بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الإسراء/بني اسرائيل — Surah Isra
آیت نمبر 28
کل آیات: 111
قرآن کریم الإسراء/بني اسرائيل آیت 28
آیت نمبر: 28 — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل islamicurdubooks.com ↗
وَ اِمَّا تُعۡرِضَنَّ عَنۡہُمُ ابۡتِغَآءَ رَحۡمَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکَ تَرۡجُوۡہَا فَقُلۡ لَّہُمۡ قَوۡلًا مَّیۡسُوۡرًا ﴿۲۸﴾
اگر اُن سے (یعنی حاجت مند رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں سے) تمہیں کترانا ہو، اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اُس رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو تلاش کر رہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو
اور اگر تجھے ان سے منھ پھیر لینا پڑے اپنے رب کی اس رحمت کی جستجو میں، جس کی تو امید رکھتا ہے تو بھی تجھے چاہیئے کہ عمدگی اور نرمی سے انہیں سمجھا دے
اور اگر تو ان سے منہ پھیرے اپنے رب کی رحمت کے انتظار میں جس کی تجھے امید ہے تو ان سے آسان بات کہہ
اور اگر تمہیں ان لوگوں سے پہلوتہی کرنی پڑے اس انتظار میں کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رحمت (کشائش) آئے جس کے تم امیدوار ہو تو ان سے نرم انداز میں بات کرو۔
اور اگر کبھی تو ان سے بے توجہی کر ہی لے، اپنے رب کی کسی رحمت کی تلاش کی وجہ سے، جس کی تو امید رکھتا ہو تو ان سے وہ بات کہہ جس میں آسانی ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ماں باپ اور قرابت داروں سے حسن سلوک کی تاکید ٭٭

ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کا حکم دے کر اب قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ حدیث میں ہے { اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ سے پھر جو زیادہ قریب ہو اور جو زیادہ قریب ہو۔} ۱؎ [مسند احمد:64/4:صحیح] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { جو اپنے رزق کی اور اپنی عمر کی ترقی چاہتا ہو اسے صلہ رحمی کرنی چاہیئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5986] ‏‏‏‏ بزار میں ہے { اس آیت کے اترتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر فدک عطا فرمایا۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1075:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ اور واقعہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لیے کہ یہ آیت مکیہ ہے اور اس وقت تک باغ فدک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں نہ تھا۔ ٧ ھ میں خیبر فتح ہوا تب باغ آپ کے قبضے میں آیا پس یہ قصہ اس پر پورا نہیں اترتا۔ مساکین اور مسافرین کی پوری تفسیر سورۃ برات میں گزر چکی ہے یہاں دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔

خرچ کا حکم کر کے پھر اسراف سے منع فرماتا ہے۔ نہ تو انسان کو بخیل ہونا چاہیے نہ مسرف بلکہ درمیانہ درجہ رکھے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:67] ‏‏‏‏ ’ یعنی ایماندار اپنے خرچ میں نہ تو حد سے گزرتے ہیں نہ بالکل ہاتھ روک لیتے ہیں۔ ‘ پھر اسراف کی برائی بیان فرماتا ہے کہ ایسے لوگ شیطان جیسے ہیں۔ «تبذیر» کہتے ہیں غیر حق میں خرچ کرنے کو۔ اپنا کل مال بھی اگر راہ للہ دیدے تو یہ تبذیر و اسراف نہیں اور غیر حق میں تھوڑا سا بھی دے تو مبذر ہے۔ { بنو تمیم کے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مالدار آدمی ہوں اور اہل و عیال کنبے قبیلے والا ہوں تو مجھے بتائیے کہ میں کیا روش اختیار کروں؟ آپ نے فرمایا اپنے مال کی زکوٰۃ الگ کر، اس سے تو پاک صاف ہو جائے گا۔ اپنے رشتے داروں سے سلوک کر سائل کا حق پہنچاتا رہ اور پڑوسی اور مسکین کا بھی۔ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تھوڑے الفاظ میں پوری بات سمجھا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا قرابت داروں مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کر اور بیجا خرچ نہ کر۔ اس نے کہا حسبی اللہ اچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ کے قاصد کو زکوٰۃ ادا کر دوں تو اللہ و رسول کے نزدیک میں بری ہو گیا؟ آپ نے فرمایا ہاں جب تو نے میرے قاصد کو دے دیا تو تو بری ہو گیا اور تیرے لیے اجر ثابت ہو گیا۔ اب جو اسے بدل ڈالے اس کا گناہ اس کے ذمے ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:136/3:صحیح] ‏‏‏‏

