بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الإسراء/بني اسرائيل — Surah Isra
آیت نمبر 24
کل آیات: 111
قرآن کریم الإسراء/بني اسرائيل آیت 24
آیت نمبر: 24 — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل islamicurdubooks.com ↗
وَ اخۡفِضۡ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَۃِ وَ قُلۡ رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا ﴿ؕ۲۴﴾
اور نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو، اور دعا کیا کرو کہ "پروردگار، ان پر رحم فرما جس طرح اِنہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا"
اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے
اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دنوں نے مجھے چھٹپن (بچپن) میں پالا
اور ان کے سامنے مہر و مہربانی کے ساتھ انکساری کا پہلو جھکائے رکھو اور کہو اے پروردگار تو ان دونوں پر اسی طرح رحم و کرم فرما جس طرح انہوں نے میرے بچپنے میں مجھے پالا( اور میری پرورش کی)۔
اور رحم دلی سے ان کے لیے تواضع کا بازو جھکا دے اور کہہ اے میرے رب! ان دونوں پر رحم کر جیسے انھوں نے چھوٹا ہونے کی حالت میں مجھے پالا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اٹل فیصلے محکم حکم ٭٭

یہاں «قَضَىٰ» معنی میں حکم فرمانے کے ہے تاکیدی حکم الٰہی جو کبھی ٹلنے والا نہیں یہی ہے کہ عبادت اللہ ہی کی ہو اور والدین کی اطاعت میں ہمیشہ فرق نہ آئے۔ سیدنا ابی ابن کعب، } ابن مسعود اور سیدنا ضحاک بن مزاحم رضی اللہ عنہم کی قرأت میں «قَضَىٰ» کے بدلے «وصی» ہے۔ یہ دونوں حکم ایک ساتھ جیسے یہاں ہیں ایسے ہی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» ۱؎ [31-لقمان:14] ‏‏‏‏ ’ میرا شکر کر اور اپنے ماں باپ کا بھی احسان مند رہ۔‘ خصوصا ان کے بڑھاپے کے زمانے میں ان کا پورا ادب کرنا، کوئی بری بات زبان سے نہ نکالنا یہاں تک کہ ان کے سامنے ہوں بھی نہ کرنا، نہ کوئی ایسا کام کرنا جو انہیں برا معلوم ہو، اپنا ہاتھ ان کی طرف بےادبی سے نہ بڑھانا، بلکہ ادب، عزت اور احترام کے ساتھ ان سے بات چیت کرنا، نرمی اور تہذیب سے گفتگو کرنا، ان کی رضا مندی کے کام کرنا، دکھ نہ دینا، ستانا نہیں، ان کے سامنے تواضع، عاجزی، فروتنی اور خاکساری سے رہنا۔ ان کے لیے ان کے بڑھاپے میں ان کے انتقال کے بعد دعائیں کرتے رہنا۔ خصوصا یہ دعا کہ اے اللہ ان پر رحم کر جیسے رحم سے انہوں نے میرے بچپن کے زمانے میں میری پرورش کی۔ ہاں ایمانداروں کو کافروں کے لیے دعا کرنا منع ہو گئی ہے گو وہ ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں؟

ماں باپ سے سلوک و احسان کے احکام کی حدیثیں بہت سی ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر چڑھتے ہوئے تین دفعہ آمین کہی، جب آپ سے وجہ دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا اے نبی (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، جس کے پاس تیرا ذکر ہو اور اس نے تجھ پر درود بھی نہ پڑھا ہو۔ کہئے آمین چنانچہ میں نے آمین کہی۔ پھر فرمایا اس شخص کی ناک بھی اللہ تعالیٰ خاک آلود کرے جس کی زندگی میں ماہ رمضان آیا اور چلا بھی گیا اور اس کی بخشش نہ ہوئی۔ آمین کہئے چنانچہ میں نے اس پر بھی آمین کہی۔ پھر فرمایا اللہ اسے بھی برباد کرے۔ جس نے اپنے ماں باپ کو یا ان میں سے ایک کو پا لیا اور پھر بھی ان کی خدمت کر کے جنت میں نہ پہنچ سکا کہئے آمین میں نے کہا آمین۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3545،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے { جس نے کسی مسلمان ماں باپ کے یتیم بچہ کو پالا اور کھلایا پلایا یہاں تک کہ وہ بے نیاز ہو گیا اس کے لیے یقیناً جنت واجب ہے اور جس نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا اللہ اسے جہنم سے آزاد کرے گا اس کے ایک ایک عضو کے بدلے اس کا ایک ایک عضو جہنم سے آزاد ہو گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:29/5:صحیح باشواھد] ‏‏‏‏ اس حدیث کی ایک سند میں ہے { جس نے اپنے ماں باپ کو یا دونوں میں سے کسی ایک کو پا لیا پھر بھی دوزخ میں گیا اللہ اسے اپنی رحمت سے دور کرے۔ } ۱؎ [مسند احمد:29/5:صحیح باشواھد] ‏‏‏‏ مسند احمد کی ایک روایت میں { یہ تینوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوئی ہیں یعنی گردن آزاد کرنا خدمت والدین اور پرورش یتیم۔ } ۱؎ [مسند احمد:344/4:صحیح لغیرہ] ‏‏‏‏ ایک روایت میں { ماں باپ کی نسبت یہ بھی ہے کہ اللہ اسے دور کرے اور اسے برباد کرے } الخ۔ ۱؎ [مسند احمد:344/4:صحیح لغیرہ] ‏‏‏‏ ایک روایت میں { تین مرتبہ اس کے لیے یہ بدعا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2551] ‏‏‏‏ ایک روایت میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر درود نہ پڑھنے والے اور ماہ رمضان میں بخشش الٰہی سے محروم رہ جانے والے اور ماں باپ کی خدمت اور رضا مندی سے جنت میں نہ پہنچنے والے کے لیے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بدعا کرنا منقول ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3545،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ایک انصاری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ { میرے ماں باپ کے انتقال کے بعد بھی ان کے ساتھ میں کوئی سلوک کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا ہاں چار سلوک (‏‏‏‏١) ان کے جنازے کی نماز (‏‏‏‏٢)‏‏‏‏‏‏‏‏ ان کے لیے دعا و استغفار (‏‏‏‏٣)‏‏‏‏‏‏‏‏ ان کے وعدوں کو پورا کرنا (‏‏‏‏٤) ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور وہ صلہ رحمی جو صرف ان کی وجہ سے ہو۔ یہ ہے وہ سلوک جو ان کی موت کے بعد بھی تو ان کے ساتھ کر سکتا ہے } ۱؎ [سنن ابوداود:5142،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

