بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الإسراء/بني اسرائيل — Surah Isra
آیت نمبر 1
کل آیات: 111
قرآن کریم الإسراء/بني اسرائيل آیت 1
آیت نمبر: 1 — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل islamicurdubooks.com ↗
سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿۱﴾
پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا
پاک ہے وه اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں، یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے واﻻ ہے
پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو، راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے گرداگرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں، بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے،
پاک ہے وہ (خدا) جو اپنے بندہ (خاص) کو رات کے ایک حصہ میں مسجد الحرام سے اس مسجدِ اقصیٰ تک لے گیا جس کے گرد و پیش ہم نے برکت دی ہے تاکہ ہم انہیں اپنی (قدرت کی) کچھ نشانیاں دکھائیں بے شک وہ بڑا سننے والا، بڑا دیکھنے والا ہے۔
پاک ہے وہ جو رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو حرمت والی مسجد سے بہت دور کی اس مسجد تک لے گیا جس کے اردگرد کو ہم نے بہت برکت دی ہے، تاکہ ہم اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بلاشبہ وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سرگزشت معراج کا تسلسل ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی ذات کی عزت و عظمت اور اپنی پاکیزگی و قدرت بیان فرماتا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس جیسی قدرت کسی میں نہیں۔ وہی عبادت کے لائق اور صرف وہی ساری مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔ وہ اپنے بندے یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی رات کے ایک حصے میں مکہ مکرمہ کی مسجد سے بیت المقدس کی مسجد تک لے گیا۔ جو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے سے انبیاء کرام علیہم السلام کا مرکز رہا۔ اسی لیے تمام انبیاء علیہم السلام وہیں آپ کے پاس جمع کئے گئے اور آپ نے وہیں ان سب کی امامت کی۔ جو اس امر کی دلیل ہے کہ امام اعظم اور رئیس مقدم آپ ہی ہیں۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ و علیہم اجمعین۔

اس مسجد کے اردگرد ہم نے برکت دے رکھی ہے۔ پھل، پھول، کھیت باغات وغیرہ سے۔ یہ اس لیے کہ ہمارا ارادہ اپنے اس محترم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زبردست نشانیاں دکھانے کا تھا۔ جو آپ نے اس رات ملاحظہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں، مومنوں، کافروں، یقین رکھنے والوں اور انکار کرنے والوں سب کی باتیں سننے والا ہے اور سب کو دیکھ رہا ہے۔ ہر ایک کو وہی دے گا، جس کا وہ مستحق ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ معراج کی بابت بہت سی حدیثیں ہیں جو اب بیان ہو رہی ہیں۔

صحیح بخاری شریف میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ معراج والی رات جب کہ کعبۃ اللہ شریف سے آپ کو بلوایا گیا، آپ کے پاس تین فرشتے آئے، اس سے پہلے کہ آپ کی طرف وحی کی جائے۔ اس وقت آپ بیت اللہ شریف میں سوئے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک جو سب سے آگے تھا اس نے پوچھا کہ یہ ان سب میں سے کون ہیں؟ درمیان والے نے جواب دیا کہ یہ ان سب میں بہترین ہیں۔ تو سب سے اخیر والے نے کہا۔ پھر ان کو لے چلو۔ بس اس رات تو اتنا ہی ہوا۔ پھر آب نے انہیں نہ دیکھا۔

دوسری رات پھر یہ تینوں آئے۔ اس وقت بھی آپ سو رہے تھے۔ لیکن آپ کا سونا اس طرح کا تھا کہ آنکھیں سوتی تھیں اور دل جاگ رہا ہوتا۔ تمام انبیاء کی نیند اسی طرح کی ہوتی ہے۔ اس رات انہوں نے آپ سے کوئی بات نہ کی۔ آپ کو اٹھا کر چاہِ زمزم کے پاس لٹا دیا اور آپ کا سینہ گردن تک خود جبرائیل علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے چاک کیا۔ اور سینے اور پیٹ کی تمام چیزیں نکال کر اپنے ہاتھ سے دھوئیں۔ جب خوب پاک صاف کر چکے تو آپ کے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جس میں سونے کا ایک بڑا پیالہ تھا جو حکمت وایمان سے پر تھا۔ اس سے آپ کے سینے کو اور گلے کی رگوں کو پر کر دیا گیا۔ پھر سینے کو سی دیا گیا۔

پھر آپ کو آسمان دنیا کی طرف لے چڑھے۔ وہاں کے دروازوں میں سے ایک دروازے کو کھٹکھٹایا۔ فرشتوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا جبرائیل۔ پوچھا آپ کے ساتھ کون ہیں؟ فرمایا میرے ساتھ محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا۔ کیا آپ کو بلوایا گیا ہے جواب دیا کہ ”ہاں“، سب بہت خوش ہوئے اور مرحبا کہتے ہوئے آپ کو لے گئے۔

آسمانی فرشتے بھی کچھ نہیں جانتے کہ زمین پر اللہ تعالیٰ کیا کچھ کرنا چاہتا ہے۔ جب تک کہ انہیں معلوم نہ کرایا جائے۔ آپ نے آسمان دنیا پر آدم علیہ السلام کو پایا۔ جبرائیل علیہ السلام نے تعارف کرایا کہ ”یہ آپ کے والد آدم علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے۔‏‏‏‏“ آپ نے سلام کیا۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا، مرحبا کہا اور فرمایا ”آپ میرے بہت ہی اچھے بیٹے ہیں۔‏‏‏‏“ وہاں دو نہریں جاری دیکھ کر آپ نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ”یہ نہریں کیا ہیں“؟ آپ نے جواب دیا کہ ”نیل اور فرات کا عنصر۔‏‏‏‏“ پھر آپ کو آسمان میں لے چلے۔ آپ نے ایک اور نہر دیکھی، جس پر لؤلؤ اور موتیوں کے بالاخانے تھے، جس کی مٹی خالص مشک تھے۔ پوچھا یہ کون سی نہر ہے؟ جواب ملا کہ یہ نہر کوثر ہے۔ جسے آپ کے پروردگار نے آپ کے لیے خاص طور پر مقرر کر رکھی ہے۔

