(اے رسول(ص)) بےشک ہم نے آپ(ص) کو ایک فتحِ مبین (نمایاں فتح) عطا کی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم نے تجھے فتح دی، ایک کھلی فتح۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۃ فتح ٭٭
صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد میں عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ { فتح مکہ والے سال اثناء سفر میں راہ چلتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر ہی سورۃ الفتح کی تلاوت کی اور ترجیع سے پڑھ رہے تھے۔ اگر مجھے لوگوں کے جمع ہو جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں آپ کی تلاوت کی طرح ہی تلاوت کر کے تمہیں سنا دیتا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4281]
ذی قعدہ سنہ ۶ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ ادا کرنے کے ارادے سے مدینہ سے مکہ کو چلے لیکن راہ میں مشرکین مکہ نے روک دیا اور مسجد الحرام کی زیارت سے مانع ہوئے پھر وہ لوگ صلح کی طرف جھکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس بات پر کہ اگلے سال عمرہ ادا کریں گے ان سے صلح کر لی جسے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت پسند نہ کرتی تھی، جس میں خاص قابل ذکر ہستی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہے آپ نے وہیں اپنی قربانیاں کیں اور لوٹ گئے، جس کا پورا واقعہ ابھی اسی سورت کی تفسیر میں آ رہا ہے، ان شاءاللہ۔ پس لوٹتے ہوئے راہ میں یہ مبارک سورت آپ پر نازل ہوئی جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس صلح کو بااعتبار نتیجہ فتح کہا گیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ تم تو فتح فتح مکہ کو کہتے ہو لیکن ہم صلح حدیبیہ کو فتح جانتے تھے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:794] سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/11] صحیح بخاری میں ہے { سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم فتح مکہ کو فتح شمار کرتے ہو اور ہم بیعت الرضوان کے واقعہ حدیبیہ کو فتح گنتے ہیں۔ ہم چودہ سو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس موقعہ پر تھے حدیبیہ نامی ایک کنواں تھا، ہم نے اس میں سے پانی اپنی ضرورت کے مطابق لینا شروع کیا تھوڑی دیر میں پانی بالکل ختم ہو گیا ایک قطرہ بھی نہ بچا آخر پانی نہ ہونے کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں پہنچی، آپ اس کنویں کے پاس آئے اس کے کنارے بیٹھ گئے اور پانی کا برتن منگوا کر وضو کیا جس میں کلی بھی کی، پھر کچھ دعا کی اور وہ پانی اس کنویں میں ڈلوا دیا، تھوڑی دیر بعد جو ہم نے دیکھا تو وہ تو پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا ہم نے پیا جانوروں نے بھی پیا اپنی حاجتیں پوری کیں اور سارے برتن بھر لیے۔ }۱؎ [صحیح بخاری:4150]
مسند احمد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تین مرتبہ میں نے آپ سے کچھ پوچھا آپ نے کوئی جواب نہ دیا، اب تو مجھے سخت ندامت ہوئی اس امر پر کہ افسوس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی آپ جواب دینا نہیں چاہتے اور میں خوامخواہ سر ہوتا رہا۔ پھر مجھے ڈر لگنے لگا کہ میری اس بے ادبی پر میرے بارے میں کوئی وحی آسمان سے نہ نازل ہو۔ چنانچہ میں نے اپنی سواری کو تیز کیا اور آگے نکل گیا، تھوڑی دیر گزری تھی کہ میں نے سنا کوئی منادی میرے نام کی ندا کر رہا ہے، میں نے جواب دیا تو اس نے کہا چلو تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرماتے ہیں، اب تو میرے ہوش گم ہو گئے کہ ضرور کوئی وحی نازل ہوئی اور میں ہلاک ہوا، جلدی جلدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گذشتہ شب مجھ پر ایک سورت اتری ہے جو مجھے دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“ پھر آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» } ۱؎ [48-الفتح:1] تلاوت کی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4177] یہ حدیث بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی ہے { سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا» [48-الفتح:2] نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک آیت اتاری گئی ہے جو مجھے روئے زمین سے زیادہ محبوب ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ سنائی“، صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارکباد دینے لگے اور کہا یا رسول اللہ! یہ تو ہوئی آپ کے لیے ہمارے لیے کیا ہے؟ اس پر یہ آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» } [48-الفتح:5] نازل ہوئی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4172]
{ سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ جو قاری قرآن تھے فرماتے ہیں حدیبیہ سے ہم واپس آ رہے تھے کہ میں نے دیکھا کہ لوگ اونٹوں کو بھگائے لیے جا رہے ہیں پوچھا کیا بات ہے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے تو ہم لوگ بھی اپنے اونٹوں کو دوڑاتے ہوئے سب کے ساتھ پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کراع الغمیم میں تھے جب سب جمع ہو گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت تلاوت کر کے سنائی، ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ! کیا یہ فتح ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے یہ فتح ہے“، خیبر کی تقسیم صرف انہی پر کی گئی جو حدیبیہ میں موجود تھے اٹھارہ حصے بنائے گئے کل لشکر پندرہ سو کا تھا جس میں تین سو گھوڑے سوار تھے پس سوار کو دوہرا حصہ ملا اور پیدل کو اکہرا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2736،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
{ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حدیبیہ سے آتے ہوئے ایک جگہ رات گزارنے کیلئے ہم اتر کر سو گئے، تو ایسے سوئے کہ سورج نکلنے کے بعد جاگے، دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوئے ہوئے ہیں، ہم نے کہا: آپ کو جگانا چاہیئے کہ آپ خود جاگ گئے اور فرمانے لگے: ”جو کچھ کرتے تھے کرو اور اسی طرح کرے جو سو جائے یا بھول جائے۔ اسی سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کہیں گم ہو گئی، ہم ڈھونڈنے نکلے تو دیکھا کہ ایک درخت میں نکیل اٹک گئی ہے اور وہ رکی کھڑی ہے اسے کھول کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے آپ سوار ہوئے اور ہم نے کوچ کیا، ناگہاں راستے میں ہی آپ پر وحی آنے لگی وحی کے وقت آپ پر بہت دشواری ہوتی تھی جب وحی ہٹ گئی تو آپ نے ہمیں بتایا کہ آپ پر سورۃ «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» [48-الفتح:1] اتری ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:447،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوافل تہجد وغیرہ میں اس قدر وقت لگاتے کہ پیروں پر ورم چڑھ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف نہیں فرما دیئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، کیا پھر میں اللہ کا شکر گزار غلام نہ بنوں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:4836] اور روایت میں ہے کہ یہ پوچھنے والی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2820]
پس «مبین» سے مراد کھلی صریح صاف ظاہر ہے اور «فتح» سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس کی وجہ سے بڑی خیر و برکت حاصل ہوئی، لوگوں میں امن و امان ہوا، مومن کافر میں بول چال شروع ہو گئی، علم اور ایمان کے پھیلانے کا موقعہ ملا، آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کی معافی یہ آپ کا خاصہ ہے جس میں کوئی آپ کا شریک نہیں۔ ہاں، بعض اعمال کے ثواب میں یہ الفاظ اوروں کے لیے بھی آئے ہیں، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت بڑی شرافت و عظمت ہے آپ اپنے تمام کاموں میں بھلائی استقامت اور فرمانبرداری الٰہی پر مستقیم تھے ایسے کہ اولین و آخرین میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے زیادہ اکمل انسان اور دنیا اور آخرت میں کل اولاد آدم کے سردار اور رہبر تھے۔ اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اللہ کے فرمانبردار اور سب سے زیادہ اللہ کے احکام کا لحاظ کرنے والے تھے۔ اسی لیے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی تو { آپ نے فرمایا: ”اسے ہاتھیوں کے روکنے والے نے روک لیا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آج یہ کفار مجھ سے جو مانگیں گے دوں گا بشرطیکہ اللہ کی حرمت کی ہتک نہ ہو۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:2731] پس جب آپ نے اللہ کی مان لی اور صلح کو قبول کر لیا تو اللہ عزوجل نے سورہ «فتح» اتاری اور دنیا اور آخرت میں اپنی نعمتیں آپ پر پوری کیں اور شرع عظیم اور دین قدیم کی طرف آپ کی رہبری کی اور آپ کے خشوع و خضوع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلند و بالا کیا، آپ کی تواضع، فروتنی، عاجزی اور انکساری کے بدلے آپ کو عز و جاہ مرتبہ منصب عطا فرمایا، آپ کے دشمنوں پر آپ کو غلبہ دیا چنانچہ خود { آپ کا فرمان ہے بندہ درگزر کرنے سے عزت میں بڑھ جاتا ہے اور عاجزی اور انکساری کرنے سے بلندی اور عالی رتبہ حاصل کر لیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2588] سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تو نے کسی کو جس نے تیرے بارے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہو ایسی سزا نہیں دی کہ تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے۔
بیشک (اے نبی) ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے۔ (1)
سورۃ الفتح یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے واپس آ رہے تھے۔ یہ ذوالقعدہ سنہ ۶ ہجری کی بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چودہ سو صحابہ کے ساتھ عمرہ کے لیے روانہ ہوئے، حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکین نے آپ کو عمرہ ادا کرنے سے روک دیا۔ قصہ لمبا ہے، مختصر یہ کہ دونوں طرف سے بار بار سفیروں کی آمد و رفت کے بعد دس سال کے لیے صلح اور جنگ بندی کا معاہدہ ہو گیا۔ اس کی کچھ شروط مسلمانوں کو پسند نہیں تھیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی مصلحتوں کے پیشِ نظر انھیں قبول فرمایا۔ بعد میں مسلمانوں نے صلح کے خوشگوار اثرات دیکھے تو وہ بھی مطمئن ہو گئے۔ (آیت 1) ➊ {اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا:} لفظ {” فَتْحًا “} سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ اور اس کے قریب ہونے والی فتوحات ہیں اور یقینا یہ الفاظ فتح مکہ پر بھی صادق آتے ہیں، مگر صحابہ کرام اور محقق اہل علم نے اس کا سبب نزول صلح حدیبیہ بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ قتادہ بیان کرتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے {” اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا “} کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ [ بخاري، التفسیر، سورۃ الفتح: ۴۸۳۴ ] اور براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تم فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو اور واقعی فتح مکہ فتح تھی مگر ہم حدیبیہ کے دن بیعتِ رضوان کو فتح شمار کرتے ہیں۔“ [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۵۰ ] زید بن اسلم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں چل رہے تھے، رات کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ چل رہے تھے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں جواب نہ دیا، انھوں نے پھر سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا، انھوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”عمر! تیری ماں تجھے گم پائے، تو نے اصرار کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین مرتبہ سوال کیا، لیکن ہر بار آپ نے جواب نہیں دیا۔“ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، چنانچہ میں اپنی اونٹنی کو حرکت دے کر مسلمانوں سے آگے نکل گیا، اس خوف سے کہ کہیں میرے بارے میں قرآن نازل نہ ہو جائے۔ کچھ دیر بعد ہی اچانک سنا تو ایک اعلان کرنے والا میرا نام لے کر بلانے کے لیے اعلان کر رہا تھا، میں واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور میں یہی سمجھ رہا تھا کہ میرے بارے میں قرآن نازل ہوا ہے۔ میں نے سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُوْرَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَرَأَ: «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» ] [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۷۷ ] ”رات مجھ پر وہ سورت اتری ہے جو مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» ”بے شک ہم نے تجھے فتح دی، ایک کھلی فتح۔“ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی حدیث کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۂ فتح نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور انھیں سورۂ فتح پڑھوائی۔ انھوں نے کہا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَوَ فَتْحٌ هُوَ؟ ] ”اے اللہ کے رسول! کیا یہ فتح ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [نَعَمْ ] ”ہاں!“ تو ان کا دل خوش ہو گیا اور وہ چلے گئے۔ [ مسلم، الجہاد والسیر، باب صلح الحدیبیۃ …: ۱۷۸۵] ➋ حقیقت یہ ہے کہ صلح حدیبیہ اسلام اور مسلمانوں کی عظیم فتح تھی، کیونکہ اس کے ساتھ مسلمانوں کو بے شمار فوائد حاصل ہوئے۔ جن میں سے ایک یہ تھا کہ قریش نے مسلمانوں کا وجود تسلیم کر لیا، جو اس سے پہلے وہ کسی صورت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ایک یہ کہ دشمن کی حقیقی قوت کا اندازہ ہو گیا اور یہ کہ وہ کس حد تک مزاحمت کر سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں مخلص ایمان والوں اور منافقین کی پہچان ہو گئی، کیونکہ منافقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلنے کی جرأت ہی نہیں کر سکے تھے، جیسا کہ آگے {” سَيَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ“} میں آ رہا ہے۔ ایک یہ کہ جزیرۂ عرب میں امن قائم ہو جانے سے کفار اور مسلمانوں کا ایک دوسرے سے میل جول شروع ہو گیا۔ کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی بات سنی، ان کے اخلاق دیکھے، آپس میں بحث و مناظرہ ہوا اور دعوت کا دائرہ وسیع ہوا، جس کے نتیجے میں بہت بڑی تعداد نے اسلام قبول کر لیا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ اس سے پہلے حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو صحابہ آئے تھے، لیکن صرف دو سال بعد فتح مکہ کے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار صحابہ کے ساتھ فاتحانہ شان سے مکہ میں داخل ہوئے۔ ➌ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین طرح کی تاکید کے ساتھ اس فتح کی اہمیت بیان فرمائی، ایک اس کی عظمت کے اظہار کے لیے اس کی نسبت اپنی طرف دو دفعہ جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ فرمائی، ایک {” اِنَّا “} اور دوسرا {” فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا “} اور دوسری یہ کہ {” فَتَحْنَا “} کی تاکید مفعول مطلق {” فَتْحًا مُّبِيْنًا “} کے ساتھ فرمائی اور تیسری یہ کہ اسے {” فَتْحًا مُّبِيْنًا “} (فتح مبین) قرار دیا، یعنی بے شک ہم نے تیرے لیے فتح دی، ایک کھلی فتح۔ ➍ {” اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ “} میں {” لَكَ “} (تیرے لیے) کے الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم و تشریف کا اظہار ہو رہا ہے، جس سے امت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر پہچاننے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اتباع کی تعلیم دینا مقصود ہے۔
تاکہ اللہ تمہاری اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے درگزر فرمائے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے اور تمہیں سیدھا راستہ دکھائے
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ جو کچھ تیرے گناه آگے ہوئے اور جو پیچھے سب کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، اور تجھ پر اپنا احسان پورا کر دے اور تجھے سیدھی راه چلائے
احمد رضا خان بریلوی
تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کردے اور تمہیں سیدھی راہ دکھادے
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ اللہ ان (لوگوں کی نظر میں) آپ(ص) کے تمام اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور آپ پر اپنی نعمت تام و تمام کرے اور آپ(ص) کو منزلِ مقصود تک پہنچا ئے۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ اللہ تیرے لیے بخش دے تیرا کوئی گناہ جو پہلے ہوا اور جو پیچھے ہوا اور اپنی نعمت تجھ پر پوری کرے اور تجھے سیدھے راستے پر چلائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۃ فتح ٭٭
صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد میں عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ { فتح مکہ والے سال اثناء سفر میں راہ چلتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر ہی سورۃ الفتح کی تلاوت کی اور ترجیع سے پڑھ رہے تھے۔ اگر مجھے لوگوں کے جمع ہو جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں آپ کی تلاوت کی طرح ہی تلاوت کر کے تمہیں سنا دیتا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4281]
ذی قعدہ سنہ ۶ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ ادا کرنے کے ارادے سے مدینہ سے مکہ کو چلے لیکن راہ میں مشرکین مکہ نے روک دیا اور مسجد الحرام کی زیارت سے مانع ہوئے پھر وہ لوگ صلح کی طرف جھکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس بات پر کہ اگلے سال عمرہ ادا کریں گے ان سے صلح کر لی جسے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت پسند نہ کرتی تھی، جس میں خاص قابل ذکر ہستی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہے آپ نے وہیں اپنی قربانیاں کیں اور لوٹ گئے، جس کا پورا واقعہ ابھی اسی سورت کی تفسیر میں آ رہا ہے، ان شاءاللہ۔ پس لوٹتے ہوئے راہ میں یہ مبارک سورت آپ پر نازل ہوئی جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس صلح کو بااعتبار نتیجہ فتح کہا گیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ تم تو فتح فتح مکہ کو کہتے ہو لیکن ہم صلح حدیبیہ کو فتح جانتے تھے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:794] سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/11] صحیح بخاری میں ہے { سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم فتح مکہ کو فتح شمار کرتے ہو اور ہم بیعت الرضوان کے واقعہ حدیبیہ کو فتح گنتے ہیں۔ ہم چودہ سو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس موقعہ پر تھے حدیبیہ نامی ایک کنواں تھا، ہم نے اس میں سے پانی اپنی ضرورت کے مطابق لینا شروع کیا تھوڑی دیر میں پانی بالکل ختم ہو گیا ایک قطرہ بھی نہ بچا آخر پانی نہ ہونے کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں پہنچی، آپ اس کنویں کے پاس آئے اس کے کنارے بیٹھ گئے اور پانی کا برتن منگوا کر وضو کیا جس میں کلی بھی کی، پھر کچھ دعا کی اور وہ پانی اس کنویں میں ڈلوا دیا، تھوڑی دیر بعد جو ہم نے دیکھا تو وہ تو پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا ہم نے پیا جانوروں نے بھی پیا اپنی حاجتیں پوری کیں اور سارے برتن بھر لیے۔ }۱؎ [صحیح بخاری:4150]
مسند احمد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تین مرتبہ میں نے آپ سے کچھ پوچھا آپ نے کوئی جواب نہ دیا، اب تو مجھے سخت ندامت ہوئی اس امر پر کہ افسوس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی آپ جواب دینا نہیں چاہتے اور میں خوامخواہ سر ہوتا رہا۔ پھر مجھے ڈر لگنے لگا کہ میری اس بے ادبی پر میرے بارے میں کوئی وحی آسمان سے نہ نازل ہو۔ چنانچہ میں نے اپنی سواری کو تیز کیا اور آگے نکل گیا، تھوڑی دیر گزری تھی کہ میں نے سنا کوئی منادی میرے نام کی ندا کر رہا ہے، میں نے جواب دیا تو اس نے کہا چلو تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرماتے ہیں، اب تو میرے ہوش گم ہو گئے کہ ضرور کوئی وحی نازل ہوئی اور میں ہلاک ہوا، جلدی جلدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گذشتہ شب مجھ پر ایک سورت اتری ہے جو مجھے دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“ پھر آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» } ۱؎ [48-الفتح:1] تلاوت کی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4177] یہ حدیث بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی ہے { سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا» [48-الفتح:2] نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک آیت اتاری گئی ہے جو مجھے روئے زمین سے زیادہ محبوب ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ سنائی“، صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارکباد دینے لگے اور کہا یا رسول اللہ! یہ تو ہوئی آپ کے لیے ہمارے لیے کیا ہے؟ اس پر یہ آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» } [48-الفتح:5] نازل ہوئی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4172]
{ سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ جو قاری قرآن تھے فرماتے ہیں حدیبیہ سے ہم واپس آ رہے تھے کہ میں نے دیکھا کہ لوگ اونٹوں کو بھگائے لیے جا رہے ہیں پوچھا کیا بات ہے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے تو ہم لوگ بھی اپنے اونٹوں کو دوڑاتے ہوئے سب کے ساتھ پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کراع الغمیم میں تھے جب سب جمع ہو گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت تلاوت کر کے سنائی، ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ! کیا یہ فتح ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے یہ فتح ہے“، خیبر کی تقسیم صرف انہی پر کی گئی جو حدیبیہ میں موجود تھے اٹھارہ حصے بنائے گئے کل لشکر پندرہ سو کا تھا جس میں تین سو گھوڑے سوار تھے پس سوار کو دوہرا حصہ ملا اور پیدل کو اکہرا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2736،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
{ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حدیبیہ سے آتے ہوئے ایک جگہ رات گزارنے کیلئے ہم اتر کر سو گئے، تو ایسے سوئے کہ سورج نکلنے کے بعد جاگے، دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوئے ہوئے ہیں، ہم نے کہا: آپ کو جگانا چاہیئے کہ آپ خود جاگ گئے اور فرمانے لگے: ”جو کچھ کرتے تھے کرو اور اسی طرح کرے جو سو جائے یا بھول جائے۔ اسی سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کہیں گم ہو گئی، ہم ڈھونڈنے نکلے تو دیکھا کہ ایک درخت میں نکیل اٹک گئی ہے اور وہ رکی کھڑی ہے اسے کھول کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے آپ سوار ہوئے اور ہم نے کوچ کیا، ناگہاں راستے میں ہی آپ پر وحی آنے لگی وحی کے وقت آپ پر بہت دشواری ہوتی تھی جب وحی ہٹ گئی تو آپ نے ہمیں بتایا کہ آپ پر سورۃ «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» [48-الفتح:1] اتری ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:447،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوافل تہجد وغیرہ میں اس قدر وقت لگاتے کہ پیروں پر ورم چڑھ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف نہیں فرما دیئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، کیا پھر میں اللہ کا شکر گزار غلام نہ بنوں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:4836] اور روایت میں ہے کہ یہ پوچھنے والی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2820]
پس «مبین» سے مراد کھلی صریح صاف ظاہر ہے اور «فتح» سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس کی وجہ سے بڑی خیر و برکت حاصل ہوئی، لوگوں میں امن و امان ہوا، مومن کافر میں بول چال شروع ہو گئی، علم اور ایمان کے پھیلانے کا موقعہ ملا، آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کی معافی یہ آپ کا خاصہ ہے جس میں کوئی آپ کا شریک نہیں۔ ہاں، بعض اعمال کے ثواب میں یہ الفاظ اوروں کے لیے بھی آئے ہیں، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت بڑی شرافت و عظمت ہے آپ اپنے تمام کاموں میں بھلائی استقامت اور فرمانبرداری الٰہی پر مستقیم تھے ایسے کہ اولین و آخرین میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے زیادہ اکمل انسان اور دنیا اور آخرت میں کل اولاد آدم کے سردار اور رہبر تھے۔ اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اللہ کے فرمانبردار اور سب سے زیادہ اللہ کے احکام کا لحاظ کرنے والے تھے۔ اسی لیے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی تو { آپ نے فرمایا: ”اسے ہاتھیوں کے روکنے والے نے روک لیا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آج یہ کفار مجھ سے جو مانگیں گے دوں گا بشرطیکہ اللہ کی حرمت کی ہتک نہ ہو۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:2731] پس جب آپ نے اللہ کی مان لی اور صلح کو قبول کر لیا تو اللہ عزوجل نے سورہ «فتح» اتاری اور دنیا اور آخرت میں اپنی نعمتیں آپ پر پوری کیں اور شرع عظیم اور دین قدیم کی طرف آپ کی رہبری کی اور آپ کے خشوع و خضوع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلند و بالا کیا، آپ کی تواضع، فروتنی، عاجزی اور انکساری کے بدلے آپ کو عز و جاہ مرتبہ منصب عطا فرمایا، آپ کے دشمنوں پر آپ کو غلبہ دیا چنانچہ خود { آپ کا فرمان ہے بندہ درگزر کرنے سے عزت میں بڑھ جاتا ہے اور عاجزی اور انکساری کرنے سے بلندی اور عالی رتبہ حاصل کر لیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2588] سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تو نے کسی کو جس نے تیرے بارے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہو ایسی سزا نہیں دی کہ تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے۔
2۔ 1 اس سے مراد ترک اولی والے معاملات یا وہ امور ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فہم واجتہاد سے کیے لیکن اللہ نے انہیں ناپسند فرمایا جیسے عبد اللہ بن ام مکتوم ؓ وغیرہ کا واقعہ ہے جس پر سورة عبس کا نزول ہوا یہ معاملات وامور اگرچہ گناہ اور منافی عصمت نہیں لیکن آپ کی شان ارفع کے پیش نظر انہیں بھی کو تاہیاں شمار کرلیا گیا جس پر معافی کا اعلان فرمایا جا رہا ہے لیغفر میں لام تعلیل کے لیے ہے یعنی یہ فتح مبین ان تین چیزوں کا سبب ہے جو آیت میں مذکور ہیں اور یہ مغفرت ذنوب کا سبب اس اعتبار سے ہے کہ اس صلح کے بعد قبول اسلام کرنے والوں کی تعداد میں بکثرت اضافہ ہوا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اجر عظیم میں بھی خوب اضافہ ہوا اور حسنات و بلندی درجات میں بھی۔ 2۔ 2 اس دین کو غالب کر کے جس کی تم دعوت دیتے ہو، یا فتح و غلبہ عطا کر کے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ مغفرت اور ہدایت پر یہی تمام نعمت ہے (فتح القدیر) 2۔ 3 یعنی اس پر استقلال نصیب فرمائے۔ ہدایت کے اعلیٰ سے اعلیٰ درجات سے نوازے۔
(آیت 2) ➊ { لِيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ:” لِيَغْفِرَ “} کا لام ”لامِ عاقبت“ ہے، یعنی ہم نے آپ کو یہ فتح مبین عطا فرمائی تاکہ آپ کو اس کے نتیجے میں چار عظیم نعمتیں حاصل ہوں۔ گویا اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما رہے ہیں کہ آپ نے اپنی رسالت کا حق ادا کیا، میرا پیغام پہنچایا، جان مار کر محنت کی، اپنی زبان اور تلوار کے ساتھ جہاد کیا، مسلمانوں کی ایک مخلص ترین جماعت تیار کی، سختی کے موقع پر سختی اور نرمی کے موقع پر نرمی کی اور مختصر سے عرصے میں وہ کامیابی حاصل کی جو طویل مدتوں میں کوئی حاصل نہ کر سکا، حتیٰ کہ وہ کام پورا کر دکھایا جو ہم نے آپ کے ذمے لگایا تھا۔ اب آپ اپنی محنت کا پھل اٹھائیں گے، جس سے دنیا اور آخرت میں آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، چنانچہ ہم نے آپ کے لیے واضح فتح عطا کی، جس کے نتیجے میں پہلی نعمت آپ کو یہ ملی کہ نبوت سے پہلے اور بعد کے گناہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخش دیے۔ ➋ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ کیا نبی سے بھی گناہ کا صدور ہو سکتا ہے؟ بعض حضرات نے انبیائے کرام علیھم السلام سے گناہ صادر ہونے کو ناممکن قرار دیا ہے،کیونکہ ان کے نزدیک نبی سے گناہ کا صادر ہونا اس کی شان کے خلاف ہے، مگر اس کا کیا کیا جائے کہ قرآن مجید نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لفظ {”ذَنْبٌ“} استعمال کیا ہے، جس کا معروف و مشہور معنی گناہ ہے۔ اس لیے فارسی اور اردو تقریباً تمام مترجمین نے یہاں {”ذَنْبٌ“} کا معنی گناہ کیا ہے۔ رہی یہ بات کہ آپ کی طرف لفظ گناہ کی نسبت سے آپ کی شان میں کمی کا اظہار ہوتا ہے، تو جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ انبیاء کے گناہوں کو اپنے گناہوں کی طرح سمجھ لیتے ہیں۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیھم السلام کو جتنا عظیم اور بلند مرتبہ عطا فرمایا ہے اسے ملحوظ رکھتے ہوئے وہ اپنی معمولی کوتاہیوں اور لغزشوں کو گناہ قرار دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی انھیں {”ذنوب“} کہہ کر ان سے استغفار کا حکم دیتا ہے، اسی لیے وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں استغفار کرتے ہیں جس سے ان کا مرتبہ پہلے سے بھی بلند ہو جاتا ہے۔ مثلاً موسیٰ علیہ السلام سے خطا کے ساتھ قبطی قتل ہو گیا تو انھوں نے دعا کی: «رَبِّ اِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَغَفَرَ لَهٗ» [ القصص: ۱۶ ] ”اے میرے ر ب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، سو تو مجھے بخش دے، تو اللہ نے اسے بخش دیا۔“ آدم علیہ السلام منع کرنے کے باوجود بھول کر اس پودے میں سے کھا بیٹھے تو کہا: «رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [ الأعراف: ۲۳ ] ”اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقینا ہم ضرور خسارہ پانے والوں سے ہو جائیں گے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اس استغفار کے نتیجے میں انھیں {”مجتبيٰ“} بنا لیا، فرمایا: «ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيْهِ وَ هَدٰى» [ طٰہٰ: ۱۲۲ ] ”پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، تو اس پر مہربانی فرمائی اور ہدایت دی۔ “ یونس علیہ السلام بغیر اجازت قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تو مچھلی کے پیٹ سے اللہ تعالیٰ کو پکارا: «لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» [الأنبیاء: ۸۷] ”تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، یقینا میں ظلم کرنے والوں سے ہو گیا ہوں۔ “ اس استغفار کے نتیجے میں انھیں وہ مقام حاصل ہوا جو خطا نہ ہونے اور استغفار نہ کرنے کی صورت میں کبھی حاصل نہ ہوتا، فرمایا: «فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ» [ القلم: ۵۰ ] ”پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، پس اسے نیکوں میں شامل کردیا۔ “ بنی آدم کا فرشتوں سے یہی فرق ہے کہ فرشتوں سے نہ خطا ہوتی ہے، نہ انھیں استغفار کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ وہ استغفار سے حاصل ہونے والا بلند مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ انبیائے کرام علیھم السلام ہماری طرح کبیرہ گناہوں کا ارتکاب یا دیدہ و دانستہ نافرمانی نہیں کرتے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے فرماں بردار بندے ہوتے ہیں، البتہ ان سے بشری تقاضوں کے پیشِ نظر کوئی معمولی کوتاہی یا اجتہادی خطا ہو جاتی ہے۔ انبیاء کی خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں اس خطا یا کوتاہی پر قائم نہیں رہنے دیتا، بلکہ وحی کے ذریعے سے فوراً اصلاح فرما دیتا ہے، انبیاء کے معصوم ہونے کا یہی مطلب ہے۔ کسی امتی کو، خواہ وہ کتنے بلند منصب پر فائز ہو یہ امتیاز حاصل نہیں کہ اس کی خطا کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے اصلاح کی جائے۔ انبیاء سے سرزد ہونے والی یہ معمولی کوتاہیاں یا اجتہادی خطائیں بھی ان کے مقام کے پیشِ نظر خود انھیں اتنی بڑی نظر آتی ہیں کہ وہ بار بار اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ ہمارے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ”ذنوب“ سے مغفرت مانگنے کا حکم دیا، جس پر عمل کرتے ہوئے آپ بے حد استغفار کرتے تھے۔ دیکھیے سورۂ محمد کی آیت (۱۹) کی تفسیر۔ استغفار کی وہ مختلف دعائیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی جناب میں کیا کرتے تھے ان تمام دعاؤں میں لفظ ”ذنب“ استعمال ہوا ہے۔ ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول کا معاملہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذنوب کا اقرار کر کے استغفار کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے اور پچھلے ذنوب کی مغفرت کی خوش خبری دے رہے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم بھی اس بات کا حوالہ دیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے آپ کے پہلے اور پچھلے ذنوب معاف فرما دیے ہیں، جیسا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں: [ أَنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُوْمُ مِنَ اللَّيْلِ حَتّٰی تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ تَصْنَعُ هٰذَا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَقَدْ غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ أَفَلاَ أُحِبُّ أَنْ أَكُوْنَ عَبْدًا شَكُوْرًا؟ ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «لیغفر لک اللہ ما تقدم…» : ۴۸۳۷ ] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات اتنا قیام کرتے حتیٰ کہ آپ کے قدم پھٹ جاتے تو عائشہ رضی اللہ عنھا نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ اس طرح کیوں کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے آپ کے پہلے اور پچھلے گناہ بخش دیے ہیں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟“ یہی وجہ ہے کہ پہلے تقریباً سبھی ترجمہ کرنے والوں نے ”ذنب “ کا معنی گناہ کیا ہے۔ یہ ترجمہ کرنے والے قرآن مجید کے یہ سب خدام کیا نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام سے ناآشنا تھے؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گناہ گار ٹھہرتے ہیں۔ آپ ان حضرات سے پوچھیں کہ آپ ”ذنب“ کا ترجمہ کرکے بتایے، ان میں سے ایک صاحب نے {” لِيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ “} کا ترجمہ کیا ہے: ”تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی اگلی پچھلی سب خطائیں معاف فرما دے۔“ ایک اور صاحب نے ترجمہ کیا ہے: ”تاکہ اللہ تعالیٰ تمھاری اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے درگزر فرمائے۔“ اپنے خیال میں ان حضرات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گناہ گار ہونے سے تو بچا لیا مگر انھیں خطا کار اور کوتاہی کا مرتکب ہونے سے تو نہ بچا سکے، بتائیے آپ نے کون سا معرکہ سر کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ ایک آدھ معمولی گناہ و خطا سے آدمی نہ گناہ گار کے لقب کا حق دار بنتا ہے اور نہ ہی اسے خطا کار یا کوتاہ کار کہہ سکتے ہیں۔ بعض حضرات نے یہاں ذنب کا معنی الزام کیا ہے اور ترجمہ کیا ہے: ”تاکہ اللہ تعالیٰ آپ پر لگائے گئے پہلے پچھلے تمام الزامات دور کر دے۔“ ان حضرات سے کوئی پوچھے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جن کاموں پر باز پرس فرمائی اور ساتھ ہی انھیں معاف کر دینے کی بشارت بھی دے دی، کیا وہ سب الزامات تھے جو اللہ تعالیٰ نے غلط قرار دے کر دور فرما دیے؟ مثلاً فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [ التحریم: ۱ ] ”اے نبی! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے؟ تو اپنی بیویوں کی خوشی چاہتا ہے، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“ اور فرمایا: «عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِيْنَ» [التوبۃ: ۴۳ ] ”اللہ نے تجھے معاف کردیا، تو نے انھیں کیوں اجازت دی، یہاں تک کہ تیرے لیے وہ لوگ صاف ظاہر ہو جاتے جنھوں نے سچ کہا اور تو جھوٹوں کو جان لیتا۔ “ اور فرمایا: «مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَ اللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [ الأنفال: ۶۷ ] ”کبھی کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں قیدی ہوں، یہاں تک کہ وہ زمین میں خوب خون بہا لے، تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت کو چاہتا ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ اور فرمایا: «وَ تَخْشَى النَّاسَ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ» [ الأحزاب: ۳۷ ] ”اور تو لوگوں سے ڈرتا تھا، حالانکہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تو اس سے ڈرے۔“ اصل بات یہ ہے کہ ایسے حضرات غلو کی وجہ سے ہر اس شخص کو گستاخِ رسول قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں جو ان کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خدائی صفات کا مالک قرار نہ دے، آپ کو عالم الغیب نہ مانے، مختارِ کل تسلیم نہ کرے، یا یہ نہ مانے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطا ہو سکتی ہی نہیں۔ ان میں سے بعض حضرات نے اس مقام پر ذنب کا معنی تو گناہ ہی کیا ہے، مگر اس آیت کے ترجمے میں تحریفِ قرآن کے اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا اس امت کو مہلت دینے کا فیصلہ نہ ہوتا تو ان کانام و نشان مٹا دیا جاتا۔ چنانچہ ان میں سے ایک صاحب نے {” لِيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ “} کا ترجمہ کیا ہے: ”تاکہ اللہ تمھارے سبب سے گناہ بخشے تمھارے اگلوں کے اور تمھارے پچھلوں کے۔“ ایک اور صاحب نے ترجمہ کیا ہے: ”تاکہ آپ کی خاطر اللہ آپ کی امت (کے ان تمام افراد) کی اگلی پچھلی خطائیں معاف فرما دے (جنھوں نے آپ کے حکم پر جہاد کیے اور قربانیاں دیں)۔“ ان لوگوں کی تحریف پر جرأت دیکھیے، لفظ {” ذَنْۢبِكَ “} کا معنی ”تیرے گناہ“ کے علاوہ ہو ہی نہیں سکتا، مگر یہ لوگ اس کا ترجمہ ”تیری امت کے اگلے پچھلے گناہ“ کر رہے ہیں اور حبِ رسول کے اتنے بڑے اجارہ دار بنے ہوئے ہیں کہ جو ان کی طرح تحریف نہ کرے، یا ان کی تحریف پر شاباش نہ کہے وہ ان کی نظر میں حبِ رسول سے آشنا ہی نہیں۔ ان لوگوں کے ترجمے کے مطابق تو تمام امتیوں کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو چکے ہیں، اب اگر کوئی قتل یا زنا یا چوری کرتا ہے تو اس پر حد کیسی؟ اسے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی مل چکی ہے۔ یہ سب نتیجہ اسی غلو کا ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا: [ لاَ تُطْرُوْنيْ كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَی ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُوْلُوْا عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُوْلُهُ ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «واذکر فی الکتاب مریم…» : ۳۴۴۵ ] ”مجھے حد سے مت بڑھاؤ جس طرح نصاریٰ نے مسیح ابن مریم کو حد سے بڑھا دیا، کیونکہ میں تو صرف اس کا بندہ ہوں، سو تم ”اللہ کا بندہ اور اس کا رسول “ کہو۔“ ➌ اس مقام پر اکثر مفسرین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لفظ ذنب کی توجیہ کرتے ہوئے ایک جملہ مسلّم قول کے طور پر ذکر فرمایا ہے: {” حَسَنَاتُ الْأَبْرَارِ سَيِّئَاتُ الْمُقَرَّبِيْنَ “} ”نیک لوگوں کی نیکیاں مقرب لوگوں کی برائیاں ہوتی ہیں۔“ یہ جملہ اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تو ہر گز نہیں، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہ بات کہنے والا کون ہے، مگر اکثر مفسر اور مصنف اسے اندھا دھند بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔ نہ یہ سوچتے ہیں کہ نیکی بدی کیسے بن سکتی ہے اور نہ یہ خیال فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کے مطابق ابرار و مقربین کی یہ تقسیم سرے سے غلط ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون مقرب ہو گا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پچھلی رات اٹھ کر جن آیات کی تلاوت کیا کرتے تھے ان میں مذکور دعاؤں میں سے ایک دعا یہ ہے: «وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ» [آل عمران: ۱۹۳ ] ” اور ہمیں ابرار کے ساتھ فوت کر۔“ پھر وہ کون سے ابرار ہیں جن کی نیکیاں مقربین کی بدیاں ہیں؟ ➍ {وَ يُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ:} یہ دوسری نعمت ہے جو صلح حدیبیہ کے نتیجے میں حاصل ہونے کی خوش خبری دی گئی۔ اس سے مراد وہ بہت سی نعمتیں عطا کرنا ہے جو اس سے پہلے آپ کو عطا نہیں کی گئی تھیں، مثلاً قریش، اہلِ مکہ اور دوسرے لوگوں کا فوج در فوج اسلام میں داخل ہونا، تمام دشمنوں اور مخالفوں کا زیر ہو جانا، پورے ملک عرب کا آپ کے زیر نگیں ہو جانا اور دین کی تکمیل وغیرہ، جن کا اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا گیا اور کچھ ہی عرصہ بعد پورا کر دیا گیا اور اعلان ہو گیا: «اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا» [ المائدۃ: ۳ ] ”آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔“ ➎ {وَ يَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا:} یہ تیسری نعمت کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے احکام پر عمل، ان کی تبلیغ و جہاد، سلطنت کے معاملات اور فتح و کامرانی کے حصول کے بارے میں آپ کو بالکل سیدھے راستے پر چلائے گا۔ اگرچہ یہ سب کچھ پہلے بھی آپ کو حاصل تھا، مگر اس کے بعد جس وسعت کے ساتھ حاصل ہوا وہ پہلے حاصل نہ تھا۔ مزید دیکھیے سورۂ فاتحہ کی آیت: «اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ» کی تفسیر۔
صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد میں عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ { فتح مکہ والے سال اثناء سفر میں راہ چلتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر ہی سورۃ الفتح کی تلاوت کی اور ترجیع سے پڑھ رہے تھے۔ اگر مجھے لوگوں کے جمع ہو جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں آپ کی تلاوت کی طرح ہی تلاوت کر کے تمہیں سنا دیتا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4281]
ذی قعدہ سنہ ۶ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ ادا کرنے کے ارادے سے مدینہ سے مکہ کو چلے لیکن راہ میں مشرکین مکہ نے روک دیا اور مسجد الحرام کی زیارت سے مانع ہوئے پھر وہ لوگ صلح کی طرف جھکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس بات پر کہ اگلے سال عمرہ ادا کریں گے ان سے صلح کر لی جسے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت پسند نہ کرتی تھی، جس میں خاص قابل ذکر ہستی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہے آپ نے وہیں اپنی قربانیاں کیں اور لوٹ گئے، جس کا پورا واقعہ ابھی اسی سورت کی تفسیر میں آ رہا ہے، ان شاءاللہ۔ پس لوٹتے ہوئے راہ میں یہ مبارک سورت آپ پر نازل ہوئی جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس صلح کو بااعتبار نتیجہ فتح کہا گیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ تم تو فتح فتح مکہ کو کہتے ہو لیکن ہم صلح حدیبیہ کو فتح جانتے تھے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:794] سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/11] صحیح بخاری میں ہے { سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم فتح مکہ کو فتح شمار کرتے ہو اور ہم بیعت الرضوان کے واقعہ حدیبیہ کو فتح گنتے ہیں۔ ہم چودہ سو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس موقعہ پر تھے حدیبیہ نامی ایک کنواں تھا، ہم نے اس میں سے پانی اپنی ضرورت کے مطابق لینا شروع کیا تھوڑی دیر میں پانی بالکل ختم ہو گیا ایک قطرہ بھی نہ بچا آخر پانی نہ ہونے کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں پہنچی، آپ اس کنویں کے پاس آئے اس کے کنارے بیٹھ گئے اور پانی کا برتن منگوا کر وضو کیا جس میں کلی بھی کی، پھر کچھ دعا کی اور وہ پانی اس کنویں میں ڈلوا دیا، تھوڑی دیر بعد جو ہم نے دیکھا تو وہ تو پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا ہم نے پیا جانوروں نے بھی پیا اپنی حاجتیں پوری کیں اور سارے برتن بھر لیے۔ }۱؎ [صحیح بخاری:4150]
مسند احمد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تین مرتبہ میں نے آپ سے کچھ پوچھا آپ نے کوئی جواب نہ دیا، اب تو مجھے سخت ندامت ہوئی اس امر پر کہ افسوس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی آپ جواب دینا نہیں چاہتے اور میں خوامخواہ سر ہوتا رہا۔ پھر مجھے ڈر لگنے لگا کہ میری اس بے ادبی پر میرے بارے میں کوئی وحی آسمان سے نہ نازل ہو۔ چنانچہ میں نے اپنی سواری کو تیز کیا اور آگے نکل گیا، تھوڑی دیر گزری تھی کہ میں نے سنا کوئی منادی میرے نام کی ندا کر رہا ہے، میں نے جواب دیا تو اس نے کہا چلو تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرماتے ہیں، اب تو میرے ہوش گم ہو گئے کہ ضرور کوئی وحی نازل ہوئی اور میں ہلاک ہوا، جلدی جلدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گذشتہ شب مجھ پر ایک سورت اتری ہے جو مجھے دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“ پھر آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» } ۱؎ [48-الفتح:1] تلاوت کی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4177] یہ حدیث بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی ہے { سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے آیت «لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا» [48-الفتح:2] نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک آیت اتاری گئی ہے جو مجھے روئے زمین سے زیادہ محبوب ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ سنائی“، صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارکباد دینے لگے اور کہا یا رسول اللہ! یہ تو ہوئی آپ کے لیے ہمارے لیے کیا ہے؟ اس پر یہ آیت «لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا» } [48-الفتح:5] نازل ہوئی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4172]
{ سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ جو قاری قرآن تھے فرماتے ہیں حدیبیہ سے ہم واپس آ رہے تھے کہ میں نے دیکھا کہ لوگ اونٹوں کو بھگائے لیے جا رہے ہیں پوچھا کیا بات ہے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے تو ہم لوگ بھی اپنے اونٹوں کو دوڑاتے ہوئے سب کے ساتھ پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کراع الغمیم میں تھے جب سب جمع ہو گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت تلاوت کر کے سنائی، ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ! کیا یہ فتح ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے یہ فتح ہے“، خیبر کی تقسیم صرف انہی پر کی گئی جو حدیبیہ میں موجود تھے اٹھارہ حصے بنائے گئے کل لشکر پندرہ سو کا تھا جس میں تین سو گھوڑے سوار تھے پس سوار کو دوہرا حصہ ملا اور پیدل کو اکہرا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2736،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
{ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حدیبیہ سے آتے ہوئے ایک جگہ رات گزارنے کیلئے ہم اتر کر سو گئے، تو ایسے سوئے کہ سورج نکلنے کے بعد جاگے، دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوئے ہوئے ہیں، ہم نے کہا: آپ کو جگانا چاہیئے کہ آپ خود جاگ گئے اور فرمانے لگے: ”جو کچھ کرتے تھے کرو اور اسی طرح کرے جو سو جائے یا بھول جائے۔ اسی سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کہیں گم ہو گئی، ہم ڈھونڈنے نکلے تو دیکھا کہ ایک درخت میں نکیل اٹک گئی ہے اور وہ رکی کھڑی ہے اسے کھول کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے آپ سوار ہوئے اور ہم نے کوچ کیا، ناگہاں راستے میں ہی آپ پر وحی آنے لگی وحی کے وقت آپ پر بہت دشواری ہوتی تھی جب وحی ہٹ گئی تو آپ نے ہمیں بتایا کہ آپ پر سورۃ «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» [48-الفتح:1] اتری ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:447،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوافل تہجد وغیرہ میں اس قدر وقت لگاتے کہ پیروں پر ورم چڑھ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف نہیں فرما دیئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، کیا پھر میں اللہ کا شکر گزار غلام نہ بنوں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:4836] اور روایت میں ہے کہ یہ پوچھنے والی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2820]
پس «مبین» سے مراد کھلی صریح صاف ظاہر ہے اور «فتح» سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس کی وجہ سے بڑی خیر و برکت حاصل ہوئی، لوگوں میں امن و امان ہوا، مومن کافر میں بول چال شروع ہو گئی، علم اور ایمان کے پھیلانے کا موقعہ ملا، آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کی معافی یہ آپ کا خاصہ ہے جس میں کوئی آپ کا شریک نہیں۔ ہاں، بعض اعمال کے ثواب میں یہ الفاظ اوروں کے لیے بھی آئے ہیں، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت بڑی شرافت و عظمت ہے آپ اپنے تمام کاموں میں بھلائی استقامت اور فرمانبرداری الٰہی پر مستقیم تھے ایسے کہ اولین و آخرین میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے زیادہ اکمل انسان اور دنیا اور آخرت میں کل اولاد آدم کے سردار اور رہبر تھے۔ اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اللہ کے فرمانبردار اور سب سے زیادہ اللہ کے احکام کا لحاظ کرنے والے تھے۔ اسی لیے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی تو { آپ نے فرمایا: ”اسے ہاتھیوں کے روکنے والے نے روک لیا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آج یہ کفار مجھ سے جو مانگیں گے دوں گا بشرطیکہ اللہ کی حرمت کی ہتک نہ ہو۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:2731] پس جب آپ نے اللہ کی مان لی اور صلح کو قبول کر لیا تو اللہ عزوجل نے سورہ «فتح» اتاری اور دنیا اور آخرت میں اپنی نعمتیں آپ پر پوری کیں اور شرع عظیم اور دین قدیم کی طرف آپ کی رہبری کی اور آپ کے خشوع و خضوع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلند و بالا کیا، آپ کی تواضع، فروتنی، عاجزی اور انکساری کے بدلے آپ کو عز و جاہ مرتبہ منصب عطا فرمایا، آپ کے دشمنوں پر آپ کو غلبہ دیا چنانچہ خود { آپ کا فرمان ہے بندہ درگزر کرنے سے عزت میں بڑھ جاتا ہے اور عاجزی اور انکساری کرنے سے بلندی اور عالی رتبہ حاصل کر لیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2588] سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تو نے کسی کو جس نے تیرے بارے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہو ایسی سزا نہیں دی کہ تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 3) {وَ يَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِيْزًا:} چوتھی اور آخری نعمت یہ ہے کہ ” نصرِ عزیز“کا ذکر اپنے سب سے باعظمت نام ”اللہ“ کے ساتھ فرمایا، تاکہ اس کی اہمیت واضح ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ آپ کی ایسی مدد فرمائے گا جس سے آپ کو عزت و قوت اور غلبہ حاصل ہو گا اور آپ کے دشمن عاجز اور مغلوب ہو جائیں گے۔ یہاں مبالغے کے لیے ”عزیز“ کی نسبت ”نصر“ کی طرف فرمائی ہے، ورنہ عزیز تو اس کے نتیجے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہونا ہی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہتے ہیں: {” فُلاَنٌ نَهَارُهُ صَائِمٌ وَلَيْلُهُ قَائِمٌ “} ”فلاں کا دن روزہ رکھنے والا اور رات قیام کرنے والی ہے۔“
وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ وہ ایک ایمان اور بڑھا لیں زمین اور آسمانوں کے سب لشکر اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ علیم و حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون (اور اطیمنان) ڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ اور بھی ایمان میں بڑھ جائیں، اور آسمانوں اور زمین کے ﴿کل﴾ لشکر اللہ ہی کے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ دانا باحکمت ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا تاکہ انہیں یقین پر یقین بڑھے اور اللہ ہی کی ملک ہیں تمام لشکر آسمانوں اور زمین کے اور اللہ علم و حکمت والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (اللہ) وہی ہے جس نے اہلِ ایمان کے دلوں میں سکون و اطمینان اتارا تاکہ وہ اپنے (پہلے) ایمان کے ساتھ ایمان میں اور بڑھ جائیں اور آسمانوں اور زمین کے سب لشکر اللہ ہی کے ہیں اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی، تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ایمان میں زیادہ ہو جائیں اور آسمانوں اور زمین کے لشکر اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اطمینان و رحمت ٭٭
«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کر دیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے، اس سے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کر دیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بے نشان کر دینے کے لیے بس کافی تھا، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہو جائے اور دلیل بھی سامنے آ جائے اس کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ایمانداروں کو اپنی بہترین نعمتیں اس بہانے عطا فرمائے۔ پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ صحابہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہمارے لیے کیا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ ’ مومن مرد و عورت جنتوں میں جائیں گے جہاں چپے چپے پر نہریں جاری ہیں اور جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے ‘ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور ان کی برائیاں دور اور دفع کر دے، انہیں ان کی برائیوں کی سزا نہ دے بلکہ معاف فرما دے درگزر کر دے، بخش دے، پردہ ڈال دے، رحم کرے اور ان کی قدر دانی کرے، دراصل یہی اصل کامیابی ہے۔ جیسے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» ۱؎ [3-آلعمران:185] ’ یعنی جو جہنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا۔ ‘ پھر ایک اور وجہ اور غایت بیان کی جاتی ہے کہ اس لیے بھی کہ نفاق اور شرک کرنے والے مرد و عورت جو اللہ تعالیٰ کے احکام میں بدظنی کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کے ساتھ برے خیال رکھتے ہیں یہ ہیں ہی کتنے؟ آج نہیں تو کل ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا اس جنگ میں بچ گئے تو اور کسی لڑائی میں تباہ ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل اس برائی کا دائرہ انہی پر ہے ان پر اللہ کا غضب ہے یہ رحمت الٰہی سے دور ہیں ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ دوبارہ اپنی قوت، قدرت اپنے اور اپنے بندوں کے دشمنوں سے انتقام لینے کی طاقت کو ظاہر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے۔
4۔ 1 یعنی اس اضطراب کے بعد جو مسلمانوں کو شرائط صلح کی وجہ سے لاحق ہوا اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں سکینت نازل فرما دی جس سے ان کے دلوں کو اطمینان سکون اور ایمان مزید حاصل ہوا یہ آیت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ 4۔ 2 یعنی اگر اللہ چاہے تو اپنے کسی لشکر (مثلًا فرشتوں) سے کفار کو ہلاک کروا دے، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت ایسا نہیں کیا اور اس کے بجائے مومنوں کو قتال و جہاد کا حکم دیا ہے۔
(آیت 4) ➊ {هُوَ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ فِيْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِيْنَ: ” السَّكِيْنَةَ “} سے مراد وہ سکون و اطمینان اور ثباتِ قلب ہے جس کا اتارنا اللہ تعالیٰ نے مدینہ سے نکلنے سے لے کر اس فتح مبین کے حصول تک مومنوں کے دلوں پر مسلسل جاری رکھا اور جو اس فتح کا اہم سبب بنا، ورنہ اگر مسلمان مدینہ سے عمرہ کے لیے نکلتے وقت منافقین کی طرح سوچنے لگتے کہ یہ تو صریحاً موت کے منہ میں جانا ہے، یا راستے میں جب اطلاع ملی کہ قریش لڑنے مرنے پر تلے ہوئے ہیں تو ہمت ہار جاتے، یا حدیبیہ میں پہنچنے پر جس طرح کفار نے مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکا اور چھاپے اور شب خون مار مار کر انھیں اشتعال دلانے کی کوشش کی، پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پھیلی، ان میں سے کسی موقع پر اگر مسلمان اپنے آپ پر قابو نہ رکھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر قائم نہ رہتے تو یہ فتح مبین کبھی حاصل نہ ہوتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سکینت ہی تھی جس نے ہر موقع پر انھیں اطاعت پر ثابت قدم رکھا۔ پھر جب صلح کی وہ شرائط ان کے سامنے آئیں جو مسلمانوں کو سخت ناپسند اور ان کے خیال میں ان کی ذلت کا باعث تھیں، خصوصاً ابوجندل رضی اللہ عنہ مظلومیت کی تصویر بنے ہوئے مجمع عام میں آ کھڑے ہوئے، اس موقع پر اس سکینت ہی کی برکت تھی کہ سب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر سرِتسلیم خم کر دیا۔ ➋ { لِيَزْدَادُوْۤا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِهِمْ:} یعنی ایمان انھیں پہلے بھی حاصل تھا مگر ان تمام آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے کی وجہ سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا چلاگیا اور جب اس ثابت قدمی کے خوش گوار نتائج سامنے آئے تو ان کا ایمان مزید بڑھ گیا۔ یہ آیت بھی ان بہت سی آیات و احادیث میں سے ایک ہے جو ایمان میں زیادتی اور کمی کی دلیل ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے متعدد آیات و احادیث کے ساتھ اس مسئلے کو مدلل ذکر فرمایا ہے۔ روح المعانی میں ہے: ”بخاری نے فرمایا، میں بہت سے شہروں میں ایک ہزار سے زائد علماء سے ملا، میں نے ان میں سے ایک شخص بھی نہیں دیکھا جو اس بات سے اختلاف کرتا ہو کہ ایمان قول اور عمل ہے اور اس میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے اور انھوں نے اس کی عقلی اور نقلی دلیلیں بیان کی ہیں۔ عقلی دلیل تو یہ ہے کہ ایمان کی حقیقت میں تفاوت نہ ہو تو امت کے عام آدمیوں کا ایمان، جو فسق و فجور میں منہمک رہتے ہیں، انبیاء کے ایمان کے برابر ہو گا اور یہ لازم باطل ہے، سو ملزوم بھی ایسا ہی ہے اور نقلی دلیل یہ کہ اس مفہوم کی آیات و احادیث بہت زیادہ ہیں جن میں سے ایک یہ آیت ہے جو زیر تفسیر ہے۔“ (ملخصاً) یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان میں زیادتی کا مطلب اعمال کے لحاظ سے زیادتی ہی نہیں بلکہ دل کی تصدیق اور اس کے یقین میں بھی زیادتی اور کمی ہوتی ہے۔ کبھی یقین کا یہ حال ہوتا ہے کہ آدمی اپنی جان، مال اور ہر چیز اللہ کی راہ میں لٹانے پر تیار ہو جاتا ہے اور کبھی اس یقین میں ایسی کمی ہوتی ہے کہ اسلام قبول کرتے وقت ایمان کا جو سرمایہ اسے حاصل ہوا تھا وہ بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ تعجب اور افسوس ہے ان بڑے بڑے شیوخ الحدیث پر جو اتنی صریح آیات و احادیث کے باوجود یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ایمان میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے، ان کے علم کا کمال یہی ہے کہ وہ تاویل کے ذریعے سے ثابت کر دیتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کا ایمان برابر ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے دھڑے کے کسی بزرگ نے کہہ دیا ہے کہ ایمان میں نہ زیادتی ہوتی ہے نہ کمی۔ ➌ { وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} یعنی آپ کو ظاہری اسباب کی کمی کے باوجود یہ فتح مبین آپ کی جد و جہد یا ذاتی کمال کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد کی بدولت حاصل ہوئی، کیونکہ وہی آسمانوں کے اور زمین کے بے شمار لشکروں کا مالک ہے، جس کی چاہتا ہے جس لشکر کے ساتھ چاہتا ہے مدد کر دیتا ہے۔ آسمانوں کے لشکروں کی مثال بدر میں نازل ہونے والے فرشتے، احزاب میں آنے والی آندھی اور بدر میں اترنے والی بارش ہیں اور زمین کے لشکروں کی مثال فتح مکہ کے موقع پر آنے والے دس ہزار مجاہدین کا عظیم الشان لشکر ہے۔ {” لِلّٰهِ “} کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہوا، جس کا مطلب ہوا کہ اللہ تعالیٰ مانتا ہی نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں اس کے علاوہ بھی کسی کے پاس کوئی لشکر ہے، کیونکہ اس کے سامنے کسی کی کوئی حیثیت نہیں۔ ➍ { وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِيْمًا حَكِيْمًا:} یعنی اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے لشکروں کا اکیلا مالک ہے اور لشکر بھی ایسے کہ ان میں سے کسی لشکر کا ایک فرد اگر اللہ کا حکم ہو تو تمام کفار کو نیست و نابود کر دے، مگر اس نے یہ فتح مبین اور نصر عزیز صلح کی صورت میں عطا فرمائی، کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ اس کے علم میں یہ بات تھی اور اس کی حکمت کا تقاضا تھا کہ اب کفار کو تلوار کی مار کے بجائے اسلام اور مسلمانوں کو سمجھنے اور ان کی دعوت سننے کا موقع دیا جائے، تاکہ کافر مسلمان ہو جائیں اور دشمن دوست بن جائیں۔ واضح رہے، یہاں {” عَلِيْمًا حَكِيْمًا “} فرمایا ہے، جبکہ آگے جہاںکفار و منافقین کے لیے عذاب اور لعنت کا ذکر فرمایا ہے وہاں {” عَزِيْزًا حَكِيْمًا “} فرمایا ہے، کیونکہ عذاب و غضب کے ذکر کے مناسب صفت علم کے بجائے صفت عزیز ہے۔
(اُس نے یہ کام اِس لیے کیا ہے) تاکہ مومن مردوں اور عورتوں کو ہمیشہ رہنے کے لیے ایسی جنتوں میں داخل فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور اُن کی برائیاں اُن سے دور کر دے اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ مومن مردوں اور عورتوں کو ان جنتوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں جہاں وه ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناه دور کر دے، اور اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے
احمد رضا خان بریلوی
تاکہ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور انکی برائیاں ان سے اتار دے، اور یہ اللہ کے یہاں بڑی کامیابی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(یہ اس لئے ہے) تاکہ وہ مؤمن مَردوں اور مؤمن عورتوں کو ایسے بہشتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں رواں دواں ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور تاکہ ان کی برائیاں ان سے دور کر دے (ان کا کفارہ کر دے) اور یہ اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے اور ان سے ان کی برائیاں دور کرے اور یہ ہمیشہ سے اللہ کے نزدیک بہت بڑی کامیابی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اطمینان و رحمت ٭٭
«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کر دیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے، اس سے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کر دیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بے نشان کر دینے کے لیے بس کافی تھا، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہو جائے اور دلیل بھی سامنے آ جائے اس کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ایمانداروں کو اپنی بہترین نعمتیں اس بہانے عطا فرمائے۔ پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ صحابہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہمارے لیے کیا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ ’ مومن مرد و عورت جنتوں میں جائیں گے جہاں چپے چپے پر نہریں جاری ہیں اور جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے ‘ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور ان کی برائیاں دور اور دفع کر دے، انہیں ان کی برائیوں کی سزا نہ دے بلکہ معاف فرما دے درگزر کر دے، بخش دے، پردہ ڈال دے، رحم کرے اور ان کی قدر دانی کرے، دراصل یہی اصل کامیابی ہے۔ جیسے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» ۱؎ [3-آلعمران:185] ’ یعنی جو جہنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا۔ ‘ پھر ایک اور وجہ اور غایت بیان کی جاتی ہے کہ اس لیے بھی کہ نفاق اور شرک کرنے والے مرد و عورت جو اللہ تعالیٰ کے احکام میں بدظنی کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کے ساتھ برے خیال رکھتے ہیں یہ ہیں ہی کتنے؟ آج نہیں تو کل ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا اس جنگ میں بچ گئے تو اور کسی لڑائی میں تباہ ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل اس برائی کا دائرہ انہی پر ہے ان پر اللہ کا غضب ہے یہ رحمت الٰہی سے دور ہیں ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ دوبارہ اپنی قوت، قدرت اپنے اور اپنے بندوں کے دشمنوں سے انتقام لینے کی طاقت کو ظاہر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے۔
5۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ جب مسلمانوں نے سورة فتح کا ابتدائی حصہ سنا لیغفرلک اللہ تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک ہو ہمارے لیے کیا ہے جس پر اللہ نے آیت لیدخل المومنین نازل فرما دی (صحیح بخاری باب غزوہ الحدیبیۃ)
(آیت 5) ➊ {لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ …:} سب سے واضح اور صحیح بات یہی ہے کہ {” لِيُدْخِلَ “} کا لام {” هُوَ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ “} کے متعلق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ”وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی، تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ایمان میں اور زیادہ ہو جائیں (اور) تاکہ اس سکینت اور ایمان کی زیادتی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان باغوں میں داخل کرے جن کے تلے نہریں چلتی ہیں۔“ ➋ { وَ الْمُؤْمِنٰتِ:} مومن عورتوں کا ذکر خاص طور پر یہاں اس لیے فرمایا کہ جہاد کا اجر صرف مردوں کے ساتھ خاص نہ سمجھ لیا جائے، کیونکہ مومن عورتیں بھی جہاد میں شریک ہوتی ہیں۔ وہ اپنے بھائیوں، خاوندوں، بیٹوں، باپوں اور دوسرے عزیزوں کے جہاد پر نکلنے میں رکاوٹ نہیں بنتیں، بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں، ان کی عدم موجودگی میں تنہائی اور دوسری پریشانیوں پر صبر کرتی ہیں اور ان کی شہادت کی صورت میں بیوہ ہونے اور بچوں کے یتیم ہونے پر صبر کرتی ہیں۔ ان میں سے کئی لشکر کے ساتھ جا کر کھانا پکانے، کپڑے دھونے، صفائی کرنے کی اور دوسری خدمات سرانجام دیتی ہیں۔ لڑائی کی صورت میں مجاہدوں کو پانی پلانے، زخمیوں کی مرہم پٹی اور بیماروں کی تیمار داری کا اہتمام کرتی ہیں۔ (ابن عاشور) ➋ { جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ …:} جنتوں میں داخل کرنے سے مراد یہاں خاص داخلہ ہے جو مجاہدین کے ساتھ خاص ہے، وہ داخلہ نہیں جو محض ایمان اور عمل صالح کی بدولت حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے ساتھ ہی فرمایا: «وَ يُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ» ”اور تاکہ وہ ان سے ان کی برائیاں دور کرے۔“(ابن عاشور) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ فِی الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللّٰهُ لِلْمُجَاهِدِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰهَ فَاسْأَلُوْهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَی الْجَنَّةِ أُرَاهُ قَالَ وَ فَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ ] [بخاري، الجھاد والسیر، باب درجات المجاہدین في سبیل اللّٰہ: ۲۷۹۰ ] ”جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ نے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار فرمائے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے، تو جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا افضل اور جنت کا اعلیٰ حصہ ہے۔ (یحییٰ بن صالح نے کہا) میں سمجھتا ہوں یوں کہا کہ اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔“
اور اُن منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے متعلق برے گمان رکھتے ہیں برائی کے پھیر میں وہ خود ہی آ گئے، اللہ کا غضب ان پر ہوا اور اس نے ان پر لعنت کی اور ان کے لیے جہنم مہیا کر دی جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تاکہ ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرکہ عورتوں کو عذاب دے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانیاں رکھنے والے ہیں، (دراصل) انہیں پر برائی کا پھیرا ہے، اللہ ان پر ناراض ہوا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی اور وه (بہت) بری لوٹنے کی جگہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور عذاب دے منافق مَردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مَردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ پر گمان رکھتے ہیں انہیں پر ہے بری گردش اور اللہ نے اُن پر غضب فرمایا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لیے جہنم تیار فرمایا، اور وہ کیا ہی برا انجام ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور تاکہ وہ (اللہ) منافق مَردوں اور منافق عورتوں، مشرک مَردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے بارے میں برے گمان کرتے ہیں برائی کی گردش انہی پر ہے اللہ ان پر غضبناک ہے اور ان پر لعنت کی ہے اور ان کیلئے جہنم تیار کر رکھی ہے اور وہ بہت برا انجام ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور (تاکہ) ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے بارے میں گمان کرنے والے ہیں، برا گمان، انھی پر بری گردش ہے اور اللہ ان پر غصے ہوا اور اس نے ان پر لعنت کی اور ان کے لیے جہنم تیار کی اور وہ لوٹنے کی بری جگہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اطمینان و رحمت ٭٭
«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کر دیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے، اس سے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کر دیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بے نشان کر دینے کے لیے بس کافی تھا، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہو جائے اور دلیل بھی سامنے آ جائے اس کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ایمانداروں کو اپنی بہترین نعمتیں اس بہانے عطا فرمائے۔ پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ صحابہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہمارے لیے کیا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ ’ مومن مرد و عورت جنتوں میں جائیں گے جہاں چپے چپے پر نہریں جاری ہیں اور جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے ‘ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور ان کی برائیاں دور اور دفع کر دے، انہیں ان کی برائیوں کی سزا نہ دے بلکہ معاف فرما دے درگزر کر دے، بخش دے، پردہ ڈال دے، رحم کرے اور ان کی قدر دانی کرے، دراصل یہی اصل کامیابی ہے۔ جیسے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» ۱؎ [3-آلعمران:185] ’ یعنی جو جہنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا۔ ‘ پھر ایک اور وجہ اور غایت بیان کی جاتی ہے کہ اس لیے بھی کہ نفاق اور شرک کرنے والے مرد و عورت جو اللہ تعالیٰ کے احکام میں بدظنی کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کے ساتھ برے خیال رکھتے ہیں یہ ہیں ہی کتنے؟ آج نہیں تو کل ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا اس جنگ میں بچ گئے تو اور کسی لڑائی میں تباہ ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل اس برائی کا دائرہ انہی پر ہے ان پر اللہ کا غضب ہے یہ رحمت الٰہی سے دور ہیں ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ دوبارہ اپنی قوت، قدرت اپنے اور اپنے بندوں کے دشمنوں سے انتقام لینے کی طاقت کو ظاہر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے۔
6 ۔ 1 یعنی اللہ کو اس کے حکموں پر مہتم کرتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ یہ مغلوب یا مقتول ہوجائیں گے اور دین اسلام کا خاتمہ ہوجائے گا۔ (ابن کثیر) 6۔ 1 یعنی یہ جس گردش، عذاب یا ہلاکت کے مسلمانوں کے لئے منتظر ہیں، وہ تو انہی کا مقدر بننے والی ہے
(آیت 6) ➊ { وَ يُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِيْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ …:} اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سکینت کی بدولت ایمان والے مجاہد مردوں اور عورتوں کے جنت میں داخلے کے ذکر کے بعد ان لوگوں کو عذاب دینے کا ذکر فرمایا جو اس غزوہ کے نتیجے میں اللہ کے غضب اور لعنت کا نشانہ بنے اور جہنم ان کا ٹھکانا بنی۔ منافقین و کفار کو یہ عذاب مسلمانوں کی تلواروں کے ساتھ بھی دیا گیا، جیسا کہ فرمایا: «قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ» [ التوبۃ: ۱۴] ”ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔“ اور مسلسل خوف اور رسوائی کے ساتھ بھی اور مسلمانوں کی کامیابیاں اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کی صورت میں بھی۔ آخرت کا عذاب اس کے علاوہ اور ان سب سے بڑھ کر ہے۔ یہاں منافقین کا ذکر کفار سے پہلے کرنے کا مقصد مسلمانوں کو آگاہ کرنا ہے کہ منافقین کا کفر پوشیدہ ہے، اس لیے وہ زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں، لہٰذا مسلمانوں کو نہ انھیں بھولنا چاہیے اور نہ ان سے کبھی غافل ہونا چاہیے۔ منافق اور مشرک مردوں کے ساتھ منافق اور مشرک عورتوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ وہ بھی ان کی پوری طرح راز دار، ہر طرح سے معاون اور تمام سازشوں میں شریک ہیں۔ ➋ { الظَّآنِّيْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ:} ”منافقین“ سے مراد مدینہ منورہ کے منافقین ہیں اور ”مشرکین“ سے مراد مکہ معظمہ کے مشرکین۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو ذلت و رسوائی کا عذاب دیا، اس لیے کہ منافقین کا اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ غلط گمان تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم جو عمرۂ حدیبیہ ادا کرنے کے لیے آپ کے ساتھ گئے ہیں وہ واپس مدینہ نہیں آ سکیں گے، مشرکین انھیں وہیں تباہ و برباد کر دیں گے اور مشرکین نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر گز اپنے دین کو مٹنے سے نہیں بچا سکے گا اور کفر کا کلمہ بلند ہو کر رہے گا۔ (قرطبی وغیرہ) ➌ { عَلَيْهِمْ دَآىِٕرَةُ السَّوْءِ:} اس جملے کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ کی آیت (۹۸) کی تفسیر۔ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہی ہے: {” أَيْ اَلظَّانِّيْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ وَالْمُتَرَبِّصِيْنَ لَكُمُ الدَّوَائِرَ، عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ“} ”(تاکہ ان منافقین و منافقات اور مشرکین و مشرکات کو عذاب دے) جو اللہ کے متعلق برا گمان کرنے والے اور تم پر زمانے کی گردشوں کا انتظار کرنے والے ہیں، بری گردش خود انھی پر آنے والی ہے۔“
زمین اور آسمانوں کے لشکر اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ زبردست اور حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کے لشکر ہیں اور اللہ غالب اور حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ ہی کی ملک ہیں آسمانوں اور زمین کے سب لشکر، اور اللہ عزت و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر اللہ ہی کے ہیں اور خدا (سب پر) غالب اور بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اورزمین کے لشکر ہیں اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اطمینان و رحمت ٭٭
«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کر دیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے، اس سے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کر دیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بے نشان کر دینے کے لیے بس کافی تھا، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہو جائے اور دلیل بھی سامنے آ جائے اس کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ایمانداروں کو اپنی بہترین نعمتیں اس بہانے عطا فرمائے۔ پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ صحابہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہمارے لیے کیا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ ’ مومن مرد و عورت جنتوں میں جائیں گے جہاں چپے چپے پر نہریں جاری ہیں اور جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے ‘ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور ان کی برائیاں دور اور دفع کر دے، انہیں ان کی برائیوں کی سزا نہ دے بلکہ معاف فرما دے درگزر کر دے، بخش دے، پردہ ڈال دے، رحم کرے اور ان کی قدر دانی کرے، دراصل یہی اصل کامیابی ہے۔ جیسے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» ۱؎ [3-آلعمران:185] ’ یعنی جو جہنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا۔ ‘ پھر ایک اور وجہ اور غایت بیان کی جاتی ہے کہ اس لیے بھی کہ نفاق اور شرک کرنے والے مرد و عورت جو اللہ تعالیٰ کے احکام میں بدظنی کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کے ساتھ برے خیال رکھتے ہیں یہ ہیں ہی کتنے؟ آج نہیں تو کل ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا اس جنگ میں بچ گئے تو اور کسی لڑائی میں تباہ ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل اس برائی کا دائرہ انہی پر ہے ان پر اللہ کا غضب ہے یہ رحمت الٰہی سے دور ہیں ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ دوبارہ اپنی قوت، قدرت اپنے اور اپنے بندوں کے دشمنوں سے انتقام لینے کی طاقت کو ظاہر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے۔
7۔ 1 اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو ہر طرح ہلاک کرنے پر قادر ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنی حکمت ومشیت کے تحت ان کو جتنی چاہے مہلت دے دے۔
(آیت 7) {وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} یہ جملہ پہلے بھی گزر چکا ہے، یہاں اللہ کے جنود سے ڈرانا اور کفار و منافقین کو عذاب، غضب اور لعنت کی وعید سنانا مقصود ہے، جس کے ساتھ عزیز کی صفت مناسبت رکھتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ جسے عذاب دینا چاہے یا ذلیل و رسوا کرنا چاہے کوئی اسے روک نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی اس کے مقابلے میں غالب آ سکتا ہے، مگر وہ حکیم بھی ہے، اس لیے اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق نافرمانوں کو فوراً نہیں پکڑتا، بلکہ انھیں مہلت دیتا ہے، تاکہ وہ باز آ جائیں، مگر جب پکڑتا ہے تو اس کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے جس سے بچ کر کوئی نکل نہیں سکتا۔
اے نبیؐ، ہم نے تم کو شہادت دینے والا، بشارت دینے والا اور خبردار کر دینے والا بنا کر بھیجا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے تجھے گواہی دینے واﻻ اور خوشخبری سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) بےشک ہم نے آپ(ص) کو گواہ بنا کر اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم نے تجھے گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا اورڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آنکھوں دیکھا گواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو فرماتا ہے ہم نے تمہیں مخلوق پر شاہد بنا کر، مومنوں کو خوشخبریاں سنانے والا، کافروں کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اس آیت کی پوری تفسیر سورۃ الاحزاب میں گزر چکی ہے۔ تاکہ اے لوگو! اللہ پر اور اس کے نبی پر ایمان لاؤ اور اس کی عظمت و احترام کرو، بزرگی اور پاکیزگی کو تسلیم کرو اور اس لیے کہ تم اللہ تعالیٰ کی صبح شام تسبیح کرو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی تعظیم و تکریم بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ دراصل خود اللہ تعالیٰ سے ہی بیعت کرتے ہیں۔
جیسے ارشاد ہے «مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ وَمَن تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا» [4-النساء:80] یعنی ’ جس نے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت کی اس نے اللہ کا کہا مانا ‘۔ ’ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے ‘ یعنی وہ ان کے ساتھ ہے، ان کی باتیں سنتا ہے، ان کا مکان دیکھتا ہے ان کے ظاہر باطن کو جانتا ہے۔ پس دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے ان سے بیعت لینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جیسے فرمایا «اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ» ۱؎ [9-التوبة:111] ’ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں اور ان کے بدلے میں جنت انہیں دے دی ہے۔ ‘ وہ راہ اللہ میں جہاد کرتے ہیں، مرتے ہیں اور مارتے ہیں اللہ کا یہ سچا وعدہ تورات و انجیل میں بھی موجود ہے اور اس قرآن میں بھی، سمجھ لو کہ اللہ سے زیادہ سچے وعدے والا کون ہو گا؟ پس تمہیں اس خرید فروخت پر خوش ہو جانا چاہیئے دراصل سچی کامیابی یہی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جس نے راہ اللہ میں تلوار اٹھا لی اس نے اللہ سے بیعت کر لی“ }۔ ۱؎ اور حدیث میں ہے { حجر اسود کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کھڑا کرے گا اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے دیکھے گا اور زبان ہو گی جس سے بولے گا اور جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہے اس کی گواہی دے گا اسے بوسہ دینے والا دراصل اللہ تعالیٰ سے بیعت کرنے والا ہے“ }۔ ۱؎ [کنز العمال:10485،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 8) {اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا:} سورت کے شروع سے یہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کے لیے فتح و نصرت، مغفرت، تکفیر سیئات اور جنت میں داخلے کی بشارت اور وعدے کا بیان ہے، جس کے ساتھ منافقین و کفار کے لیے عذاب، غضب، لعنت اور جہنم میں داخلے کی وعید کا بیان ہے۔ اب یہاں سے اس فتح مبین کے مختلف پہلوؤں کی تفصیل کا آغاز ہوتا ہے جس کی تمہید کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و منصب بیان فرمایا، تاکہ مسلمان اسے پہچانیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور جاں نثاری میں کوئی دریغ نہ کریں۔ چنانچہ فرمایا کہ ہم نے آپ کو دنیا میں لوگوں کے سامنے حق کی شہادت دینے والا، اسے تمام لوگوں تک پہنچا دینے والا، آخرت میں ان پر پیغام حق پہنچا دینے کی شہادت دینے والا، فرماں برداروں کو بشارت دینے والا اور نافرمانوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اس مقام پر اصل مقصود فتح کی بشارت اور اس سے متعلقہ معاملات ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں صرف تین الفاظ {” شَاهِدًا “، ” مُبَشِّرًا “ } اور {” نَذِيْرًا “} بیان فرمائے، جبکہ سورۂ احزاب میں مقصود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے متبنیّٰ زید رضی اللہ عنہ کی مطلقہ زینب رضی اللہ عنھا سے نکاح اور دوسرے معاملات پر منافقین کی اڑائی ہوئی گرد سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پاک کرنا ہے، اس لیے وہاں سورۂ احزاب (۴۶) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ تعریف فرمائی اور ان تینوں اوصاف کے ساتھ {” وَ دَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِيْرًا “} (اور اللہ کی طرف بلانے والا اس کے اذن سے اور روشنی کرنے والا چراغ) بھی فرمایا۔ (ابن عاشور) {” شَاهِدًا “} کی تفسیر کے لیے مزید دیکھیے سورۂ احزاب (۴۵)، بقرہ (۱۴۳) اور سورۂ نساء (۴۱)۔
تاکہ اے لوگو، تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اُس کا ساتھ دو، اس کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ (اے مسلمانو)، تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ﻻؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کا ادب کرو اور اللہ کی پاکی بیان کرو صبح وشام
احمد رضا خان بریلوی
تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول(ص) پر ایمان لاؤ اور رسول(ص) کی مدد کرو اور اس کی تعظیم و توقیر کرو اورصبح و شام اس (اللہ) کی تسبیح کرو۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور دن کے شروع اور آخر میں اس کی تسبیح کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آنکھوں دیکھا گواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو فرماتا ہے ہم نے تمہیں مخلوق پر شاہد بنا کر، مومنوں کو خوشخبریاں سنانے والا، کافروں کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اس آیت کی پوری تفسیر سورۃ الاحزاب میں گزر چکی ہے۔ تاکہ اے لوگو! اللہ پر اور اس کے نبی پر ایمان لاؤ اور اس کی عظمت و احترام کرو، بزرگی اور پاکیزگی کو تسلیم کرو اور اس لیے کہ تم اللہ تعالیٰ کی صبح شام تسبیح کرو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی تعظیم و تکریم بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ دراصل خود اللہ تعالیٰ سے ہی بیعت کرتے ہیں۔
جیسے ارشاد ہے «مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ وَمَن تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا» [4-النساء:80] یعنی ’ جس نے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت کی اس نے اللہ کا کہا مانا ‘۔ ’ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے ‘ یعنی وہ ان کے ساتھ ہے، ان کی باتیں سنتا ہے، ان کا مکان دیکھتا ہے ان کے ظاہر باطن کو جانتا ہے۔ پس دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے ان سے بیعت لینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جیسے فرمایا «اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ» ۱؎ [9-التوبة:111] ’ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں اور ان کے بدلے میں جنت انہیں دے دی ہے۔ ‘ وہ راہ اللہ میں جہاد کرتے ہیں، مرتے ہیں اور مارتے ہیں اللہ کا یہ سچا وعدہ تورات و انجیل میں بھی موجود ہے اور اس قرآن میں بھی، سمجھ لو کہ اللہ سے زیادہ سچے وعدے والا کون ہو گا؟ پس تمہیں اس خرید فروخت پر خوش ہو جانا چاہیئے دراصل سچی کامیابی یہی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جس نے راہ اللہ میں تلوار اٹھا لی اس نے اللہ سے بیعت کر لی“ }۔ ۱؎ اور حدیث میں ہے { حجر اسود کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کھڑا کرے گا اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے دیکھے گا اور زبان ہو گی جس سے بولے گا اور جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہے اس کی گواہی دے گا اسے بوسہ دینے والا دراصل اللہ تعالیٰ سے بیعت کرنے والا ہے“ }۔ ۱؎ [کنز العمال:10485،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 9) {لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ …:} ”تعزیر“ کا معنی ہے تعظیم کے ساتھ مدد کرنا۔ (راغب) اور ”توقیر“ وقار سے نکلا ہے، تعظیم کرنا۔اس بات پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ {” تُسَبِّحُوْهُ “} (اس کی تسبیح کرو) سے مراد اللہ تعالیٰ کی تسبیح ہے، کیونکہ تسبیح اللہ کے سوا کسی کی ہو ہی نہیں سکتی۔ اکثر مفسرین کے مطابق اس سے پہلے دونوں الفاظ {” تُعَزِّرُوْهُ “} اور {” تُوَقِّرُوْهُ “} میں بھی ضمیر غائب کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہونا چاہیے، تاکہ تمام ضمیروں میں موافقت رہے۔ مطلب یہ ہو گا: ”تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس (اللہ) کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور دن کے شروع اور آخر میں اس کی تسبیح کرو۔“ اللہ کی مدد سے مراد اس کے دین کی مدد ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ» [ محمد:۷ ] ”اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری مدد کرے گا۔“ بعض مفسرین نے فرمایا کہ {” وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ “} میں ضمیر غائب اس سے پہلے {” لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ “} میں مذکور {” رَسُوْلِهٖ “} کی طرف لوٹ رہی ہے، کیونکہ وہ {” تُعَزِّرُوْهُ “} کے قریب تر ہے، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے ساتھ آپ کی تعزیر و توقیر کا حکم دے کر آخر میں اپنی تسبیح کا حکم دیا۔ اس مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر و تعزیر کے بیان کی مناسبت بالکل واضح ہے کہ آگے آپ کی بیعت کو اللہ تعالیٰ سے بیعت قرار دیا۔ مطلب یہ ہو گا: ”تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس (رسول) کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور دن کے شروع اور آخر میں اس (اللہ) کی تسبیح کرو۔“ یہ معنی بھی درست ہے، اگرچہ اس میں ضمیروں میں موافقت نہیں رہتی، مگر قرینہ موجود ہو تو ضمیروں کا اتفاق ضروری نہیں ہوتا۔ اس معنی کی تائید سورۂ اعراف کی آیت سے ہوتی ہے جس میں تعزیر کا لفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آیا ہے، فرمایا: «فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ» [ الأعراف:۱۵۷ ] ”سو وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے اور اسے قوت دی اور اس کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتارا گیا، وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ “ قرآن و حدیث میں لفظ ”تعزیر“ قوت دینے یا مدد کرنے کے معنی میں اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال نہیں ہوا۔ ہاں ”توقیر“ کا مادہ {” وَقَارٌ “} اللہ تعالیٰ کے لیے سورۂ نوح میں آیا ہے، فرمایا: «مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًا» [نوح: ۱۳ ] ”تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت سے نہیں ڈرتے؟“ اس لیے سیاق کے لحاظ سے دوسرا معنی درست ہے، اگرچہ اتحاد ضمائر کی جو خوبی پہلی تفسیر میں موجود ہے وہ دوسری میں نہیں۔
اے نبیؐ، جو لوگ تم سے بیعت کر رہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کر رہے تھے ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا اب جو اس عہد کو توڑے گا اُس کی عہد شکنی کا وبال اس کی اپنی ہی ذات پر ہوگا، اور جو اُس عہد کو وفا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے، اللہ عنقریب اس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وه یقیناً اللہ سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے، تو جو شخص عہد شکنی کرے وه اپنے نفس پر ہی عہد شکنی کرتا ہے اور جو شخص اس اقرار کو پورا کرے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے تو اسے عنقریب اللہ بہت بڑا اجر دے گا
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے، تو جس نے عہد توڑا اس نے اپنے بڑے عہد کو توڑا اور جس نے پورا کیا وہ عہد جو اس نے اللہ سے کیا تھا تو بہت جلد اللہ اسے بڑا ثواب دے گا
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ (دراصل) اللہ کی بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے پس جو (اس عہد کو) توڑے گا تو اس کے توڑنے کا وبال اسی کی ذات پر ہوگا اور جو اس عہد کو پورا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے تو اللہ اسے بڑا اجر عطا کرے گا۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے، پھر جس نے عہد توڑا تو در حقیقت وہ اپنی ہی جان پر عہد توڑتا ہے اور جس نے وہ بات پوری کی جس پر اس نے اللہ سے عہد کیا تھا تو وہ اسے جلد ہی بہت بڑا اجر دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے جو بیعت کے بعد عہد شکنی کرے اس کا وبال خود اسی پر ہو گا، اللہ کا وہ کچھ نہ بگاڑے گا اور جو اپنی بیعت کو نبھا جائے وہ بڑا ثواب پائے گا یہاں جس بیعت کا ذکر ہے وہ بیعت الرضوان ہے جو ایک ببول کے درخت تلے حدیبیہ کے میدان میں ہوئی تھی اس دن بیعت کرنے والے صحابہ کی تعداد تیرہ سو، چودہ سو یا پندرہ سو تھی ٹھیک یہ ہے کہ چودہ سو تھی اس واقعہ کی حدیثیں ملاحظہ ہوں۔
بخاری شریف میں ہے ہم اس دن چودہ سو تھے ۱؎ [سنن ترمذي:961،قال الشيخ الألباني:صحیح] بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { آپ نے اس پانی میں ہاتھ رکھا پس آپ کی انگلیوں کے درمیان سے اس پانی کی سوتیں ابلنے لگیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4840] یہ حدیث مختصر ہے اس حدیث سے جس میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم سخت پیاسے ہوئے، پانی تھا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر دیا انہوں نے جا کر حدیبیہ کے کنویں میں اسے گاڑ دیا اب تو پانی جوش کے ساتھ ابلنے لگا یہاں تک کہ سب کو کافی ہو گیا، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اس روز تم کتنے تھے؟ فرمایا: چودہ سو لیکن اگر ایک لاکھ بھی ہوتے تو پانی اس قدر تھا کہ سب کو کافی ہو جاتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4840] بخاری کی روایت میں ہے کہ پندرہ سو تھے ۱؎ [صحیح بخاری:25] سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں پندرہ سو بھی مروی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:80] امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں فی الواقع تھے تو پندرہ سو اور یہی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا پہلا قول تھا پھر آپ کو کچھ وہم سا ہو گیا اور چودہ سو فرمانے لگے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سوا پندرہ سو تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4153] لیکن آپ سے مشہور روایت چودہ سو کی ہے اکثر راویوں اور اکثر سیرت نویس بزرگوں کا یہی قول ہے کہ چودہ سو تھے ایک روایت میں ہے اصحاب شجرہ چودہ سو تھے اور اس دن آٹھواں حصہ مہاجرین کا مسلمان ہوا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4155]
سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ حدیبیہ والے سال رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ سات سو صحابہ کو لے کر زیارت بیت اللہ کے ارادے سے مدینہ سے چلے، قربانی کے ستر اونٹ بھی آپ کے ہمراہ تھے، ہر دس اشخاص کی طرف سے ایک اونٹ، ہاں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ کے ساتھی اس دن چودہ سو تھے۔ ابن اسحاق اسی طرح کہتے ہیں اور یہ ان کے اوہام میں شمار ہے۔ بخاری و مسلم میں جو محفوظ ہے وہ یہ کہ ایک ہزار کئی سو تھے جیسے ابھی آ رہا ہے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس بیعت کا سبب سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ { پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا کہ آپ کو مکہ بھیج کر قریش کے سرداروں سے کہلوائیں کہ آپ لڑائی بھڑائی کے ارادے سے نہیں آئے بلکہ آپ بیت اللہ شریف کے عمرے کے لیے آئے ہیں۔ لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! میرے خیال سے تو اس کام کے لیے آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجیں کیونکہ مکہ میں میرے خاندان میں سے کوئی نہیں یعنی بنوعدی بن کعب کا قبیلہ نہیں جو میری حمایت کرے آپ جانتے ہیں کہ قریش سے میں نے کتنی کچھ اور کیا کچھ دشمنی کی ہے اور وہ مجھ سے وہ کس قدر خار کھائے ہوئے ہیں مجھے تو وہ زندہ ہی نہیں چھوڑیں گے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رائے کو پسند فرما کر سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو ابوسفیان اور سرداران قریش کے پاس بھیجا آپ جا ہی رہے تھے کہ راستے میں یا مکہ میں داخل ہوتے ہی ابان بن سعید بن عاص مل گیا اور اس نے آپ کو اپنے آگے سواری پر بٹھا لیا اپنی امان میں انہیں اپنے ساتھ مکہ میں لے گیا آپ قریش کے بڑوں کے پاس گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ بیت اللہ شریف کا طواف کرنا چاہیں تو کر لیجئے آپ نے جواب دیا کہ یہ ناممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے میں طواف کر لوں، اب ان لوگوں نے سیدنا ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو روک لیا، ادھر لشکر اسلام میں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس وحشت اثر خبر نے مسلمانوں کو اور خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا صدمہ پہنچایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب تو ہم بغیر فیصلہ کئے یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلوایا اور ان سے بیعت لی ایک درخت تلے یہ بیعت الرضوان ہوئی۔ لوگ کہتے ہیں یہ بیعت موت پر لی تھی یعنی لڑتے لڑتے مر جائیں گے۔ لیکن سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ موت پر بیعت نہیں لی تھی بلکہ اس اقرار پر کہ ہم لڑائی سے بھاگیں گے نہیں، جتنے مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم اس میدان میں تھے سب نے آپ سے بہ رضا مندی بیعت کی سوائے جد بن قیس کے جو قبیلہ بنو سلمہ کا ایک شخص تھا یہ اپنی اونٹنی کی آڑ میں چھپ گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو معلوم ہو گیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی افواہ غلط تھی۔ } ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:315/2]
اس کے بعد قریش نے سہیل بن عمرو، حویطب بن عبدالعزیٰ اور مکرز بن حفص کو آپ کے پاس بھیجا یہ لوگ ابھی یہیں تھے کہ بعض مشرکین میں سے کچھ تیز کلامی شروع ہو گئی نوبت یہاں تک پہنچی کہ سنگ باری اور تیر باری بھی ہوئی اور دونوں طرف کے لوگ آمنے سامنے ہو گئے۔ ادھر ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وغیرہ کو روک لیا، ادھر یہ لوگ رک گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے ندا کر دی کہ روح القدس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بیعت کا حکم دے گئے، آؤ اللہ کا نام لے کر بیعت کر جاؤ۔ اب کیا تھا مسلمان بے تابانہ دوڑے ہوئے حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت درخت تلے تھے، سب نے بیعت کی اس بات پر کہ وہ ہرگز ہرگز کسی صورت میں میدان سے منہ موڑنے کا نام نہ لیں گے اس سے مشرکین کانپ اٹھے اور جتنے مسلمان ان کے پاس تھے سب کو چھوڑ دیا اور صلح کی درخواست کرنے لگے۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیہقی:133/4:مرسل و ضعیف] بیہقی میں ہے کہ { بیعت کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الٰہی! عثمان تیرے اور تیرے رسول کے کام کو گئے ہوئے ہیں پس آپ نے خود اپنا ایک ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا گویا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت کی۔ }
پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ان کے اپنے ہاتھ سے بہت افضل تھا۔ ۱؎ (ضعیف: اس میں حکم بن عبدالملک ضعیف ہے) اس بیعت میں سب سے پہل کرنے والے سیدنا ابوسنان اسدی رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے سب سے آگے بڑھ کر فرمایا: اے اللہ کے رسول! ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں بیعت کر لوں آپ نے فرمایا: ”کس بات پر بیعت کرتے ہو؟“ جواب دیا جو آپ کے دل میں ہو اس پر۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیہقی:137/4:مرسل و ضعیف] آپ کے والد کا نام وہب تھا۔
صحیح بخاری میں نافع سے مروی ہے کہ { لوگ کہتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لڑکے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے پہلے اسلام قبول کیا دراصل واقعہ یوں نہیں۔ بات یہ ہے کہ حدیبیہ والے سال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ایک انصاری کے پاس بھیجا کہ جا کر اپنے گھوڑے لے آؤ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس کا علم نہ تھا یہ اپنے طور پوشیدگی سے لڑائی کی تیاریاں کر رہے تھے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت ہو رہی ہے تو یہ بیعت سے مشرف ہوئے پھر گھوڑا لینے گئے اور گھوڑا لا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیعت لے رہے ہیں اب سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اس بنا پر لوگ کہتے ہیں کہ بیٹے کا اسلام باپ سے پہلے کا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4187]
بخاری کی دوسری روایت میں ہے { لوگ الگ الگ درختوں تلے آرام کر رہے تھے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ہر ایک کی نگاہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہیں اور لوگ آپ کو گھیرے ہوئے ہیں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جاؤ ذرا دیکھو تو کیا ہو رہا ہے؟ یہ آئے دیکھا کہ بیعت ہو رہی ہے تو بیعت کر لی، پھر جا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خبر کی چنانچہ آپ بھی فوراً آئے اور بیعت سے مشرف ہوئے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4187] سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { جب ہم نے بیعت کی ہے اس وقت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آپ کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور آپ ایک ببول کے درخت تلے تھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1856] سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { اس موقعہ پر درخت کی ایک جھکی ہوئی شاخ کو آپ کے سر سے اوپر کو اٹھا کر میں تھامے ہوئے تھا ہم نے آپ سے موت پر بیعت نہیں کی بلکہ نہ بھاگنے پر }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1858-76] سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { ہم نے مرنے پر بیعت کی تھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2960] آپ فرماتے ہیں { ایک مرتبہ بیعت کر کے میں ہٹ کر ایک طرف کو کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ”سلمہ! تم بیعت نہیں کرتے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے تو بیعت کر لی، آپ نے فرمایا: ”خیر آؤ، بیعت کرو“، چنانچہ میں نے قریب جا کر پھر بیعت کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7208]
حدیبیہ کا وہ کنواں جس کا ذکر اوپر گزرا صرف اتنے پانی کا تھا کہ پچاس بکریاں بھی آسودہ نہ ہو سکیں، آپ فرماتے ہیں کہ دوبارہ بیعت کر لینے کے بعد آپ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ میں بے سپر ہوں تو آپ نے مجھے ایک ڈھال عنایت فرمائی۔ پھر لوگوں سے بیعت لینی شروع کر دی پھر آخری مرتبہ میری طرف دیکھ کر فرمایا: ”سلمہ! تم بیعت نہیں کرتے؟“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! پہلی مرتبہ جن لوگوں نے بیعت کی میں نے ان کے ساتھ ہی بیعت کی تھی پھر بیچ میں دوبارہ بیعت کر چکا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”اچھا پھر سہی“ چنانچہ اس آخری جماعت کے ساتھ بھی میں نے بیعت کی آپ نے پھر میری طرف دیکھ کر فرمایا: ”سلمہ! تمہیں ہم نے جو ڈھال دی تھی وہ کیا ہوئی؟“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! عامر سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے دیکھا کہ ان کے پاس دشمن کا وار روکنے والی کوئی چیز نہیں میں نے وہ ڈھال انہیں دے دی۔ تو آپ ہنسے اور فرمایا: ”تم بھی اس شخص کی طرح ہو جس نے اللہ سے دعا کی کہ اے الٰہی میرے پاس کسی ایسے کو بھیج دے جو مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو۔“
پھر اہل مکہ سے صلح کی تحریک کی آمدورفت ہوئی اور صلح ہو گئی، میں سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا خادم تھا ان کے گھوڑے کی اور ان کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ مجھے کھانے کو دے دیتے تھے، میں تو اپنا گھربار بال بچے مال دولت سب راہ اللہ میں چھوڑ کر ہجرت کر کے چلا آیا تھا۔ جب صلح ہو چکی ادھر کے لوگ ادھر اور ادھر کے ادھر آنے لگے، تو میں ایک درخت تلے جا کر کانٹے وغیرہ ہٹا کر اس کی جڑ سے لگ کر سو گیا، اچانک مشرکین مکہ میں سے چار شخص وہیں آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کچھ گستاخانہ کلمات سے آپس میں باتیں کرنے لگے، مجھے بڑا برا معلوم ہوا، میں وہاں سے اٹھ کر دوسرے درخت تلے چلا گیا۔ ان لوگوں نے اپنے ہتھیار اتارے درخت پر لٹکا کر وہاں لیٹ گئے تھوڑی دیر گزری ہو گی جو میں نے سنا کہ وادی کے نیچے کے حصہ سے کوئی منادی ندا کر رہا ہے کہ اے مہاجر بھائیو سیدنا ابن زنیم رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے۔ میں نے جھٹ سے تلوار تان لی اور اسی درخت تلے گیا جہاں چاروں سوئے ہوئے تھے، جاتے ہی پہلے تو ان کے ہتھیار قبضے میں کئے اور اپنے ایک ہاتھ میں انہیں دبا کر دوسرے ہاتھ سے تلوار تول کر ان سے کہا: سنو! اس اللہ کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت دی ہے تم میں سے جس نے بھی سر اٹھایا میں اس کا سر قلم کر دوں گا۔ جب وہ اسے مان چکے میں نے کہا: اٹھو اور میرے آگے آگے چلو چنانچہ ان چاروں کو لے کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ادھر میرے چچا سیدنا عامر رضی اللہ عنہ بھی مکرز نامی عبلات کے ایک مشرک کو گرفتار کر کے لائے اور بھی اسی طرح کے ستر مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کئے گئے تھے۔ آپ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو، برائی کی ابتداء بھی انہی کے سر رہے اور پھر اس کی تکرار کے ذمہ دار بھی یہی رہیں۔“ چنانچہ ان سب کو رہا کر دیا گیا اسی کا بیان آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» ۱؎ [48-الفتح:24] میں ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1807] سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے والد بھی اس موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ کا بیان ہے کہ اگلے سال جب ہم حج کو گئے تو اس درخت کی جگہ ہم پر پوشیدہ رہی ہم معلوم نہ کر سکے کہ کس جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ہم نے بیعت کی تھی اب اگر تم پر یہ پوشیدگی کھل گئی ہو تو تم جانو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4162] ایک روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج زمین پر جتنے ہیں ان سب پر افضل تم لوگ ہو۔“ آپ فرماتے ہیں اگر میری آنکھیں ہوتیں تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھا دیتا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4154] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جگہ کی تعین میں بڑا اختلاف ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جن لوگوں نے اس بیعت میں شرکت کی ہے ان میں سے کوئی جہنم میں نہیں جائے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4653،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن لوگوں نے اس درخت تلے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے سب جنت میں جائیں گے مگر سرخ اونٹ والا“، ہم جلدی دوڑے دیکھا تو ایک شخص اپنے کھوئے ہوئے اونٹ کی تلاش میں تھا ہم نے کہا چل بیعت کر اس نے جواب دیا کہ بیعت سے زیادہ نفع تو اس میں ہے کہ میں اپنا گمشدہ اونٹ پا لوں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3863،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو ثنیۃ المرار پر چڑھ جائے اس سے وہ دور ہو جائے گا جو بنی اسرائیل سے دور ہوا“، پس سب سے پہلے قبیلہ خزرج کے ایک صحابی اس پر چڑھ گئے پھر تو اور لوگ بھی پہنچ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب بخشے جاؤ گے مگر سرخ اونٹ والا۔“ ہم اس کے پاس آئے اور اس سے کہا تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار طلب کریں تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے میرا اونٹ مل جائے تو میں زیادہ خوش ہوں گا بہ نسبت اس کے کہ تمہارے صاحب میرے لیے استغفار کریں یہ شخص اپنا گمشدہ اونٹ ڈھونڈ رہا تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2785] { سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ سنا کہ اس بیعت والے دوزخ میں داخل نہیں ہوں گے تو کہا: ہاں ہوں گے، آپ نے انہیں روک دیا تو مائی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے آیت «وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا» ۱؎ [19-مريم:71] پڑھی یعنی ’ تم میں سے ہر شخص کو اس پر وارد ہونا ہے ‘، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بعد ہی فرمان باری ہے «ثُمَّ نُـنَجِّي الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِيْنَ فِيْهَا جِثِيًّا» ۱؎ [19-مريم:72] ’ یعنی پھر ہم تقویٰ والوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل اس میں گرا دیں گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2496]
{ سیدنا حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! حاطب ضرور جہنم میں جائیں گے، آپ نے فرمایا: ”تو جھوٹا ہے، وہ جہنمی نہیں، وہ بدر میں اور حدیبیہ میں موجود رہا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2495-162] ان بزرگوں کی ثنا بیان ہو رہی ہے کہ یہ اللہ سے بیعت کر رہے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کے ہاتھ ہیں، اس بیعت کو توڑنے والا اپنا ہی نقصان کرنے والا ہے اور اسے پورا کرنے والا بڑے اجر کا مستحق ہے۔ جیسے فرمایا «لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا» ۱؎ [48-الفتح:18] ’ یعنی اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے راضی ہو گیا جبکہ انہوں نے درخت تلے تجھ سے بیعت کی ان کے دلی ارادوں کو اس نے جان لیا پھر ان پر دلجمعی نازل فرمائی اور قریب کی فتح سے انہیں سرفراز فرمایا ‘۔
10۔ 1 یعنی یہ بیعت دراصل اللہ ہی کی ہے کیونکہ اسی نے جہاد کا حکم دیا ہے اور اس پر اجر بھی وہی عطا فرمائے گا جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا کہ یہ اپنے نفسوں اور مالوں کا جنت کے بدلے اللہ کے ساتھ سودا ہے التوبہ۔ 111 یہ اسی طرح ہے جیسے (مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰهَ) 4۔ النساء:80) 10۔ 2 آیت سے وہی بیعت رضوان مراد ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان شہادت کی خبر سن کر ان کا انتقام لینے کے لئے حدیبیہ میں موجود 14 یا 15 سو مسلمانوں نے لی تھی۔ 10۔ 3 نَکْث، (عہد شکنی) سے مراد یہاں بیعت کا توڑ دینا یعنی عہد کے مطابق لڑائی میں حصہ نہ لینا ہے۔ یعنی جو شخص ایسا کرے گا تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔ 10۔ 4 کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرے گا، ان کے ساتھ ہو کر لڑے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی فتح و غلبہ عطا فرما دے۔
(آیت 10) ➊ {اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ:} سیاق کے لحاظ سے اس بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے اور مفسرین نے اس کا مصداق اسی کو قرار دیا ہے، اگرچہ {” يُبَايِعُوْنَكَ “} کے لفظ میں ہر وہ بیعت شامل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی گئی، خواہ بیعت رضوان ہو یا اس سے پہلے یا بعد کی کوئی بیعت۔ اسے بیعت اس لیے کہتے ہیں کہ مسلمان اس عہد کے ذریعے سے اپنی جان اور اپنا مال جنت کے بدلے میں فروخت کر دیتا ہے۔ اسلام کا مطلب بھی یہی ہے کہ جس نے اسلام قبول کیا وہ اپنی جان اور اپنا مال اللہ تعالیٰ کے ہاتھ فروخت کر چکا، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَ يُقْتَلُوْنَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِيْلِ وَ الْقُرْاٰنِ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَيْعِكُمُ الَّذِيْ بَايَعْتُمْ بِهٖ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» [ التوبۃ: ۱۱۱ ] ”بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں اس کے ذمے پکا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ اپنا وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟ تو اپنے اس سودے پر خوب خوش ہو جاؤ جو تم نے اس سے کیا ہے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم اور اس کا شرف بیان کرنے کے لیے فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ» ”بے شک وہ لوگ جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں۔“ یہ ایسے ہی ہے جیسے فرمایا: «مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ» [ النساء: ۸۰ ] ”اور جو رسول کی اطاعت کرے تو بے شک اس نے اللہ کی اطاعت کی۔“ کیونکہ رسول، اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ ہے، اس لیے اس کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور اس کے ہاتھ پر بیعت اس کے واسطے سے اللہ تعالیٰ سے بیعت ہے۔ ➋ {يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ: ” يَدُ اللّٰهِ “} کا لفظی معنی ہے ”اللہ کا ہاتھ“ اور اللہ کے ہاتھ کی کیفیت مخلوق کے علم و ادراک سے بلند ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کے فرمائے ہوئے الفاظ پر اکتفا کرنا چاہیے کہ ”اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔“ رہی یہ بات کہ کیسے ہے؟ تو یہ بات اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ مفسرین نے یہاں مختلف تاویلیں کی ہیں اور سب تاویلوں کا باعث یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں جیسا سمجھا اور اس کا ہاتھ اوپر ہونے کو اپنا ہاتھ اوپر ہونے کی طرح سمجھا، اس لیے اس کا انکار کر دیا یا تاویل کر دی۔ حالانکہ یہ بات بہت سی آیات و احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے اور یہ بھی طے شدہ بات ہے کہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے بھی یہ آیات سنیں، کسی نے تاویل کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی، نہ کسی نے انکار کیا، جو الفاظ جس طرح آئے اسی طرح مان لیے۔ ہمیں بھی اس چکر میں نہیں پڑنا چاہیے کہ اللہ کا ہاتھ کیسا ہے اور ان کے ہاتھوں کے اوپر کس طرح ہے۔ ➌ بیعتِ رضوان وہ بیعت ہے جو حدیبیہ کے مقام پر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے ایک درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر کی تھی۔ ان کی تعداد اکثر صحیح روایات کے مطابق چودہ سو تھی، بعض صحابہ نے پندرہ سو بھی بیان کی ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ چودہ سو اور پندرہ سو دونوں روایتیں موجود ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تطبیق یہ دی ہے کہ ان کی تعداد چودہ سو اور پندرہ سو کے درمیان تھی، بعض اوقات زائد کو چھوڑ کر چودہ سو بیان کر دیے اور بعض اوقات درمیان کا عدد پورا کرکے پندرہ سو بیان کر دیے۔ احادیث میں ہے کہ ان تمام صحابہ نے یہ بیعت کی، صرف جد بن قیس نامی شخص نے بیعت نہیں کی۔ اس بیعت کا باعث یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو حدیبیہ سے اہلِ مکہ کی طرف بات چیت کے لیے بھیجا کہ وہ مسلمانوں کو بیت اللہ کا عمرہ ادا کرنے سے نہ روکیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ کے واپس آنے میں دیر ہوئی تو افواہ پھیل گئی کہ انھیں قتل کر دیا گیا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑنے کا پختہ ارادہ فرما لیا اور صحابہ کو بیعت کی دعوت دی۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو دفعہ بیعت کرنے کا ذکر کیا تو (ان کے شاگرد) یزید نے پوچھا: ” اے ابو مسلم! آپ اس دن کس چیز پر بیعت کرتے تھے؟“ انھوں نے فرمایا: ”موت پر۔“ [ بخاري، الجہاد والسیر، باب البیعۃ في الحرب علٰی أن لا یفروا:۲۹۶۰ ] جبکہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت نہیں کی بلکہ اس بات پر بیعت کی کہ ہم بھاگیں گے نہیں۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب استحباب مبایعۃ الإمام الجیش…: ۶۸ /۱۸۵۶ ] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ نے موت پر بیعت کی اور بعض نے اس بات پر کہ ہم کسی صورت میدان سے فرار اختیار نہیں کریں گے اور دونوں کی حقیقت ایک ہی ہے، کیونکہ کسی صورت نہ بھاگنے کا مطلب موت کے لیے تیار رہنا ہی ہے۔ چونکہ عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر یقینی نہیں تھی، بلکہ ان کے زندہ ہونے کا بھی امکان تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی اس بیعت میں شریک فرما لیا۔ چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [ فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ مَكَانَهُ، فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلٰی مَكَّةَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنٰی هٰذِهِ يَدُ عُثْمَانَ فَضَرَبَ بِهَا عَلٰی يَدِهِ، فَقَالَ هٰذِهِ لِعُثْمَانَ ] [بخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب مناقب عثمان بن عفان أبي عمرو القرشي رضی اللہ عنہ: ۳۶۹۹ ] ”اگر وادیٔ مکہ میں عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی شخص عزت والا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بجائے اسے بھیجتے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ بھیجا اور بیعتِ رضوان عثمان رضی اللہ عنہ کے مکہ جانے کے بعد ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ”یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔“ پھر اسے دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا: ”یہ عثمان کی بیعت ہے۔“ کفار کو جب اس بیعت کے متعلق پتا چلا تو وہ ڈر گئے اور انھوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو واپس بھیج دیا اور صلح کی کوششیں شروع کر دیں جس کے نتیجے میں صلح حدیبیہ ہوئی۔ ➍ {فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ:} یہ بات مسلم ہے کہ ان صحابہ میں سے کسی نے اس بیعت میں کیا ہوا عہد نہیں توڑا، خصوصاً اس لیے کہ یہ بیعت خونِ عثمان کے قصاص کے لیے لڑائی کے متعلق لی گئی تھی اور اس کا دورانیہ بیعت سے لے کر صلح ہونے تک تھا۔ اس بیعت سے حاصل شدہ رضوانِ الٰہی کے لیے اتنا ہی کافی ہے، اگرچہ بعدمیں بھی ان صحابہ میں سے کسی سے میدان جہاد سے فرار ثابت نہیں۔ ➎ { وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَيْهُ اللّٰهَ …:} اللہ تعالیٰ کے اس عہد کو پورا کرنے والوں کے لیے اجرِ عظیم ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راضی ہو جانے کی بشارت کے بعد جو لوگ ان مبارک ہستیوں سے بغض یا عداوت رکھیں ان کی بدنصیبی میں کیا شک ہے۔ ➏ {بِمَا عٰهَدَ عَلَيْهُ اللّٰهَ:} جمہور قراء نے {” عَلَيْهُ “} کی ”ہاء“ پر کسرہ پڑھا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ضمیر اصل میں {”هُوَ“} ہے، واؤ حذف کرنے کے بعد بھی یہ مضموم ہی رہتی ہے، جیسے {” لَهُ “} اور {” ضَرَبَهُ “} میں ہے، البتہ اس سے پہلے ”یاء“ ہو تو اس کی رعایت سے اس پر کسرہ پڑھا جاتا ہے، جیسے {”فِيْهِ، إِلَيْهِ، عَلَيْهِ“} وغیرہ میں ہے۔ یہاں حفص نے جو اس پر ضمہ پڑھا ہے آلوسی نے اس کی دو مناسبتیں بیان کی ہیں، ان میں سے ایک کی تفصیل یہ ہے کہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیعت اور عہد کا ذکر ہے جو لفظ {” اللّٰهَ “} کو ایسے طریقے سے ادا کرنے کا تقاضا کرتا ہے جس سے اس کی عظمت اور جلال کا اظہار ہوتا ہو کہ کتنی عظیم ہستی سے عہد کیا گیا ہے اور معلوم ہے کہ لفظ {” اَللّٰهُ “} سے پہلے اگر کسرہ ہو تو اس کے لام کو باریک پڑھاجاتا ہے، اسے تفخیم کے ساتھ (پر کر کے) نہیں پڑھا جاتا۔ اس لیے {” عَلَيْهُ “} کی ”ہاء“ پر کسرہ کے بجائے ضمہ لایا گیا ہے، تاکہ لفظ {” اللّٰهَ “} کی ادائیگی پوری شان و شوکت اور جلال و عظمت کے اظہار کے ساتھ ہو۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ {” عَلَيْهُ “} میں ”ہاء“ اصل میں {”هُوَ“} ہے، جیسا کہ پیچھے گزرا، لہٰذا اس کا اصل اعراب ضمہ ہے نہ کہ کسرہ، اس لیے اصل ضمہ کو باقی رکھنا اصل عہد کے قائم رکھنے اور پورا کرنے کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
اے نبیؐ، بدوی عربوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے اب وہ آ کر ضرور تم سے کہیں گے کہ "ہمیں اپنے اموال اور بال بچوں کی فکر نے مشغول کر رکھا تھا، آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں" یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں ان سے کہنا "اچھا، یہی بات ہے تو کون تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ بھی اختیار رکھتا ہے اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے؟ تمہارے اعمال سے تو اللہ ہی باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
دیہاتیوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیئے گئے تھے وه اب تجھ سے کہیں گے کہ ہم اپنے مال اور بال بچوں میں لگے ره گئے پس آپ ہمارے لئے مغفرت طلب کیجئے۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وه کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ آپ جواب دے دیجئے کہ تمہارے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا بھی اختیار کون رکھتا ہے اگر وه تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو یا تمہیں کوئی نفع دینا چاہے تو، بلکہ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خوب باخبر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اب تم سے کہیں گے جو گنوار (اعرابی) پیچھے رہ گئے تھے کہ ہمیں ہمارے مال اور ہمارے گھر والوں نے مشغول رکھا اب حضور ہماری مغفرت چاہیں اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں تم فرماؤ تو اللہ کے سامنے کسے تمہارا کچھ اختیار ہے اگر وہ تمہارا برا چاہے یا تمہاری بھلائی کا ارادہ فرمائے، بلکہ اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
صحرائی عربوں میں سے جو (سفرِ حدیبیہ میں) پیچھے چھوڑ دئیے گئے تھے وہ عنقریب کہیں گے کہ ہمارے مال اور اہل و عیال نے ہمیں مشغول رکھا (اس لئے آپ(ص) کے ہمراہ نہ جا سکے) تو آپ(ص) ہمارے لئے (خدا سے) بخشش کی دعا کیجئے! وہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے آپ(ص) کہیے! کون ہے جو اللہ کے مقابلے میں تمہارے لئے کچھ اختیار رکھتا ہے؟ اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے یانفع پہنچانا چاہے بلکہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
عنقریب بدویوں میں سے پیچھے چھوڑ دیے جانے والے تجھ سے کہیں گے کہ ہمارے اموال اور ہمارے گھر والوں نے ہمیں مشغول رکھا، سو تو ہمارے لیے بخشش کی دعا کر۔ وہ اپنی زبانوں سے کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔ کہہ دے پھر کون ہے جو اللہ سے تمھارے لیے کسی چیز کا اختیار رکھتا ہو، اگر وہ تمھارے بارے میں کسی نقصان کا ارادہ کرے، یا وہ تمھارے ساتھ کسی فائدے کا ارادہ کرے، بلکہ اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے پورا باخبر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مجاہدین کی کامیاب واپسی ٭٭
جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلے تھے اور جانتے تھے کہ کفر کی زبردست طاقت ہمیں چکنا چور کر دے گی اور جو اتنی بڑی جماعت سے ٹکر لینے گئے ہیں یہ تباہ ہو جائیں گے، بال بچوں کو ترس جائیں گے اور وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے پاکباز مجاہدین کی جماعت کے ہنسی خوشی واپس آ رہے ہیں، تو اپنے دل میں مسودے گانٹھنے لگے کہ اپنی مشیخت بنی رہے، یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی سے خبردار کر دیا کہ یہ بدباطن لوگ آ کر اپنے ضمیر کے خلاف اپنی زبان کو حرکت دیں گے اور عذر پیش کریں گے کہ حضور بال بچوں اور کام کاج کی وجہ سے نکل نہ سکے ورنہ ہم تو ہر طرح تابع فرمان ہیں ہماری جان تک حاضر ہے اپنی مزید ایمانداری کے اظہار کے لیے یہ بھی کہہ دیں گے کہ آپ ہمارے لیے استغفار کیجئے۔ تو آپ انہیں جواب دے دینا کہ تمہارا معاملہ سپرد اللہ ہے وہ دلوں کے بھید سے واقف ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچائے تو کون ہے جو اسے دفع کر سکے؟ اور اگر وہ تمہیں نفع دینا چاہے تو کون ہے جو اسے روک سکے؟ تصنع اور بناوٹ سے تمہاری ایمانداری اور نفاق سے وہ بخوبی آگاہ ہے، ایک ایک عمل سے وہ باخبر ہے، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، دراصل تمہارا پیچھے رہ جانا کسی عذر کے باعث نہ تھا بلکہ بطور نافرمانی کے ہی تھا۔ صاف طور پر تمہارا نفاق اس کے باعث تھا تمہارے دل ایمان سے خالی ہیں اللہ پر بھروسہ نہیں رسول کی اطاعت میں بھلائی کا یقین نہیں اس وجہ سے تمہاری جانیں تم پر گراں ہیں تم اپنی نسبت تو کیا بلکہ رسول اور صحابہ کی نسبت بھی یہی خیال کرتے تھے کہ یہ قتل کر دئیے جائیں گے ان کی بھوسی اڑا دی جائے گی ان میں سے ایک بھی نہ بچ سکے گا جو ان کی خبر تو لا کر دے۔ ان بدخیالیوں نے تمہیں نامرد بنا رکھا تھا تم دراصل برباد شدہ لوگ ہو کہا گیا ہے کہ «بورا» لغت عمان ہے جو شخص اپنا عمل خالص نہ کرے اپنا عقیدہ مضبوط نہ بنا لے اسے اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ میں عذاب کرے گا گو دنیا میں وہ بہ خلاف اپنے باطن کے ظاہر کرتے رہے۔
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے ملک، اپنی شہنشاہی اور اپنے اختیارات کا بیان فرماتا ہے کہ مالک و متصرف وہی ہے، بخشش اور عذاب پر قادر وہ ہے لیکن ہے غفور اور رحیم، جو بھی اس کی طرف جھکے وہ اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور جو اس کا در کھٹکھٹائے وہ اس کے لیے اپنا دروازہ کھول دیتا ہے، خواہ کتنے ہی گناہ کئے ہوں جب توبہ کرے اللہ قبول فرما لیتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے بلکہ رحم اور مہربانی سے پیش آتا ہے۔
11۔ 1 اس سے مدینے کے اطراف میں آباد قبیلے غفار مزینہ جہینہ اسلم اور وئل مراد ہیں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھنے کے بعد جس کی تفصیل آگے آئے گی عمرے کے لیے مکہ جانے کی عام منادی کرا دی مذکورہ قبیلوں نے سوچا کہ موجودہ حالات تو مکہ جانے کے لیے ساز گار نہیں ہیں وہاں ابھی کافروں کا غلبہ ہے اور مسلمان کمزور ہیں نیز مسلمان عمرے کے لیے پورے طور پر ہتھیار بند ہو کر بھی نہیں جاسکتے اگر ایسے میں کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کا فیصلہ کرلیا تو مسلمان خالی ہاتھ ان کا مقابلہ کس طرح کریں گے اس وقت مکہ جانے کا مطلب اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے چناچہ یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرے کے لیے نہیں گئے اللہ تعالیٰ ان کی بابت فرما رہا ہے کہ یہ تجھ سے مشغو لیتوں کا عذر پیش کر کے طلب مغفرت کی التجائیں کریں گے۔ 11۔ 2 یعنی زبانوں پر تو یہ ہے کہ ہمارے پیچھے ہمارے گھروں کی اور بیوی بچوں کی نگرانی کرنے والا کوئی نہیں تھا اس لیے ہمیں خود ہی رکنا پڑا لیکن حقیقت میں ان کا پیچھے رہنا نفاق اور اندیشہ موت کی وجہ سے تھا 11۔ 3 یعنی اگر اللہ تمہارے مال ضائع کرنے اور تمہارے اہل کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کرلے تو کیا تم سے کوئی اختیار رکھتا ہے کہ وہ اللہ کو ایسا نہ کرنے دے۔ 11۔ 4 یعنی تمہیں مدد پہنچانا اور تمہیں غنیمت سے نوازنا چاہے تو کوئی روک سکتا ہے یہ دراصل مذکورہ متخلفین پیچھے رہ جانے والوں کا رد ہے جنہوں نے یہ گمان کرلیا تھا کہ وہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے تو نقصان سے محفوظ اور منافع سے بہرہ ور ہوں گے حالانکہ نفع وضرر کا سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ 11۔ 5 یعنی تمہیں تمہارے عملوں کی پوری جزا دے گا۔
(آیت 11) ➊ {سَيَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عمرہ کے لیے جانے کا ارادہ فرمایا تو مدینہ کے اردگرد کے اعراب کو ساتھ چلنے کے لیے کہا، تاکہ اہلِ مکہ مسلمانوں کی تعداد دیکھ کر انھیں عمرہ سے نہ روکیں، مگر ان میں سے اکثر لوگ جان بوجھ کر پیچھے رہ گئے۔ یہ لوگ اگرچہ منافق نہیں تھے مگر ابھی تک ایمان ان کے دلوںمیں پوری طرح جاگزیں نہیں ہوا تھا۔ اس کی دلیل آگے آنے والی آیات {” قُلْ لِّلْمُخَلَّفِيْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ … “} ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مظفر و منصور واپس روانہ ہوئے تو ان لوگوں نے اپنے دلوں میں عذر بہانے تیار کیے جو وہ آپ کی آمد پر آپ کے سامنے پیش کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی راستے میں ان کے بہانوں کی اطلاع دے دی جو وہ پیش کرنے والے تھے اور ان کے پیچھے رہنے کا حقیقی سبب بھی بتا دیا۔ یہ قرآن مجید کے معجزات میں سے ہے کہ اس نے وہ بات پہلے ہی بتا دی جو بعد میں ہونے والی تھی۔ ➋ {” الْمُخَلَّفُوْنَ“} کا لفظی معنی ”پیچھے چھوڑ دیے جانے والے“ ہے، جبکہ یہ لوگ جان بوجھ کر خود پیچھے رہے تھے، تو بظاہر ان کے لیے لفظ {”مُتَخَلِّفُوْنَ“} (پیچھے رہنے والے) استعمال ہونا چاہیے تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے {” الْمُخَلَّفُوْنَ“} کا لفظ استعمال فرمایا۔ یعنی ان کی بدنیتی اور شامتِ اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انھیں ساتھ جانے کی توفیق ہی نہیں دی، بلکہ انھیں پیچھے چھوڑ دیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آدمی کا نیک اعمال سے محروم رہنا اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے، کیونکہ وہ اس کے اعمالِ بد کی وجہ سے نیک اعمال کی توفیق سلب کر لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنگِ تبوک کے مخلّفین کے متعلق فرمایا: «وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِيْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِيْنَ» [التوبۃ: ۴۶ ] ” اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ رکھتے تو اس کے لیے کچھ سامان ضرور تیار کرتے اور لیکن اللہ نے ان کا اٹھنا ناپسند کیا تو انھیں روک دیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔“ مزید دیکھیے سورۂ توبہ (۸۱)۔ ➌ { شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا:} یعنی یہ اعراب کہیں گے کہ ہمارے مال مویشی اور بیوی بچے ہمارے آپ کے ساتھ چلنے کی راہ میں رکاوٹ بن گئے، کیونکہ ان کی دیکھ بھال اور حفاظت کرنے والا کوئی نہ تھا، اس لیے ہماری اس کوتاہی پر آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں معاف فرما دے۔ ➍ { يَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَيْسَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ:} یعنی یہ لوگ تمھارے مدینہ پہنچنے پر اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہیں گے جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں۔ مال مویشی اور اہل و عیال کی رکاوٹ ان کا جھوٹا بہانہ ہے۔ اسی طرح ان کا استغفار کے لیے کہنا محض بناوٹ ہے، ورنہ گناہ کا ایسا ہی احساس ہوتا تو ساتھ کیوں نہ جاتے۔ ان کے نہ جانے کا اصل سبب اللہ علام الغیوب نے اگلی آیت میں بیان فرمایا ہے۔ ➎ {قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَيْـًٔا …:} یہ ان کی دونوں باتوں کا جواب ہے، فرمایا تم جو اپنے کہنے کے مطابق اپنے مال و اہل کی دیکھ بھال اور حفاظت کی وجہ سے ساتھ نہیں گئے، بتاؤ اگر اللہ تعالیٰ تمھیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے اور تمھارے جہاد سے پیچھے رہنے پر گھر میں موجود ہونے کے باوجود تمھارے اموال اور گھر والوں کو تباہ و برباد کر دے تو تمھیں اس سے کون بچا سکتا ہے؟ یا اگر وہ تمھیں کوئی فائدہ پہنچانا چاہے اور تمھارے جہاد پر جانے کے باوجود تمھارے اموال اور گھر والوں کی حفاظت کرے اور ان میں برکت اور اضافہ فرما دے توکون اسے روک سکتا ہے؟ جب نفع و نقصان کو کوئی روک نہیں سکتا تو اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مقابلے میں ان چیزوں کی پروا کیوں کرتے ہو؟ اور تم نے جو استغفار کے لیے کہا ہے، اگر تم فی الواقع اپنے کیے پر نادم ہو اور اللہ تعالیٰ تمھیں معاف کرنا چاہے تو کون اسے روک سکتا ہے؟ پھر اگر میں تمھارے لیے استغفار نہ بھی کروں تو تمھارا کچھ نقصان نہیں اور اگر تم نادم نہیں ہو، صرف بناوٹ کے طور پر استغفار کے لیے کہہ رہے ہو تو اس صورت میں اگر میں تمھارے لیے استغفار کر بھی دوں اور اللہ تعالیٰ تمھیں معاف نہ کرنا چاہے، بلکہ سزا دینا چاہے تو کون اسے روک سکتا ہے؟ ➏ {بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا:} یعنی بات وہ نہیں جو تم نے سمجھ رکھی ہے کہ ہم زبان سے جو کچھ کہہ دیں گے مان لیا جائے گا اور ہمارے دل کا حال چھپا رہے گا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف موجود وقت ہی میں نہیں بلکہ ہمیشہ سے ان تمام اعمال سے پورا باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ ہمیشگی کا مفہوم {” كَانَ “} ادا کر رہا ہے۔ مفسر طبری کے الفاظ ہیں: {” بَلْ لَمْ يَزَلِ اللّٰهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مِنْ خَيْرٍ وَ شَرٍّ خَبِيْرًا “} ”بلکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کے تمام اچھے اور برے اعمال کی پوری خبر رکھنے والا رہا ہے۔“
(مگر اصل بات وہ نہیں ہے جو تم کہہ رہے ہو) بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں ہرگز پلٹ کر نہ آ سکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں کو بہت بھلا لگا اور تم نے بہت برے گمان کیے اور تم سخت بد باطن لوگ ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
(نہیں) بلکہ تم نے تو یہ گمان کر رکھا تھا کہ پیغمبر اور مسلمانوں کا اپنے گھروں کی طرف لوٹ آنا قطعاً ناممکن ہے اور یہی خیال تمہارے دلوں میں رچ بس گیا تھا اور تم نے برا گمان کر رکھا تھا۔ دراصل تم لوگ ہو بھی ہلاک ہونے والے
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ تم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ رسول اور مسلمان ہرگز گھروں کو واپس نہ آئیں گے اور اسی کو اپنے دلوں میں بھلا سمجھیں ہوئے تھے اور تم نے برا گمان کیا اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے
علامہ محمد حسین نجفی
(اصل بات یہ ہے کہ) تم نے خیال کیا تھا کہ رسول(ص) اور اہلِ ایمان اب کبھی بھی اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں خوشنما بنا دی گئی اور تم نے بہت برے گمان کئے (اسی طرح) تم برباد ہو نے والی جماعت بن گئے۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ تم نے گمان کیا کہ رسول اور ایمان والے کبھی اپنے گھر والوں کی طرف واپس نہیں آئیں گے اور یہ بات تمھارے دلوں میں خوش نما بنا دی گئی اور تم نے گمان کیا، برا گمان اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مجاہدین کی کامیاب واپسی ٭٭
جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلے تھے اور جانتے تھے کہ کفر کی زبردست طاقت ہمیں چکنا چور کر دے گی اور جو اتنی بڑی جماعت سے ٹکر لینے گئے ہیں یہ تباہ ہو جائیں گے، بال بچوں کو ترس جائیں گے اور وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے پاکباز مجاہدین کی جماعت کے ہنسی خوشی واپس آ رہے ہیں، تو اپنے دل میں مسودے گانٹھنے لگے کہ اپنی مشیخت بنی رہے، یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی سے خبردار کر دیا کہ یہ بدباطن لوگ آ کر اپنے ضمیر کے خلاف اپنی زبان کو حرکت دیں گے اور عذر پیش کریں گے کہ حضور بال بچوں اور کام کاج کی وجہ سے نکل نہ سکے ورنہ ہم تو ہر طرح تابع فرمان ہیں ہماری جان تک حاضر ہے اپنی مزید ایمانداری کے اظہار کے لیے یہ بھی کہہ دیں گے کہ آپ ہمارے لیے استغفار کیجئے۔ تو آپ انہیں جواب دے دینا کہ تمہارا معاملہ سپرد اللہ ہے وہ دلوں کے بھید سے واقف ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچائے تو کون ہے جو اسے دفع کر سکے؟ اور اگر وہ تمہیں نفع دینا چاہے تو کون ہے جو اسے روک سکے؟ تصنع اور بناوٹ سے تمہاری ایمانداری اور نفاق سے وہ بخوبی آگاہ ہے، ایک ایک عمل سے وہ باخبر ہے، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، دراصل تمہارا پیچھے رہ جانا کسی عذر کے باعث نہ تھا بلکہ بطور نافرمانی کے ہی تھا۔ صاف طور پر تمہارا نفاق اس کے باعث تھا تمہارے دل ایمان سے خالی ہیں اللہ پر بھروسہ نہیں رسول کی اطاعت میں بھلائی کا یقین نہیں اس وجہ سے تمہاری جانیں تم پر گراں ہیں تم اپنی نسبت تو کیا بلکہ رسول اور صحابہ کی نسبت بھی یہی خیال کرتے تھے کہ یہ قتل کر دئیے جائیں گے ان کی بھوسی اڑا دی جائے گی ان میں سے ایک بھی نہ بچ سکے گا جو ان کی خبر تو لا کر دے۔ ان بدخیالیوں نے تمہیں نامرد بنا رکھا تھا تم دراصل برباد شدہ لوگ ہو کہا گیا ہے کہ «بورا» لغت عمان ہے جو شخص اپنا عمل خالص نہ کرے اپنا عقیدہ مضبوط نہ بنا لے اسے اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ میں عذاب کرے گا گو دنیا میں وہ بہ خلاف اپنے باطن کے ظاہر کرتے رہے۔
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے ملک، اپنی شہنشاہی اور اپنے اختیارات کا بیان فرماتا ہے کہ مالک و متصرف وہی ہے، بخشش اور عذاب پر قادر وہ ہے لیکن ہے غفور اور رحیم، جو بھی اس کی طرف جھکے وہ اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور جو اس کا در کھٹکھٹائے وہ اس کے لیے اپنا دروازہ کھول دیتا ہے، خواہ کتنے ہی گناہ کئے ہوں جب توبہ کرے اللہ قبول فرما لیتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے بلکہ رحم اور مہربانی سے پیش آتا ہے۔
12۔ 1 اور وہ یہی تھا کہ اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہیں کرے گا۔ یہ وہی پہلا گمان ہے، تکرار تاکید کے لئے ہے۔ 12۔ 2 بور، بائر کی جمع ہے ہلاک ہونے والا یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کا مقدر ہلاکت ہے اگر دنیا میں یہ اللہ کے عذاب سے بچ گئے تو آخرت میں تو بچ کر نہیں جاسکتے وہاں تو عذاب ہے ہر صورت میں بھگتنا ہوگا۔
(آیت 12) ➊ { بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ يَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ …:} یعنی تمھارے پیچھے رہنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ تم نے سمجھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان، جو احرام باندھ کر جا رہے ہیں، پورا اسلحہ بھی ساتھ لے کر نہیں جا رہے اور اس دشمن کے پاس جا رہے ہیں جس نے سیکڑوں میل دور سے آکر مدینہ میں ان کے کئی آدمی قتل کر دیے اور سخت نقصان پہنچایا، یہ وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے، کوئی بچ کر واپس نہیں آئے گا۔ ➋ { وَ زُيِّنَ ذٰلِكَ فِيْ قُلُوْبِكُمْ:} یعنی تمھیں اپنے پیچھے رہنے پر کوئی ندامت بھی نہ تھی، بلکہ دل میں خوش تھے کہ ہم نے بہت اچھا کیا کہ ساتھ نہیں گئے۔ ”یہ بات تمھارے دلوںمیں مزین کر دی گئی“ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے فعل مجہول {” زُيِّنَ “} کا لفظ استعمال فرمایا۔ مزین کس نے کیا، اس کی صراحت نہیں فرمائی، کیونکہ وہ متعدد چیزیں ہیں، مثلاً دنیا کی مرغوبات، آدمی کا نفس، شیطان اور برے ساتھی وغیرہ۔ ➌ {وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا: ” بُوْرًا “ ”بَائِرٌ“} کی جمع ہے جو {”بَارَ يَبُوْرُ بَوْرًا“} (ن) سے اسم فاعل ہے، ہلاک ہونے والے۔ یعنی اصل بات یہ ہے کہ تم شروع سے اپنی نامردی اور بزدلی کی وجہ سے تھے ہی ہلاک ہونے والے، کیونکہ بہادر مومن تو ایک دفعہ مرتا ہے جبکہ بزدل منافق ہر گھڑی مرتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ» [ المنافقون: ۴ ] ”(ایسے بزدل ہیں کہ) ہر اونچی آواز کو اپنے آپ پر آنے والی (آفت) ہی سمجھتے ہیں۔“
اللہ اور اس کے رسول پر جو لوگ ایمان نہ رکھتے ہوں ایسے کافروں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان نہ ﻻئے تو ہم نے بھی ایسے کافروں کے لئے دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جو ایمان نہ لائے اللہ اور اس کے رسول پر تو بیشک ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول(ص) پر ایمان نہ لائے تو ہم نے ان کافروں کیلئے بھڑکتی ہوئی آگ (دوزخ) تیار کر رکھی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لایا تو یقینا ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مجاہدین کی کامیاب واپسی ٭٭
جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلے تھے اور جانتے تھے کہ کفر کی زبردست طاقت ہمیں چکنا چور کر دے گی اور جو اتنی بڑی جماعت سے ٹکر لینے گئے ہیں یہ تباہ ہو جائیں گے، بال بچوں کو ترس جائیں گے اور وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے پاکباز مجاہدین کی جماعت کے ہنسی خوشی واپس آ رہے ہیں، تو اپنے دل میں مسودے گانٹھنے لگے کہ اپنی مشیخت بنی رہے، یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی سے خبردار کر دیا کہ یہ بدباطن لوگ آ کر اپنے ضمیر کے خلاف اپنی زبان کو حرکت دیں گے اور عذر پیش کریں گے کہ حضور بال بچوں اور کام کاج کی وجہ سے نکل نہ سکے ورنہ ہم تو ہر طرح تابع فرمان ہیں ہماری جان تک حاضر ہے اپنی مزید ایمانداری کے اظہار کے لیے یہ بھی کہہ دیں گے کہ آپ ہمارے لیے استغفار کیجئے۔ تو آپ انہیں جواب دے دینا کہ تمہارا معاملہ سپرد اللہ ہے وہ دلوں کے بھید سے واقف ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچائے تو کون ہے جو اسے دفع کر سکے؟ اور اگر وہ تمہیں نفع دینا چاہے تو کون ہے جو اسے روک سکے؟ تصنع اور بناوٹ سے تمہاری ایمانداری اور نفاق سے وہ بخوبی آگاہ ہے، ایک ایک عمل سے وہ باخبر ہے، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، دراصل تمہارا پیچھے رہ جانا کسی عذر کے باعث نہ تھا بلکہ بطور نافرمانی کے ہی تھا۔ صاف طور پر تمہارا نفاق اس کے باعث تھا تمہارے دل ایمان سے خالی ہیں اللہ پر بھروسہ نہیں رسول کی اطاعت میں بھلائی کا یقین نہیں اس وجہ سے تمہاری جانیں تم پر گراں ہیں تم اپنی نسبت تو کیا بلکہ رسول اور صحابہ کی نسبت بھی یہی خیال کرتے تھے کہ یہ قتل کر دئیے جائیں گے ان کی بھوسی اڑا دی جائے گی ان میں سے ایک بھی نہ بچ سکے گا جو ان کی خبر تو لا کر دے۔ ان بدخیالیوں نے تمہیں نامرد بنا رکھا تھا تم دراصل برباد شدہ لوگ ہو کہا گیا ہے کہ «بورا» لغت عمان ہے جو شخص اپنا عمل خالص نہ کرے اپنا عقیدہ مضبوط نہ بنا لے اسے اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ میں عذاب کرے گا گو دنیا میں وہ بہ خلاف اپنے باطن کے ظاہر کرتے رہے۔
