بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحاقة — Surah Haqqah
آیت نمبر 5
کل آیات: 52
قرآن کریم الحاقة آیت 5
آیت نمبر: 5 — سورۃ الحاقة islamicurdubooks.com ↗
فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُہۡلِکُوۡا بِالطَّاغِیَۃِ ﴿۵﴾
تو ثمود ایک سخت حادثہ میں ہلاک کیے گئے
(جس کے نتیجہ میں) ﺛمود تو بے حد خوفناک (اور اونچی) آواز سے ہلاک کردیئے گئے
تو ثمود تو ہلاک کیے گئے حد سے گزری ہوئی چنگھاڑ سے
پس ثمود تو ایک حد سے بڑھے ہوئے حادثہ سے ہلاک کئے گئے۔
سو جو ثمود تھے وہ حد سے بڑھی ہوئی (آواز) کے ساتھ ہلاک کر دیے گئے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

حاقہ ٭٭

«حَاقَّه» قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لیے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’ تم اس «حاقہ» کی صحیح کیفیت سے بے خبر ہو ‘، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا: ’ ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑنے اور کلیجوں کو پاش پاش کر دینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ و بالا ہو جاتے ہیں۔ ‘ پس بقول قتادہ رحمہ اللہ «طَّاغِيَةِ» کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کر دیئے گئے۔ سیدنا ربیع بن انس اور سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہم کا قول ہے کہ اس سے مراد ان کی سرکشی ہے۔ سیدنا ابن زید نے اس کی شہادت میں یہ آیت پڑھی «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَآ» ۱؎ [91-الشمس:11] ‏‏‏‏ یعنی ’ ثمودیوں نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا۔ ‘ یعنی اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں اور قوم عاد کی ٹھنڈی ہواؤں کے تیز جھونکوں سے دل چھید دیئے اور وہ نیست و نابود کر دیئے گئے۔

📖 احسن البیان

5۔ 1 اس میں قیام کو کھڑکا دینے والی کہا ہے، اس لئے کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے لوگوں کو بیدار کر دے گی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 5) {فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِيَةِ:”اَلطَّاغِيَةُ“ ”طَغٰي يَطْغٰي“} (ف) سے اسم فاعل ہے، یہ {”عَافِيَةٌ“} کی طرح مصدر بھی ہو سکتاہے۔ اسم فاعل ہو تو {” اَلطَّاغِيَةُ “} کا معنی ”حد سے بڑھنے والی“ ہے اور یہ {” الرَّجْفَةُ “} یا {” الصَّيْحَةُ “} یا {” الصّٰعِقَةُ “} کی صفت ہو گی، یعنی ثمود اس زلزلے سے یا آواز سے یا بجلی کی کڑک سے ہلاک کر دیے گئے جو آوازوں کی حد سے بہت بڑھی ہوئی تھی۔یہ فرشتے کی آواز تھی یا بجلی کی کڑک تھی جس کے ساتھ زلزلہ بھی تھا، یا زلزلے کے ساتھ آنے والی خوفناک آواز تھی۔ {” الرَّجْفَةُ “} کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۷۸)، {” الصَّيْحَةُ “} کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۶۷) اور {” الصّٰعِقَةُ “} کے لیے دیکھیے حم سجدہ (۱۷)۔ مصدر ہو تو معنی ”حد سے بڑھنا“ ہے، ”باء“ سببیہ ہو گی: {”أَيْ بِطُغْيَانِهِمْ“} یعنی ثمود اپنے حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے ہلاک کردیے گئے، جیسے فرمایا: «‏‏‏‏كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا» ‏‏‏‏ [ الشمس: ۱۱ ] ”قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (صالح علیہ السلام کو) جھٹلا دیا۔“
← پچھلی آیت (4) پوری سورۃ اگلی آیت (6) →