«حَاقَّه» قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لیے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’ تم اس «حاقہ» کی صحیح کیفیت سے بے خبر ہو ‘، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا: ’ ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑنے اور کلیجوں کو پاش پاش کر دینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ و بالا ہو جاتے ہیں۔ ‘ پس بقول قتادہ رحمہ اللہ «طَّاغِيَةِ» کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کر دیئے گئے۔ سیدنا ربیع بن انس اور سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہم کا قول ہے کہ اس سے مراد ان کی سرکشی ہے۔ سیدنا ابن زید نے اس کی شہادت میں یہ آیت پڑھی «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَآ» ۱؎ [91-الشمس:11] یعنی ’ ثمودیوں نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا۔ ‘ یعنی اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں اور قوم عاد کی ٹھنڈی ہواؤں کے تیز جھونکوں سے دل چھید دیئے اور وہ نیست و نابود کر دیئے گئے۔
ثابت ہونے والی (1)
(آیت 1تا3){ اَلْحَآقَّةُ (1) مَا الْحَآقَّةُ …: ” اَلْحَآقَّةُ “ ”حَقَّ يَحِقُّ“} (ض، ن) (ثابت ہونا، واجب ہونا) سے {”فَاعِلَةٌ“} کے وزن پر ہے، ہو کر رہنے والی، واجب ہونے والی، جس کا ہونا حق ہے۔ مراد قیامت ہے، کیونکہ وہ ہو کر رہے گی، اسی لیے اس کا نام {” الْوَاقِعَهُ “} (واقع ہونے والی) بھی ہے۔ (دیکھیے حاقہ: ۱۵)قیامت کا ذکر استفہامیہ فقروں سے شروع کیا گیا ہے، یہ اہلِ بلاغت کا خاص اسلوب ہے۔ اس سے ایک تو سننے والے کو متوجہ کرنا اور شوق دلانا مقصود ہوتا ہے، دوسرا قیامت کی عظمت اور ہولناکی بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ اتنی عظیم الشان ہے کہ نہ تمھاری سمجھ میں پوری طرح آسکتی ہے اور نہ کوئی اور ایسا ہے جو تمھیں معلوم کروا سکے کہ وہ کیا ہے؟
«حَاقَّه» قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لیے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’ تم اس «حاقہ» کی صحیح کیفیت سے بے خبر ہو ‘، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا: ’ ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑنے اور کلیجوں کو پاش پاش کر دینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ و بالا ہو جاتے ہیں۔ ‘ پس بقول قتادہ رحمہ اللہ «طَّاغِيَةِ» کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کر دیئے گئے۔ سیدنا ربیع بن انس اور سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہم کا قول ہے کہ اس سے مراد ان کی سرکشی ہے۔ سیدنا ابن زید نے اس کی شہادت میں یہ آیت پڑھی «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَآ» ۱؎ [91-الشمس:11] یعنی ’ ثمودیوں نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا۔ ‘ یعنی اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں اور قوم عاد کی ٹھنڈی ہواؤں کے تیز جھونکوں سے دل چھید دیئے اور وہ نیست و نابود کر دیئے گئے۔
2۔ 1 یہ لفظًا استفہام ہے لیکن اس کا مقصد قیامت کی عظمت اور شان بیان کی گئی ہے۔
اور (اے مخاطب) تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ برحق واقع ہو نے والی۔
عبدالسلام بن محمد
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ وہ ہو کر رہنے والی کیا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حاقہ ٭٭
«حَاقَّه» قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لیے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’ تم اس «حاقہ» کی صحیح کیفیت سے بے خبر ہو ‘، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا: ’ ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑنے اور کلیجوں کو پاش پاش کر دینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ و بالا ہو جاتے ہیں۔ ‘ پس بقول قتادہ رحمہ اللہ «طَّاغِيَةِ» کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کر دیئے گئے۔ سیدنا ربیع بن انس اور سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہم کا قول ہے کہ اس سے مراد ان کی سرکشی ہے۔ سیدنا ابن زید نے اس کی شہادت میں یہ آیت پڑھی «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَآ» ۱؎ [91-الشمس:11] یعنی ’ ثمودیوں نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا۔ ‘ یعنی اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں اور قوم عاد کی ٹھنڈی ہواؤں کے تیز جھونکوں سے دل چھید دیئے اور وہ نیست و نابود کر دیئے گئے۔
3۔ 1 گویا کہ تجھے اس کا علم نہیں، کیونکہ تو نے ابھی اسے دیکھا ہے اور نہ اس کی ہولناکیوں کا مشاہدہ کیا ہے، گویا مخلوقات کے دائرہ علم سے باہر ہے (فتح القدیر)
ثمود اور عاد نے اُس اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت کو جھٹلایا
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کھڑکا دینے والی کو ﺛمود اور عاد نے جھٹلا دیا تھا
احمد رضا خان بریلوی
ثمود اور عاد نے اس سخت صدمہ دینے والی کو جھٹلایا،
علامہ محمد حسین نجفی
قبیلۂ ثمود اور عاد نے کھڑکھڑانے والی (قیامت) کو جھٹلایا۔
عبدالسلام بن محمد
ثمود اور عاد نے اس کھٹکھٹانے والی(قیامت) کو جھٹلادیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حاقہ ٭٭
«حَاقَّه» قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لیے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’ تم اس «حاقہ» کی صحیح کیفیت سے بے خبر ہو ‘، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا: ’ ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑنے اور کلیجوں کو پاش پاش کر دینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ و بالا ہو جاتے ہیں۔ ‘ پس بقول قتادہ رحمہ اللہ «طَّاغِيَةِ» کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کر دیئے گئے۔ سیدنا ربیع بن انس اور سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہم کا قول ہے کہ اس سے مراد ان کی سرکشی ہے۔ سیدنا ابن زید نے اس کی شہادت میں یہ آیت پڑھی «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَآ» ۱؎ [91-الشمس:11] یعنی ’ ثمودیوں نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا۔ ‘ یعنی اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں اور قوم عاد کی ٹھنڈی ہواؤں کے تیز جھونکوں سے دل چھید دیئے اور وہ نیست و نابود کر دیئے گئے۔
4۔ 1 اس میں قیامت کو کھڑکا دینے والی کہا ہے، اس لئے کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے لوگوں کو بیدار کر دے گی۔
(آیت 4) {كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ:”اَلْقَارِعَةُ“ ”قَرَعَ“} (ف) کھٹکھٹانا، کسی سخت چیز پر دوسری چیز سے ضرب لگانا۔ یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، کیونکہ وہ بھی اسی طرح یک لخت آ کھٹکھٹائے گی جیسے کوئی آنے والا زور سے دروازہ آکھٹکھٹاتا ہے اور آدمی ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے۔ کفار کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ قیامت کا انکار کرنے والے پہلے لوگ تم ہی نہیں، بلکہ تم سے پہلے عاد و ثمود نے، جو قوت و شوکت میں تم سے کہیں بڑھ کر تھے، اس کھٹکھٹانے والی(قیامت) کو جھٹلایا، پھر ان کا انجام کیا ہوا؟ ثمود جو عرب کے شمال مغرب اور عاد جو عرب کے جنوب مشرق کی متمدن ترین قومیں تھیں، توحید کے انکار کے بعد ان کا سب سے بڑا جرم قیامت اور آخرت کا انکار تھا، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا اور جس کی پاداش میں آخر کار انھیں تباہ و برباد کر دیا گیا۔ موجودہ زمانے کی مادہ پرست بزعم خویش مہذب قوموں کی سرکشی کا اصل باعث بھی قیامت اور جزا و سزا کا انکار ہے۔
(جس کے نتیجہ میں) ﺛمود تو بے حد خوفناک (اور اونچی) آواز سے ہلاک کردیئے گئے
احمد رضا خان بریلوی
تو ثمود تو ہلاک کیے گئے حد سے گزری ہوئی چنگھاڑ سے
علامہ محمد حسین نجفی
پس ثمود تو ایک حد سے بڑھے ہوئے حادثہ سے ہلاک کئے گئے۔
عبدالسلام بن محمد
سو جو ثمود تھے وہ حد سے بڑھی ہوئی (آواز) کے ساتھ ہلاک کر دیے گئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حاقہ ٭٭
«حَاقَّه» قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لیے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’ تم اس «حاقہ» کی صحیح کیفیت سے بے خبر ہو ‘، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا: ’ ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑنے اور کلیجوں کو پاش پاش کر دینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ و بالا ہو جاتے ہیں۔ ‘ پس بقول قتادہ رحمہ اللہ «طَّاغِيَةِ» کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کر دیئے گئے۔ سیدنا ربیع بن انس اور سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہم کا قول ہے کہ اس سے مراد ان کی سرکشی ہے۔ سیدنا ابن زید نے اس کی شہادت میں یہ آیت پڑھی «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَآ» ۱؎ [91-الشمس:11] یعنی ’ ثمودیوں نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا۔ ‘ یعنی اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں اور قوم عاد کی ٹھنڈی ہواؤں کے تیز جھونکوں سے دل چھید دیئے اور وہ نیست و نابود کر دیئے گئے۔
5۔ 1 اس میں قیام کو کھڑکا دینے والی کہا ہے، اس لئے کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے لوگوں کو بیدار کر دے گی۔
(آیت 5) {فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِيَةِ:”اَلطَّاغِيَةُ“ ”طَغٰي يَطْغٰي“} (ف) سے اسم فاعل ہے، یہ {”عَافِيَةٌ“} کی طرح مصدر بھی ہو سکتاہے۔ اسم فاعل ہو تو {” اَلطَّاغِيَةُ “} کا معنی ”حد سے بڑھنے والی“ ہے اور یہ {” الرَّجْفَةُ “} یا {” الصَّيْحَةُ “} یا {” الصّٰعِقَةُ “} کی صفت ہو گی، یعنی ثمود اس زلزلے سے یا آواز سے یا بجلی کی کڑک سے ہلاک کر دیے گئے جو آوازوں کی حد سے بہت بڑھی ہوئی تھی۔یہ فرشتے کی آواز تھی یا بجلی کی کڑک تھی جس کے ساتھ زلزلہ بھی تھا، یا زلزلے کے ساتھ آنے والی خوفناک آواز تھی۔ {” الرَّجْفَةُ “} کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۷۸)، {” الصَّيْحَةُ “} کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۶۷) اور {” الصّٰعِقَةُ “} کے لیے دیکھیے حم سجدہ (۱۷)۔ مصدر ہو تو معنی ”حد سے بڑھنا“ ہے، ”باء“ سببیہ ہو گی: {”أَيْ بِطُغْيَانِهِمْ“} یعنی ثمود اپنے حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے ہلاک کردیے گئے، جیسے فرمایا: «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا» [ الشمس: ۱۱ ] ”قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (صالح علیہ السلام کو) جھٹلا دیا۔“
اور عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کر دیے گئے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور عاد بیحد تیز وتند ہوا سے غارت کردیئے گئے
احمد رضا خان بریلوی
اور رہے عاد وہ ہلاک کیے گئے نہایت سخت گرجتی آندھی سے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور بنی عاد ایک حد سے زیادہ تیز و تند (اور سرد) آندھی سے ہلاک کئے گئے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو عاد تھے وہ سخت ٹھنڈی، تند آندھی کے ساتھ ہلاک کر دیے گئے، جو قابو سے باہر ہونے والی تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی تھیں اور فرشتوں کے ہاتھوں سے نکلتی تھیں برابر پے درپے لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہیں، ان دنوں میں ان کے لیے سوائے نحوست و بربادی کے اور کوئی بھلائی نہ تھی اور جیسے اور جگہ ہے «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِــزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:16] ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن سے یہ شروع ہوئی تھیں۔ بعض کہتے ہیں بدھ کے دن۔ ان ہواؤں کو عرب «اعجاز» اس لیے بھی کہتے ہیں کہ قرآن نے فرمایا ہے ’ قوم عاد کی حالت «اعجاز» یعنی کھجوروں کے کھوکھلے تنوں جیسی ہو گئی ‘، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً یہ ہوائیں جاڑوں کے آخر میں چلا کرتی ہیں اور عجز کہتے ہیں آخر کو، اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بڑھیا ایک غار میں گھس گئی تھی جو ان ہواؤں سے آٹھویں روز وہیں تباہ ہو گئی اور بڑھیا کو عربی میں «عجوز» کہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«خَاوِيَةٍ» کے معنی ہیں خراب، گلا، سڑا، کھوکھلا، مطلب یہ ہے کہ ہواؤں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا ان کے سر پھٹ گئے سروں کا چورا چورا ہو گیا اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درختوں کا پتوں والا سرا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا ہو۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی یعنی مشرقی ہوا کے ساتھ اور عادی ہلاک کئے گئے دبور سے یعنی مغربی ہوا سے۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:1035] ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عادیوں کو ہلاک کرنے کے لیے ہواؤں کے خزانے میں سے صرف انگوٹھی کے برابر جگہ کشادہ کی گئی تھی جس سے ہوائیں نکلیں اور پہلے وہ گاؤں اور دیہات والوں پر آئی ان تمام مردوں عورتوں کو چھوٹے بڑوں کو ان کے مالوں اور جانوروں سمیت لے کر آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دیا، شہریوں کو بوجہ بہت بلندی اور کافی اونچائی کے یہ معلوم ہونے لگا کہ یہ سیاہ رنگ بادل چڑھا ہوا ہے خوش ہونے لگے کہ گرمی کے باعث جو ہماری بری حالت ہو رہی ہے اب پانی برس جائے گا اتنے میں ہواؤں کو حکم ہوا اور اس نے ان تمام کو ان شہریوں پر پھینک دیا یہ اور وہ سب ہلاک ہو گئے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس ہوا کے پر اور دم تھی۔ پھر فرماتا ہے ’ بتاؤ کہ ان میں سے یا ان کی نسل میں سے کسی ایک کا نشان بھی تم دیکھ رہے ہو؟ ‘ یعنی سب کے سب تباو و برباد کر دیئے گئے کوئی نام لینے والا پانی دینے والا بھی باقی نہ رہا۔
پھر فرمایا ’ فرعون اور اس سے اگلے خطاکار، اور رسولوں کے نافرمانوں کا یہی انجام ہوا ‘۔ «قَبْلَهُ» کی دوسری قرأت «قِبْلَهُ» بھی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ فرعون اور اس کے پاس اور ساتھ کے لوگ یعنی فرعونی، قبطی، کفار۔ «مُؤْتَفِكَاتُ» سے مراد بھی پیغمبروں کی جھٹلانے والی اگلی امتیں ہیں، «خَاطِئَةِ» سے مطلب معصیت اور خطائیں ہیں۔ پس فرمایا ’ ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے زمانے کے رسول کی تکذیب کی۔ ‘ جیسے اور جگہ ہے «كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ» ۱؎ [50-ق:14] یعنی ’ ان سب نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے۔ ‘ اور یہ بھی یاد رہے کہ ایک پیغمبر کا انکار گویا تمام انبیاء کا علیہ السلام انکار ہے جیسے قرآن نے فرمایا «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:105] اور فرمایا «كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:123] اور فرمایا «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:141] یعنی قوم نوح نے عادیوں نے ثمودیوں نے رسولوں کو جھٹلایا، حالانکہ سب کے پاس یعنی ہر ہر امت کے پاس ایک ہی رسول آیا تھا، یہی مطلب یہاں بھی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامبر کی نافرمانی کی، پس اللہ نے انہیں سخت تر مہلک بڑی درد ناک المناک پکڑ میں پکڑ لیا۔
طوفان نوح ٭٭
بعد ازاں اپنا احسان جتاتا ہے کہ ’ دیکھو جب نوح کی دعا کی وجہ سے زمین پر طوفان آیا اور پانی حد سے گزر گیا چاروں طرف ریل پیل ہو گئی نجات کی کوئی جگہ نہ رہی اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب قوم نوح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذاء رسانی شروع کی اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے اس وقت نوح علیہ السلام نے تنگ آ کر ان کی ہلاکت کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور مشہور طوفان نوح نازل فرمایا جس سے سوائے ان لوگوں کے جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں تھے روئے زمین پر کوئی نہ بچا پس سب لوگ نوح علیہ السلام کی نسل اور آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پانی کا ایک ایک قطرہ بہ اجازت اللہ پانی کے داروغہ فرشتہ کے ناپ تول سے برستا ہے اسی طرح ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی بے ناپے تولے نہیں چلتا لیکن ہاں عادیوں پر جو ہوائیں چلیں اور قوم نوح پر جو طوفان آیا وہ تو بے حد، بے شمار اور بغیر ناپ تول کے تھا اللہ کی اجازت سے پانی اور ہوا نے وہ زور باندھا کہ نگہبان فرشتوں کی کچھ نہ چلی۔ اسی لیے قرآن میں «اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:11] اور «وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقة:6] کے الفاظ ہیں، اسی لیے اس اہم احسان کو اللہ تعالیٰ یاد دلا رہا ہے کہ ’ ایسے پُر خطر موقعہ پر ہم نے تمہیں چلتی کشتی پر سوار کرا دیا تا کہ یہ کشتی تمہارے لیے نمونہ بن جائے چنانچہ آج بھی ویسی ہی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر کے لمبے چوڑے سفر طے کر رہے ہو۔ ‘ جیسے اور جگہ ہے «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:13،12] ، یعنی ’ تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے جانور بنائے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور سوار ہو کر اپنے رب کی نعمت یاد کرو۔ ‘ اور جگہ فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» ۱؎ [36-يس:42،41] یعنی ’ ان کے لیے ایک نشان قدرت یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری کشتی میں چڑھا لیا اور بھی ہم نے اس جیسی ان کی سواریاں پیدا کر دیں۔ ‘ قتادہ رحمہ اللہ نے اوپر کی اس آیت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ وہی کشتی نوح باقی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اگلوں نے بھی اسے دیکھا، لیکن زیادہ ظاہر مطلب پہلا ہی ہے۔ پھر فرمایا ’ یہ اس لیے بھی کہ یاد رکھنے اور سننے والا کان اسے یاد کرے اور محفوظ رکھ لے اور اس نعمت کو نہ بھولے ‘، یعنی صحیح سمجھ اور سچی سماعت والے، عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے، جو اللہ کی باتوں اور اس کی نعمتوں سے بےپرواہی اور لاابالی نہیں برتتے ان کی پندو نصیحت کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے مکحول فرماتے ہیں جب یہ الفاظ اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ علی کو ایسا ہی بنا دے۔“ } ۱؎، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز سن کر پھر میں نے فراموش نہیں کی، یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے لیکن مرسل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34771:مرسل] ابن ابی حاتم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں تجھے نزدیک کروں، دور نہ کروں اور تجھے تعلیم دوں اور تو بھی یاد رکھے اور یہی تجھے بھی چاہیئے۔“ اس پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34772:ضعیف] یہ روایت دوسری سند سے بھی ابن جریر میں مروی ہے لیکن وہ بھی صحیح نہیں۔
6۔ 1 کسی کے قابو میں نہ آنے والی، یعنی نہایت تند و تیز، پالے والی اور بےقابو ہوا کے ذریعے اسے حضرت ہود ؑ کی قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔
(آیت 6) {وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا …: ”رِيْحٌ“} ہوا، {” صَرْصَرٍ “ ”صِرٌّ“} سے مشتق ہے، جس کا معنی سخت ٹھنڈک اور تیزی ہے، یعنی سخت ٹھنڈی اور تند آندھی، یا یہ {”صَرْصَرَ يُصَرْصِرُ صَرْصَرَةً “} (چیخنا، سخت آواز نکالنا) سے مشتق ہے، یعنی سخت آواز والی آندھی۔ {” عَاتِيَةٍ “ ” عَتَا يَعْتُوْ عُتُوًّا“} (ن) قابو سے باہر ہونا، سرکشی کرنا۔ یعنی وہ ہوا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی بھی قابو کرنے والے کے قابو سے باہر تھی۔
اللہ تعالیٰ نے اُس کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن اُن پر مسلط رکھا (تم وہاں ہوتے تو) دیکھتے کہ وہ وہاں اِس طرح پچھڑے پڑے ہیں جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
جسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک (اللہ نے) مسلط رکھا پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر اس طرح گر گئے جیسے کہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں
احمد رضا خان بریلوی
وہ ان پر قوت سے لگادی سات راتیں اور آٹھ دن لگاتار تو ان لوگوں کو ان میں دیکھو بچھڑے ہوئے گویا وہ کھجور کے ڈھنڈ (سوکھے تنے) ہیں گرے ہوئے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ نے اسے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک ان پر مسلط رکھا تم (اگر وہاں ہوتے تو) دیکھتے کہ وہ اس طرح گرے پڑے ہیں کہ گویا وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلائے رکھا۔ سو تو ان لوگوں کو اس میں اس طرح (زمین پر) گرے ہوئے دیکھے گا جیسے وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی تھیں اور فرشتوں کے ہاتھوں سے نکلتی تھیں برابر پے درپے لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہیں، ان دنوں میں ان کے لیے سوائے نحوست و بربادی کے اور کوئی بھلائی نہ تھی اور جیسے اور جگہ ہے «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِــزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:16] ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن سے یہ شروع ہوئی تھیں۔ بعض کہتے ہیں بدھ کے دن۔ ان ہواؤں کو عرب «اعجاز» اس لیے بھی کہتے ہیں کہ قرآن نے فرمایا ہے ’ قوم عاد کی حالت «اعجاز» یعنی کھجوروں کے کھوکھلے تنوں جیسی ہو گئی ‘، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً یہ ہوائیں جاڑوں کے آخر میں چلا کرتی ہیں اور عجز کہتے ہیں آخر کو، اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بڑھیا ایک غار میں گھس گئی تھی جو ان ہواؤں سے آٹھویں روز وہیں تباہ ہو گئی اور بڑھیا کو عربی میں «عجوز» کہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«خَاوِيَةٍ» کے معنی ہیں خراب، گلا، سڑا، کھوکھلا، مطلب یہ ہے کہ ہواؤں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا ان کے سر پھٹ گئے سروں کا چورا چورا ہو گیا اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درختوں کا پتوں والا سرا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا ہو۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی یعنی مشرقی ہوا کے ساتھ اور عادی ہلاک کئے گئے دبور سے یعنی مغربی ہوا سے۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:1035] ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عادیوں کو ہلاک کرنے کے لیے ہواؤں کے خزانے میں سے صرف انگوٹھی کے برابر جگہ کشادہ کی گئی تھی جس سے ہوائیں نکلیں اور پہلے وہ گاؤں اور دیہات والوں پر آئی ان تمام مردوں عورتوں کو چھوٹے بڑوں کو ان کے مالوں اور جانوروں سمیت لے کر آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دیا، شہریوں کو بوجہ بہت بلندی اور کافی اونچائی کے یہ معلوم ہونے لگا کہ یہ سیاہ رنگ بادل چڑھا ہوا ہے خوش ہونے لگے کہ گرمی کے باعث جو ہماری بری حالت ہو رہی ہے اب پانی برس جائے گا اتنے میں ہواؤں کو حکم ہوا اور اس نے ان تمام کو ان شہریوں پر پھینک دیا یہ اور وہ سب ہلاک ہو گئے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس ہوا کے پر اور دم تھی۔ پھر فرماتا ہے ’ بتاؤ کہ ان میں سے یا ان کی نسل میں سے کسی ایک کا نشان بھی تم دیکھ رہے ہو؟ ‘ یعنی سب کے سب تباو و برباد کر دیئے گئے کوئی نام لینے والا پانی دینے والا بھی باقی نہ رہا۔
پھر فرمایا ’ فرعون اور اس سے اگلے خطاکار، اور رسولوں کے نافرمانوں کا یہی انجام ہوا ‘۔ «قَبْلَهُ» کی دوسری قرأت «قِبْلَهُ» بھی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ فرعون اور اس کے پاس اور ساتھ کے لوگ یعنی فرعونی، قبطی، کفار۔ «مُؤْتَفِكَاتُ» سے مراد بھی پیغمبروں کی جھٹلانے والی اگلی امتیں ہیں، «خَاطِئَةِ» سے مطلب معصیت اور خطائیں ہیں۔ پس فرمایا ’ ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے زمانے کے رسول کی تکذیب کی۔ ‘ جیسے اور جگہ ہے «كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ» ۱؎ [50-ق:14] یعنی ’ ان سب نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے۔ ‘ اور یہ بھی یاد رہے کہ ایک پیغمبر کا انکار گویا تمام انبیاء کا علیہ السلام انکار ہے جیسے قرآن نے فرمایا «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:105] اور فرمایا «كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:123] اور فرمایا «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:141] یعنی قوم نوح نے عادیوں نے ثمودیوں نے رسولوں کو جھٹلایا، حالانکہ سب کے پاس یعنی ہر ہر امت کے پاس ایک ہی رسول آیا تھا، یہی مطلب یہاں بھی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامبر کی نافرمانی کی، پس اللہ نے انہیں سخت تر مہلک بڑی درد ناک المناک پکڑ میں پکڑ لیا۔
طوفان نوح ٭٭