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے ملک، اپنی شہنشاہی اور اپنے اختیارات کا بیان فرماتا ہے کہ مالک و متصرف وہی ہے، بخشش اور عذاب پر قادر وہ ہے لیکن ہے غفور اور رحیم، جو بھی اس کی طرف جھکے وہ اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور جو اس کا در کھٹکھٹائے وہ اس کے لیے اپنا دروازہ کھول دیتا ہے، خواہ کتنے ہی گناہ کئے ہوں جب توبہ کرے اللہ قبول فرما لیتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے بلکہ رحم اور مہربانی سے پیش آتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 13) {وَ مَنْ لَّمْ يُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ …:} اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے متعلق برا گمان رکھے، مسلمان ہونے کے باوجود مسلمانوں کے نقصان پر اور اپنی جان بچانے پر خوش ہو وہ مومن نہیں بلکہ کافر ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایسے کافروں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کلمۂ اسلام کہنے اور مسلمانوں کے ساتھ مسلمان بن کر رہنے کی وجہ سے دنیوی احکام میں انھیں مسلمان ہی سمجھا جائے گا، مگر آخرت میں ان کے لیے کھلے کافروں سے بھی سخت عذاب تیار ہے، فرمایا: «اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ» [ النساء: ۱۴۵ ] ”بے شک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک اللہ ہی ہے جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے، اور وہ غفور و رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور زمین اور آسمانوں کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے۔ اور اللہ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کیلئے ہے جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے، وہ بخش دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور سزا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مجاہدین کی کامیاب واپسی ٭٭
جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلے تھے اور جانتے تھے کہ کفر کی زبردست طاقت ہمیں چکنا چور کر دے گی اور جو اتنی بڑی جماعت سے ٹکر لینے گئے ہیں یہ تباہ ہو جائیں گے، بال بچوں کو ترس جائیں گے اور وہیں کاٹ ڈالے جائیں گے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے پاکباز مجاہدین کی جماعت کے ہنسی خوشی واپس آ رہے ہیں، تو اپنے دل میں مسودے گانٹھنے لگے کہ اپنی مشیخت بنی رہے، یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی سے خبردار کر دیا کہ یہ بدباطن لوگ آ کر اپنے ضمیر کے خلاف اپنی زبان کو حرکت دیں گے اور عذر پیش کریں گے کہ حضور بال بچوں اور کام کاج کی وجہ سے نکل نہ سکے ورنہ ہم تو ہر طرح تابع فرمان ہیں ہماری جان تک حاضر ہے اپنی مزید ایمانداری کے اظہار کے لیے یہ بھی کہہ دیں گے کہ آپ ہمارے لیے استغفار کیجئے۔ تو آپ انہیں جواب دے دینا کہ تمہارا معاملہ سپرد اللہ ہے وہ دلوں کے بھید سے واقف ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچائے تو کون ہے جو اسے دفع کر سکے؟ اور اگر وہ تمہیں نفع دینا چاہے تو کون ہے جو اسے روک سکے؟ تصنع اور بناوٹ سے تمہاری ایمانداری اور نفاق سے وہ بخوبی آگاہ ہے، ایک ایک عمل سے وہ باخبر ہے، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، دراصل تمہارا پیچھے رہ جانا کسی عذر کے باعث نہ تھا بلکہ بطور نافرمانی کے ہی تھا۔ صاف طور پر تمہارا نفاق اس کے باعث تھا تمہارے دل ایمان سے خالی ہیں اللہ پر بھروسہ نہیں رسول کی اطاعت میں بھلائی کا یقین نہیں اس وجہ سے تمہاری جانیں تم پر گراں ہیں تم اپنی نسبت تو کیا بلکہ رسول اور صحابہ کی نسبت بھی یہی خیال کرتے تھے کہ یہ قتل کر دئیے جائیں گے ان کی بھوسی اڑا دی جائے گی ان میں سے ایک بھی نہ بچ سکے گا جو ان کی خبر تو لا کر دے۔ ان بدخیالیوں نے تمہیں نامرد بنا رکھا تھا تم دراصل برباد شدہ لوگ ہو کہا گیا ہے کہ «بورا» لغت عمان ہے جو شخص اپنا عمل خالص نہ کرے اپنا عقیدہ مضبوط نہ بنا لے اسے اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ میں عذاب کرے گا گو دنیا میں وہ بہ خلاف اپنے باطن کے ظاہر کرتے رہے۔
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے ملک، اپنی شہنشاہی اور اپنے اختیارات کا بیان فرماتا ہے کہ مالک و متصرف وہی ہے، بخشش اور عذاب پر قادر وہ ہے لیکن ہے غفور اور رحیم، جو بھی اس کی طرف جھکے وہ اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور جو اس کا در کھٹکھٹائے وہ اس کے لیے اپنا دروازہ کھول دیتا ہے، خواہ کتنے ہی گناہ کئے ہوں جب توبہ کرے اللہ قبول فرما لیتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے بلکہ رحم اور مہربانی سے پیش آتا ہے۔
14۔ 1 اس میں متخلفین کے لیے توبہ وانابت الی اللہ کی ترغیب ہے کہ اگر وہ نفاق سے توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے گا وہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
(آیت 14) ➊ { وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} یہ ان پیچھے چھوڑ دیے جانے والے اعراب کو فرمایا جن کا اوپر ذکر ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، اگر تم نے نفاق پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد پر جانے سے گریز پر اصرار کیا تو کسی میں طاقت نہیں کہ وہ جو عذاب دینا چاہے اس سے تمھیں بچا سکے، یا اگر وہ تمھاری ندامت اور توبہ پر تمھیں معاف کر دے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ ➋ { يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ …:} اس میں ان اعراب کو توبہ کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی طرف پلٹ آنے کی ترغیب دی ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے بیٹھ رہنے سے توبہ کر لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے والا اور ان پر رحم کرنے والا ہے اور اس کی یہ صفت آج نہیں بلکہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے۔ ➌ { ” يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ “} کی تقسیم سے معلوم ہوا کہ پیچھے رہنے والوں میں سے کچھ ایسے ہوں گے جو نفاق سے توبہ کرکے اخلاص کی نعمت سے سرفراز ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت سے فیض یاب ہوں گے اور کچھ ایسے بھی ہوں گے جو نفاق سے توبہ نہیں کریں گے اور اللہ تعالیٰ انھیں عذاب دے گا۔ آگے آیت: «قُلْ لِّلْمُخَلَّفِيْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ …» سے بھی یہ بات واضح ہو رہی ہے۔
جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں اِن سے صاف کہہ دینا کہ "تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے، اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے" یہ کہیں گے کہ "نہیں، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو" (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جب تم غنیمتیں لینے جانے لگو گے تو جھٹ سے یہ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ کہنے لگیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیجئے، وه چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو بدل دیں آپ کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی فرما چکا ہے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے، وه اس کا جواب دیں گے (نہیں نہیں) بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو، (اصل بات یہ ہے) کہ وه لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اب کہیں گے پیچھے بیٹھ رہنے والے جب تم غنیمتیں لینے چلو تو ہمیں بھی اپنے پیچھے آنے دو وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں تم فرماؤ ہرگز ہمارے ساتھ نہ آؤ اللہ نے پہلے سے یونہی فرمادیا تو اب کہیں گے بلکہ تم ہم سے جلتے ہو بلکہ وہ بات نہ سمجھتے تھے مگر تھوڑی
علامہ محمد حسین نجفی
جب تم (جنگِ خیبر میں) غنیمتیں حاصل کرنے کیلئے چلوگے تو جو پیچھے چھوڑ دئیے گئے وہ ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اجازت دو کہ ہم آپ کے پیچھے آئیں وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی بات کو بدل دیں۔ آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ تم اب کبھی ہمارے پیچھے نہیں آسکتے! اللہ پہلے ہی ایسی بات کہہ چکا ہے اس پر وہ ضرور کہیں گے کہ بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو بلکہ یہ (کم عقل) بہت ہی کم بات سمجھتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
عنقریب پیچھے چھوڑ دیے جانے والے لوگ کہیں گے جب تم کچھ غنیمتوں کی طرف چلو گے، تا کہ انھیں لے لو ،ہمیں چھوڑو کہ ہم تمھارے ساتھ چلیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔ کہہ دے تم ہمارے ساتھ کبھی نہیں جاؤ گے، اسی طرح اللہ نے پہلے سے کہہ دیا ہے۔ تو وہ ضرور کہیں گے بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو۔ بلکہ وہ نہیں سمجھتے تھے مگر بہت تھوڑا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مال غنیمت کے طالب ٭٭
ارشاد الٰہی ہے کہ جن بدوی لوگوں نے حدیبیہ میں اللہ کے رسول اور صحابہ کا ساتھ نہ دیا وہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان صحابہ رضی اللہ عنہم کو خیبر کی فتح کے موقع پر مال غنیمت سمیٹنے کے لیے جاتے ہوئے دیکھیں گے تو آرزو کریں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے لو، مصیبت کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے راحت کو دیکھ کر شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ انہیں ہرگز ساتھ نہ لینا جب یہ جنگ سے جی چرائیں تو پھر غنیمت میں حصہ کیوں لیں؟ اللہ تعالیٰ نے خیبر کی غنیمتوں کا وعدہ اہل حدیبیہ سے کیا ہے نہ کہ ان سے جو مشکل وقت پر ساتھ نہ دیں اور آرام کے وقت مل جائیں ان کی چاہت ہے کہ کلام الٰہی کو بدل دیں۔ یعنی اللہ نے تو صرف حدیبیہ کی حاضری والوں سے وعدہ کیا تو یہ چاہتے ہیں کہ باوجود اپنی غیر حاضری کے اللہ کے اس وعدے میں مل جائیں تاکہ وہ بھی بدلا ہوا ثابت ہو جائے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:343/11] ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے یہ حکم الٰہی ہے «فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَاىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِيَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِيَ عَدُوًّا» [9-التوبة:83] یعنی ’ اے نبی! اگر تمہیں اللہ ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے اور وہ تم سے جہاد کے لیے نکلنے کی اجازت مانگیں تو تم ان سے کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہ نکلو اور میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے نہ لڑو ‘، تم وہی ہو کہ پہلی مرتبہ ہم سے پیچھے رہ جانے میں ہی خوش رہے بس اب ہمیشہ بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو لیکن اس قول میں نظر ہے اس لیے کہ یہ آیت سورۃ برات کی ہے جو غزوہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور غزوہ تبوک غزوہ حدیبیہ کے بہت بعد کا ہے۔
ابن جریج رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مراد اس سے ان منافقوں کا مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ ملا کر جہاد سے باز رکھنا ہے، فرماتا ہے کہ انہیں ان کی اس آرزو کا جواب دو کہ تم ہمارے ساتھ چلنا چاہو اس سے پہلے اللہ یہ وعدہ اہل حدیبیہ سے کر چکا ہے اس لیے تم ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اب وہ طعنہ دیں گے کہ اچھا ہمیں معلوم ہو گیا تم ہم سے جلتے ہو تم نہیں چاہتے کہ غنیمت کا حصہ تمہارے سوا کسی اور کو ملے، اللہ فرماتا ہے دراصل یہ ان کی ناسمجھی ہے اور اسی ایک پر کیا موقوف ہے یہ لوگ سراسر بےسمجھ ہیں۔
15۔ 1 اس میں غزوہ خیبر کا ذکر ہے جس کی فتح کی نوید اللہ تعالیٰ نے حدیبیہ میں دی تھی نیز اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ یہاں سے جتنا بھی مال غنیمت حاصل ہوگا وہ صرف حدیبیہ میں شریک ہونے والوں کا حصہ ہے چناچہ حدیبیہ سے واپسی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی مسلسل عہد شکنی کی وجہ سے خیبر پر چڑھائی کا پروگرام بنایا تو مذکورہ متخلفین نے بھی محض مال غنیمت کے حصول کے لیے ساتھ جانے کا ارادہ ظاہر کیا جسے منظور نہیں کیا گیا آیت میں مغانم سے مراد مغانم خیبر ہی ہیں۔ 15۔ 2 اللہ کے کلام سے مراد، اللہ کا خیبر کی غنیمت کو اہل حدیبیہ کے لئے خاص کرنے کا وعدہ ہے، منافقین اس میں شریک ہو کر اللہ کے کلام یعنی اس کے وعدے کو بدلنا چاہتے تھے۔ 15۔ 3 یہ نفی بمعنی نہی ہے یعنی تمہیں ہمارے ساتھ چلنے کی اجازت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی یہی ہے۔ 15۔ 4 یعنی یہ متخلفین کہیں گے کہ تم ہمیں حسد کی بنا پر ساتھ لے جانے سے گریز کر رہے ہو تاکہ مال غنیمت میں ہم تمہارے ساتھ شریک نہ ہوں۔ 15۔ 5 یعنی بات یہ نہیں ہے جو وہ سمجھ رہے ہیں، بلکہ یہ پابندی ان کے پیچھے رہنے کی پا داش میں ہے۔ لیکن اصل بات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔
(آیت 15) ➊ { سَيَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ …:} اللہ تعالیٰ نے بیعتِ رضوان میں شریک صحابہ پر اپنے بہت سے انعامات کے علاوہ، جن کا ذکر آیت (۱۸، ۱۹) میں آ رہا ہے، انھیں ایک بہت جلدی حاصل ہونے والی فتح کا وعدہ بھی فرمایا جس میں انھیں بہت سی غنیمتیں حاصل ہوں گی۔ مقصد ان کی اس دل شکنی کا ازالہ تھا جو حدیبیہ کے موقع پر ہوئی، اس کے علاوہ اس اطاعت، وفا داری اور جاں فروشی کا انعام دینا بھی تھا جس کا مظاہرہ انھوں نے اس سارے غزوہ کے دوران کیا۔ ان غنیمتوں سے مراد خیبر ہے جس کا فتح کرنا یہودیوں کی مسلسل شرارتوں اور عہد شکنیوں کی وجہ سے نہایت ضروری تھا، مگر قریش کی حمایت کی وجہ سے اس میں مشکلات در پیش تھی۔ اب قریش کی طرف سے بے فکری ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر چڑھائی کا ارادہ فرمایا۔ اس مہم میں مسلمانوں کی فتح اور بے شمار غنیمتوں کا حصول سب کو صاف نظر آ رہا تھا اور ایسے ہی ہوا کہ صلح حدیبیہ کے تین ماہ بعد ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر چڑھائی کی اور بڑی آسانی سے اسے فتح فرما لیا، بلکہ خیبر کے اردگرد کی یہودیوں کی بہت سی بستیاں بھی کسی خاص مزاحمت کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ آ گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی آگاہ فرما دیا کہ جب تم خیبر کی طرف غنیمتیں حاصل کرنے کے لیے روانہ ہو گے تو یہ پیچھے رہنے والے کہیں گے، ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دو۔ ➋ { يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ان غنیمتوں کا وعدہ اس درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں سے کیا تھا اور یہ چاہتے ہیں کہ وہ غنیمتیں ان لوگوں کو بھی مل جائیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانے کے لیے گھر ہی سے نہیں نکل سکے، بیعت انھوں نے خاک کرنا تھی۔ اب ان کی بات مان لی جائے تو اللہ کی بات تو اپنی جگہ نہ رہی۔ ➌ { قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا:} آپ ان سے کہیے، تم ہمارے ساتھ ہر گز نہیں جاؤ گے، کیونکہ یہ ان لوگوں کا حق ہے جنھوں نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا جب موت آنکھوں کے سامنے نظر آ رہی تھی۔ ➍ {كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ پہلے ہی کر دیا ہے کہ فتح کے ثمرات کے حق دار بھی صرف وہ ہیں جنھوں نے اس وقت ساتھ دیا جب جان و مال کی بازی لگانے کا وقت تھا۔ ➎ { فَسَيَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا:} فرمایا، یہ لوگ ساتھ جانے کی اجازت نہ ملنے پر کہیں گے، بلکہ تم لوگ ہم پر حسد کرتے ہو کہ ان غنیمتوں کے حصول سے ہماری مالی حالت اچھی نہ ہو جائے۔ ➏ { بَلْ كَانُوْا لَا يَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا:} فرمایا، مسلمانوں کو ان پر کوئی حسد نہیں اور نہ ان کی پاک فطرت میں اس کی گنجائش ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کو خواہ مخواہ مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، اپنے قصور کی سمجھ نہ انھیں پہلے آئی نہ اب تک اسے سمجھ رہے ہیں ({كَانُوْا} میں استمرار ہے) کہ جب اس سے پہلے وہ کوئی جانی و مالی خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں ہوئے تو اب آسانی سے ہاتھ آنے والے مالِ غنیمت میں انھیں کیسے حصے دار بنایا جا سکتا ہے اور جب پہلے ان کے اموال اور گھر والوں نے انھیں گھر سے نکلنے سے روکے رکھا تو اب وہ انھیں نکلنے سے کیوں نہیں روک رہے؟ بہت کم سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بالکل نہیں سمجھتے۔ قرآن مجید اور کلامِ عرب میں قلیل کا لفظ مطلق نفی کے لیے عام استعمال ہوا ہے۔
اِن پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ "عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لیے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہو جائیں گے اُس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا، اور اگر تم پھر اُسی طرح منہ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم کو دردناک سزا دے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ پیچھے چھوڑے ہوئے بدویوں سے کہہ دو کہ عنقریب تم ایک سخت جنگجو قوم کی طرف بلائے جاؤ گے کہ تم ان سے لڑوگے یا وه مسلمان ہوجائیں گے پس اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تمہیں بہت بہتر بدلہ دے گا اور اگر تم نے منھ پھیر لیا جیسا کہ اس سے پہلے تم منھ پھیر چکے ہو تو وه تمہیں دردناک عذاب دے گا
احمد رضا خان بریلوی
ان پیچھے رہ گئے ہوئے گنواروں سے فرماؤ عنقریب تم ایک سخت لڑائی والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے کہ ان سے لڑو یا وہ مسلمان ہوجائیں، پھر اگر تم فرمان مانو گے اللہ تمہیں اچھا ثواب دے گا، ور اگر پھر گے جیسے پہلے پھر گئے تو تمھیں درد ناک عذاب دے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) ان پیچھے والے صحرائی عربوں سے کہیے! عنقریب تمہیں ایک سخت جنگجو قوم کے خلاف جہاد کیلئے بلایا جائے گا تم ان سے لڑوگےیا وہ اسلام لائیں گے پس اگر تم نے اطاعت کی تو اللہ تمہیں بہت اچھا اجر عطا کرے گا۔ اور اگر تم نے اسی طرح منہ موڑا جس طرح پہلے منہ موڑا تھا تو وہ تمہیں (دردناک) عذاب دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
بدویوں میں سے پیچھے چھوڑے جانے والوں سے کہہ دے عنقریب تم ایک سخت لڑنے والی قوم کی طرف بلائے جائو گے، تم ان سے لڑو گے، یا وہ مسلمان ہو جائیں گے، پھر اگر تم حکم مانو گے تو اللہ تمھیں اچھا اجر دے گا اور اگر پھر جاؤ گے، جیسے تم اس سے پہلے پھر گئے تو وہ تمھیں سزا دے گا، درد ناک سزا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وہ سخت لڑاکا قوم جن سے لڑنے کی طرف یہ بلائے جائیں گے کون سی قوم ہے؟ اس میں کئی اقوال ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ہوازن ہے، دوسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ثقیف ہے، تیسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ بنو حنیفہ ہے، چوتھے یہ کہ اس سے مراد اہل فارس ہیں، پانچویں یہ کہ اس سے مراد رومی ہیں، چھٹے یہ کہ اس سے مراد بت پرست ہیں۔ بعض فرماتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص قبیلہ یا گروہ نہیں بلکہ مطلق جنگجو قوم مراد ہے جو ابھی تک مقابلہ میں نہیں آئی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں۔
ایک مرفوع حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم ایک ایسی قوم سے نہ لڑو جن کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ناک بیٹھی ہوئی ہو گی ان کے منہ مثل تہہ بہ تہہ ڈھالوں کے ہوں گے۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:2928] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ترک ہیں ایک حدیث میں ہے کہ { تمہیں ایک قوم سے جہاد کرنا پڑے گا جن کی جوتیاں بال دار ہوں گی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں }۔ پھر فرماتا ہے کہ ان سے جہاد قتال تم پر مشروع کر دیا گیا ہے اور یہ حکم باقی رہے گا اللہ تعالیٰ ان پر تمہاری مدد کرے گا یا یہ کہ وہ خودبخود بغیر لڑے بھڑے دین اسلام قبول کر لیں گے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اگر تم مان لو گے اور جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہو جاؤ گے اور حکم کی بجا آوری کرو گے تو تمہیں بہت ساری نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے وہی کیا جو حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا یعنی بزدلی سے بیٹھے رہے جہاد میں شرکت نہ کی احکام کی تعمیل سے جی چرایا تو تمہیں المناک عذاب ہو گا۔ پھر جہاد کے ترک کرنے کے جو صحیح عذر ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے پس دو عذر تو وہ بیان فرمائے جو لازمی ہیں یعنی اندھا پن اور لنگڑا پن اور ایک عذر وہ بیان فرمایا جو عارضی ہے جیسے بیماری کہ چند دن رہی پھر چلی گئی۔
پس یہ بھی اپنی بیماری کے زمانہ میں معذور ہیں ہاں تندرست ہونے کے بعد یہ معذور نہیں پھر جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار جنتی ہے اور جو جہاد سے بے رغبتی کرے اور دنیا کی طرف سراسر متوجہ ہو جائے، معاش کے پیچھے معاد کو بھول جائے اس کی سزا دنیا میں ذلت اور آخرت کی دکھ مار ہے۔
1 6 ۔ 1 اس جنگجو قوم کی تعیین میں اختلاف ہے بعض مفسرین اس سے عرب کے ہی بعض قبائل مراد لیتے ہیں مثلا ہوازن یا ثقیف جن سے حنین کے مقام پر مسلمانوں کی جنگ ہوئی یا مسیلمۃ الکذاب کی قوم بنو حنیفہ اور بعض نے فارس اور روم کے مجوسی و عیسائی مراد لیے ہیں ان پیچھے رہ جانے والے بدویوں سے کہا جا رہا ہے کہ عنقریب ایک جنگجو قوم سے مقابلے کے لیے تمہیں بلایا جائے گا اگر وہ مسلمان نہ ہوئے تو تمہاری اور ان کی جنگ ہوگی۔ 16۔ 2 یعنی خلوص دل سے مسلمانوں کے ساتھ ملکر لڑو گے۔ 16۔ 3 دنیا میں غنیمت اور آخرت میں پچھلے گناہوں کی مغفرت اور جنت۔ 16۔ 4 یعنی جس طرح حدیبیہ کے موقع پر تم نے مسلمانوں کے ساتھ مکہ جانے سے گریز کیا تھا، اسی طرح اب بھی تم جہاد سے بھاگو گے، تو پھر اللہ کا دردناک عذاب تمہارے لئے تیار ہے۔
(آیت 16) ➊ { قُلْ لِّلْمُخَلَّفِيْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ …:} اس آیت میں پیچھے رہنے والے اعراب کو تسلی دلائی ہے کہ آئندہ غزوات میں انھیں شرکت کا اور غنیمتیں حاصل کرنے کا پورا پورا موقع دیا جائے گا، تاکہ انھیں اطمینان ہو جائے کہ انھیں اسلامی لشکر کے ساتھ خیبر میں جانے سے اس لیے منع نہیں کیا گیا کہ وہ اسلام سے نکل گئے ہیں، بلکہ اس کا ایک خاص سبب ہے جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔ چنانچہ آئندہ جس طرح دوسرے مسلمانوں کو کفار سے لڑنے کی دعوت دی جائے گی انھیں بھی دی جائے گی۔ اس آیت میں ان کی اس دل شکنی کا مداوا فرمایا ہے جو خیبر میں شریک نہ کیے جانے سے ہوئی اور ان کے حق میں یہ عظیم خوش خبری بھی دی کہ وہ خیبر سے پیچھے رہ جانے کی کوتاہی کی تلافی کر سکتے ہیں اور تاریخ شاہد ہے کہ حدیبیہ سے پیچھے رہنے والے اعراب کے یہ قبائل آئندہ جنگوں مثلاً فتح مکہ، جنگ حنین، جنگ تبوک اور جنگ یمامہ میں شریک ہوئے، ان میں سے کم ہی کوئی شخص ان جنگوں سے پیچھے رہا۔ یہ آیت اس بات کی بھی دلیل ہے کہ یہ لوگ ایمان سے محروم نہیں ہوئے تھے، کیونکہ اس کے بعد جنگ تبوک سے پیچھے رہنے والے منافقین، جو دل میں کفر چھپائے ہوئے تھے، ان کے ساتھ یہ معاملہ نہیں کیا گیا، نہ انھیں آئندہ کسی جنگ میں شرکت کی دعوت دی گئی اور نہ ان کے حق میں یہ اجازت ملی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِيَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِيَ عَدُوًّا اِنَّكُمْ رَضِيْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِيْنَ (83) وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ» [ التوبۃ: 84،83] ”پس اگر اللہ تجھے ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے آئے، پھر وہ تجھ سے (جنگ کے لیے) نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دے تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکلو گے اور میرے ساتھ مل کر کبھی کسی دشمن سے نہیں لڑو گے۔ بے شک تم پہلی مرتبہ بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے، سو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس کا کبھی جنازہ نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بے شک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اس حال میں مرے کہ وہ نافرمان تھے۔ “ ➋ { سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ:} جنگ تبوک سے پیچھے رہنے والے منافقین کے برعکس غزوۂ حدیبیہ سے پیچھے رہنے والے اعراب کے متعلق فرمایا کہ آئندہ تمھیں سخت لڑائی والے لوگوں سے جنگ کے لیے بلایا جائے گا۔ {” سَتُدْعَوْنَ “} (عنقریب تمھیں بلایا جائے گا) کا لفظ عام ہے، تاکہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کا جنگ کے لیے دعوت دینا بھی شامل ہو جائے۔ ان سخت لڑائی والے لوگوں کے بارے میں مفسرین کے چار اقوال ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد ثقیف و ہوازن ہیں جن کے ساتھ جنگِ حنین ہوئی۔ دوسرا یہ کہ اس سے مراد رومی ہیں جن سے جنگ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک میں سب لوگوں کو ساتھ جانے کی دعوت دی اور بعد میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما کے زمانے میں بھی ان سے جنگ ہوئی۔ تیسرا یہ کہ اس سے مراد بنو حنیفہ کے مرتدین ہیں جن سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جنگ کی اور چوتھا قول یہ ہے کہ اس سے مراد اہلِ فارس ہیں جن کے ساتھ ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنھما کے زمانے میں جنگ ہوئی۔ امام طبری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اعراب کے ان مخلفین کے متعلق فرمایا کہ انھیں سخت لڑائی والے اور بہادر لوگوں سے لڑنے کی دعوت دی جائے گی اور کسی عقلی یا نقلی دلیل سے ثابت نہیں ہوتا کہ اس سے مراد خاص ہوازن ہیں یا بنو حنیفہ یا فارس یا روم۔ ہو سکتا ہے ان سے مراد ان میں سے بعض ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے علاوہ کوئی اور لوگ ہوں۔ اور اس قول سے زیادہ کوئی قول صحیح نہیں ہو سکتا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انھیں ایک سخت لڑنے والی قوم کی طرف بلایا جائے گا، سو اسی پر اکتفا ہونا چاہیے۔“ ➌ { تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ يُسْلِمُوْنَ:} یعنی تم ان سے لڑو گے یا وہ لڑائی کے نتیجے میں یا لڑائی کے بغیر ہی تابع فرمان ہو جائیں گے، یا جزیہ دینا قبول کر لیں گے۔ بعض مفسرین نے {” اَوْ يُسْلِمُوْنَ “} کا معنی کیا ہے ”یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔“ ان کے مطابق اس آیت میں ان لوگوں سے جنگ کی پیش گوئی ہے جن سے جزیہ لینے کی اجازت نہیں تھی، بلکہ ان کے لیے دو ہی راستے تھے کہ یا مسلمان ہو جائیں یا جنگ کے لیے تیار رہیں۔ یہود و نصاریٰ سے بالاتفاق جزیہ لینا درست ہے، ہجر کے مجوس سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جزیہ لینا ثابت ہے۔ البتہ مشرکین عرب کے متعلق سورۂ توبہ(۵) میں یہ حکم اترا کہ ان سے اس وقت تک جنگ کی جائے جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، ان میں سے کسی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ نہیں لیا۔ ان مفسرین کے قول کے مطابق اس آیت سے مراد ثقیف و ہوازن ہو سکتے ہیں جو جنگ حنین میں قتل ہو گئے یا گرفتار ہونے کے بعد سب کے سب مسلمان ہو گئے، یا بنو حنیفہ کے مرتدین ہیں جن سے اس وقت تک جنگ کی گئی جب تک وہ دوبارہ مسلمان نہیں ہو گئے۔ البتہ پہلے قول کے مطابق {” تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ يُسْلِمُوْنَ “} (تم ان سے لڑو گے یا وہ تابع فرمان ہو جائیں گے) سے مراد ہوازن، روم و فارس، مرتدین اور وہ تمام کفار ہو سکتے ہیں جن سے مسلمان آئندہ جنگ کرنے والے تھے اور یہ قول زیادہ جامع ہے۔ ➍ {فَاِنْ تُطِيْعُوْا يُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا:} یعنی اگر تم ان جنگجو لوگوں سے لڑنے کے حکم کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھیں بہت اچھا بدلا دے گا، دنیا میں فتح و نصرت اور عزت و غنیمت سے نوازے گا اور آخرت میں جنت عطا کرے گا۔ ➎ {وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِّنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا:} اور اگر اطاعت سے پھر جاؤ گے، جیسا کہ اس سے پہلے حدیبیہ کے موقع پر پھر گئے تھے تو تمھیں درد ناک سزا دے گا کہ دنیا میں ذلت کی زندگی بسر کرو گے اور آخرت میں جہنم میں جاؤ گے۔
اگر اندھا اور لنگڑا اور مریض جہاد کے لیے نہ آئے تو کوئی حرج نہیں جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے اُن جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، اور جو منہ پھیرے گا اسے وہ دردناک عذاب دے گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اندھے پر کوئی حرج نہیں ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی حرج ہے، جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اسے اللہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے (درختوں) تلے نہریں جاری ہیں اور جو منھ پھیر لے اسے دردناک عذاب (کی سزا) دے گا
احمد رضا خان بریلوی
اندھے پر تنگی نہیں اور نہ لنگڑے پر مضائقہ اور نہ بیمار پر مواخذہ اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں اور جو پھر جائے گا اسے دردناک عذاب فرمائے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
اندھے پر کوئی مضائقہ نہیں ہے اورنہ ہی لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ مریض پر کوئی گناہ اور جو خدا اور رسول(ص) کی اطاعت کرے گا۔ تو اللہ اسے ان بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں رواں دواں ہیں اور جو رُوگردانی کرے گا تو اسے دردناک عذاب دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
نہیں ہے اندھے پر کوئی تنگی اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی اور نہ بیمار پر کوئی تنگی اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے گا وہ اسے ان باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور جو پھر جائے گا وہ اسے سزا دے گا، دردناک سزا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وہ سخت لڑاکا قوم جن سے لڑنے کی طرف یہ بلائے جائیں گے کون سی قوم ہے؟ اس میں کئی اقوال ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ہوازن ہے، دوسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ثقیف ہے، تیسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ بنو حنیفہ ہے، چوتھے یہ کہ اس سے مراد اہل فارس ہیں، پانچویں یہ کہ اس سے مراد رومی ہیں، چھٹے یہ کہ اس سے مراد بت پرست ہیں۔ بعض فرماتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص قبیلہ یا گروہ نہیں بلکہ مطلق جنگجو قوم مراد ہے جو ابھی تک مقابلہ میں نہیں آئی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں۔
ایک مرفوع حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم ایک ایسی قوم سے نہ لڑو جن کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ناک بیٹھی ہوئی ہو گی ان کے منہ مثل تہہ بہ تہہ ڈھالوں کے ہوں گے۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:2928] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ترک ہیں ایک حدیث میں ہے کہ { تمہیں ایک قوم سے جہاد کرنا پڑے گا جن کی جوتیاں بال دار ہوں گی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں }۔ پھر فرماتا ہے کہ ان سے جہاد قتال تم پر مشروع کر دیا گیا ہے اور یہ حکم باقی رہے گا اللہ تعالیٰ ان پر تمہاری مدد کرے گا یا یہ کہ وہ خودبخود بغیر لڑے بھڑے دین اسلام قبول کر لیں گے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اگر تم مان لو گے اور جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہو جاؤ گے اور حکم کی بجا آوری کرو گے تو تمہیں بہت ساری نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے وہی کیا جو حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا یعنی بزدلی سے بیٹھے رہے جہاد میں شرکت نہ کی احکام کی تعمیل سے جی چرایا تو تمہیں المناک عذاب ہو گا۔ پھر جہاد کے ترک کرنے کے جو صحیح عذر ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے پس دو عذر تو وہ بیان فرمائے جو لازمی ہیں یعنی اندھا پن اور لنگڑا پن اور ایک عذر وہ بیان فرمایا جو عارضی ہے جیسے بیماری کہ چند دن رہی پھر چلی گئی۔
پس یہ بھی اپنی بیماری کے زمانہ میں معذور ہیں ہاں تندرست ہونے کے بعد یہ معذور نہیں پھر جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار جنتی ہے اور جو جہاد سے بے رغبتی کرے اور دنیا کی طرف سراسر متوجہ ہو جائے، معاش کے پیچھے معاد کو بھول جائے اس کی سزا دنیا میں ذلت اور آخرت کی دکھ مار ہے۔
17۔ 1 بصارت سے محرومی اور لنگڑے پن کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذوری۔ یہ دونوں عذر لازمی ہیں۔ ان اصحاب عذر یا ان جیسے دیگر معذورین کو جہاد سے مستثنٰی کردیا گیا ان کے علاوہ جو بیماریاں ہیں وہ عارضی عذر ہیں۔
(آیت 17) ➊ { لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ …:} ان تینوں میں سے اندھے اور لنگڑے کا عذر دائمی ہے اور بیمار کا عارضی، جو بیماری ختم ہونے پر ختم ہو جاتا ہے۔ جہاد سے پیچھے رہنے والوں پر عتاب کے بعد فرمایا کہ نابینا، لنگڑا اور بیمار اگر جہاد کے لیے نہ نکلیں تو ان پر کوئی حرج نہیں۔ ➋ { وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ …:} جو شخص واقعی عذر کی وجہ سے جہاد کے لیے نہ نکل سکے مگر خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کا مطیع اور خیر خواہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہتی ہیں۔ ایسے لوگ پیچھے رہنے کے باوجود جہاد میں شریک ہی سمجھے جائیں گے۔ مزید دیکھیے سورۂ توبہ کی آیت (۹۱): «مَا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ» کی تفسیر میں مذکور حدیث۔ ➌ { وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ …:} بقاعی نے اس کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ واؤ عطف کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے ایک جملہ محذوف ہے: {” أَيْ فَمَنْ تَخَلَّفَ مِنَ الضُّعَفَاءِ فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ…“} یعنی پھر اندھے، لنگڑے اور مریض میں سے جو شخص پیچھے رہ جائے اس پر کوئی حرج نہیں اور جو پیچھے نہ رہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہوئے عذر کے باوجود نکل پڑے تو اللہ تعالیٰ اسے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہتی ہیں اور جو عذر کی وجہ سے نہیں بلکہ اطاعت سے جی چراتے ہوئے جہاد سے منہ پھیرے گا اللہ تعالیٰ اسے عذاب الیم دے گا۔ جہاد کے لیے نہ نکلنے کے بعض مقبول عذر اس سے پہلے سورۂ توبہ (۹۱، ۹۲) میں بیان ہو چکے ہیں۔
اللہ مومنوں سے خوش ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے ان کے دلوں کا حال اُس کو معلوم تھا، اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی، ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وه درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کر لیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے تو اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں ہے تو ان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک اللہ مؤمنین سے راضی ہوا جب کہ وہ درخت کے نیچے آپ(ص) سے بیعت کر رہے تھے تو اس نے جان لیا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا۔ پس اس نے ان پر سکون و اطمینان نازل کیا اور انہیں انعام میں ایک قریبی فتح عنا یت فرمائی۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا اللہ ایمان والوں سے راضی ہوگیا، جب وہ اس درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے، تو اس نے جان لیا جو ان کے دلوں میں تھا، پس ان پر سکینت نازل کر دی اور انھیں بدلے میں ایک قریب فتح عطا فرمائی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
چودہ سو صحابہ اور بیعت رضوان ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہ بیعت کرنے والے چودہ سو کی تعداد میں تھے اور یہ درخت ببول کا تھا جو حدیبیہ کے میدان میں تھا، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ جب حج کو گئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ایک جگہ نماز ادا کر رہے ہیں پوچھا کہ کیا بات ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت الرضوان ہوئی تھی۔ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر یہ قصہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے بیان کیا۔ تو آپ نے فرمایا: میرے والد صاحب بھی ان بیعت کرنے والوں میں تھے، ان کا بیان ہے کہ بیعت کے دوسرے سال ہم وہاں گئے لیکن ہم سب کو بھلا دیا گیا وہ درخت ہمیں نہ ملا، پھر سعید فرمانے لگے تعجب ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود بیعت کرنے والے تو اس جگہ کو نہ پا سکیں انہیں معلوم نہ ہو لیکن تم لوگ جان لو گویا تم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ جاننے والے ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4163] پھر فرمایا ہے ان کی دلی صداقت نیت وفا اور سننے اوج جاننے والی عادت کو اللہ نے معلوم کر لیا پس ان کے دلوں میں اطمینان ڈال دیا اور قریب کی فتح انعام فرمائی۔
یہ فتح وہ صلح ہے جو حدیبیہ کے میدان میں ہوئی جس سے عام بھلائی حاصل ہوئی اور جس کے قریب ہی خیبر فتح ہوا، پھر تھوڑے ہی زمانے کے بعد مکہ بھی فتح ہو گیا، پھر اور قلعے اور علاقے بھی فتح ہوتے چلے گئے۔ اور وہ عزت و نصرت و فتح و ظفر و اقبال اور رفعت حاصل ہوئی کہ دنیا انگشت بدنداں حیران و پریشان رہ گئی۔ اسی لیے فرمایا کہ بہت سی غنیمتیں عطا فرمائے گا۔ سچے غلبہ والا اور کامل حکمت والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے ندا کی کہ لوگو! بیعت کے لیے آگے بڑھو، روح القدس آ چکے ہیں۔ ہم بھاگے دوڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ اس وقت ببول کے درخت تلے تھے ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی جس کا ذکر آیت «لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا» ۱؎ [48-الفتح:18] میں ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ نے اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر خود ہی بیعت کر لی، تو ہم نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بڑے خوش نصیب رہے کہ ہم تو یہاں پڑے ہوئے ہیں اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہوں گے یہ سن کر جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالکل ناممکن ہے کہ عثمان ہم سے پہلے طواف کر لے، گو کئی سال تک وہاں رہے۔“ ۱؎ (ضعیف: اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں)
18۔ 1 یہ ان اصحاب بیعت رضوان کے لیے رضائے الہی اور ان کے پکے سچے مومن ہونے کا سرٹیفکیٹ ہے جنہوں نے حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے اس بات پر بیعت کی کہ وہ قریش مکہ سے لڑیں گے اور راہ فرار اختیار نہیں کریں گے۔ 18۔ 2 یعنی ان کے دلوں میں جو صدق و صفا کے جذبات تھے، اللہ ان سے بھی واقف ہے۔ اس سے ان دشمنان صحابہ اکرام کا رد ہوگیا جو کہتے ہیں کہ ان کا ایمان ظاہری تھا، دل سے وہ منافق تھے۔ 18۔ 3 یعنی وہ نہتے تھے جنگ کی نیت سے نہیں گئے تھے اس لیے جنگی ہتھیار مطلوبہ تعداد میں نہیں تھے اس کے باوجود جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان ؓ کا بدلہ لینے کے لیے ان سے جہاد کی بیعت لی تو بلا ادنی تامل سب لڑنے کے لیے تیار ہوگئے یعنی ہم نے موت کا خوف ان کے دلوں سے نکال دیا اور اس کی جگہ صبر و سکینت ان پر نازل فرما دی جس کی بنا پر انہیں لڑنے کا حوصلہ ہوا۔ 18۔ 4 اس سے مراد وہی فتح خیبر ہے جو یہودیوں کا گڑھ تھا اور حدیبیہ سے واپسی پر مسلمانوں نے اسے فتح کیا۔
(آیت 18) ➊ {لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ …:} اس سے پہلے {” اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ “} میں حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کو اللہ تعالیٰ سے بیعت قرار دینے کے بعد اس سے پیچھے رہنے والوں کا حال بیان فرمایا، اب دوبارہ بیعت کرنے والوں پر اپنی رضا کا اور دوسری بشارتوں کا ذکر فرمایا۔ ➋ اس درخت کے نیچے بیعت کرنے والے صحابہ کرام کو بیعت کے وقت ہی کائنات کی سب سے بڑی نعمت مل گئی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی، کیونکہ اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ» [ التوبۃ: ۷۲ ] ”اور اللہ کی طرف سے تھوڑی سی خوشنودی سب سے بڑی ہے۔“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ» ”بلاشبہ یقینا اللہ ایمان والوں سے اس وقت راضی ہو گیا جب وہ اس درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔“ اس رضا ہی کی وجہ سے اس کا نام بیعتِ رضوان ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا داخلہ لازم و ملزوم ہیں۔ (دیکھیے مجادلہ: ۲۲۔ توبہ: ۷۲) جب ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے شہادت دے دی کہ وہ ان پر راضی ہو گیا تو کس قدر بد نصیب ہے وہ گروہ جو ان مقبول بندوں سے ناراض اور ان سے بغض و عداوت رکھے اور کہے کہ وہ بعد میں نعوذ باللہ مرتد ہو گئے۔ کیا اللہ تعالیٰ کو آئندہ کا علم نہیں تھا اور وہ رضا کیسی ہے جس کے باوجود وہ بندے مرتد ہو جائیں جن پر وہ راضی ہے؟ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے علاوہ مزید حاصل ہونے والی نعمتوں کا بیان آگے آ رہا ہے۔ قرآن مجید کے علاوہ صحیح احادیث میں بھی بیعت رضوان میں شریک صحابہ کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما سے سنا، وہ بیان کرتے ہیں: ”حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: [ أَنْتُمْ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ ] ”تم زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔“ اور (اس وقت) ہم چودہ سو تھے اور اگر آج مجھے دکھائی دیتا ہوتا تو میں تمھیں اس درخت کی جگہ دکھاتا۔“ [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۵۴ ] ام مبشر رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے حفصہ رضی اللہ عنھا کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: [ لَا يَدْخُلُ النَّارَ، إِنْ شَاءَ اللّٰهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ الَّذِيْنَ بَايَعُوْا تَحْتَهَا ] [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل أصحاب الشجرۃ…: ۲۴۹۶ ] ”ان شاء اللہ اس درخت والوں میں سے کوئی بھی آگ میں داخل نہیں ہو گا جنھوں نے اس کے نیچے بیعت کی۔“ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حاطب رضی اللہ عنہ کا ایک غلام حاطب رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر آیا اور کہنے لگا: ”یا رسول اللہ! حاطب ضرور آگ میں داخل ہو گا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ ] [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل حاطب بن أبي بلتعۃ…: ۲۴۹۵ ] ”تو نے غلط کہا، وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، کیونکہ اس نے تو بدر اور حدیبیہ میں شرکت کی ہے۔“ ➌ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَ أَرْبَعَ مِائَةٍ فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ ] [ مسلم، الإمارۃ، باب استحباب مبایعۃ الإمام الجیش…: ۱۸۵۶ ] ”ہم حدیبیہ کے دن چودہ سو تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور عمر رضی اللہ عنہ درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور وہ کیکر کا درخت تھا۔“ ➍ طارق بن عبد اللہ نے بیان کیا کہ میں حج کرنے کے لیے گیا تو میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں، میں نے پوچھا: ”کیا یہ نماز کی جگہ ہے؟“ انھوں نے کہا: ”یہ وہ درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعتِ رضوان لی تھی۔“ میں سعید بن مسیب کے پاس آیا اور انھیں بتایا تو سعید نے فرمایا:” میرے والد نے مجھے بتایا کہ وہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنھوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، تو جب ہم اگلے سال آئے تو ہمیں وہ درخت بھلا دیا گیا، ہم اسے پا ہی نہ سکے۔“ سعید نے فرمایا: ”اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تو وہ معلوم نہ ہوا اور تم نے اسے جان لیا، پھر تم زیادہ جاننے والے ہوئے؟“ [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الحدیبیۃ: ۴۱۶۳ ] عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [ رَجَعْنَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَمَا اجْتَمَعَ مِنَّا اثْنَانِ عَلَی الشَّجَرَةِ الَّتِيْ بَايَعْنَا تَحْتَهَا، كَانَتْ رَحْمَةً مِّنَ اللّٰهِ ] [ بخاري، الجھاد والسیر، باب البیعۃ في الحرب أن لا یفروا: ۲۹۵۸ ] ”ہم آئندہ سال دوبارہ آئے تو ہم میں سے دو شخص بھی اس درخت پر متفق نہ ہو سکے جس کے نیچے ہم نے بیعت کی تھی، یہ اللہ کی طرف سے رحمت تھی۔“ فتح الباری میں اس کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس میں حکمت یہ تھی کہ اس درخت کے نیچے خیر کے اس کام کی وجہ سے لوگ فتنے میں مبتلا نہ ہو جائیں، کیونکہ اگر اس کی پہچان باقی رہتی تو بعض جاہل لوگوں سے اس کی تعظیم کا خطرہ تھا، حتیٰ کہ ممکن تھا کہ وہ یہ عقیدہ رکھ لیتے کہ اس درخت میں نفع اور نقصان پہنچانے کی طاقت ہے، جیسا کہ اب اس سے بھی معمولی چیزوں میں اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔“ ابن حجر نے اپنے زمانے کی بات کی ہے، ہمارے دور میں تو آثار پرستی کا معاملہ اس سے بھی کہیں دور پہنچ چکا ہے۔ آج کل جو لوگ پیروں فقیروں کے آستانوں کے درختوں، پتھروں اور قبروں کو پوجنے سے نہیں چوکتے اگر انھیں وہ درخت مل جاتا تو وہ کیا کچھ نہ کرتے۔ ➎ { فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے اس صدق، اخلاص اور سمع و طاعت کو جان لیا جس کی وجہ سے انھوں نے دشمن کے اعتبار سے تعداد میں بہت کم ہونے اور تقریباً نہتے ہونے کے باوجود آخر دم تک میدان میں جمے رہنے کی بیعت کی اور اس سخت اضطراب اور بے قراری کو بھی جو ان کے دل میں صلح کی ناگوار شرطوں پر پیدا ہوئی، جس کا باعث کوئی نافرمانی نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی محبت اور ان کی عزت اور سربلندی کا جذبہ تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے صدق و اخلاص کی بدولت ان کے دل پر سکینت نازل فرمائی، جس کی بدولت انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم پر دلی اطمینان اور سکون حاصل ہوگیا اور وہ جس طرح موت تک لڑنے کے لیے تیار تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبول کردہ شرطوں پر صلح کے لیے بھی تیار ہو گئے۔ ➏ یہ آیت بیعتِ رضوان والے صحابہ کے مخلص مومن ہونے کی واضح دلیل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کے دلوں کے اخلاص کی شہادت دی ہے۔ نہایت بدنصیب ہیں وہ لوگ جو ایسے مخلص ایمان والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ منافق تھے۔ [ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ ] ➐ { وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا:} عام مفسرین اس ”فتح قریب“ سے مراد فتح خیبر لیتے ہیں اور یہ کچھ بعید بھی نہیں، مگر اہلِ علم کا ایک قول اس کے بارے میں یہ بھی ہے کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے، کیونکہ بیعتِ رضوان کے بعد یہی وہ بنیادی اور اہم فتح تھی جس سے مسلمانوں کے لیے دوسری تمام فتوحات کے راستے کھل گئے اور اس کے کچھ ہی عرصہ بعد خیبر فتح ہوا، پھر مکہ مکرمہ کی فتح ہوئی، حتیٰ کہ پورا جزیرۂ عرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں اسلام کے زیر نگیں آ گیا۔ اس سورت کی ابتدا میں اس صلح ہی کو فتح مبین فرمایا ہے۔
