالم سرگوشیاں کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم تو ایک سحر زدہ آدمی کی پیروی کر رہے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
ہم اس (نیت) کو زیادہ جاننے والے ہیں جس کے ساتھ وہ اسے غور سے سنتے ہیں، جب وہ تیری طرف کان لگاتے ہیں اور جب وہ سرگوشیاں کرتے ہیں، جب وہ ظالم کہہ رہے ہوتے ہیں کہ تم پیروی نہیں کرتے مگر ایسے آدمی کی جس پر جادو کیا گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سرداران کفر کا المیہ ٭٭
سراداران کفر جو آپس میں باتیں بناتے تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی جا رہی ہیں کہ آپ تو تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں یہ چپکے چپکے کہا کرتے ہیں کہ اس پر کسی نے جادو کر دیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ یہ تو ایک انسان ہے جو کھانے پینے کا محتاج ہے۔ گو یہ لفظ اسی معنی میں شعر میں بھی ہے اور امام ابن جریر نے اسی کو ٹھیک بھی بتلایا ہے لیکن یہ غور طلب ہے۔ ان کا ارادہ اس موقع پر اس کہنے سے یہ تھا کہ خود یہ جادو میں مبتلا ہے کوئی ہے جو اسے اس موقع پر کچھ پڑھا جاتا ہے۔ کافر لوگ طرح طرح کے وہم آپ کی نسبت ظاہر کرتے تھے کوئی کہتا آپ شاعر ہیں، کوئی کہتا کاہن ہیں، کوئی مجنوں بتلاتا، کوئی جادوگر وغیرہ۔ اس لیے فرماتا ہے کہ دیکھو یہ کیسے بہک رہے ہیں کہ حق کی جانب آ ہی نہیں سکتے۔ سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ { ابوسفیان بن حرب، ابوجہل بن ہشام، اخنس بن شریق رات کے وقت اپنے اپنے گھروں سے کلام اللہ شریف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سننے کے لیے نکلے، آپ اپنے گھر میں رات کو نماز پڑھ رہے تھے۔ یہ لوگ آ کر چپ چاپ چھپ کر ادھر ادھر بیٹھ گئے ایک کو دوسرے کی خبر نہ تھی، رات کو سنتے رہے فجر ہوتے وقت یہاں سے چلے، اتفاقاً راستے میں سب کی آپس میں ملاقات ہو گئی ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے اب سے یہ حرکت نہ کرنا ورنہ اور لوگ تو بالکل اسی کے ہو جائیں گے۔ لیکن رات کو پھر یہ تینوں آ گئے اور اپنی اپنی جگہ بیٹھ کر قرآن سننے میں رات گزاری۔ صبح واپس چلے راستے میں مل گئے، پھر سے کل کی باتیں دہرائیں اور آج پختہ ارادہ کیا کہ اب سے ایسا کام ہرگز کوئی نہ کرے گا۔ تیسری رات پھر یہی ہوا اب کے انہوں نے کہا آؤ عہد کرلیں کہ اب نہیں آئیں گے چنانچہ قول قرار کر کے جدا ہوئے۔ }
{ صبح کو اخنس اپنی لاٹھی سنبھالے ابوسفیان کے گھر پہنچا اور کہنے لگا ابوحنظلہ مجھے بتاؤ تمہاری اپنی رائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت کیا ہے؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ جو آیتیں قرآن کی میں نے سنی ہیں، ان میں سے بہت سی آیتوں کا تو مطلب میں جان گیا، لیکن بہت سی آتیوں کی مراد مجھے معلوم نہیں ہوئی۔ اخنس نے کہا واللہ میرا بھی یہی حال ہے۔ یہاں سے ہو کر اخنس ابوجہل کے پاس پہنچا۔ اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سنئے۔ شرافت و سرداری کے بارے میں ہمارا بنو عبد مناف سے مدت کا جھگڑا چلا آتا ہے انہوں نے کھلایا تو ہم نے بھی کھلانا شروع کر دیا، انہوں نے سواریاں دیں تو ہم نے بھی انہیں سواریوں کے جانور دئے۔ انہوں نے لوگوں کے ساتھ سلوک کئے اور ان انعامات میں ہم نے بھی ان سے پیچھے رہنا پسند نہ کیا۔ اب جب کہ تمام باتوں میں وہ اور ہم برابر رہے، اس دوڑ میں جب وہ بازی لے جا نہ سکے تو جھٹ سے انہوں نے کہہ دیا کہ ہم میں نبوت ہے، ہم میں ایک شخص ہے، جس کے پاس آسمانی وحی آتی ہے، اب بتاؤ اس کو ہم کیسے مان لیں؟ واللہ نہ اس پر ہم ایمان لائیں گے نہ کبھی اسے سچا کہیں گے، اسی وقت اخنس اسے چھوڑ کر چل دیا۔ } ۱؎ [سیرة ابن هشام:328/1]