بعد ازاں اپنا احسان جتاتا ہے کہ ’ دیکھو جب نوح کی دعا کی وجہ سے زمین پر طوفان آیا اور پانی حد سے گزر گیا چاروں طرف ریل پیل ہو گئی نجات کی کوئی جگہ نہ رہی اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب قوم نوح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذاء رسانی شروع کی اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے اس وقت نوح علیہ السلام نے تنگ آ کر ان کی ہلاکت کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور مشہور طوفان نوح نازل فرمایا جس سے سوائے ان لوگوں کے جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں تھے روئے زمین پر کوئی نہ بچا پس سب لوگ نوح علیہ السلام کی نسل اور آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پانی کا ایک ایک قطرہ بہ اجازت اللہ پانی کے داروغہ فرشتہ کے ناپ تول سے برستا ہے اسی طرح ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی بے ناپے تولے نہیں چلتا لیکن ہاں عادیوں پر جو ہوائیں چلیں اور قوم نوح پر جو طوفان آیا وہ تو بے حد، بے شمار اور بغیر ناپ تول کے تھا اللہ کی اجازت سے پانی اور ہوا نے وہ زور باندھا کہ نگہبان فرشتوں کی کچھ نہ چلی۔ اسی لیے قرآن میں «اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:11] اور «وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقة:6] کے الفاظ ہیں، اسی لیے اس اہم احسان کو اللہ تعالیٰ یاد دلا رہا ہے کہ ’ ایسے پُر خطر موقعہ پر ہم نے تمہیں چلتی کشتی پر سوار کرا دیا تا کہ یہ کشتی تمہارے لیے نمونہ بن جائے چنانچہ آج بھی ویسی ہی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر کے لمبے چوڑے سفر طے کر رہے ہو۔ ‘ جیسے اور جگہ ہے «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:13،12] ، یعنی ’ تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے جانور بنائے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور سوار ہو کر اپنے رب کی نعمت یاد کرو۔ ‘ اور جگہ فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» ۱؎ [36-يس:42،41] یعنی ’ ان کے لیے ایک نشان قدرت یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری کشتی میں چڑھا لیا اور بھی ہم نے اس جیسی ان کی سواریاں پیدا کر دیں۔ ‘ قتادہ رحمہ اللہ نے اوپر کی اس آیت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ وہی کشتی نوح باقی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اگلوں نے بھی اسے دیکھا، لیکن زیادہ ظاہر مطلب پہلا ہی ہے۔ پھر فرمایا ’ یہ اس لیے بھی کہ یاد رکھنے اور سننے والا کان اسے یاد کرے اور محفوظ رکھ لے اور اس نعمت کو نہ بھولے ‘، یعنی صحیح سمجھ اور سچی سماعت والے، عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے، جو اللہ کی باتوں اور اس کی نعمتوں سے بےپرواہی اور لاابالی نہیں برتتے ان کی پندو نصیحت کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے مکحول فرماتے ہیں جب یہ الفاظ اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ علی کو ایسا ہی بنا دے۔“ } ۱؎، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز سن کر پھر میں نے فراموش نہیں کی، یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے لیکن مرسل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34771:مرسل] ابن ابی حاتم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں تجھے نزدیک کروں، دور نہ کروں اور تجھے تعلیم دوں اور تو بھی یاد رکھے اور یہی تجھے بھی چاہیئے۔“ اس پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34772:ضعیف] یہ روایت دوسری سند سے بھی ابن جریر میں مروی ہے لیکن وہ بھی صحیح نہیں۔
7۔ 1 جسم کے معنی کاٹنے اور جدا جدا کرنے کے ہیں اور بعض نے حسوما کے معنی پے درپے کیے ہیں۔ اس سے ان کی درازی کی طرف اشارہ ہے کھوکھلے بےروح جسم کو کھوکھلے تنے سے تشبیہ دی ہے۔
(آیت 7) {سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ …: ” حُسُوْمًا “} کا معنی ابن عباس رضی اللہ عنھما نے ”پے در پے“ کیا ہے۔ (ابن جریر) اس صورت میں یہ {”حَسَمْتُ الدَّابَةَ“} (میں نے جانور کو پے در پے داغ لگائے) سے مشتق ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ آندھی ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلائے رکھی، ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رکی۔{”حَسَمَ يَحْسِمُ“} (ض) کا معنی ”جڑ سے کاٹنا“ بھی ہے۔ اس صورت میں یہ{”حَاسِمٌ “} کی جمع ہے، جیسے {”شَاهِدٌ“} کی جمع {”شُهُوْدٌ“} ہے، معنی ہو گا ”ان پر وہ آندھی جڑ سے کاٹ ڈالنے والی سات راتوں اور آٹھ دنوں تک چلائے رکھی۔“ {” حُسُوْمًا “} مصدر بھی ہو سکتا ہے، جیسے {”شُكُوْرٌ“} اور {”كُفُوْرٌ“} ہے، اس صورت میں یہ مفعول لہ ہو گا، یعنی ان پر وہ آندھی سات راتیں اور آٹھ دن جڑ سے کاٹ ڈالنے کے لیے چلائے رکھی۔ مزید تراکیب کے لیے طویل کتب تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ {” صَرْعٰى “ ”صَرِيْعٌ“} کی جمع ہے، پچھاڑ کر گرائے ہوئے، ہلاک کیے ہوئے۔ {” اَعْجَازُ “ ”عَجْزٌ وَ عِجْزٌ“} کی جمع ہے،کسی چیز کا آخری حصہ، درخت کا تنا۔ {” خَاوِيَةٍ “ ”خَوٰي يَخْوِيْ“} (ض) گر پڑنا، خالی ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد سے ان کی نافرمانی کی وجہ سے ایک عرصہ تک بارش روکے رکھی، ادھر وہ پیغمبر کو زچ کرنے کے لیے بار بار عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے، جب عذاب بادل کی صورت میں نمودار ہوا اور انھوں نے اسے اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا تو خوش ہو گئے کہ اب بارش ہو گی، مگر تھوڑی ہی دیر میں عذاب شرو ع ہو گیا، جو مغرب کی طرف سے آنے والی تیز ٹھنڈی آندھی کی صورت میں تھا، جس نے ہر چیز کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ احقاف (۲۱ تا ۲۶)۔ سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلنے کے بعد آندھی تھمی تو ان کی لاشیں اس طرح گری ہوئی تھیں جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے۔ اہل ایمان کے علاوہ ایک شخص بھی باقی نہ بچا۔ اس تشبیہ سے اس قوم کا مضبوط جسامت اور لمبے قدوں والا ہونا صاف معلوم ہو رہا ہے۔سورۂ احقاف(۲۶) اور سورۃ فجر(۸ تا ۱۰) میں ان کی قوت و شوکت کا کچھ حال بیان ہوا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَ أُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُوْرِ ] [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «وأما عاد…» : ۳۳۴۳۔ مسلم: ۹۰۰ ] ”(خندق کے موقع پر) میری مدد صبا یعنی مشرق سے آنے والی ہوا کے ساتھ کی گئی اور عاد کو دبور یعنی مغرب سے آنے والی ہوا کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔“
تو کیا تو ان کا کوئی بھی باقی رہنے والا دیکھتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی تھیں اور فرشتوں کے ہاتھوں سے نکلتی تھیں برابر پے درپے لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہیں، ان دنوں میں ان کے لیے سوائے نحوست و بربادی کے اور کوئی بھلائی نہ تھی اور جیسے اور جگہ ہے «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِــزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:16] ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن سے یہ شروع ہوئی تھیں۔ بعض کہتے ہیں بدھ کے دن۔ ان ہواؤں کو عرب «اعجاز» اس لیے بھی کہتے ہیں کہ قرآن نے فرمایا ہے ’ قوم عاد کی حالت «اعجاز» یعنی کھجوروں کے کھوکھلے تنوں جیسی ہو گئی ‘، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً یہ ہوائیں جاڑوں کے آخر میں چلا کرتی ہیں اور عجز کہتے ہیں آخر کو، اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بڑھیا ایک غار میں گھس گئی تھی جو ان ہواؤں سے آٹھویں روز وہیں تباہ ہو گئی اور بڑھیا کو عربی میں «عجوز» کہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«خَاوِيَةٍ» کے معنی ہیں خراب، گلا، سڑا، کھوکھلا، مطلب یہ ہے کہ ہواؤں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا ان کے سر پھٹ گئے سروں کا چورا چورا ہو گیا اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درختوں کا پتوں والا سرا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا ہو۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی یعنی مشرقی ہوا کے ساتھ اور عادی ہلاک کئے گئے دبور سے یعنی مغربی ہوا سے۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:1035] ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عادیوں کو ہلاک کرنے کے لیے ہواؤں کے خزانے میں سے صرف انگوٹھی کے برابر جگہ کشادہ کی گئی تھی جس سے ہوائیں نکلیں اور پہلے وہ گاؤں اور دیہات والوں پر آئی ان تمام مردوں عورتوں کو چھوٹے بڑوں کو ان کے مالوں اور جانوروں سمیت لے کر آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دیا، شہریوں کو بوجہ بہت بلندی اور کافی اونچائی کے یہ معلوم ہونے لگا کہ یہ سیاہ رنگ بادل چڑھا ہوا ہے خوش ہونے لگے کہ گرمی کے باعث جو ہماری بری حالت ہو رہی ہے اب پانی برس جائے گا اتنے میں ہواؤں کو حکم ہوا اور اس نے ان تمام کو ان شہریوں پر پھینک دیا یہ اور وہ سب ہلاک ہو گئے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس ہوا کے پر اور دم تھی۔ پھر فرماتا ہے ’ بتاؤ کہ ان میں سے یا ان کی نسل میں سے کسی ایک کا نشان بھی تم دیکھ رہے ہو؟ ‘ یعنی سب کے سب تباو و برباد کر دیئے گئے کوئی نام لینے والا پانی دینے والا بھی باقی نہ رہا۔
پھر فرمایا ’ فرعون اور اس سے اگلے خطاکار، اور رسولوں کے نافرمانوں کا یہی انجام ہوا ‘۔ «قَبْلَهُ» کی دوسری قرأت «قِبْلَهُ» بھی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ فرعون اور اس کے پاس اور ساتھ کے لوگ یعنی فرعونی، قبطی، کفار۔ «مُؤْتَفِكَاتُ» سے مراد بھی پیغمبروں کی جھٹلانے والی اگلی امتیں ہیں، «خَاطِئَةِ» سے مطلب معصیت اور خطائیں ہیں۔ پس فرمایا ’ ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے زمانے کے رسول کی تکذیب کی۔ ‘ جیسے اور جگہ ہے «كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ» ۱؎ [50-ق:14] یعنی ’ ان سب نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے۔ ‘ اور یہ بھی یاد رہے کہ ایک پیغمبر کا انکار گویا تمام انبیاء کا علیہ السلام انکار ہے جیسے قرآن نے فرمایا «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:105] اور فرمایا «كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:123] اور فرمایا «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:141] یعنی قوم نوح نے عادیوں نے ثمودیوں نے رسولوں کو جھٹلایا، حالانکہ سب کے پاس یعنی ہر ہر امت کے پاس ایک ہی رسول آیا تھا، یہی مطلب یہاں بھی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامبر کی نافرمانی کی، پس اللہ نے انہیں سخت تر مہلک بڑی درد ناک المناک پکڑ میں پکڑ لیا۔
طوفان نوح ٭٭
بعد ازاں اپنا احسان جتاتا ہے کہ ’ دیکھو جب نوح کی دعا کی وجہ سے زمین پر طوفان آیا اور پانی حد سے گزر گیا چاروں طرف ریل پیل ہو گئی نجات کی کوئی جگہ نہ رہی اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب قوم نوح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذاء رسانی شروع کی اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے اس وقت نوح علیہ السلام نے تنگ آ کر ان کی ہلاکت کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور مشہور طوفان نوح نازل فرمایا جس سے سوائے ان لوگوں کے جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں تھے روئے زمین پر کوئی نہ بچا پس سب لوگ نوح علیہ السلام کی نسل اور آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پانی کا ایک ایک قطرہ بہ اجازت اللہ پانی کے داروغہ فرشتہ کے ناپ تول سے برستا ہے اسی طرح ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی بے ناپے تولے نہیں چلتا لیکن ہاں عادیوں پر جو ہوائیں چلیں اور قوم نوح پر جو طوفان آیا وہ تو بے حد، بے شمار اور بغیر ناپ تول کے تھا اللہ کی اجازت سے پانی اور ہوا نے وہ زور باندھا کہ نگہبان فرشتوں کی کچھ نہ چلی۔ اسی لیے قرآن میں «اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:11] اور «وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقة:6] کے الفاظ ہیں، اسی لیے اس اہم احسان کو اللہ تعالیٰ یاد دلا رہا ہے کہ ’ ایسے پُر خطر موقعہ پر ہم نے تمہیں چلتی کشتی پر سوار کرا دیا تا کہ یہ کشتی تمہارے لیے نمونہ بن جائے چنانچہ آج بھی ویسی ہی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر کے لمبے چوڑے سفر طے کر رہے ہو۔ ‘ جیسے اور جگہ ہے «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:13،12] ، یعنی ’ تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے جانور بنائے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور سوار ہو کر اپنے رب کی نعمت یاد کرو۔ ‘ اور جگہ فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» ۱؎ [36-يس:42،41] یعنی ’ ان کے لیے ایک نشان قدرت یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری کشتی میں چڑھا لیا اور بھی ہم نے اس جیسی ان کی سواریاں پیدا کر دیں۔ ‘ قتادہ رحمہ اللہ نے اوپر کی اس آیت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ وہی کشتی نوح باقی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اگلوں نے بھی اسے دیکھا، لیکن زیادہ ظاہر مطلب پہلا ہی ہے۔ پھر فرمایا ’ یہ اس لیے بھی کہ یاد رکھنے اور سننے والا کان اسے یاد کرے اور محفوظ رکھ لے اور اس نعمت کو نہ بھولے ‘، یعنی صحیح سمجھ اور سچی سماعت والے، عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے، جو اللہ کی باتوں اور اس کی نعمتوں سے بےپرواہی اور لاابالی نہیں برتتے ان کی پندو نصیحت کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے مکحول فرماتے ہیں جب یہ الفاظ اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ علی کو ایسا ہی بنا دے۔“ } ۱؎، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز سن کر پھر میں نے فراموش نہیں کی، یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے لیکن مرسل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34771:مرسل] ابن ابی حاتم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں تجھے نزدیک کروں، دور نہ کروں اور تجھے تعلیم دوں اور تو بھی یاد رکھے اور یہی تجھے بھی چاہیئے۔“ اس پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34772:ضعیف] یہ روایت دوسری سند سے بھی ابن جریر میں مروی ہے لیکن وہ بھی صحیح نہیں۔
اور اِسی خطائے عظیم کا ارتکاب فرعون اور اُس سے پہلے کے لوگوں نے اور تل پٹ ہو جانے والی بستیوں نے کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
فرعون اور اس سے پہلے کے لوگ اور جن کی بستیاں الٹ دی گئی، انہوں نے بھی خطائیں کیں
احمد رضا خان بریلوی
اور فرعون اور اس سے اگلے اور الٹنے والی بستیاں خطا لائے
علامہ محمد حسین نجفی
اور فرعون اور اس سے پہلے والوں اور الٹی ہوئی بسیتوں (والوں) نے (یہی) خطا کی۔
عبدالسلام بن محمد
اور فرعون نے اور اس سے پہلے لوگوں نے اور الٹ جانے والی بستیوں نے گناہ کا ارتکاب کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی تھیں اور فرشتوں کے ہاتھوں سے نکلتی تھیں برابر پے درپے لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہیں، ان دنوں میں ان کے لیے سوائے نحوست و بربادی کے اور کوئی بھلائی نہ تھی اور جیسے اور جگہ ہے «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِــزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:16] ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن سے یہ شروع ہوئی تھیں۔ بعض کہتے ہیں بدھ کے دن۔ ان ہواؤں کو عرب «اعجاز» اس لیے بھی کہتے ہیں کہ قرآن نے فرمایا ہے ’ قوم عاد کی حالت «اعجاز» یعنی کھجوروں کے کھوکھلے تنوں جیسی ہو گئی ‘، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً یہ ہوائیں جاڑوں کے آخر میں چلا کرتی ہیں اور عجز کہتے ہیں آخر کو، اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بڑھیا ایک غار میں گھس گئی تھی جو ان ہواؤں سے آٹھویں روز وہیں تباہ ہو گئی اور بڑھیا کو عربی میں «عجوز» کہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«خَاوِيَةٍ» کے معنی ہیں خراب، گلا، سڑا، کھوکھلا، مطلب یہ ہے کہ ہواؤں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا ان کے سر پھٹ گئے سروں کا چورا چورا ہو گیا اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درختوں کا پتوں والا سرا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا ہو۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی یعنی مشرقی ہوا کے ساتھ اور عادی ہلاک کئے گئے دبور سے یعنی مغربی ہوا سے۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:1035] ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عادیوں کو ہلاک کرنے کے لیے ہواؤں کے خزانے میں سے صرف انگوٹھی کے برابر جگہ کشادہ کی گئی تھی جس سے ہوائیں نکلیں اور پہلے وہ گاؤں اور دیہات والوں پر آئی ان تمام مردوں عورتوں کو چھوٹے بڑوں کو ان کے مالوں اور جانوروں سمیت لے کر آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دیا، شہریوں کو بوجہ بہت بلندی اور کافی اونچائی کے یہ معلوم ہونے لگا کہ یہ سیاہ رنگ بادل چڑھا ہوا ہے خوش ہونے لگے کہ گرمی کے باعث جو ہماری بری حالت ہو رہی ہے اب پانی برس جائے گا اتنے میں ہواؤں کو حکم ہوا اور اس نے ان تمام کو ان شہریوں پر پھینک دیا یہ اور وہ سب ہلاک ہو گئے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس ہوا کے پر اور دم تھی۔ پھر فرماتا ہے ’ بتاؤ کہ ان میں سے یا ان کی نسل میں سے کسی ایک کا نشان بھی تم دیکھ رہے ہو؟ ‘ یعنی سب کے سب تباو و برباد کر دیئے گئے کوئی نام لینے والا پانی دینے والا بھی باقی نہ رہا۔
پھر فرمایا ’ فرعون اور اس سے اگلے خطاکار، اور رسولوں کے نافرمانوں کا یہی انجام ہوا ‘۔ «قَبْلَهُ» کی دوسری قرأت «قِبْلَهُ» بھی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ فرعون اور اس کے پاس اور ساتھ کے لوگ یعنی فرعونی، قبطی، کفار۔ «مُؤْتَفِكَاتُ» سے مراد بھی پیغمبروں کی جھٹلانے والی اگلی امتیں ہیں، «خَاطِئَةِ» سے مطلب معصیت اور خطائیں ہیں۔ پس فرمایا ’ ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے زمانے کے رسول کی تکذیب کی۔ ‘ جیسے اور جگہ ہے «كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ» ۱؎ [50-ق:14] یعنی ’ ان سب نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے۔ ‘ اور یہ بھی یاد رہے کہ ایک پیغمبر کا انکار گویا تمام انبیاء کا علیہ السلام انکار ہے جیسے قرآن نے فرمایا «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:105] اور فرمایا «كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:123] اور فرمایا «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:141] یعنی قوم نوح نے عادیوں نے ثمودیوں نے رسولوں کو جھٹلایا، حالانکہ سب کے پاس یعنی ہر ہر امت کے پاس ایک ہی رسول آیا تھا، یہی مطلب یہاں بھی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامبر کی نافرمانی کی، پس اللہ نے انہیں سخت تر مہلک بڑی درد ناک المناک پکڑ میں پکڑ لیا۔
طوفان نوح ٭٭
بعد ازاں اپنا احسان جتاتا ہے کہ ’ دیکھو جب نوح کی دعا کی وجہ سے زمین پر طوفان آیا اور پانی حد سے گزر گیا چاروں طرف ریل پیل ہو گئی نجات کی کوئی جگہ نہ رہی اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب قوم نوح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذاء رسانی شروع کی اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے اس وقت نوح علیہ السلام نے تنگ آ کر ان کی ہلاکت کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور مشہور طوفان نوح نازل فرمایا جس سے سوائے ان لوگوں کے جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں تھے روئے زمین پر کوئی نہ بچا پس سب لوگ نوح علیہ السلام کی نسل اور آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پانی کا ایک ایک قطرہ بہ اجازت اللہ پانی کے داروغہ فرشتہ کے ناپ تول سے برستا ہے اسی طرح ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی بے ناپے تولے نہیں چلتا لیکن ہاں عادیوں پر جو ہوائیں چلیں اور قوم نوح پر جو طوفان آیا وہ تو بے حد، بے شمار اور بغیر ناپ تول کے تھا اللہ کی اجازت سے پانی اور ہوا نے وہ زور باندھا کہ نگہبان فرشتوں کی کچھ نہ چلی۔ اسی لیے قرآن میں «اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:11] اور «وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقة:6] کے الفاظ ہیں، اسی لیے اس اہم احسان کو اللہ تعالیٰ یاد دلا رہا ہے کہ ’ ایسے پُر خطر موقعہ پر ہم نے تمہیں چلتی کشتی پر سوار کرا دیا تا کہ یہ کشتی تمہارے لیے نمونہ بن جائے چنانچہ آج بھی ویسی ہی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر کے لمبے چوڑے سفر طے کر رہے ہو۔ ‘ جیسے اور جگہ ہے «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:13،12] ، یعنی ’ تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے جانور بنائے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور سوار ہو کر اپنے رب کی نعمت یاد کرو۔ ‘ اور جگہ فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» ۱؎ [36-يس:42،41] یعنی ’ ان کے لیے ایک نشان قدرت یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری کشتی میں چڑھا لیا اور بھی ہم نے اس جیسی ان کی سواریاں پیدا کر دیں۔ ‘ قتادہ رحمہ اللہ نے اوپر کی اس آیت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ وہی کشتی نوح باقی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اگلوں نے بھی اسے دیکھا، لیکن زیادہ ظاہر مطلب پہلا ہی ہے۔ پھر فرمایا ’ یہ اس لیے بھی کہ یاد رکھنے اور سننے والا کان اسے یاد کرے اور محفوظ رکھ لے اور اس نعمت کو نہ بھولے ‘، یعنی صحیح سمجھ اور سچی سماعت والے، عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے، جو اللہ کی باتوں اور اس کی نعمتوں سے بےپرواہی اور لاابالی نہیں برتتے ان کی پندو نصیحت کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے مکحول فرماتے ہیں جب یہ الفاظ اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ علی کو ایسا ہی بنا دے۔“ } ۱؎، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز سن کر پھر میں نے فراموش نہیں کی، یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے لیکن مرسل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34771:مرسل] ابن ابی حاتم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں تجھے نزدیک کروں، دور نہ کروں اور تجھے تعلیم دوں اور تو بھی یاد رکھے اور یہی تجھے بھی چاہیئے۔“ اس پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34772:ضعیف] یہ روایت دوسری سند سے بھی ابن جریر میں مروی ہے لیکن وہ بھی صحیح نہیں۔
9۔ 1 اس سے قوم لوط مراد ہے۔
(آیت 10،9) {وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ …: ” الْمُؤْتَفِكٰتُ “ ”اِئْتَكَفَ“} (افتعال) سے اسم فاعل ہے اور محذوف لفظ {”اَلْقُرٰي“} (بستیوں) کی صفت ہے، یعنی الٹ جانے والی بستیاں۔ مراد لوط علیہ السلام کی قوم کی بستیاں ہیں جن کا اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا اوپر کر دیا گیا اور پھر ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسا دی گئی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۷۷ تا ۸۳) اور سورۂ حجر (۶۱تا۷۴)۔ {”اَلْخَاطِئَةُ“ ” عَافِيَهٌ“} کے وزن پر مصدر ہے، گناہ، خطا۔ {” رَابِيَةً “ ”رَبَا يَرْبُوْ“} (ن) (زیادہ ہونا، بڑھنا) سے اسم فاعل ہے، یعنی وہ گرفت اپنی شدت میں دوسری گرفتوں سے بہت بڑھی ہوئی تھی، یعنی فرعون نے اور اس سے پہلے کے لوگوں نے اور قوم لوط نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی سخت گرفت میں پکڑ لیا۔ گناہ کیا تھا؟ یہ کہ {” فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ “} انھوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کری۔
ان سب نے اپنے رب کے رسول کی بات نہ مانی تو اُس نے اُن کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی (بالﺂخر) اللہ نے انہیں (بھی) زبردست گرفت میں لے لیا
احمد رضا خان بریلوی
تو انہوں نے اپنے رب کے رسولوں کا حکم نہ مانا تو اس نے انہیں بڑھی چڑھی گرفت سے پکڑا،
علامہ محمد حسین نجفی
(یعنی) اپنے پروردگار کے رسول(ع) کی نافرمانی کی تو اس (اللہ) نے ان کو حد سے بڑھی ہوئی گرفت میں لے لیا۔
عبدالسلام بن محمد
پس انھوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی تو اس نے انھیں ایک سخت گرفت میں پکڑ لیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی تھیں اور فرشتوں کے ہاتھوں سے نکلتی تھیں برابر پے درپے لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہیں، ان دنوں میں ان کے لیے سوائے نحوست و بربادی کے اور کوئی بھلائی نہ تھی اور جیسے اور جگہ ہے «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِــزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:16] ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن سے یہ شروع ہوئی تھیں۔ بعض کہتے ہیں بدھ کے دن۔ ان ہواؤں کو عرب «اعجاز» اس لیے بھی کہتے ہیں کہ قرآن نے فرمایا ہے ’ قوم عاد کی حالت «اعجاز» یعنی کھجوروں کے کھوکھلے تنوں جیسی ہو گئی ‘، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً یہ ہوائیں جاڑوں کے آخر میں چلا کرتی ہیں اور عجز کہتے ہیں آخر کو، اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بڑھیا ایک غار میں گھس گئی تھی جو ان ہواؤں سے آٹھویں روز وہیں تباہ ہو گئی اور بڑھیا کو عربی میں «عجوز» کہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«خَاوِيَةٍ» کے معنی ہیں خراب، گلا، سڑا، کھوکھلا، مطلب یہ ہے کہ ہواؤں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا ان کے سر پھٹ گئے سروں کا چورا چورا ہو گیا اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درختوں کا پتوں والا سرا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا ہو۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی یعنی مشرقی ہوا کے ساتھ اور عادی ہلاک کئے گئے دبور سے یعنی مغربی ہوا سے۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:1035] ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عادیوں کو ہلاک کرنے کے لیے ہواؤں کے خزانے میں سے صرف انگوٹھی کے برابر جگہ کشادہ کی گئی تھی جس سے ہوائیں نکلیں اور پہلے وہ گاؤں اور دیہات والوں پر آئی ان تمام مردوں عورتوں کو چھوٹے بڑوں کو ان کے مالوں اور جانوروں سمیت لے کر آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دیا، شہریوں کو بوجہ بہت بلندی اور کافی اونچائی کے یہ معلوم ہونے لگا کہ یہ سیاہ رنگ بادل چڑھا ہوا ہے خوش ہونے لگے کہ گرمی کے باعث جو ہماری بری حالت ہو رہی ہے اب پانی برس جائے گا اتنے میں ہواؤں کو حکم ہوا اور اس نے ان تمام کو ان شہریوں پر پھینک دیا یہ اور وہ سب ہلاک ہو گئے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس ہوا کے پر اور دم تھی۔ پھر فرماتا ہے ’ بتاؤ کہ ان میں سے یا ان کی نسل میں سے کسی ایک کا نشان بھی تم دیکھ رہے ہو؟ ‘ یعنی سب کے سب تباو و برباد کر دیئے گئے کوئی نام لینے والا پانی دینے والا بھی باقی نہ رہا۔