اور بہت سا مال غنیمت انہیں عطا کر دیا جسے وہ (عنقریب) حاصل کریں گے اللہ زبردست اور حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بہت سی غنیمتیں جنہیں وه حاصل کریں گے اور اللہ غالب حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بہت سی غنیمتیں جن کو لیں، اور اللہ عزت و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور بہت سی غنیمتیں بھی جن کو وہ (عنقریب) حاصل کریں گے اللہ (ہر چیز) پرغالب ہے، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بہت سی غنیمتیں، جنھیں وہ حاصل کریں گے اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
چودہ سو صحابہ اور بیعت رضوان ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہ بیعت کرنے والے چودہ سو کی تعداد میں تھے اور یہ درخت ببول کا تھا جو حدیبیہ کے میدان میں تھا، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ جب حج کو گئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ایک جگہ نماز ادا کر رہے ہیں پوچھا کہ کیا بات ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت الرضوان ہوئی تھی۔ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر یہ قصہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے بیان کیا۔ تو آپ نے فرمایا: میرے والد صاحب بھی ان بیعت کرنے والوں میں تھے، ان کا بیان ہے کہ بیعت کے دوسرے سال ہم وہاں گئے لیکن ہم سب کو بھلا دیا گیا وہ درخت ہمیں نہ ملا، پھر سعید فرمانے لگے تعجب ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود بیعت کرنے والے تو اس جگہ کو نہ پا سکیں انہیں معلوم نہ ہو لیکن تم لوگ جان لو گویا تم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ جاننے والے ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4163] پھر فرمایا ہے ان کی دلی صداقت نیت وفا اور سننے اوج جاننے والی عادت کو اللہ نے معلوم کر لیا پس ان کے دلوں میں اطمینان ڈال دیا اور قریب کی فتح انعام فرمائی۔
یہ فتح وہ صلح ہے جو حدیبیہ کے میدان میں ہوئی جس سے عام بھلائی حاصل ہوئی اور جس کے قریب ہی خیبر فتح ہوا، پھر تھوڑے ہی زمانے کے بعد مکہ بھی فتح ہو گیا، پھر اور قلعے اور علاقے بھی فتح ہوتے چلے گئے۔ اور وہ عزت و نصرت و فتح و ظفر و اقبال اور رفعت حاصل ہوئی کہ دنیا انگشت بدنداں حیران و پریشان رہ گئی۔ اسی لیے فرمایا کہ بہت سی غنیمتیں عطا فرمائے گا۔ سچے غلبہ والا اور کامل حکمت والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے ندا کی کہ لوگو! بیعت کے لیے آگے بڑھو، روح القدس آ چکے ہیں۔ ہم بھاگے دوڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ اس وقت ببول کے درخت تلے تھے ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی جس کا ذکر آیت «لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا» ۱؎ [48-الفتح:18] میں ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ نے اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر خود ہی بیعت کر لی، تو ہم نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بڑے خوش نصیب رہے کہ ہم تو یہاں پڑے ہوئے ہیں اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہوں گے یہ سن کر جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالکل ناممکن ہے کہ عثمان ہم سے پہلے طواف کر لے، گو کئی سال تک وہاں رہے۔“ ۱؎ (ضعیف: اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں)
19۔ 1 یہ وہ غنیمتیں ہیں جو خیبر سے حاصل ہوئیں یہ نہایت زرخیز اور شاداب علاقہ تھا اسی حساب سے یہاں سے مسلمانوں کو بہت بڑی تعداد میں غنیمت کا مال حاصل ہوا جسے صرف اہل حدیبیہ میں تقسیم کیا گیا۔
(آیت 19) ➊ {وَ مَغَانِمَ كَثِيْرَةً يَّاْخُذُوْنَهَا:} اس سے مراد خیبر اور یہود کی دوسری بستیاں ہیں جو کسی خاص مزاحمت کے بغیر مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔ صفی الرحمن مبارک پوری لکھتے ہیں: ”خیبر مدینہ سے شمال کی طرف اسّی (۸۰) میل کے فاصلے پر ایک بہت بڑا شہر تھا، جس میں کئی قلعے اور بہت سے باغات تھے۔ ابن اسحاق نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے واپس آ کر مدینہ میں ذوالحجہ اور محرم کا کچھ حصہ ٹھہرے، پھر محرم کے باقی دنوں میں خیبر کی طرف نکلے۔“ (الرحیق المختوم) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ اِفْتَتَحْنَا خَيْبَرَ، وَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلاَ فِضَّةً، إِنَّمَا غَنِمْنَا الْبَقَرَ وَالْإِبِلَ وَالْمَتَاعَ وَالْحَوَائِطَ ] [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ خیبر: ۴۲۳۴ ] ”ہم نے خیبر فتح کیا اور ہمیں سونا چاندی غنیمت میں نہیں ملا، ہمیں صرف گائے بیل، اونٹ، سامان اور باغات غنیمت میں ملے۔“ خیبر کی فتح کے نتیجے میں مسلمانوں کو حاصل ہونے والی غنیمتوں کا اندازہ ابن عمر رضی اللہ عنھما کی ایک روایت سے ہوتا ہے، انھوں نے فرمایا: [ مَا شَبِعْنَا حَتّٰي فَتَحْنَا خَيْبَرَ ] [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ خیبر: ۴۲۴۳ ] ”ہم نے سیر ہو کر نہیں کھایا حتیٰ کہ خیبر فتح کیا۔“ اور عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: [ لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ قُلْنَا الْآنَ نَشْبَعُ مِنَ التَّمْرِ ] [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ خیبر: ۴۲۴۲ ] ”جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے کہا، اب ہم کھجوریں پیٹ بھر کر کھائیں گے۔“ الرحیق المختوم میں ہے: ”اس فتح کے نتیجے میں مہاجرین کے حصے میں اتنی زمین اور باغات آئے کہ انھوں نے کھجوروں کے وہ درخت انصار کو واپس کر دیے جو انصار نے مدینہ میں انھیں دے رکھے تھے۔“ ➋ { وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا:} چونکہ کفار کی تعداد اور سازو سامان کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت کے پیش نظریہ بات ممکن نظر نہیں آتی تھی، اس جملے کے ساتھ اس فتح و غنیمت کا سبب بیان فرمایا۔ بقاعی نے فرمایا: ”اس واؤ کے ساتھ مقدر جملے پر عطف ہے: {”أَيْ بِعِزَّةِ اللّٰهِ وَ حِكْمَتِهِ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا“} یعنی یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عزت و حکمت کی بدولت ہوا اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ نہ اس پر کوئی غالب آ سکتا ہے، نہ اس کی تدبیر میں کسی خطا کی نشان دہی کر سکتا ہے۔
اللہ تم سے بکثرت اموال غنیمت کا وعدہ کرتا ہے جنہیں تم حاصل کرو گے فوری طور پر تو یہ فتح اس نے تمہیں عطا کر دی اور لوگوں کے ہاتھ تمہارے خلاف اٹھنے سے روک دیے، تاکہ یہ مومنوں کے لیے ایک نشانی بن جائے اور اللہ سیدھے راستے کی طرف تمہیں ہدایت بخشے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت ساری غنیمتوں کا وعده کیا ہے جنہیں تم حاصل کرو گے پس یہ تو تمہیں جلدی ہی عطا فرما دی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے، تاکہ مومنوں کے لئے یہ ایک نشانی ہو جائے اور (تاکہ) وه تمہیں سیدھی راه چلائے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ نے تم سے وعدہ کیا ہے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم لو گے تو تمہیں یہ جلد عطا فرمادی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے اور اس لیے کہ ایمان والوں کے لیے نشانی ہو اور تمہیں سیدھی راہ دکھائے
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ نے تم سے (اور بھی) بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے جن کو تم حاصل کرو گے پس یہ (فتحِ خیبر) تو اس نے فوری طور پر تمہیں دے دی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دئیے تاکہ یہ مؤمنین کیلئے (ہماری قدرت و نصرت) کی ایک نشانی ہو جائے اور وہ تمہیں سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرے (اس پر چلائے)۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا جنھیں تم حاصل کرو گے، پھر اس نے تمھیں یہ جلدی عطا کر دی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے اور تاکہ یہ ایمان والوں کے لیے ایک نشانی بنے اور (تاکہ) وہ تمھیں سیدھے راستے پر چلائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار کے بد ارادے ناکام ہوئے ٭٭
ان بہت سی غنیمتوں سے مراد آپ کے زمانے اور بعد کی سب غنیمتیں ہیں جلدی کی غنیمت سے مراد خیبر کی غنیمت ہے اور حدیبیہ کی صلح ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:351/11] اس اللہ کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ کفار کے بدارادوں کو اس نے پورا نہ ہونے دیا، نہ مکے کے کافروں کے، نہ ان منافقوں کے جو تمہارے پیچھے مدینے میں رہے تھے، نہ یہ تم پر حملہ آور ہو سکے، نہ وہ تمہارے بال بچوں کو ستا سکے، یہ اس لیے کہ مسلمان اس سے عبرت حاصل کریں اور جان لیں کہ اصل حافظ و ناصر اللہ ہی ہے، پس دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت سے ہمت نہ ہار دیں اور یہ بھی یقین کر لیں کہ ہر کام کے انجام کا علم اللہ ہی کو ہے بندوں کے حق میں بہتری یہی ہے کہ وہ اس کے فرمان پر عامل رہیں اور اسی میں اپنی خیریت سمجھیں گو وہ فرمان بظاہر خلاف طبع ہو۔
بہت ممکن ہے کہ تم جسے ناپسند رکھتے ہو وہی تمہارے حق میں بہتر ہو وہ تمہیں تمہاری حکم بجا آوری اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سچی جانثاری کی عوض راہ مستقیم دکھائے گا اور دیگر غنیمتیں اور فتح مندیاں بھی عطا فرمائے گا جو تمہارے بس کی نہیں۔ لیکن اللہ خود تمہاری مدد کرے گا اور ان مشکلات کو تم پر آسان کر دے گا سب چیزیں اللہ کے بس میں ہیں، وہ اپنا ڈر رکھنے والے بندوں کو ایسی جگہ سے روزیاں پہنچاتا ہے جو کسی کے خیال میں تو کیا؟ خود ان کے اپنے خیال میں بھی نہ ہوں، اس غنیمت سے مراد خیبر کی غنیمت ہے جس کا وعدہ صلح حدیبیہ میں پنہاں تھا یا مکہ کی فتح تھی یا فارس اور روم کے مال ہیں یا وہ تمام فتوحات ہیں جو قیامت تک مسلمانوں کو حاصل ہوں گی۔
20۔ 1 یہ دیگر فتوحات کے نتیجے میں حاصل ہونے والی غنیمتوں کی خوشخبری ہے جو قیامت تک مسلمانوں کو حاصل ہونے والی ہیں۔ 20۔ 2 یعنی فتح خیبر یا صلح حدیبیہ کیونکہ یہ دونوں تو فوری طور پر مسلمانوں کو حاصل ہوگئیں۔ 20۔ 3 حدیبیہ میں کافروں کے ہاتھ اور خیبر میں یہودیوں کے ہاتھ اللہ نے روک دیئے یعنی ان کے حوصلے پست کردیئے اور وہ مسلمانوں سے مصروف پیکار نہیں ہوئے۔ 20۔ 4 یعنی لوگ اس واقعے کا تذکرہ پڑھ کر اندازہ لگا لیں گے کہ اللہ تعالیٰ قلت تعداد کے باوجود مسلمانوں کا محافظ اور دشمنوں پر ان کو غالب کرنے والا ہے یا یہ روک لینا تمام موعودہ باتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی نشانی ہے۔ 20۔ 5 یعنی ہدایت پر استقامت عطا فرمائے یا اس نشانی سے تمہیں ہدایت میں اور زیادہ کرے۔
(آیت 20) ➊ { وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِيْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا:} ان بہت سی غنیمتوں سے مراد صلح حدیبیہ، خیبر اور اس کے اردگرد کے علاقوں اور بستیوں کی فتح ہے، کیونکہ اس سے پہلے گزر چکا ہے: «سَيَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ فَسَيَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا بَلْ كَانُوْا لَا يَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا» [ الفتح: ۱۵ ] ”عنقریب پیچھے چھوڑ دیے جانے والے لوگ کہیں گے جب تم کچھ غنیمتوںکی طرف چلو گے، تا کہ انھیں لے لو،ہمیں چھوڑو کہ ہم تمھارے ساتھ چلیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔ کہہ دے تم ہمارے ساتھ کبھی نہیں جاؤ گے، اسی طرح اللہ نے پہلے سے کہہ دیا ہے۔ تو وہ ضرور کہیں گے بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو۔ بلکہ وہ نہیں سمجھتے تھے مگر بہت تھوڑا۔ “ ➋ {فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ:} تو اس نے تمھیں ان غنیمتوں میں سے یہ صلح حدیبیہ جلدی عطا فرما دی جس میں تمھارے اور قریش کے درمیان معاہدہ ہو گیا کہ دس سال تک جنگ بند رہے گی اور مسلمان آئندہ سال اسی ماہ آ کر عمرہ ادا کریں گے۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں اور قریش کا ایک دوسرے کے پاس آنا جانا، ملنا جلنا شروع ہو گیا اور بے شمار لوگ مسلمان ہوئے، خیبر اور دوسرے علاقوں کی فتح کا دروازہ کھل گیا، غرض یہ صلح فتح بھی تھی اور اپنے بے شمار فوائد کے لحاظ سے غنیمت بھی۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد فتح خیبر لی ہے، یہ بھی ممکن ہے، مگر پہلی تفسیر زیادہ واضح ہے، کیونکہ یہ آیات حدیبیہ سے واپسی پر اتری ہیں۔ ➌ {وَ كَفَّ اَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ:} مسلمانوں سے لوگوں کے ہاتھ روک دینے میں مسلمانوں کی قلت کے باوجود قریش مکہ کو لڑائی سے روک دینا بھی شامل ہے اور خیبر اور دوسرے علاقوں کے یہود کو مدینہ پر حملہ آور ہونے سے روک دینا بھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کر دہ رعب تھا کہ جب مسلمانوں کی پوری جنگی قوت مدینہ سے باہر تھی، اگر اس وقت یہود اپنے حلیفوں اور منافقین کے ساتھ مل کر مدینہ پر حملہ آور ہوتے تو ان کے لیے میدان خالی تھا، کیونکہ وہاں عورتوں، بچوں اور معذوروں کے سوا کوئی موجود نہ تھا، مگر یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ تھا کہ کسی کو یہ جرأت ہی نہیں ہونے دی۔ ➍ { وَ لِتَكُوْنَ اٰيَةً لِّلْمُؤْمِنِيْنَ:} اس جملے کا واؤ کے ساتھ مقدر جملے پر عطف ہے اور اسے مقدر اس لیے رکھا گیا ہے کہ وہ کئی جملوں میں سے کوئی ایک جملہ ہو سکتا ہے، مثلاً: {” فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ أَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ لِتَشْكُرُوْهُ وَ لِتَكُوْنَ الْمُعَجَّلَةَ وَ كَفَّ أَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ آيَةً لِّلْمُؤْمِنِيْنَ “} ”یعنی اس نے یہ غنیمت تمھیں جلدی دے دی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے، تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو اور تاکہ جلد عطا کی جانے والی یہ غنیمت اور لوگوں کے ہاتھوں کا تم سے روک دیا جانا ایمان والوں کے لیے ایک نشانی بن جائے (کہ آئندہ بھی اللہ تعالیٰ اسی طرح ہماری مدد فرمائے گا)۔“ {”لِتَشْكُرُوْهُ“} کے بجائے مقدر جملہ {”لِيَحْصُلَ لَهُمُ السَّكِيْنَةُ“} یا {”لِيَزْدَادُوْا إِيْمَانًا“} وغیرہ بھی ہو سکتا ہے اور اسے حذف اسی لیے کیا گیا ہے کہ اگر ذکر کیا جاتا تو ایک آدھ بات ذکر ہو سکتی تھی، حالانکہ وہ بہت سی چیزیں ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ غنیمت پہلے عطا کر دی۔ ➎ { وَ يَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا:} یہ جملہ بھی قرآن مجید کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے، کیونکہ اہل حدیبیہ میں سے کوئی ایک شخص بھی صراطِ مستقیم سے ادھر ادھر نہیں ہوا، بلکہ سب کے سب آخر دم تک اسلام پر قائم رہے۔
اِس کے علاوہ دوسرے اور غنیمتوں کا بھی وہ تم سے وعدہ کرتا ہے جن پر تم ابھی تک قادر نہیں ہوئے ہو اور اللہ نے ان کو گھیر رکھا ہے، اللہ ہر چیز پر قادر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تمہیں اور (غنیمتیں) بھی دے جن پر اب تک تم نے قابو نہیں پایا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے قابو میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ایک اور جو تمہارے بل (بس) کی نہ تھی وہ اللہ کے قبضہ میں ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور غنیمتیں بھی ہیں جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے اور اللہ نے ان کو گھیر رکھا ہے (اس کے قبضہ میں ہیں) اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کئی اور (غنیمتوں کا بھی)، جن پر تم قادر نہیں ہوئے۔ یقینا اللہ نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار کے بد ارادے ناکام ہوئے ٭٭
ان بہت سی غنیمتوں سے مراد آپ کے زمانے اور بعد کی سب غنیمتیں ہیں جلدی کی غنیمت سے مراد خیبر کی غنیمت ہے اور حدیبیہ کی صلح ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:351/11] اس اللہ کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ کفار کے بدارادوں کو اس نے پورا نہ ہونے دیا، نہ مکے کے کافروں کے، نہ ان منافقوں کے جو تمہارے پیچھے مدینے میں رہے تھے، نہ یہ تم پر حملہ آور ہو سکے، نہ وہ تمہارے بال بچوں کو ستا سکے، یہ اس لیے کہ مسلمان اس سے عبرت حاصل کریں اور جان لیں کہ اصل حافظ و ناصر اللہ ہی ہے، پس دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت سے ہمت نہ ہار دیں اور یہ بھی یقین کر لیں کہ ہر کام کے انجام کا علم اللہ ہی کو ہے بندوں کے حق میں بہتری یہی ہے کہ وہ اس کے فرمان پر عامل رہیں اور اسی میں اپنی خیریت سمجھیں گو وہ فرمان بظاہر خلاف طبع ہو۔
بہت ممکن ہے کہ تم جسے ناپسند رکھتے ہو وہی تمہارے حق میں بہتر ہو وہ تمہیں تمہاری حکم بجا آوری اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سچی جانثاری کی عوض راہ مستقیم دکھائے گا اور دیگر غنیمتیں اور فتح مندیاں بھی عطا فرمائے گا جو تمہارے بس کی نہیں۔ لیکن اللہ خود تمہاری مدد کرے گا اور ان مشکلات کو تم پر آسان کر دے گا سب چیزیں اللہ کے بس میں ہیں، وہ اپنا ڈر رکھنے والے بندوں کو ایسی جگہ سے روزیاں پہنچاتا ہے جو کسی کے خیال میں تو کیا؟ خود ان کے اپنے خیال میں بھی نہ ہوں، اس غنیمت سے مراد خیبر کی غنیمت ہے جس کا وعدہ صلح حدیبیہ میں پنہاں تھا یا مکہ کی فتح تھی یا فارس اور روم کے مال ہیں یا وہ تمام فتوحات ہیں جو قیامت تک مسلمانوں کو حاصل ہوں گی۔
21۔ 1 یہ بعد میں ہونے والی فتوحات اور ان سے حاصل ہونے والی غنیمت کی طرف اشارہ ہے۔
(آیت 21) ➊ { وَ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهَا …: ” اُخْرٰى “ ”مَغَانِمَ“} کی صفت ہے جو یہاں محذوف ہے اور اس کا عطف {” مَغَانِمَ كَثِيْرَةً “} پر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان غنیمتوں کے علاوہ، جن کا اوپر ذکر ہوا، کئی اور غنیمتوں کا بھی وعدہ فرمایا ہے جن پر تم قادر نہیں ہوئے، مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں گھیرے میں لے لیا ہے۔ اس سے مراد سب سے پہلے فتح مکہ ہے جو فتح الفتوح تھی۔ مسلمان حدیبیہ والے سال اور اس سے اگلے سال اسے حاصل نہیں کر سکے مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں اس کا فیصلہ ہو چکا تھا، چنانچہ صلح حدیبیہ ہی اس کا پیش خیمہ بنی۔ اس صلح کی ایک شرط یہ تھی کہ جو قبیلہ چاہے مسلمانوں کا حلیف بن جائے اور جو چاہے قریش مکہ کا حلیف بن جائے اور کوئی کسی کے خلاف یا اس کے حلیف کے خلاف جنگ نہ کرے۔ اس موقع پر بنو خزاعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف اور بنو بکر قریش مکہ کے حلیف بن گئے۔ مشرکین صلح کے بعد صرف دو سال تک معاہدہ پر قائم رہے، پھر ان کے حلیف قبیلہ بنو بکر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا، جس میں قریش نے اسلحے اور آدمیوں کے ساتھ ان کی مدد کی اور کعبہ میں پناہ لینے کے باوجود انھیں قتل کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے معاہدہ توڑنے کی اطلاع ملی تو آپ نے نہایت اخفا کے ساتھ دس ہزار صحابہ کرام کے ساتھ مکہ کی طرف کوچ فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے مکہ فتح فرما دیا۔ لفظ عام ہونے کی وجہ سے فتح مکہ کے علاوہ وہ تمام فتوحات {” وَ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهَا “} میں داخل ہیں جو اس کے بعد مسلمانوں کو حاصل ہوئیں، جن میں ثقیف و ہوازن کی فتح اور تبوک وغیرہ کی فتح بھی شامل ہیں۔ روم و فارس، مصر و شام، ہند و سندھ اور زمین کے مشرق و مغرب کے وہ تمام ممالک بھی جو قیامت تک مسلمانوں کے قبضے میں آنے والے تھے۔ ➋ {قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرًا:} یہ اس سوال کا جواب ہے جو یہاں پیدا ہو سکتا تھا کہ مدینہ کی بستی کے یہ چودہ پندرہ سو آدمی، جن کے پاس اسلحہ اور دوسری ضروریات حتیٰ کہ سامانِ خورد و نوش کی بھی کمی ہے، اتنی کثیر فتوحات اور غنیمتیں کیسے حاصل کر سکتے ہیں، جب کہ پورا عرب ان کے خلاف ہے، جن کے پاس آدمیوں، اسلحے اور ساز و سامان کی فراوانی ہے؟ فرمایا یہ لوگ واقعی وہ فتوحات اور غنیمتیں حاصل نہیں کر سکتے، مگر جب اللہ تعالیٰ نے ان کا گھیرا کر لیا ہو اور انھیں مسلمانوں کو عطا فرمانا چاہتا ہو تو پھر کون ہے جو اسے روک سکے؟ اور اللہ تعالیٰ تو ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے۔
یہ کافر لوگ اگر اِس وقت تم سے لڑ گئے ہوتے تو یقیناً پیٹھ پھیر جاتے اور کوئی حامی و مددگار نہ پاتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر تم سے کافر جنگ کرتے تو یقیناً پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھر نہ تو کوئی کار ساز پاتے نہ مددگار
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر کافر تم سے لڑیں تو ضرور تمہارے مقابلہ سے پیٹھ پھیردیں گے پھر کوئی حمایتی نہ پائیں گے نہ مددگار،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر (یہ) کافر لوگ تم سے جنگ کرتے تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور پھر وہ (اپنے لئے) کوئی حامی و مددگار نہ پاتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تم سے لڑتے تو یقینا پیٹھ پھیر جاتے، پھر وہ نہ کوئی حمایتی پائیں گے اور نہ کوئی مددگار۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ مسلمانوں کو خوشخبری سناتا ہے کہ وہ کفار سے مرعوب اور خائف نہ ہوں اگر کافر مقابلہ پر آئے تو اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مدد کرے گا۔ اور ان بے ایمانوں کو شکست فاش دے گا یہ پیٹھ دکھائیں گے اور منہ پھیر لیں گے اور کوئی والی اور مددگار بھی انہیں نہ ملے گا اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے آئے ہیں اور اس کے ایماندار بندوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ پھر فرماتا ہے یہی اللہ کی عادت ہے کہ جب کفر و ایمان کا مقابلہ ہو وہ ایمان کو کفر پر غالب کرتا ہے اور حق کو ظاہر کر کے باطل کو دبا دیتا ہے جیسے کہ بدر والے دن بہت سے کافروں کو جو باسامان تھے چند مسلمانوں کے مقابلہ میں جو بےسرو سامان تھے شکست فاش دی۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے میرے احسان کو بھی نہ بھولو کہ میں نے مشرکوں کے ہاتھ تم تک نہ پہنچنے دئیے اور تمہیں بھی مسجد الحرام کے پاس لڑنے سے روک دیا اور تم میں اور ان میں صلے کرا دی جو دراصل تمہارے حق میں سراسر بہتری ہے کیا دنیا کے اعتبار سے اور کیا آخرت کے اعتبار سے۔ وہ حدیث یاد ہو گی جو اسی سورت کی تفسیر میں بروایت سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ گزر چکی ہے کہ { جب ستر کافروں کو باندھ کر صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں جانے دو ان کی طرف سے ہی ابتداء ہو اور انہی کی طرف سے دوبارہ شروع ہو“ }۔ اسی بابت یہ آیت اتری۔
مسند احمد میں ہے کہ { اسی (80) کافر ہتھیاروں سے آراستہ جبل تنعیم کی طرف سے چپ چپاتے موقعہ پا کر اتر آئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غافل نہ تھے، آپ نے فوراً لوگوں کو آگاہ کر دیا سب گرفتار کر لیے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے آپ نے ازراہ مہربانی ان کی خطا معاف فرما دی اور سب کو چھوڑ دیا }۔ اور نسائی میں بھی ہے { سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس درخت کا ذکر قرآن میں ہے اس کے نیچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے ہم لوگ بھی آپ کے اردگرد تھے اس درخت کی شاخیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر سے لگ رہی تھیں، سیدنا علی بن ابوطالب اور سیدنا سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہما آپ کے سامنے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ” «بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھو“ اس پر سہیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام لیا اور کہا ہم «رحمن» اور «رحیم» کو نہیں جانتے، ہمارے اس صلح نامہ میں ہمارے دستور کے مطابق لکھوائیے، پس آپ نے فرمایا: ” «باسمک اللھم» لکھ لو۔“ پھر لکھا یہ وہ ہے جس پر اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے صلح کی اس پر پھر سہیل نے آپ کا ہاتھ تھام کر کہا آپ رسول اللہ ہی ہیں تو پھر ہم نے بڑا ظلم کیا، اس صلح نامہ میں وہی لکھوائیے جو ہم میں مشہور ہے، تو آپ نے فرمایا: ”لکھو یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے اہل مکہ سے صلح کی“، اتنے میں تیس نوجوان کفار ہتھیار بند آن پڑے، آپ نے ان کے حق میں بد دعا کی، اللہ نے انہیں بہرا بنا دیا ہم اٹھے اور ان سب کو گرفتار کر کے آپ کے سامنے پیش کر دیا۔ آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہیں کسی نے امن دیا ہے ـ؟ یا تم کسی کی ذمہ داری پر آئے ہو؟ انہوں نے انکار کیا لیکن باوجود اس کے آپ نے ان سے درگزر فرمایا اور انہیں چھوڑ دیا۔ اس پر یہ آیت «وھوالذی» الخ، نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1808-133] ابن جریر میں ہے { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے جانور لے کر چلے اور ذوالحلیفہ تک پہنچ گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اے اللہ کے نبی! آپ ایک ایسی قوم کی بستی میں جا رہے ہیں ۱؎ [مسند احمد:86/4:صحیح] جو برسرپیکار ہیں اور آپ کے پاس نہ تو ہتھیار ہیں نہ اسباب۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر آدمی بھیج کر مدینہ سے سب ہتھیار اور کل سامان منگوا لیا جب آپ مکہ کے قریب پہنچ گئے تو مشرکین نے آپ کو روکا، آپ مکہ نہ آئیں، آپ کو خبر دی کہ عکرمہ بن ابوجہل پانچ سو کا لشکر لے کر آپ پر چڑھائی کرنے کے لیے آ رہا ہے آپ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے خالد! تیرا چچازاد بھائی لشکر لے کر آ رہا ہے۔“ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر کیا ہوا؟ میں اللہ کی تلوار ہوں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی، اسی دن سے آپ کا لقب سیف اللہ ہوا۔ مجھے آپ جہاں چاہیں اور جس کے مقابلہ میں چاہیں بھیجیں، چنانچہ عکرمہ کے مقابلہ کے لیے آپ روانہ ہوئے گھاٹی میں دونوں کی مڈبھیڑ ہوئی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ایسا سخت حملہ کیا کہ عکرمہ کے پاؤں نہ جمے اسے مکہ کی گلیوں تک پہنچا کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ واپس آ گئے لیکن پھر دوبارہ وہ تازہ دم ہو کر مقابلہ پر آیا، اب کی مرتبہ بھی شکست کھا کر مکہ کی گلیوں میں پہنچ گیا وہ پھر تیسری مرتبہ نکلا اس مرتبہ بھی یہی حشر ہوا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:356/11:مرسل]
اسی کا بیان آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» ۱؎ [48-الفتح:24] میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظفر مندی کے کفار کو بھی بچا لیا تاکہ جو مسلمان ضعفاء اور کمزور مکہ میں تھے انہیں اسلامی لشکر کے ہاتھوں کوئی گذند نہ پہنچے لیکن اس روایت میں بہت کچھ نظر ہے ناممکن ہے کہ یہ حدیبیہ والے واقعہ کا ذکر ہو، اس لیے کہ اس وقت تک تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ مسلمان ہی نہ ہوئے تھے بلکہ مشرکین کے طلایہ کے یہ اس دن سردار تھے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں موجود ہے اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ واقعہ عمرۃ القضاء کا ہو۔ اس لیے کہ حدیبیہ کے صلح نامہ کی شرائط کے مطابق یہ طے شدہ امر تھا کہ اگلے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں عمرہ ادا کریں اور تین دن تک مکہ میں ٹھہریں چنانچہ اسی قرارداد کے مطابق جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو کافروں نے آپ کو روکا نہیں، نہ آپ سے جنگ و جدال کیا۔ اسی طرح یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ واقعہ فتح مکہ کا ہو اس لیے کہ فتح مکہ والے سال آپ اپنے ساتھ قربانیاں لے کر نہیں گئے تھے اس وقت تو آپ جنگی حیثیت سے گئے تھے، لڑنے اور جہاد کرنے کی نیت سے تشریف لے گئے تھے، پس اس روایت میں بہت کچھ خلل ہے اور اس میں ضرور قباحت واقع ہوئی ہے خوب سوچ لینا چاہیئے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { قریش نے اپنے چالیس یا پچاس آدمی بھیجے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے اردگرد گھومتے رہیں اور موقعہ پا کر کچھ نقصان پہنچائیں یا کسی کو گرفتار کر کے لے آئیں، یہاں یہ سارے کے سارے پکڑے لیے گئے لیکن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف فرما دیا اور سب کو چھوڑ دیا انہوں نے آپ کے لشکر پر کچھ پتھر بھی پھینکے تھے اور کچھ تیر بھی چلائے تھے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:31556] یہ بھی مروی ہے کہ { ایک صحابی جنہیں ابن زنیم کہا جاتا تھا حدیبیہ کے ایک ٹیلے پر چڑھے تھے مشرکین نے تیربازی کر کے ان کو شہید کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سوار ان کے تعاقب میں روانہ کئے وہ ان سب کو جو تعداد میں بارہ سو تھے گرفتار کر کے لے آئے، آپ نے ان سے پوچھا کہ کوئی عہد و پیمان ہے؟ کہا نہیں لیکن پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا۔ اور اسی بارے میں آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» ۱؎ [48-الفتح:24] نازل ہوئی۔
22۔ 1 یہ حدیبیہ میں متوقع جنگ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ قریش مکہ صلح نہ کرتے بلکہ جنگ کا راستہ اختیار کرتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے، کوئی ان کا مددگار نہ ہوتا۔
(آیت 22) ➊ { وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ:} اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے کفار کے ہاتھ تم سے روک دیے کہ وہ لڑائی سے باز رہے، اب فرمایا کہ حدیبیہ کے مقام پر بظاہر دب کر جو صلح کی جا رہی تھی وہ بزدلی کی بنا پر یا اس خطرے کے پیش نظر نہیں تھی کہ مسلمانوں کو شکست ہو جائے گی، بلکہ اس میں بہت سی حکمتیں ملحوظ تھیں، جن میں بعض کا ذکر گزر چکا اور کچھ آگے بیان ہو رہی ہیں۔ چنانچہ فرمایا کہ اگر اس موقع پر کفار تم سے لڑ پڑتے تو یقینا پیٹھیں پھیر کر بھاگ جاتے اور مکہ اسی وقت فتح ہو جاتا مگر یہ مصلحت کے خلاف تھا۔ ➋ { ثُمَّ لَا يَجِدُوْنَ وَلِيًّا وَّ لَا نَصِيْرًا:” ثُمَّ “} (پھر) کے لفظ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد خواہ کتنی مدت گزر جائے اور خواہ ان مشرکین کی تعداد کتنی ہو جائے کسی وقت بھی انھیں کوئی حمایتی ملے گا نہ کوئی مددگار۔
یہ اللہ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آ رہی ہے اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ کے اس قاعدے کے مطابق جو پہلے سے چلا آیا ہے، تو کبھی بھی اللہ کے قاعدے کو بدلتا ہوا نہ پائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کا دستور ہے کہ پہلے سے چلا آتا ہے اور ہرگز تم اللہ کا دستور بدلتا نہ پاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہی اللہ کا دستور ہے جوپہلے سے چلا آرہا ہے اور تم اللہ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کے اس طریقے کے مطابق جو پہلے سے گزر چکا ہے اور تو اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ مسلمانوں کو خوشخبری سناتا ہے کہ وہ کفار سے مرعوب اور خائف نہ ہوں اگر کافر مقابلہ پر آئے تو اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مدد کرے گا۔ اور ان بے ایمانوں کو شکست فاش دے گا یہ پیٹھ دکھائیں گے اور منہ پھیر لیں گے اور کوئی والی اور مددگار بھی انہیں نہ ملے گا اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے آئے ہیں اور اس کے ایماندار بندوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ پھر فرماتا ہے یہی اللہ کی عادت ہے کہ جب کفر و ایمان کا مقابلہ ہو وہ ایمان کو کفر پر غالب کرتا ہے اور حق کو ظاہر کر کے باطل کو دبا دیتا ہے جیسے کہ بدر والے دن بہت سے کافروں کو جو باسامان تھے چند مسلمانوں کے مقابلہ میں جو بےسرو سامان تھے شکست فاش دی۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے میرے احسان کو بھی نہ بھولو کہ میں نے مشرکوں کے ہاتھ تم تک نہ پہنچنے دئیے اور تمہیں بھی مسجد الحرام کے پاس لڑنے سے روک دیا اور تم میں اور ان میں صلے کرا دی جو دراصل تمہارے حق میں سراسر بہتری ہے کیا دنیا کے اعتبار سے اور کیا آخرت کے اعتبار سے۔ وہ حدیث یاد ہو گی جو اسی سورت کی تفسیر میں بروایت سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ گزر چکی ہے کہ { جب ستر کافروں کو باندھ کر صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں جانے دو ان کی طرف سے ہی ابتداء ہو اور انہی کی طرف سے دوبارہ شروع ہو“ }۔ اسی بابت یہ آیت اتری۔
مسند احمد میں ہے کہ { اسی (80) کافر ہتھیاروں سے آراستہ جبل تنعیم کی طرف سے چپ چپاتے موقعہ پا کر اتر آئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غافل نہ تھے، آپ نے فوراً لوگوں کو آگاہ کر دیا سب گرفتار کر لیے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے آپ نے ازراہ مہربانی ان کی خطا معاف فرما دی اور سب کو چھوڑ دیا }۔ اور نسائی میں بھی ہے { سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس درخت کا ذکر قرآن میں ہے اس کے نیچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے ہم لوگ بھی آپ کے اردگرد تھے اس درخت کی شاخیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر سے لگ رہی تھیں، سیدنا علی بن ابوطالب اور سیدنا سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہما آپ کے سامنے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ” «بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھو“ اس پر سہیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام لیا اور کہا ہم «رحمن» اور «رحیم» کو نہیں جانتے، ہمارے اس صلح نامہ میں ہمارے دستور کے مطابق لکھوائیے، پس آپ نے فرمایا: ” «باسمک اللھم» لکھ لو۔“ پھر لکھا یہ وہ ہے جس پر اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے صلح کی اس پر پھر سہیل نے آپ کا ہاتھ تھام کر کہا آپ رسول اللہ ہی ہیں تو پھر ہم نے بڑا ظلم کیا، اس صلح نامہ میں وہی لکھوائیے جو ہم میں مشہور ہے، تو آپ نے فرمایا: ”لکھو یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے اہل مکہ سے صلح کی“، اتنے میں تیس نوجوان کفار ہتھیار بند آن پڑے، آپ نے ان کے حق میں بد دعا کی، اللہ نے انہیں بہرا بنا دیا ہم اٹھے اور ان سب کو گرفتار کر کے آپ کے سامنے پیش کر دیا۔ آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہیں کسی نے امن دیا ہے ـ؟ یا تم کسی کی ذمہ داری پر آئے ہو؟ انہوں نے انکار کیا لیکن باوجود اس کے آپ نے ان سے درگزر فرمایا اور انہیں چھوڑ دیا۔ اس پر یہ آیت «وھوالذی» الخ، نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1808-133] ابن جریر میں ہے { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے جانور لے کر چلے اور ذوالحلیفہ تک پہنچ گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اے اللہ کے نبی! آپ ایک ایسی قوم کی بستی میں جا رہے ہیں ۱؎ [مسند احمد:86/4:صحیح] جو برسرپیکار ہیں اور آپ کے پاس نہ تو ہتھیار ہیں نہ اسباب۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر آدمی بھیج کر مدینہ سے سب ہتھیار اور کل سامان منگوا لیا جب آپ مکہ کے قریب پہنچ گئے تو مشرکین نے آپ کو روکا، آپ مکہ نہ آئیں، آپ کو خبر دی کہ عکرمہ بن ابوجہل پانچ سو کا لشکر لے کر آپ پر چڑھائی کرنے کے لیے آ رہا ہے آپ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے خالد! تیرا چچازاد بھائی لشکر لے کر آ رہا ہے۔“ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر کیا ہوا؟ میں اللہ کی تلوار ہوں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی، اسی دن سے آپ کا لقب سیف اللہ ہوا۔ مجھے آپ جہاں چاہیں اور جس کے مقابلہ میں چاہیں بھیجیں، چنانچہ عکرمہ کے مقابلہ کے لیے آپ روانہ ہوئے گھاٹی میں دونوں کی مڈبھیڑ ہوئی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ایسا سخت حملہ کیا کہ عکرمہ کے پاؤں نہ جمے اسے مکہ کی گلیوں تک پہنچا کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ واپس آ گئے لیکن پھر دوبارہ وہ تازہ دم ہو کر مقابلہ پر آیا، اب کی مرتبہ بھی شکست کھا کر مکہ کی گلیوں میں پہنچ گیا وہ پھر تیسری مرتبہ نکلا اس مرتبہ بھی یہی حشر ہوا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:356/11:مرسل]
اسی کا بیان آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» ۱؎ [48-الفتح:24] میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظفر مندی کے کفار کو بھی بچا لیا تاکہ جو مسلمان ضعفاء اور کمزور مکہ میں تھے انہیں اسلامی لشکر کے ہاتھوں کوئی گذند نہ پہنچے لیکن اس روایت میں بہت کچھ نظر ہے ناممکن ہے کہ یہ حدیبیہ والے واقعہ کا ذکر ہو، اس لیے کہ اس وقت تک تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ مسلمان ہی نہ ہوئے تھے بلکہ مشرکین کے طلایہ کے یہ اس دن سردار تھے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں موجود ہے اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ واقعہ عمرۃ القضاء کا ہو۔ اس لیے کہ حدیبیہ کے صلح نامہ کی شرائط کے مطابق یہ طے شدہ امر تھا کہ اگلے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں عمرہ ادا کریں اور تین دن تک مکہ میں ٹھہریں چنانچہ اسی قرارداد کے مطابق جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو کافروں نے آپ کو روکا نہیں، نہ آپ سے جنگ و جدال کیا۔ اسی طرح یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ واقعہ فتح مکہ کا ہو اس لیے کہ فتح مکہ والے سال آپ اپنے ساتھ قربانیاں لے کر نہیں گئے تھے اس وقت تو آپ جنگی حیثیت سے گئے تھے، لڑنے اور جہاد کرنے کی نیت سے تشریف لے گئے تھے، پس اس روایت میں بہت کچھ خلل ہے اور اس میں ضرور قباحت واقع ہوئی ہے خوب سوچ لینا چاہیئے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { قریش نے اپنے چالیس یا پچاس آدمی بھیجے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے اردگرد گھومتے رہیں اور موقعہ پا کر کچھ نقصان پہنچائیں یا کسی کو گرفتار کر کے لے آئیں، یہاں یہ سارے کے سارے پکڑے لیے گئے لیکن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف فرما دیا اور سب کو چھوڑ دیا انہوں نے آپ کے لشکر پر کچھ پتھر بھی پھینکے تھے اور کچھ تیر بھی چلائے تھے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:31556] یہ بھی مروی ہے کہ { ایک صحابی جنہیں ابن زنیم کہا جاتا تھا حدیبیہ کے ایک ٹیلے پر چڑھے تھے مشرکین نے تیربازی کر کے ان کو شہید کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سوار ان کے تعاقب میں روانہ کئے وہ ان سب کو جو تعداد میں بارہ سو تھے گرفتار کر کے لے آئے، آپ نے ان سے پوچھا کہ کوئی عہد و پیمان ہے؟ کہا نہیں لیکن پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا۔ اور اسی بارے میں آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» ۱؎ [48-الفتح:24] نازل ہوئی۔
23۔ 1 یعنی اللہ کی یہ سنت اور عادت پہلے سے چلی آرہی ہے کہ جب کفر و ایمان کے درمیان فیصلہ کن معرکہ آرائی کا مرحلہ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی مدد فرما کر حق کو سر بلندی عطا کرتا ہے، جیسے اس سنت اللہ کے مطابق بدر میں تمہاری مدد کی گئی۔
(آیت 23){ سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ …: } مراد اللہ تعالیٰ کی وہ سنت ہے جو اس کے انبیاء کو جھٹلانے والی اقوام کے بارے میں ہمیشہ سے جاری ہے کہ جب وہ حد سے گزر جاتی ہیں تو انھیں ایسی سزا دی جاتی ہے کہ انھیں کوئی حمایتی ملتا ہے نہ مددگار اور اللہ تعالیٰ کی اس سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی۔ ہاں عذاب کئی طرح سے آ سکتا ہے، قدرتی آفات کے ساتھ بھی، جیسا کہ قومِ نوح، عاد و ثمود اور آلِ فرعون پر آیا اور مومن بندوں کے ہاتھوں بھی، جیسا کہ فرمایا: «قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ» [ التوبۃ: ۱۴ ] ”ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔“
وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں اُن کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ اُن سے روک دیے، حالانکہ وہ اُن پر تمہیں غلبہ عطا کر چکا تھا اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی ہے جس نے خاص مکہ میں کافروں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا، اور تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے روک دیے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے وادی مکہ میں بعد اس کے کہ تمہیں ان پر قابو دے دیا تھا، اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (اللہ) وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں روک دئیے تھے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے بعد اس کے کہ تمہیں ان پر غلبہ عطا کر دیا تھا اور تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمھیں ان پر فتح دے دی اور اللہ اس کو جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے خوب دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ مسلمانوں کو خوشخبری سناتا ہے کہ وہ کفار سے مرعوب اور خائف نہ ہوں اگر کافر مقابلہ پر آئے تو اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مدد کرے گا۔ اور ان بے ایمانوں کو شکست فاش دے گا یہ پیٹھ دکھائیں گے اور منہ پھیر لیں گے اور کوئی والی اور مددگار بھی انہیں نہ ملے گا اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے آئے ہیں اور اس کے ایماندار بندوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ پھر فرماتا ہے یہی اللہ کی عادت ہے کہ جب کفر و ایمان کا مقابلہ ہو وہ ایمان کو کفر پر غالب کرتا ہے اور حق کو ظاہر کر کے باطل کو دبا دیتا ہے جیسے کہ بدر والے دن بہت سے کافروں کو جو باسامان تھے چند مسلمانوں کے مقابلہ میں جو بےسرو سامان تھے شکست فاش دی۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے میرے احسان کو بھی نہ بھولو کہ میں نے مشرکوں کے ہاتھ تم تک نہ پہنچنے دئیے اور تمہیں بھی مسجد الحرام کے پاس لڑنے سے روک دیا اور تم میں اور ان میں صلے کرا دی جو دراصل تمہارے حق میں سراسر بہتری ہے کیا دنیا کے اعتبار سے اور کیا آخرت کے اعتبار سے۔ وہ حدیث یاد ہو گی جو اسی سورت کی تفسیر میں بروایت سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ گزر چکی ہے کہ { جب ستر کافروں کو باندھ کر صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں جانے دو ان کی طرف سے ہی ابتداء ہو اور انہی کی طرف سے دوبارہ شروع ہو“ }۔ اسی بابت یہ آیت اتری۔
مسند احمد میں ہے کہ { اسی (80) کافر ہتھیاروں سے آراستہ جبل تنعیم کی طرف سے چپ چپاتے موقعہ پا کر اتر آئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غافل نہ تھے، آپ نے فوراً لوگوں کو آگاہ کر دیا سب گرفتار کر لیے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے آپ نے ازراہ مہربانی ان کی خطا معاف فرما دی اور سب کو چھوڑ دیا }۔ اور نسائی میں بھی ہے { سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس درخت کا ذکر قرآن میں ہے اس کے نیچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے ہم لوگ بھی آپ کے اردگرد تھے اس درخت کی شاخیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر سے لگ رہی تھیں، سیدنا علی بن ابوطالب اور سیدنا سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہما آپ کے سامنے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ” «بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھو“ اس پر سہیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام لیا اور کہا ہم «رحمن» اور «رحیم» کو نہیں جانتے، ہمارے اس صلح نامہ میں ہمارے دستور کے مطابق لکھوائیے، پس آپ نے فرمایا: ” «باسمک اللھم» لکھ لو۔“ پھر لکھا یہ وہ ہے جس پر اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے صلح کی اس پر پھر سہیل نے آپ کا ہاتھ تھام کر کہا آپ رسول اللہ ہی ہیں تو پھر ہم نے بڑا ظلم کیا، اس صلح نامہ میں وہی لکھوائیے جو ہم میں مشہور ہے، تو آپ نے فرمایا: ”لکھو یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے اہل مکہ سے صلح کی“، اتنے میں تیس نوجوان کفار ہتھیار بند آن پڑے، آپ نے ان کے حق میں بد دعا کی، اللہ نے انہیں بہرا بنا دیا ہم اٹھے اور ان سب کو گرفتار کر کے آپ کے سامنے پیش کر دیا۔ آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہیں کسی نے امن دیا ہے ـ؟ یا تم کسی کی ذمہ داری پر آئے ہو؟ انہوں نے انکار کیا لیکن باوجود اس کے آپ نے ان سے درگزر فرمایا اور انہیں چھوڑ دیا۔ اس پر یہ آیت «وھوالذی» الخ، نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1808-133] ابن جریر میں ہے { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے جانور لے کر چلے اور ذوالحلیفہ تک پہنچ گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اے اللہ کے نبی! آپ ایک ایسی قوم کی بستی میں جا رہے ہیں ۱؎ [مسند احمد:86/4:صحیح] جو برسرپیکار ہیں اور آپ کے پاس نہ تو ہتھیار ہیں نہ اسباب۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر آدمی بھیج کر مدینہ سے سب ہتھیار اور کل سامان منگوا لیا جب آپ مکہ کے قریب پہنچ گئے تو مشرکین نے آپ کو روکا، آپ مکہ نہ آئیں، آپ کو خبر دی کہ عکرمہ بن ابوجہل پانچ سو کا لشکر لے کر آپ پر چڑھائی کرنے کے لیے آ رہا ہے آپ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے خالد! تیرا چچازاد بھائی لشکر لے کر آ رہا ہے۔“ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر کیا ہوا؟ میں اللہ کی تلوار ہوں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی، اسی دن سے آپ کا لقب سیف اللہ ہوا۔ مجھے آپ جہاں چاہیں اور جس کے مقابلہ میں چاہیں بھیجیں، چنانچہ عکرمہ کے مقابلہ کے لیے آپ روانہ ہوئے گھاٹی میں دونوں کی مڈبھیڑ ہوئی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ایسا سخت حملہ کیا کہ عکرمہ کے پاؤں نہ جمے اسے مکہ کی گلیوں تک پہنچا کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ واپس آ گئے لیکن پھر دوبارہ وہ تازہ دم ہو کر مقابلہ پر آیا، اب کی مرتبہ بھی شکست کھا کر مکہ کی گلیوں میں پہنچ گیا وہ پھر تیسری مرتبہ نکلا اس مرتبہ بھی یہی حشر ہوا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:356/11:مرسل]