47۔ 1 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سحر زدہ سمجھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہوئے قرآن سنتے اور آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں، اس لئے ہدایت سے محروم ہی رہتے ہیں۔
(آیت 47){ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ …:} اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم کا ذکر فرما رہے ہیں کہ ہمیں خوب علم ہے جس نیت سے یہ اکیلے اکیلے کان لگا کر آپ کی باتیں سنتے ہیں کہ آپ پر اعتراض کریں یا مذاق اڑائیں، پھر جب وہ آپس کی مجلس میں ان پر تبصرے اور سرگوشیاں کرتے ہوئے آپ کو جادو زدہ قرار دیتے ہیں۔ اپنے علم کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے کیا ہے کہ ہم ان کی حرکتوں سے بے خبر نہیں کہ یہ ہماری گرفت سے بچ جائیں گے۔
دیکھو، کیسی باتیں ہیں جو یہ لوگ تم پر چھانٹتے ہیں یہ بھٹک گئے ہیں اِنہیں راستہ نہیں ملتا
مولانا محمد جوناگڑھی
دیکھیں تو سہی، آپ کے لئے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وه بہک رہے ہیں۔ اب تو راه پانا ان کے بس میں نہیں رہا
احمد رضا خان بریلوی
دیکھو انہوں نے تمہیں کیسی تشبیہیں دیں تو گمراہ ہوئے کہ راہ نہیں پاسکتے،
علامہ محمد حسین نجفی
دیکھیے یہ کیسی کیسی مثالیں آپ کے لئے بناتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ایسے گمراہ ہوگئے ہیں کہ راستہ پا ہی نہیں سکتے۔
عبدالسلام بن محمد
دیکھ انھوں نے کس طرح تیرے لیے مثالیں بیان کیں۔ پس گمراہ ہوگئے، سو وہ کسی راہ پر نہیں آسکتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سرداران کفر کا المیہ ٭٭
سراداران کفر جو آپس میں باتیں بناتے تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی جا رہی ہیں کہ آپ تو تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں یہ چپکے چپکے کہا کرتے ہیں کہ اس پر کسی نے جادو کر دیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ یہ تو ایک انسان ہے جو کھانے پینے کا محتاج ہے۔ گو یہ لفظ اسی معنی میں شعر میں بھی ہے اور امام ابن جریر نے اسی کو ٹھیک بھی بتلایا ہے لیکن یہ غور طلب ہے۔ ان کا ارادہ اس موقع پر اس کہنے سے یہ تھا کہ خود یہ جادو میں مبتلا ہے کوئی ہے جو اسے اس موقع پر کچھ پڑھا جاتا ہے۔ کافر لوگ طرح طرح کے وہم آپ کی نسبت ظاہر کرتے تھے کوئی کہتا آپ شاعر ہیں، کوئی کہتا کاہن ہیں، کوئی مجنوں بتلاتا، کوئی جادوگر وغیرہ۔ اس لیے فرماتا ہے کہ دیکھو یہ کیسے بہک رہے ہیں کہ حق کی جانب آ ہی نہیں سکتے۔ سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ { ابوسفیان بن حرب، ابوجہل بن ہشام، اخنس بن شریق رات کے وقت اپنے اپنے گھروں سے کلام اللہ شریف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سننے کے لیے نکلے، آپ اپنے گھر میں رات کو نماز پڑھ رہے تھے۔ یہ لوگ آ کر چپ چاپ چھپ کر ادھر ادھر بیٹھ گئے ایک کو دوسرے کی خبر نہ تھی، رات کو سنتے رہے فجر ہوتے وقت یہاں سے چلے، اتفاقاً راستے میں سب کی آپس میں ملاقات ہو گئی ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے اب سے یہ حرکت نہ کرنا ورنہ اور لوگ تو بالکل اسی کے ہو جائیں گے۔ لیکن رات کو پھر یہ تینوں آ گئے اور اپنی اپنی جگہ بیٹھ کر قرآن سننے میں رات گزاری۔ صبح واپس چلے راستے میں مل گئے، پھر سے کل کی باتیں دہرائیں اور آج پختہ ارادہ کیا کہ اب سے ایسا کام ہرگز کوئی نہ کرے گا۔ تیسری رات پھر یہی ہوا اب کے انہوں نے کہا آؤ عہد کرلیں کہ اب نہیں آئیں گے چنانچہ قول قرار کر کے جدا ہوئے۔ }