پھر فرمایا ’ فرعون اور اس سے اگلے خطاکار، اور رسولوں کے نافرمانوں کا یہی انجام ہوا ‘۔ «قَبْلَهُ» کی دوسری قرأت «قِبْلَهُ» بھی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ فرعون اور اس کے پاس اور ساتھ کے لوگ یعنی فرعونی، قبطی، کفار۔ «مُؤْتَفِكَاتُ» سے مراد بھی پیغمبروں کی جھٹلانے والی اگلی امتیں ہیں، «خَاطِئَةِ» سے مطلب معصیت اور خطائیں ہیں۔ پس فرمایا ’ ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے زمانے کے رسول کی تکذیب کی۔ ‘ جیسے اور جگہ ہے «كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ» ۱؎ [50-ق:14] یعنی ’ ان سب نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے۔ ‘ اور یہ بھی یاد رہے کہ ایک پیغمبر کا انکار گویا تمام انبیاء کا علیہ السلام انکار ہے جیسے قرآن نے فرمایا «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:105] اور فرمایا «كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:123] اور فرمایا «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:141] یعنی قوم نوح نے عادیوں نے ثمودیوں نے رسولوں کو جھٹلایا، حالانکہ سب کے پاس یعنی ہر ہر امت کے پاس ایک ہی رسول آیا تھا، یہی مطلب یہاں بھی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامبر کی نافرمانی کی، پس اللہ نے انہیں سخت تر مہلک بڑی درد ناک المناک پکڑ میں پکڑ لیا۔
طوفان نوح ٭٭
بعد ازاں اپنا احسان جتاتا ہے کہ ’ دیکھو جب نوح کی دعا کی وجہ سے زمین پر طوفان آیا اور پانی حد سے گزر گیا چاروں طرف ریل پیل ہو گئی نجات کی کوئی جگہ نہ رہی اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب قوم نوح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذاء رسانی شروع کی اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے اس وقت نوح علیہ السلام نے تنگ آ کر ان کی ہلاکت کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور مشہور طوفان نوح نازل فرمایا جس سے سوائے ان لوگوں کے جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں تھے روئے زمین پر کوئی نہ بچا پس سب لوگ نوح علیہ السلام کی نسل اور آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پانی کا ایک ایک قطرہ بہ اجازت اللہ پانی کے داروغہ فرشتہ کے ناپ تول سے برستا ہے اسی طرح ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی بے ناپے تولے نہیں چلتا لیکن ہاں عادیوں پر جو ہوائیں چلیں اور قوم نوح پر جو طوفان آیا وہ تو بے حد، بے شمار اور بغیر ناپ تول کے تھا اللہ کی اجازت سے پانی اور ہوا نے وہ زور باندھا کہ نگہبان فرشتوں کی کچھ نہ چلی۔ اسی لیے قرآن میں «اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:11] اور «وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقة:6] کے الفاظ ہیں، اسی لیے اس اہم احسان کو اللہ تعالیٰ یاد دلا رہا ہے کہ ’ ایسے پُر خطر موقعہ پر ہم نے تمہیں چلتی کشتی پر سوار کرا دیا تا کہ یہ کشتی تمہارے لیے نمونہ بن جائے چنانچہ آج بھی ویسی ہی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر کے لمبے چوڑے سفر طے کر رہے ہو۔ ‘ جیسے اور جگہ ہے «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:13،12] ، یعنی ’ تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے جانور بنائے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور سوار ہو کر اپنے رب کی نعمت یاد کرو۔ ‘ اور جگہ فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» ۱؎ [36-يس:42،41] یعنی ’ ان کے لیے ایک نشان قدرت یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری کشتی میں چڑھا لیا اور بھی ہم نے اس جیسی ان کی سواریاں پیدا کر دیں۔ ‘ قتادہ رحمہ اللہ نے اوپر کی اس آیت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ وہی کشتی نوح باقی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اگلوں نے بھی اسے دیکھا، لیکن زیادہ ظاہر مطلب پہلا ہی ہے۔ پھر فرمایا ’ یہ اس لیے بھی کہ یاد رکھنے اور سننے والا کان اسے یاد کرے اور محفوظ رکھ لے اور اس نعمت کو نہ بھولے ‘، یعنی صحیح سمجھ اور سچی سماعت والے، عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے، جو اللہ کی باتوں اور اس کی نعمتوں سے بےپرواہی اور لاابالی نہیں برتتے ان کی پندو نصیحت کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے مکحول فرماتے ہیں جب یہ الفاظ اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ علی کو ایسا ہی بنا دے۔“ } ۱؎، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز سن کر پھر میں نے فراموش نہیں کی، یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے لیکن مرسل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34771:مرسل] ابن ابی حاتم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں تجھے نزدیک کروں، دور نہ کروں اور تجھے تعلیم دوں اور تو بھی یاد رکھے اور یہی تجھے بھی چاہیئے۔“ اس پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34772:ضعیف] یہ روایت دوسری سند سے بھی ابن جریر میں مروی ہے لیکن وہ بھی صحیح نہیں۔
10۔ 1 یعنی ان کی ایسی گرفت کی جو دوسری قوموں کی گرفت سے زائد یعنی سب میں سخت تر تھی۔
جب پانی کا طوفان حد سے گزر گیا تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کر دیا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
جب پانی میں طغیانی آگئی تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جب پانی نے سر اٹھایا تھا ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور پانی جب حد سے بڑھ گیا تو ہم نے تم کو (یعنی تمہارے آباء و اجداد کو) کشتی میں سوار کیا۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ ہم نے ہی جب پانی حد سے تجاوز کرگیا، تمھیں کشتی میں سوار کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی تھیں اور فرشتوں کے ہاتھوں سے نکلتی تھیں برابر پے درپے لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہیں، ان دنوں میں ان کے لیے سوائے نحوست و بربادی کے اور کوئی بھلائی نہ تھی اور جیسے اور جگہ ہے «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِــزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:16] ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن سے یہ شروع ہوئی تھیں۔ بعض کہتے ہیں بدھ کے دن۔ ان ہواؤں کو عرب «اعجاز» اس لیے بھی کہتے ہیں کہ قرآن نے فرمایا ہے ’ قوم عاد کی حالت «اعجاز» یعنی کھجوروں کے کھوکھلے تنوں جیسی ہو گئی ‘، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً یہ ہوائیں جاڑوں کے آخر میں چلا کرتی ہیں اور عجز کہتے ہیں آخر کو، اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بڑھیا ایک غار میں گھس گئی تھی جو ان ہواؤں سے آٹھویں روز وہیں تباہ ہو گئی اور بڑھیا کو عربی میں «عجوز» کہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«خَاوِيَةٍ» کے معنی ہیں خراب، گلا، سڑا، کھوکھلا، مطلب یہ ہے کہ ہواؤں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا ان کے سر پھٹ گئے سروں کا چورا چورا ہو گیا اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درختوں کا پتوں والا سرا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا ہو۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی یعنی مشرقی ہوا کے ساتھ اور عادی ہلاک کئے گئے دبور سے یعنی مغربی ہوا سے۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:1035] ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عادیوں کو ہلاک کرنے کے لیے ہواؤں کے خزانے میں سے صرف انگوٹھی کے برابر جگہ کشادہ کی گئی تھی جس سے ہوائیں نکلیں اور پہلے وہ گاؤں اور دیہات والوں پر آئی ان تمام مردوں عورتوں کو چھوٹے بڑوں کو ان کے مالوں اور جانوروں سمیت لے کر آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دیا، شہریوں کو بوجہ بہت بلندی اور کافی اونچائی کے یہ معلوم ہونے لگا کہ یہ سیاہ رنگ بادل چڑھا ہوا ہے خوش ہونے لگے کہ گرمی کے باعث جو ہماری بری حالت ہو رہی ہے اب پانی برس جائے گا اتنے میں ہواؤں کو حکم ہوا اور اس نے ان تمام کو ان شہریوں پر پھینک دیا یہ اور وہ سب ہلاک ہو گئے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس ہوا کے پر اور دم تھی۔ پھر فرماتا ہے ’ بتاؤ کہ ان میں سے یا ان کی نسل میں سے کسی ایک کا نشان بھی تم دیکھ رہے ہو؟ ‘ یعنی سب کے سب تباو و برباد کر دیئے گئے کوئی نام لینے والا پانی دینے والا بھی باقی نہ رہا۔
پھر فرمایا ’ فرعون اور اس سے اگلے خطاکار، اور رسولوں کے نافرمانوں کا یہی انجام ہوا ‘۔ «قَبْلَهُ» کی دوسری قرأت «قِبْلَهُ» بھی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ فرعون اور اس کے پاس اور ساتھ کے لوگ یعنی فرعونی، قبطی، کفار۔ «مُؤْتَفِكَاتُ» سے مراد بھی پیغمبروں کی جھٹلانے والی اگلی امتیں ہیں، «خَاطِئَةِ» سے مطلب معصیت اور خطائیں ہیں۔ پس فرمایا ’ ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے زمانے کے رسول کی تکذیب کی۔ ‘ جیسے اور جگہ ہے «كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ» ۱؎ [50-ق:14] یعنی ’ ان سب نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے۔ ‘ اور یہ بھی یاد رہے کہ ایک پیغمبر کا انکار گویا تمام انبیاء کا علیہ السلام انکار ہے جیسے قرآن نے فرمایا «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:105] اور فرمایا «كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:123] اور فرمایا «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:141] یعنی قوم نوح نے عادیوں نے ثمودیوں نے رسولوں کو جھٹلایا، حالانکہ سب کے پاس یعنی ہر ہر امت کے پاس ایک ہی رسول آیا تھا، یہی مطلب یہاں بھی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامبر کی نافرمانی کی، پس اللہ نے انہیں سخت تر مہلک بڑی درد ناک المناک پکڑ میں پکڑ لیا۔
طوفان نوح ٭٭
بعد ازاں اپنا احسان جتاتا ہے کہ ’ دیکھو جب نوح کی دعا کی وجہ سے زمین پر طوفان آیا اور پانی حد سے گزر گیا چاروں طرف ریل پیل ہو گئی نجات کی کوئی جگہ نہ رہی اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب قوم نوح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذاء رسانی شروع کی اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے اس وقت نوح علیہ السلام نے تنگ آ کر ان کی ہلاکت کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور مشہور طوفان نوح نازل فرمایا جس سے سوائے ان لوگوں کے جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں تھے روئے زمین پر کوئی نہ بچا پس سب لوگ نوح علیہ السلام کی نسل اور آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پانی کا ایک ایک قطرہ بہ اجازت اللہ پانی کے داروغہ فرشتہ کے ناپ تول سے برستا ہے اسی طرح ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی بے ناپے تولے نہیں چلتا لیکن ہاں عادیوں پر جو ہوائیں چلیں اور قوم نوح پر جو طوفان آیا وہ تو بے حد، بے شمار اور بغیر ناپ تول کے تھا اللہ کی اجازت سے پانی اور ہوا نے وہ زور باندھا کہ نگہبان فرشتوں کی کچھ نہ چلی۔ اسی لیے قرآن میں «اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:11] اور «وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقة:6] کے الفاظ ہیں، اسی لیے اس اہم احسان کو اللہ تعالیٰ یاد دلا رہا ہے کہ ’ ایسے پُر خطر موقعہ پر ہم نے تمہیں چلتی کشتی پر سوار کرا دیا تا کہ یہ کشتی تمہارے لیے نمونہ بن جائے چنانچہ آج بھی ویسی ہی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر کے لمبے چوڑے سفر طے کر رہے ہو۔ ‘ جیسے اور جگہ ہے «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:13،12] ، یعنی ’ تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے جانور بنائے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور سوار ہو کر اپنے رب کی نعمت یاد کرو۔ ‘ اور جگہ فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» ۱؎ [36-يس:42،41] یعنی ’ ان کے لیے ایک نشان قدرت یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری کشتی میں چڑھا لیا اور بھی ہم نے اس جیسی ان کی سواریاں پیدا کر دیں۔ ‘ قتادہ رحمہ اللہ نے اوپر کی اس آیت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ وہی کشتی نوح باقی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اگلوں نے بھی اسے دیکھا، لیکن زیادہ ظاہر مطلب پہلا ہی ہے۔ پھر فرمایا ’ یہ اس لیے بھی کہ یاد رکھنے اور سننے والا کان اسے یاد کرے اور محفوظ رکھ لے اور اس نعمت کو نہ بھولے ‘، یعنی صحیح سمجھ اور سچی سماعت والے، عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے، جو اللہ کی باتوں اور اس کی نعمتوں سے بےپرواہی اور لاابالی نہیں برتتے ان کی پندو نصیحت کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے مکحول فرماتے ہیں جب یہ الفاظ اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ علی کو ایسا ہی بنا دے۔“ } ۱؎، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز سن کر پھر میں نے فراموش نہیں کی، یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے لیکن مرسل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34771:مرسل] ابن ابی حاتم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں تجھے نزدیک کروں، دور نہ کروں اور تجھے تعلیم دوں اور تو بھی یاد رکھے اور یہی تجھے بھی چاہیئے۔“ اس پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34772:ضعیف] یہ روایت دوسری سند سے بھی ابن جریر میں مروی ہے لیکن وہ بھی صحیح نہیں۔
11۔ 1 یعنی پانی بلندی میں تجاوز کر گیا، یعنی پانی خوب چڑھ گیا۔ 11۔ 2 کُم سے مخاطب عہد رسالت کے لوگ ہیں، مطلب ہے کہ تم جن آبا کی پشتوں سے ہو، ہم نے انہیں کشتی میں سوار کرکے بپھرے ہوئے پانی سے بچایا تھا۔ اَلْجَارِیَۃ سے مراد سفینہ نوح ؑ ہے۔
(آیت 11){ اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ …:} نوح علیہ السلام کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان کا ذکر کیا ہے، فرمایا نوح(علیہ السلام) کی قوم کے کفر و شرک پر اصرار کی وجہ سے جب پانی اتنا بڑھا کہ عام حدوں سے کہیں اونچا ہو گیا تو ہمیں تھے جنھوں نے تمھیں اس سے پہلے ہی کشتی میں سوار کر لیا اور پھر اتنے بے حساب پانی میں اس کشتی کو محفوظ رکھا، ورنہ اس طوفان سے بچنے کی کوئی صورت نہ تھی۔ یہاں اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد کے زمانے کے لوگوں سے خطاب ہو رہا ہے، مگر مراد یہی ہے کہ تمھارے آباء کو سوار کیا، وہ سوار ہوئے تو تم بھی سوار ہوئے، کیونکہ تم ان کی پشتوں میں تھے۔ اگر وہ اس کشتی میں سوار ہو کر طوفان سے نجات نہ پاتے تو آج تمھارا وجود بھی نہ ہوتا۔
تاکہ اِس واقعہ کو تمہارے لیے ایک سبق آموز یادگار بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ اسے تمہارے لیے نصیحت اور یادگار بنادیں، اور (تاکہ) یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں
احمد رضا خان بریلوی
کہ اسے تمہارے لیے یادگار کریں اور اسے محفوظ رکھے وہ کان کہ سن کر محفوظ رکھتا ہو
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ ہم اس (وا قعہ) کو تمہارے لئے یادگار بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھیں۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ ہم اسے تمھارے لیے ایک یاد دہانی بنا دیں اور یاد رکھنے والا کان اسے یاد رکھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی تھیں اور فرشتوں کے ہاتھوں سے نکلتی تھیں برابر پے درپے لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہیں، ان دنوں میں ان کے لیے سوائے نحوست و بربادی کے اور کوئی بھلائی نہ تھی اور جیسے اور جگہ ہے «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِــزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:16] ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن سے یہ شروع ہوئی تھیں۔ بعض کہتے ہیں بدھ کے دن۔ ان ہواؤں کو عرب «اعجاز» اس لیے بھی کہتے ہیں کہ قرآن نے فرمایا ہے ’ قوم عاد کی حالت «اعجاز» یعنی کھجوروں کے کھوکھلے تنوں جیسی ہو گئی ‘، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً یہ ہوائیں جاڑوں کے آخر میں چلا کرتی ہیں اور عجز کہتے ہیں آخر کو، اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بڑھیا ایک غار میں گھس گئی تھی جو ان ہواؤں سے آٹھویں روز وہیں تباہ ہو گئی اور بڑھیا کو عربی میں «عجوز» کہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«خَاوِيَةٍ» کے معنی ہیں خراب، گلا، سڑا، کھوکھلا، مطلب یہ ہے کہ ہواؤں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا ان کے سر پھٹ گئے سروں کا چورا چورا ہو گیا اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درختوں کا پتوں والا سرا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا ہو۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی یعنی مشرقی ہوا کے ساتھ اور عادی ہلاک کئے گئے دبور سے یعنی مغربی ہوا سے۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:1035] ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عادیوں کو ہلاک کرنے کے لیے ہواؤں کے خزانے میں سے صرف انگوٹھی کے برابر جگہ کشادہ کی گئی تھی جس سے ہوائیں نکلیں اور پہلے وہ گاؤں اور دیہات والوں پر آئی ان تمام مردوں عورتوں کو چھوٹے بڑوں کو ان کے مالوں اور جانوروں سمیت لے کر آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دیا، شہریوں کو بوجہ بہت بلندی اور کافی اونچائی کے یہ معلوم ہونے لگا کہ یہ سیاہ رنگ بادل چڑھا ہوا ہے خوش ہونے لگے کہ گرمی کے باعث جو ہماری بری حالت ہو رہی ہے اب پانی برس جائے گا اتنے میں ہواؤں کو حکم ہوا اور اس نے ان تمام کو ان شہریوں پر پھینک دیا یہ اور وہ سب ہلاک ہو گئے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس ہوا کے پر اور دم تھی۔ پھر فرماتا ہے ’ بتاؤ کہ ان میں سے یا ان کی نسل میں سے کسی ایک کا نشان بھی تم دیکھ رہے ہو؟ ‘ یعنی سب کے سب تباو و برباد کر دیئے گئے کوئی نام لینے والا پانی دینے والا بھی باقی نہ رہا۔
پھر فرمایا ’ فرعون اور اس سے اگلے خطاکار، اور رسولوں کے نافرمانوں کا یہی انجام ہوا ‘۔ «قَبْلَهُ» کی دوسری قرأت «قِبْلَهُ» بھی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ فرعون اور اس کے پاس اور ساتھ کے لوگ یعنی فرعونی، قبطی، کفار۔ «مُؤْتَفِكَاتُ» سے مراد بھی پیغمبروں کی جھٹلانے والی اگلی امتیں ہیں، «خَاطِئَةِ» سے مطلب معصیت اور خطائیں ہیں۔ پس فرمایا ’ ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے زمانے کے رسول کی تکذیب کی۔ ‘ جیسے اور جگہ ہے «كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ» ۱؎ [50-ق:14] یعنی ’ ان سب نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے۔ ‘ اور یہ بھی یاد رہے کہ ایک پیغمبر کا انکار گویا تمام انبیاء کا علیہ السلام انکار ہے جیسے قرآن نے فرمایا «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:105] اور فرمایا «كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:123] اور فرمایا «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:141] یعنی قوم نوح نے عادیوں نے ثمودیوں نے رسولوں کو جھٹلایا، حالانکہ سب کے پاس یعنی ہر ہر امت کے پاس ایک ہی رسول آیا تھا، یہی مطلب یہاں بھی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامبر کی نافرمانی کی، پس اللہ نے انہیں سخت تر مہلک بڑی درد ناک المناک پکڑ میں پکڑ لیا۔
طوفان نوح ٭٭
بعد ازاں اپنا احسان جتاتا ہے کہ ’ دیکھو جب نوح کی دعا کی وجہ سے زمین پر طوفان آیا اور پانی حد سے گزر گیا چاروں طرف ریل پیل ہو گئی نجات کی کوئی جگہ نہ رہی اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب قوم نوح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذاء رسانی شروع کی اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے اس وقت نوح علیہ السلام نے تنگ آ کر ان کی ہلاکت کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور مشہور طوفان نوح نازل فرمایا جس سے سوائے ان لوگوں کے جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں تھے روئے زمین پر کوئی نہ بچا پس سب لوگ نوح علیہ السلام کی نسل اور آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پانی کا ایک ایک قطرہ بہ اجازت اللہ پانی کے داروغہ فرشتہ کے ناپ تول سے برستا ہے اسی طرح ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی بے ناپے تولے نہیں چلتا لیکن ہاں عادیوں پر جو ہوائیں چلیں اور قوم نوح پر جو طوفان آیا وہ تو بے حد، بے شمار اور بغیر ناپ تول کے تھا اللہ کی اجازت سے پانی اور ہوا نے وہ زور باندھا کہ نگہبان فرشتوں کی کچھ نہ چلی۔ اسی لیے قرآن میں «اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:11] اور «وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ» ۱؎ [69-الحاقة:6] کے الفاظ ہیں، اسی لیے اس اہم احسان کو اللہ تعالیٰ یاد دلا رہا ہے کہ ’ ایسے پُر خطر موقعہ پر ہم نے تمہیں چلتی کشتی پر سوار کرا دیا تا کہ یہ کشتی تمہارے لیے نمونہ بن جائے چنانچہ آج بھی ویسی ہی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر کے لمبے چوڑے سفر طے کر رہے ہو۔ ‘ جیسے اور جگہ ہے «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:13،12] ، یعنی ’ تمہاری سواری کے لیے کشتیاں اور چوپائے جانور بنائے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور سوار ہو کر اپنے رب کی نعمت یاد کرو۔ ‘ اور جگہ فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» ۱؎ [36-يس:42،41] یعنی ’ ان کے لیے ایک نشان قدرت یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری کشتی میں چڑھا لیا اور بھی ہم نے اس جیسی ان کی سواریاں پیدا کر دیں۔ ‘ قتادہ رحمہ اللہ نے اوپر کی اس آیت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ وہی کشتی نوح باقی رہی یہاں تک کہ اس امت کے اگلوں نے بھی اسے دیکھا، لیکن زیادہ ظاہر مطلب پہلا ہی ہے۔ پھر فرمایا ’ یہ اس لیے بھی کہ یاد رکھنے اور سننے والا کان اسے یاد کرے اور محفوظ رکھ لے اور اس نعمت کو نہ بھولے ‘، یعنی صحیح سمجھ اور سچی سماعت والے، عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے، جو اللہ کی باتوں اور اس کی نعمتوں سے بےپرواہی اور لاابالی نہیں برتتے ان کی پندو نصیحت کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے مکحول فرماتے ہیں جب یہ الفاظ اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ علی کو ایسا ہی بنا دے۔“ } ۱؎، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز سن کر پھر میں نے فراموش نہیں کی، یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے لیکن مرسل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34771:مرسل] ابن ابی حاتم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں تجھے نزدیک کروں، دور نہ کروں اور تجھے تعلیم دوں اور تو بھی یاد رکھے اور یہی تجھے بھی چاہیئے۔“ اس پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34772:ضعیف] یہ روایت دوسری سند سے بھی ابن جریر میں مروی ہے لیکن وہ بھی صحیح نہیں۔
12۔ 1 یعنی یہ فعل کہ کافروں کو پانی میں غرق کردیا اور مومنوں کو کشتی میں سوار کرا کے بچا لیا تمہارے لیے اس کو عبرت و نصیحت بنادیں تاکہ تم اس سے نصیحت حاصل کرو اور اللہ کی نافرمانی سے بچو۔ یعنی سننے والے اسے سن کر یاد رکھیں اور وہ بھی اس سے عبرت پکڑیں۔
(آیت 12) {لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً: ” لِنَجْعَلَهَا “} میں {”هَا“} ضمیر اس واقعہ کی طرف جا رہی ہے، یعنی ”تاکہ ہم اس واقعہ کو تمھارے لیے ایک نصیحت اور یاد گار بنا دیں۔“ نوح علیہ السلام کی قوم کا یہ واقعہ پشت در پشت نقل ہو کر آرہا تھا اور عرب کے لوگ اچھی طرح اس سے واقف تھے۔ بعض مفسرین نے اس ضمیر {”هَا“} سے مراد {” الْجَارِيَةِ “} (کشی) بھی لیا ہے، مگر اس کے بعد آنے والے الفاظ {” وَ تَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ “} (اور اسے یاد رکھنے والا کان یاد رکھے) سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ضمیر سے مراد ”واقعہ“ہے، کیونکہ {”وَعٰي يَعِيْ“} کا معنی سوچ سمجھ کر سننا اور یاد رکھنا ہوتا ہے۔ {” اُذُنٌ “} (کان) سے مراد کانوں والے انسان ہیں، جو واقعہ کو سنیں تو اس سے عبرت پکڑیں کہ آخرت کے انکار اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے کا انجام کتنا ہو لناک ہوتا ہے۔
قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہو گا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر «نفخه» پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہو جائے گی مگر جسے اللہ چاہے۔ پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہو جائے گی یہاں اسی پہلے «نفخه» کا بیان ہے۔ یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا «نفخه» ایک ہی ہے اس لیے کہ جب اللہ کا حکم ہو گیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہو سکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آخری «نفخه» ہے لیکن ظاہر قول وہی ہے جو ہم نے کہا۔ اسی لیے یہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ ’ زمین و آسمان اٹھا لیے جائیں گے اور کھال کی طرح پھیلا دیئے جائیں گے اور زمین بدل دی جائے گی اور قیامت واقع ہو جائے گی۔ ‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان ہر کھلنے کی جگہ سے پھٹ جائے گا، جیسے سورۃ نبا میں ہے «وَّفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا» ۱؎ [78-النبأ:19] یعنی ’ آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے کھول دیے جائیں گے۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آسمان میں سوراخ اور غاریں پڑ جائیں گی اور شق ہو جائے گی عرش اس کے سامنے ہو گا فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جو کنارے اب تک ٹوٹے نہ ہوں گے اور دوازوں پر ہوں گے آسمان کی لمبائی میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور زمین والوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔
اللہ کا عرش اٹھانے والے فرشتے ٭٭
پھر فرمایا ’ قیامت والے دن آٹھ فرشتے اللہ تعالیٰ کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ ‘ پس یا تو مراد عرش عظیم کا اٹھانا ہے یا اس عرش کا اٹھانا مراد ہے جس پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ایک سو سال کا راستہ ہے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں تمہیں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کی نسبت خبر دوں کہ اس کی گردن اور کان کے نیچے کے لَو کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اڑنے والا پرندہ سات سو سال تک اڑتا چلا جائے۔ } اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں، اسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4727،قال الشيخ الألباني:حسن] سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہ مروی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اعلیٰ فرشتوں کے آٹھ حصے ہیں جن میں سے ہر ایک حصہ کی گنتی تمام انسانوں جنوں اور سب فرشتوں کے برابر ہے۔“ پھر فرمایا: ’ قیامت کے روز تم اس اللہ کے سامنے کئے جاؤ گے جو پوشیدہ کو اور ظاہر کو بخوبی جانتا ہے جس طرح کھلی سے کھلی چیز کا وہ عالم ہے اس طرح چھپی سے چھپی چیز کو بھی وہ جانتا ہے، اسی لیے فرمایا تمہارا کوئی بھید اس روز چھپ نہ سکے گا۔ ‘ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”لوگو اپنی جانوں کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا آپ اندازہ کر لو اس سے پہلے کہ ان اعمال کا وزن کیا جائے تاکہ کل قیامت والے دن تم پر آسانی ہو جس دن کو تمہارا پورا پورا حساب لیا جائے گا اور بڑی پیشی میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے تم پیش کر دیئے جاؤ گے۔“ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے پہلی اور دوسری بار تو عذر، معذرت اور جھگڑا بحث کرتے رہیں گے لیکن تیسری پیشی جو آخری ہو گی اس وقت نامہ اعمال اڑائے جائیں گے، کسی کے دائیں ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔“ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2425،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی یہی روایت ابن جریر میں مروی ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بھی اس جیسی روایت مرسل مروی ہے۔
13۔ 1 مکذبین کا انجام بیان کرنے کے بعد اب بتلایا جارہا ہے کہ یہ الحاقہ کس طرح واقع ہوگی اسرافیل کی ایک ہی پھونک سے یہ برپا ہوجائے گی۔
(آیت 14،13){ فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ …:} قرآن مجید میں بعض مقامات پر پہلے نفخہ کے وقت پیش آنے والے واقعات ذکر کیے گئے ہیں، بعض پر دوسرے نفخہ کے وقت اور بعض مقامات پر انھیں اکٹھا ہی ذکر کر دیا گیا ہے۔ ان آیات میں بھی پہلے نفخہ سے لے کر دوسرے نفخہ کے بعد تک کے حالات بیان ہوئے ہیں، زمین اور پہاڑوں کے ٹوٹنے کا سلسلہ تو پہلے نفخہ کے وقت کا ہے اور آسمان کا پھٹنا، فرشتوں کا اس کے کناروں پر ہونا، عرشِ الٰہی کو آٹھ فرشتوں کا اٹھائے ہوئے ہونا، اللہ تعالیٰ کا میدانِ محشر میں نزول فرمانا اور سب بندوں کا حساب کتاب کے لیے پیش کیا جانا، یہ سب کچھ دوسرے نفخہ کے بعد کا ہے۔
اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے اور ایک ہی چوٹ میں ریزه ریزه کر دیے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعتا ً چُورا کردیے جائیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور زمین اور پہاڑوں کو ایک ہی دفعہ پاش پاش کر دیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا، پس دونوں ٹکرا دیے جائیں گے، ایک بار ٹکرا دینا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آواز کا بم صور اسرافیل ٭٭
قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہو گا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر «نفخه» پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہو جائے گی مگر جسے اللہ چاہے۔ پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہو جائے گی یہاں اسی پہلے «نفخه» کا بیان ہے۔ یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا «نفخه» ایک ہی ہے اس لیے کہ جب اللہ کا حکم ہو گیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہو سکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آخری «نفخه» ہے لیکن ظاہر قول وہی ہے جو ہم نے کہا۔ اسی لیے یہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ ’ زمین و آسمان اٹھا لیے جائیں گے اور کھال کی طرح پھیلا دیئے جائیں گے اور زمین بدل دی جائے گی اور قیامت واقع ہو جائے گی۔ ‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان ہر کھلنے کی جگہ سے پھٹ جائے گا، جیسے سورۃ نبا میں ہے «وَّفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا» ۱؎ [78-النبأ:19] یعنی ’ آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے کھول دیے جائیں گے۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آسمان میں سوراخ اور غاریں پڑ جائیں گی اور شق ہو جائے گی عرش اس کے سامنے ہو گا فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جو کنارے اب تک ٹوٹے نہ ہوں گے اور دوازوں پر ہوں گے آسمان کی لمبائی میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور زمین والوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔
اللہ کا عرش اٹھانے والے فرشتے ٭٭
پھر فرمایا ’ قیامت والے دن آٹھ فرشتے اللہ تعالیٰ کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ ‘ پس یا تو مراد عرش عظیم کا اٹھانا ہے یا اس عرش کا اٹھانا مراد ہے جس پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ایک سو سال کا راستہ ہے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں تمہیں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کی نسبت خبر دوں کہ اس کی گردن اور کان کے نیچے کے لَو کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اڑنے والا پرندہ سات سو سال تک اڑتا چلا جائے۔ } اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں، اسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4727،قال الشيخ الألباني:حسن] سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہ مروی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اعلیٰ فرشتوں کے آٹھ حصے ہیں جن میں سے ہر ایک حصہ کی گنتی تمام انسانوں جنوں اور سب فرشتوں کے برابر ہے۔“ پھر فرمایا: ’ قیامت کے روز تم اس اللہ کے سامنے کئے جاؤ گے جو پوشیدہ کو اور ظاہر کو بخوبی جانتا ہے جس طرح کھلی سے کھلی چیز کا وہ عالم ہے اس طرح چھپی سے چھپی چیز کو بھی وہ جانتا ہے، اسی لیے فرمایا تمہارا کوئی بھید اس روز چھپ نہ سکے گا۔ ‘ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”لوگو اپنی جانوں کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا آپ اندازہ کر لو اس سے پہلے کہ ان اعمال کا وزن کیا جائے تاکہ کل قیامت والے دن تم پر آسانی ہو جس دن کو تمہارا پورا پورا حساب لیا جائے گا اور بڑی پیشی میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے تم پیش کر دیئے جاؤ گے۔“ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے پہلی اور دوسری بار تو عذر، معذرت اور جھگڑا بحث کرتے رہیں گے لیکن تیسری پیشی جو آخری ہو گی اس وقت نامہ اعمال اڑائے جائیں گے، کسی کے دائیں ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔“ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2425،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی یہی روایت ابن جریر میں مروی ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بھی اس جیسی روایت مرسل مروی ہے۔
14۔ 1 یعنی اپنی جگہوں سے اٹھا لیے جائیں گے اور قدرت الہی سے اپنی قرار گاہوں سے ان کو اکھیڑ لیا جائے گا۔
قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہو گا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر «نفخه» پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہو جائے گی مگر جسے اللہ چاہے۔ پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہو جائے گی یہاں اسی پہلے «نفخه» کا بیان ہے۔ یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا «نفخه» ایک ہی ہے اس لیے کہ جب اللہ کا حکم ہو گیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہو سکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آخری «نفخه» ہے لیکن ظاہر قول وہی ہے جو ہم نے کہا۔ اسی لیے یہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ ’ زمین و آسمان اٹھا لیے جائیں گے اور کھال کی طرح پھیلا دیئے جائیں گے اور زمین بدل دی جائے گی اور قیامت واقع ہو جائے گی۔ ‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان ہر کھلنے کی جگہ سے پھٹ جائے گا، جیسے سورۃ نبا میں ہے «وَّفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا» ۱؎ [78-النبأ:19] یعنی ’ آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے کھول دیے جائیں گے۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آسمان میں سوراخ اور غاریں پڑ جائیں گی اور شق ہو جائے گی عرش اس کے سامنے ہو گا فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جو کنارے اب تک ٹوٹے نہ ہوں گے اور دوازوں پر ہوں گے آسمان کی لمبائی میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور زمین والوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔
اللہ کا عرش اٹھانے والے فرشتے ٭٭
پھر فرمایا ’ قیامت والے دن آٹھ فرشتے اللہ تعالیٰ کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ ‘ پس یا تو مراد عرش عظیم کا اٹھانا ہے یا اس عرش کا اٹھانا مراد ہے جس پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ایک سو سال کا راستہ ہے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں تمہیں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کی نسبت خبر دوں کہ اس کی گردن اور کان کے نیچے کے لَو کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اڑنے والا پرندہ سات سو سال تک اڑتا چلا جائے۔ } اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں، اسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4727،قال الشيخ الألباني:حسن] سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہ مروی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اعلیٰ فرشتوں کے آٹھ حصے ہیں جن میں سے ہر ایک حصہ کی گنتی تمام انسانوں جنوں اور سب فرشتوں کے برابر ہے۔“ پھر فرمایا: ’ قیامت کے روز تم اس اللہ کے سامنے کئے جاؤ گے جو پوشیدہ کو اور ظاہر کو بخوبی جانتا ہے جس طرح کھلی سے کھلی چیز کا وہ عالم ہے اس طرح چھپی سے چھپی چیز کو بھی وہ جانتا ہے، اسی لیے فرمایا تمہارا کوئی بھید اس روز چھپ نہ سکے گا۔ ‘ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”لوگو اپنی جانوں کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا آپ اندازہ کر لو اس سے پہلے کہ ان اعمال کا وزن کیا جائے تاکہ کل قیامت والے دن تم پر آسانی ہو جس دن کو تمہارا پورا پورا حساب لیا جائے گا اور بڑی پیشی میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے تم پیش کر دیئے جاؤ گے۔“ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے پہلی اور دوسری بار تو عذر، معذرت اور جھگڑا بحث کرتے رہیں گے لیکن تیسری پیشی جو آخری ہو گی اس وقت نامہ اعمال اڑائے جائیں گے، کسی کے دائیں ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔“ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2425،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی یہی روایت ابن جریر میں مروی ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بھی اس جیسی روایت مرسل مروی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 15){ فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ:” الْوَاقِعَةُ “} واقع ہونے والی۔ یعنی قیامت کے منکروں کا دنیا میں انجام ذکر کرنے کے بعد اب اس کے واقع ہونے کی کیفیت بیان ہوتی ہے کہ صور میں اچانک ایک پھونک ماری جائے گی، اس کے ساتھ ہی زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی بار ٹکرا کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا اور تمام زندہ لوگ مر کر گر جائیں گے۔ یہ واقعہ یک لخت ہو گا، اس کے وقت کا کسی کو بھی علم نہیں، حتیٰ کہ صور میں پھونکنے والے کو بھی نہیں۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ وَاسْتَمَعَ الْأُذُنَ مَتٰی يُؤْمَرُ بِالنَّفْخِ فَيَنْفُخُ ] [ ترمذي، صفۃ القیامۃ والرقائق، باب ماجاء في شأن الصور: ۲۴۳۱، و صححہ الألباني، أنظر صحیح الجامع الصغیر: ۴۵۹۲] ”میں کیسے خوش حال ہو کر رہوں جب کہ صور والا (فرشتہ) صور منہ میں لیے ہوئے اور کان لگائے ہوئے ہے (اور پیشانی جھکا کر انتظار کر رہا ہے) کہ اسے صور میں پھونکنے کا حکم کب ہوتا ہے، تو وہ (صور میں) پھونکے۔“
اُس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑ جائے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن بالکل بودا ہوجائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور آسمان پھٹ جائے گا تو اس دن اس کا پتلا حال ہوگا
علامہ محمد حسین نجفی
اور آسمان پھٹ جائے گا اور وہ اس دن بالکل کمزور ہو جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور آسمان پھٹ جائے گا، پس وہ اس دن کمزور ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آواز کا بم صور اسرافیل ٭٭
قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہو گا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر «نفخه» پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہو جائے گی مگر جسے اللہ چاہے۔ پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہو جائے گی یہاں اسی پہلے «نفخه» کا بیان ہے۔ یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا «نفخه» ایک ہی ہے اس لیے کہ جب اللہ کا حکم ہو گیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہو سکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آخری «نفخه» ہے لیکن ظاہر قول وہی ہے جو ہم نے کہا۔ اسی لیے یہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ ’ زمین و آسمان اٹھا لیے جائیں گے اور کھال کی طرح پھیلا دیئے جائیں گے اور زمین بدل دی جائے گی اور قیامت واقع ہو جائے گی۔ ‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان ہر کھلنے کی جگہ سے پھٹ جائے گا، جیسے سورۃ نبا میں ہے «وَّفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا» ۱؎ [78-النبأ:19] یعنی ’ آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے کھول دیے جائیں گے۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آسمان میں سوراخ اور غاریں پڑ جائیں گی اور شق ہو جائے گی عرش اس کے سامنے ہو گا فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جو کنارے اب تک ٹوٹے نہ ہوں گے اور دوازوں پر ہوں گے آسمان کی لمبائی میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور زمین والوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔
اللہ کا عرش اٹھانے والے فرشتے ٭٭
پھر فرمایا ’ قیامت والے دن آٹھ فرشتے اللہ تعالیٰ کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ ‘ پس یا تو مراد عرش عظیم کا اٹھانا ہے یا اس عرش کا اٹھانا مراد ہے جس پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ایک سو سال کا راستہ ہے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں تمہیں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کی نسبت خبر دوں کہ اس کی گردن اور کان کے نیچے کے لَو کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اڑنے والا پرندہ سات سو سال تک اڑتا چلا جائے۔ } اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں، اسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4727،قال الشيخ الألباني:حسن] سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہ مروی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اعلیٰ فرشتوں کے آٹھ حصے ہیں جن میں سے ہر ایک حصہ کی گنتی تمام انسانوں جنوں اور سب فرشتوں کے برابر ہے۔“ پھر فرمایا: ’ قیامت کے روز تم اس اللہ کے سامنے کئے جاؤ گے جو پوشیدہ کو اور ظاہر کو بخوبی جانتا ہے جس طرح کھلی سے کھلی چیز کا وہ عالم ہے اس طرح چھپی سے چھپی چیز کو بھی وہ جانتا ہے، اسی لیے فرمایا تمہارا کوئی بھید اس روز چھپ نہ سکے گا۔ ‘ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”لوگو اپنی جانوں کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا آپ اندازہ کر لو اس سے پہلے کہ ان اعمال کا وزن کیا جائے تاکہ کل قیامت والے دن تم پر آسانی ہو جس دن کو تمہارا پورا پورا حساب لیا جائے گا اور بڑی پیشی میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے تم پیش کر دیئے جاؤ گے۔“ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے پہلی اور دوسری بار تو عذر، معذرت اور جھگڑا بحث کرتے رہیں گے لیکن تیسری پیشی جو آخری ہو گی اس وقت نامہ اعمال اڑائے جائیں گے، کسی کے دائیں ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔“ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2425،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی یہی روایت ابن جریر میں مروی ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بھی اس جیسی روایت مرسل مروی ہے۔
16۔ 1 یعنی اس میں کوئی قوت اور استحکام نہیں رہے گا جو چیز پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے۔ اس میں استحکام کس طرح رہ سکتا ہے۔
(آیت 17،16) ➊ {وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ …:” وَاهِيَةٌ “ ”وَهٰي يَهِيْ وَهْيًا‘} ‘ (ض، س، ف) (کمزور ہونا، بودا ہونا) سے اسم فاعل ہے۔ دوسرے نفخہ کے ساتھ یہ مضبوط آسمان جس میں لاکھوں کروڑوں سال سے ایک شگاف بھی نہیں پڑا، بالکل کمزور ہو کر پھٹ جائے گا اور فرشتے اس کے کناروں پر چلے جائیں گے۔ اس دن آٹھ فرشتے عرش الٰہی کو اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ اور فرشتے صف در صف زمین پر تشریف لائیں گے۔ ادھر ایک طرف جہنم لائی جائے گی (دیکھیے فجر: ۲۱تا۲۳)، دوسری طرف جنت قریب لائی جائے گی۔ (دیکھیے شعراء: 91،90) اس وقت سب لوگ اپنے اعمال کی جزا و سزا کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جائیں گے، کسی شخص کا کوئی عمل چھپا نہیں رہ سکے گا۔ ➋ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے عرش کے وجود کی زبردست دلیل ہے۔ جو لوگ عرشِ الٰہی کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے مراد صرف حکومت ہے، قیامت کے دن آٹھ فرشتوں کا عرشِ الٰہی کو اٹھائے ہوئے ہونا ان کی تردید کرتا ہے۔ یہ حضرات نہ عرش کے وجود کے قائل ہیں، نہ اللہ تعالیٰ کا عرش پر ہونا مانتے ہیں، نہ اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن زمین پر آنا مانتے ہیں اور نہ اس کا اوپر کی جانب ہونا مانتے ہیں، حالانکہ یہ سب کچھ قرآن مجید میں واضح الفاظ میں موجود ہے۔ ایک بزرگ جنھوں نے ہر جگہ عرشِ الٰہی کی تاویل حکومت و فرماں روائی سے کی ہے، اس مقام پر آٹھ فرشتوں کے عرشِ الٰہی کو اٹھانے کے صریح الفاظ کی کوئی تاویل نہیں کر سکے تو انھوں نے اسے آیاتِ {متشابهات} میں سے قرار دے کر تسلیم کیاہے کہ ”ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کیا چیز ہے اور نہ سمجھ سکتے ہیں کہ قیامت کے روز آٹھ فرشتوں کے اس کو اٹھانے کی کیفیت کیا ہو گی۔“ کیا ہی بہتر ہوتا کہ اسی طرح وہ اللہ کے عرش کے اوپر ہونے کو بھی مانتے اور اس کے زمین پر آنے کو بھی مانتے اور اس کی کیفیت اللہ کے سپرد کر دیتے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر کس طرح ہے اور وہ زمین پر کس طرح اترے گا، کیونکہ قرآن و حدیث کی نصوص اور سلف صالحین کا یہی طریقہ ہے۔ مزید دیکھیے سور ۂ فجر (۲۲) کی تفسیر۔ تفسیر ماجدی میں ہے: ”یہ کہنا کہ فرشتوں کا حامل عرش ہونا حق تعالیٰ کی شانِ قیومیت کے منافی ہے، محض اپنی سطحیت کا اظہار کرنا ہے، اگر قیومیت کے یہ معنی لے لیے جائیں تو ایک اس مسئلہ پر کیا موقوف ہے، ملائکہ کو واسطہ بنا کر ان سے کام لیتے رہنے کا سارا نظام ہی باطل ہو جاتا ہے۔“
فرشتے اس کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اُس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے، اور تیرے پروردگار کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے اور اس دن تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور آپ(ص) کے پرورگار کے عرش کو اس دن آٹھ (فرشتے) اٹھائے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور تیرے رب کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آواز کا بم صور اسرافیل ٭٭
قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہو گا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر «نفخه» پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہو جائے گی مگر جسے اللہ چاہے۔ پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہو جائے گی یہاں اسی پہلے «نفخه» کا بیان ہے۔ یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا «نفخه» ایک ہی ہے اس لیے کہ جب اللہ کا حکم ہو گیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہو سکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آخری «نفخه» ہے لیکن ظاہر قول وہی ہے جو ہم نے کہا۔ اسی لیے یہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ ’ زمین و آسمان اٹھا لیے جائیں گے اور کھال کی طرح پھیلا دیئے جائیں گے اور زمین بدل دی جائے گی اور قیامت واقع ہو جائے گی۔ ‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان ہر کھلنے کی جگہ سے پھٹ جائے گا، جیسے سورۃ نبا میں ہے «وَّفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا» ۱؎ [78-النبأ:19] یعنی ’ آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے کھول دیے جائیں گے۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آسمان میں سوراخ اور غاریں پڑ جائیں گی اور شق ہو جائے گی عرش اس کے سامنے ہو گا فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جو کنارے اب تک ٹوٹے نہ ہوں گے اور دوازوں پر ہوں گے آسمان کی لمبائی میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور زمین والوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔
اللہ کا عرش اٹھانے والے فرشتے ٭٭
پھر فرمایا ’ قیامت والے دن آٹھ فرشتے اللہ تعالیٰ کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ ‘ پس یا تو مراد عرش عظیم کا اٹھانا ہے یا اس عرش کا اٹھانا مراد ہے جس پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ایک سو سال کا راستہ ہے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں تمہیں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کی نسبت خبر دوں کہ اس کی گردن اور کان کے نیچے کے لَو کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اڑنے والا پرندہ سات سو سال تک اڑتا چلا جائے۔ } اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں، اسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4727،قال الشيخ الألباني:حسن] سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہ مروی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اعلیٰ فرشتوں کے آٹھ حصے ہیں جن میں سے ہر ایک حصہ کی گنتی تمام انسانوں جنوں اور سب فرشتوں کے برابر ہے۔“ پھر فرمایا: ’ قیامت کے روز تم اس اللہ کے سامنے کئے جاؤ گے جو پوشیدہ کو اور ظاہر کو بخوبی جانتا ہے جس طرح کھلی سے کھلی چیز کا وہ عالم ہے اس طرح چھپی سے چھپی چیز کو بھی وہ جانتا ہے، اسی لیے فرمایا تمہارا کوئی بھید اس روز چھپ نہ سکے گا۔ ‘ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”لوگو اپنی جانوں کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا آپ اندازہ کر لو اس سے پہلے کہ ان اعمال کا وزن کیا جائے تاکہ کل قیامت والے دن تم پر آسانی ہو جس دن کو تمہارا پورا پورا حساب لیا جائے گا اور بڑی پیشی میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے تم پیش کر دیئے جاؤ گے۔“ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے پہلی اور دوسری بار تو عذر، معذرت اور جھگڑا بحث کرتے رہیں گے لیکن تیسری پیشی جو آخری ہو گی اس وقت نامہ اعمال اڑائے جائیں گے، کسی کے دائیں ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔“ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2425،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی یہی روایت ابن جریر میں مروی ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بھی اس جیسی روایت مرسل مروی ہے۔
