یہاں فرمان باری ہے کہ ’ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ ‘ یعنی ’ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ ‘ پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» ۱؎ [41-فصلت:44] یعنی ’ کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ ‘ پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [26-الشعراء:200،201] ’ اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔‘ اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» ۱؎ [34-سبأ:54] ’ ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ ‘ پھر فرمایا ’ یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ ‘ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔‘ اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
51۔ 1 یعنی قرآن اللہ کی طرف سے ہونا بالکل یقینی ہے، اس میں قطعًا شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ یا قیامت کی بابت جو خبر دی جا رہی ہے، وہ بالکل حق اور سچ ہے۔
(آیت 51){ وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْيَقِيْنِ: ”حَقٌّ“} جو ثابت ہو اور {” الْيَقِيْنِ “} وہ بات جس میں کوئی شک نہ ہو۔ قرآن مجید سے یقین کے تین درجے معلوم ہوتے ہیں، پہلا علم الیقین، وہ یقین جو خبر وغیرہ سے معلوم ہو جائے، جیسے فرمایا: «كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْيَقِيْنِ (5) لَتَرَوُنَّ الْجَحِيْمَ» [ التکاثر: 6،5 ] ”ہرگز نہیں، کاش! تم یقینی جاننا جان لیتے کہ تم ضرور جہنم کو دیکھو گے۔“ دوسرا عین الیقین، وہ یقین جو آنکھوں کے دیکھنے سے حاصل ہو۔ آنکھوں سے دیکھی ہوئی بات کا یقین سنی ہوئی بات کے یقین سے قوی ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ ] [ مسند أحمد: 215/1، ح: ۱۸۴۲۔ صحیح الجامع الصغیر: ۵۳۷۳ ] ”سننا دیکھنے کی طرح نہیں۔“ ابراہیم علیہ السلام نے {” رَبِّ اَرِنِيْ كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰى “} کہہ کر یقین کے اس مرتبہ کی درخواست کی تھی۔ (دیکھیے بقرۃ: ۲۶۰) تیسرا حق الیقین، وہ یقین جو کسی چیز کو خود استعمال کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس وقت وہ ہر طرح سے پختہ اور ثابت ہو جاتا ہے۔ یہ پہلے دونوں درجوں سے بڑھ کر ہے۔ ان تینوں درجوں کی مثال یہ ہے کہ اہلِ ایمان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بتانے سے جنت کا یقین ہے، یہ علم الیقین ہے۔ جب میدان محشر میں جنت قریب لائی جائے گی (دیکھیے شعراء:۹۰) اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے تو یہ عین الیقین ہے۔ پھر جب اس میں داخل ہوں گے اور اس کی نعمتوں سے لذت اٹھائیں گے تو انھیں حق الیقین حاصل ہو گا۔ فرمایا یہ قرآن حق الیقین ہے، یعنی قرآن میں جو علوم و معارف اور حقائق بیان ہوئے ہیں، جو شخص ان کی لذت سے آشنا ہو جائے اس کے لیے یہ ہر طرح سے ثابت شدہ یقین ہے۔ (خلاصہ بدائع التفسیر و تفسیر عبد الرحمن السعدی)
پس آپ(ص) اپنے عظمت والے پروردگار کے نام کی تسبیح کریں۔
عبدالسلام بن محمد
پس اپنے بہت عظمت والے رب کے نام کی تسبیح کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہدایت اور شفا قرآن حکیم ٭٭
یہاں فرمان باری ہے کہ ’ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ ‘ یعنی ’ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ ‘ پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» ۱؎ [41-فصلت:44] یعنی ’ کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ ‘ پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [26-الشعراء:200،201] ’ اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔‘ اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» ۱؎ [34-سبأ:54] ’ ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ ‘ پھر فرمایا ’ یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ ‘ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔‘ اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
52۔ 1 جس نے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب نازل فرمائی۔
(آیت 52) {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ:} یعنی یہ مانیں یا نہ مانیں، آپ اپنے عظمت والے رب کے نام کی، جس کا یہ کلام ہے، تسبیح بیان کرتے رہیں۔ اس کی برکت سے آپ کے لیے ہر مشکل آسان ہو جائے گی۔ اس آیت کے بعد بھی اور رکوع میں بھی {”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ“} پڑھنا چاہیے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ ایک دفعہ رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں کھڑے ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی رکعت میں سورۃ بقرہ، نساء اور آل عمران پڑھیں۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھتے رہتے، جب آپ کسی ایسی آیت پر سے گزرتے جس میں تسبیح کا ذکر ہوتا تو آپ تسبیح پڑھتے، جب کسی سوال والی آیت پر سے گزرتے تو سوال کرتے، جب پناہ مانگنے کی آیت پر سے گزرتے تو پناہ مانگتے۔ پھر آپ نے رکوع کیا اور آپ {”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ“} پڑھتے رہے، آپ کا رکوع قیام کی مثل تھا۔ پھر آپ نے {”سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ“} کہا، پھر آپ رکوع کے قریب دیر تک کھڑے رہے پھر آپ نے سجدہ کیا اور سجدہ میں {”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰي“} پڑھتے رہے۔ [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب استحباب تطویل القراءۃ في صلٰوۃ اللیل: ۷۷۲ ]