بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحاقة — Surah Haqqah
آیت نمبر 1
کل آیات: 52
قرآن کریم الحاقة آیت 1
آیت نمبر: 1 — سورۃ الحاقة islamicurdubooks.com ↗
اَلۡحَآقَّۃُ ۙ﴿۱﴾
ہونی شدنی!
ﺛابت ہونے والی
وہ حق ہونے والی
برحق واقع ہو نے والی۔
وہ ہو کر رہنے والی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

حاقہ ٭٭

«حَاقَّه» قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لیے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’ تم اس «حاقہ» کی صحیح کیفیت سے بے خبر ہو ‘، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا: ’ ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑنے اور کلیجوں کو پاش پاش کر دینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ و بالا ہو جاتے ہیں۔ ‘ پس بقول قتادہ رحمہ اللہ «طَّاغِيَةِ» کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کر دیئے گئے۔ سیدنا ربیع بن انس اور سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہم کا قول ہے کہ اس سے مراد ان کی سرکشی ہے۔ سیدنا ابن زید نے اس کی شہادت میں یہ آیت پڑھی «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَآ» ۱؎ [91-الشمس:11] ‏‏‏‏ یعنی ’ ثمودیوں نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا۔ ‘ یعنی اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں اور قوم عاد کی ٹھنڈی ہواؤں کے تیز جھونکوں سے دل چھید دیئے اور وہ نیست و نابود کر دیئے گئے۔

📖 احسن البیان

ثابت ہونے والی (1)

📖 القرآن الکریم

(آیت 1تا3){ اَلْحَآقَّةُ (1) مَا الْحَآقَّةُ …: ” اَلْحَآقَّةُ”حَقَّ يَحِقُّ“} (ض، ن) (ثابت ہونا، واجب ہونا) سے {”فَاعِلَةٌ“} کے وزن پر ہے، ہو کر رہنے والی، واجب ہونے والی، جس کا ہونا حق ہے۔ مراد قیامت ہے، کیونکہ وہ ہو کر رہے گی، اسی لیے اس کا نام {” الْوَاقِعَهُ “} (واقع ہونے والی) بھی ہے۔ (دیکھیے حاقہ: ۱۵)قیامت کا ذکر استفہامیہ فقروں سے شروع کیا گیا ہے، یہ اہلِ بلاغت کا خاص اسلوب ہے۔ اس سے ایک تو سننے والے کو متوجہ کرنا اور شوق دلانا مقصود ہوتا ہے، دوسرا قیامت کی عظمت اور ہولناکی بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ اتنی عظیم الشان ہے کہ نہ تمھاری سمجھ میں پوری طرح آسکتی ہے اور نہ کوئی اور ایسا ہے جو تمھیں معلوم کروا سکے کہ وہ کیا ہے؟
← پچھلی آیت پوری سورۃ اگلی آیت (2) →