پھر آپ کو تیسرے آسمان پر لے گئے۔ وہاں کے فرشتوں سے بھی وہی سوال جواب وغیرہ ہوئے، جو آسمان اول پر اور دوسرے آسمان پر ہوئے تھے۔ پھر آپ کو چوتھے آسمان پر چڑھایا گیا۔ ان فرشتوں نے بھی اسی طرح پوچھا اور جواب پایا وغیرہ۔ پھر پانچویں آسمان پر چڑھائے گئے۔ وہاں بھی وہی کہا سنا گیا، پھر چھٹے پر پھر ساتویں آسمان پر گئے، وہاں بھی بات چیت ہوئی۔ ہر آسمان پر وہاں کے نبیوں سے ملاقاتیں ہوئیں جن کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے جن میں سے مجھے یہ یاد ہیں کہ دوسرے آسمان میں ادریس علیہ السلام، چوتھے آسمان میں ہارون علیہ السلام، پانچویں والے کا نام مجھے یاد نہیں، چھٹے میں ابراہیم علیہ السلام اور ساتویں میں موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام۔

جب آپ یہاں سے بھی اونچے چلے تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا ”اے اللہ میرا خیال تھا کہ مجھ سے بلند تو کسی کو نہ کرے گا“ اب آپ اس بلندی پر پہنچے جس کا علم اللہ ہی کو ہے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے اور اللہ تعالیٰ آپ سے بہت نزدیک ہوا۔ بقدر دو کمان کے بلکہ اس سے کم فاصلے پر۔ پھر اللہ کی طرف سے آپ کی جانب وحی کی گئی۔ جس میں آپ کی امت پر ہر دن رات میں پچاس نمازیں فرض ہوئیں۔ جب آپ وہاں سے اترے تو موسیٰ علیہ السلام نے آپ کو روکا اور پوچھا کیا حکم ملا؟ فرمایا ”دن رات میں پچاس نمازوں کا۔‏‏‏‏“ کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ آپ کی امت کی طاقت سے باہر ہے۔ آپ واپس جائیں اور کمی کی طلب کیجئے۔‏‏‏‏“

آپ نے جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا کہ گویا آپ ان سے مشورہ لے رہے ہیں۔ ان کا بھی اشارہ پایا کہ ”اگر آپ کی مرضی ہو تو کیا حرج ہے“؟ آپ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف گئے اور اپنی جگہ ٹھہر کر دعا کی کہ ”اے اللہ ہمیں تخفیف عطا ہو۔ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔‏‏‏‏“ پس اللہ تعالیٰ نے دس نمازیں کم کر دیں۔ پھر آپ واپس لوٹے۔ موسیٰ علیہ السلام نے آپ کو پھر روکا اور یہ سن کر فرمایا۔ جاؤ اور کم کراؤ۔ آپ پھر گئے، پھر کم ہوئیں، یہاں تک کہ آخر میں پانچ رہ گئیں۔

موسیٰ علیہ السلام نے پھر بھی فرمایا کہ ”دیکھو میں بنی اسرائیل میں اپنی عمر گزار کر آیا ہوں۔ انہیں اس سے بھی کم حکم تھا لیکن پھر بھی وہ بے طاقت ثابت ہوئے اور اسے چھوڑ بیٹھے۔ آپ کی امت تو ان سے بھی ضعیف ہے، جسم کے اعتبار سے بھی اور دل، بدن، آنکھ کان کے اعتبار سے بھی۔ آپ پھر جائیے اور اللہ تعالیٰ سے تخفیف کی طلب کیجئے۔ آپ نے پھر حسب عادت جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا۔ جبرائیل علیہ السلام آپ کو پھر اوپر لے گئے، آپ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ اے اللہ میری امت کے جسم، دل، کان آنکھیں اور بدن کمزور ہیں۔ ہم سے اور بھی تخفیف کر۔

اسی وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ نے جواب دیا «لبیک وسعدیک» ، فرمایا: سن میری باتیں بدلتی نہیں جو میں نے اب مقرر کیا ہے یہی میں ام الکتاب میں لکھ چکا ہوں۔ یہ پانچ ہیں پڑھنے کے اعتبار سے اور پچاس ہیں ثواب کے اعتبار سے۔ جب آپ والپس آئے موسیٰ علیہ السلام نے کہا، کہو سوال منظور ہوا؟ آپ نے فرمایا۔ ہاں کمی ہو گئی یعنی پانچ کا ثواب پچاس کا مل گیا ہر نیکی کا ثواب دس گنا عطا فرمایا جانے کا وعدہ ہو گیا۔

موسیٰ علیہ السلام نے پھر فرمایا کہ میں بنی اسرائیل کا تجربہ کر چکا ہوں، انہوں نے اس سے بھی ہلکے احکام کو ترک کر دیا تھا، آپ پھر جائیے اور کمی طلب کیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اے کلیم اللہ میں گیا، آیا، اب تو مجھے کچھ شرم سی محسوس ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا اچھا پھر تشریف لے جائیے۔ بسم اللہ کیجئے۔ اب جب آپ جاگے تو آپ مسجد الحرام میں ہی تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7517] ‏‏‏‏ صحیح بخاری شریف میں یہ حدیث کتاب التوحید میں بھی ہے اور صفۃ النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی ہے۔

یہی روایت شریک بن عبداللہ بن ابو نمر سے مروی ہے لیکن انہوں نے اضطراب کر دیا ہے بوجہ اپنی کمزوری حافظہ کم بالکل ٹھیک ضبط نہیں رکھا۔ ان احادیث کے آخر میں اس کا بیان آئے گا۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ بعض اسے واقعہ خواب بیان کرتے ہیں شاید اس جملے کی بنا پر جو اس کے آخر میں وارد ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ اس حدیث کے اس جملے کو جس میں ہے کہ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ قریب ہوا اور اتر آیا بس بقدر دو کمان کے ہو گیا۔ بلکہ اور نزدیک۔ شریک نامی راوی کی وہ زیادتی بتاتے ہیں جس میں وہ منفرد ہیں۔ اسی لیے بعض حضرات نے کہا کہ آپ نے اس رات اللہ عزوجل کو دیکھا۔

لیکن سیدہ عائشہ، سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم ان آیتوں کو اس پر محمول کرتے ہیں کہ آپ نے جرئیل علیہ السلام کو دیکھا۔ یہی زیادہ صحیح ہے اور امام بیہقی رحمہ اللہ کا فرمان بالکل حق ہے اور روایت میں ہے کہ { جب آپ سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے؟ تو آپ نے فرمایا۔ وہ نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟ اور روایت میں ہے کہ میں نے نور کو دیکھا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:178] ‏‏‏‏

یہ جو سورۃ النجم میں ہے «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ» ’ یعنی پھر وہ نزدیک ہوا اور اتر آیا۔ ‘ ۱؎ [53-النجم:8] ‏‏‏‏ اس سے مراد جبرائیل ہیں جیسے کہ ان تینوں بزرگ صحابیوں رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بیان ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تو کوئی اس آیت کی اس تفسیر میں ان کا مخالف نظر نہیں آتا۔

مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے پاس براق لایا گیا۔ جو گدھے سے اونچا اور خچر سے نیچا تھا، جو ایک ایک قدم اتنی اتنی دور رکھتا تھا، جتنی دور اس کی نگاہ پہنچے۔ میں اس پر سوار ہوا وہ مجھے لے چلا، میں بیت المقدس پہنچا اور اسی کنڈے میں اسے باندھ دیا، جہاں انبیاء علیہ السلام باندھاہ کرتے تھے، پھر میں نے مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی۔ جب وہاں سے نکلا تو جبرائیل علیہ السلام میرے پاس ایک برتن میں شراب لائے اور ایک میں دودھ۔ میں نے دودھ کو پسند کر لیا، جبرائیل نے فرمایا تم فطرت تک پہنچ گئے۔ }

پھر اوپر اولیٰ حدیث کی طرح آسمان اول پر پہنچنا، اس کا کھلوانا، فرشتوں کا دریافت کرنا، جواب پانا، ہر آسمان پر اسی طرح ہونا، بیان ہے۔ پہلے آسمان پر آدم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، جہنوں نے مرحبا کہا اور دعائے خیر کی۔ دوسرے آسمان پر یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام سے ملاقات ہونے کا ذکر ہے، جو دونوں آپس میں خالہ زاد بھائی بھائی تھے۔ ان دونوں نے بھی آپ کو مرحبا کہا اور دعائے خیر دی، پھر تیسرے آسمان پر یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، جنہیں آدھا حسن دیا گیا ہے، آب نے بھی مرحبا کہا، نیک دعا کی، پھر چوتھے آسمان پر ادریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، جن کی بابت فرمان الٰہی ہے «وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا» ۱؎ [19-مريم:57] ‏‏‏‏ ’ ہم نے اسے اونچی جگہ اٹھا لیا ہے۔ ‘

پانچویں آسمان پر ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، چھٹے آسمان پر موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، ساتویں آسمان پر ابراہیم علیہ السلام کو بیت المعمور سے تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے دیکھا۔ بیت المعمور میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں، مگر جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے، جس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے اور جس کے پھل مٹکے جیسے۔

اسے امر رب نے ڈھک رکھا تھا، اس خوبی کا کوئی بیان نہیں کر سکتا۔ پھر وحی ہونے کا اور پچاس نمازوں کے فرض ہونے کا اور موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے واپس جا جا کر کمی کرا کرا کر پانچ تک پہنچنے کا بیان ہے۔ اس میں ہر بار کے سوال پر پانچ کی کمی کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ { آخر میں آپ سے فرمایا کیا جو نیکی کا ارادہ کرے گو وہ عمل میں نہ آئے تاہم اسے ایک نیکی کا ثواب مل جاتا ہے اور اگر کرلے تو دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اور گناہ کے صرف ارادے سے گناہ نہیں لکھا جاتا اور کر لینے سے ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے- } ۱؎ [صحیح مسلم:162] ‏‏‏‏

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس رات آپ کو اسراء بیت اللہ سے بیت المقدس تک ہوا اسی رات معراج بھی ہوئی اور یہی حق ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ { براق کی لگام بھی تھی اور زین بھی تھی۔ جب وہ سواری کے وقت کسمسایا تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا کیا کر رہا ہے؟ واللہ تجھ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے، آپ سے زیادہ بزرگ شخص کوئی سوار نہیں ہوا۔ پس براق پسینہ پسینہ ہو گیا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3131،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

سرگزشت معراج ٭٭

{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب مجھے میرے رب عزوجل کی طرف چڑھایا گیا تو میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جن کے تانبے کے ناخن تھے، جن سے وہ اپنے جہروں اور سینوں کو نوچ اور چھیل رہے تھے۔ میں نے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ تو جواب دیا گیا کہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزت وآبرو کے درپے رہتے تھے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4878،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

ابوداؤد میں ہے کہ { معراج والی رات جب میں موسیٰ علیہ السلام کی قبر سے گزرا تو میں نے انہیں وہاں نماز میں کھڑا پایا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2375] ‏‏‏‏

{ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ سے مسجد اقصٰی کے نشانات پوچھے آپ نے بتانے شروع کئے ہی تھے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، آپ بجا ارشاد فرما رہے ہیں اور سچے ہیں۔ میری گواہی ہے کہ آپ رسول اللہ ہیں۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1329:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ رکھا تھا۔

مسند بزار میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں سویا ہوا تھا کہ جبرائیل علیہ السلام آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ دیا۔ پس میں کھڑا ہو کر ایک درخت میں بیٹھ گیا جس میں پرندوں کے مکان جیسے تھے ایک میں جبرائیل علیہ السلام بیٹھ گئے وہ درخت پھول گیا اور اونچا ہونا شروع ہوا یہاں تک کہ اگر میں چاہتا تو آسمان کو چھو لیتا۔ میں تو اپنی چادر ٹھیک کر رہا تھا، لیکن میں نے دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام سخت تواضع اور فروتنی کے عالم میں ہیں، تو میں جان گیا کہ اللہ کی معرفت کے علم میں یہ مجھ سے افضل ہیں، آسمان کا ایک دروازہ میرے لیے کھولا گیا۔ میں نے ایک زبردست عظیم الشان نور دیکھا، جو حجاب میں تھا اور اس کے اس طرف یاقوت اور موتی تھے، پھر میری جانب بہت کچھ وحی کی گئی۔ } ۱؎ [بزار کشف الاستار:47/1] ‏‏‏‏

دلائل بیہقی میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے اور آپ کی پیٹھ کو انگلی سے اشارہ کیا، آپ ان کے ساتھ ایک درخت کی جانب چلے جس میں پرندوں کے گھونسلے جیسے تھے الخ اس میں یہ بھی ہے کہ جب ہماری طرف نور اترا تو جبرائیل علیہ السلام تو بیہوش ہو کر گر پڑے الخ پھر میری جانب وحی کی گئی کہ نبی اور بادشاہ بننا چاہتے ہو؟ یا نبی اور بندہ بننا چاہتے ہو اور جنتی؟ جبرائیل علیہ السلام نے اسی طرح تواضع سے گرے ہوئے، مجھے اشارے سے فرمایا کہ تواضع اختیار کرو، تو میں نے جواب دیا کہ اے اللہ میں نبی اور بندہ بننا منظور کرتا ہوں۔ } ۱؎ [مجمع الزوائد:18252:ضعیف و مرسل] ‏‏‏‏

اگر یہ روایت صحیح ہو جائے تو ممکن ہے کہ یہ واقعہ معراج کے سوا اور ہو کیونکہ اس میں نہ بیت المقدس کا ذکر ہے نہ آسمان پر چڑھنے کا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بزار کی ایک روایت میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا لیکن یہ روایت غریب ہے }۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏

ابن جریر میں ہے کہ { براق نے جب جبرائیل کی بات سنی اور پھر وہ آپ کو سوار کرا کر کے لے چلا تو آپ نے راستے کے ایک کنارے پر ایک بڑھیا کو دیکھا پوچھا یہ کون ہے؟ جواب ملا کہ چلے چلئے۔ پھر آپ نے چلتے چلتے دیکھا کہ کوئی راستے سے یکسو ہے اور آپ کو بلا رہی ہے پھر آپ آگے بڑھے تو دیکھ کہ اللہ کی ایک مخلوق ہے اور باآواز بلند کہہ رہی ہے «السلام علیک یا اول السلام علیک یا اخر السلام علیک یا حاشر» ، جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا جواب دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سلام کا جواب دیا۔ پھر دوبارہ ایسا ہی ہوا، پھر تیسری مرتبہ بھی یہی ہوا، یہاں تک کہ آپ بیت المقدس پہنچے۔ وہاں آپ کے سامنے پانی، شراب اور دودھ پیش کیا گیا، آپ نے دودھ لے لیا جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا آپ نے راز فطرت پالیا۔ اگر آپ پانی کے برتن لے کر پی لیتے تو آب کی امت غرق ہو جاتی اور اگر آپ شراب پی لیتے تو آپ کی امت بہک جاتی۔ پھر آپ کے لیے آدم علیہ السلام سے لے کر آپ کے زمانے تک کے تمام انبیاء بھیجے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی امامت کرائی اور اس رات نماز سب نے آپ کی اقتداء میں پڑھی۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا راستے کے کنارے جس بڑھیا کو آپ نے دیکھا تو وہ گویا یہ دکھایا گیا کہ دنیا کی عمر اب صرف اتنی ہی باقی ہے جیسے اس بڑھیا کی عمر اور جس کی آواز پر آپ تو جہ کرنے والے تھے وہ دشمن اللہ ابلیس تھا اور جن کی سلام کی آوازیں آب نے سنیں وہ ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام تھے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22020:ضعیف] ‏‏‏‏ اس میں بھی بعض الفاظ میں غرابت ونکارت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور روایت میں ہے کہ { جب میں براق پر جبرائیل علیہ السلام کی معیت میں چلا تو ایک جگہ انہوں نے مجھ سے فرمایا یہیں اتر کے نماز ادا کیجئے جب میں نماز پڑھ چکا تو فرمایا۔ جانتے ہو کہ یہ کون سی جگہ ہے؟ یہ طیبہ (‏‏‏‏یعنی مدینہ) ہے یہی ہجرت گاہ ہے۔ پھر ایک اور جگہ مجھ سے نماز پڑھوائی اور فرمایا ”یہ طور سینا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا۔ پھر ایک اور جگہ نماز پڑھوا کر فرمایا۔ یہ بیت لحم ہے جہاں عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے پھر میں بیت المقدس پہنچا۔ وہاں تمام انبیاء علیہم السلام جمع ہوئے، جبرائیل علیہ السلام نے مجھے امام بنایا۔ میں نے امامت کی، پھر مجھے آسمان کی طرف چڑھالے گئے پھر آپ کا ایک ایک آسمان پر پہنچنا، وہاں پیغمبروں سے ملنا مذکور ہے۔ فرماتے ہیں جب میں سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچا تو مجھے ایک نوارنی ابر نے ڈھک لیا میں اسی وقت سجدے میں گر پڑا، پھر آپ پر پچاس نمازوں کا فرض ہونا اور کم ہونا وغیرہ کا بیان ہے۔ آخر میں موسیٰ علیہ السلام کے بیان میں ہے کہ میری امت پر تو صرف دو نمازیں مقرر ہوئی تھیں لیکن وہ انہیں بھی نہ بجا لائے۔ آپ پھر پانچ سے بھی کمی چاہنے کے لیے گئے تو فرمایا گیا کہ میں نے تو آسمان و زمین کی پیدائش والے دن ہی تجھ پر اور تیری امت پر یہ پانچ نمازیں مقرر کر دی تھیں۔ یہ پڑھنے میں پانچ ہیں اور ثواب میں پچاس ہیں۔ پس تو اور تیری امت اس کی حفاظت کرنا آپ فرماتے ہیں اب مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ کا یہی حکم ہے۔ پھر جب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھے پھر واپس لوٹنے کا مشورہ دیا لیکن چونکہ میں معلوم کر چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حتمی حکم ہے، اس لیے میں پھر اللہ کے پاس نہ گیا }۔ ۱؎ [سنن نسائی:451،قال الشيخ الألباني:منكر] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں بھی معراج کے واقعہ کی مطول حدیث ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ { جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی مسجد کے پاس اس دروازے پر پہنچے جسے باب محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کہا جاتا ہے وہیں ایک پتھر تھا جسے جبرائیل علیہ السلام نے اپنی انگلی لگائی تو اس میں سوراخ ہو گیا، وہیں آپ نے براق کو باندھا اور مسجد پر چڑھ گئے۔

بیچوں بیچ پہنچ جانے کے بعد جبرائیل علیہ السلام نے کہا آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ آرزو کی ہے کہ وہ آپ کو حوریں دکھائے؟ آپ نے فرمایا ہاں، کہا آئیے، وہ یہ ہیں ”سلام کیجئے“ وہ صخرہ کے بائیں جانب بیٹھی ہوئی تھیں، میں نے وہاں پہنچ کر انہیں سلام کیا، سب نے میرے سلام کا جواب دیا، میں نے پوچھا، تم سب کون ہو؟ انہوں نے کہ ہم نیک سیرت، خوبصورت، حوریں ہیں ہم بیویاں ہیں اللہ کے پرہیز گار بندوں کی جو نیک کار ہیں، جو گناہوں کے میل کچیل سے دور ہیں، جو پاک کرکے ہمارے پاس لائے جائیں گے پھر نہ نکالے جائیں گے ہمارے پاس ہی رہیں گے، کبھی جدا نہ ہوں گے ہمیشہ زندہ رہیں گے کبھی نہ مریں گے۔

