بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الإسراء/بني اسرائيل — Surah Isra
آیت نمبر 17
کل آیات: 111
قرآن کریم الإسراء/بني اسرائيل آیت 17
آیت نمبر: 17 — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل islamicurdubooks.com ↗
وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنَ الۡقُرُوۡنِ مِنۡۢ بَعۡدِ نُوۡحٍ ؕ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ بِذُنُوۡبِ عِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا ﴿۱۷﴾
دیکھ لو، کتنی ہی نسلیں ہیں جو نوحؑ کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک ہوئیں تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے
ہم نے نوح کے بعد بھی بہت سی قومیں ہلاک کیں اور تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار اور خوب دیکھنے بھالنے واﻻ ہے
اور ہم نے کتنی ہی سنگتیں (قومیں) نوح کے بعد ہلاک کردیں اور تمہارا رب کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار دیکھنے والا
اور ہم نے نوح کے بعد کتنی ہی قوموں کو (ان کے گناہوں کی پاداش میں) ہلاک کیا اور آپ کا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر ہونے اور دیکھنے کی حیثیت سے کافی ہے۔
اور ہم نے نوح کے بعد کتنے ہی زمانوں کے لوگ ہلاک کر دیے اور تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں کی پوری خبر رکھنے والا، سب کچھ دیکھنے والا بہت کافی ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آل قریش سے خطاب ٭٭

اے قریشیو! ہوش سنبھالو میرے اس بزرگ رسول کی تکذیب کر کے بے خوف نہ ہو جاؤ تم اپنے سے پہلے نوح علیہ السلام کے بعد کے لوگوں کو دیکھو کہ رسولوں کی تکذیب نے ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نوح علیہ السلام سے پہلے کے آدم علیہ السلام تک کے لوگ دین اسلام پر تھے۔ پس تم اے قریشیو کچھ ان سے زیادہ ساز و سامان اور گنتی اور طاقت والے نہیں ہو۔ اس کے باوجود تم اشرف الرسل خاتم الانبیاء کو جھٹلا رہے ہو پس تم عذاب اور سزا کے زیادہ لائق ہو۔ اللہ تعالیٰ پر اپنے کسی بندے کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں خیر و شر سب اس پر ظاہر ہے، کھلا چھپا سب وہ جانتا ہے ہر عمل کو خود دیکھ رہا ہے۔

📖 احسن البیان

17۔ 1 وہ بھی اسی اصول ہلاکت کے تحت ہی ہلاک ہوئیں

📖 القرآن الکریم

(آیت 17) ➊ {وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ: } یہ {” كَمْ “} خبر یہ ہے، جس کا معنی ہے ”بہت۔“ قرن ایک زمانے کے لوگ، عام طور پر یہ مدت ایک سو سال بتائی جاتی ہے۔ رسولوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم آنے کے بعد ان کی نافرمانی (فسق) کی وجہ سے نوح علیہ السلام کے بعد ہلاک ہونے والی قوموں اور نسلوں کا بطور مثال ذکر فرمایا کہ مت پوچھو کہ کتنی نسلوں کو ہم نے ہلاک کر دیا، مثلاً عاد، ثمود، شعیب اور لوط علیہ السلام کی قومیں اور قوم فرعون وغیرہ۔ نوح علیہ السلام کے بعد اس لیے فرمایا کہ اس سے پہلے لوگ سب توحید پر تھے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۳)۔ ➋ { وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ …:} اس جملے کا یہاں دو طرح سے تعلق ہے، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام قرون کو ان کے گناہوں کی پاداش ہی میں ہلاک کیا، کیونکہ وہ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے اور دیکھنے والا ہونے میں بہت ہی کافی ہے۔ {” كَفٰى بِرَبِّكَ “} کی ترکیب کے لیے اسی سورت کی آیت (۱۴) ملاحظہ فرمائیں۔ دوسرا تعلق یہ ہے کہ کفار قریش اور پوری امت کو تنبیہ فرمائی کہ یہ مت سمجھنا کہ یہ معاملہ صرف انھی قوموں کے ساتھ ہوا، بلکہ اگر تم بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے احکام نہیں مانو گے اور فسق و فجور کا ارتکاب کرو گے تو تمھارے ساتھ بھی اسی طرح ہو گا، اس لیے اپنی اصلاح کرلو۔ اس میں نافرمانوں کو وعید کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جانشینوں کے لیے تسلی بھی ہے۔
← پچھلی آیت (16) پوری سورۃ اگلی آیت (18) →