17۔ 1 یعنی آسمان تو ٹکرے ٹکرے ہوجائے گا پھر فرشتے کہاں ہونگے فرمایا کہ وہ آسمان کے کناروں پر ہوں گے اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرشتے آسمان پھٹنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم سے زمین پر آجائیں گے۔ یعنی اب مخصوص فرشتوں نے عرش الٰہی کو اپنے سروں پر اٹھایا ہوا ہوگا، یہ بھی ممکن ہے اس عرش سے مراد وہ عرش ہو جو فیصلوں کے لئے زمین پر رکھا جائے گا، جس پر اللہ تعالیٰ نزول اجلال فرمائے گا (ابن کثیر)
وہ دن ہوگا جب تم لوگ پیش کیے جاؤ گے، تمہارا کوئی راز بھی چھپا نہ رہ جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن تم سب سامنے پیش کیے جاؤ گے، تمہارا کوئی بھید پوشیده نہ رہے گا
احمد رضا خان بریلوی
اس دن تم سب پیش ہو گے کہ تم میں کوئی چھپنے والی جان چھپ نہ سکے گی،
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن تم (اپنے پروردگار کی بارگاہ میں) پیش کئے جاؤ گے اور تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہ رہے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اس دن تم پیش کیے جاؤ گے، تمھاری کوئی چھپی ہوئی بات چھپی نہیں رہے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آواز کا بم صور اسرافیل ٭٭
قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہو گا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر «نفخه» پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہو جائے گی مگر جسے اللہ چاہے۔ پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہو جائے گی یہاں اسی پہلے «نفخه» کا بیان ہے۔ یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا «نفخه» ایک ہی ہے اس لیے کہ جب اللہ کا حکم ہو گیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہو سکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آخری «نفخه» ہے لیکن ظاہر قول وہی ہے جو ہم نے کہا۔ اسی لیے یہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ ’ زمین و آسمان اٹھا لیے جائیں گے اور کھال کی طرح پھیلا دیئے جائیں گے اور زمین بدل دی جائے گی اور قیامت واقع ہو جائے گی۔ ‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان ہر کھلنے کی جگہ سے پھٹ جائے گا، جیسے سورۃ نبا میں ہے «وَّفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا» ۱؎ [78-النبأ:19] یعنی ’ آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے کھول دیے جائیں گے۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آسمان میں سوراخ اور غاریں پڑ جائیں گی اور شق ہو جائے گی عرش اس کے سامنے ہو گا فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جو کنارے اب تک ٹوٹے نہ ہوں گے اور دوازوں پر ہوں گے آسمان کی لمبائی میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور زمین والوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔
اللہ کا عرش اٹھانے والے فرشتے ٭٭
پھر فرمایا ’ قیامت والے دن آٹھ فرشتے اللہ تعالیٰ کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ ‘ پس یا تو مراد عرش عظیم کا اٹھانا ہے یا اس عرش کا اٹھانا مراد ہے جس پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں کے لیے ہو گا۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ایک سو سال کا راستہ ہے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں تمہیں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کی نسبت خبر دوں کہ اس کی گردن اور کان کے نیچے کے لَو کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اڑنے والا پرندہ سات سو سال تک اڑتا چلا جائے۔ } اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں، اسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4727،قال الشيخ الألباني:حسن] سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہ مروی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اعلیٰ فرشتوں کے آٹھ حصے ہیں جن میں سے ہر ایک حصہ کی گنتی تمام انسانوں جنوں اور سب فرشتوں کے برابر ہے۔“ پھر فرمایا: ’ قیامت کے روز تم اس اللہ کے سامنے کئے جاؤ گے جو پوشیدہ کو اور ظاہر کو بخوبی جانتا ہے جس طرح کھلی سے کھلی چیز کا وہ عالم ہے اس طرح چھپی سے چھپی چیز کو بھی وہ جانتا ہے، اسی لیے فرمایا تمہارا کوئی بھید اس روز چھپ نہ سکے گا۔ ‘ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”لوگو اپنی جانوں کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا آپ اندازہ کر لو اس سے پہلے کہ ان اعمال کا وزن کیا جائے تاکہ کل قیامت والے دن تم پر آسانی ہو جس دن کو تمہارا پورا پورا حساب لیا جائے گا اور بڑی پیشی میں خود اللہ جل شانہ کے سامنے تم پیش کر دیئے جاؤ گے۔“ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے پہلی اور دوسری بار تو عذر، معذرت اور جھگڑا بحث کرتے رہیں گے لیکن تیسری پیشی جو آخری ہو گی اس وقت نامہ اعمال اڑائے جائیں گے، کسی کے دائیں ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں۔“ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2425،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی یہی روایت ابن جریر میں مروی ہے اور قتادہ رحمہ اللہ سے بھی اس جیسی روایت مرسل مروی ہے۔
18۔ 1 یہ پیشی اس لیے نہیں ہوگی کہ جن کو اللہ نہیں جانتا ان کو جان لے گا وہ تو سب کو ہی جانتا ہے یہ پیشی خود انسانوں پر حجت قائم کرنے کے لیے ہوگی ورنہ اللہ سے تو کسی کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
اُس وقت جس کا نامہ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا "لو دیکھو، پڑھو میرا نامہ اعمال
مولانا محمد جوناگڑھی
سو جسے اس کا نامہٴ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وه کہنے لگے گا کہ لو میرا نامہٴ اعمال پڑھو
احمد رضا خان بریلوی
تو وہ جو اپنا نامہٴ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے گا کہے گا لو میرے نامہٴ اعمال پڑھو،
علامہ محمد حسین نجفی
پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا آؤ پڑھو میرانامۂ اعمال۔
عبدالسلام بن محمد
سو جسے اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا لو پکڑو، میرا اعمال نامہ پڑھو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بے حد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لیے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہو گئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں۔ پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ھَا» کے بعد لفظ «ؤُمُ» زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ «هَاؤُمُ» معنی میں «ھَاکُمْ» کے ہے۔ ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چپکے سے حجاب میں مومن کو اس کا نامہ اعمال دیا جاتا ہے جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں یہ اسے پڑھتا ہے اور ہر ایک گناہ پر اس کے ہوش اڑ اڑ جاتے ہیں چہرے کی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے اتنے میں اب اس کی نگاہ اپنی نیکیوں پر پڑتی ہے جب انہیں پڑھنے لگتا ہے تب ذرا چین پڑتا ہے ہوش و حواس درست ہوتے ہیں اور چہرہ کھل جاتا ہے پھر نظریں جما کر پڑھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی برائیاں بھی بھلائیوں سے بدل دی گئی ہیں ہر برائی کی جگہ بھلائی لکھی ہوئی ہے۔ اب تو اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور خوشی خوشی نکل کھڑا ہوتا ہے اور جو ملتا ہے اس سے کہتا ہے ذرا میرا نامہ اعمال تو پڑھنا۔ عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ جنہیں فرشتوں نے ان کی شہادت کے بعد غسل دیا تھا ان کے لڑکے عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو قیامت والے دن اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس کی برائیاں اس کے نامہ اعمال کی پشت پر لکھی ہوئی ہوں گی جو اس پر ظاہر کی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ ’ بتا کیا تو نے یہ اعمال کئے ہیں؟ ‘ وہ اقرار کرے گا کہ ہاں بیشک اللہ یہ برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ دیکھ میں نے دنیا میں بھی تجھے رسوا نہیں کیا، نہ فضیحت کیا، اب یہاں بھی میں تجھ سے درگزر کرتا ہوں اور تیرے تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں۔ ‘ جب یہ اس سے فارغ ہو گا تب اپنا نامہ اعمال لے کر خوشی سے ایک ایک کو دکھاتا پھرے گا۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی صحیح حدیث پہلے بیان ہو چکی ہے جس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے کو اپنے پاس بلائے گا اور اس سے اس کے گناہوں کی بابت پوچھے گا کہ فلاں گناہ کیا ہے؟ فلاں گناہ کیا؟ یہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ اب ہلاک ہوا اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا ’ اے میرے بندے دنیا میں میں نے تیری ان برائیوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اب آج تجھے کیا رسوا کروں جا میں نے تجھے بخشا ‘، پھر اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے جس میں صرف نیکیاں ہی نیکیاں ہوتی ہیں لیکن کافروں اور منافقوں کے بارے میں تو گواہ پکار اٹھتے ہیں کہ «هَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّـهِ عَلَى الظَّالِمِينَ» ۱؎ [11-ھود:18] ’ یہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کے بارے میں جھوٹ کہا ‘ لوگو سنو! ان ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:2441] ۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ داہنے ہاتھ کے نامہ اعمال والا کہتا ہے کہ مجھے تو دنیا میں ہی یقین کامل تھا کہ یہ حساب کا دن قطعاً آنے والا ہے ‘، جیسے اور جگہ فرمایا «الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ» ۱؎ [2-البقرۃ:46] یعنی ’ انہیں یقین تھا کہ یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘۔ فرمایا ’ ان کی جزا یہ ہے کہ یہ پسندیدہ اور دل خوش کن زندگی پائیں گے اور بلند و بالا بہشت میں رہیں گے، جس کے محلات اونچے اونچے ہوں گے جن میں حوریں قبول صورت اور نیک سیرت ہوں گی جو گھر نعمتوں کے بھرپور خزانے ہوں گے اور یہ تمام نعمتیں نہ ٹلنے والی، نہ ختم ہونے والی بلکہ کمی سے بھی محفوظ ہوں گی ‘۔ { ایک شیخ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ! کیا اونچے نیچے مرتبے والے جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بلند مرتبہ لوگ کم مرتبہ لوگوں کے پاس ملاقات کے لیے اتر آئیں گے اور خوب محبت و اخلاص سے سلام مصافحے اور آؤ بھگت ہو گی ہاں البتہ نیچے والے بہ سبب اپنے اعمال کی کمی کے اوپر نہ چڑھیں گے“ }۔ ۱؎ [المیزان:3298:ضعیف] ۔ ایک اور صحیح حدیث میں ہے { جنت میں ایک سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2790] پھر فرماتا ہے ’ اس کے پھل نیچے نیچے ہوں گے ‘، براء بن عازب وغیرہ فرماتے ہیں ”اس قدر جھکے ہوئے ہوں گے کہ جنتی اپنے چھپر کھٹ پر لیٹے ہی لیٹے ان میوؤں کو توڑ لیا کریں گے۔“ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر جنتی کو اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا پروانہ ملے گا جس میں لکھا ہوا ہو گا «بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَن الرَّحِيم هَذَا كِتَاب مِنْ اللَّه لِفُلَانِ بْن فُلَان أَدْخِلُوهُ جَنَّة عَالِيَة قُطُوفهَا دَانِيَة» یعنی اللہ رحمن و رحیم کے نام سے شروع یہ پروانہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں شخص کے لیے جو فلاں کا بیٹا ہے اسے بلند و بالا جھکی ہوئی شاخوں اور لدے پھندے ہوئے خوشوں والی خوشگوار جنت میں جانے دو“ }۔ [طبرانی کبیر:6191:ضعیف]
بعض روایتوں میں ہے یہ پروانہ پل صراط پر حوالے کر دیا جائے گا۔ ۱؎ [العلل المتناهیه لا ابن جوزی:1548:ضعیف] پھر فرمایا ’ انہیں بطور احسان اور مزید لطف و کرم کے زبانی بھی کھانے پینے کی رخصت مرحمت ہو گی اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہے ‘۔ اعمال کا بدلہ کہنا صرف بطور لطف کے ہے ورنہ صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عمل کرتے جاؤ سیدھے اور قریب قریب رہو اور جان رکھو کہ صرف اعمال جنت میں لے جانے کے لیے کافی نہیں۔“، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے اعمال بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ میرے، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت شامل حال ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6467]
19۔ 1 یعنی جو اس کی سعادت، نجات اور کامیابی کی دلیل ہوگا۔ یعنی وہ مارے خوشی کے ہر ایک کو کہے گا کہ لو، میرا اعمال نامہ پڑھ لو میرا اعمال نامہ تو مجھے مل گیا، اس لئے کہ اسے پتہ ہوگا کہ اس میں اس کی نیکیاں ہی نیکیاں ہوں گی، کچھ برائیاں ہونگی تو اللہ نے معاف فرما دی ہونگی۔
(آیت 19) {فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ …: ” هَآؤُمُ “} اسم فعل ہے، ابن عطیہ نے فرمایا: ”اس کا معنی ہے، آؤ!“ زمخشری نے فرمایا: {” هَآؤُمُ “} ایک آواز ہے جس سے {”خُذْ“} یعنی ”لو پکڑو“ کا مفہوم سمجھا جاتاہے۔“ (التسہیل) {” كِتَابِيَهْ “} اصل میں {”كِتَابِيْ“} ہے، اس میں {”ہْ“} وقف کے لیے ہے، ضمیر نہیں ہے، جیسے {” مَاهِيَهْ “} میں ہے۔ (دیکھیے قارعہ: ۱۰) {” حِسَابِيَهْ “، ” مَالِيَهْ “} اور {” سُلْطٰنِيَهْ “} میں بھی ایسے ہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا وہ اتنا خوش ہو گا کہ دوسروں کو بلا بلا کر دکھاتا پھرے گا، جیسے دنیا میں بھی انسان کوئی بڑی خوشی ملنے پر پکار پکار کر دوسروں کو اس میں شریک کرتا ہے۔
میں سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
مجھے تو کامل یقین تھا کہ مجھے اپنا حساب ملنا ہے
احمد رضا خان بریلوی
مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو پہنچوں گا
علامہ محمد حسین نجفی
میں سمجھتا تھا کہ میں اپنے حساب کتاب سے دو چار ہو نے والا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا میں نے سمجھ لیا تھا کہ میں اپنے حساب سے ملنے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بے حد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لیے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہو گئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں۔ پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ھَا» کے بعد لفظ «ؤُمُ» زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ «هَاؤُمُ» معنی میں «ھَاکُمْ» کے ہے۔ ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چپکے سے حجاب میں مومن کو اس کا نامہ اعمال دیا جاتا ہے جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں یہ اسے پڑھتا ہے اور ہر ایک گناہ پر اس کے ہوش اڑ اڑ جاتے ہیں چہرے کی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے اتنے میں اب اس کی نگاہ اپنی نیکیوں پر پڑتی ہے جب انہیں پڑھنے لگتا ہے تب ذرا چین پڑتا ہے ہوش و حواس درست ہوتے ہیں اور چہرہ کھل جاتا ہے پھر نظریں جما کر پڑھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی برائیاں بھی بھلائیوں سے بدل دی گئی ہیں ہر برائی کی جگہ بھلائی لکھی ہوئی ہے۔ اب تو اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور خوشی خوشی نکل کھڑا ہوتا ہے اور جو ملتا ہے اس سے کہتا ہے ذرا میرا نامہ اعمال تو پڑھنا۔ عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ جنہیں فرشتوں نے ان کی شہادت کے بعد غسل دیا تھا ان کے لڑکے عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو قیامت والے دن اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس کی برائیاں اس کے نامہ اعمال کی پشت پر لکھی ہوئی ہوں گی جو اس پر ظاہر کی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ ’ بتا کیا تو نے یہ اعمال کئے ہیں؟ ‘ وہ اقرار کرے گا کہ ہاں بیشک اللہ یہ برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ دیکھ میں نے دنیا میں بھی تجھے رسوا نہیں کیا، نہ فضیحت کیا، اب یہاں بھی میں تجھ سے درگزر کرتا ہوں اور تیرے تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں۔ ‘ جب یہ اس سے فارغ ہو گا تب اپنا نامہ اعمال لے کر خوشی سے ایک ایک کو دکھاتا پھرے گا۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی صحیح حدیث پہلے بیان ہو چکی ہے جس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے کو اپنے پاس بلائے گا اور اس سے اس کے گناہوں کی بابت پوچھے گا کہ فلاں گناہ کیا ہے؟ فلاں گناہ کیا؟ یہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ اب ہلاک ہوا اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا ’ اے میرے بندے دنیا میں میں نے تیری ان برائیوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اب آج تجھے کیا رسوا کروں جا میں نے تجھے بخشا ‘، پھر اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے جس میں صرف نیکیاں ہی نیکیاں ہوتی ہیں لیکن کافروں اور منافقوں کے بارے میں تو گواہ پکار اٹھتے ہیں کہ «هَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّـهِ عَلَى الظَّالِمِينَ» ۱؎ [11-ھود:18] ’ یہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کے بارے میں جھوٹ کہا ‘ لوگو سنو! ان ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:2441] ۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ داہنے ہاتھ کے نامہ اعمال والا کہتا ہے کہ مجھے تو دنیا میں ہی یقین کامل تھا کہ یہ حساب کا دن قطعاً آنے والا ہے ‘، جیسے اور جگہ فرمایا «الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ» ۱؎ [2-البقرۃ:46] یعنی ’ انہیں یقین تھا کہ یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘۔ فرمایا ’ ان کی جزا یہ ہے کہ یہ پسندیدہ اور دل خوش کن زندگی پائیں گے اور بلند و بالا بہشت میں رہیں گے، جس کے محلات اونچے اونچے ہوں گے جن میں حوریں قبول صورت اور نیک سیرت ہوں گی جو گھر نعمتوں کے بھرپور خزانے ہوں گے اور یہ تمام نعمتیں نہ ٹلنے والی، نہ ختم ہونے والی بلکہ کمی سے بھی محفوظ ہوں گی ‘۔ { ایک شیخ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ! کیا اونچے نیچے مرتبے والے جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بلند مرتبہ لوگ کم مرتبہ لوگوں کے پاس ملاقات کے لیے اتر آئیں گے اور خوب محبت و اخلاص سے سلام مصافحے اور آؤ بھگت ہو گی ہاں البتہ نیچے والے بہ سبب اپنے اعمال کی کمی کے اوپر نہ چڑھیں گے“ }۔ ۱؎ [المیزان:3298:ضعیف] ۔ ایک اور صحیح حدیث میں ہے { جنت میں ایک سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2790] پھر فرماتا ہے ’ اس کے پھل نیچے نیچے ہوں گے ‘، براء بن عازب وغیرہ فرماتے ہیں ”اس قدر جھکے ہوئے ہوں گے کہ جنتی اپنے چھپر کھٹ پر لیٹے ہی لیٹے ان میوؤں کو توڑ لیا کریں گے۔“ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر جنتی کو اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا پروانہ ملے گا جس میں لکھا ہوا ہو گا «بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَن الرَّحِيم هَذَا كِتَاب مِنْ اللَّه لِفُلَانِ بْن فُلَان أَدْخِلُوهُ جَنَّة عَالِيَة قُطُوفهَا دَانِيَة» یعنی اللہ رحمن و رحیم کے نام سے شروع یہ پروانہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں شخص کے لیے جو فلاں کا بیٹا ہے اسے بلند و بالا جھکی ہوئی شاخوں اور لدے پھندے ہوئے خوشوں والی خوشگوار جنت میں جانے دو“ }۔ [طبرانی کبیر:6191:ضعیف]
بعض روایتوں میں ہے یہ پروانہ پل صراط پر حوالے کر دیا جائے گا۔ ۱؎ [العلل المتناهیه لا ابن جوزی:1548:ضعیف] پھر فرمایا ’ انہیں بطور احسان اور مزید لطف و کرم کے زبانی بھی کھانے پینے کی رخصت مرحمت ہو گی اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہے ‘۔ اعمال کا بدلہ کہنا صرف بطور لطف کے ہے ورنہ صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عمل کرتے جاؤ سیدھے اور قریب قریب رہو اور جان رکھو کہ صرف اعمال جنت میں لے جانے کے لیے کافی نہیں۔“، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے اعمال بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ میرے، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت شامل حال ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6467]
20۔ 1 یعنی آخرت کے حساب و کتاب پر میرا کامل یقین تھا۔
(آیت 20) {اِنِّيْ ظَنَنْتُ اَنِّيْ مُلٰقٍ حِسَابِيَهْ: ” اِنِّيْ ظَنَنْتُ “} یقینا میں نے سمجھ لیا تھا۔ ”ظن“ کا لفظ وہم، گمان اور یقین تینوں چیزوں کے لیے آتا ہے، کیونکہ یہ اصل میں علامات اور نشانیوں کے ذریعے سے حاصل ہونے والی چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نشانیاں کمزور ہوں تو وہم یا گمان تک معاملہ رہتا ہے، اگر مضبوط ہوں توغالب گمان اور علم و یقین کا معنی دیتا ہے۔ خصوصاً جب اس کے ساتھ {”إِنَّ“} بھی ہو۔ (مفردات) یہاں {” ظَنَنْتُ “} کا لفظ غالب گمان کے معنی میں ہے، جو دن بدن دلائل کے ساتھ یقین میں بدلتا جاتا ہے، اسی غالب گمان ہی کی وجہ سے انسان قیامت کے دن کے حساب سے ڈر کر اللہ کی نافرمانی سے بچتا ہے۔اگر مکمل یقین کے بغیر وہ اللہ کی نافرمانی چھوڑنے پر تیار نہ ہو تو مکمل یقین تو قیامت سامنے آنے ہی پر ہو گا اور اس وقت اس یقین کا کوئی فائدہ نہیں۔صاحب احسن التفاسیر فرماتے ہیں: ”قرآن شریف میں یقین کی جگہ ظن کا لفظ عقبیٰ کی باتوں میں اس لیے بولا گیا ہے کہ ان باتوں کا پورا یقین مرنے کے بعد ہو گا۔“ خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ وہ اپنی خوش قسمتی کی وجہ یہ بتائے گا کہ اس نے دنیا میں یہ سمجھ کر زندگی بسر کی کہ آخر ایک دن اس کا حساب ہونا ہے۔
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بے حد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لیے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہو گئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں۔ پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ھَا» کے بعد لفظ «ؤُمُ» زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ «هَاؤُمُ» معنی میں «ھَاکُمْ» کے ہے۔ ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چپکے سے حجاب میں مومن کو اس کا نامہ اعمال دیا جاتا ہے جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں یہ اسے پڑھتا ہے اور ہر ایک گناہ پر اس کے ہوش اڑ اڑ جاتے ہیں چہرے کی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے اتنے میں اب اس کی نگاہ اپنی نیکیوں پر پڑتی ہے جب انہیں پڑھنے لگتا ہے تب ذرا چین پڑتا ہے ہوش و حواس درست ہوتے ہیں اور چہرہ کھل جاتا ہے پھر نظریں جما کر پڑھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی برائیاں بھی بھلائیوں سے بدل دی گئی ہیں ہر برائی کی جگہ بھلائی لکھی ہوئی ہے۔ اب تو اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور خوشی خوشی نکل کھڑا ہوتا ہے اور جو ملتا ہے اس سے کہتا ہے ذرا میرا نامہ اعمال تو پڑھنا۔ عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ جنہیں فرشتوں نے ان کی شہادت کے بعد غسل دیا تھا ان کے لڑکے عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو قیامت والے دن اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس کی برائیاں اس کے نامہ اعمال کی پشت پر لکھی ہوئی ہوں گی جو اس پر ظاہر کی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ ’ بتا کیا تو نے یہ اعمال کئے ہیں؟ ‘ وہ اقرار کرے گا کہ ہاں بیشک اللہ یہ برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ دیکھ میں نے دنیا میں بھی تجھے رسوا نہیں کیا، نہ فضیحت کیا، اب یہاں بھی میں تجھ سے درگزر کرتا ہوں اور تیرے تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں۔ ‘ جب یہ اس سے فارغ ہو گا تب اپنا نامہ اعمال لے کر خوشی سے ایک ایک کو دکھاتا پھرے گا۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی صحیح حدیث پہلے بیان ہو چکی ہے جس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے کو اپنے پاس بلائے گا اور اس سے اس کے گناہوں کی بابت پوچھے گا کہ فلاں گناہ کیا ہے؟ فلاں گناہ کیا؟ یہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ اب ہلاک ہوا اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا ’ اے میرے بندے دنیا میں میں نے تیری ان برائیوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اب آج تجھے کیا رسوا کروں جا میں نے تجھے بخشا ‘، پھر اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے جس میں صرف نیکیاں ہی نیکیاں ہوتی ہیں لیکن کافروں اور منافقوں کے بارے میں تو گواہ پکار اٹھتے ہیں کہ «هَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّـهِ عَلَى الظَّالِمِينَ» ۱؎ [11-ھود:18] ’ یہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کے بارے میں جھوٹ کہا ‘ لوگو سنو! ان ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:2441] ۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ داہنے ہاتھ کے نامہ اعمال والا کہتا ہے کہ مجھے تو دنیا میں ہی یقین کامل تھا کہ یہ حساب کا دن قطعاً آنے والا ہے ‘، جیسے اور جگہ فرمایا «الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ» ۱؎ [2-البقرۃ:46] یعنی ’ انہیں یقین تھا کہ یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘۔ فرمایا ’ ان کی جزا یہ ہے کہ یہ پسندیدہ اور دل خوش کن زندگی پائیں گے اور بلند و بالا بہشت میں رہیں گے، جس کے محلات اونچے اونچے ہوں گے جن میں حوریں قبول صورت اور نیک سیرت ہوں گی جو گھر نعمتوں کے بھرپور خزانے ہوں گے اور یہ تمام نعمتیں نہ ٹلنے والی، نہ ختم ہونے والی بلکہ کمی سے بھی محفوظ ہوں گی ‘۔ { ایک شیخ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ! کیا اونچے نیچے مرتبے والے جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بلند مرتبہ لوگ کم مرتبہ لوگوں کے پاس ملاقات کے لیے اتر آئیں گے اور خوب محبت و اخلاص سے سلام مصافحے اور آؤ بھگت ہو گی ہاں البتہ نیچے والے بہ سبب اپنے اعمال کی کمی کے اوپر نہ چڑھیں گے“ }۔ ۱؎ [المیزان:3298:ضعیف] ۔ ایک اور صحیح حدیث میں ہے { جنت میں ایک سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2790] پھر فرماتا ہے ’ اس کے پھل نیچے نیچے ہوں گے ‘، براء بن عازب وغیرہ فرماتے ہیں ”اس قدر جھکے ہوئے ہوں گے کہ جنتی اپنے چھپر کھٹ پر لیٹے ہی لیٹے ان میوؤں کو توڑ لیا کریں گے۔“ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر جنتی کو اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا پروانہ ملے گا جس میں لکھا ہوا ہو گا «بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَن الرَّحِيم هَذَا كِتَاب مِنْ اللَّه لِفُلَانِ بْن فُلَان أَدْخِلُوهُ جَنَّة عَالِيَة قُطُوفهَا دَانِيَة» یعنی اللہ رحمن و رحیم کے نام سے شروع یہ پروانہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں شخص کے لیے جو فلاں کا بیٹا ہے اسے بلند و بالا جھکی ہوئی شاخوں اور لدے پھندے ہوئے خوشوں والی خوشگوار جنت میں جانے دو“ }۔ [طبرانی کبیر:6191:ضعیف]