{ صبح کو اخنس اپنی لاٹھی سنبھالے ابوسفیان کے گھر پہنچا اور کہنے لگا ابوحنظلہ مجھے بتاؤ تمہاری اپنی رائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت کیا ہے؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ جو آیتیں قرآن کی میں نے سنی ہیں، ان میں سے بہت سی آیتوں کا تو مطلب میں جان گیا، لیکن بہت سی آتیوں کی مراد مجھے معلوم نہیں ہوئی۔ اخنس نے کہا واللہ میرا بھی یہی حال ہے۔ یہاں سے ہو کر اخنس ابوجہل کے پاس پہنچا۔ اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سنئے۔ شرافت و سرداری کے بارے میں ہمارا بنو عبد مناف سے مدت کا جھگڑا چلا آتا ہے انہوں نے کھلایا تو ہم نے بھی کھلانا شروع کر دیا، انہوں نے سواریاں دیں تو ہم نے بھی انہیں سواریوں کے جانور دئے۔ انہوں نے لوگوں کے ساتھ سلوک کئے اور ان انعامات میں ہم نے بھی ان سے پیچھے رہنا پسند نہ کیا۔ اب جب کہ تمام باتوں میں وہ اور ہم برابر رہے، اس دوڑ میں جب وہ بازی لے جا نہ سکے تو جھٹ سے انہوں نے کہہ دیا کہ ہم میں نبوت ہے، ہم میں ایک شخص ہے، جس کے پاس آسمانی وحی آتی ہے، اب بتاؤ اس کو ہم کیسے مان لیں؟ واللہ نہ اس پر ہم ایمان لائیں گے نہ کبھی اسے سچا کہیں گے، اسی وقت اخنس اسے چھوڑ کر چل دیا۔ } ۱؎ [سیرة ابن هشام:328/1]
48۔ 1 کبھی ساحر، کبھی مسحور، کبھی مجنون اور کبھی کاہن کہتے ہیں، پس اس طرح گمراہ ہو رہے ہیں، ہدایت کا راستہ انھیں کس طرح ملے۔
(آیت 48){ اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا …:} یعنی ایک بات نہیں جو آپ کے بارے میں کہتے ہوں، بلکہ مختلف اوقات میں مختلف باتیں کہتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ آپ جادوگر ہیں، کبھی کہتے ہیں کسی دوسرے نے آپ پر جادو کر دیا ہے، کبھی کہتے ہیں کہ آپ شاعر ہیں، کبھی کاہن اور کبھی مجنون (دیوانہ) کہتے ہیں۔ ان کی متضاد باتیں خود اس بات کی دلیل ہیں کہ انھیں حقیقت کا کچھ پتا نہیں، اس حال میں کیسے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ انھیں ہدایت کا صحیح راستہ مل سکے، یا مطلب یہ ہے کہ ان باتوں سے دوسروں کو ہدایت سے روکنے کے لیے کوئی راستہ نہیں پاتے۔ (قرطبی)
وہ کہتے ہیں "جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے کہا کیا جب ہم ہڈیاں اور (مٹی ہو کر) ریزه ریزه ہوجائیں گے تو کیا ہم ازسرنو پیدا کر کے پھر دوباره اٹھا کر کھڑے کر دیئے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے کیا سچ مچ نئے بن کر اٹھیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر) ہڈیاں اور چُورا ہو جائیں گے تو کیا از سرِ نو پیدا کرکے اٹھائے جائیں گے؟
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا واقعی ہم ضرور نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھائے جانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب دوبارہ پیدا ہوں گے ٭٭
