بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحاقة — Surah Haqqah
آیت نمبر 40
کل آیات: 52
قرآن کریم الحاقة آیت 40
آیت نمبر: 40 — سورۃ الحاقة islamicurdubooks.com ↗
اِنَّہٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۚۙ۴۰﴾
یہ ایک رسول کریم کا قول ہے
کہ بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے
بیشک یہ قرآن ایک کرم والے رسول سے باتیں ہیں
بےشک یہ (قرآن) ایک معزز رسول(ص) کا کلام ہے۔
بلاشبہ یہ (قرآن) یقینا ایک معزز پیغام لانے والے کا قول ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ظاہر و باطن آیات الٰہی ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لیے پسند فرما لیا ہے۔ رسول اللہ سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس کی اضافت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لیے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اسی لیے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ التکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ» [81-التكوير:19-25] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ قول اس بزرگ رسول کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار۔ ‘، اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، اسی لیے اس کے بعد فرمایا ’ تمہارے ساتھی یعنی محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) مجنون نہیں بلکہ آپ نے جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے۔ ‘ اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ’ نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے، نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے۔ ‘ پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لیے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر امین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ ’ یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے۔ ‘ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا دیکھا کہ آپ مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا آپ نے سورۃ الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ہے ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ ’ یہ قول رسول اللہ کا ہے، شاعر کا نہیں، تم میں ایمان ہی کم ہے ‘ تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی، کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ ’ یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے ‘، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6531] ‏‏‏‏ پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة»

📖 احسن البیان

40۔ 1 بزرگ رسول سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور قول سے مراد تلاوت ہے یعنی رسول کریم سے مراد ایسا قول ہے جو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تمہیں پہنچاتا ہے۔ کیونکہ قرآن، رسول یا جبرائیل ؑ کا قول نہیں ہے، بلکہ اللہ کا قول ہے جو اس نے فرشتے کے ذریعے سے پیغمبر پر نازل فرمایا ہے، پھر پیغمبر اسے لوگوں تک پہنچاتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 40تا43) ➊ { اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ …:} یہ چار آیات جواب قسم ہیں، پہلی یہ کہ یہ قرآن ایک معزز پیغام لانے والے کا قول ہے، دوسری یہ کہ یہ کسی شاعر کا قول نہیں، تیسری یہ کہ یہ کسی کاہن کا قول بھی نہیں اور چوتھی یہ کہ یہ رب العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ اس قسم اور جواب قسم میں مناسبت یہ ہے کہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو وہ ان چاروں چیزوں کے حق ہونے کی شہادت دے رہا ہے اور جو کچھ تم نہیں دیکھ رہے اس کی شہادت بھی یہی ہے۔جو کچھ وہ دیکھ رہے تھے وہ یہ بات جاننے کے لیے کافی تھا کہ یہ قرآن جس شخص کی زبان سے ادا ہو رہا ہے وہ نہ شاعر ہے نہ کاہن، نہ جھوٹا ہے نہ اپنے پاس سے بات گھڑنے والا اور نہ کسی ذاتی مفاد یا عہدے کا طالب، بلکہ وہ اللہ کا معزز رسول ہے۔ یہی بات ہرقل نے کہی تھی، جب اس نے ابوسفیان سے آپ کے متعلق سوال کیے اور ابو سفیان کو آپ کے اوصافِ حمیدہ کی شہادت دینا پڑی۔ (دیکھیے بخاری: ۷) اوریہی بات آ پ نے اللہ کے حکم سے اہلِ مکہ سے کہی تھی: «فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ» ‏‏‏‏ [ یونس: ۱۶ ] ” اعلان نبوت سے پہلے میں نے (چالیس سال کی) ایک عمر تم میں گزاری ہے، کیا تم عقل نہیں کرتے؟“ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق، صدق و امانت، ایفائے عہد اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی کو بھی دیکھ رہے تھے اور شاعروں کے جھوٹ، مبالغے، قول و فعل کے تضاد اور خوشامد و تملق جیسی کمینگیوں کو بھی جانتے تھے۔ ➋ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کہی ہوئی باتوں کا بھی مشاہدہ کیا تھا کہ نہ ماضی کے متعلق آپ کی بتائی ہوئی کوئی بات خلافِ واقعہ نکلی نہ آئندہ کے متعلق آپ کی کوئی پیش گوئی غلط ثابت ہوئی اور کاہنوں کی غیب کے متعلق بتائی باتوں کا بھی تجربہ کیا تھا کہ ان کی ملأ اعلیٰ سے چرائی ہوئی کوئی ایک بات اگر درست نکلتی ہے تو سو باتیں جھوٹ بھی نکلتی ہیں۔ شاعروں اور کاہنوں کے مقابلے میں آپ کے احوال کا مشاہدہ اس بات کے یقین کے لیے کافی تھا کہ آپ نہ شاعر ہیں نہ کاہن۔ انھیں اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز تھا، مگر وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ قرآن مجید کے چیلنج کے باوجود وہ اس کے مقابلے میں ایک چھوٹی سی سورت بھی نہیں لا سکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو کچھ تم دیکھتے ہو وہ بھی شہادت دے رہا ہے کہ یہ قرآن ایک معزز رسول کی زبان سے پہنچایا جا رہا ہے۔ یہ نہ کسی شاعر کا کلام ہے، نہ کاہن کا اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے خواہ وہ عقل سے سمجھ میں آنے والی چیزیں ہوں، جو حواس خمسہ کی دسترس سے باہر ہیں یا عقل سے بھی ماورا ہوں، سب کی شہادت وہی ہے جو تمھاری دیکھی ہوئی چیزوں کی ہے۔ میں ہر چیز کو پیدا کرنے والا اس بات پر تمھاری دیکھی ہوئی اور تمھاری نہ دیکھی ہوئی تمام چیزوں کی قسم اٹھاتا ہوں۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس مقام پر قرآن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار دیا گیا ہے، جب کہ سورۂ مدثر (۲۵) میں اس شخص کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے جس نے کہا تھا: «اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ» ‏‏‏‏ کہ یہ قرآن تو بشر کا قول ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سورۂ مدثر میں جہنم کی وعید اس لیے سنائی گئی کہ اس شخص نے قرآن کو بشر کا اپنا قول قرار دیا تھا، جب کہ زیر تفسیر آیت میں اسے بشر کا یا انسان کا اپنا قول نہیں کہا گیا بلکہ اسے رسول کریم، یعنی ایک معزز پیغام لانے والے کا قول کہا گیا ہے۔ ظاہر ہے پیغام لانے والے کی بات اپنی نہیں ہوتی بلکہ اسے جو پیغام دے کر بھیجا جاتاہے وہ اسے آگے پہنچا دیتا ہے۔ اگر وہ اپنی بات کرتا ہے تو وہ رسول نہیں۔ اس کی ایک اور دلیل بعدمیں آنے والی آیت {” تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ “} (یہ رب العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے) بھی ہے۔ بشر کی اپنی بات میں اور قاصد ہونے کی حیثیت سے پہنچائی ہوئی بات میں جو فرق ہے وہ بالکل واضح ہے۔ سورۂ تکویر میں جو قرآن مجید کو ”رسول کریم“ کا قول قرار دیا گیا ہے، وہاں اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں، کیونکہ وہاں انھی کی صفتیں بیان ہوئی ہیں، مثلاً: «‏‏‏‏ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ (20) مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍ» ‏‏‏‏ [ التکویر: 21،20 ] ”بڑی قوت والا ہے، عرش والے کے ہاں بہت مرتبے والا ہے۔ وہاں اس کی بات مانی ہوئی ہے، امانت دار ہے۔“ بعض مفسرین نے یہاں بھی جبریل علیہ السلام مراد لیے ہیں مگر یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مراد لینا زیادہ مناسب ہے، کیونکہ یہاں قرآن کو رسول کریم کا قول قرار دینے کے بعد فرمایا، یہ کسی شاعر یا کاہن کا قول نہیں۔ ظاہر ہے کہ کفار مکہ جبریل علیہ السلام کو نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر و کاہن قرار دیتے تھے۔ بہرحال اسے جبریل علیہ السلام کا قول قرار دیا جائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا، دونوں صورتوں میں ان کا قول اس حیثیت سے ہے کہ وہ رسول تھے اور انھوں نے وہی آگے پہنچایا جو دے کر انھیں بھیجا گیا تھا۔ {” كَاهِنٍ “} ستاروں وغیرہ کا حساب لگا کر یا جنوں سے سن کر غیب کی خبریں بتانے والا۔
← پچھلی آیت (39) پوری سورۃ اگلی آیت (41) →