اسی کا بیان آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» ۱؎ [48-الفتح:24] میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظفر مندی کے کفار کو بھی بچا لیا تاکہ جو مسلمان ضعفاء اور کمزور مکہ میں تھے انہیں اسلامی لشکر کے ہاتھوں کوئی گذند نہ پہنچے لیکن اس روایت میں بہت کچھ نظر ہے ناممکن ہے کہ یہ حدیبیہ والے واقعہ کا ذکر ہو، اس لیے کہ اس وقت تک تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ مسلمان ہی نہ ہوئے تھے بلکہ مشرکین کے طلایہ کے یہ اس دن سردار تھے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں موجود ہے اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ واقعہ عمرۃ القضاء کا ہو۔ اس لیے کہ حدیبیہ کے صلح نامہ کی شرائط کے مطابق یہ طے شدہ امر تھا کہ اگلے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں عمرہ ادا کریں اور تین دن تک مکہ میں ٹھہریں چنانچہ اسی قرارداد کے مطابق جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو کافروں نے آپ کو روکا نہیں، نہ آپ سے جنگ و جدال کیا۔ اسی طرح یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ واقعہ فتح مکہ کا ہو اس لیے کہ فتح مکہ والے سال آپ اپنے ساتھ قربانیاں لے کر نہیں گئے تھے اس وقت تو آپ جنگی حیثیت سے گئے تھے، لڑنے اور جہاد کرنے کی نیت سے تشریف لے گئے تھے، پس اس روایت میں بہت کچھ خلل ہے اور اس میں ضرور قباحت واقع ہوئی ہے خوب سوچ لینا چاہیئے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { قریش نے اپنے چالیس یا پچاس آدمی بھیجے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے اردگرد گھومتے رہیں اور موقعہ پا کر کچھ نقصان پہنچائیں یا کسی کو گرفتار کر کے لے آئیں، یہاں یہ سارے کے سارے پکڑے لیے گئے لیکن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف فرما دیا اور سب کو چھوڑ دیا انہوں نے آپ کے لشکر پر کچھ پتھر بھی پھینکے تھے اور کچھ تیر بھی چلائے تھے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:31556] یہ بھی مروی ہے کہ { ایک صحابی جنہیں ابن زنیم کہا جاتا تھا حدیبیہ کے ایک ٹیلے پر چڑھے تھے مشرکین نے تیربازی کر کے ان کو شہید کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سوار ان کے تعاقب میں روانہ کئے وہ ان سب کو جو تعداد میں بارہ سو تھے گرفتار کر کے لے آئے، آپ نے ان سے پوچھا کہ کوئی عہد و پیمان ہے؟ کہا نہیں لیکن پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا۔ اور اسی بارے میں آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» ۱؎ [48-الفتح:24] نازل ہوئی۔
24۔ 1 جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام حدیبیہ میں تھے تو کافروں نے 80 آدمی، جو ہتھیاروں سے لیس تھے، اس نیت سے بھیجے کہ اگر ان کو موقع مل جائے تو دھوکے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اکرام کے خلاف کاروائی کریں چناچہ یہ مسلح جتھہ جبل تغیم کی طرف سے حدیبیہ میں آیا جس کا علم مسلمانوں کو بھی ہوگیا اور انہوں نے ہمت کر کے تمام آدمیوں کو گرفتار کرلیا اور بارگاہ رسالت میں پیش کردیا۔ ان کا جرم شدید تھا اور ان کو جو بھی سزا دی جاتی، صحیح ہوتی۔ لیکن اس میں خطرہ یہی تھا پھر جنگ ناگزیر ہوجاتی۔ جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس موقعے پر جنگ کے بجائے صلح چاہتے تھے کیونکہ اس میں مسلمانوں کا مفاد تھا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو معاف کر کے چھوڑ دیا (صحیح مسلم)
(آیت 24) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ …:} جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حدیبیہ میں تھے تو صلح کی بات چیت کے دوران اور صلح ہو جانے کے بعد بھی مشرکین نے کوششیں کیں کہ کسی طرح لڑائی چھڑ جائے اور صلح نہ ہو سکے۔ ان کے متعدد گروہ چھپ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے خلاف کارروائی کے لیے آئے، مگر کوئی نقصان نہ پہنچا سکے، بلکہ ہر مرتبہ مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ انھیں قتل بھی کیا جا سکتا تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں چھوڑ دیا، کیونکہ سزا دینے کی صورت میں جنگ ناگزیر ہو جاتی جب کہ مسلمانوں کی مصلحت صلح میں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے اس احسان کی یاد دہانی کروائی ہے۔ یہاں کفار کی ان کوششوں کے تین واقعات درج کیے جاتے ہیں: (1) سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتا تھا، ان کے گھوڑے کو پانی پلاتا، اس کی مالش کرتا، ان کی خدمت کرتا اور انھی کے ہاں کھانا کھایا کرتا تھا اور میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوئے اپنا اہل و مال چھوڑ آیا تھا۔ پھر جب ہماری اور اہلِ مکہ کی صلح ہو گئی اور ہم ایک دوسرے سے ملنے جلنے لگے تو میں ایک درخت کے نیچے کانٹے وغیرہ صاف کرکے اس کے سائے میں لیٹ گیا۔ اہلِ مکہ میں سے چار مشرک میرے پاس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بد زبانی کرنے لگے۔ میں ان سے نفرت کی وجہ سے ایک اور درخت کے نیچے چلا گیا اور وہ اپنا اسلحہ درخت کے ساتھ لٹکا کر لیٹ گئے۔ اسی دوران وادی کے نیچے سے کسی نے آواز دی: ”او مہاجرو! ابن زُنیم کو قتل کر دیا گیا۔“ میں نے اپنی تلوار لی اور ان چاروں پر حملہ کر دیا، وہ سوئے ہوئے تھے، میں نے ان کا اسلحہ لے کر اپنی مٹھی میں اکٹھا کر لیا اور ان سے کہا:”قسم اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو عزت بخشی ہے! تم میں سے جو بھی سر اٹھائے گا میں اس کا سر اڑا دوں گا جس میں اس کی آنکھیں ہیں۔“ خیر میں انھیں ہانکتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا اور میرا چچا عامر عَبَلات میں سے ”مِکرز“ نامی ایک مشرک کو کھینچتا ہوا لایا۔ یہاں تک کہ ہم نے انھیں ستر (۷۰) مشرکین سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کھڑا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: [ دَعُوْهُمْ يَكُنْ لَهُمْ بَدْءُ الْفُجُوْرِ وَ ثِنَاهُ ] ”انھیں چھوڑ دو، تاکہ عہد شکنی کی ابتدا اور دہرائی انھی کے ذمے رہے۔“ غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں معاف کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» [ الفتح: ۲۴ ] ”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمھیں ان پر فتح دے دی۔“ [ مسلم، الجہاد، باب غزوۃ ذي قرد وغیرھا: ۱۸۰۷ ] (2) انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہلِ مکہ میں سے اسّی (۸۰) مسلح آدمی جبل تنعیم سے اتر کر آئے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی غفلت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، مگر آپ نے انھیں زندہ سلامت گرفتار کر لیا۔ پھر انھیں زندہ ہی رہنے دیا تو اللہ عز و جل نے یہ آیت اتاری: «وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» [ الفتح:۲۴] ”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمھیں ان پر فتح دے دی۔“ [ مسلم، الجہاد، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «وھو الذی کف أیدیہم عنکم» : ۱۸۰۸ ] (3) عبد اللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں اس درخت کے نیچے موجود تھے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے۔ اس کی ٹہنیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر سے لگ رہی تھیں اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سہیل بن عمرو آپ کے سامنے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”لکھو، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔“ تو سہیل نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: ”ہم نہیں جانتے رحمان کیا ہوتا ہے، ہمارے معاملے میں وہی لکھو جو ہمارے ہاں معروف ہے۔“ اس نے کہا: ”یہ لکھو: {” بِسْمِكَ اللّٰهُمَّ۔“} پھر انھوں نے لکھا: ”یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مکہ سے صلح کی ہے۔“ تو سہیل بن عمرو نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: ”اللہ کی قسم! اگر آپ اللہ کے رسول ہوں تو ہم نے آپ پر ظلم کیا، ہمارے معاملے میں وہ لکھو جو ہمارے ہاں معروف ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھو، یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب نے صلح کی ہے اور میں اللہ کا رسول بھی ہوں۔“ یہ معاملہ ہو رہا تھا کہ تیس مسلح نوجوان نکل کر ہمارے سامنے آ گئے اور ہمارے سامنے آ کر مشتعل ہو گئے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اندھا کر دیا، ہم نے بڑھ کر انھیں گرفتار کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تم کسی کے عہد میں آئے ہو یا کسی نے تمھیں امان دی ہے؟“ انھوں نے کہا: ”نہیں!“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں رہا کر دیا، اس پر اللہ عز و جل نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» [ الفتح: ۲۴ ] ”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمھیں ان پر فتح دے دی اور اللہ اس کو جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے خوب دیکھنے والا ہے۔ “ [ مسند أحمد:۴ /۸۶،۸۷،ح:۱۶۸۰۵ ] مسند احمد کے محققین نے اسے صحیح کہا ہے۔ ➋ یہاں بیت اللہ والے شہر کا نام ”مکہ“ بیان فرمایا ہے، جب کہ سورۂ آلِ عمران (۹۶) میں اس کا نام ”بکہ“ قرار دیا ہے، معلوم ہوا اس شہر کے دونوں نام ہیں۔ ➌ { وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا:} یعنی اللہ تعالیٰ کفار کی سرا سر زیادتی اور تمھارے صبر اور اطاعت کو خوب دیکھ رہا تھا، اس کے باوجود اس نے بہت سی مصلحتوں کے پیشِ نظر ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے۔
وہی لوگ تو ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور ہدی کے اونٹوں کو اُن کی قربانی کی جگہ نہ پہنچنے دیا اگر (مکہ میں) ایسے مومن مرد و عورت موجود نہ ہوتے جنہیں تم نہیں جانتے، اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ نادانستگی میں تم انہیں پامال کر دو گے اور اس سے تم پر حرف آئے گا (تو جنگ نہ روکی جاتی روکی وہ اس لیے گئی) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کر لے وہ مومن الگ ہو گئے ہوتے تو (اہل مکہ میں سے) جو کافر تھے ان کو ہم ضرور سخت سزا دیتے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے لئے موقوف جانور کو اس کی قربان گاه میں پہنچنے سے (روکا)، اور اگر ایسے (بہت سے) مسلمان مرد اور (بہت سی) مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کی تم کو خبر نہ تھی یعنی ان کے پس جانے کا احتمال نہ ہوتا جس پر ان کی وجہ سے تم کو بھی بے خبری میں ضرر پہنچتا، (تو تمہیں لڑنے کی اجازت دے دی جاتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا) تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرے اور اگر یہ الگ الگ ہوتے تو ان میں جو کافر تھے ہم ان کو درد ناک سزا دیتے
احمد رضا خان بریلوی
وہ وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجدِ حرام سے روکا اور قربانی کے جانور رُکے پڑے اپنی جگہ پہنچنے سے اور اگر یہ نہ ہوتا کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں جن کی تمہیں خبر نہیں کہیں تم انہیں روند ڈالو تو تمہیں ان کی طرف سے انجانی میں کوئی مکروہ پہنچے تو ہم تمہیں ان کی قتال کی اجازت دیتے ان کا یہ بچاؤ اس لیے ہے کہ اللہ اپنی رحمت میں داخل کرے جسے چاہے، اگر وہ جدا ہوجاتے تو ہم ضرور ان میں کے کافروں کو دردناک عذاب دیتے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد الحرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی روکے رکھا کہ وہ اپنی قربانی کی جگہ نہ پہنچ سکے اور اگر (مکہ میں) ایسے مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم نہیں جانتے (اور یہ خوف نہ ہوتا کہ) تم انہیں لاعلمی میں روند ڈالوگے اور پھر ان کی وجہ سے تم پر الزام آتا (تو جنگ نہ روکی جاتی) مگر روکی اس لئے گئی تاکہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے اگر وہ (اہلِ ایمان) الگ ہو جاتے تو ہم ان (اہلِ مکہ) میں سے کافروں کو دردناک سزا دیتے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور تمھیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی،اس حال میں کہ وہ اس سے روکے ہوئے تھے کہ اپنی جگہ تک پہنچیں۔ اور اگر کچھ مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں جنھیں تم نہیں جانتے تھے (اگر یہ نہ ہوتا) کہ تم انھیں روند ڈالو گے تو تم پر لا علمی میں ان کی وجہ سے عیب لگ جائے گا (تو ان پر حملہ کر دیا جاتا) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے داخل کر لے، اگر وہ (مومن اور کافر) الگ الگ ہوگئے ہوتے تو ہم ضرور ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے کفر کیا تھا، سزا دیتے، دردناک سزا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسجد حرام بیت اللہ کے اصل حقدار ٭٭
مشرکین عرب جو قریش تھے اور جو ان کے ساتھ اس عہد پر تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کریں گے ان کی نسبت قرآن خبر دیتا ہے کہ دراصل یہ لوگ کفر پر ہیں، انہوں نے ہی تمہیں مسجد الحرام بیت اللہ شریف سے روکا ہے حالانکہ اصلی حقدار اور زیادہ لائق بیت اللہ کے تم ہی لوگ تھے، پھر ان کی سرکشی اور مخالفت نے انہیں یہاں تک اندھا کر دیا کہ اللہ کی راہ کی قربانیوں کو بھی قربان گاہ تک نہ جانے دیا، یہ قربانیاں تعداد میں ستر تھیں جیسے کہ عنقریب ان کا بیان آ رہا ہے۔ «ان شاءاللہ تعالیٰ» پھر فرماتا ہے کہ سردست تمہیں لڑائی کی اجازت نہ دینے میں یہ راز پوشیدہ تھے کہ ابھی چند کمزور مسلمان مکے میں ایسے ہیں جو ان ظالموں کی وجہ سے نہ اپنے ایمان کو ظاہر کر سکے ہیں، نہ ہجرت کر کے تم میں مل سکے ہیں اور نہ تم انہیں جانتے ہو، تو یوں دفعۃً اگر تمہیں اجازت دے دی جاتی اور تم اہل مکہ پر چھاپہ مارتے تو وہ سچے پکے مسلمان بھی تمہارے ہاتھوں شہید ہو جاتے اور بےعلمی میں تم ہی مستحق گناہ اور مستحق دیت بن جاتے۔ پس ان کفار کی سزا کو اللہ نے کچھ اور پیچھے ہٹا دیا تاکہ ان کمزور مسلمانوں کو چھٹکارا مل جائے اور بھی جن کی قسمت میں ایمان ہے وہ ایمان لے آئیں۔ اگر یہ مومن ان میں نہ ہوتے تو یقیناً ہم تمہیں ان کفار پر ابھی اسی وقت غلبہ دے دیتے اور ان کا نام مٹا دیتے۔ جنید بن سبیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صبح کو میں کافروں کے ساتھ مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑ رہا تھا لیکن اسی شام کو اللہ تعالیٰ نے میرا دل پھیر دیا میں مسلمان ہو گیا اور اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر کفار سے لڑ رہا تھا، ہمارے ہی بارے میں یہ آیت «وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ» ۱؎ [48-الفتح:25] نازل ہوئی ہے۔ ہم کل نو شخص تھے سات مرد و عورتیں۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1560] اور روایت میں ہے کہ ہم تین مرد تھے اور نو عورتیں تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر یہ مومن ان کافروں میں ملے جلے نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ اسی وقت مسلمانوں کے ہاتھوں ان کافروں کو سخت سزا دیتا یہ قتل کر دئیے جاتے۔
25۔ 1 ھدی اس جانور کو کہا جاتا ہے جو حاجی یا معتمر عمرہ کرنے والا اپنے ساتھ مکہ لے جاتا تھا یا وہیں سے خرید کر ذبح کرتا تھا محل سے مراد وہ قربان گاہ ہے جہاں ان کو لے جا کر ذبح کیا جاتا ہے جاہلیت کے زمانے میں یہ مقام معتمر کے لیے مروہ پہاڑی کے پاس اور حاجیوں کے لیے منی تھا اور اسلام میں ذبح کرنے کی چگہ مکہ منی اور پورے حدود حرم ہیں۔ معکوفا حال ہے یعنی یہ جانور اس انتظار میں رکے ہوئے تھے کہ مکہ میں داخل ہوں تاکہ انہیں قربان کیا جائے مطلب یہ ہے کہ ان کافروں نے ہی تمہیں بھی مسجد حرام سے روکا اور تمہارے ساتھ جو جانور تھے انہیں بھی اپنی قربان گاہ تک نہیں پہنچنے دیا۔ 25۔ 2 یعنی مکہ میں اپنا ایمان چھپائے رہ رہے تھے۔ 25۔ 3 کفار کے ساتھ لڑائی کی صورت میں ممکن تھا کہ یہ بھی مارے جاتے اور تمہیں ضرر پہنچتا معرۃ کے اصل معنی عیب کے ہیں یہاں مراد کفارہ اور وہ برائی اور شرمندگی ہے جو کافروں کی طرف سے تمہیں اٹھانی پڑتی یعنی ایک تو قتل خطا کی دیت دینی پڑتی اور دوسرے کفار کا یہ طعنہ سہنا پڑتا کہ یہ اپنے مسلمان ساتھیوں کو بھی مار ڈالتے ہیں۔ 25۔ 4 یہ لولا کا محذوف جواب ہے یعنی اگر یہ بات نہ ہوتی تو تمہیں مکہ میں داخل ہونے کی اور قریش مکہ سے لڑنے کی اجازت دے دی جاتی۔ 25۔ 5 بلکہ اہل مکہ کو مہلت دے دی گئی تاکہ جس کو اللہ چاہے قبول اسلام کی توفیق دے دے۔ 25۔ 6 تزیلوا بمعنی تمیزوا ہے مطلب یہ ہے کہ مکہ میں آباد مسلمان اگر کافروں سے الگ رہائش پذیر ہوتے تو ہم تمہیں اہل مکہ سے لڑنے کی اجازت دے دیتے اور تمہارے ہاتھوں ان کو قتل کرواتے اور اس طرح انہیں دردناک سزا دیتے عذاب الیم سے مراد یہاں قتل قیدی بنانا اور قہر اور غلبہ ہے۔
(آیت 25) ➊ {هُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ:} اس سے اہلِ مکہ کی اس زیادتی کا بیان مقصود ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عار قرار دیا اور وہ یہ کہ اللہ کے رسول پر ایمان لانے کے بجائے کفر پر اڑ گئے اور انھوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام میں داخلے اور اس کے طواف سے اور عمرہ کے دوسرے ارکان ادا کرنے سے روک دیا اور لڑائی پر آمادہ ہو گئے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان لڑنے کی نیت سے نہیں آئے تھے، نہ وہ پوری طرح ہتھیار لائے تھے، بلکہ وہ حالت احرام میں تھے۔ لڑنا تو ایک طرف رہا وہ اس حالت میں کسی کو ایذا بھی نہیں دے سکتے تھے۔ ➋ {وَ الْهَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ: ” الْهَدْيَ “} مصدر بمعنی اسم مفعول: {”أَيْ اَلْأَنْعَامُ الْمَهْدِيَّةُ“} وہ چوپائے جو کعبہ میں قربانی کے لیے لائے جاتے ہیں۔ یہ لفظ مصدر ہونے کی وجہ سے واحد جمع اور مذکر و مؤنث سب پر استعمال ہوتا ہے۔ {” مَعْكُوْفًا “ ”عَكَفَ يَعْكُفُ“} (ن) سے اسم مفعول ہے۔ {”عَكَفَ“} لازم بھی آتا ہے جس کا معنی ”ایک جگہ ٹھہرنے کو لازم کر لینا “ ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ فِي الْمَسٰجِدِ» [ البقرۃ: ۱۸۷ ] ”جب کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو۔“ یہاں متعدی استعمال ہوا ہے: {”عَكَفَهُ أَيْ حَبَسَهُ۔“ ” مَعْكُوْفًا “} جسے ایک جگہ روک کر رکھا گیا ہو۔ {” الْهَدْيَ “} پر نصب اس لیے آیا ہے کہ اس کا عطف {” صَدُّوْكُمْ “} میں ضمیر مخاطب پر ہے اور {” مَعْكُوْفًا “ ” الْهَدْيَ “} سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، یعنی یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور تمھیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی روک دیا، اس حال میں کہ وہ اپنے حلال ہونے کی جگہ پہنچنے سے روکے ہوئے تھے۔ یعنی قربانیوں کو بھی مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا جو عمرہ اور حج کی قربانیوں کے حلال ہونے. کی اصل جگہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ ہدی یعنی قربانی کے اونٹ لے کر آئے تھے، جب کفار نے اس سال مکہ میں داخلے اور عمرہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور اسے آئندہ سال کے لیے مؤخر کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر وہ جانور قربان کر دیے اور سر منڈا کر احرام کھول دیا۔ ➌ {وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ …: ” تَطَـُٔوْهُمْ “ ”وَطِئَ يَطَأُ وَطْأً“} (س) روندنا، پامال کرنا۔ یہ مضارع معلوم سے جمع مذکر حاضر ہے۔ {” مَعَرَّةٌ“} عیب، گناہ، نقصان۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس موقع پر جنگ نہ ہونے دینے کی دو وجہیں بیان فرمائی ہیں: ایک یہ کہ مکہ میں مشرکین کے ساتھ کئی مومن مرد اور مومن عورتیں بھی موجود تھیں، جن کا مسلمانوں کو علم نہیں تھا۔ ان میں سے کچھ وہ تھے جو مسلمان ہو چکے تھے مگر انھوں نے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا اور کچھ وہ تھے جو کھلم کھلا مسلمان ہو چکے تھے مگر بے بسی کی وجہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں کر سکتے تھے اور کفار کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ اگر مکہ پر حملہ ہوتا تو مشرکین کے ساتھ وہ مومن مرد اور مومن عورتیں بھی روند دیے جاتے جو مسلمانوں کے لیے عیب کا باعث ہوتا کہ انھوں نے اپنے ہی بھائی بہنوں کو قتل کر دیا، حالانکہ ان کا یہ قتل لاعلمی کی بنا پر ہوتا۔ عیب کا باعث ہونے سے مراد کفار کی طرف سے عیب لگانا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے ہی بھائی مار دیے اور وہ رنج و الم بھی جو اپنے بھائیوں کو قتل کرنے سے مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہوتا، ورنہ جنگ کے دوران کفار میں رہنے والے کسی مسلمان کو قتل کرنے پر نہ دیت ہے نہ کفارہ اور نہ ہی ملامت۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ روک کر یہ نوبت ہی نہ آنے دی کہ مسلمانوں پر کوئی الزام آ سکے۔ واضح رہے کہ {” وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ “} سے {” بِغَيْرِ عِلْمٍ “} تک جملہ شرط ہے، جزا اس کی محذوف ہے، کیونکہ وہ خود واضح ہو رہی ہے، یعنی اگر یہ مانع نہ ہوتا ”تو تمھارے ہاتھ نہ روکے جاتے، بلکہ اہلِ مکہ پر حملہ کر دیا جاتا۔“ ➍ { لِيُدْخِلَ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَآءُ:} یہ اس وقت جنگ سے مسلمانوں کے ہاتھ روک دینے کی دوسری وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکین میں سے بہت سے لوگوں کو ایمان کی توفیق عطا فرما کر اپنی رحمت میں داخل کرنا چاہتا تھا، جو کفار اور مسلمانوں کی صلح اور باہمی میل جول ہی سے ممکن تھا۔ اگر لڑائی ہو جاتی تو انھیں سوچنے سمجھنے اور اسلام قبول کرنے کا موقع ہی نہ ملتا اور نہ معلوم کتنے ہی کفر کی حالت میں مارے جاتے۔ پھر واقعی اس صلح کی بدولت بے شمار لوگ اسلام میں داخل ہوئے، سنہ ۶ہجری میں آنے والے مسلمان صرف چودہ سو تھے، دو سال کے قلیل عرصے میں مکہ فتح کرنے کے لیے آنے والوں کی تعداد دس ہزار تھی اور مکہ فتح ہونے اور مشرکین کو عام معافی کے اعلان پر پورا مکہ مسلمان ہو گیا۔ (والحمد للہ) ➎ {لَوْ تَزَيَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …: ” تَزَيَّلُوْا “ ” تَزَيَّلَ يَتَزَيَّلُ تَزَيُّلاً “} (تفعّل) ایک دوسرے سے جدا ہونا۔ یعنی اگر اس موقع پر مکہ میں رہنے والے مسلم و کافر کی پوری طرح تمیز ہوتی اور وہ لوگ جو مسلمان ہو چکے تھے یا آئندہ ان کی قسمت میں مسلمان ہونا لکھا تھا، کفار سے الگ اور نمایاں ہوتے تو ہم اہلِ مکہ کے کفار کو ایسی درد ناک سزا دیتے کہ یا تو لڑائی میں مارے جاتے یا قید ہو کر ذلیل و خوار ہوتے۔ ➏ اس آیت سے ظاہر ہے کہ ایمان والوں کا وجود دنیا میں کفار کے لیے بھی باعث رحمت ہے، اس طرح کہ ان کی موجودگی کی وجہ سے بعض اوقات کفار بھی عذاب سے بچ جاتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ انفال (۳۳)۔
(یہی وجہ ہے کہ) جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں جاہلانہ حمیت بٹھا لی تو اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی اور مومنوں کو تقویٰ کی بات کا پابند رکھا کہ وہی اُس کے زیادہ حق دار اور اُس کے اہل تھے اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جب کہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت کو جگہ دی اور حمیت بھی جاہلیت کی، سو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مومنین پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تقوے کی بات پر جمائے رکھا اور وه اس کے اہل اور زیاده مستحق تھے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
جبکہ کافروں نے اپنے دلوں میں اَڑ رکھی وہی زمانہٴ جاہلیت کی اَڑ (ضد) تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں پر اتارا اور پرہیزگاری کا کلمہ ان پر لازم فرمایا اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(وہ وقت یاد کرو) جب کافروں نے اپنے دلوں میں عصبیت پیدا کی اور عصبیت بھی جاہلیت والی اللہ نے اپنا سکون و اطمینان اپنے رسول(ص) اور اہلِ ایمان پر نازل فرمایا اور انہیں پرہیزگاری کی بات کا پابند رکھا کہ وہی اس کے زیادہ حقدار تھے اور اس کے اہل بھی اور اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جب ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، اپنے دلوں میں ضد رکھ لی، جو جاہلیت کی ضد تھی تو اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر اتار دی اور انھیں تقویٰ کی بات پر قائم رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے لائق تھے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے جبکہ یہ کافر اپنے دلوں میں غیرت و حمیت جاہلیت کو جما چکے تھے صلح نامہ میں آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھنے سے انکار کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ لفظ رسول اللہ لکھوانے سے انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے اس وقت اپنے نبی اور مومنوں کے دل کھول دئیے ان پر اپنی سکینت نازل فرما کر انہیں مضبوط کر دیا اور تقوے کے کلمے پر انہیں جما دیا یعنی «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ» پر جیسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے اور جیسے کہ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں موجود ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3265،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کرتا رہوں جب تک کہ وہ «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ» نہ کہہ لیں، جس نے «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ» کہہ لیا، اس نے مجھ سے اپنے مال کو اور اپنی جان کو بچا لیا مگر حق اسلام کی وجہ سے اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“ }۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ایک قوم کی مذمت بیان کرتے ہوئے فرمایا «اِنَّهُمْ كَانُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ يَسْتَكْبِرُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:35] یعنی ’ ان سے کہا جاتا تھا کہ سوائے اللہ کے کوئی عبادت کے لائق نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے ‘۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہاں مسلمانوں کی تعریف بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ یہی اس کے زیادہ حقدار اور یہی اس کے قابل بھی تھے۔ یہ کلمہ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» ہے انہوں نے اس سے تکبر کیا اور مشرکین قریش نے اسی سے حدیبیہ والے دن تکبر کیا پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک مدت معینہ تک کے لیے صلح نامہ مکمل کر لیا۔ ابن جریر میں بھی یہ حدیث ان ہی زیادتیوں کے ساتھ مروی ہے لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پچھلے جملے راوی کے اپنے ہیں یعنی زہری رحمہ اللہ کا قول ہے جو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ گویا حدیث میں ہی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد اخلاص ہے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کلمہ یہ ہے «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْك لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» ۔ مسور رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْك لَہٗ» ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد «لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ» ہے۔ یہی قول سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ کی وحدانیت کی شہادت ہے جو تمام تقوے کی جڑ ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ» بھی ہے اور جہاد فی سبیل اللہ بھی ہے۔ عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کلمہ تقویٰ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» ہے۔ زہری فرماتے رحمہ اللہ ہیں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» مراد ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ» ہے۔
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے اسے معلوم ہے کہ مستحق خیر کون ہے؟ اور مستحق شر کون ہے؟ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت اسی طرح ہے «اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیتہ حمیتہ الجاھلیتہ ولو حمیتم کما حموا الفسد المسجد الحرام» یعنی ’ کافروں نے جس وقت اپنے دل میں جاہلانہ ضد پیدا کر لی اگر اس وقت تم بھی ان کی طرح ضد پر آ جاتے تو نتیجہ یہ ہوتا کہ مسجد الحرام میں فساد برپا ہو جاتا ‘۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس قرأت کی خبر پہنچی تو بہت تیز ہوئے لیکن سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تو آپ کو بھی معلوم ہو گا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا جاتا رہتا تھا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ آپ کو سکھاتا تھا آپ اس میں سے مجھے بھی سکھاتے تھے اس پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ ذی علم اور قرآن دان ہیں آپ کو جو کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے وہ پڑھئے اور سکھائیے۔ ۱؎ [سنن نسائی]
ان احادیث کا بیان جن میں حدیبیہ کا قصہ اور صلح کا واقعہ ہے مسند احمد میں۔ ۱؎ [مسند احمد:323/4:حسن] سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا مروان بن حکم رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیارت بیت اللہ کے ارادے سے چلے آپ کا ارادہ جنگ کا نہ تھا، ستر اونٹ قربانی کے آپ کے ساتھ تھے، کل ساتھی آپ کے سات سو تھے، ایک ایک اونٹ دس دس آدمیوں کی طرف سے تھا۔ آپ جب عسفان پہنچے تو سیدنا بشر بن سفیان کعبی رضی اللہ عنہ نے آپ کو خبر دی کہ یا رسول اللہ! قریشیوں نے آپ کے آنے کی خبر پا کر مقابلہ کی تیاریاں کر لی ہیں، انہوں نے اونٹوں کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی اپنے ساتھ لے لیے ہیں اور چیتے کی کھالیں پہن لی ہیں اور عہد و پیمان کر لیے ہیں کہ وہ آپ کو اس طرح جبراً مکہ میں نہیں آنے دیں گے، خالد بن ولید کو انہوں نے چھوٹا سا لشکر دے کر کراع غمیم تک پہنچا دیا۔ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس قریشیوں کو لڑائیوں نے کھا لیا کتنی اچھی بات تھی کہ وہ مجھے اور لوگوں کو چھوڑ دیتے اگر وہ مجھ پر غالب آ جاتے تو ان کا مقصود پورا ہو جاتا اور اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور لوگوں پر غالب کر دیتا تو پھر یہ لوگ بھی دین اسلام کو قبول کر لیتے اور اگر اس وقت بھی اس دین میں نہ آنا چاہتے تو مجھ سے لڑتے اور اس وقت ان کی طاقت بھی پوری ہوتی قریشیوں نے کیا سمجھ رکھا ہے؟ قسم اللہ کی اس دین پر میں ان سے جہاد کرتا رہوں گا اور ان سے مقابلہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ یا تو اللہ مجھے ان پر کھلم کھلا غلبہ عطا فرما دے یا میری گردن کٹ جائے۔“ پھر آپ نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ دائیں طرف حمص کے پیچھے سے اس راستہ پر چلیں جو ثنیۃ المرار کو جاتا ہے اور حدیبیہ مکہ کے نیچے کے حصے میں ہے۔ خالد والے لشکر نے جب دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستہ بدل دیا ہے تو یہ دوڑے ہوئے قریشیوں کے پاس گئے اور انہیں اس کی خبر دی، ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ثنیۃ المرار میں پہنچے تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی، لوگ کہنے لگے اونٹنی تھک گئی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ یہ تھکی، نہ اس کی بیٹھ جانے کی عادت ہے، اسے اس اللہ نے روک لیا ہے جس نے مکہ سے ہاتھیوں کو روک لیا تھا، سنو قریش آج مجھ سے جو چیز مانگیں گے، جس میں صلہ رحمی ہو میں انہیں دوں گا۔“ پھر آپ نے لشکریوں کو حکم دیا کہ وہ پڑاؤ کریں انہوں نے کہا یا رسول اللہ! اس پوری وادی میں پانی نہیں آپ نے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر ایک صحابی کو دیا اور فرمایا: ”اسے یہاں کے کسی کنویں میں گاڑ دو“، اس کے گاڑتے ہی پانی جوش مارتا ہوا ابل پڑا تمام لشکر نے پانی لے لیا اور وہ برابر بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ جب پڑاؤ ہو گیا اور وہ اطمینان سے بیٹھ گئے اتنے میں بدیل بن ورقہ اپنے ساتھ قبیلہ خزاعہ کے چند لوگوں کو لے کر آیا آپ نے اس سے بھی وہی فرمایا جو بشر بن سفیان سے فرمایا تھا چنانچہ یہ لوٹ گیا اور جا کر قریش سے کہا کہ تم لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بڑی عجلت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم سے لڑنے کو نہیں آئے، آپ تو صرف بیت اللہ کی زیارت کرنے اور اس کی عزت کرنے کو آئے ہیں تم اپنے فیصلے پر دوبارہ نظر ڈالو۔ دراصل قبیلہ خزاعہ کے مسلم و کافر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرفدار تھے مکہ کی خبریں انہی لوگوں سے آپ کو پہنچا کرتی تھیں۔ قریشیوں نے انہیں جواب دیا کہ گو آپ اسی ارادے سے آئے ہوں لیکن یوں اچانک تو ہم انہیں یہاں نہیں آنے دیں گے ورنہ لوگوں میں تو یہی باتیں ہوں گی کہ آپ مکہ گئے اور کوئی آپ کو روک نہ سکا۔ انہوں نے پھر مکرز بن حفص کو بھیجا یہ بنو عامر بن لوئی کے قبیلے میں سے تھا اسے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عہد شکن شخص ہے“ اور اس سے بھی آپ نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے آنے والے دونوں اور شخصوں سے فرمایا تھا، یہ بھی لوٹ گیا اور جا کر قریشیوں سے سارا واقعہ بیان کر دیا قریشیوں نے پھر حلیس بن علقمہ کنانی کو بھیجا یہ ادھر ادھر کے مختلف لوگوں کا سردار تھا اسے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس قوم سے ہے جو اللہ کے کاموں کی عظمت کرتی ہے اپنی قربانی کے جانوروں کو کھڑا کر دو۔“ اس نے جو دیکھا کہ ہر طرف سے قربانی کے نشان دار جانور آ جا رہے ہیں اور رک جانے کی وجہ سے ان کے بال اڑے ہوئے ہیں یہ تو وہیں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے بغیر لوٹ گیا اور جا کر قریش سے کہا کہ اللہ جانتا ہے تمہیں حلال نہیں کہ تم انہیں بیت اللہ سے روکو، اللہ کے نام کے جانور قربان گاہ سے رکے کھڑے ہیں یہ سخت ظلم ہے، اتنے دن رکے رہنے سے ان کے بال تک اڑ گئے ہیں میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہا ہوں قریش نے کہا تو تو نرا اعرابی ہے خاموش ہو کر بیٹھ جا۔
اب انہوں نے مشورہ کر کے عروہ بن مسعود ثقفی کو بھیجا عروہ نے اپنے جانے سے پہلے کہا کہ اے قریشیو! جن جن کو تم نے وہاں بھیجا وہ جب واپس ہوئے تو ان سے تم نے کیا سلوک کیا، یہ میں دیکھ رہا ہوں، تم نے انہیں برا کہا، ان کی بےعزتی کی، ان پر تہمت رکھی، ان سے بدگمانی کی، میری حالت تمہیں معلوم ہے کہ میں تمہیں مثل باپ کے سمجھتا ہوں، تم خوب جانتے ہو کہ جب تم نے ہائے وائے کی میں نے اپنی تمام قوم کو اکٹھا کیا اور جس نے میری بات مانی میں نے اسے اپنے ساتھ لیا اور تمہاری مدد کے لیے اپنی جان مال اور اپنی قوم کو لے کر آ پہنچا سب نے کہا بیشک آپ سچے ہیں ہمیں آپ سے کسی قسم کی بدگمانی نہیں آپ جائیے۔ اب یہ چلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ کر آپ کے سامنے بیٹھ کر کہنے لگا کہ آپ نے ادھر ادھر کے کچھ لوگوں کو جمع کر لیا ہے اور آئے ہیں، اپنی قوم کی شان و شوکت کو خود ہی توڑنے کے لیے۔ سنئے یہ قریشی ہیں آج یہ مصمم ارادہ کر چکے ہیں اور چھوٹے چھوٹے بچے بھی ان کے ساتھ ہیں جو چیتوں کی کھالیں پہنے ہوئے ہیں، وہ اللہ کو بیچ میں رکھ کر عہد و پیمان کر چکے ہیں کہ ہرگز ہرگز آپ کو اس طرح اچانک زبردستی مکہ میں نہیں آنے دیں گے۔ اللہ کی قسم! مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ یہ لوگ جو اس وقت بھیڑ لگائے آپ کے اردگرد کھڑے ہوئے ہیں یہ لڑائی کے وقت ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں گے۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رہا نہ گیا، آپ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے کہا جا لات کی وہ چوستا رہ، ہم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوں؟ عروہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ابوقحافہ کے بیٹے“، تو کہنے لگا اگر مجھ پر تیرا احسان پہلے کا نہ ہوتا تو میں تجھے ضرور مزہ چکھاتا۔ اس کے بعد عروہ نے پھر کچھ کہنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی میں ہاتھ ڈالا، اس کی بےادبی کو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ برداشت نہ کر سکے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی کھڑے تھے، لوہا ان کے ہاتھ میں تھا، وہی اس کے ہاتھ پر مار کر فرمایا: اپنا ہاتھ دور رکھ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو چھو نہیں سکتا۔ یہ کہنے لگا تو بڑا ہی بدزبان اور ٹیڑھا آدمی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا اس نے پوچھا یہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ تیرا بھتیجا مغیرہ بن شعبہ ہے؟“، تو کہنے لگا غدار تو تو کل تک طہارت بھی نہ جانتا تھا۔
الغرض اسے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا جو اس سے پہلے والوں کو فرمایا تھا اور یقین دلا دیا کہ ہم لڑنے نہیں آئے۔ یہ واپس چلا اور اس نے یہاں کا یہ نقشہ دیکھا تھا کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پروانے بنے ہوئے ہیں، آپ کے وضو کا پانی وہ اپنے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں، آپ کے تھوک کو اپنے ہاتھوں میں لینے کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں، آپ کا کوئی بال گر پڑے تو ہر شخص لپکتا ہے کہ وہ اسے لے لے۔ جب یہ قریشیوں کے پاس پہنچا تو کہنے لگا: اے قریش کی جماعت کے لوگو! میں کسریٰ کے ہاں اس کے دربار میں اور نجاشی کے یہاں اس کے دربار میں ہو آیا ہوں، اللہ کی قسم! میں نے ان بادشاہوں کی بھی وہ عظمت اور وہ احترام نہیں دیکھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھا ہے۔ آپ کے اصحاب تو آپ کی وہ عزت کرتے ہیں کہ اس سے زیادہ ناممکن ہے اب تم سوچ سمجھ لو اور اس بات کو باور کر لو کہ اصحاب رضی اللہ عنہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نہیں کہ اپنے نبی کو تمہارے ہاتھوں میں دے دیں۔ اب آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں مکہ والوں کے پاس بھیجنا چاہا لیکن اس سے پہلے یہ واقعہ ہو چکا تھا کہ آپ نے ایک مرتبہ سیدنا خراش بن امیہ خزاعی رضی اللہ عنہ کو اپنے اونٹ پر جس کا نام ثعلب تھا سوار کرا کر مکہ مکرمہ بھیجا تھا قریش نے اس اونٹ کی کوچیں کاٹ دیں تھیں اور خود قاصد کو بھی قتل کر ڈالتے لیکن احابیش قوم نے انہیں بچا لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں یہ لوگ مجھے قتل نہ کر دیں کیونکہ وہاں میرے قبیلہ بنو عدی کا کوئی شخص نہیں جو مجھے ان قریشیوں سے بچانے کی کوشش کرے، اس لیے کیا یہ اچھا نہ ہو گا کہ آپ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بھیجیں جو ان کی نگاہوں میں مجھ سے بہت زیادہ ذی عزت ہیں۔ چنانچہ آپ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر انہیں مکہ میں بھیجا کہ جا کر قریش سے کہہ دیں کہ ہم لڑنے کے لیے نہیں آئے بلکہ صرف بیت اللہ شریف کی زیارت اور اس کی عظمت بڑھانے کو آئے ہیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے شہر میں قدم رکھا ہی تھا جو ابان بن سعید بن عاص آپ کو مل گئے اور اپنی سواری سے اتر کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو آگے بٹھایا اور خود پیچھے بیٹھا اور اپنی ذمہ داری پر آپ کو لے چلا کہ آپ پیغام رسول اہل مکہ کو پہنچا دیں، چنانچہ آپ وہاں گئے اور قریش کو یہ پیغام پہنچا دیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ تو آ ہی گئے ہیں آپ اگر چاہیں تو بیت اللہ کا طواف کر لیں لیکن سیدنا ذوالنورین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف نہ کر لیں ناممکن ہے کہ میں طواف کروں قریشیوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو روک لیا اور انہیں واپس نہ جانے دیا، ادھر لشکر اسلام میں یہ خبر پہنچی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے۔
زہری رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ پھر قریشیوں نے سہیل بن عمرو کو آپ کے پاس بھیجا کہ تم جا کر صلح کر لو لیکن یہ ضروری ہے کہ اس سال آپ مکہ میں نہیں آ سکتے تاکہ عرب ہمیں یہ طعنہ نہ دے سکیں کہ وہ آئے اور تم روک نہ سکے چنانچہ سہیل یہ سفارت لے کر چلا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”معلوم ہوتا ہے کہ قریشیوں کا ارادہ اب صلح کا ہو گیا جو اسے بھیجا ہے“، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں شروع کیں اور دیر تک سوال جواب اور بات چیت ہوتی رہی،شرائط صلح طے ہو گئیں صرف لکھنا باقی رہا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دوڑے ہوئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور فرمانے لگے، کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ کیا یہ لوگ مشرک نہیں ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، تو کہا: پھر کیا وجہ ہے کہ ہم دینی معاملات میں اتنی کمزوری دکھائیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر اللہ کے رسول کی رکاب تھامے رہو، آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ مجھے بھی کامل یقین ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہا سے پھر بھی نہ صبر ہو سکا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسی طرح کہا، آپ نے جواب میں فرمایا: ”سنو میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کا غلام ہوں، میں اس کے فرمان کے خلاف نہیں کر سکتا اور مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے ضائع نہ کرے گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہنے کو تو اس وقت جوش میں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سب کچھ کہہ گیا لیکن پھر مجھے بڑی ندامت ہوئی میں نے اس کے بدلے بہت روزے رکھے، بہت سی نمازیں پڑھیں اور بہت سے غلام آزاد کئے، اس سے ڈر کر کہ مجھے اس گستاخی کی کوئی سزا اللہ کی طرف سے نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو صلح نامہ لکھنے کے لیے بلوایا اور فرمایا: ”لکھو «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» “ اس پر سہیل نے کہا: میں اسے نہیں جانتا یوں لکھئیے «بسمک اللھم» ، آپ نے فرمایا: ”اچھا یوں ہی لکھو۔“ پھر فرمایا: ”لکھو یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا“، اس پر سہیل نے کہا: اگر میں آپ کو رسول مانتا تو آپ سے لڑتا ہی کیوں؟ یوں لکھئے کہ یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو نے کیا، اس بات پر کہ دس سال تک ہم میں کوئی لڑائی نہ ہو گی، لوگ امن و امان سے رہیں گے، ایک دوسرے سے بچے ہوئے رہیں گے اور یہ کہ جو شخص آپ کے پاس اپنے ولی کی اجازت کے بغیر چلا جائے گا آپ اسے واپس لوٹا دیں گے اور جو صحابی رسول قریشیوں کے پاس چلا جائے گا وہ اسے نہیں لوٹائیں گے، ہم میں آپ میں لڑائیاں بند رہیں گی، صلح قائم رہے گی، کوئی طوق و زنجیر قیدو بند بھی نہ ہو گا۔ اسی میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت اور آپ کے عہد و پیمان میں آنا چاہے وہ آ سکتا ہے اور جو شخص قریش کے عہد و پیمان میں آنا چاہے وہ بھی آ سکتا ہے، اس پر بنو خزاعہ جلدی سے بول اٹھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدو پیمان میں آنا اور بنوبکر نے کہا کہ ہم قریشیوں کے ساتھ ان کے ذمہ میں ہیں۔ صلح نامہ میں یہ بھی تھا کہ اس سال آپ واپس لوٹ جائیں، مکہ میں نہ آئیں، اگلے سال آئیں اس وقت ہم باہر نکل جائیں گے اور آپ اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سمیت آئیں، تین دن مکہ میں ٹھہریں، ہتھیار اتنے ہی ہوں جتنے ایک سوار کے پاس ہوتے ہیں، تلوار میان میں ہو۔ ابھی صلح نامہ لکھا جا رہا تھا کہ سہیل کے لڑکے سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ لوہے کی بھاری زنجیروں میں جکڑے ہوئے گرتے پڑتے مکہ سے چھپتے چھپاتے بھاگ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین مدینہ سے نکلتے ہوئے ہی فتح کا یقین کئے ہوئے تھے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھ چکے تھے اس لیے انہیں فتح ہونے میں ذرا سا بھی شک نہ تھا، یہاں آ کر جو یہ رنگ دیکھا کہ صلح ہو رہی ہے اور بغیر طواف کے، بغیر زیارت بیت اللہ کے، یہیں سے واپس ہونا پڑے گا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نفس پر دباؤ ڈال کر صلح کر رہے ہیں، تو اس سے وہ بہت ہی پریشان خاطر تھے، بلکہ قریب تھا کہ ہلاک ہو جائیں۔ یہ سب کچھ تو تھا ہی، مزید برآں جب سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ جو مسلمان تھے اور جنہیں مشرکین نے قید کر رکھا تھا اور جن پر طرح طرح کے مظالم توڑ رہے تھے یہ سن کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہوئے ہیں کسی نہ کسی طرح موقعہ پا کر بھاگ آتے ہیں اور طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاس حاضر ہوتے ہیں، تو سہیل اٹھ کر انہیں طمانچے مارنا شروع کر دیتا ہے اور کہتا ہے اے محمد! میرے آپ کے درمیان تصفیہ ہو چکا ہے یہ اس کے بعد آیا ہے لہٰذا اس شرط کے مطابق میں اسے واپس لے جاؤں گا آپ جواب دیتے ہیں کہ ہاں ٹھیک ہے، سہیل کھڑا ہوتا ہے اور ابوجندل کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر گھسیٹتا ہوا انہیں لے کر چلتا ہے، سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ بلند آواز کہتے ہیں، اے مسلمانو! مجھے مشرکوں کی طرف لوٹا رہے ہو؟ ہائے یہ میرا دین مجھ سے چھیننا چاہتے ہیں اس واقعہ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اور برافروختہ کر دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ابوجندل صبر کر اور نیک نیت رہ اور طلب ثواب میں رہ، نہ صرف تیرے لیے ہی بلکہ تجھ جیسے جتنے کمزور مسلمان ہیں ان سب کے لیے اللہ تعالیٰ راستہ نکالنے والا ہے اور تم سب کو اس درد و غم، رنج و الم، ظلم و ستم سے چھڑوانے والا ہے، ہم چونکہ صلح کر چکے ہیں شرطیں طے ہو چکی ہیں اس بنا پر ہم نے انہیں سردست واپس کر دیا ہے، ہم غدر کرنا، شرائط کے خلاف کرنا، عہد شکنی کرنا نہیں چاہتے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ پہلو بہ پہلو جانے لگے اور کہتے جاتے تھے کہ ابوجندل صبر کرو، ان میں رکھا ہی کیا ہے؟ یہ مشرک لوگ ہیں ان کا خون مثل کتے کے خون کے ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ساتھ ہی ساتھ اپنی تلوار کی موٹھ سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ کی طرف کرتے جا رہے تھے کہ وہ تلوار کھینچ لیں اور ایک ہی وار میں باپ کے آرپار کر دیں۔ لیکن سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ کا ہاتھ باپ پر نہ اٹھا۔ صلح نامہ مکمل ہو گیا فیصلہ پورا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام میں نماز پڑھتے تھے اور جانور حلال ہونے کے لیے مضطرب تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اٹھو اپنی اپنی قربانیاں کر لو اور سر منڈوا لو لیکن ایک بھی کھڑا نہ ہوا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا، آپ لوٹ کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمانے لگے: ”لوگوں کو یہ کیا ہو گیا ہے؟“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: یا رسول اللہ! اس وقت جس قدر صدمے میں یہ ہیں آپ کو بخوبی علم ہے، آپ ان سے کچھ نہ کہئے، اپنی قربانی کے جانور کے پاس جائیے اور اسے جہاں وہ ہو وہیں قربان کر دیجئیے اور خود سر منڈوا لیجئے، پھر تو ناممکن ہے کہ اور لوگ بھی یہی نہ کریں۔ آپ نے یہی کیا اب کیا تھا ہر شخص اٹھ کھڑا ہوا قربانی کو قربان کیا اور سر منڈوا لیا، اب آپ یہاں سے واپس چلے آدھا راستہ طے کیا ہو گا جو سورۃ الفتح نازل ہوئی۔ یہ روایت صحیح بخاری شریف میں بھی ہے ۱؎ [صحیح بخاری:2731]