کافر جو قیامت کے قائل نہ تھے اور مرنے کے بعد کے جینے کو محال جانتے تھے وہ بطور انکار پوچھا کرتے تھے کہ کیا ہم جب ہڈی اور مٹی ہو جائیں گے، غبار بن جائیں گے، کچھ نہ رہیں گے بالکل مٹ جائیں گے۔ پھر بھی نئی پیدائش سے پیدا ہوں گے؟ سورۃ النازعات میں ان منکروں کا قول بیان ہوا ہے کہ «يَقُولُونَ أَإِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ * أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً * قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ» ۱؎ [79-النازعات:10-12] ’ کیا ہم مرنے کے بعد الٹے پاؤں زندگی میں لوٹائے جائیں گے؟ اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ ہماری ہڈیاں بھی گل سڑ گئی ہوں؟ بھئی یہ تو بڑے ہی خسارے کی بات ہے۔ ‘ سورۃ یاسین میں ہے کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ ۖ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ * قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-يس:78-79] ’ یہ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے بیٹھ گیا اور اپنی پیدائش کو فراموش کر گیا۔ ‘ الخ۔ پس انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ہڈیاں تو کیا تم خواہ پتھر بن جاؤ خواہ لوہابن جاؤ۔ خواہ اس سے بھی زیادہ سخت چیز بن جاؤ مثلا پہاڑ یا زمین یا آسمان بلکہ تم خود موت ہی کیوں نہ بن جاؤ اللہ پر تمہارا جلانا مشکل نہیں، جو چاہو ہو جاؤ دوبارہ اٹھو گے ضرور۔ حدیث میں ہے کہ { بھیڑیئے کی صورت میں موت کو قیامت کے دن جنت دوزخ کے درمیان لایا جاتا ہے اور دونوں سے کہا جائے گا کہ اسے پہچانتے ہو؟ سب کہیں گے ہاں، پھر اسے وہیں ذبح کر دیا جائے گا اور منادی ہو جائے گی کہ اے جنتیو اب دوام ہے موت نہیں اور اے جہنمیو اب ہمیشہ قیام ہے موت نہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4730]
یہاں فرمان ہے کہ یہ پوچھتے ہیں کہ اچھا جب ہم ہڈیاں اور چورا ہو جائیں یا پتھر اور لوہا ہو جائیں گے یا جو ہم چاہیں اور جو بڑی سے بڑی سخت چیز ہو وہ ہم ہو جائیں تو یہ تو بتلاؤ کہ کس کے اختیار میں ہے کہ اب ہمیں پھر سے اس زندگی کی طرف لوٹا دے؟ ان کے اس سوال اور بیجا اعتراض کے جواب میں تو انہیں سمجھا کہ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ’ تمہیں لوٹانے والا تمہارا سچا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ ‘ پھر اس پر دوسری بار کی پیدائش کیا گراں ہے؟ بلکہ بہت آسان ہے تم خواہ کچھ بھی بن جاؤ۔ یہ جواب چونکہ لا جواب ہے حیران تو ہو جائیں گے لیکن پھر بھی اپنی شرارت سے باز نہ آئیں گے، بد عقیدگی نہ چھوڑیں گے اور بطور مذاق سر ہلاتے ہوئے کہیں گے کہ «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [67-الملك:25] ’ اچھا یہ ہو گا کب؟ سچے ہو تو وقت کا تعین کر دو۔ ‘ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا» [42-الشورى:18] ’ بے ایمانوں کا یہ شیوہ ہے کہ وہ جلدی مچاتے رہتے ہیں۔ ‘ ہاں ہے تو وہ وقت قریب ہی، تم اس کے لیے انتظار کر لو، غلفت نہ برتو۔ اس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ آنے والی چیز کو آئی ہوئی سمجھا کرو۔ اللہ کی ایک آواز کے ساتھ ہی تم زمین سے نکل کھڑے ہو گے ایک آنکھ جھپکانے کی دیر بھی تو نہ لگے گی۔ اللہ کے فرمان کے ساتھ ہی تم سے میدان محشر پر ہو جائے گا۔ قبروں سے اٹھ کر اللہ کی تعریفیں کرتے ہوئے اس کے احکام کی بجا آوری میں کھڑے ہو جاؤ گے۔ حمد کے لائق وہی ہے تم اس کے حکم سے اور ارادے سے باہر نہیں ہو۔ حدیث میں ہے کہ { «لا الہ الا اللہ» کہنے والوں پر ان کی قبر میں کوئی وحشت نہیں ہو گی۔ گویا کہ میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ قبروں سے اٹھ رہے ہیں، اپنے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے۔ «لا الہ الا اللہ» کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ کہیں گے کہ اللہ کی حمد ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا۔ } } سورۃ فاطر کی تفسیر میں یہ بیان آ رہا ہے ان شاءاللہ۔