یہاں فرمان ہے کہ اسراف اور بیوقوفی اور اللہ کی اطاعت کے ترک اور نافرمانی کے ارتکاب کی وجہ سے مسرف لوگ شیطان کے بھائی بن جاتے ہیں۔ شیطان میں یہی بد خصلت ہے کہ وہ رب کی نعمتوں کا ناشکرا، اس کی اطاعت کا تارک، اس کی نافرمانی اور مخالفت کا عامل ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان قرابت داروں، مسکینوں، مسافروں میں سے کوئی کبھی تجھ سے کچھ سوال کر بیٹھے اور اس وقت تیرے ہاتھ تلے کچھ نہ ہو اور اس وجہ سے تجھے ان سے منہ پھیر لینا پڑے تو بھی جواب نرم دے کہ بھائی جب اللہ ہمیں دے گا ان شاءاللہ ہم آپ کا حق نہ بھولیں گے وغیرہ۔

📖 احسن البیان

28۔ 1 یعنی مالی استطاعت کے فقدان کی وجہ سے، جس کے دور ہونے کی اور کشائش رزق کی تو اپنے رب سے امید رکھتا ہے۔ اگر تجھے غریب رشتے داروں، مسکینوں اور ضرورت مندوں سے اعراض کرنا یعنی اظہار معذرت کرنا پڑے تو نرمی اور عمدگی کے ساتھ معذرت کر، یعنی جواب بھی دیا جائے تو نرمی اور پیار و محبت کے لہجے میں نہ کہ ترشی اور بد اخلاقی کے ساتھ، جیسا کہ عام طور پر لوگ ضرورت مندوں اور غریبوں کے ساتھ کرتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 28) ➊ {وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ …:” اِمَّا “ ” إِنْ “} اور {” مَا “} سے مرکب ہے، جس میں{ ”مَا“ ”إِنْ “ } کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”اگر کبھی“ کیا گیا ہے، یعنی ذی القربیٰ، مسکین اور ابن السبیل سے اعراض (بے رخی) بخل کرتے ہوئے ہر گز جائز نہیں، صرف ایک صورت میں جائز ہے کہ تمھارے پاس دینے کے لیے اس وقت کچھ نہ ہو، ہاں تمھیں اللہ کی رحمت (حلال اور وافر رزق) کے حصول کی امید ہو (جس سے نا امید ہونا کبھی جائز نہیں) تو ان سے ایسے الفاظ میں معذرت کر لو جن میں نرمی اور آسانی ہو۔ {” مَيْسُوْرًا “} لفظ عموماً مجہول ہی آتا ہے، جیسے کہا جاتا ہے: {” يُسِرَ فُلاَنٌ فَهُوَ مَيْسُوْرٌ، عُسِرَ فُلَانٌ فَهُوَ مَعْسُوْرٌ، نُحِسَ فُلَانٌ فَهُوَ مَنْحُوْسٌ، سُعِدَ فُلاَنٌ فَهُوَ مَسْعُوْدٌ “} اس آیت کی مزید وضاحت سورۂ بقرہ (۲۶۱) میں دیکھیں اور ایسے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے تھے، اس کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ کی آیت (۹۲)۔ ➋ مہائمی رحمہ اللہ نے اس کا ایک اور مفہوم بیان کیا ہے کہ اگر تم مذکورہ لوگوں سے اعراض اس وجہ سے کرو کہ ان سے اعراض کرنے میں تمھیں رب تعالیٰ کی رحمت کے حصول کی امید ہو، مثلاً تمھیں معلوم ہو کہ اگر اسے مال دیا تو یہ اسے نشے پر، زنا پر یا کسی گناہ پر صرف کرے گا تو تب بھی نرمی اور خوش اسلوبی سے اس سے معذرت کرو۔ آیت کے الفاظ میں اس مفہوم کی بھی گنجائش ہے۔
← پچھلی آیت (27) پوری سورۃ اگلی آیت (29) →