اس میں ہے کہ آپ کے سامنے ایک ہزار کئی سو صحابہ رضی اللہ عنہم تھے، ذوالحلیفہ پہنچ کر آپ نے قربانی کے اونٹوں کو نشان دار کیا اور عمرے کا احرام باندھا اور اپنے ایک جاسوس کو جو قبیلہ خزاعہ میں سے تھا، تجسس کے لیے روانہ کیا۔ غدیر اشطاط میں آ کر اس نے خبر دی کہ قریش نے پورا مجمع تیار کر لیا ہے ادھر ادھر کے مختلف لوگوں کو بھی انہوں نے جمع کر لیا ہے اور ان کا ارادہ لڑائی کا اور آپ کو بیت اللہ سے روکنے کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”اب بتاؤ کیا ہم ان کے اہل و عیال پر حملہ کر دیں اگر وہ ہمارے پاس آئیں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی گردن کاٹ دی ہو گی ورنہ ہم انہیں غمگین چھوڑ کر جائیں گے اگر وہ بیٹھ رہیں گے تو اس غم و رنج میں رہیں گے اور اگر انہوں نے نجات پا لی تو یہ گردنیں ہوں گی جو اللہ عزوجل نے کاٹ دی ہوں گی۔ دیکھو تو بھلا کتنا ظلم ہے کہ ہم نہ کسی سے لڑنے کو آئے، نہ کسی اور ارادے سے آئے، صرف اللہ کے گھر کی زیارت کے لیے جا رہے ہیں اور وہ ہمیں روک رہے ہیں، بتاؤ ان سے ہم کیوں نہ لڑیں؟“ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! آپ بیت اللہ کی زیارت کو نکلے ہیں، آپ چلے چلئیے ہمارا ارادہ جدال و قتال کا نہیں لیکن جو ہمیں اللہ کے گھر سے روکے گا ہم اس سے ضرور لڑیں گے خواہ کوئی ہو، آپ نے فرمایا: ”بس اب اللہ کا نام لو اور چل کھڑے ہو۔“ کچھ اور آگے چل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خالد بن ولید طلائیہ کا لشکر لے کر آ رہا ہے پس تم دائیں طرف کو ہو لو، خالد کو اس کی خبر بھی نہ ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے ان کے کلے پر پہنچ گئے۔ اب خالد دوڑا ہوا قریشیوں میں پہنچا اور انہیں اس سے مطلع کیا، اونٹنی کا نام اس روایت میں قصویٰ بیان ہوا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ جو کچھ وہ مجھ سے طلب کریں گے میں دوں گا بشرطیکہ حرمت اللہ کی اہانت نہ ہو پھر جو آپ نے اونٹنی کو للکارا تو وہ فوراً کھڑی ہو گئی۔
بدیل بن ورقاء خزاعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر قریشیوں کو جب جواب پہنچاتا ہے تو عروہ بن مسعود ثقفی کھڑے ہو کر اپنا تعارف کرا کر جو پہلے بیان ہو چکا یہ بھی کہتا ہے کہ دیکھو اس شخص نے نہایت معقول اور واجبی بات کہی ہے اسے قبول کر لو۔ اور جب یہ خود نبی کریم صلی اللہ ع
2 6 ۔ 1 اذ کا ظرف یا تو لعذبتا ہے یا واذکرو محذوف ہے یعنی اس وقت کو یاد کرو جب کہ ان کافروں نے۔ 2 6 ۔ 2 کفار کی اس حمیت جاہلیہ عار اور غرور سے مراد اہل مکہ کا مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روکتا ہے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمارے بیٹوں اور باپوں کو قتل کیا ہے لات وعزی کی قسم ہم انہیں کبھی یہاں داخل نہیں ہونے دیں گے یعنی انٰہوں نے اسے اپنی عزت اور وقار کا مسئلہ بنا لیا اسی کو حمیت جاہلیہ کہا گیا ہے کیونکہ خانہ کعبہ میں عبادت کے لیے آنے سے روکنے کا کسی کو حق حاصل نہیں تھا قریش مکہ کے اس معاندانہ رویے کے جواب میں خطرہ تھا کہ مسلمانوں کے جذبات میں بھی شدت آجاتی اور وہ بھی اسے اپنے وقار کا مسئلہ بنا کر مکہ جانے پر اصرار کرتے جس سے دونوں کے درمیان لڑائی چھڑ جاتی اور یہ لڑائی مسلمانوں کے لیے سخت خطرناک رہتی اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں سکینت نازل فرما دی یعنی انہیں صبر وتحمل کی توفیق دے دی اور وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق حدیبیہ میں ہی ٹھہرے رہے جوش اور جذبے میں آ کر مکہ جانے کی کوشش نہیں کی لعض کہتے ہیں کہ اس حمیت جاہلیہ سے مراد قریش مکہ کا وہ رویہ ہے جو صلح کے لیے اور معاہدے کے وقت انہوں نے اختیار کیا یہ رویہ اور معاہدہ دونوں مسلمانوں کے لیے بظاہر ناقابل برداشت تھا لیکن انجام کے اعتبار سے چونکہ اس میں اسلام اور مسلمانوں کا بہترین مفاد تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نہایت ناگواری اور گرانی کے باوجود اسے قبول کرنے کا حوصلہ عطا فرما دیا اس کی مختصر تفصیل اس طرح ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کے بھیجے ہوئے نمائندوں کی یہ بات تسلیم کرلی کہ اس سال مسلمان عمرے کے لیے مکہ نہیں جائیں گے اور یہیں سے واپس ہوجائیں گے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو معاہدہ لکھنے کا حکم دیا انہوں نے آپ کے حکم سے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی انہوں نے اس پر اعتراض کردیا کہ رحمن رحیم کو ہم نہیں جانتے ہمارے ہاں جو لفظ استعمال ہوتا ہے اس کے ساتھ یعنی باسمک اللھم اے اللہ تیرے نام سے لکھیں چناچہ آپ نے اسی طرح لکھوایا پھر آپ نے لکھوایا یہ وہ دستاویز ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے مصالحت کی ہے قریش کے نمائندوں نے کہا اختلاف کی بنٰیاد تو آپ کی رسالت ہی ہے اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانٰ لیں تو اس کے بعد جھگڑا ہی کیا رہ جاتا ہے پھر ہمیں آپ سے لڑنے کی اور بیت اللہ میں جانے سے روکنے کی ضرورت ہی کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں محمد رسول اللہ کی جگہ محمد بن عبد اللہ لکھیں چناچہ آپ نے حضرت علی رضی الیہ کو ایسا ہی لکھنے کا حکم دیا یہ مسلمانوں کے لیے نہایت اشتعال انگیز صورت حال تھی اگر اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر سکینت نازل نہ فرماتا تو وہ کبھی اسے برداشت نہ کرتے حضرت علی ؓ نے اپنے ہاتھ سے محمد رسول اللہ کے الفاظ مٹانے اور کاٹنے سے انکار کردیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ یہ لفظ کہاں ہے بتانے کے بعد خود آپ نے اسے اپنے دست مبارک سے مٹا دیا اور اس کی جگہ محمد بن عبد اللہ تحریر کرنے کو فرمایا اس کے بعد اس معاہدے یا صلح نامے میں تین باتیں لکھیں گئیں 1۔ اہل مکہ میں سے جو مسلمان ہو کر آپ کے پاس آئے گا اسے واپس کردیا جائے گا۔ 2۔ جو مسلمان اہل مکہ سے جا ملے گا وہ اس کو واپس کرنے کے پابند نہیں ہوں گے۔ 3۔ مسلمان آئندہ سال مکہ میں آئیں گے اور یہاں تین دن قیام کرسکیں گے تاہم انہیں ہتھیار ساتھ لانے کی اجازت نہیں ہوگی (صحیح مسلم کتاب الجہاد) اور اس کے ساتھ دو باتیں اور لکھی گئیں۔ 1 اس سال لڑائی موقوف رہے گی۔ 2۔ قبائل میں سے جو چاہے مسلمانوں کے ساتھ اور جو چاہے قریش کے ساتھ ہوجائے۔ 26۔ 3 اس سے مراد کلمہ توحید و رسالت لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ہے، جس سے حدیبیہ والے دن مشرکین نے طواف وعمرہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ نبی کا خواب بھی بمنزلہ وحی ہی ہوتا ہے۔ تاہم اس خواب میں یہ تعین نہیں تھی کہ یہ اسی سال ہوگا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان، اس بشارت عظیمہ سمجھتے ہوئے، عمرے کے لئے فوراً ہی امادہ ہوگئے اور اس کے لئے عام منادی کرا دی گئی اور چل پڑے۔ بالآخر حدیبیہ میں وہ صلح ہوئی، جس کی تفصیل ابھی گزری، دراں حالیکہ اللہ کے علم میں اس خواب کی تعبیر آئندہ سال تھی، جیسا کہ آئندہ سال مسلمانوں نہایت امن کے ساتھ یہ عمرہ کیا اور اللہ نے اپنے پیغمبر کے خواب کو سچا کر دکھایا۔
(آیت 26) ➊ {اِذْ جَعَلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِيَّةَ:} لفظ {” اِذْ “} پچھلی آیت کے آخر میں {” لَعَذَّبْنَا “} کا ظرف ہے، یعنی اگر وہ مومن مرد اور مومن عورتیں کفار سے الگ ہو گئے ہوتے ”تو ہم ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، دردناک سزا دیتے، جب ان کفر کرنے والوں نے اپنے دل میں ضد رکھ لی تھی…۔“ اور فعل محذوف {”اُذْكُرْ“} کا مفعول بہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی اس وقت کو یاد کر جب …۔ ➋ { حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ:} جاہلیت کی ضد سے مراد یہ ہے کہ انھوں نے وہ بات ماننے سے بھی انکار کر دیا جو تمام عرب کے ہاں مسلّم تھی کہ اللہ کے گھر سے کسی طواف یا عمرہ یا حج ادا کرنے والے کو روکا نہیں جا سکتا اور حرمت والے مہینوں میں لڑنے کی اجازت نہیں۔ بلکہ وہ لڑنے پر تیار ہو گئے اور کہنے لگے، ہم یہ عار برداشت نہیں کر سکتے کہ ہم سے زبردستی کوئی مکہ میں داخل ہو، اس لیے اس سال مسلمان واپس چلے جائیں، آئندہ سال آ کر عمرہ ادا کر لیں، وہ بھی صرف تین دن ٹھہریں اور اسلحہ میں صرف تلوار لا سکتے ہیں جو نیام میں ہو۔ اس کے علاوہ ان کا بات بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے الجھنا اور صلح کے لیے ناروا شرطیں لگانا بھی جاہلیت کی ضد تھی، مثلاً یہ کہنا کہ {”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“} کے بجائے {”بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ“} لکھو اور ”محمد رسول اللہ“ کے بجائے ”محمد بن عبد اللہ“ لکھو اور کوئی شخص مسلمان ہو کر تمھارے پاس جائے تو اسے واپس کرو، لیکن اگر کوئی مرتد ہو کر ہمارے پاس آئے تو ہم اسے واپس نہیں کریں گے۔ اسی طرح سہیل بن عمرو کا اپنے مسلمان ہو جانے والے بیٹے ابوجندل کو عین معاہدے کے درمیان آ کر اپنی حالت زار دکھانے کے باوجود مسلمانوں کے ساتھ جانے کی اجازت دینے سے انکار اور سب کے سامنے اس پر تشدد بھی جاہلیت کی ضد تھی۔ ➌ { فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ:} سکینت سے مراد وہ تحمل و حوصلہ اور صبر و وقار ہے جس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے کفارِ مکہ کی جاہلانہ حمیت کا مقابلہ کیا کہ نہ مشتعل ہوئے، نہ کوئی ناحق بات زبان سے کہی اور نہ اپنے کسی عمل سے کفار کو لڑائی چھیڑنے کا موقع دیا۔ ➍ اس آیت کے الفاظ پر غور کریں تو کفار اور مسلمانوں کے طرزِ عمل کے درمیان اور اللہ تعالیٰ کے ان کے ساتھ معاملے کے درمیان فرق کا اندازہ ہوتا ہے: (1)کفار نے اپنے دلوں میں حمیت یعنی ضد رکھ لی، سوچے سمجھے بغیر یہ ضد رکھنے والے وہ خود تھے۔ اس کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کے دلوں میں سکینت تھی، جو اپنے خزانے سے نازل کرنے والا اللہ تعالیٰ تھا۔ (2)کفار کے دلوں میں موجود ضد جاہلیت کی ضد تھی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کے دلوںمیں سکینت ربانی سکینت تھی۔ ➎ {وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى:} وہ تقویٰ کی بات یہ تھی کہ مسلمان تنگی ترشی، جوش، غضب، غرض ہر طرح کے حالات میں اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا پابند بنائے رکھیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے مشتعل جذبات کو سکون بخش کر اور اپنے حکم کی پابندی پر قائم رکھ کر صلح کا کام پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا۔ ➏ { وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا:} اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے، کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے تھے اور انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور آپ کی تربیت پانے کا شرف حاصل تھا۔ ➐ { وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا:} اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔ اس علم ہی کے ساتھ اس نے ان پاکیزہ ہستیوں کو تقویٰ کے سب سے زیادہ حق دار اور اہل جان کر اپنے رسول کی صحبت کے لیے چنا، اس کی اطاعت کی توفیق بخشی اور انھیں تقویٰ کی بات پر قائم رکھا۔
فی الواقع اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھا یا تھا جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق تھا انشاءاللہ تم ضرور مسجد حرام میں پورے امن کے ساتھ داخل ہو گے، اپنے سر منڈواؤ گے اور بال ترشواؤ گے، اور تمہیں کوئی خوف نہ ہو گا وہ اُس بات کو جانتا تھا جسے تم نہ جانتے تھے اس لیے وہ خواب پورا ہونے سے پہلے اُس نے یہ قریبی فتح تم کو عطا فرما دی
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خواب سچا دکھایا کہ انشاءاللہ تم یقیناً پورے امن وامان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوگے سرمنڈواتے ہوئے اور سر کے بال کترواتے ہوئے (چین کے ساتھ) نڈر ہو کر، وه ان امور کو جانتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے، پس اس نے اس سے پہلے ایک نزدیک کی فتح تمہیں میسر کی
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ نے سچ کردیا اپنے رسول کا سچا خواب بیشک تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہوگے اگر اللہ چاہے امن و امان سے اپنے سروں کے بال منڈاتے یا ترشواتے بے خوف، تو اس نے جانا جو تمہیں معلوم نیں تو اس سے پہلے ایک نزدیک آنے والی فتح رکھی
علامہ محمد حسین نجفی
(اللہ) اس بات کو جانتا تھا جو تم نہیں جانتے تھے تو اس نے اس (تعبیرِ خواب) سے پہلے تمہیں ایک قریبی فتح عطا کر دی۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا اللہ نے اپنے رسول کو خواب میں حق کے ساتھ سچی خبر دی کہ تم مسجد حرام میں ضرور بالضرور داخل ہو گے، اگر اللہ نے چاہا، امن کی حالت میں، اپنے سر منڈاتے ہوئے اور کتراتے ہوئے، ڈرتے نہیں ہو گے، تو اس نے جانا جو تم نے نہیں جانا تو اس نے اس سے پہلے ایک قریب فتح رکھ دی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ میں گئے اور بیت اللہ شریف کا طواف کیا، آپ نے اس کا ذکر اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے مدینہ شریف میں ہی کر دیا تھا۔ حدیبیہ والے سال جب آپ عمرے کے ارادے سے چلے تو اس خواب کی بنا پر صحابہ کو یقین کامل تھا کہ اس سفر میں ہی کامیابی کے ساتھ اس خواب کا ظہور دیکھ لیں گے۔ وہاں جا کر جو رنگت بدلی ہوئی دیکھی یہاں تک کہ صلح نامہ لکھ کر بغیر زیارت بیت اللہ واپس ہونا پڑا تو ان صحابہ رضی اللہ عنہم پر نہایت شاق گزرا۔
چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا بھی کہ آپ نے تو ہم سے فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور طواف سے مشرف ہوں گے، آپ نے فرمایا: ”یہ صحیح ہے لیکن یہ تو میں نے نہیں کہا تھا کہ اسی سال ہو گا؟“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں یہ تو نہیں فرمایا تھا، آپ نے فرمایا: ”پھر جلدی کیا ہے؟ تم بیت اللہ میں جاؤ گے ضرور اور طواف بھی یقیناً کرو گے۔“ پھر سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ سے یہی کہا اور ٹھیک یہی جواب پایا۔ اس آیت میں جو «ان شاءاللہ» ہے یہ استثناء کے لیے نہیں بلکہ تحقیق اور تاکید کے لیے ہے اس مبارک خواب کی تاویل کو صحابہ رضی اللہ عنہم نے دیکھ لیا اور پورے امن و اطمینان کے ساتھ مکہ میں گئے اور وہاں جا کر احرام کھولتے ہوئے بعض نے اپنا سر منڈوایا اور بعض نے بال کتروائے۔
صحیح حدیث میں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے لوگوں نے کہا اور کتروانے والوں پر بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ بھی یہی فرمایا پھر لوگوں نے وہی کہا آخر تیسری یا چوتھی دفعہ میں آپ نے کتروانے والوں کے لیے بھی رحم کی دعا کی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1727] پھر فرمایا بےخوف ہو کر یعنی مکہ جاتے وقت بھی امن و امان سے ہوں گے اور مکہ کا قیام بھی بےخوفی کا ہو گا۔ چنانچہ عمرۃ القضاء میں یہی ہوا یہ عمرہ ذی قعدہ سنہ ۷ ہجری میں ہوا تھا۔ حدیبیہ سے آپ ذی قعدہ کے مہینے میں لوٹے، ذی الحجہ اور محرم تو مدینہ شریف میں قیام رہا، صفر میں خیبر کی طرف گئے اس کا کچھ حصہ تو ازروئے جنگ فتح ہوا اور کچھ حصہ ازروئے صلح مسخر ہوا یہ بہت بڑا علاقہ تھا اس میں کھجوروں کے باغات اور کھیتیاں بکثرت تھیں۔ یہیں کے یہودیوں کو آپ نے بطور خادم یہاں رکھ کر ان سے یہ معاملہ طے کیا کہ وہ باغوں اور کھیتوں کی حفاظت اور خدمت کریں اور پیداوار کا نصف حصہ دے دیا کریں، خیبر کی تقسیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان ہی صحابہ رضی اللہ عنہم میں کی جو حدیبیہ میں موجود تھے ان کے سوا کسی اور کو اس جنگ میں آپ نے حصہ دار نہیں بنایا، سوائے ان لوگوں کے جو حبشہ کی ہجرت سے واپس آئے تھے، جو حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ سب اس فتح خیبر میں بھی ساتھ تھے۔ ابودجانہ، سماک بن خرشہ رحمہا اللہ علیہ کے سوا، جیسے کہ اس کا پورا بیان اپنی جگہ ہے۔ یہاں سے آپ سالم و غنیمت لیے ہوئے واپس تشریف لائے اور ماہ ذوالقعدہ سنہ ۷ ہجری میں مکہ کی طرف باارادہ عمرہ اہل حدیبیہ کو ساتھ لے کر آپ روانہ ہوئے، ذوالحلفیہ سے احرام باندھا قربانی کے لیے ساٹھ اونٹ ساتھ لیے اور لبیک پکارتے ہوئے ظہران کے قریب پہنچ کر سیدنا محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ گھوڑے سواروں کے ساتھ ہتھیار بند آگے آگے روانہ کیا۔ اس سے مشرکین کے اوسان خطا ہو گئے اور مارے رعب کے ان کے کلیجے اچھلنے لگے۔ انہیں یہ خیال گزرا کہ یہ تو پوری تیاری اور کامل ساز و سامان کے ساتھ آئے ہیں تو ضرور لڑائی کے ارادے سے آئے ہیں۔ انہوں نے شرط توڑ دی کہ دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہو گی، چنانچہ یہ لوگ دوڑے ہوئے مکہ میں گئے اور اہلِ مکہ کو اس کی اطلاع دی۔
َنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مرالظہران میں پہنچے جہاں سے کعبہ کے بت دکھائی دیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام نیزے بھالے تیر کمان بطن یاجج میں بھیج دئیے، مطابق شرط کے صرف تلواریں پاس رکھ لیں اور وہ بھی میان میں تھیں ابھی آپ راستے میں ہی تھے جو قریش کا بھیجا ہوا آدمی مکرز بن حفص آیا اور کہنے لگا: حضور آپ کی عادت تو عہد توڑنے کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“، وہ کہنے لگا کہ آپ تیر اور نیزے لے کر آ رہے ہیں آپ نے فرمایا: ”نہیں تو ہم نے وہ سب یاجج بھیج دیے ہیں۔“ اس نے کہا: یہی ہمیں آپ کی ذات سے امید تھی، آپ ہمیشہ سے بھلائی اور نیکی اور وفاداری ہی کرنے والے ہیں، سرداران کفار تو بوجہ غیظ و غضب اور رنج و غم کے شہر سے باہر چلے گئے کیونکہ وہ تو آپ کو اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کو دیکھنا بھی نہیں چاہتے تھے اور لوگ جو مکہ میں رہ گئے تھے وہ مرد، عورت، بچے تمام راستوں پر اور کوٹھوں پر اور چھتوں پر کھڑے ہو گئے اور ایک استعجاب کی نظر سے اس مخلص گروہ کو اس پاک لشکر کو اس اللہ کی فوج کو دیکھ رہے تھے۔ آپ نے قربانی کے جانور ذی طوٰی میں بھیج دئیے تھے، خود آپ اپنی مشہور و معروف سواری اونٹنی قصوا پر سوار تھے، آگے آگے آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم تھے جو برابر لبیک پکار رہے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ آپ کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے «باسم الذی لا دین الا دینہ» *** «بسم الذی محمد رسولہ» *** «خلوا بنی الکفار عن سبیلہ» *** «الیوم نضربکم علی تاویلہ» *** «کما ضربنا کم علی تنزیلہ» *** «ضربا یزیل الھام عن مقیلہ» *** «ویذھل الخلیل عن خلیلہ» *** «قد انزل الرحمن فی تنزیلہ» *** «فی صحف تتلی علی رسولہ» *** «بان خیرالقتل فی سبیلہ» *** «یا رب انی مومن بقیلہ» ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:320/3:مرسل] یعنی ’ اس اللہ عزوجل کے نام سے جس کے دین کے سوا اور کوئی دین قابل قبول نہیں۔ اس اللہ کے نام سے جس کے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے کافروں کے بچو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے سے ہٹ جاو، آج ہم تمہیں آپ کے لوٹنے پر بھی ویسا ہی ماریں گے، جیسے آپ کے آنے پر مارا تھا، وہ مار جو دماغ کو اس کے ٹھکانے سے ہٹا دے اور دوست کو دوست سے بھلا دے۔ اللہ تعالیٰ رحم والے نے اپنی وحی میں نازل فرمایا ہے، جو ان صحیفوں میں موجود ہے جو اس کے رسول کے سامنے تلاوت کیے جاتے ہیں کہ سب سے بہتر موت شہادت کی موت ہے، جو اس کی راہ میں ہو۔ اے میرے پروردگار اس بات پے ایمان لا چکا ہوں ‘۔ بعض روایتوں میں یہ الفاظ میں کچھ ہیر پھیر بھی ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ اس عمرے کے سفر میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مر الظہران) میں پہنچے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سنا کہ اہل مکہ کہتے ہیں یہ لوگ بوجہ لاغری اور کمزوری کے اٹھ بیٹھ نہیں سکتے یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اگر آپ اجازت دیں تو ہم اپنی سواریوں کے چند جانور ذبح کر لیں ان کا گوشت کھائیں اور شوربا پئیں اور تازہ دم ہو کر مکہ میں جائیں۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں ایسا نہ کرو، تمہارے پاس جو کھانا ہو اسے جمع کرو“، چنانچہ جمع کیا دستر خوان بچھایا اور کھانے بیٹھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے کھانے میں اتنی برکت ہوئی کہ سب نے کھا پی لیا اور توشے دان بھر لیے۔ آپ مکہ شریف آئے سیدھے بیت اللہ گئے قریشی حطیم کی طرف بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چادر کے پلے دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لیے اور اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”یہ لوگ تم میں سستی اور لاغری محسوس نہ کریں“، اب آپ نے رکن کو بوسہ دے کر دوڑنے کی سی چال سے طواف شروع کیا جب رکن یمانی کے پاس پہنچے جہاں قریش کی نظریں نہیں پڑتی تھیں تو وہاں سے آہستہ آہستہ چل کر حجر اسود تک پہنچے۔ قریش کہنے لگے تم لوگ تو ہرنوں کی طرح چوکڑیاں بھر رہے ہو گویا چلنا تمہیں پسند ہی نہیں، تین مرتبہ تو آپ اسی طرح ہلکی دوڑ کی سی چال حجر اسود سے رکن یمانی تک چلتے رہے تین پھیرے اس طرح کئے چنانچہ یہی مسنون طریقہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے حجتہ الوداع میں بھی اسی طرح طواف کے تین پھیروں میں رمل کیا یعنی دلکی چال چلے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1889]
بخاری مسلم میں ہے کہ { اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے کی آب و ہوا شروع میں کچھ ناموافق پڑی تھی اور بخار کی وجہ سے یہ کچھ لاغر ہو گئے تھے، جب آپ مکہ پہنچے تو مشرکین مکہ نے کہا یہ لوگ جو آ رہے ہیں انہیں مدینے کے بخار نے کمزور اور سست کر دیا اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس کلام کی خبر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کر دی۔ مشرکین حطیم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ حجر اسود سے لے کر رکن یمانی تک طواف کے تین پہلے پھیروں میں دلکی چال چلیں اور رکن یمانی سے حجر اسود تک جہاں جانے کے بعد مشرکین کی نگاہیں نہیں پڑتی تھیں، وہاں ہلکی چال چلیں پورے ساتوں پھیروں میں رمل کرنے کو نہ کہنا یہ صرف بطور رحم کے تھا، مشرکوں نے جب دیکھا کہ یہ تو سب کے سب کود کود کر پھرتی اور چستی سے طواف کر رہے ہیں تو آپس میں کہنے لگے کیوں جی انہی کی نسبت اڑا رکھا تھا کہ مدینے کے بخار نے انہیں سست و لاغر کر دیا ہے؟ یہ لوگ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ چست و چالاک ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4256] ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالقعدہ کی چوتھی تاریخ کو مکہ شریف پہنچ گئے تھے اور روایت میں ہے کہ مشرکین اس وقت قعیقعان کی طرف تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صفا مروہ کی طرف سعی کرنا بھی مشرکوں کو اپنی قوت دکھانے کے لیے تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4257] { سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس دن ہم آپ پر چھائے ہوئے تھے اس لیے کہ کوئی مشرک یا کوئی ناسمجھ آپ کو کوئی ایذاء نہ پہنچا سکے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4255]
بخاری شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرے کے لیے نکلے لیکن کفار قریش نے راستہ روک لیا اور آپ کو بیت اللہ شریف تک نہ جانے دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں قربانیاں کیں اور وہیں یعنی حدیبیہ میں سر منڈوا لیا اور ان سے صلح کر لی جس میں یہ طے ہوا کہ آپ اگلے سال عمرہ کریں گے سوائے تلواروں کے اور کوئی ہتھیار اپنے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ میں نہیں آئیں گے اور وہاں اتنی ہی مدت ٹھہریں گے جتنی اہل مکہ چاہیں پس اگلے سال آپ اسی طرح آئے تین دن تک ٹھہرے پھر مشرکین نے کہا اب آپ چلے جائیں چنانچہ آپ وہاں سے واپس ہوئے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4252]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا لیکن اہل مکہ حائل ہوئے تو آپ نے ان سے یہ فیصلہ کیا کہ آپ صرف تین دن ہی مکہ میں ٹھہریں گے جب صلح نامہ لکھنے لگے تو لکھا یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی تو اہل مکہ نے کہا کہ اگر آپ کو ہم رسول اللہ جانتے تو ہرگز نہ روکتے بلکہ آپ محمد بن عبداللہ لکھئیے۔ آپ نے فرمایا: ”میں رسول اللہ ہوں میں محمد بن عبداللہ ہوں“، پھر آپ نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”لفظ رسول کو مٹا دو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں نہیں، قسم اللہ کی! میں اسے ہرگز نہ مٹاؤں گا“، چنانچہ آپ نے اس صلح نامہ کو اپنے ہاتھ میں لے کر باوجود اچھی طرح لکھنا نہ جاننے کے لکھا، کہ یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی۔ یہ کہ مکہ میں ہتھیار لے کر داخل نہ ہوں گے، صرف تلوار ہو گی اور وہ بھی میان میں اور یہ کہ اہل مکہ میں سے جو آپ کے ساتھ جانا چاہے گا اسے آپ اپنے ساتھ نہیں لے جائیں گے اور یہ کہ آپ کے ساتھیوں میں سے جو مکے میں رہنے کے ارادے سے ٹھہر جانا چاہے گا آپ اسے روکیں گے نہیں، پس جب آپ آئے اور وقت مقررہ گزر چکا تو مشرکین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا آپ حضور سے کہئے کہ اب وقت گزر چکا تشریف لے جائیں، چنانچہ آپ نے کوچ کر دیا۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا چچا کہہ کر آپ کے پیچھے ہو لیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں لے لیا اور انگلی تھام کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے گئے اور فرمایا: اپنے چچا کی لڑکی کو اچھی طرح رکھو سیدہ زہرا رضی اللہ عنہا نے بڑی خوشی سے بچی کو اپنے پاس بٹھا لیا۔ اب سیدنا علی اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہما میں جھگڑا ہونے لگا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے انہیں میں لے آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی صاحبزادی ہیں، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے میری چچا زاد بہن ہے اور ان کی خالہ میرے گھر میں ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے تھے میرے بھائی کی لڑکی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جھگڑے کا فیصلہ یوں کیا کہ لڑکی کو تو ان کی خالہ کو سونپا اور فرمایا خالہ قائم مقام ماں کے ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔“ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تو خلق اور خلق میں مجھ سے پوری مشابہت رکھتا ہے۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو ہمارا بھائی اور ہمارا مولیٰ ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی لڑکی سے نکاح کیوں نہ کر لیں؟ آپ نے فرمایا: ”وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4251]
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ جس خیر و مصلحت کو جانتا تھا اور جسے تم نہیں جانتے تھے اس بنا پر تمہیں اس سال مکہ میں نہ جانے دیا اور اگلے سال جانے دیا اور اس جانے سے پہلے ہی جس کا وعدہ خواب کی شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا تمہیں فتح قریب عنایت فرمائی۔ یہ فتح وہ صلح ہے جو تمہارے دشمنوں کے درمیان ہوئی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کو خوشخبری سناتا ہے کہ وہ اپنے رسول کو ان دشمنوں پر اور تمام دشمنوں پر فتح دے گا اس نے آپ کو علم نافع اور عمل صالح کے ساتھ بھیجا ہے، شریعت میں دو ہی چیزیں ہوتی ہیں علم اور عمل پس علم شرعی صحیح علم ہے اور عمل شرعی مقبولیت والا عمل ہے۔ اس کے اخبار سچے، اس کے احکام سراسر عدل و حق والے۔ چاہتا یہ ہے کہ روئے زمین پر جتنے دین ہیں عربوں میں، عجمیوں میں، مسلمین میں، مشرکین میں، ان سب پر اس اپنے دین کو غالب اور ظاہر کرے، اللہ کافی گواہ ہے اس بات پر کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ہی آپ کا مددگار ہے۔ «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم»
27۔ 1 واقعہ حدیبیہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں مسلمانوں کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہو کر طواف وعمرہ کرتے ہوئے دکھا گیا نبی کا خواب بھی بمنزلہ وحی ہی ہوتا ہے تاہم اس خواب میں یہ تعیین نہیں تھی کہ یہ اسی سال ہوگا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان اسے بشارت عظیمہ سمجھتے ہوئے عمرے کے لیے فورا ہی آمادہ ہوگئے اور اس کے لیے عام مندی کرا دی گئی اور چل پڑے بالآخر حدیبیہ میں وہ صلح ہوئی جس کی تفصل ابھی گزری دراں حالیکہ اللہ کے علم میں اس خواب کی تعبیر آئندہ سال تھی جیسا کہ آئندہ سال مسلمانوں نے نہایت امن کے ساتھ یہ عمرہ کیا اور اللہ نے اپنے پیغمبر کے خواب کو سچا کر دکھایا۔ 27۔ 2 یعنی اگر حدیبیہ کے مقام پر صلح نہ ہوتی تو جنگ سے مکہ میں مقیم کمزور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا صلح کے ان فوائد کو اللہ ہی جانتا تھا۔ 27۔ 3 اس سے فتح خیبر و فتح مکہ کے علاوہ، صلح کے نتیجے میں جو بہ کثرت مسلمان ہوئے وہ بھی مراد ہے، کیونکہ وہ بھی فتح کی ایک عظیم قسم ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمان ڈیڑھ ہزار تھے، اس کے دو سال بعد جب مسلمان مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے تو ان کی تعداد دس ہزار تھی۔
(آیت 27) ➊ { لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ:} اس کی ترکیب دو طرح سے کی جاتی ہے، ایک یہ کہ {” صَدَقَ اللّٰهُ “} فعل اور فاعل ہے، {” رَسُوْلَهُ “} اس کا مفعول بہ ہے اور {” الرُّءْيَا “} سے پہلے حرف جار {”فِيْ“} محذوف ہے، جس کے حذف کی وجہ سے {” الرُّءْيَا “} منصوب ہے، اسے منصوب بنزع الخافض کہتے ہیں: {”أَيْ فِي الرُّؤْيَا۔“} ترجمہ اسی ترکیب کے مطابق کیا گیا ہے کہ بلاشبہ یقینا اللہ نے اپنے رسول کو خواب میں حق کے ساتھ سچی خبر دی یا سچ کہا۔ اس کی مثال یہ آیت ہے: «مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ» [الأحزاب: ۲۳] {”أَيْ فِيْ مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ“} ”مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنھوں نے اس بات میں سچ کہا جس پر انھوں نے اللہ سے عہد کیا۔“ دوسری ترکیب یہ ہے کہ {” صَدَقَ اللّٰهُ “} فعل و فاعل ہے، {” رَسُوْلَهُ “} پہلا مفعول ہے اور {” الرُّءْيَا “} دوسرا مفعول ہے۔ یعنی بلاشبہ یقینا اللہ نے اپنے رسول کو حق کے ساتھ سچا خواب دکھایا۔ اس صورت میں {” صَدَقَ “} دو مفعولوں کی طرف متعدی ہو گا۔ {” بِالْحَقِّ “} کا مطلب ہے واقع کے عین مطابق۔ ➋ { لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ …:} حدیبیہ روانہ ہونے سے پہلے مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سمیت امن و اطمینان کے ساتھ کسی خوف کے بغیر مکہ میں داخل ہوتے ہیں، بیت اللہ کا طواف اور عمرہ کے دوسرے ارکان ادا کر رہے ہیں، پھر کوئی سر منڈوا رہا ہے اور کوئی کتروا رہا ہے۔ پیغمبر کا خواب چونکہ وحی ہوتا ہے اور کسی صورت جھوٹا نہیں ہو سکتا، اس لیے مسلمان بہت خوش ہوئے اور عموماً انھوں نے سمجھا کہ اسی سال مکہ میں داخلہ ہو گا، مگر جب مکہ میں داخل ہوئے بغیر حدیبیہ سے واپس پلٹے تو بعض صحابہ کے دلوں میں اس کے متعلق کچھ تردّد پیدا ہوا کہ خواب پورا نہیں ہوا۔ تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کرکے واضح فرمایا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خواب ہم نے دکھایا اور یہ بالکل سچ ہے جو یقینا پورا ہو گا۔ چنانچہ اس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگلے سال مکہ معظمہ میں داخل ہوئے اور امن و اطمینان کے ساتھ عمرہ ادا کرکے واپس آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ خود خواب میں اس کے پورا ہونے کا وقت نہیں بتایا گیا تھا، جب کہ خواب کی تعبیر بعض اوقات کئی سال بعد جا کر ظاہر ہوتی ہے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے خواب دیکھنے کے کئی سال بعد والدین اور بھائیوں کے مصر میں آنے پر کہا: «يٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا» [ یوسف: ۱۰۰ ] ”اے میرے باپ! یہ میرے پہلے کے خواب کی تعبیر ہے، بے شک میرے رب نے اسے سچا کر دیا۔“ یہاں بعض مسلمانوں نے اپنے طور پر سمجھ لیا تھا کہ اسی سال مکہ معظمہ میں داخلہ ہو گا۔ چنانچہ صحیح بخاری کی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ جب صلح طے ہو چکی، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: [ فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَلَسْتَ نَبِيَّ اللّٰهِ حَقًّا؟ قَالَ بَلٰی، قُلْتُ أَلَسْنَا عَلَی الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَی الْبَاطِلِ؟ قَالَ بَلٰی، قُلْتُ فَلِمَ نُعْطَی الدَّنِيَّةَ فِيْ دِيْنِنَا إِذًا؟ قَالَ إِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ، وَلَسْتُ أَعْصِيْهِ وَهُوَ نَاصِرِيْ، قُلْتُ أَوَ لَيْسَ كُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ فَنَطُوْفُ بِهٖ؟ قَالَ بَلٰی، فَأَخْبَرْتُكَ أَنَّا نَأْتِيْهِ الْعَامَ؟ قَالَ قُلْتُ لاَ، قَالَ فَإِنَّكَ آتِيْهِ وَمُطَّوِّفٌ بِهٖ، قَالَ فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا بَكْرٍ! أَلَيْسَ هٰذَا نَبِيَّ اللّٰهِ حَقًّا؟ قَالَ بَلٰی، قُلْتُ أَلَسْنَا عَلَی الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَی الْبَاطِلِ؟ قَالَ بَلٰی قُلْتُ فَلِمَ نُعْطَی الدَّنِيَّةَ فِيْ دِيْنِنَا إِذًا؟ قَالَ أَيُّهَا الرَّجُلُ! إِنَّهُ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ يَعْصِيْ رَبَّهُ وَهُوَ نَاصِرُهُ، فَاسْتَمْسِكْ بِغَرْزِهِ، فَوَاللّٰهِ! إِنَّهُ عَلَی الْحَقِّ، قُلْتُ أَلَيْسَ كَانَ يُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ وَنَطُوْفُ بِهٖ؟ قَالَ بَلٰی، أَفَأَخْبَرَكَ أَنَّكَ تَأْتِيْهِ الْعَامَ؟ قُلْتُ لاَ، قَالَ فَإِنَّكَ آتِيْهِ وَمُطَّوِّفٌ بِهٖ، قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ عُمَرُ فَعَمِلْتُ لِذٰلِكَ أَعْمَالاً ] [بخاري، الشروط، باب الشروط في الجہاد…: ۲۷۳۱،۲۷۳۲ ] ”تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے کہا، کیا آپ اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں؟“ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں!“ میں نے کہا: ”کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں؟“ فرمایا: ”کیوں نہیں!“ میں نے کہا: ”تو ایسے میں ہمیں اپنے دین میں ذلت کی بات کیوں قبول کروائی جاتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقینا میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اس کی نافرمانی نہیں کرتا اور وہ میری مدد کرنے والا ہے۔“ میں نے کہا: ”کیا آپ ہمیں بیان نہیں کیا کرتے تھے کہ ہم بیت اللہ میں جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا میں نے تمھیں یہ بتایا تھا کہ ہم اسی سال اس میں جائیں گے؟“ میں نے کہا: ”نہیں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یقینا اس میں جانے والے اور اس کا طواف کرنے والے ہو۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے کہا: ”اے ابوبکر! کیا یہ اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں؟“ انھوں نے کہا: ”کیوں نہیں!“ میں نے کہا: ”کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں؟“ کہا: ”کیوں نہیں!“ میں نے کہا: ”تو پھر ہمیں اپنے دین میں ذلت کی بات کیوں قبول کروائی جاتی ہے؟“ انھوں نے کہا: ”اے (اللہ کے) بندے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم یقینا اللہ کے رسول ہیں اور آپ اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہ آپ کی مدد کرنے والا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔“ میں نے کہا: ”کیا آپ ہمیں بیان نہیں کیا کرتے تھے کہ ہم بیت اللہ میں جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟“ انھوں نے کہا: ”تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھیں بتایا تھا کہ تم اسی سال وہاں جاؤ گے؟“ میں نے کہا: ”نہیں!“ انھوں نے کہا: ”تو تم یقینا اس میں جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔“ زہری کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر میں نے اس (جلد بازی کے کفارے) کے لیے کئی اعمال کیے۔“ صحیح بخاری میں ایک اور جگہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے عمر رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ گفتگو اور ان کا یہی جواب مروی ہے، اس کے آخر میں ہے: [ فَنَزَلَتْ سُوْرَةُ الْفَتْحِ فَقَرَأَهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰی عُمَرَ إِلٰی آخِرِهَا، فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَوَ فَتْحٌ هُوَ؟ قَالَ نَعَمْ ] [بخاري، الجزیۃ والموادعۃ، باب إثم من عاھد ثم غدر: ۳۱۸۲ ] ”اس موقع پر سورۂ فتح اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو یہ سورت آخر تک پڑھ کر سنائی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا یہ فتح ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (یہ فتح ہے)۔“ ➌ { اِنْ شَآءَ اللّٰهُ:} یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ ”ان شاء الله “ تو استثنا کے لیے کہا جاتا ہے کہ اگر اللہ نے چاہا تو یہ کام ہو جائے گا ورنہ نہیں، حتیٰ کہ قسم کے بعد اگر ”ان شاء الله “ کہہ لیا جائے تو قسم بھی واقع نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں جزم اور پختگی نہیں ہوتی، جبکہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں شک یا استثنا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو یہاں {” اِنْ شَآءَ اللّٰهُ “} کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اہلِ علم نے اس کے کئی جواب دیے ہیں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ {” اِنْ شَآءَ اللّٰهُ “} اس خبر کی تاکید اور اس کا یقین دلانے کے لیے ہے، استثنا کے لیے کسی طرح بھی نہیں۔“ (ابن کثیر) ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے تاتاریوں کے مقابلے پر مسلمانوں کو ان کی فتح کا یقین دلاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی اور ان شاء اللہ کہا، ساتھ ہی فرمایا: {”إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَحْقِيْقًا لَا تَعْلِيْقًا۔“} ابن عاشور نے فرمایا: {”إِنْ شَآءَ اللّٰهُ“} کا ایک استعمال یہ ہے کہ یہ کسی چیز کے متعلق اس وقت بولا جاتا ہے جب وہ آئندہ دیر سے واقع ہونے والی ہو، جیسے کسی سے کہا جائے کہ یہ کام کر دو تو وہ کہے، میں ”ان شاء الله “ یہ کام کر دوں گا۔ تو اس سے یہ نہیں سمجھا جاتا کہ وہ اس کام کو ابھی یا مستقبل قریب میں کرے گا بلکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ اسے کچھ مدت بعد کرے گا، لیکن کرے گا ضرور۔“ ابن جزی صاحب التسہیل کی بیان کردہ توجیہوں میں سے تین توجیہیں یہ ہیں، ایک یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو ادب سکھانے کے لیے ہے کہ وہ اپنے آئندہ ہر کام کے لیے ”ان شاء اللہ “کہا کریں۔ (جیسا کہ سورۂ کہف (24،23) میں فرمایا: «وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّيْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا (23) اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ» ) دوسری یہ کہ یہ استثنا ہر انسان کو الگ الگ پیشِ نظر رکھ کر کیا گیا ہے، کیونکہ ممکن ہے ان میں سے کوئی شخص اس داخلے سے پہلے فوت ہو جائے، یا بیمار ہونے کی وجہ سے نہ جا سکے۔ تیسری یہ کہ یہاں {” اِنْ شَآءَ اللّٰهُ “ ”إِذَا شَاءَ اللّٰهُ“} کے معنی میں ہے کہ یقینا تم مسجد حرام میں داخل ہو گے جب اللہ چاہے گا۔ آلوسی نے اس کی ایک مثال {” إِنَّا إِنْ شَاءَ اللّٰهُ بِكُمْ لَلَاحِقُوْنَ “} دی ہے۔ یہ تمام جواب ہی درست، پختہ اور مضبوط ہیں۔ ➍ { اٰمِنِيْنَ مُحَلِّقِيْنَ:} حج اور عمرہ میں احرام کھولنے پر سر منڈوایا یا کترایا جاتا ہے۔ {” مُحَلِّقِيْنَ “} کو پہلے لانے میں اس کے افضل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈوانے والوں کے حق میں تین دفعہ دعا کی اور کتروانے والوں کے حق میں ایک دفعہ دعا کی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِيْنَ، قَالُوْا وَلِلْمُقَصِّرِيْنَ، قَالَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِيْنَ … قَالَهَا ثَلاَثًا قَالَ وَ لِلْمُقَصِّرِيْنَ ] [ بخاري، الحج، باب الحلق والتقصیر عند الإحلال: ۱۷۲۸ ] ”اے اللہ! منڈوانے والوں کو بخش دے۔“ صحابہ نے کہا: ”اور کتروانے والوں کو بھی۔“ آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! منڈوانے والوں کو بخش دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کے بار بار سوال پر) تین دفعہ پہلی دعا ہی کی، پھر فرمایا: ”اور کتروانے والوں کو بھی بخش دے۔“ ➎ { مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِيْنَ:} اپنے سروں کو منڈوانے والے اور کتروانے والے۔ {” رُءُوْسَكُمْ “} کا لفظ دلیل ہے کہ سر کو منڈوانا یا کتروانا ہے، ڈاڑھی کو نہیں۔ ➏ { لَا تَخَافُوْنَ:} یہاں ایک سوال ہے کہ {” اٰمِنِيْنَ “} ان لوگوں کو کہتے ہیں جنھیں کوئی خوف نہ ہو، پھر {” لَا تَخَافُوْنَ “} دوبارہ لانے کی کیا ضرورت تھی؟ جواب یہ ہے کہ {” اٰمِنِيْنَ “ ” لَتَدْخُلُنَّ “} کی ضمیر سے حال ہے، یعنی تم داخلے کے وقت امن کی حالت میں ہو گے اور {” لَا تَخَافُوْنَ “} آئندہ کے لیے وعدہ ہے کہ آئندہ بھی تمھیں دشمن کے حملے یا اس کی کسی سازش کا خوف نہیں ہو گا۔ ➐ { فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا:} یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں جو دکھایا تھا کہ تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہو گے وغیرہ وہ بالکل سچ فرمایا تھا۔ تمھارے خیال میں یہ داخلہ اسی سال ہونا چاہیے تھا، مگر اُسے تمھارے اس سال مکہ میں داخل نہ ہونے میں وہ حکمتیں معلوم تھیں جو تم نہیں جانتے تھے۔ ان حکمتوں سے مراد کچھ وہ حکمتیں ہیں جن کا پیچھے ذکر ہوا، مثلاً صلح کی بدولت بے شمار لوگوں کا مسلمان ہونا، مکہ میں موجود ان مومن مردوں اور مومن عورتوں کو نقصان سے محفوظ رکھنا، جن کا مسلمانوں کو علم نہیں تھا، مکہ میں داخلے سے پہلے پہلے فتوحات اور غنائم کے ذریعے سے مسلمانوں کی مالی اور عددی حالت کو مستحکم کرنا وغیرہ اور کچھ وہ حکمتیں مراد ہیں جنھیں علیم و حکیم ہی جانتا ہے۔ ➑ { فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًا:} تو اس نے تمھارے مکہ میں داخل ہونے اور بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے ایک قریب فتح رکھ دی۔ اس فتح قریب سے مراد بعض نے فتح خیبر لی ہے اور بعض نے صلح حدیبیہ۔ زیادہ درست یہی ہے کہ مراد صلح حدیبیہ ہے، کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَوَ فَتْحٌ هُوَ؟ ] ”یا رسول اللہ! کیا وہ فتح ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ نَعَمْ ] ”ہاں!“ [مسلم، الجہاد و السیر، باب صلح الحدیبیۃ: ۱۷۸۵] جیسا کہ اس سے پہلے گزر چکا ہے اور {” اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا “} سے مراد بھی یہی ہے۔ دونوں بھی مراد ہو سکتی ہیں، البتہ فتح مکہ مراد نہیں ہو سکتی، کیونکہ مکہ میں داخلہ اس فتح سے پہلے بھی ہونے والا تھا۔
وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اُس کو پوری جنس دین پر غالب کر دے اور اِس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی ہے جس نےاپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کرے، اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہی دینے واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور اللہ کافی ہے گواہ
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (اللہ) وہی ہے جس نے اپنے رسول(ص) کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے اور (اس بات کی) گواہی کیلئے اللہ کافی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے اور اللہ گواہ کے طور پر کافی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ میں گئے اور بیت اللہ شریف کا طواف کیا، آپ نے اس کا ذکر اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے مدینہ شریف میں ہی کر دیا تھا۔ حدیبیہ والے سال جب آپ عمرے کے ارادے سے چلے تو اس خواب کی بنا پر صحابہ کو یقین کامل تھا کہ اس سفر میں ہی کامیابی کے ساتھ اس خواب کا ظہور دیکھ لیں گے۔ وہاں جا کر جو رنگت بدلی ہوئی دیکھی یہاں تک کہ صلح نامہ لکھ کر بغیر زیارت بیت اللہ واپس ہونا پڑا تو ان صحابہ رضی اللہ عنہم پر نہایت شاق گزرا۔
چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا بھی کہ آپ نے تو ہم سے فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور طواف سے مشرف ہوں گے، آپ نے فرمایا: ”یہ صحیح ہے لیکن یہ تو میں نے نہیں کہا تھا کہ اسی سال ہو گا؟“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں یہ تو نہیں فرمایا تھا، آپ نے فرمایا: ”پھر جلدی کیا ہے؟ تم بیت اللہ میں جاؤ گے ضرور اور طواف بھی یقیناً کرو گے۔“ پھر سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ سے یہی کہا اور ٹھیک یہی جواب پایا۔ اس آیت میں جو «ان شاءاللہ» ہے یہ استثناء کے لیے نہیں بلکہ تحقیق اور تاکید کے لیے ہے اس مبارک خواب کی تاویل کو صحابہ رضی اللہ عنہم نے دیکھ لیا اور پورے امن و اطمینان کے ساتھ مکہ میں گئے اور وہاں جا کر احرام کھولتے ہوئے بعض نے اپنا سر منڈوایا اور بعض نے بال کتروائے۔
صحیح حدیث میں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے لوگوں نے کہا اور کتروانے والوں پر بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ بھی یہی فرمایا پھر لوگوں نے وہی کہا آخر تیسری یا چوتھی دفعہ میں آپ نے کتروانے والوں کے لیے بھی رحم کی دعا کی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1727] پھر فرمایا بےخوف ہو کر یعنی مکہ جاتے وقت بھی امن و امان سے ہوں گے اور مکہ کا قیام بھی بےخوفی کا ہو گا۔ چنانچہ عمرۃ القضاء میں یہی ہوا یہ عمرہ ذی قعدہ سنہ ۷ ہجری میں ہوا تھا۔ حدیبیہ سے آپ ذی قعدہ کے مہینے میں لوٹے، ذی الحجہ اور محرم تو مدینہ شریف میں قیام رہا، صفر میں خیبر کی طرف گئے اس کا کچھ حصہ تو ازروئے جنگ فتح ہوا اور کچھ حصہ ازروئے صلح مسخر ہوا یہ بہت بڑا علاقہ تھا اس میں کھجوروں کے باغات اور کھیتیاں بکثرت تھیں۔ یہیں کے یہودیوں کو آپ نے بطور خادم یہاں رکھ کر ان سے یہ معاملہ طے کیا کہ وہ باغوں اور کھیتوں کی حفاظت اور خدمت کریں اور پیداوار کا نصف حصہ دے دیا کریں، خیبر کی تقسیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان ہی صحابہ رضی اللہ عنہم میں کی جو حدیبیہ میں موجود تھے ان کے سوا کسی اور کو اس جنگ میں آپ نے حصہ دار نہیں بنایا، سوائے ان لوگوں کے جو حبشہ کی ہجرت سے واپس آئے تھے، جو حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ سب اس فتح خیبر میں بھی ساتھ تھے۔ ابودجانہ، سماک بن خرشہ رحمہا اللہ علیہ کے سوا، جیسے کہ اس کا پورا بیان اپنی جگہ ہے۔ یہاں سے آپ سالم و غنیمت لیے ہوئے واپس تشریف لائے اور ماہ ذوالقعدہ سنہ ۷ ہجری میں مکہ کی طرف باارادہ عمرہ اہل حدیبیہ کو ساتھ لے کر آپ روانہ ہوئے، ذوالحلفیہ سے احرام باندھا قربانی کے لیے ساٹھ اونٹ ساتھ لیے اور لبیک پکارتے ہوئے ظہران کے قریب پہنچ کر سیدنا محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ گھوڑے سواروں کے ساتھ ہتھیار بند آگے آگے روانہ کیا۔ اس سے مشرکین کے اوسان خطا ہو گئے اور مارے رعب کے ان کے کلیجے اچھلنے لگے۔ انہیں یہ خیال گزرا کہ یہ تو پوری تیاری اور کامل ساز و سامان کے ساتھ آئے ہیں تو ضرور لڑائی کے ارادے سے آئے ہیں۔ انہوں نے شرط توڑ دی کہ دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہو گی، چنانچہ یہ لوگ دوڑے ہوئے مکہ میں گئے اور اہلِ مکہ کو اس کی اطلاع دی۔
َنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مرالظہران میں پہنچے جہاں سے کعبہ کے بت دکھائی دیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام نیزے بھالے تیر کمان بطن یاجج میں بھیج دئیے، مطابق شرط کے صرف تلواریں پاس رکھ لیں اور وہ بھی میان میں تھیں ابھی آپ راستے میں ہی تھے جو قریش کا بھیجا ہوا آدمی مکرز بن حفص آیا اور کہنے لگا: حضور آپ کی عادت تو عہد توڑنے کی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“، وہ کہنے لگا کہ آپ تیر اور نیزے لے کر آ رہے ہیں آپ نے فرمایا: ”نہیں تو ہم نے وہ سب یاجج بھیج دیے ہیں۔“ اس نے کہا: یہی ہمیں آپ کی ذات سے امید تھی، آپ ہمیشہ سے بھلائی اور نیکی اور وفاداری ہی کرنے والے ہیں، سرداران کفار تو بوجہ غیظ و غضب اور رنج و غم کے شہر سے باہر چلے گئے کیونکہ وہ تو آپ کو اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کو دیکھنا بھی نہیں چاہتے تھے اور لوگ جو مکہ میں رہ گئے تھے وہ مرد، عورت، بچے تمام راستوں پر اور کوٹھوں پر اور چھتوں پر کھڑے ہو گئے اور ایک استعجاب کی نظر سے اس مخلص گروہ کو اس پاک لشکر کو اس اللہ کی فوج کو دیکھ رہے تھے۔ آپ نے قربانی کے جانور ذی طوٰی میں بھیج دئیے تھے، خود آپ اپنی مشہور و معروف سواری اونٹنی قصوا پر سوار تھے، آگے آگے آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم تھے جو برابر لبیک پکار رہے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ آپ کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے «باسم الذی لا دین الا دینہ» *** «بسم الذی محمد رسولہ» *** «خلوا بنی الکفار عن سبیلہ» *** «الیوم نضربکم علی تاویلہ» *** «کما ضربنا کم علی تنزیلہ» *** «ضربا یزیل الھام عن مقیلہ» *** «ویذھل الخلیل عن خلیلہ» *** «قد انزل الرحمن فی تنزیلہ» *** «فی صحف تتلی علی رسولہ» *** «بان خیرالقتل فی سبیلہ» *** «یا رب انی مومن بقیلہ» ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:320/3:مرسل] یعنی ’ اس اللہ عزوجل کے نام سے جس کے دین کے سوا اور کوئی دین قابل قبول نہیں۔ اس اللہ کے نام سے جس کے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے کافروں کے بچو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے سے ہٹ جاو، آج ہم تمہیں آپ کے لوٹنے پر بھی ویسا ہی ماریں گے، جیسے آپ کے آنے پر مارا تھا، وہ مار جو دماغ کو اس کے ٹھکانے سے ہٹا دے اور دوست کو دوست سے بھلا دے۔ اللہ تعالیٰ رحم والے نے اپنی وحی میں نازل فرمایا ہے، جو ان صحیفوں میں موجود ہے جو اس کے رسول کے سامنے تلاوت کیے جاتے ہیں کہ سب سے بہتر موت شہادت کی موت ہے، جو اس کی راہ میں ہو۔ اے میرے پروردگار اس بات پے ایمان لا چکا ہوں ‘۔ بعض روایتوں میں یہ الفاظ میں کچھ ہیر پھیر بھی ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ اس عمرے کے سفر میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مر الظہران) میں پہنچے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سنا کہ اہل مکہ کہتے ہیں یہ لوگ بوجہ لاغری اور کمزوری کے اٹھ بیٹھ نہیں سکتے یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اگر آپ اجازت دیں تو ہم اپنی سواریوں کے چند جانور ذبح کر لیں ان کا گوشت کھائیں اور شوربا پئیں اور تازہ دم ہو کر مکہ میں جائیں۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں ایسا نہ کرو، تمہارے پاس جو کھانا ہو اسے جمع کرو“، چنانچہ جمع کیا دستر خوان بچھایا اور کھانے بیٹھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے کھانے میں اتنی برکت ہوئی کہ سب نے کھا پی لیا اور توشے دان بھر لیے۔ آپ مکہ شریف آئے سیدھے بیت اللہ گئے قریشی حطیم کی طرف بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چادر کے پلے دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لیے اور اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”یہ لوگ تم میں سستی اور لاغری محسوس نہ کریں“، اب آپ نے رکن کو بوسہ دے کر دوڑنے کی سی چال سے طواف شروع کیا جب رکن یمانی کے پاس پہنچے جہاں قریش کی نظریں نہیں پڑتی تھیں تو وہاں سے آہستہ آہستہ چل کر حجر اسود تک پہنچے۔ قریش کہنے لگے تم لوگ تو ہرنوں کی طرح چوکڑیاں بھر رہے ہو گویا چلنا تمہیں پسند ہی نہیں، تین مرتبہ تو آپ اسی طرح ہلکی دوڑ کی سی چال حجر اسود سے رکن یمانی تک چلتے رہے تین پھیرے اس طرح کئے چنانچہ یہی مسنون طریقہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے حجتہ الوداع میں بھی اسی طرح طواف کے تین پھیروں میں رمل کیا یعنی دلکی چال چلے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1889]
بخاری مسلم میں ہے کہ { اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے کی آب و ہوا شروع میں کچھ ناموافق پڑی تھی اور بخار کی وجہ سے یہ کچھ لاغر ہو گئے تھے، جب آپ مکہ پہنچے تو مشرکین مکہ نے کہا یہ لوگ جو آ رہے ہیں انہیں مدینے کے بخار نے کمزور اور سست کر دیا اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس کلام کی خبر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کر دی۔ مشرکین حطیم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ حجر اسود سے لے کر رکن یمانی تک طواف کے تین پہلے پھیروں میں دلکی چال چلیں اور رکن یمانی سے حجر اسود تک جہاں جانے کے بعد مشرکین کی نگاہیں نہیں پڑتی تھیں، وہاں ہلکی چال چلیں پورے ساتوں پھیروں میں رمل کرنے کو نہ کہنا یہ صرف بطور رحم کے تھا، مشرکوں نے جب دیکھا کہ یہ تو سب کے سب کود کود کر پھرتی اور چستی سے طواف کر رہے ہیں تو آپس میں کہنے لگے کیوں جی انہی کی نسبت اڑا رکھا تھا کہ مدینے کے بخار نے انہیں سست و لاغر کر دیا ہے؟ یہ لوگ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ چست و چالاک ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4256] ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالقعدہ کی چوتھی تاریخ کو مکہ شریف پہنچ گئے تھے اور روایت میں ہے کہ مشرکین اس وقت قعیقعان کی طرف تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صفا مروہ کی طرف سعی کرنا بھی مشرکوں کو اپنی قوت دکھانے کے لیے تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4257] { سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس دن ہم آپ پر چھائے ہوئے تھے اس لیے کہ کوئی مشرک یا کوئی ناسمجھ آپ کو کوئی ایذاء نہ پہنچا سکے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4255]
بخاری شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرے کے لیے نکلے لیکن کفار قریش نے راستہ روک لیا اور آپ کو بیت اللہ شریف تک نہ جانے دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں قربانیاں کیں اور وہیں یعنی حدیبیہ میں سر منڈوا لیا اور ان سے صلح کر لی جس میں یہ طے ہوا کہ آپ اگلے سال عمرہ کریں گے سوائے تلواروں کے اور کوئی ہتھیار اپنے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ میں نہیں آئیں گے اور وہاں اتنی ہی مدت ٹھہریں گے جتنی اہل مکہ چاہیں پس اگلے سال آپ اسی طرح آئے تین دن تک ٹھہرے پھر مشرکین نے کہا اب آپ چلے جائیں چنانچہ آپ وہاں سے واپس ہوئے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4252]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا لیکن اہل مکہ حائل ہوئے تو آپ نے ان سے یہ فیصلہ کیا کہ آپ صرف تین دن ہی مکہ میں ٹھہریں گے جب صلح نامہ لکھنے لگے تو لکھا یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی تو اہل مکہ نے کہا کہ اگر آپ کو ہم رسول اللہ جانتے تو ہرگز نہ روکتے بلکہ آپ محمد بن عبداللہ لکھئیے۔ آپ نے فرمایا: ”میں رسول اللہ ہوں میں محمد بن عبداللہ ہوں“، پھر آپ نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”لفظ رسول کو مٹا دو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں نہیں، قسم اللہ کی! میں اسے ہرگز نہ مٹاؤں گا“، چنانچہ آپ نے اس صلح نامہ کو اپنے ہاتھ میں لے کر باوجود اچھی طرح لکھنا نہ جاننے کے لکھا، کہ یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی۔ یہ کہ مکہ میں ہتھیار لے کر داخل نہ ہوں گے، صرف تلوار ہو گی اور وہ بھی میان میں اور یہ کہ اہل مکہ میں سے جو آپ کے ساتھ جانا چاہے گا اسے آپ اپنے ساتھ نہیں لے جائیں گے اور یہ کہ آپ کے ساتھیوں میں سے جو مکے میں رہنے کے ارادے سے ٹھہر جانا چاہے گا آپ اسے روکیں گے نہیں، پس جب آپ آئے اور وقت مقررہ گزر چکا تو مشرکین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا آپ حضور سے کہئے کہ اب وقت گزر چکا تشریف لے جائیں، چنانچہ آپ نے کوچ کر دیا۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا چچا کہہ کر آپ کے پیچھے ہو لیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں لے لیا اور انگلی تھام کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے گئے اور فرمایا: اپنے چچا کی لڑکی کو اچھی طرح رکھو سیدہ زہرا رضی اللہ عنہا نے بڑی خوشی سے بچی کو اپنے پاس بٹھا لیا۔ اب سیدنا علی اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہما میں جھگڑا ہونے لگا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے انہیں میں لے آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی صاحبزادی ہیں، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے میری چچا زاد بہن ہے اور ان کی خالہ میرے گھر میں ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے تھے میرے بھائی کی لڑکی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جھگڑے کا فیصلہ یوں کیا کہ لڑکی کو تو ان کی خالہ کو سونپا اور فرمایا خالہ قائم مقام ماں کے ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔“ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تو خلق اور خلق میں مجھ سے پوری مشابہت رکھتا ہے۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تو ہمارا بھائی اور ہمارا مولیٰ ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی لڑکی سے نکاح کیوں نہ کر لیں؟ آپ نے فرمایا: ”وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4251]
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ جس خیر و مصلحت کو جانتا تھا اور جسے تم نہیں جانتے تھے اس بنا پر تمہیں اس سال مکہ میں نہ جانے دیا اور اگلے سال جانے دیا اور اس جانے سے پہلے ہی جس کا وعدہ خواب کی شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا تمہیں فتح قریب عنایت فرمائی۔ یہ فتح وہ صلح ہے جو تمہارے دشمنوں کے درمیان ہوئی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کو خوشخبری سناتا ہے کہ وہ اپنے رسول کو ان دشمنوں پر اور تمام دشمنوں پر فتح دے گا اس نے آپ کو علم نافع اور عمل صالح کے ساتھ بھیجا ہے، شریعت میں دو ہی چیزیں ہوتی ہیں علم اور عمل پس علم شرعی صحیح علم ہے اور عمل شرعی مقبولیت والا عمل ہے۔ اس کے اخبار سچے، اس کے احکام سراسر عدل و حق والے۔ چاہتا یہ ہے کہ روئے زمین پر جتنے دین ہیں عربوں میں، عجمیوں میں، مسلمین میں، مشرکین میں، ان سب پر اس اپنے دین کو غالب اور ظاہر کرے، اللہ کافی گواہ ہے اس بات پر کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ہی آپ کا مددگار ہے۔ «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم»
28۔ 1 اسلام کا یہ غلبہ دیگر ادیان پر دلائل کے لحاظ سے تو ہر وقت مسلم ہے تاہم دنیاوی اور عسکری لحاظ سے بھی قرون اولی اور اس کے مابعد عرصہ دراز تک جب تک مسلمان اپنے دین پر عامل رہے انہیں غلبہ حاصل رہا اور آج بھی یہ مادی غلبہ ممکن ہے بشرطیکہ مسلمان مسلمان بن جائیں (وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ) 3۔ آل عمران:139)۔ یہ دین غالب ہونے کے لیے ہی آیا ہے مغلوب ہونے کے لیے نہیں۔
(آیت 28) {هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى …:} اس سے پہلی آیت: «لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ» اور یہ آیت: «هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ» دونوں آیتوں میں{” رَسُوْلَهٗ “} کا لفظ واضح کر رہا ہے کہ یہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد حرام میں امن و اطمینان کے ساتھ داخل ہونے کا خواب سچا دکھایا ہے، بلکہ اس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہی اس لیے ہے کہ وہ صرف مکہ نہیں بلکہ اس دین کو پوری زمین پر اور صرف جزیرئہ عرب کے ادیان یہودیت، نصرانیت اور بت پرستی پر نہیں بلکہ دنیا کے تمام دینوں پر غالب کر دے اور یقینا آپ امن و اطمینان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوں گے، مکہ اور جزیرۂ عرب فتح ہو گا، پھر زمین کے مشرق و مغرب پر اللہ کا یہ دین چھا جائے گا۔ تفسیر قاسمی میں ہے، ابنِ تیمیہ نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو علم، حجت اور بیان کے ساتھ ہر دین پر غالب فرما دیا، جیسا کہ اسے قوت، نصرت اور تائید کے ساتھ غالب فرمایا اور پوری زمین اس دین سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے مشرق و مغرب تک بھر گئی۔ اہلِ اسلام کی سلطنت دائمی ہے، کوئی اسے اس طرح ختم نہیں کر سکتا جس طرح یہود کی سلطنت ختم ہو گئی اور ان کے بعد کتنی ہی قوموں کا اقتدار زمین کے بہترین علاقوں سے مٹ گیا۔“ یہ آیت اس سے پہلے سورۂ توبہ (۳۳) میں گزر چکی ہے، وہاں اس کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ تیسری بار سورۂ صف (۹) میں آئے گی۔
محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں تم جب دیکھو گے اُنہیں رکوع و سجود، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں یہ ہے ان کی صفت توراۃ میں اور انجیل میں اُن کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی، پھر اس کو تقویت دی، پھر وہ گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں اِس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اﺛر سے ہے، ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے، مثل اسی کھیتی کے جس نے اپنا انکھوا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وه موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے، ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ﺛواب کا وعده کیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
محمد اللہ کے رسول ہیں، اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے سجدے میں گرتے اللہ کا فضل و رضا چاہتے، ان کی علامت ان کے چہروں میں ہے سجدوں کے نشان سے یہ ان کی صفت توریت میں ہے، اور ان کی صفت انجیل میں جیسے ایک کھیتی اس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اسے طاقت دی پھر دبیز ہوئی پھر اپنی ساق پر سیدھی کھڑی ہوئی کسانوں کو بھلی لگتی ہے تاکہ ان سے کافروں کے دل جلیں، اللہ نے وعدہ کیا ان سے جو ان میں ایمان اور اچھے کاموں والے ہیں بخشش اور بڑے ثواب کا،
علامہ محمد حسین نجفی
محمد (ص) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں تم انہیں دیکھو گے کہ وہ (کبھی) رکوع (اور کبھی) سجود کر رہے ہیں (اور) اللہ کے فضل و کرم اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہیں ان کی علامت ان کے چہروں پر سجدہ کے نشان سے نمایاں ہے ان کی توراۃ میں اور انجیل میں توصیف یوں ہے جیسے ایک کھیتی جس نے اپنی کونپل نکالی پھر اس کو تقویت دی اور وہ مضبوط و موٹی ہوئی پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی وہ کسانوں کو خوش کرتی ہے تاکہ ان کے ذریعہ سے کفار کے دل جلائے اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے، مغفرت اور بڑے اجرو ثواب کا وعدہ کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
محمد اللہ کا رسول ہے اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں، تو انھیں اس حال میں دیکھے گا کہ رکوع کرنے والے ہیں، سجدے کرنے والے ہیں، اپنے رب کا فضل اور (اس کی) رضا ڈھونڈتے ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں میں (موجود) ہے، سجدے کرنے کے اثر سے۔ یہ ان کا وصف تورات میں ہے اور انجیل میں ان کا وصف اس کھیتی کی طرح ہے جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی، کاشت کرنے والوں کو خوش کرتی ہے، تاکہ وہ ان کے ذریعے کافروں کو غصہ دلائے، اللہ نے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے بڑی بخشش اور بہت بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تصدیق رسالت بزبان الہ ٭٭
ان آیتوں میں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و ثنا بیان ہوئی کہ آپ اللہ کے برحق رسول ہیں پھر آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی صفت و ثنا بیان ہو رہی ہے کہ وہ مخالفین پر سختی کرنے والے اور مسلمانوں پر نرمی کرنے والے ہیں جیسے اور آیت میں ہے «أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ» ۱؎ [5-المائدة:54] مومنوں کے سامنے نرم کفار کے مقابلہ میں گرم، ہر مومن کی یہی شان ہونی چاہیئے کہ وہ مومنوں سے خوش خلقی اور متواضع رہے اور کفار پر سختی کرنے والا اور کفر سے ناخوش رہے۔ قرآن حکیم فرماتا ہے «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَةً وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ» ۱؎ [9-التوبة:123] ’ ایمان والو! اپنے پاس کے کافروں سے جہاد کرو، وہ تم میں سختی محسوس کریں ‘۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”آپس کی محبت اور نرم دلی میں مومنوں کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ اگر کسی ایک عضو میں درد ہو تو سارا جسم بےقرار ہو جاتا ہے کبھی بخار چڑھ آتا ہے کبھی نیند اچاٹ ہو جاتی ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6011]
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مومن مومن کے لیے مثل دیوار کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو تقویت پہنچاتا ہے اور مضبوط کرتا ہے، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں ملا کر بتائیں“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2446] پھر ان کا اور وصف بیان فرمایا کہ نیکیاں بکثرت کرتے ہیں خصوصاً نماز جو تمام نیکیوں سے افضل و اعلیٰ ہے، پھر ان کی نیکیوں میں چار چاند لگانے والی چیز کا بیان یعنی ان کے خلوص اور رضائے اللہ طلبی کا کہ یہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے متلاشی ہیں۔ یہ اپنے اعمال کا بدلہ اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں جو جنت ہے اور اللہ کے فضل سے انہیں ملے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی بھی انہیں عطا فرمائے گا جو بہت بڑی چیز ہے۔ جیسے فرمایا «وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» ۱؎ [9-التوبة:72] ’ اللہ تعالیٰ کی ذرا سی رضا بھی سب سے بڑی چیز ہے۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چہروں پر سجدوں کے اثر سے علامت ہونے سے مراد اچھے اخلاق ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:370/11] مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں خشوع اور تواضع ہے۔
منصور رحمہ اللہ مجاہد رحمہ اللہ سے کہتے ہیں میرا تو یہ خیال تھا کہ اس سے مراد نماز کا نشان ہے جو ماتھے پر پڑ جاتا ہے، آپ نے فرمایا یہ تو ان کی پیشانیوں پر بھی ہوتا ہے جن کے دل فرعون سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نماز ان کے چہرے اچھے کر دیتی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے جو رات کو بکثرت نماز پڑھے گا اس کا چہرہ دن کو خوبصورت ہو گا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ابن ماجہ کی ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی مضمون ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1333،قال الشيخ الألباني:ضعیف] لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے بعض بزرگوں کا قول ہے کہ نیکی کی وجہ سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے چہرے پر روشنی آتی ہے، روزی میں کشادگی ہوتی ہے، لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے۔ امیرالمؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ جو شخص اپنے اندرونی پوشیدہ حالات کی اصلاح کرے اور بھلائیاں پوشیدگی سے کرے، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کی سلوٹوں پر اور اس کی زبان کے کناروں پر ان نیکیوں کو ظاہر کر دیتا ہے الغرض دل کا آئینہ چہرہ ہے، جو اس میں ہوتا ہے اس کا اثر چہرہ پر ہوتا ہے۔ پس مومن جب اپنے دل کو درست کر لیتا ہے، اپنا باطن سنوار لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو بھی لوگوں کی نگاہوں میں سنوار دیتا ہے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص اپنے باطن کی اصلاح کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو بھی آراستہ و پیراستہ کر دیتا ہے۔
طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص جیسی بات کو پوشیدہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اڑھا دیتا ہے اگر وہ پوشیدگی بھلی ہے تو بھلائی کی اور اگر بری ہے تو برائی کی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ موضوع] لیکن اس کا ایک راوی عراقی متروک ہے۔ مسند احمد میں آپ کا فرمان ہے کہ { اگر تم میں سے کوئی شخص کسی ٹھوس چٹان میں گھس کر جس کا نہ کوئی دروازہ ہو، نہ اس میں کوئی سوراخ ہو کوئی عمل کرے گا، اللہ اسے بھی لوگوں کے سامنے رکھ دے گا برائی ہو تو یا بھلائی ہو تو“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:28/3:ضعیف] مسند کی اور حدیث میں ہے { نیک طریقہ، اچھا خلق، میانہ روی نبوت کے پچیسویں حصہ میں سے ایک حصہ ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2010،قال الشيخ الألباني:حسن]
الغرض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نیتیں خالص تھیں اعمال اچھے تھے پس جس کی نگاہ ان کے پاک چہروں پر پڑتی تھی اسے ان کی پاکبازی جچ جاتی تھی اور وہ ان کے چال چلن اور ان کے اخلاق اور ان کے طریقہ کار پر خوش ہوتا تھا۔ امام مالک رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ جن صحابہ رضی اللہ عنہم نے شام کا ملک فتح کیا جب وہاں کے نصرانی ان کے چہرے دیکھتے تو بےساختہ پکار اٹھتے، اللہ کی قسم یہ عیسیٰ کے حواریوں سے بہت ہی بہتر و افضل ہیں۔ فی الواقع ان کا یہ قول سچا ہے، اگلی کتابوں میں اس امت کی فضیلت و عظمت موجود ہے اور اس امت کی صف اول ان کے بہتر بزرگ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور خود ان کا ذکر بھی اگلی اللہ کی کتابوں میں اور پہلے کے واقعات میں موجود ہے۔ پس فرمایا یہی مثال ان کی توراۃ میں ہے۔ پھر فرماتا ہے اور ان کی مثال انجیل کی مانند کھیتی کے بیان کی گئی ہے جو اپنا سبزہ نکالتی ہے پھر اسے مضبوط اور قوی کرتی ہے پھر وہ طاقتور اور موٹا ہو جاتا ہے اور اپنی بال پر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے اب کھیتی والے کی خوشی کا کیا پوچھنا ہے؟ اسی طرح اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ انہوں نے آپ کی تائید و نصرت کی پس وہ آپ کے ساتھ وہی تعلق رکھتے ہیں جو پٹھے اور سبزے کو کھیتی سے تھا یہ اس لیے کہ کفار شرمسار ہوں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اس آیت سے رافضیوں کے کفر پر استدلال کیا ہے کیونکہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے چڑتے اور ان سے بغض رکھنے والا کافر ہے۔ علماء کی ایک جماعت بھی اس مسئلہ میں امام صاحب کے ساتھ ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل میں اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی کرنے میں بہت سی احادیث آئی ہیں خود اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریفیں بیان کیں اور ان سے اپنی رضا مندی کا اظہار کیا ہے کیا ان کی بزرگی میں یہ کافی نہیں؟ پھر فرماتا ہے ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے گناہ معاف اور انکا اجر عظیم اور رزق کریم ثواب جزیل اور بدلہ کبیر ثابت یاد رہے کہ «منھم» میں جو «من» ہے وہ یہاں بیان جنس کے لیے ہے، اللہ کا یہ سچا اور اٹل وعدہ ہے جو نہ بدلے، نہ خلاف ہو ان کے قدم بقدم چلنے والوں، ان کی روش پر کاربند ہونے والوں سے بھی اللہ کا یہ وعدہ ثابت ہے لیکن فضیلت اور سبقت کمال اور بزرگی جو انہیں ہے امت میں سے کسی کو حاصل نہیں، اللہ ان سے خوش، اللہ ان سے راضی، یہ جنتی ہو چکے اور بدلے پالئے۔
صحیح مسلم شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”کو برا نہ کہو ان کی بےادبی اور گستاخی نہ کرو اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو ان کے تین پاؤ اناج بلکہ ڈیڑھ پاؤ اناج کے اجر کو بھی نہیں پا سکتا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2540] «الحمداللہ» سورۃ الفتح کی تفسیر ختم ہوئی۔
29۔ 1 انجیل پر وقف کی صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ ان کی یہ خوبیاں جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں ان کی یہی خوبیاں تورات و انجیل میں مذکور ہیں اور آگے کزرع میں اس سے پہلے ھم محذوف ہوگا اور بعض فی التوراۃ پر وقف کرتے ہیں یعنی ان کی مذکرورہ صفت تورات میں ہے اور مثلھم فی الانجیل کو کزرع کے ساتھ ملاتے ہیں یعنی انجیل میں ان کی مثال مانند اس کھیتی کے ہے۔ فتح القدیر۔ 29۔ 2 شَطْاَءُ سے پودے کا پہلا ظہور ہے جو دانہ پھاڑ کر اللہ کی قدرت سے باہر نکلتا ہے۔ 29۔ 3 یہ صحابہ کرام کی مثال بیان فرمائی گئی ہے۔ ابتدا میں وہ قلیل تھے، پھر زیادہ اور مضبوط ہوگئے، جیسے کھیتی ابتدا میں کمزور ہوتی ہے، پھر دن بدن قوی ہوتی جاتی ہے حتٰی کہ مضبوط تنے پر وہ قائم ہوجاتی ہے۔ 29۔ 4 یا کافر غیظ وغضب کا باعث تھی اس لیے کہ اس سے اسلام کا دائرہ پھیل رہا اور کفر کا دائرہ سمٹ رہا تھا اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے بعض ائمہ نے صحابہ کرام ؓ سے بغض وعناد رکھنے والوں کو کافر قرار دیا ہے علاوہ ازیں اس فرقہ ضالہ کے دیگر عقائد بھی ان کے کفر پر ہی دال ہیں۔ 29۔ 5 اس پوری آیت کا ایک ایک جز صحابہ کرام کی عظمت و فضیلت، اخروی مغفرت اور اجر عظیم کو واضح کر رہا ہے، اس کے بعد بھی صحابہ کرام کے ایمان میں شک کرنے والا مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے تو اسے کیوں کر دعوائے مسلمانی میں سچا سمجھا جاسکتا ہے
(آیت 29) ➊ {مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ:} ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ” لفظ {” مُحَمَّدٌ “} مبتدا اور {” رَسُوْلُ اللّٰهِ “} خبر ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ”رسول اللہ“ کہنے کے بعد اور کسی تعریف کی ضرورت نہیں سمجھی، کیونکہ اس میں تمام انسانی کمال اور خوبیاں آ جاتی ہیں۔ اس لیے آگے {” وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ “} کی صفت بیان فرمائی ہے۔“ اس مقام پر اس جملے سے کئی باتیں واضح ہو رہی ہیں، ایک یہ کہ قرآن مجید میں عموماً آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب یا آپ کا ذکرِ خیر آپ کے نام کے بجائے آپ کے القاب کے ساتھ ہوا ہے، مثلاً {” يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ “، ” يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ “، ” شَاهِدًا “، ” مُبَشِّرًا “، ” نَذِيْرًا “،” دَاعِيًا اِلَي اللّٰهِ “} اور{” سِرَاجًا مُّنِيْرًا “} وغیرہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی ”محمد“ صرف چار جگہ آیا ہے، دیکھیے سورئہ آل عمران (۱۴۴)، احزاب (۴۰)، سورۂ محمد(۲) اور زیر تفسیر آیت۔ ان چاروں مقامات میں آپ کا نام لانے میں کوئی نہ کوئی حکمت ہے۔ یہاں حکمت یہ ہے کہ اس بات کا اعلان کر دیا جائے کہ اگر کفارِ مکہ نے حمیتِ جاہلیت میں آ کر اصرار کیا ہے کہ معاہدے میں ”محمد رسول اللہ“ نہ لکھو اوران کے اصرار پر صلح کی خاطر ”محمد بن عبد اللہ بن عبدالمطلب“ لکھ دیا گیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اللہ کے رسول نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، کفار کے نہ ماننے سے حقیقت نہیں بدل سکتی۔ دوسرا مقصد اس سوال کا جواب دینا ہے کہ تمام ادیان پر یہ دین کیسے غالب ہو گا؟ فرمایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام دینوں پر غلبہ اپنے ذاتی کمال یا ذاتی جد و جہد کی وجہ سے نہیں ہو گا بلکہ اس لیے ہو گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ”رسول اللہ“ ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں، جنھیں اس نے بھیجا ہی اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرنے کے لیے ہے، پھر اللہ کے بھیجے ہوئے کو غالب آنے سے کون روک سکتا ہے؟ ➋ { وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ:} اس میں ان پاکباز ہستیوں کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اس ہدایت اور دین حق کو روئے زمین پر غالب کرنے والا تھا۔ {” وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ “} (وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں) اس لفظ میں تمام صحابہ کرام شامل ہیں، خواہ انھیں آپ کے ساتھ رہنے کی لمبی مدت ملی ہو یا تھوڑی۔ حدیبیہ میں جو لوگ آپ کے ساتھ تھے وہ اس لفظ کا اوّلین مصداق ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ایسی اکسیر تھی کہ جس مومن کو حاصل ہو گئی اس کی طبیعت کا رنگ ہی بدل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں شہادت اور جنت کا ایسا شوق عطا فرمایا، انھیں ایسی شجاعت بخشی اور ان میں ایسی برکت رکھی کہ جب وہ حملہ آور ہوتے تو دشمن چند لمحوں میں بھاگ کھڑا ہوتا، کسی لشکر میں ایک صحابی کی موجودگی اس کی فتح کی ضمانت سمجھی جاتی۔ ان سے ملنے والوں میں بھی یہی برکت تھی۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَأْتِيْ زَمَانٌ يَغْزُوْ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ فِيْكُمْ مَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ نَعَمْ، فَيُفْتَحُ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَأْتِيْ زَمَانٌ فَيُقَالُ فِيْكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ نَعَمْ، فَيُفْتَحُ، ثُمَّ يَأْتِيْ زَمَانٌ فَيُقَالُ فِيْكُمْ مَنْ صَحِبَ صَاحِبَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ نَعَمْ، فَيُفْتَحُ ] [بخاري، الجھاد والسیر، باب من استعان بالضعفاء والصالحین في الحرب: ۲۸۹۷ ] ”لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جنگ کرے گی تو کہا جائے گا: ”کیا تم میں کوئی شخص ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں!“ تو انھیں فتح عطا کی جائے گی۔ پھر لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جنگ کرے گی تو کہا جائے گا: ”کیا تم میں کوئی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے ساتھ رہا ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں!“ تو انھیں فتح عطا کی جائے گی۔ پھر لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جنگ کرے گی تو کہا جائے گا: ”کیا تم میں کوئی ہے جو اس کے ساتھ رہا ہو جو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں!“ تو انھیں فتح عطا کی جائے گی۔“ ➌ { وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ:} جیسا کہ پچھلے فائدے میں گزرا کہ {” وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ “} (وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں) سے مراد سب سے پہلے وہ صحابہ ہیں جنھوں نے بیعتِ رضوان کی، پھر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں خواہ انھیں ایک لمحہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کا شرف حاصل ہوا ہو۔ مفسر بقاعی نے فرمایا: {” وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ “} میں وہ تمام مسلمان بھی شامل ہیں جنھیں احسان اور نیکی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے کی وجہ سے آپ کے ساتھ ہونے کا شرف حاصل ہے۔“ پچھلے فائدے میں مذکور حدیث سے مفسر بقاعی کی اس بات کی تائید ہوتی ہے اور قرآن مجید میں صاف الفاظ میں احسان اور نیکی کے ساتھ اتباع کرنے والوں کو سابقون اوّلون کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت میں داخلے کی بشارت دی ہے۔ مزید وضاحت کے لیے سورۂ توبہ کی آیت (۱۰۰): «وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ» کی تفسیر پر نظر ڈال لیں۔ زیر تفسیر آیت میں کھیتی کی مثال صحابہ کے ساتھ قیامت تک ان کے پیروکاروں کو بھی ملانے سے پوری طرح مکمل ہوتی ہے۔ ➍ { اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ:} ان الفاظ میں صحابہ کرام اور امتِ مسلمہ کی تعریف فرمائی ہے کہ ان کا اللہ اور اس کے رسول پر ایسا ایمان ہے کہ ان کی دوستی اور دشمنی کے جذبات بھی ان کے ایمان کے تابع ہو گئے ہیں۔ کوئی کافر ہے تو وہ اس کے دشمن اور اس کے مقابلے میں نہایت سخت ہیں اور اگر کوئی مومن ہے تو وہ اس کے دلی دوست اور اس پر بے حد مہربان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار پر سختی کرنے اور ان کے ساتھ جہاد کا حکم دیا، فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِيْنَ وَ اغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ» [ التوبۃ: ۷۳ ] ”اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کر اور ان پر سختی کر اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔“ اور مسلمانوں کو بھی یہی حکم دیا، فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَةً» [ التوبۃ: ۱۲۳ ] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں سے لڑو جو کافروں میں سے تمھارے قریب ہیں اور لازم ہے کہ وہ تم میں کچھ سختی پائیں۔“ اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ایمان والوں کا کفار کے ساتھ تعلق ان کے ایمان لانے تک ابدی عداوت و بغض کا ہے، خواہ وہ کفار ان کے باپ، بیٹے، بھائی یا قریبی رشتہ دار ہوں۔ دیکھیے سورۂ ممتحنہ کی پہلی چار آیات اور سورۂ مجادلہ کی آخری آیت۔ اس کے مقابلے میں ایمان والوں پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بے حد مہربان اور شفیق تھے، جیسا کہ فرمایا: «لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [ التوبۃ: ۱۲۸] ”بلاشبہ یقینا تمھارے پاس تمھی سے ایک رسول آیا ہے، اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو، تم پر بہت حرص رکھنے والا ہے، مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ اور ایمان والوں کی صفت بھی یہی ہے، فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَسَوْفَ يَاْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَ يُحِبُّوْنَهٗۤ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ لَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآىِٕمٍ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ» [ المائدۃ: ۵۴ ] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ عنقریب ایسے لوگ لائے گا کہ وہ ان سے محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے، مومنوں پر بہت نرم ہوں گے، کافروں پر بہت سخت، اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ اسے دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ تَرَی الْمُؤْمِنِيْنَ فِيْ تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكٰی عُضْوًا تَدَاعٰی لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمّٰی] [بخاري، الأدب، باب رحمۃ الناس والبہائم: ۶۰۱۱ ] ”تو ایمان والوں کو ان کے ایک دوسرے پر رحم، ایک دوسرے سے دوستی اور ایک دوسرے پر شفقت میں ایک جسم کی طرح دیکھے گا، جب اس کا کوئی عضو بیمار ہوتا ہے تو سارا جسم اس کی وجہ سے بیداری اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“ اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ] [ بخاري، المظالم، باب نصر المظلوم: ۲۴۴۶ ] ”مومن مومن کے لیے ایک دیوار کی طرح ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔“ ➎ واضح رہے کہ کافروں پر سخت ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کبھی کسی کافر پر رحم نہیں کرتے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس موقع پر اللہ اور اس کے رسول کا حکم کفار پر سختی کرنے کا ہوتا ہے وہاں ان کو رشتے ناتے یا دوستی وغیرہ کے علاقے اس کام میں مانع نہیں ہوتے اور جہاں تک ان کے ساتھ رحم و کرم کے معاملے کا تعلق ہے تو خود قرآن نے اس کا فیصلہ کر دیا ہے، فرمایا: «لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَ لَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَيْهِمْ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ (8) اِنَّمَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَ مَنْ يَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ» [ الممتحنۃ: 9،8 ] ”اللہ تمھیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے نہ تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ اللہ تو تمھیں انھی لوگوں سے منع کرتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا اور تمھارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی کہ تم ان سے دوستی کرو۔ اور جو ان سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔“ یعنی جو کفار مسلمانوں کے لیے باعث آزار اور ان کے ساتھ برسر جنگ نہیں ان کے ساتھ احسان اور حسن سلوک کرنے سے اللہ تعالیٰ منع نہیں کرتا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے بے شمار واقعات ہیں جن میں ضعیف و مجبور یا ضرورت مند کفار کے ساتھ احسان و کرم کے معاملات کیے گئے ہیں۔ ان کے معاملہ میں عدل و انصاف کو برقرار رکھنا تو اسلام کا عام حکم ہے، عین میدان کار زار میں بھی عدل و انصاف کے خلاف کوئی کار روائی جائز نہیں۔ ➏ {تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا:} پچھلے جملے {” اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ “} میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا لوگوں کے ساتھ معاملہ ذکر فرمایا اور اس جملے میں ان کا اللہ کے ساتھ تعلق بیان فرمایا کہ تو انھیں رکوع کرتے ہوئے اور سجدہ کرتے ہوئے دیکھے گا۔ ان کے اکثر اوقات نماز کے مبارک عمل میں گزرتے ہیں جو آدمی کو اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب کرنے والا عمل ہے، کیونکہ ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: [ أَقْرَبُ مَا يَكُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَّبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ] [مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود؟: ۴۸۲] ”بندہ اپنے رب کے سب سے قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے۔ تو بہت زیادہ دعا کیا کرو۔“ ان کے دل مسجد کے ساتھ ہی معلق ہوتے ہیں، روزانہ پانچ مرتبہ اللہ کے گھر میں آ کر یہ فریضہ سرانجام دیتے ہیں اور وہاں سے نکلتے ہیں تو دھیان ادھر ہی رہتا ہے، پھر رات کو بھی قیام کرتے ہیں۔ ➐ { يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا:} چونکہ رکوع و سجود ریا کے لیے بھی ہو سکتے ہیں اس لیے اس جملے میں صحابہ کرام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ساتھیوں کے اخلاص کی شہادت دی ہے کہ ان کے رکوع و سجود ریا یا دکھلاوے کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مزید نعمتوں اور اس کی رضا کی طلب کے لیے ہوتے ہیں۔ اس میں ان کی ہمت کی بلندی کا بھی بیان ہے کہ وہ اعلیٰ چیز کے طلب گار ہیں جس سے بڑی کوئی چیز نہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ» [ التوبۃ: ۷۲ ] ”اور اللہ کی طرف سے تھوڑی سی خوشنودی و رضا سب سے بڑی چیز ہے۔“ دنیائے دنی یا دوسری ادنیٰ چیزیں ان کی بلند نگاہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں۔ ➑ { سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ:} بعض لوگوں نے سجدے کے اثر سے مراد پیشانی پر پڑنے والا گٹا لیا ہے، جسے عام طور پر محراب کہا جاتا ہے۔ کسی مخلص مسلمان کے ماتھے پر سجدے کی رگڑ سے پڑنے والا نشان بھی یقینا اس شناخت میں شامل ہے، مگر یہاں اس سے مراد وہ رونق اور حسن و شرافت کے آثار ہیں جو اخلاص، حسن نیت، خشیت و خشوع اور نماز کی کثرت سے چہرے پر نمایاں ہوتے ہیں۔ اگر دو آدمی رات بھر بیدار رہیں، ایک شراب نوشی اور گناہ کے کاموں میں مصروف رہے، دوسرا نماز یا قرآن کی تلاوت اور ذکر میں مصروف رہے تو صبح دونوں کے چہروں میں صاف فرق نظر آئے گا۔ یہی فرق سچے و جھوٹے، دغا باز و باوفا، ظالم و عادل، بدکار و پاک دامن اور متکبر و متواضع کے چہروں پر نمایاں ہوتا ہے۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل کیا ہے: [ {” سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ “} يَعْنِي السَّمْتَ الْحَسَنَ ] [ طبری: ۳۱۸۹۱ ] ”یعنی اس سے مراد خوب صورت انداز اور ہیئت ہے۔“ ابن کثیر میں ہے، منصور نے مجاہد سے سنا کہ اس سے مراد خشوع ہے۔ منصور کہتے ہیں، میں نے کہا، میں تو اس سے مراد وہی نشان سمجھتا تھا جو چہرے پر پڑ جاتا ہے، تو انھوں نے فرمایا: ”وہ نشان تو بعض اوقات ایسے لوگوں کے ماتھے پر بھی ہوتا ہے جو فرعون سے بھی زیادہ سنگ دل ہوتے ہیں۔“ خلاصہ یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے چہروں پر، صحابہ ہوں یا ان کے متبعین، خاص قسم کا نور اور رونق ہوتی ہے جس سے وہ دوسرے تمام لوگوں سے الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہاں بعض مفسرین نے ایک روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کی ہے: [ مَنْ كَثُرَ صَلَاتُهُ بِاللَّيْلِ حَسُنَ وَجْهُهُ بِالنَّهَارِ ] ”جو شخص رات کو کثرت سے نماز پڑھے دن کو اس کا چہرہ خوبصورت ہو گا۔“ مگر اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، بلکہ یہ ایک راوی شریک کا قول ہے۔ ➒ { ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ: ”مَثَلٌ“} کا معنی مثال بھی ہوتا ہے اور وصف بھی، یہاں مراد وصف ہے، یعنی ان کا یہ وصف کہ سجدے اور عبادت کی تاثیر سے ان کی شناخت ان کے چہروں سے ظاہر ہوتی ہے، یہ تورات میں بیان ہوا ہے۔ اس وقت یہود و نصاریٰ کے ہاتھ میں جو تورات ہے اگرچہ انھوں نے اس میں کئی طرح کی تحریف کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کی صفات اکثر حذف کر دی ہیں اور بعض میں تبدیلی کر دی ہے، اس کے باوجود اس کی پانچویں کتاب ”استثنا“ کے باب (۳۳) اور فقرہ (۲) میں ہے: ”خداوند سینا سے آیا اور سعیر سے ان پر طلوع ہوا، فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا، دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ میں ایک آتشیں شریعت ان کے لیے تھی۔“ اس پیش گوئی کا مصداق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ اس میں جبل فاران سے جلوہ گر ہونے اور دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آنے کا صاف حوالہ موجود ہے اور یہ مسلّم بات ہے کہ فاران حجاز کے ایک پہاڑ کا نام ہے اور فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار صحابہ کے ساتھ آئے تھے۔ ظاہر ہے قدوسیوں سے مراد اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ صفات اور عبادت گزار بندے ہیں، قرآن مجید میں اس کی جگہ {” تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ “} کے الفاظ ہیں۔ اور آتشیں شریعت کے بجائے {” اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ“} کہہ کر جہادی شریعت کا ذکر فرمایا ہے۔ تنبیہ: ”دس ہزار“ کے الفاظ بائبل کے سابقہ ایڈیشنوں میں موجود ہیں، حالیہ ایڈیشنوں میں تحریف کر کے بعض سے یہ عدد نکال دیا گیا ہے اور بعض میں اسے ”لاکھوں“ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ➓ { وَ مَثَلُهُمْ فِي الْاِنْجِيْلِ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ …:} تورات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے تقویٰ و تقدس، جہادی شریعت اور ان کے غلبہ و اقتدار کی صفت بیان ہوئی ہے اور انجیل میں امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتدریج قلت سے کثرت کی طرف اور کمزوری سے قوت کی طرف بڑھنے کو مثال کے ساتھ واضح فرمایا ہے کہ ان کی ابتدا اگرچہ کمزور ہو گی لیکن آخر کار وہ ایسے تناور درخت کی شکل اختیار کر جائیں گے جس کے سائے میں بڑی بڑی قومیں پناہ لیں گی۔ چنانچہ انجیل متی، باب (۱۳)، فقرہ (۳ تا ۹) میں یہ مثال اس طرح بیان ہوئی ہے: ”اس (مسیح) نے ایک اور تمثیل ان کے سامنے پیش کرکے کہا کہ آسمان کی بادشاہت اس رائی کے دانے کی مانند ہے جسے کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بو دیا، وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے لیکن جب بڑھ جاتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا ہوتا ہے اور ایسا درخت ہو جاتا ہے کہ ہوا کے پرندے اس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں۔“ یہی مثال الفاظ کی معمولی تبدیلی کے ساتھ انجیل مرقس، باب (۴)، فقرہ (۳۔۹) اور انجیل لوقا، باب (۱۳)، فقرہ (۱۸۔ ۲۱) میں بھی آئی ہے۔ (منقول از تفسیر ثنائی) قرآن مجید میں کھیتی کی مثال دینے کا مطلب یہ ہے کہ اگر حدیبیہ والے سال تم مکہ میں داخل نہیں ہو سکے تو اس میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں اور تمھیں یہ سبق سکھانا بھی مقصود ہے کہ اسلام کا عروج و کمال یک لخت نہیں بلکہ تدریج کے ساتھ ہو گا، جیسا کہ کھیتی بتدریج کمال کو پہنچتی ہے۔ پہلے وہ بیج سے نازک سی کونپل یا سوئی نکالتی ہے، پھر اسے مضبوط کرتی ہے، پھر خوب موٹی ہو جاتی ہے، پھر اس کا پودا اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے، پھر اس کے ساتھ اور پودے اگتے چلے جاتے ہیں اور کھیت بھر جاتا ہے جس سے کاشت کرنے والوں کا دل خوش ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایک دن آنے والا ہے کہ ہدایت اور دین حق کی یہ کھیتی جو اوّل اوّل سر زمین عرب میں کاشت کی گئی، اپنے کمال کو پہنچے گی، مشرق و مغرب اس سے بھر جائیں گے، اپنی آبیاری اور دیکھ بھال کرنے والوں کے دلوں کو خوش کرے گی اور ان لوگوں کے دلوں کو غم و غصہ سے جلائے گی جنھوں نے اس کی نشوونما کو روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ ⓫ { لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ: ” لِيَغِيْظَ “} کا لام فعل مقدر کے متعلق ہے جو گزشتہ عبارت سے خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے: {” أَيْ جَعَلَهُمُ اللّٰهُ كَذٰلِكَ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ“} یعنی اللہ تعالیٰ صحابہ کرام اور ان کے متبعین کو اس طرح بتدریج کمال و عروج تک پہنچائے گا، تاکہ ان کے ساتھ کفار کو غصہ دلائے اور ان کے دلوں کو جلائے۔ تاریخ شاہد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو دعوتِ حق لے کر آئے اسے قبول کرنے والے اور اسے پوری دنیا پر غالب کرنے کے لیے اپنی جان، اپنا مال اور سب کچھ قربان کرنے والے صحابہ کرام تھے اور ان کے بعد ان سے محبت رکھنے والے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تابعین اور بعد کے لوگ تھے جن کے ذریعے سے یہ دین حق ساری دنیا میں پھیلا اور غالب ہوا۔ ایمان والوں کے دل صحابہ کرام اور ان کے متبعین کے حالات دیکھ کر اور سن کر خوش ہوتے ہیں اور کفار کے دل انھیں دیکھ کر اور ان کے حالات سن کر غصے سے بھر جاتے ہیں اور جل اٹھتے ہیں۔ تفسیر التحریر والتنویر (۲۶؍۱۷۷) میں ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: [ مَنْ أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ فِيْ قَلْبِهِ غَيْظٌ عَلٰی أَحَدٍ مِّنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ أَصَابَتْهُ هٰذِهِ الْآيَةُ ] ”لوگوں میں سے جس شخص کے دل میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی ایک پر بھی غصہ اور جلن ہو، یہ آیت اس پر یقینا لاگو ہوتی ہے۔“ ابنِ عاشور نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ امام مالک پر رحم کرے، ان کا استنباط کس قدر باریک ہے۔ “ ⓬ {وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ …:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اور کھیتی کی کہاوت یہ کہ اوّل ایک آدمی تھا اس دین پر، پھر دو ہوئے پھر قوت بڑھتی گئی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت اور خلیفوں کے اور یہ وعدہ دیا ان کو جو ایمان لائے اور بھلے کام کرتے ہیں۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سب اصحاب ایسے ہی تھے، مگر خاتمہ کا اندیشہ رکھا۔ حق تعالیٰ بندوں کو ایسی خوش خبری نہیں دیتا کہ نڈر ہو جائیں، مالک سے اتنی شاباش بھی غنیمت ہے۔“