میں ان کے پاس سے چلا آیا۔ وہیں لوگ جمع ہونے شروع ہو گئے اور ذرا سی دیر میں بہت سے آدمی جمع ہو گئے۔ مؤذن نے اذان کہی تکبیر ہوئی اور ہم سب کھڑے ہو گئے۔ منتظر تھے کہ امامت کون کرائے گا؟ جو جبرائیل علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آگے کردیا۔ میں نے انہیں نماز پڑھائی جب فارغ ہوا تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا جانتے بھی ہو کن کو آپ نے نماز پڑھائی؟ میں نے کہا نہیں فرمایا آپ کے پیچھے آپ کے یہ سب مقتدی اللہ کے پیغمبر تھے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ مبعوث فرما چکا ہے۔ پھر میرا ہاتھ تھام کر آسمان کی طرف لے چلے۔ پھر بیان ہے کہ آسمانوں کے دروازے کھلوائے۔ فرشتوں نے سوال کیا۔ جواب پاکر دروازے کھولے وغیرہ۔ پہلے آسمان پر آدم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی انہوں نے فرمایا: ”میرے بیٹے اور نیک نبی کو مرحبا ہو۔‏‏‏‏“ اس میں چوتھے آسمان پر ادریس علیہ السلام سے ملاقات کرنے کا ذکر بھی ہے۔ ساتویں آسمان پر ابراہیم علیہ السلام سے ملنے اور ان کے بھی وہی فرمانے کا ذکر ہے جو آدم علیہ السلام نے فرمایا تھا۔

{ پھر مجھے وہاں سے بھی اونچا لے گئے۔ میں نے ایک نہر دیکھی، جس میں لؤلؤ یاقوت اور زبرجد کے جام تھے اور بہترین، خوش رنگ، سبز پرند تھے۔ میں نے کہا یہ تو نہایت ہی نفیس پرند ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا ہاں ”ان کے کھانے والے ان سے بھی اچھے ہیں“ پھر فرمایا معلوم بھی ہے؟ میں نے کہا نہیں فرمایا ”وہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرما رکھی ہے“ اس میں سونے چاندی کے آبخورے تھے جو یاقوت و زمرد سے جڑاؤ تھے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید تھا۔ میں نے ایک سونے کا پیالہ لے کر پانی بھر کر پیا تو وہ شہد سے بھی زیادہ میٹھا تھا اور مشک سے بھی زیادہ خوشبودار تھا۔ جب میں اس سے بھی اوپر پہنچا تو ایک نہایت خوش رنگ بادل نے مجھے آگھیرا جس میں مختلف رنگ تھے، جبرائیل علیہ السلام نے تو مجھے چھوڑ دیا اور میں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑا۔ پھر پچاس نمازوں کے فرض ہونے کا بیان ہے۔ پھر آپ واپس ہوئے، ابراہیم علیہ السلام نے تو کچھ نہ فرمایا لیکن موسیٰ علیہ السلام نے آپ کو سمجھا بجھا کر واپس طلب تخفیف کے لیے بھیجا، الغرض اسی طرح آپ کا باربار آنا، بادل میں ڈھک جانا دعا کرنا، تخفیفی ہونا، ابراہیم علیہ السلام سے ملتے ہوئے آنا اور موسیٰ علیہ السلام سے بیان کرنا ہاں تک کہ پانچ نمازوں کا رہ جانا وغیرہ بیان ہے۔ }

{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پھر مجھے جبرائیل علیہ السلام لے کر نیچے اترے میں نے ان سے پوچھا کہ جس آسمان پر میں پہنچا وہاں کے فرشتوں نے خوشی ظاہر کی ہنس ہنس کر مسکراتے ہوئے مجھ سے ملے بجز ایک فرشتے کے کہ اس نے میرے سلام کا جواب تو دیا مجھے مرحبا بھی کہا لیکن مسکرائے نہیں یہ کون ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ مالک ہیں۔ جہنم کے داروغہ ہیں، اپنے پیدا ہونے سے لے کر آج تک وہ ہنسے ہی نہیں اور قیامت تک ہنسیں گے بھی نہیں کیونکہ ان کی خوشی کا یہی ایک بڑا موقعہ تھا۔ واپسی میں قریشیوں کے ایک قافلے کو دیکھا جو غلہ لا دے جا رہا تھا، اس میں ایک اونٹ تھا جس پر ایک سفید اور ایک سیاہ بورا تھا، جب آپ اس کے قریب سے گزرے تو وہ چمک گیا اور مڑ گیا اور گر پڑا اور لنگڑا ہو گیا اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پہنچا دئے گئے۔ صبح ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس معراج کا ذکر لوگوں سے کیا۔ مشرکوں نے جب یہ سنا تو وہ سیدھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے لو تمہارے پیغمبر صاحب تو کہتے ہیں کہ وہ آج کی ایک ہی رات میں مہینہ بھر کے فاصلے کے مقام تک ہو آئے۔ آپ نے جواب دیا کہ اگر فی الواقع آپ نے یہ فرمایا ہو تو آپ سچے ہیں، ہم تو اس سے بھی بڑی بات میں آپ کو سچا جانتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ آپ کو آن کی آن میں آسمان سے خبریں پہنچتی ہیں۔ مشرکوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ کی سچائی کی کوئی علامت بھی آپ پیش کر سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں میں نے راستے میں فلاں فلاں جگہ قریش کا قافلہ دیکھا۔ ان کا ایک اونٹ جس پر سفید و سیاہ رنگ کے دو بورے ہیں، وہ ہمیں دیکھ کر بھڑ کا، گھوما اور چکر کھا کر گر پڑا اور ٹانگ ٹوٹ گئی جب وہ قافلہ آیا لوگوں نے ان سے جا کر پوچھا کہ راستے میں کوئی نئی بات تو نہیں ہوئی؟ انہوں نے کہا ہاں ہوئی۔ فلاں اونٹ فلاں جگہ اس طرح گرا وغیرہ۔ کہتے ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ کی اسی تصدیق کی وجہ سے انہیں صدیق کہا گیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے سوال کی

📖 احسن البیان

پاک ہے (1) وہ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے (2) کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ (3) تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے (4) رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں (5) یقیناً اللہ تعالیٰ خوب سننے دیکھنے والا ہے۔