بعض روایتوں میں ہے یہ پروانہ پل صراط پر حوالے کر دیا جائے گا۔ ۱؎ [العلل المتناهیه لا ابن جوزی:1548:ضعیف] پھر فرمایا ’ انہیں بطور احسان اور مزید لطف و کرم کے زبانی بھی کھانے پینے کی رخصت مرحمت ہو گی اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہے ‘۔ اعمال کا بدلہ کہنا صرف بطور لطف کے ہے ورنہ صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عمل کرتے جاؤ سیدھے اور قریب قریب رہو اور جان رکھو کہ صرف اعمال جنت میں لے جانے کے لیے کافی نہیں۔“، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے اعمال بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ میرے، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت شامل حال ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6467]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 22،21) {فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ …:} جنت میں کوئی فکر و غم ہوگا نہ مرض، نہ موت، نہ تھکاوٹ، نہ بڑھاپا، نہ کوئی نقص، نہ عیب اور نہ کمزوری۔ ہر نعمت جو دل چاہے گا بلکہ جو خیال کی رسائی سے بھی بلند ہے، ملے گی۔ ان تمام باتوں کو {” عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ “} کے لفظ سے ادا فرما دیا ہے۔
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بے حد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لیے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہو گئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں۔ پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ھَا» کے بعد لفظ «ؤُمُ» زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ «هَاؤُمُ» معنی میں «ھَاکُمْ» کے ہے۔ ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چپکے سے حجاب میں مومن کو اس کا نامہ اعمال دیا جاتا ہے جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں یہ اسے پڑھتا ہے اور ہر ایک گناہ پر اس کے ہوش اڑ اڑ جاتے ہیں چہرے کی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے اتنے میں اب اس کی نگاہ اپنی نیکیوں پر پڑتی ہے جب انہیں پڑھنے لگتا ہے تب ذرا چین پڑتا ہے ہوش و حواس درست ہوتے ہیں اور چہرہ کھل جاتا ہے پھر نظریں جما کر پڑھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی برائیاں بھی بھلائیوں سے بدل دی گئی ہیں ہر برائی کی جگہ بھلائی لکھی ہوئی ہے۔ اب تو اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور خوشی خوشی نکل کھڑا ہوتا ہے اور جو ملتا ہے اس سے کہتا ہے ذرا میرا نامہ اعمال تو پڑھنا۔ عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ جنہیں فرشتوں نے ان کی شہادت کے بعد غسل دیا تھا ان کے لڑکے عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو قیامت والے دن اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس کی برائیاں اس کے نامہ اعمال کی پشت پر لکھی ہوئی ہوں گی جو اس پر ظاہر کی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ ’ بتا کیا تو نے یہ اعمال کئے ہیں؟ ‘ وہ اقرار کرے گا کہ ہاں بیشک اللہ یہ برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ دیکھ میں نے دنیا میں بھی تجھے رسوا نہیں کیا، نہ فضیحت کیا، اب یہاں بھی میں تجھ سے درگزر کرتا ہوں اور تیرے تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں۔ ‘ جب یہ اس سے فارغ ہو گا تب اپنا نامہ اعمال لے کر خوشی سے ایک ایک کو دکھاتا پھرے گا۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی صحیح حدیث پہلے بیان ہو چکی ہے جس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے کو اپنے پاس بلائے گا اور اس سے اس کے گناہوں کی بابت پوچھے گا کہ فلاں گناہ کیا ہے؟ فلاں گناہ کیا؟ یہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ اب ہلاک ہوا اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا ’ اے میرے بندے دنیا میں میں نے تیری ان برائیوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اب آج تجھے کیا رسوا کروں جا میں نے تجھے بخشا ‘، پھر اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے جس میں صرف نیکیاں ہی نیکیاں ہوتی ہیں لیکن کافروں اور منافقوں کے بارے میں تو گواہ پکار اٹھتے ہیں کہ «هَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّـهِ عَلَى الظَّالِمِينَ» ۱؎ [11-ھود:18] ’ یہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کے بارے میں جھوٹ کہا ‘ لوگو سنو! ان ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:2441] ۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ داہنے ہاتھ کے نامہ اعمال والا کہتا ہے کہ مجھے تو دنیا میں ہی یقین کامل تھا کہ یہ حساب کا دن قطعاً آنے والا ہے ‘، جیسے اور جگہ فرمایا «الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ» ۱؎ [2-البقرۃ:46] یعنی ’ انہیں یقین تھا کہ یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘۔ فرمایا ’ ان کی جزا یہ ہے کہ یہ پسندیدہ اور دل خوش کن زندگی پائیں گے اور بلند و بالا بہشت میں رہیں گے، جس کے محلات اونچے اونچے ہوں گے جن میں حوریں قبول صورت اور نیک سیرت ہوں گی جو گھر نعمتوں کے بھرپور خزانے ہوں گے اور یہ تمام نعمتیں نہ ٹلنے والی، نہ ختم ہونے والی بلکہ کمی سے بھی محفوظ ہوں گی ‘۔ { ایک شیخ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ! کیا اونچے نیچے مرتبے والے جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بلند مرتبہ لوگ کم مرتبہ لوگوں کے پاس ملاقات کے لیے اتر آئیں گے اور خوب محبت و اخلاص سے سلام مصافحے اور آؤ بھگت ہو گی ہاں البتہ نیچے والے بہ سبب اپنے اعمال کی کمی کے اوپر نہ چڑھیں گے“ }۔ ۱؎ [المیزان:3298:ضعیف] ۔ ایک اور صحیح حدیث میں ہے { جنت میں ایک سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2790] پھر فرماتا ہے ’ اس کے پھل نیچے نیچے ہوں گے ‘، براء بن عازب وغیرہ فرماتے ہیں ”اس قدر جھکے ہوئے ہوں گے کہ جنتی اپنے چھپر کھٹ پر لیٹے ہی لیٹے ان میوؤں کو توڑ لیا کریں گے۔“ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر جنتی کو اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا پروانہ ملے گا جس میں لکھا ہوا ہو گا «بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَن الرَّحِيم هَذَا كِتَاب مِنْ اللَّه لِفُلَانِ بْن فُلَان أَدْخِلُوهُ جَنَّة عَالِيَة قُطُوفهَا دَانِيَة» یعنی اللہ رحمن و رحیم کے نام سے شروع یہ پروانہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں شخص کے لیے جو فلاں کا بیٹا ہے اسے بلند و بالا جھکی ہوئی شاخوں اور لدے پھندے ہوئے خوشوں والی خوشگوار جنت میں جانے دو“ }۔ [طبرانی کبیر:6191:ضعیف]
بعض روایتوں میں ہے یہ پروانہ پل صراط پر حوالے کر دیا جائے گا۔ ۱؎ [العلل المتناهیه لا ابن جوزی:1548:ضعیف] پھر فرمایا ’ انہیں بطور احسان اور مزید لطف و کرم کے زبانی بھی کھانے پینے کی رخصت مرحمت ہو گی اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہے ‘۔ اعمال کا بدلہ کہنا صرف بطور لطف کے ہے ورنہ صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عمل کرتے جاؤ سیدھے اور قریب قریب رہو اور جان رکھو کہ صرف اعمال جنت میں لے جانے کے لیے کافی نہیں۔“، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے اعمال بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ میرے، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت شامل حال ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6467]
22۔ 1 جنت میں مختلف درجات ہیں ہر درجے کے درمیان بہت فاصلہ ہے جیسے مجاہدین کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ نے مجاہدین کے تیار کیے ہیں ان کے دو درجوں کے درمیان کا فاصلہ زمین و آسمان جتنا ہے۔ (صحیح مسلم)
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بے حد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لیے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہو گئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں۔ پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ھَا» کے بعد لفظ «ؤُمُ» زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ «هَاؤُمُ» معنی میں «ھَاکُمْ» کے ہے۔ ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چپکے سے حجاب میں مومن کو اس کا نامہ اعمال دیا جاتا ہے جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں یہ اسے پڑھتا ہے اور ہر ایک گناہ پر اس کے ہوش اڑ اڑ جاتے ہیں چہرے کی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے اتنے میں اب اس کی نگاہ اپنی نیکیوں پر پڑتی ہے جب انہیں پڑھنے لگتا ہے تب ذرا چین پڑتا ہے ہوش و حواس درست ہوتے ہیں اور چہرہ کھل جاتا ہے پھر نظریں جما کر پڑھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی برائیاں بھی بھلائیوں سے بدل دی گئی ہیں ہر برائی کی جگہ بھلائی لکھی ہوئی ہے۔ اب تو اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور خوشی خوشی نکل کھڑا ہوتا ہے اور جو ملتا ہے اس سے کہتا ہے ذرا میرا نامہ اعمال تو پڑھنا۔ عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ جنہیں فرشتوں نے ان کی شہادت کے بعد غسل دیا تھا ان کے لڑکے عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو قیامت والے دن اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس کی برائیاں اس کے نامہ اعمال کی پشت پر لکھی ہوئی ہوں گی جو اس پر ظاہر کی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ ’ بتا کیا تو نے یہ اعمال کئے ہیں؟ ‘ وہ اقرار کرے گا کہ ہاں بیشک اللہ یہ برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ دیکھ میں نے دنیا میں بھی تجھے رسوا نہیں کیا، نہ فضیحت کیا، اب یہاں بھی میں تجھ سے درگزر کرتا ہوں اور تیرے تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں۔ ‘ جب یہ اس سے فارغ ہو گا تب اپنا نامہ اعمال لے کر خوشی سے ایک ایک کو دکھاتا پھرے گا۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی صحیح حدیث پہلے بیان ہو چکی ہے جس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے کو اپنے پاس بلائے گا اور اس سے اس کے گناہوں کی بابت پوچھے گا کہ فلاں گناہ کیا ہے؟ فلاں گناہ کیا؟ یہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ اب ہلاک ہوا اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا ’ اے میرے بندے دنیا میں میں نے تیری ان برائیوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اب آج تجھے کیا رسوا کروں جا میں نے تجھے بخشا ‘، پھر اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے جس میں صرف نیکیاں ہی نیکیاں ہوتی ہیں لیکن کافروں اور منافقوں کے بارے میں تو گواہ پکار اٹھتے ہیں کہ «هَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّـهِ عَلَى الظَّالِمِينَ» ۱؎ [11-ھود:18] ’ یہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کے بارے میں جھوٹ کہا ‘ لوگو سنو! ان ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:2441] ۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ داہنے ہاتھ کے نامہ اعمال والا کہتا ہے کہ مجھے تو دنیا میں ہی یقین کامل تھا کہ یہ حساب کا دن قطعاً آنے والا ہے ‘، جیسے اور جگہ فرمایا «الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ» ۱؎ [2-البقرۃ:46] یعنی ’ انہیں یقین تھا کہ یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘۔ فرمایا ’ ان کی جزا یہ ہے کہ یہ پسندیدہ اور دل خوش کن زندگی پائیں گے اور بلند و بالا بہشت میں رہیں گے، جس کے محلات اونچے اونچے ہوں گے جن میں حوریں قبول صورت اور نیک سیرت ہوں گی جو گھر نعمتوں کے بھرپور خزانے ہوں گے اور یہ تمام نعمتیں نہ ٹلنے والی، نہ ختم ہونے والی بلکہ کمی سے بھی محفوظ ہوں گی ‘۔ { ایک شیخ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ! کیا اونچے نیچے مرتبے والے جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بلند مرتبہ لوگ کم مرتبہ لوگوں کے پاس ملاقات کے لیے اتر آئیں گے اور خوب محبت و اخلاص سے سلام مصافحے اور آؤ بھگت ہو گی ہاں البتہ نیچے والے بہ سبب اپنے اعمال کی کمی کے اوپر نہ چڑھیں گے“ }۔ ۱؎ [المیزان:3298:ضعیف] ۔ ایک اور صحیح حدیث میں ہے { جنت میں ایک سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2790] پھر فرماتا ہے ’ اس کے پھل نیچے نیچے ہوں گے ‘، براء بن عازب وغیرہ فرماتے ہیں ”اس قدر جھکے ہوئے ہوں گے کہ جنتی اپنے چھپر کھٹ پر لیٹے ہی لیٹے ان میوؤں کو توڑ لیا کریں گے۔“ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر جنتی کو اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا پروانہ ملے گا جس میں لکھا ہوا ہو گا «بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَن الرَّحِيم هَذَا كِتَاب مِنْ اللَّه لِفُلَانِ بْن فُلَان أَدْخِلُوهُ جَنَّة عَالِيَة قُطُوفهَا دَانِيَة» یعنی اللہ رحمن و رحیم کے نام سے شروع یہ پروانہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں شخص کے لیے جو فلاں کا بیٹا ہے اسے بلند و بالا جھکی ہوئی شاخوں اور لدے پھندے ہوئے خوشوں والی خوشگوار جنت میں جانے دو“ }۔ [طبرانی کبیر:6191:ضعیف]
بعض روایتوں میں ہے یہ پروانہ پل صراط پر حوالے کر دیا جائے گا۔ ۱؎ [العلل المتناهیه لا ابن جوزی:1548:ضعیف] پھر فرمایا ’ انہیں بطور احسان اور مزید لطف و کرم کے زبانی بھی کھانے پینے کی رخصت مرحمت ہو گی اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہے ‘۔ اعمال کا بدلہ کہنا صرف بطور لطف کے ہے ورنہ صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عمل کرتے جاؤ سیدھے اور قریب قریب رہو اور جان رکھو کہ صرف اعمال جنت میں لے جانے کے لیے کافی نہیں۔“، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے اعمال بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ میرے، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت شامل حال ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6467]
23۔ 1 یعنی بالکل قریب ہونگے کوئی لیٹے لیٹے بھی توڑنا چاہے گا تو ممکن ہوگا۔
(آیت 23){ قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ: ”قَطَفَ يَقْطِفُ“} (ض) پھل توڑنا۔ {”قُطُوْفٌ“ ”قِطْفٌ“} (قاف کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، وہ پھل جو توڑے جائیں۔ {” دَانِيَةٌ “} قریب۔ یعنی وہ خوشے اورپھل جھکے ہوئے ہوں گے کہ آدمی کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں انھیں لے سکے گا۔
(ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاؤ اور پیو اپنے اُن اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
(ان سے کہا جائے گا) کہ مزے سے کھاؤ، پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ زمانے میں کیے
احمد رضا خان بریلوی
کھاؤ اور پیو رچتا ہوا صلہ اس کا جو تم نے گزرے دنوں میں آگے بھیجا
علامہ محمد حسین نجفی
(ان سے کہاجائے گا) کھاؤ اور پیو مزے اور خوشگواری کے ساتھ ان اعمال کے صلے میں جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کھاؤ اور پیو مزے سے، ان اعمال کی وجہ سے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں آگے بھیجے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بے حد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لیے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہو گئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں۔ پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ھَا» کے بعد لفظ «ؤُمُ» زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ «هَاؤُمُ» معنی میں «ھَاکُمْ» کے ہے۔ ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چپکے سے حجاب میں مومن کو اس کا نامہ اعمال دیا جاتا ہے جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں یہ اسے پڑھتا ہے اور ہر ایک گناہ پر اس کے ہوش اڑ اڑ جاتے ہیں چہرے کی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے اتنے میں اب اس کی نگاہ اپنی نیکیوں پر پڑتی ہے جب انہیں پڑھنے لگتا ہے تب ذرا چین پڑتا ہے ہوش و حواس درست ہوتے ہیں اور چہرہ کھل جاتا ہے پھر نظریں جما کر پڑھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی برائیاں بھی بھلائیوں سے بدل دی گئی ہیں ہر برائی کی جگہ بھلائی لکھی ہوئی ہے۔ اب تو اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور خوشی خوشی نکل کھڑا ہوتا ہے اور جو ملتا ہے اس سے کہتا ہے ذرا میرا نامہ اعمال تو پڑھنا۔ عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ جنہیں فرشتوں نے ان کی شہادت کے بعد غسل دیا تھا ان کے لڑکے عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو قیامت والے دن اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس کی برائیاں اس کے نامہ اعمال کی پشت پر لکھی ہوئی ہوں گی جو اس پر ظاہر کی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ ’ بتا کیا تو نے یہ اعمال کئے ہیں؟ ‘ وہ اقرار کرے گا کہ ہاں بیشک اللہ یہ برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ دیکھ میں نے دنیا میں بھی تجھے رسوا نہیں کیا، نہ فضیحت کیا، اب یہاں بھی میں تجھ سے درگزر کرتا ہوں اور تیرے تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں۔ ‘ جب یہ اس سے فارغ ہو گا تب اپنا نامہ اعمال لے کر خوشی سے ایک ایک کو دکھاتا پھرے گا۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی صحیح حدیث پہلے بیان ہو چکی ہے جس میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے کو اپنے پاس بلائے گا اور اس سے اس کے گناہوں کی بابت پوچھے گا کہ فلاں گناہ کیا ہے؟ فلاں گناہ کیا؟ یہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ اب ہلاک ہوا اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا ’ اے میرے بندے دنیا میں میں نے تیری ان برائیوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اب آج تجھے کیا رسوا کروں جا میں نے تجھے بخشا ‘، پھر اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے جس میں صرف نیکیاں ہی نیکیاں ہوتی ہیں لیکن کافروں اور منافقوں کے بارے میں تو گواہ پکار اٹھتے ہیں کہ «هَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّـهِ عَلَى الظَّالِمِينَ» ۱؎ [11-ھود:18] ’ یہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کے بارے میں جھوٹ کہا ‘ لوگو سنو! ان ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:2441] ۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ داہنے ہاتھ کے نامہ اعمال والا کہتا ہے کہ مجھے تو دنیا میں ہی یقین کامل تھا کہ یہ حساب کا دن قطعاً آنے والا ہے ‘، جیسے اور جگہ فرمایا «الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ» ۱؎ [2-البقرۃ:46] یعنی ’ انہیں یقین تھا کہ یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘۔ فرمایا ’ ان کی جزا یہ ہے کہ یہ پسندیدہ اور دل خوش کن زندگی پائیں گے اور بلند و بالا بہشت میں رہیں گے، جس کے محلات اونچے اونچے ہوں گے جن میں حوریں قبول صورت اور نیک سیرت ہوں گی جو گھر نعمتوں کے بھرپور خزانے ہوں گے اور یہ تمام نعمتیں نہ ٹلنے والی، نہ ختم ہونے والی بلکہ کمی سے بھی محفوظ ہوں گی ‘۔ { ایک شیخ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ! کیا اونچے نیچے مرتبے والے جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بلند مرتبہ لوگ کم مرتبہ لوگوں کے پاس ملاقات کے لیے اتر آئیں گے اور خوب محبت و اخلاص سے سلام مصافحے اور آؤ بھگت ہو گی ہاں البتہ نیچے والے بہ سبب اپنے اعمال کی کمی کے اوپر نہ چڑھیں گے“ }۔ ۱؎ [المیزان:3298:ضعیف] ۔ ایک اور صحیح حدیث میں ہے { جنت میں ایک سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2790] پھر فرماتا ہے ’ اس کے پھل نیچے نیچے ہوں گے ‘، براء بن عازب وغیرہ فرماتے ہیں ”اس قدر جھکے ہوئے ہوں گے کہ جنتی اپنے چھپر کھٹ پر لیٹے ہی لیٹے ان میوؤں کو توڑ لیا کریں گے۔“ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر جنتی کو اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا پروانہ ملے گا جس میں لکھا ہوا ہو گا «بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَن الرَّحِيم هَذَا كِتَاب مِنْ اللَّه لِفُلَانِ بْن فُلَان أَدْخِلُوهُ جَنَّة عَالِيَة قُطُوفهَا دَانِيَة» یعنی اللہ رحمن و رحیم کے نام سے شروع یہ پروانہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں شخص کے لیے جو فلاں کا بیٹا ہے اسے بلند و بالا جھکی ہوئی شاخوں اور لدے پھندے ہوئے خوشوں والی خوشگوار جنت میں جانے دو“ }۔ [طبرانی کبیر:6191:ضعیف]
بعض روایتوں میں ہے یہ پروانہ پل صراط پر حوالے کر دیا جائے گا۔ ۱؎ [العلل المتناهیه لا ابن جوزی:1548:ضعیف] پھر فرمایا ’ انہیں بطور احسان اور مزید لطف و کرم کے زبانی بھی کھانے پینے کی رخصت مرحمت ہو گی اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہے ‘۔ اعمال کا بدلہ کہنا صرف بطور لطف کے ہے ورنہ صحیح حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عمل کرتے جاؤ سیدھے اور قریب قریب رہو اور جان رکھو کہ صرف اعمال جنت میں لے جانے کے لیے کافی نہیں۔“، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے اعمال بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ میرے، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت شامل حال ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6467]
24۔ 1 یعنی دنیا میں اعمال صالحہ کئے، یہ جنت ان کا صلہ ہے۔
(آیت 24) {كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِيْٓـًٔۢا …: ” هَنِيْٓـًٔا “ ”هَنُؤَ يَهْنُؤُ“} (ک) سے {”فَعِيْلٌ“} کے وزن پر ہے، جس کے حاصل ہونے میں کوئی مشقت ہو نہ کھانے کے بعد معدے پر کوئی بوجھ ہو، ادھر کھایا ادھر ہضم ہوا۔ {” بِمَا اَسْلَفْتُمْ “} ان اعمال کی وجہ سے جو تم نے آگے بھیجے۔ معلوم ہوا نیک اعمال جنت میں داخل ہونے کا سبب ہیں۔
اور جس کا نامہ اعمال اُس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا "کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن جسے اس (کے اعمال) کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی، وه تو کہے گا کہ کاش کہ مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو اپنا نامہٴ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا کہے گا ہائے کسی طرح مجھے اپنا نوشتہ نہ دیا جاتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس کا نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا کہ کاش میرا نامۂ اعمال مجھے نہ دیا جاتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور لیکن جسے اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا اے کاش! مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ’ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ ‘ منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ } یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرمایا کہ ’ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ ‘ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ { نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے ‘۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
25۔ 1 کیونکہ نامہ اعمال کا بائیں ہاتھ میں ملنا بدبختی کی علامت ہوگا۔
(آیت 25تا29) {وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ …:} جن لوگوں کو بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ نہایت پریشانی میں یہ باتیں کہیں گے جو ان آیات میں ذکر ہوئی ہیں۔ یہ بائیں ہاتھ میں اعمال نامے والے لوگ کافر ہوں گے، اس کی دلیل آگے آنے والی آیت (۳۳) ہے: «اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِيْمِ» ”وہ عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔“ ایمان والوں کو دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، البتہ وہ ایمان والے جو کچھ عرصہ آگ میں رہیں گے ان کے بارے میں اختلاف ہے کہ انھیں اعمال نامہ آگ میں جانے سے پہلے ملے گا یا آگ سے نکلنے کے بعد، راجح یہی ہے کہ آگ سے نکلنے کے بعد ملے گا، کیونکہ اعمال نامہ ملنے کے بعد اگر انھیں آگ میں بھیجا جارہا ہو تو ان کے منہ سے {” هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْ “} کے خوشی کے الفاظ نہیں نکل سکتے۔(التسہیل) {”يَالَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ“} یعنی موت میرا کام تمام کر دیتی، اور مجھے دوبارہ نہ اٹھایا جاتا۔ {” مَاۤ اَغْنٰى عَنِّيْ مَالِيَهْ (28) هَلَكَ عَنِّيْ سُلْطٰنِيَهْ “} مال اور سرداری کی حرص کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا ذِئْبَانِ جََائِعَانِ أُرْسِلَا فِيْ غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَی الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهٖ ] [ترمذي، الزھد، باب ما ذئبان جائعان…: ۲۳۷۶، قال الألباني صحیح ] ”دو بھوکے بھیڑیے جو بھیڑ بکریوں میں چھوڑ دیے جائیں، وہ انھیں اس سے زیادہ تباہ و برباد نہیں کرتے جتناآدمی کی مال اور سرداری کی حرص اس کے دین کو تباہ وبرباد کرتی ہے۔“ تمام عمر انھی دو چیزوں کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں گزار دینے کے بعد اس وقت افسوس سے کہے گا کہ میرا مال میرے کسی کام نہ آیا اور میری سرداری بھی برباد ہو گئی۔ {” سُلْطٰنِيَهْ “ ”سُلْطَانٌ“} سے مراد دلیل و حجت ہو تو مطلب یہ ہے کہ میرے سارے دلائل اور حجت بازیاں، جن سے میں حق والوں کو لاجواب کرتا تھا، آج بے کار ہو گئے اور سرداری و حکومت ہو تو مطلب یہ ہے کہ آج میرا سارا اقتدار ختم ہو گیا۔ وہ جتھے اور پارٹیاں، وہ فوج اور پولیس کے دستے، وہ اہلِ خانہ، وہ نوکر چاکر جن پر میرا حکم چلتا تھا سب غائب ہو گئے۔ دوسروں پر اقتدار تو دور کی بات ہے اپنے ہی اعضا نے میری سرداری ماننے سے انکار کر دیا ہے، بلکہ میرے خلاف شہادتیں دے رہے ہیں۔ {” سُلْطٰنِيَهْ “} سے حجت و دلیل اور حکومت و سرداری دونوں بھی مراد ہو سکتے ہیں۔
