بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحاقة — Surah Haqqah
آیت نمبر 52
کل آیات: 52
قرآن کریم الحاقة آیت 52
آیت نمبر: 52 — سورۃ الحاقة islamicurdubooks.com ↗
فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الۡعَظِیۡمِ ﴿٪۵۲﴾
پس اے نبیؐ، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو
پس تو اپنے رب عظیم کی پاکی بیان کر
تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کی پاکی بولو
پس آپ(ص) اپنے عظمت والے پروردگار کے نام کی تسبیح کریں۔
پس اپنے بہت عظمت والے رب کے نام کی تسبیح کر۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہدایت اور شفا قرآن حکیم ٭٭

یہاں فرمان باری ہے کہ ’ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے۔ ‘ یعنی ’ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے۔ ‘ پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لیے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لیے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» ۱؎ [41-فصلت:44] ‏‏‏‏ یعنی ’ کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی۔ ‘ پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا، جیسے اور جگہ ہے «كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [26-الشعراء:200،201] ‏‏‏‏ ’ اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے وه جب تک درد ناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔‘ اور جگہ ہے «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ» ۱؎ [34-سبأ:54] ‏‏‏‏ ’ ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے۔ ‘ پھر فرمایا ’ یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے۔ ‘ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔‘ اللہ کے فضل سے سورۃ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔

📖 احسن البیان

52۔ 1 جس نے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب نازل فرمائی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 52) {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ:} یعنی یہ مانیں یا نہ مانیں، آپ اپنے عظمت والے رب کے نام کی، جس کا یہ کلام ہے، تسبیح بیان کرتے رہیں۔ اس کی برکت سے آپ کے لیے ہر مشکل آسان ہو جائے گی۔ اس آیت کے بعد بھی اور رکوع میں بھی {”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ“} پڑھنا چاہیے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ ایک دفعہ رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں کھڑے ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی رکعت میں سورۃ بقرہ، نساء اور آل عمران پڑھیں۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھتے رہتے، جب آپ کسی ایسی آیت پر سے گزرتے جس میں تسبیح کا ذکر ہوتا تو آپ تسبیح پڑھتے، جب کسی سوال والی آیت پر سے گزرتے تو سوال کرتے، جب پناہ مانگنے کی آیت پر سے گزرتے تو پناہ مانگتے۔ پھر آپ نے رکوع کیا اور آپ {”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ“} پڑھتے رہے، آپ کا رکوع قیام کی مثل تھا۔ پھر آپ نے {”سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ“} کہا، پھر آپ رکوع کے قریب دیر تک کھڑے رہے پھر آپ نے سجدہ کیا اور سجدہ میں {”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰي“} پڑھتے رہے۔ [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب استحباب تطویل القراءۃ في صلٰوۃ اللیل: ۷۷۲ ]
← پچھلی آیت (51) پوری سورۃ اگلی آیت →