اس وقت تمہارا یقین ہو گا کہ تم بہت ہی کم مدت دنیا میں رہے گویا صبح یا شام، کوئی کہے گا دس دن، کوئی کہے گا ایک دن، کوئی سمجھے گا ایک ساعت ہی۔ سوال پر یہی کہیں گے کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ہی۔ اور اس پر قسمیں کھائیں گے۔ اسی طرح دنیا میں بھی اپنے جھوٹ پر قسمیں کھاتے رہے تھے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 49){ وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا …: ” رُفَاتًا “ ”رَفَتَ يَرْفُتُ“} (ن، ض) سے {” فُتَاتًا “} کی طرح ہے، وہ چیز جو ریزہ ریزہ کرکے مٹی کی طرح کر دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد قیامت پر کفار کے اعتراض کا ذکر کرکے اس کا جواب دیا۔
کافر جو قیامت کے قائل نہ تھے اور مرنے کے بعد کے جینے کو محال جانتے تھے وہ بطور انکار پوچھا کرتے تھے کہ کیا ہم جب ہڈی اور مٹی ہو جائیں گے، غبار بن جائیں گے، کچھ نہ رہیں گے بالکل مٹ جائیں گے۔ پھر بھی نئی پیدائش سے پیدا ہوں گے؟ سورۃ النازعات میں ان منکروں کا قول بیان ہوا ہے کہ «يَقُولُونَ أَإِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ * أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً * قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ» ۱؎ [79-النازعات:10-12] ’ کیا ہم مرنے کے بعد الٹے پاؤں زندگی میں لوٹائے جائیں گے؟ اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ ہماری ہڈیاں بھی گل سڑ گئی ہوں؟ بھئی یہ تو بڑے ہی خسارے کی بات ہے۔ ‘ سورۃ یاسین میں ہے کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ ۖ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ * قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-يس:78-79] ’ یہ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے بیٹھ گیا اور اپنی پیدائش کو فراموش کر گیا۔ ‘ الخ۔ پس انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ہڈیاں تو کیا تم خواہ پتھر بن جاؤ خواہ لوہابن جاؤ۔ خواہ اس سے بھی زیادہ سخت چیز بن جاؤ مثلا پہاڑ یا زمین یا آسمان بلکہ تم خود موت ہی کیوں نہ بن جاؤ اللہ پر تمہارا جلانا مشکل نہیں، جو چاہو ہو جاؤ دوبارہ اٹھو گے ضرور۔ حدیث میں ہے کہ { بھیڑیئے کی صورت میں موت کو قیامت کے دن جنت دوزخ کے درمیان لایا جاتا ہے اور دونوں سے کہا جائے گا کہ اسے پہچانتے ہو؟ سب کہیں گے ہاں، پھر اسے وہیں ذبح کر دیا جائے گا اور منادی ہو جائے گی کہ اے جنتیو اب دوام ہے موت نہیں اور اے جہنمیو اب ہمیشہ قیام ہے موت نہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4730]
یہاں فرمان ہے کہ یہ پوچھتے ہیں کہ اچھا جب ہم ہڈیاں اور چورا ہو جائیں یا پتھر اور لوہا ہو جائیں گے یا جو ہم چاہیں اور جو بڑی سے بڑی سخت چیز ہو وہ ہم ہو جائیں تو یہ تو بتلاؤ کہ کس کے اختیار میں ہے کہ اب ہمیں پھر سے اس زندگی کی طرف لوٹا دے؟ ان کے اس سوال اور بیجا اعتراض کے جواب میں تو انہیں سمجھا کہ «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ’ تمہیں لوٹانے والا تمہارا سچا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ ‘ پھر اس پر دوسری بار کی پیدائش کیا گراں ہے؟ بلکہ بہت آسان ہے تم خواہ کچھ بھی بن جاؤ۔ یہ جواب چونکہ لا جواب ہے حیران تو ہو جائیں گے لیکن پھر بھی اپنی شرارت سے باز نہ آئیں گے، بد عقیدگی نہ چھوڑیں گے اور بطور مذاق سر ہلاتے ہوئے کہیں گے کہ «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [67-الملك:25] ’ اچھا یہ ہو گا کب؟ سچے ہو تو وقت کا تعین کر دو۔ ‘ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا» [42-الشورى:18] ’ بے ایمانوں کا یہ شیوہ ہے کہ وہ جلدی مچاتے رہتے ہیں۔ ‘ ہاں ہے تو وہ وقت قریب ہی، تم اس کے لیے انتظار کر لو، غلفت نہ برتو۔ اس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ آنے والی چیز کو آئی ہوئی سمجھا کرو۔ اللہ کی ایک آواز کے ساتھ ہی تم زمین سے نکل کھڑے ہو گے ایک آنکھ جھپکانے کی دیر بھی تو نہ لگے گی۔ اللہ کے فرمان کے ساتھ ہی تم سے میدان محشر پر ہو جائے گا۔ قبروں سے اٹھ کر اللہ کی تعریفیں کرتے ہوئے اس کے احکام کی بجا آوری میں کھڑے ہو جاؤ گے۔ حمد کے لائق وہی ہے تم اس کے حکم سے اور ارادے سے باہر نہیں ہو۔ حدیث میں ہے کہ { «لا الہ الا اللہ» کہنے والوں پر ان کی قبر میں کوئی وحشت نہیں ہو گی۔ گویا کہ میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ قبروں سے اٹھ رہے ہیں، اپنے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے۔ «لا الہ الا اللہ» کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ کہیں گے کہ اللہ کی حمد ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا۔ } } سورۃ فاطر کی تفسیر میں یہ بیان آ رہا ہے ان شاءاللہ۔
اس وقت تمہارا یقین ہو گا کہ تم بہت ہی کم مدت دنیا میں رہے گویا صبح یا شام، کوئی کہے گا دس دن، کوئی کہے گا ایک دن، کوئی سمجھے گا ایک ساعت ہی۔ سوال پر یہی کہیں گے کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ہی۔ اور اس پر قسمیں کھائیں گے۔ اسی طرح دنیا میں بھی اپنے جھوٹ پر قسمیں کھاتے رہے تھے۔
50۔ 1 جو مٹی اور ہڈیوں سے زیادہ سخت ہے اور جس میں زندگی کے آثار پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے۔
(آیت 51،50) ➊ { قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً …:} مطلب یہ کہ مٹی میں تو پھر بھی نباتات کی صورت میں زندگی کے آثار نظر آ جاتے ہیں، تم کوئی ایسی چیز بن کر دیکھ لو جو کسی طرح بھی زندگی قبول نہ کر سکتی ہو، مثلاً پتھر، لوہا یا کوئی بھی مخلوق جس کا زندہ ہونا تمھارے دلوں میں ان سے بھی بڑی بات ہو، پھر بھی اللہ تعالیٰ تمھیں دوبارہ زندہ کرکے اٹھا لے گا۔ ➋ { قُلِ الَّذِيْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ:} یعنی جس نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا وہی تمھیں دوبارہ زندہ کرے گا، کیونکہ پہلی بار کسی چیز کا پیدا کرنا مشکل اور دوبارہ آسان ہوتا ہے، تو پھر اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ تمھیں دوبارہ زندگی دے۔ (دیکھیے روم: ۱۹) جبکہ اس کے لیے پہلی اور دوسری مرتبہ پیدا کرنا دونوں یکساں آسان ہیں۔ ➌ {فَسَيُنْغِضُوْنَ۠ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ …: ” أَنْغَضَ يُنْغِضُ “} (افعال) کا معنی تعجب یا مذاق کے طور پر سر ہلانا ہے، یعنی لاجواب ہو کر پوچھیں گے، اچھا تو وہ قیامت کب ہو گی؟ آپ ان سے کہہ دیں کہ جب اس کا آنا یقینی ہے تو تمھارا یہ سوال بے کار ہے، جب اس نے آ کر ہی رہنا ہے تو چاہے وہ کتنی دور ہو اسے قریب ہی سمجھو اور اپنی نجات کی فکر کرو۔ اس کی مثال اس نالائق طالب علم کی ہے جسے معلوم ہو کہ امتحان لازماً ہونا ہے، مگر وہ اس کا ہونا اس لیے تسلیم نہ کرے یا اس کے لیے تیاری نہ کرے کہ اس کے منعقد ہونے کی تاریخ معلوم نہیں، یا اس لیے کہ وہ ابھی فوراً کیوں منعقد نہیں ہو رہا۔ ظاہر ہے یہ سراسر حماقت ہے۔