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ’ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ ‘ منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ } یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرمایا کہ ’ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ ‘ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ { نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے ‘۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
26۔ 1 یعنی مجھے بتلایا ہی نہ جاتا کیونکہ سارا حساب ان کے خلاف ہوگا۔
کاش میری وہی موت (جو دنیا میں آئی تھی) فیصلہ کن ہوتی
مولانا محمد جوناگڑھی
کاش! کہ موت (میرا) کام ہی تمام کر دیتی
احمد رضا خان بریلوی
ہائے کسی طرح موت ہی قصہ چکا جاتی
علامہ محمد حسین نجفی
اے کاش وہی موت (جو مجھے آئی تھی) فیصلہ کُن ہوتی۔
عبدالسلام بن محمد
اے کاش کہ وہ ( موت) کام تمام کردینے والی ہوتی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ’ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ ‘ منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ } یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرمایا کہ ’ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ ‘ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ { نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے ‘۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
27۔ 1 یعنی موت ہی فیصلہ کن ہوتی اور دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا تاکہ یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ’ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ ‘ منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ } یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرمایا کہ ’ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ ‘ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ { نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے ‘۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ’ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ ‘ منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ } یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرمایا کہ ’ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ ‘ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ { نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے ‘۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
29۔ 1 یعنی جس طرح مال میرے کام نہ آیا، جاہ و مرتبہ اور سلطنت و حکومت بھی میرے کام نہ آئی۔ آج میں اکیلا ہی سزا بھگت رہا ہوں۔
(حکم ہو گا) پکڑو اِسے اور اِس کی گردن میں طوق ڈال دو
مولانا محمد جوناگڑھی
(حکم ہوگا) اسے پکڑ لو پھر اسے طوق پہنادو
احمد رضا خان بریلوی
اسے پکڑو پھر اسے طوق ڈالو
علامہ محمد حسین نجفی
(پھر حکم ہوگا) اسے پکڑو اور اسے طوق پہناؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اسے پکڑو، پس اسے طوق پہنادو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ’ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ ‘ منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ } یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرمایا کہ ’ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ ‘ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ { نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے ‘۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 30تا32) {خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُ …:} حکم ہو گا اسے پکڑو اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو، پھر اسے بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دو، پھر اسے ایک زنجیر میں جکڑ دو جو ستر (۷۰) ہاتھ لمبی ہے۔ جہنمیوں کو جہنم میں طوقوں اور زنجیروں سے جکڑ کر لمبے لمبے ستونوں سے باندھ دیا جائے گا تاکہ وہ حرکت نہ کر سکیں، کیونکہ حرکت سے بھی عذاب میں کچھ تخفیف ہوتی ہے، فرمایا: «اِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ (8) فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ» [ الھمزۃ: 9،8 ] ”یقینا وہ ان پر (ہر طرف سے) بند کی ہوئی ہے۔ لمبے لمبے ستونوں میں۔“ ستر ہاتھ سے مراد یہ پیمائش بھی ہوسکتی ہے اور بہت زیادہ لمبائی بھی، کیونکہ عربوں کے ہاں ستر کا عدد کثرت کے لیے بھی آتا ہے۔ پھر ہو سکتا ہے کہ یہ زنجیر ہر مجرم کے لیے الگ الگ ہو اور یہ بھی کہ ایک ہی زنجیر میں سب کو پروتے چلے جائیں۔ (التسہیل)
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ’ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ ‘ منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ } یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرمایا کہ ’ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ ‘ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ { نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے ‘۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
پھر اسے ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر ہاتھ کی ہے جکڑ دو
احمد رضا خان بریلوی
پھر ایسی زنجیر میں جس کا ناپ ستر ہاتھ ہے اسے پُرو دو
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اسے ایک ایسی زنجیر میں جس کی لمبائی ستر ہاتھ ہے جکڑ دو۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ایک زنجیر میں، جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے، پس اسے داخل کردو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ’ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ ‘ منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ } یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرمایا کہ ’ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ ‘ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ { نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے ‘۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
32۔ 1 ذراع (ہاتھ) یہ کتنا ہوگا اس کی وضاحت ممکن نہیں تاہم اس سے اتنا معلوم ہوا کہ زنجیر کی لمبائی ستر ذراع ہوگی۔
(کیونکہ) یہ بزر گ و برتر خدا پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ وہ بہت عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ’ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ ‘ منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ } یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرمایا کہ ’ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ ‘ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ { نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے ‘۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
4۔ 1 روح سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں، ان کی عظمت شان کے پیش نظر ان کا الگ خصوصی ذکر کیا گیا ہے ورنہ فرشتوں میں وہ بھی شامل ہیں۔ یا روح سے مراد انسانی روحیں ہیں جو مرنے کے بعد آسمان پر لے جاتی ہیں جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔ اس یوم کی تعریف میں بہت اختلاف ہے جیسا کہ الم سجدہ کے آغاز میں ہم بیان کر آئے ہیں۔
(آیت 34،33) {اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ …:} عذاب کا باعث یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ اس کا معاملہ یہ تھا کہ اس پر ایمان ہی نہیں رکھتا تھا، یعنی اسے مانتا ہی نہیں تھا، یا اس کے ساتھ کچھ شریک بنا رکھے تھے اور بندوں کے ساتھ معاملہ یہ تھا کہ مسکین کو خود کھلانا تو دور کی بات ہے، کسی دوسرے کو اسے کھلانے کی ترغیب بھی نہیں دیتا تھا۔ اس نے اللہ کا حق پہچانا نہ بندوں کا۔
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ’ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ ‘ منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ } یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرمایا کہ ’ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ ‘ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ { نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے ‘۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
34۔ 1 یعنی عبادت و اطاعت کے ذریعے سے اللہ کا حق ادا کرتا تھا اور نہ وہ حقوق ادا کرتا تھا جو بندوں کے بندوں پر ہیں۔ گویا اہل ایمان میں یہ جامعیت ہوتی ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔
«فلیس لہ الیوم ھھنا حمیم» : «حمیم» دوست یا رشتہ دار، جسے اس کی خاطر گریم آئے۔ «حمۃ» چشمے سے نکلنے والا گرم پانی۔ «حمیم» گرم پانی کو بھی کہتے ہیں۔
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ’ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ ‘ منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ } یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرمایا کہ ’ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ ‘ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ { نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے ‘۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 35) {فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هٰهُنَا حَمِيْمٌ:” حَمِيْمٌ “} دوست یا رشتہ دار، جسے اس کی خاطر گرمی آئے۔ {”حَمَّةٌ “} چشمے سے نکلنے والا گرم پانی۔ {” حَمِيْمٌ “} گرم پانی کو بھی کہتے ہیں۔
اور نہ زخموں کے دھوون کے سوا اِس کے لیے کوئی کھانا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور نہ سوائے پیﭗ کے اس کی کوئی غذا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور نہ کچھ کھانے کو مگر دوزخیوں کا پیپ،
علامہ محمد حسین نجفی
اور نہ ہی اس کے لئے پیپ کے سوا کوئی کھانا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ اس کے لیے زخموں کے دھوون کے سوا کوئی کھانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال ٭٭
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ’ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ ‘ منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ } یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرمایا کہ ’ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ ‘ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ { نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے ‘۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
3 6 ۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ یہ جہنم میں کوئی درخت ہے بعض کہتے ہیں کہ زقوم ہی کو غسلین کہا گیا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ جہنمیوں کی پیپ یا ان کے جسموں سے نکلنے والا خون اور بدبودار ہوگا۔ اللہ ہمیں اس سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
(آیت 36) {وَ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِيْنٍ:” غِسْلِيْنٍ “ ”غَسَلَ يَغْسِلُ“} (ض) سے {”فِعْلِيْنٌ“} کا وزن ہے، زخم یا کوئی گندی چیز دھونے سے نکلنے والا پانی۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”اس سے مراد جہنمیوں کے زخموں سے نکلنے والا لہو اور پیپ ہے۔“ [ طبري بسند حسن ]
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ’ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو۔ ‘ منہال بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر فرشتے بھی اس طرح اللہ تعالیٰ حکم کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہر چیز تجھ پر غصے میں ہے۔ فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں، پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہٰ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول کعب احبار رضی اللہ عنہ کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی۔ یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا۔ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ { اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں۔ } یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتاتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرمایا کہ ’ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھانا کھلا دینے کی رغبت دیتا تھا۔ ‘ یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ { نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5156،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے، اور نہ اس کے لیے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بے کار چیز کے جس کا نام «غِسْلِيْنٍ» ہے ‘۔ یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام «زقوم» ہو، اور «غِسْلِيْنٍ» کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ۔
37۔ 1 خاطئون سے مراد اہل جہنم ہیں جو کفر و شرک کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے اس لیے کہ یہ گناہ ایسے ہیں جو خلود فی النار کا سبب ہیں۔
(آیت 37) {لَا يَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِـُٔوْنَ: ” الْخَاطِـُٔوْنَ “ ”خَاطِیٌ“} کی جمع ہے، جو جان بوجھ کر نادرست کام کرے، جیسے فرمایا: «اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا» [ بني إسرائیل: ۳۱ ] ”بے شک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔“ اگر کسی سے قصد و ارادہ کے بغیر نادرست کام ہو جائے تو وہ {”مخطي“} ہے۔ (المفردات و التسہیل)
پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں اُن چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
پس مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو مجھے قسم ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
پس نہیں! میں قَسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
پس نہیں! میں قسم کھاتا ہوں اس کی جسے تم دیکھتے ہو!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ظاہر و باطن آیات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لیے پسند فرما لیا ہے۔ رسول اللہ سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس کی اضافت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لیے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اسی لیے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ التکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ» [81-التكوير:19-25] ، یعنی ’ یہ قول اس بزرگ رسول کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار۔ ‘، اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، اسی لیے اس کے بعد فرمایا ’ تمہارے ساتھی یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) مجنون نہیں بلکہ آپ نے جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے۔ ‘ اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ’ نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے، نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے۔ ‘ پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لیے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر امین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ ’ یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے۔ ‘ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا دیکھا کہ آپ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا آپ نے سورۃ الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ہے ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ ’ یہ قول رسول اللہ کا ہے، شاعر کا نہیں، تم میں ایمان ہی کم ہے ‘ تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی، کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ ’ یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے ‘، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی۔“ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6531] پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 39،38) {فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ …:} کفار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن، کبھی یہ کہتے کہ اس نے یہ کلام اپنے پاس سے بنا کر اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دیا ہے، کبھی کہتے کسی دوسرے آدمی نے اسے بنا کر دیا ہے، کبھی کہتے یہ پریشان خواب و خیال ہیں، کبھی آپ کو دیوانہ قرار دیتے۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۵)، صافات (۳۶)، طور (۲۹) اور سورۂ نحل (۱۰۳) ان تمام باتوں کا اللہ تعالیٰ نے الگ الگ جواب بھی دیا ہے، مگر ان آیات میں ایک ہی جگہ دلیل کے ساتھ سب باتوں کی تردید فرما دی ہے، چنانچہ فرمایا: «فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ (38) وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَ» ”پس نہیں! میں قسم کھاتا ہوں اس کی جسے تم دیکھتے ہو! اور جسے تم نہیں دیکھتے!“ قسم سے پہلے {”لاَ“} کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو وہ درست نہیں۔ قسم کا مقصد کسی بات کی تاکید ہوتا ہے اور عام طور پر قسم اس بات کے لیے دلیل اور شاہد ہوتی ہے، یہاں جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے اس میں خالق و مخلوق، ماضی، حال و مستقبل، زمین و آسمان اور دنیا و آخرت، غرض سب کچھ آجاتا ہے۔ قرآن میں مذکور قسموں میں یہ سب سے جامع قسم ہے، یعنی جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو نہیں دیکھتے، میں ان سب کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لیے پسند فرما لیا ہے۔ رسول اللہ سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس کی اضافت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لیے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اسی لیے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ التکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ» [81-التكوير:19-25] ، یعنی ’ یہ قول اس بزرگ رسول کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار۔ ‘، اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، اسی لیے اس کے بعد فرمایا ’ تمہارے ساتھی یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) مجنون نہیں بلکہ آپ نے جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے۔ ‘ اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ’ نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے، نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے۔ ‘ پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لیے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر امین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ ’ یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے۔ ‘ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا دیکھا کہ آپ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا آپ نے سورۃ الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ہے ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ ’ یہ قول رسول اللہ کا ہے، شاعر کا نہیں، تم میں ایمان ہی کم ہے ‘ تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی، کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ ’ یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے ‘، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی۔“ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6531] پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
39۔ 1 یعنی اللہ کی پیدا کردہ وہ چیزیں، جو اللہ کی ذات اور اس کی قدرت و طاقت پر دلالت کرتی ہیں، جنہیں تم دیکھتے ہو یا نہیں دیکھتے، ان سب کی قسم ہے۔ آگے جواب قسم ہے۔
بلاشبہ یہ (قرآن) یقینا ایک معزز پیغام لانے والے کا قول ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ظاہر و باطن آیات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لیے پسند فرما لیا ہے۔ رسول اللہ سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس کی اضافت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لیے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اسی لیے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ التکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ» [81-التكوير:19-25] ، یعنی ’ یہ قول اس بزرگ رسول کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار۔ ‘، اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، اسی لیے اس کے بعد فرمایا ’ تمہارے ساتھی یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) مجنون نہیں بلکہ آپ نے جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے۔ ‘ اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ’ نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے، نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے۔ ‘ پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لیے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر امین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ ’ یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے۔ ‘ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا دیکھا کہ آپ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا آپ نے سورۃ الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ہے ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ ’ یہ قول رسول اللہ کا ہے، شاعر کا نہیں، تم میں ایمان ہی کم ہے ‘ تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی، کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ ’ یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے ‘، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی۔“ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6531] پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
40۔ 1 بزرگ رسول سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور قول سے مراد تلاوت ہے یعنی رسول کریم سے مراد ایسا قول ہے جو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تمہیں پہنچاتا ہے۔ کیونکہ قرآن، رسول یا جبرائیل ؑ کا قول نہیں ہے، بلکہ اللہ کا قول ہے جو اس نے فرشتے کے ذریعے سے پیغمبر پر نازل فرمایا ہے، پھر پیغمبر اسے لوگوں تک پہنچاتا ہے۔