ایک شخص نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا { یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جہاد کے ارادے سے آپ کی خدمت میں خوشخبری لے کر آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا تیری ماں ہے؟ اس نے کہا ہاں فرمایا جا اسی کی خدمت میں لگا رہ۔ جنت اسی کے پیروں کے پاس ہے۔ دو بارہ سہ بارہ اس نے مختلف مواقع پر اپنی یہی بات دہرائی اور یہی جواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دہرایا۔ } ۱؎ [سنن نسائی:3106،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ { آپ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تمہیں تمہارے باپوں کی نسبت وصیت فرماتا ہے اللہ تمہیں تمہاری ماؤں کی نسبت وصیت فرماتا ہے۔ پچھلے جملے کو تین بار بیان فرماکر فرمایا اللہ تمہیں تمہارے قرابت داروں کی بابت وصیت کرتا ہے، سب سے زیادہ نزدیک والا پھر اس کے پاس والا۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجه:3661،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دینے والے کا ہاتھ اونچا ہے اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ سے اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے پھر جو اس کے بعد ہو اسی طرح درجہ بدرجہ۔ } ۱؎ [مسند احمد:64/4:صحیح] ‏‏‏‏ بزار کی مسند میں ضعیف سند سے مروی ہے کہ { ایک صاحب اپنی ماں کو اٹھائے ہوئے طواف کرا رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے لگے کہ اب تو میں نے اپنی والدہ کا حق ادا کر دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ایک شمہ بھی نہیں۔ } ۱؎ [طبرانی صغیر:255:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

24۔ 1 پرندہ جب اپنے بچوں کو اپنے سایہء شفقت میں لیتا ہے تو ان کے لئے اپنے بازو پست کردیتا ہے، یعنی تو بھی والدین کے ساتھ اسی طرح اچھا اور پر شفقت معاملہ کرنا اور ان کی اسی طرح کفالت کر جس طرح انہوں نے بچپن میں تیری کی۔ یا یہ معنی ہیں کہ جب پرندہ اڑنے اور بلند ہونے کا ارادہ کرتا ہے تو اپنے بازو پھیلا لیتا ہے اور جب نیچے اترتا ہے تو بازؤں کو پست کرلیتا ہے۔ اس اعتبار سے بازوؤں کے پست کرنے کے معنی، والدین کے سامنے تواضع اور عاجزی کا اظہار کرنے کے ہوں گے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 24) ➊ {وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ:جَنَاحَ “} پرندے کے پر کو کہتے ہیں اور بازو کو بھی۔ مطلب یہ کہ جس طرح پرندہ اپنے بچوں کے اوپر اپنے پر جھکا کر انھیں اپنی آغوش میں لے کر ہر سرد و گرم سے محفوظ کر لیتا ہے اس طرح تو بھی رحم کی بنا پر تواضع کے بازو ان پر جھکا دے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد کے حقوق کی والدین کے حقوق کی طرح تاکید نہیں فرمائی، کیونکہ اولاد کے لیے ماں باپ کے دل میں قدرتی طور پر شفقت و محبت موجود ہوتی ہے۔ ہاں جو ظلم وہ اولاد پر کرتے تھے اس سے منع فرمایا۔ اس کا ذکر آگے اسی سورت کی آیت (۳۱) میں آ رہا ہے۔ ➋ { وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا:} معلوم ہوا کہ والدین کے لیے اللہ تعالیٰ سے رحم کی دعا کرنا فرض ہے، کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے، اس لیے روزانہ ان کی زندگی میں اور فوت ہونے کے بعد اپنی دعا کے ساتھ ان الفاظ میں یا دوسرے الفاظ میں ان کے لیے دعا ضرور کرنی چاہیے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے: «رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۠ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ» ‏‏‏‏ [ إبراہیم: ۴۱ ] ”اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور ایمان والوں کو، جس دن حساب قائم ہو گا۔“ الا یہ کہ ان میں سے کسی کی وفات کفر پر ہو تو مرنے کے بعد ان کے لیے استغفار جائز نہیں۔ {” رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ“} دعا میں یہ خوبی ہے کہ اس کے ساتھ دعا کرتے ہوئے والدین کے بچپن میں پرورش کا احساس ان کے لیے زیادہ اخلاص اور کوشش کے ساتھ دعا کا تقاضا کرتا ہے۔
← پچھلی آیت (23) پوری سورۃ اگلی آیت (25) →