📖 القرآن الکریم

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورۂ بنی اسرائیل، سورۂ کہف اور سورۂ مریم کے متعلق فرمایا: [ إِنَّهُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الْأُوَلِ، وَ هُنَّ مِنْ تِلاَدِيْ ] [ بخاری، التفسیر، سورۃ بني إسرائیل: ۴۷۰۸ ] ”یہ پہلی قدیم سورتوں میں سے ہیں اور یہ میرے قدیم مال میں سے ہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ یہ سورت مکی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ زمر پڑھا کرتے تھے۔ [ مسند أحمد: 68/6، ح: ۲۴۴۴۲، عن عائشۃ رضی اللہ عنہا۔ ترمذی: ۲۹۲۰، و صححہ الألباني ] (آیت 1) ➊ {سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ: } اس سورت کی ابتدا اللہ تعالیٰ کو ہر ایسی چیز سے پاک قرار دینے سے کی جو اس کے جلال کے لائق نہیں، چنانچہ فرمایا: «‏‏‏‏سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ» طنطاوی نے فرمایا، اس کی سب سے اچھی نحوی ترکیب یہ ہے کہ {” سُبْحٰنَ “} اسم مصدر ہے اور فعل محذوف {” سَبَّحْتُ “} یا {” اُسَبِّحُ “ } کا مفعول مطلق ہے اور {” الَّذِيْۤ “} کی طرف مضاف ہے، یعنی میں اس (اللہ) کا ہر عیب اور کمی سے پاک ہونا بیان کرتا ہوں جو اپنے بندے…۔ (التفسیر الوسیط) معلوم ہوا کہ آگے کوئی ایسا کام بیان ہونے والا ہے جس کا واقع ہونا انسانی طاقت سے باہر ہے، اس لیے بات یہیں سے شروع فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان تمام عیبوں، کمزوریوں اور نارسائیوں سے پاک ہے جو مخلوق میں پائی جاتی ہیں اور وہ ان کاموں پر قادر ہے جن پر اس کے سوا کوئی قدرت نہیں رکھتا۔ ➋ { اَسْرٰى:} شیخ سلیمان الجمل نے فرمایا: {” اَسْرٰى “} اور {”سَرٰی“} دونوں کا معنی ہے، وہ رات کو چلا، دونوں فعل لازم ہیں، پہلے کا مصدر {”اَلْإِسْرَاءُ“} ہے اور دوسرے کا {”اَلسُّرٰي“} بروزن {” اَلْهُدٰي“}، اس لیے اسے متعدی بنانے کے لیے {” بِعَبْدِهٖ “ } میں باء لائی گئی ہے، جس سے معنی ”وہ رات کو چلا“ کے بجائے ”اس نے (اپنے بندے کو) رات کو چلایا“ ہو گیا۔“ اس سے رات کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راتوں کو قیام، دعائیں، اسراء و معراج، راتوں کا سفر سب اس کی دلیل ہیں۔ ➌ {بِعَبْدِهٖ:} ”اپنے بندے“ کا لفظ اس محبت اور تعلق کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ اگر پیار و محبت اور آپ کی عظمت و شان کے اظہار کے لیے اس سے زیادہ یہاں کوئی لفظ موزوں ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسی کو ذکر فرماتا، لفظ {”عَبْدٌ“ } منتخب ہی اس لیے فرمایا کہ تمام مخلوقات کی صفات میں سب سے اونچی اور بڑی صفت اللہ تعالیٰ کی عبودیت اور بندگی ہے، پھر خاص اپنی طرف نسبت کرکے مزید رتبہ بڑھا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا عبد (بندہ، غلام) قرار دینے میں یہ بھی اشارہ ہے کہ مالک اور معبود صرف اللہ تعالیٰ ہے، باقی سب اس کے بندے، غلام، اس کے سامنے عاجز اور مطیع ہیں، کیونکہ {” عَبْدٌ “} کا معنی یہی ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا» [ مریم: ۹۳ ] ”زمین و آسمان میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔“ مقصد یہ ہے کہ عبودیت اور الوہیت، یعنی بندگی اور خدائی کے مقام کا فرق بالکل واضح ہو جائے، انھیں ایک نہ سمجھ لیا جائے، جیسا کہ مسیحیت میں ہوا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، عیسیٰ علیہ السلام کو اور ان کی والدہ کو ایک ہی معبود قرار دے دیا، انھوں نے عبودیت اور الوہیت کے فرق کو نہ سمجھا۔ بعض جھوٹے مسلمانوں نے بھی احد اور احمد کو ایک قرار دے لیا۔ یہ آیت ان کی واضح تردید کرتی ہے۔ علامہ قاسمی نے امام ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب {”طَرِيْقُ الْهِجْرَتَيْنِ“} سے نقل فرمایا کہ تمام مخلوق میں سے کامل وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبودیت (بندگی) میں سب سے کامل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب اور بلند مرتبہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: [ وَاللّٰهِ! مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُوْنِيْ فَوْقَ مَنْزِلَتِيَ الَّتِيْ أَنْزَلَنِيَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ ] [ مسند أحمد: 153/3: ۱۲۵۵۸، سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۰۹۷، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ”اللہ کی قسم! اے لوگو! میں پسند نہیں کرتا کہ تم مجھے میرے اس مرتبے سے بلند قرار دو جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا کیا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: [ لَا تُطْرُوْنِيْ كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَي ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ فَقُوْلُوْا عَبْدُ اللّٰهِ وَ رَسُوْلُهُ ] [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «‏‏‏‏واذکر فی الکتاب مریم…» : ۳۴۴۵ ] ”مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھاؤ جیسا کہ نصاریٰ نے مسیح ابن مریم کو حد سے بڑھا دیا، میں تو صرف اس کا عبد (بندہ) ہوں، سو تم مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔“ اللہ تعالیٰ نے آپ کا ذکر آپ کے بلند ترین مقام اسراء و معراج میں عبودیت کے نام سے فرمایا، چنانچہ فرمایا: «‏‏‏‏سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ» اور دعوت کے مقام میں فرمایا: «وَ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ» ‏‏‏‏ [ الجن: ۱۹ ] اور چیلنج کے مقام میں فرمایا: «وَ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۲۳ ] ➍ { لَيْلًا:} زمحشری نے فرمایا، اگر تم کہو کہ {” إِسْرَاءٌ“} کا معنی ہی رات کو چلنا ہے، پھر {” لَيْلًا “} کہنے کا مقصد کیا ہے؟ تو میں کہتا ہوں کہ {” لَيْلًا “} کا لفظ نکرہ کی صورت میں لانے سے رات کی اس مدت کو جس میں سفر کیا، کم بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رات کے ایک تھوڑے سے حصے میں مکہ سے شام تک کا چالیس راتوں کا فاصلہ طے کروا دیا، کیونکہ تنکیر یہاں بعضیہ (بلکہ بقول بعض تقلیل وتحقیر) کا معنی دے رہی ہے (یہ بات ترجمہ میں بھی ملحوظ رکھی گئی ہے)۔ یاد رہے! چالیس راتوں یا ایک مہینے سے زائد دنوں کا سفر ایک طرف کا ہے، آنے جانے کا دگنا سمجھ لیں۔ ➎ { مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا:} مسجد حرام کعبہ کے اردگرد والی مسجد، کیونکہ اسے کئی طرح کی حرمت حاصل ہے۔ بعض علماء پورے حرم کو مسجد حرام کہتے ہیں۔ جس رات یہ سفر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر سوئے ہوئے تھے۔ وہاں سے آپ کو حطیم کعبہ میں لایا گیا اور پھر آپ حطیم سے براق پر سوار ہو کر مسجد اقصیٰ (دور ترین مسجد) یعنی بیت المقدس پہنچے، اس وقت مکہ سے سب مسجدوں سے دور پائی جانے والی مسجد یہی تھی، چونکہ سفر کی ابتدا حطیم سے ہوئی، اس لیے کئی علماء صرف مسجد کے حصے ہی کو مسجد حرام کہتے ہیں۔ بیت المقدس سے معراج (سیڑھی) کے ذریعے سے اوپر ساتوں آسمانوں سے گزر کر سدرۃ المنتہیٰ پہنچے، راستے میں متعدد جلیل القدر انبیاء علیہم السلام سے ملاقاتیں ہوئیں، جنت و دوزخ کا مشاہدہ بھی کیا، سدرہ کے پاس ہی جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا، وہیں آپ کو پہلے پچاس نمازوں اور آخر میں روزانہ پانچ نمازوں کا حکم ہوا، پھر پلٹ کر بیت المقدس آئے تو آپ نے امام بن کر تمام انبیاء علیہم السلام کے ساتھ نماز ادا کی۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اسی کو ترجیح دی ہے، لیکن قاضی عیاض وغیرہ کا خیال ہے کہ انبیاء کی امامت آپ نے واپسی پر نہیں بلکہ معراج کو جاتے ہوئے کروائی ہے۔ بہرحال اس کے بعد مسجد حرام تشریف لائے۔ واقعۂ اسراء و معراج کی تفصیلات کے لیے تفسیر ابن کثیر اور کتب احادیث کا مطالعہ فرمائیں۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بڑی تفصیل، ترتیب اور سلیقے سے روایات جمع فرما دی ہیں۔ ➏ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کے سفر کا نام ”اسراء“ ہے، جو یہاں مذکور ہے اور وہاں سے سدرۃ المنتہیٰ تک کا سفر ”معراج“ کہلاتا ہے۔ اس کا ذکر سورۂ نجم اور کتب احادیث میں ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں بہت سی احادیث مع سند ذکر فرمائی ہیں، ان میں سے بعض روایات کے آخر میں فرمایا کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس حدیث کے الفاظ دلیل ہیں کہ معراج اسی رات ہوئی ہے جب آپ مکہ سے بیت المقدس گئے ہیں اور یہی حق ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔“ ➐ قرطبی نے فرمایا کہ اسراء کا واقعہ حدیث کی تمام کتابوں میں ثابت ہے اور اسلام کے زیر نگیں تمام علاقوں کے صحابہ سے مروی ہے، اس لحاظ سے یہ متواتر ہے۔ نقاش نے اسے نقل کرنے والے بیس صحابہ ذکر کیے ہیں۔ گو بعض جزئیات میں اختلاف ہے مگر اصل واقعہ بلاشک و شبہ ثابت ہے۔ (قرطبی) ➑ علمائے سلف و خلف رحمۃ اللہ علیھم کا عقیدہ ہے کہ یہ واقعہ بیداری میں روح اور جسم سمیت پیش آیا اور قرآن میں لفظ {”بِعَبْدِهٖ “} سے بھی اس کی شہادت ملتی ہے، کیونکہ عبد صرف روح کو نہیں کہتے، بلکہ روح مع جسد کو کہتے ہیں۔ پھر اگر یہ خواب کا واقعہ ہوتا تو کفار قریش اسے نہ جھٹلاتے، کیونکہ خواب میں تو ہر ایک کو عجیب و غریب واقعات پیش آتے رہتے ہیں اور نہ قرآن ہی {” سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ “} کی تمہید کے ساتھ اسے بیان کرتا، کیونکہ ان تمہیدی الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اہم اور خرق عادت واقعہ بیان کیا جا رہا ہے، پھر {” لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا “} اور {” مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى “} (نجم: ۱۷) میں بھی سر کی آنکھوں سے دیکھنے کا ذکر ہے، پھر براق پر سواری بھی جسمانی معراج کی دلیل ہے۔ بعض علماء نے آیت کریمہ: «وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ» ‏‏‏‏ [ بنی إسرائیل: ۶۰ ] میں لفظ {” الرُّءْيَا “} سے استدلال کیا ہے کہ یہ خواب کا واقعہ ہے، مگر محققین علمائے لغت نے تصریح کی ہے کہ لفظ {” الرُّءْيَا “ } (جو {”رَأَي يَرَي“} کا مصدر ہے) بیداری میں آنکھوں کے دیکھنے پر بھی استعمال ہوتا ہے، یہاں یہی مراد ہے اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے تصریح فرمائی ہے: [ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلٰی بَيْتِ الْمَقْدِسِ ] [ بخاری، مناقب الأنصار، باب المعراج: ۳۸۸۸ ] ”یہ آنکھوں کا دیکھنا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس رات دکھایا گیا جس رات آپ کو بیت المقدس لے جایا گیا۔“ معلوم ہوا کہ اس آیت سے ان علماء کا استدلال درست نہیں ہے، تمام صحابہ روایتاً و درایتاً اس پر متفق ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج بیداری کی حالت میں ہوئی اور جسم کے ساتھ ہوئی۔ صرف عائشہ اور معاویہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ معراج خواب میں ہوئی، مگر ایک تو یہ روایت سنداً منقطع ہے اور پھر ان کی اپنی رائے اور آیت کریمہ «وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ» ‏‏‏‏ [ بنی إسرائیل: ۶۰ ] سے استدلال ہے جو صحابہ کے متفقہ فیصلے کے مقابلے میں توجہ کے قابل نہیں۔ (شوکانی، ابن کثیر) ➒ علامہ جمال الدین قاسمی کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ اسراء بعثت نبوی کے بعد ہوا ہے اور یہ کہ وہ ہجرت سے ایک سال پہلے تھا۔ زہری اور ابن سعد وغیرہ کا یہی کہنا ہے، امام نووی نے بھی یہ بات یقین سے کہی ہے، ابن حزم رحمہ اللہ نے مبالغہ کرتے ہوئے اس پر اجماع نقل فرمایا ہے اور کہا ہے کہ یہ (اسراء و معراج) رجب ۱۲ نبوی میں ہوئی ہے۔ طبیعت کو اطمینان اس بات پر ہوتا ہے کہ اسراء و معراج کے واقعات ابوطالب اور خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد ہوئے ہیں، کیونکہ اس دوران میں مشرکین کی ایذا بہت بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ انعام ان کی طرف سے پیش آنے والی ایذا سے تسلی دینے کے لیے اور آپ کی عزت افزائی اور تکریم کے لیے عطا فرمایا۔ اشرف الحواشی میں ہے کہ اکثر روایات کے مطابق یہ قصہ ہجرت سے ایک سال قبل کا ہے۔ امام ابن حزم رحمہ اللہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور ملا امین عمری نے اسے قطعی قرار دیا ہے۔ بعض روایات میں تین سال قبل بھی مذکور ہے۔ علامہ شنقیطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحیحین میں ”شریک عن انس“ کی سند سے جو مذکور ہے کہ اسراء مذکور خواب میں واقع ہوا، وہ کتاب و سنت کی صریح نصوص اور اہل السنۃ والجماعہ کے عقیدے (کہ اسراء و معراج بیداری میں جسمانی ہوئی) کے خلاف نہیں، کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ پہلے یہ سب کچھ آپ کو خواب میں دکھایا گیا ہو اور پھر اس کی تصدیق بیداری میں دکھا کر کی گئی ہو، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا: «لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِيْنَ» ‏‏‏‏ [ الفتح: ۲۷ ] ”تم مسجد حرام میں ضرور بضرور داخل ہوگے، اگر اللہ نے چاہا، امن کی حالت میں، اپنے سر منڈاتے ہوئے اور کتراتے ہوئے۔“ پھر بیداری میں اس کی تصدیق بالفعل بھی فرما دی گئی۔ اس کی تصدیق عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے وہ صبح کے طلوع ہونے کی طرح دن کو سامنے آ جاتا۔ علاوہ ازیں انس رضی اللہ عنہ سے شریک کے علاوہ بہت سے حفاظ نے یہ روایت بیان کی ہے، لیکن کسی نے بھی شریک کے خواب میں دیکھنے والے الفاظ بیان نہیں کیے۔ اہل علم کی ایک جماعت نے فرمایا کہ شریک بن عبد اللہ بن ابی نمر نے انس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت صحیح یاد نہیں رکھی۔ امام مسلم نے فرمایا کہ شریک نے یہ حدیث ثابت بنانی (انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد) کی طرح بیان کی اور اس میں کچھ چیزیں آگے پیچھے کر دیں اور کچھ کم زیادہ کر دیں۔ دوسرے تمام حفاظ کی روایت صحیح ہے اور اس میں شریک والے الفاظ نہیں ہیں۔ ➓ بعض لوگ معراج کی رات میں لیلۃ القدر کی طرح خصوصی قیام اور تلاوت و ذکر کا اہتمام کرتے ہیں، اگر اس کی کوئی حقیقت ہوتی تو کم از کم کسی صحیح سند کے ساتھ اس مہینے اور دن کی تعیین ضرور معلوم ہوتی، جس میں یہ واقعہ ہوا اور صحابہ بھی اس رات اس کا اہتمام کرتے، جبکہ ستائیس (۲۷) رجب کی کوئی صحیح روایت موجود نہیں اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ سے اس رات کی خاص عبادت کا کہیں ذکر ہے، رہی آتش بازی اور چراغاں تو وہ آتش پرستوں کے ساتھ مشابہت ہے جس سے پرہیز لازم ہے۔ ⓫ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی زیارت کی ہے یا نہیں، یہ بحث سورۂ نجم (۹) «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى» ‏‏‏‏ میں آئے گی اور معراج کے واقعہ کا بقدر ضرورت ذکر بھی وہیں ہو گا۔ (ان شاء اللہ) ⓬ { الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ:} یعنی وہاں ظاہری اور مادی برکات بھی ہیں کہ وہاں چشموں، نہروں اور ہر قسم کے غلے اور پھلوں کی بہتات ہے اور معنوی و باطنی اعتبار سے بھی وہ خطہ بابرکت ہے کہ بیت المقدس میں چاروں مقدس کتابیں پڑھی گئیں، بہت سے انبیاء و رسل وہاں مبعوث ہوئے، وہاں دنیا میں کعبۃ اللہ کے بعد بنائی جانے والی دوسری مسجد ہے، جو ان تین مساجد میں شامل ہے جن کے علاوہ کسی جگہ ثواب کی نیت سے کجاوے کس کر جانا منع ہے۔ قرآن مجید میں کئی جگہ یہ اصطلاح بیت المقدس اور شام کے لیے آئی ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ نَجَّيْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا لِلْعٰلَمِيْنَ» [ الأنبیاء: ۷۱] ”اور ہم نے اسے اور لوط کو اس سرزمین کی طرف نجات دی جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی۔“ اور فرمایا: «وَ لِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ عَاصِفَةً تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا» [ الأنبیاء: ۸۱ ] ”اور سلیمان کے لیے ہوا (مسخر کر دی) جو تیز چلنے والی تھی، اس کے حکم سے اس زمین کی طرف چلی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی۔“ ان تمام آیات سے مراد سرزمین شام ہے۔ ⓭ { لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا:} اسراء میں پیش آنے والی نشانیاں، مثلاً آپ کے مکان کی چھت کا کھولا جانا، جبریل علیہ السلام کا آپ کا سینہ مبارک چاک کرکے دل کو زم زم سے دھو کر ایمان و حکمت سے بھر کر پھر ملا دینا، براق کی سواری جس کا قدم حد نگاہ پر پڑتا تھا، مہینوں کا سفر لمحوں میں طے ہونا، بیت المقدس میں دودھ اور شراب کا پیش کیا جانا اور آپ کا دودھ کو پسند فرمانا، انبیاء علیہم السلام کی ملاقات اور امامت وغیرہ، پھر سفر معراج کی بے شمار نشانیاں ان کے علاوہ ہیں جن کے متعلق فرمایا: «لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى» ‏‏‏‏ [ النجم: ۱۸ ] ”بلاشبہ یقینا اس نے اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔“ ⓮ {اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پہلے {” سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى “} میں اپنا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ فرمایا، پھر {” بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ “} اور {” لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا “} میں تین مرتبہ جمع متکلم برائے تعظیم کے ساتھ، پھر اس آیت کے آخر میں {”اِنَّهٗ هُوَ “} غائب کے ساتھ اور اس سے اگلی آیت میں پھر جمع متکلم کے ساتھ فرمایا ہے، پھر بھی سمجھنے میں کسی جگہ کوئی الجھن پیش نہیں آئی بلکہ لطف محسوس ہوتا ہے۔ کلام کا یہ اسلوب بلاغت کا کمال ہے، اسے عربی میں التفات کہتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ واقعۂ اسراء سن کر اہلِ ایمان کے اسے تسلیم کرنے کو اور کفار کے اس سے انکار کو اور دونوں نے اس پر جو کچھ کہا اور کیا یقینا وہ صرف وہی (اللہ) ہے جو سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا اور اس کے مطابق ہر ایک سے معاملہ کرنے والا اور جزا و سزا دینے والا ہے۔
← پچھلی آیت پوری سورۃ اگلی آیت (2) →