(آیت 40تا43) ➊ { اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ …:} یہ چار آیات جواب قسم ہیں، پہلی یہ کہ یہ قرآن ایک معزز پیغام لانے والے کا قول ہے، دوسری یہ کہ یہ کسی شاعر کا قول نہیں، تیسری یہ کہ یہ کسی کاہن کا قول بھی نہیں اور چوتھی یہ کہ یہ رب العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ اس قسم اور جواب قسم میں مناسبت یہ ہے کہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو وہ ان چاروں چیزوں کے حق ہونے کی شہادت دے رہا ہے اور جو کچھ تم نہیں دیکھ رہے اس کی شہادت بھی یہی ہے۔جو کچھ وہ دیکھ رہے تھے وہ یہ بات جاننے کے لیے کافی تھا کہ یہ قرآن جس شخص کی زبان سے ادا ہو رہا ہے وہ نہ شاعر ہے نہ کاہن، نہ جھوٹا ہے نہ اپنے پاس سے بات گھڑنے والا اور نہ کسی ذاتی مفاد یا عہدے کا طالب، بلکہ وہ اللہ کا معزز رسول ہے۔ یہی بات ہرقل نے کہی تھی، جب اس نے ابوسفیان سے آپ کے متعلق سوال کیے اور ابو سفیان کو آپ کے اوصافِ حمیدہ کی شہادت دینا پڑی۔ (دیکھیے بخاری: ۷) اوریہی بات آ پ نے اللہ کے حکم سے اہلِ مکہ سے کہی تھی: «فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ» [ یونس: ۱۶ ] ” اعلان نبوت سے پہلے میں نے (چالیس سال کی) ایک عمر تم میں گزاری ہے، کیا تم عقل نہیں کرتے؟“ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق، صدق و امانت، ایفائے عہد اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی کو بھی دیکھ رہے تھے اور شاعروں کے جھوٹ، مبالغے، قول و فعل کے تضاد اور خوشامد و تملق جیسی کمینگیوں کو بھی جانتے تھے۔ ➋ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کہی ہوئی باتوں کا بھی مشاہدہ کیا تھا کہ نہ ماضی کے متعلق آپ کی بتائی ہوئی کوئی بات خلافِ واقعہ نکلی نہ آئندہ کے متعلق آپ کی کوئی پیش گوئی غلط ثابت ہوئی اور کاہنوں کی غیب کے متعلق بتائی باتوں کا بھی تجربہ کیا تھا کہ ان کی ملأ اعلیٰ سے چرائی ہوئی کوئی ایک بات اگر درست نکلتی ہے تو سو باتیں جھوٹ بھی نکلتی ہیں۔ شاعروں اور کاہنوں کے مقابلے میں آپ کے احوال کا مشاہدہ اس بات کے یقین کے لیے کافی تھا کہ آپ نہ شاعر ہیں نہ کاہن۔ انھیں اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز تھا، مگر وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ قرآن مجید کے چیلنج کے باوجود وہ اس کے مقابلے میں ایک چھوٹی سی سورت بھی نہیں لا سکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو کچھ تم دیکھتے ہو وہ بھی شہادت دے رہا ہے کہ یہ قرآن ایک معزز رسول کی زبان سے پہنچایا جا رہا ہے۔ یہ نہ کسی شاعر کا کلام ہے، نہ کاہن کا اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے خواہ وہ عقل سے سمجھ میں آنے والی چیزیں ہوں، جو حواس خمسہ کی دسترس سے باہر ہیں یا عقل سے بھی ماورا ہوں، سب کی شہادت وہی ہے جو تمھاری دیکھی ہوئی چیزوں کی ہے۔ میں ہر چیز کو پیدا کرنے والا اس بات پر تمھاری دیکھی ہوئی اور تمھاری نہ دیکھی ہوئی تمام چیزوں کی قسم اٹھاتا ہوں۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس مقام پر قرآن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار دیا گیا ہے، جب کہ سورۂ مدثر (۲۵) میں اس شخص کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے جس نے کہا تھا: «اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ» کہ یہ قرآن تو بشر کا قول ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سورۂ مدثر میں جہنم کی وعید اس لیے سنائی گئی کہ اس شخص نے قرآن کو بشر کا اپنا قول قرار دیا تھا، جب کہ زیر تفسیر آیت میں اسے بشر کا یا انسان کا اپنا قول نہیں کہا گیا بلکہ اسے رسول کریم، یعنی ایک معزز پیغام لانے والے کا قول کہا گیا ہے۔ ظاہر ہے پیغام لانے والے کی بات اپنی نہیں ہوتی بلکہ اسے جو پیغام دے کر بھیجا جاتاہے وہ اسے آگے پہنچا دیتا ہے۔ اگر وہ اپنی بات کرتا ہے تو وہ رسول نہیں۔ اس کی ایک اور دلیل بعدمیں آنے والی آیت {” تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ “} (یہ رب العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے) بھی ہے۔ بشر کی اپنی بات میں اور قاصد ہونے کی حیثیت سے پہنچائی ہوئی بات میں جو فرق ہے وہ بالکل واضح ہے۔ سورۂ تکویر میں جو قرآن مجید کو ”رسول کریم“ کا قول قرار دیا گیا ہے، وہاں اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں، کیونکہ وہاں انھی کی صفتیں بیان ہوئی ہیں، مثلاً: «ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ (20) مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍ» [ التکویر: 21،20 ] ”بڑی قوت والا ہے، عرش والے کے ہاں بہت مرتبے والا ہے۔ وہاں اس کی بات مانی ہوئی ہے، امانت دار ہے۔“ بعض مفسرین نے یہاں بھی جبریل علیہ السلام مراد لیے ہیں مگر یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مراد لینا زیادہ مناسب ہے، کیونکہ یہاں قرآن کو رسول کریم کا قول قرار دینے کے بعد فرمایا، یہ کسی شاعر یا کاہن کا قول نہیں۔ ظاہر ہے کہ کفار مکہ جبریل علیہ السلام کو نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر و کاہن قرار دیتے تھے۔ بہرحال اسے جبریل علیہ السلام کا قول قرار دیا جائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا، دونوں صورتوں میں ان کا قول اس حیثیت سے ہے کہ وہ رسول تھے اور انھوں نے وہی آگے پہنچایا جو دے کر انھیں بھیجا گیا تھا۔ {” كَاهِنٍ “} ستاروں وغیرہ کا حساب لگا کر یا جنوں سے سن کر غیب کی خبریں بتانے والا۔
کسی شاعر کا قول نہیں ہے، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ کسی شاعر کا قول نہیں (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ کسی شاعر کی بات نہیں کتنا کم یقین رکھتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے (مگر) تم لوگ بہت کم ایمان لاتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ کسی شاعرکا قول نہیں، تم بہت کم ایمان لاتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ظاہر و باطن آیات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لیے پسند فرما لیا ہے۔ رسول اللہ سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس کی اضافت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لیے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اسی لیے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ التکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ» [81-التكوير:19-25] ، یعنی ’ یہ قول اس بزرگ رسول کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار۔ ‘، اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، اسی لیے اس کے بعد فرمایا ’ تمہارے ساتھی یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) مجنون نہیں بلکہ آپ نے جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے۔ ‘ اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ’ نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے، نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے۔ ‘ پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لیے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر امین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ ’ یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے۔ ‘ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا دیکھا کہ آپ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا آپ نے سورۃ الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ہے ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ ’ یہ قول رسول اللہ کا ہے، شاعر کا نہیں، تم میں ایمان ہی کم ہے ‘ تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی، کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ ’ یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے ‘، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی۔“ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6531] پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
41۔ 1 جیسا کہ تم سمجھتے ہو اور کہتے ہو اس لیے کہ یہ اصناف شعر سے نہ اس کے مشابہ ہے پھر یہی کسی شاعر کا کلام کس طرح ہوسکتا ہے۔
اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور نہ کسی کاہن کا قول ہے، (افسوس) بہت کم نصیحت لے رہے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور نہ کسی کاہن کی بات کتنا کم دھیان کرتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور نہ ہی یہ کسی کاہن کا کلام ہے (مگر) تم لوگ بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہ کسی کاہن کا قول ہے، تم بہت کم نصیحت پکڑتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ظاہر و باطن آیات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لیے پسند فرما لیا ہے۔ رسول اللہ سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس کی اضافت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لیے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اسی لیے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ التکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ» [81-التكوير:19-25] ، یعنی ’ یہ قول اس بزرگ رسول کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار۔ ‘، اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، اسی لیے اس کے بعد فرمایا ’ تمہارے ساتھی یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) مجنون نہیں بلکہ آپ نے جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے۔ ‘ اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ’ نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے، نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے۔ ‘ پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لیے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر امین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ ’ یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے۔ ‘ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا دیکھا کہ آپ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا آپ نے سورۃ الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ہے ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ ’ یہ قول رسول اللہ کا ہے، شاعر کا نہیں، تم میں ایمان ہی کم ہے ‘ تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی، کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ ’ یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے ‘، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی۔“ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6531] پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
42۔ 1 جیسا کہ تم بعض دفعہ تم یہ دعوی کرتے ہو حالانکہ کہانت بھی ایک دوسری چیز ہے۔ قلت دونوں جگہ نفی کے معنی میں ہے یعنی تم نہ قرآن پر ایمان لاتے ہو نہ نصیحت پر عمل کرتے ہو۔
(بلکہ) یہ تو تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے نازل شدہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
(یہ) جہانوں کے رب کی طرف سے اتارا ہوا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ظاہر و باطن آیات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لیے پسند فرما لیا ہے۔ رسول اللہ سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس کی اضافت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لیے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اسی لیے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ التکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ» [81-التكوير:19-25] ، یعنی ’ یہ قول اس بزرگ رسول کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار۔ ‘، اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، اسی لیے اس کے بعد فرمایا ’ تمہارے ساتھی یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) مجنون نہیں بلکہ آپ نے جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے۔ ‘ اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ’ نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے، نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے۔ ‘ پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لیے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر امین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ ’ یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے۔ ‘ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا دیکھا کہ آپ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا آپ نے سورۃ الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ہے ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ ’ یہ قول رسول اللہ کا ہے، شاعر کا نہیں، تم میں ایمان ہی کم ہے ‘ تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی، کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ ’ یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے ‘، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی۔“ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6531] پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»
43۔ 1 یعنی رسول کی زبان سے ادا ہونے والا یہ قول رب العالمین کا اتارا ہوا کلام ہے اسے تم کبھی شاعری اور کبھی کہانت کہہ کر اس کی تکذیب کرتے ہو۔
اور اگر اس (نبی) نے خود گھڑ کر کوئی بات ہماری طرف منسوب کی ہوتی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر یہ ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر وہ ہم پر ایک بات بھی بنا کر کہتے
علامہ محمد حسین نجفی
اگر وہ (نبی(ص)) اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ کر ہماری طرف منسوب کرتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا کر لگا دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہدایت اور شفا قرآن حکیم ٭٭
یہاں فرمان باری ہے کہ ’ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ ‘ یعنی ’ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ ‘ پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» ۱؎ [41-فصلت:44] یعنی ’ کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ ‘ پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [26-الشعراء:200،201] ’ اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔‘ اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» ۱؎ [34-سبأ:54] ’ ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ ‘ پھر فرمایا ’ یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ ‘ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔‘ اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
44۔ 1 یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کردیتا، یا اس میں کمی بیشی کردیتا، تو ہم فوراً اس کا مؤاخذہ کرتے اور اسے ڈھیل نہ دیتے جیسا کہ اگلی آیات میں فرمایا۔
(آیت 44تا47){ وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْل …:} ان آیات میں کفار کی اس بات کا ردّ ہے کہ یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے بنا کر اللہ کے ذمے لگا دی ہیں۔ فرمایا جب یہ ثابت ہوگیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ کی کہی ہوئی ہر بات اللہ کی بات ہے تو اب اگر اللہ تعالیٰ انھیں اپنے ذمے باتیں لگانے دے اور اس پر انھیں کچھ نہ کہے تو وہ سب باتیں اللہ کی باتیں سمجھی جائیں گی، اللہ تعالیٰ اس کی اجازت کس طرح دے سکتا ہے؟ فرمایا، اگر ہمارا یہ سچا رسول کوئی بات گھڑ کر ہمارے ذمے لگا دیتا تو اس جعل سازی کے جرم میں ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے اور کوئی شخص رستے میں رکاوٹ نہ بن سکتا۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے غلط استدلال کیا ہے کہ اگر کسی مدعی نبوت کی جان کی رگ دعوائے نبوت کرتے ہی نہ کاٹ دی جائے تو یہ اس کے نبی ہونے کی دلیل ہے، حالانکہ اس آیت میں جو بات فرمائی گئی ہے وہ سچے نبی کے بارے میں ہے، نبوت کے جھوٹے مدعیوں کے بارے میں نہیں ہے۔ جھوٹے مدعی تو نبوت ہی نہیں خدائی تک کے دعوے کرتے ہیں اور مدتوں زمین پر دندناتے رہتے ہیں، یہ ان کے سچے ہونے کا ثبوت نہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ جس طرح بادشاہ کسی شخص کو کسی منصب پر مقررکرکے سند وغیرہ دے کر کسی طرف روانہ کرتے ہیں، اب اگر وہ کوئی بات جھوٹ گھڑ کر بادشاہ کے ذمے لگا دے تو فوراً بادشاہ کی طرف سے اس کی تردید کی جاتی ہے اور ایسا کرنے والے کو سخت سزا دی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی سڑک کوٹنے والا مزدور یا صفائی کرنے والا بھنگی اعلان کرتا پھرے کہ بادشاہ نے یہ حکم جاری کیا ہے تو نہ سننے والے اس کی پروا کرتے ہیں اور نہ حکومت فوراً اس سے تعرض کرتی ہے۔ ہمارے زمانے کے دجال قادیانی کا اس آیت سے استدلال اور خود اس کے کلام میں سے اس کا ردّ دیکھنے کے لیے تفسیر ثنائی ملاحظہ فرمائیں۔ [ فَإِنَّہٗ کَفٰی وَ شَفٰی رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی رَحْمَۃً وَاسِعَۃً ] {” تَقَوَّلَ “ } کا معنی ہے، کسی کے ذمے وہ بات لگانا جو اس نے نہیں کہی۔ {” الْاَقَاوِيْل “ ”أُقْوُوْلَةٌ“} کی جمع ہے، جس طرح {”أُعْجُوْبَةٌ“} اور {”أُضْحُوْكَةٌ“} کی جمع {”أَعَاجِيْبُ“} اور {”أَضَاحِيْكُ“} ہے۔ {” لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ “} سے مراد یا تو یہ ہے کہ ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اس کی گردن کی رگ کاٹ دیتے۔ یہ سزا کی ہولناکی دکھانے کے لیے قتل کی تصویر کشی ہے، کیونکہ جب قتل کرنے والا کسی مجرم کو تلوار مارنے لگتا ہے تو اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ کر اس کی رگِ جاں کاٹ دیتے۔ بعض مفسرین نے {”اَلْيَمِيْنُ“} کا معنی قوت کیا ہے، یعنی ہم اسے پوری قوت سے پکڑ کر اس کی رگِ جاں کاٹ دیتے۔ عرب کے محاورہ میں یہ معنی بھی استعمال ہوتا ہے، مگر یہ معنی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا انکار کر دینا درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «بَلْ يَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ» [ المائدۃ: ۶۴ ] ”بلکہ اللہ کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كِلْتَا يَدَيْ رَبِّيْ يَمِيْنٌ مُبَارِكَةٌ ] [ترمذی، تفسیر القرآن، باب: ۳۳۶۸۔ مسلم: ۱۸۲۷] ”میرے رب کے دونوں ہاتھ دائیں اور برکت والے ہیں۔“ البتہ اس بات میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہمارے ہاتھوں جیسے نہیں، جیسا کہ فرمایا: «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ» [ الشورٰی: ۱۱] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔“ بلکہ اس طرح ہیں جس طرح اس کی شان کے لائق ہیں۔ {” الْوَتِيْنَ “ } گردن کی وہ رگ جو دل سے ملتی ہے، جس کے کٹنے سے آدمی فوراً مر جاتا ہے۔(اشرف الحواشی)
یہاں فرمان باری ہے کہ ’ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ ‘ یعنی ’ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ ‘ پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» ۱؎ [41-فصلت:44] یعنی ’ کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ ‘ پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [26-الشعراء:200،201] ’ اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔‘ اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» ۱؎ [34-سبأ:54] ’ ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ ‘ پھر فرمایا ’ یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ ‘ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔‘ اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
45۔ 1 یا دائیں ہاتھ کے ساتھ اس کی گرفت کرتے، اس لئے کہ دائیں ہاتھ سے گرفت زیادہ سخت ہوتی ہے۔ اور اللہ کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں۔
یہاں فرمان باری ہے کہ ’ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ ‘ یعنی ’ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ ‘ پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» ۱؎ [41-فصلت:44] یعنی ’ کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ ‘ پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [26-الشعراء:200،201] ’ اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔‘ اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» ۱؎ [34-سبأ:54] ’ ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ ‘ پھر فرمایا ’ یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ ‘ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔‘ اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
46۔ 1 خیال رہے یہ سزا، خاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں بیان کی گئی ہے جس سے مقصد آپ کی صداقت کا اظہار ہے۔ اس میں یہ اصول بیان نہیں کیا گیا ہے کہ جو بھی نبوت کا جھوٹا وعدہ کرے تو جھوٹے مدعی کو ہم فورا سزا سے دوچار کردیں گے لہذا اس سے کسی جھوٹے نبی کو اس لیے سچا باور نہیں کرایا جاسکتا کہ دنیا میں وہ مؤخذہ الہی سے بچا رہا۔
پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس کام سے روکنے والا نہ ہوتا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر تم میں سے کوئی بھی مجھے اس سے روکنے واﻻ نہ ہوتا
احمد رضا خان بریلوی
پھر تم میں کوئی ان کا بچانے والا نہ ہوتا،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر تم میں سے کوئی بھی ہمیں اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر تم میں سے کوئی بھی( ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہدایت اور شفا قرآن حکیم ٭٭
یہاں فرمان باری ہے کہ ’ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ ‘ یعنی ’ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ ‘ پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» ۱؎ [41-فصلت:44] یعنی ’ کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ ‘ پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [26-الشعراء:200،201] ’ اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔‘ اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» ۱؎ [34-سبأ:54] ’ ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ ‘ پھر فرمایا ’ یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ ‘ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔‘ اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
47۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول تھے، جن کو اللہ نے سزا نہیں دی، بلکہ دلائل و معجزات اور اپنی خاص تائید و نصرت سے انہیں نوازا۔
اور بے شک یہ (قرآن) ڈرنے والوں کے لیے یقینا ایک نصیحت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہدایت اور شفا قرآن حکیم ٭٭
یہاں فرمان باری ہے کہ ’ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ ‘ یعنی ’ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ ‘ پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» ۱؎ [41-فصلت:44] یعنی ’ کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ ‘ پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [26-الشعراء:200،201] ’ اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔‘ اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» ۱؎ [34-سبأ:54] ’ ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ ‘ پھر فرمایا ’ یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ ‘ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔‘ اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
48۔ 1 کیونکہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ورنہ قرآن تو سارے ہی لوگوں کے لیے نصیحت لے کر آیا ہے۔
(آیت 48) {وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِيْنَ:} یعنی اس نصیحت سے فائدہ وہی اٹھائیں گے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں۔
اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کے جھٹلانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ضرور ہم جانتے ہیں کہ تم کچھ جھٹلانے والے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم خوب جانتے ہیں کہ تم میں سے کچھ لوگ (اس کے) جھٹلانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم جانتے ہیں کہ بے شک تم میں سے کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہدایت اور شفا قرآن حکیم ٭٭
یہاں فرمان باری ہے کہ ’ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ ‘ یعنی ’ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ ‘ پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» ۱؎ [41-فصلت:44] یعنی ’ کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ ‘ پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [26-الشعراء:200،201] ’ اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔‘ اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» ۱؎ [34-سبأ:54] ’ ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ ‘ پھر فرمایا ’ یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ ‘ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔‘ اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 49) {وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ …: ” اِنَّا لَنَعْلَمُ “} (ہم جانتے ہیں) کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان جھٹلانے والوں کو سزا دیں گے، جیسے فسادیوں کو ڈانٹنے کے لیے کہا جاتا ہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو سب ہمیں معلوم ہے۔
اور بے شک وہ یقینا کافروں کے لیے حسرت (کا باعث) ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہدایت اور شفا قرآن حکیم ٭٭
یہاں فرمان باری ہے کہ ’ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ ‘ یعنی ’ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ ‘ پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» ۱؎ [41-فصلت:44] یعنی ’ کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ ‘ پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [26-الشعراء:200،201] ’ اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔‘ اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» ۱؎ [34-سبأ:54] ’ ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ ‘ پھر فرمایا ’ یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ ‘ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔‘ اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
50۔ 1 یعنی قیامت والے دن اس پر حسرت کریں گے، کہ کاش ہم نے قرآن کی تکذیب نہ کی ہوتی۔ یا یہ قرآن بجائے خود ان کے لئے حسرت کا باعث ہوگا، جب وہ اہل ایمان کو قرآن کا اجر ملتے ہوئے دیکھیں گے۔
(آیت 50) {وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ …:} یعنی یہ جھٹلانا کفار کے لیے باعث حسرت ہو گا، یا یہ قرآن کفار کے لیے باعث حسرت و افسوس ہو گا کہ انھوں نے اسے کیوں جھٹلایا۔ دوسری جگہ فرمایا: «رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ» [ الحجر: ۲ ] ”بہت بار کافر آرزو کریں گے کہ کاش! وہ کسی طرح کے مسلم ہوتے۔“