بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الفتح — Surah Fath
آیت نمبر 24
کل آیات: 29
قرآن کریم الفتح آیت 24
آیت نمبر: 24 — سورۃ الفتح islamicurdubooks.com ↗
وَ ہُوَ الَّذِیۡ کَفَّ اَیۡدِیَہُمۡ عَنۡکُمۡ وَ اَیۡدِیَکُمۡ عَنۡہُمۡ بِبَطۡنِ مَکَّۃَ مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ اَظۡفَرَکُمۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا ﴿۲۴﴾
وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں اُن کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ اُن سے روک دیے، حالانکہ وہ اُن پر تمہیں غلبہ عطا کر چکا تھا اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا
وہی ہے جس نے خاص مکہ میں کافروں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا، اور تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے
اور وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے روک دیے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے وادی مکہ میں بعد اس کے کہ تمہیں ان پر قابو دے دیا تھا، اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے،
اور وہ (اللہ) وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں روک دئیے تھے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے بعد اس کے کہ تمہیں ان پر غلبہ عطا کر دیا تھا اور تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔
اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمھیں ان پر فتح دے دی اور اللہ اس کو جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے خوب دیکھنے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر اللہ تبارک وتعالیٰ مسلمانوں کو خوشخبری سناتا ہے کہ وہ کفار سے مرعوب اور خائف نہ ہوں اگر کافر مقابلہ پر آئے تو اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مدد کرے گا۔ اور ان بے ایمانوں کو شکست فاش دے گا یہ پیٹھ دکھائیں گے اور منہ پھیر لیں گے اور کوئی والی اور مددگار بھی انہیں نہ ملے گا اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے آئے ہیں اور اس کے ایماندار بندوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ پھر فرماتا ہے یہی اللہ کی عادت ہے کہ جب کفر و ایمان کا مقابلہ ہو وہ ایمان کو کفر پر غالب کرتا ہے اور حق کو ظاہر کر کے باطل کو دبا دیتا ہے جیسے کہ بدر والے دن بہت سے کافروں کو جو باسامان تھے چند مسلمانوں کے مقابلہ میں جو بےسرو سامان تھے شکست فاش دی۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے میرے احسان کو بھی نہ بھولو کہ میں نے مشرکوں کے ہاتھ تم تک نہ پہنچنے دئیے اور تمہیں بھی مسجد الحرام کے پاس لڑنے سے روک دیا اور تم میں اور ان میں صلے کرا دی جو دراصل تمہارے حق میں سراسر بہتری ہے کیا دنیا کے اعتبار سے اور کیا آخرت کے اعتبار سے۔ وہ حدیث یاد ہو گی جو اسی سورت کی تفسیر میں بروایت سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ گزر چکی ہے کہ { جب ستر کافروں کو باندھ کر صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں جانے دو ان کی طرف سے ہی ابتداء ہو اور انہی کی طرف سے دوبارہ شروع ہو“ }۔ اسی بابت یہ آیت اتری۔

مسند احمد میں ہے کہ { اسی (‏‏‏‏80) کافر ہتھیاروں سے آراستہ جبل تنعیم کی طرف سے چپ چپاتے موقعہ پا کر اتر آئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غافل نہ تھے، آپ نے فوراً لوگوں کو آگاہ کر دیا سب گرفتار کر لیے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے آپ نے ازراہ مہربانی ان کی خطا معاف فرما دی اور سب کو چھوڑ دیا }۔ اور نسائی میں بھی ہے { سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس درخت کا ذکر قرآن میں ہے اس کے نیچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے ہم لوگ بھی آپ کے اردگرد تھے اس درخت کی شاخیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر سے لگ رہی تھیں، سیدنا علی بن ابوطالب اور سیدنا سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہما آپ کے سامنے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ” «بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھو“ اس پر سہیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام لیا اور کہا ہم «رحمن» اور «رحیم» کو نہیں جانتے، ہمارے اس صلح نامہ میں ہمارے دستور کے مطابق لکھوائیے، پس آپ نے فرمایا: ” «باسمک اللھم» لکھ لو۔‏‏‏‏“ پھر لکھا یہ وہ ہے جس پر اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے صلح کی اس پر پھر سہیل نے آپ کا ہاتھ تھام کر کہا آپ رسول اللہ ہی ہیں تو پھر ہم نے بڑا ظلم کیا، اس صلح نامہ میں وہی لکھوائیے جو ہم میں مشہور ہے، تو آپ نے فرمایا: ”لکھو یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے اہل مکہ سے صلح کی“، اتنے میں تیس نوجوان کفار ہتھیار بند آن پڑے، آپ نے ان کے حق میں بد دعا کی، اللہ نے انہیں بہرا بنا دیا ہم اٹھے اور ان سب کو گرفتار کر کے آپ کے سامنے پیش کر دیا۔ آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہیں کسی نے امن دیا ہے ـ؟ یا تم کسی کی ذمہ داری پر آئے ہو؟ انہوں نے انکار کیا لیکن باوجود اس کے آپ نے ان سے درگزر فرمایا اور انہیں چھوڑ دیا۔ اس پر یہ آیت «وھوالذی» الخ، نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1808-133] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے جانور لے کر چلے اور ذوالحلیفہ تک پہنچ گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اے اللہ کے نبی! آپ ایک ایسی قوم کی بستی میں جا رہے ہیں ۱؎ [مسند احمد:86/4:صحیح] ‏‏‏‏ جو برسرپیکار ہیں اور آپ کے پاس نہ تو ہتھیار ہیں نہ اسباب۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر آدمی بھیج کر مدینہ سے سب ہتھیار اور کل سامان منگوا لیا جب آپ مکہ کے قریب پہنچ گئے تو مشرکین نے آپ کو روکا، آپ مکہ نہ آئیں، آپ کو خبر دی کہ عکرمہ بن ابوجہل پانچ سو کا لشکر لے کر آپ پر چڑھائی کرنے کے لیے آ رہا ہے آپ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے خالد! تیرا چچازاد بھائی لشکر لے کر آ رہا ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر کیا ہوا؟ میں اللہ کی تلوار ہوں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی، اسی دن سے آپ کا لقب سیف اللہ ہوا۔ مجھے آپ جہاں چاہیں اور جس کے مقابلہ میں چاہیں بھیجیں، چنانچہ عکرمہ کے مقابلہ کے لیے آپ روانہ ہوئے گھاٹی میں دونوں کی مڈبھیڑ ہوئی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ایسا سخت حملہ کیا کہ عکرمہ کے پاؤں نہ جمے اسے مکہ کی گلیوں تک پہنچا کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ واپس آ گئے لیکن پھر دوبارہ وہ تازہ دم ہو کر مقابلہ پر آیا، اب کی مرتبہ بھی شکست کھا کر مکہ کی گلیوں میں پہنچ گیا وہ پھر تیسری مرتبہ نکلا اس مرتبہ بھی یہی حشر ہوا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:356/11:مرسل] ‏‏‏‏

اسی کا بیان آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» ۱؎ [48-الفتح:24] ‏‏‏‏ میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظفر مندی کے کفار کو بھی بچا لیا تاکہ جو مسلمان ضعفاء اور کمزور مکہ میں تھے انہیں اسلامی لشکر کے ہاتھوں کوئی گذند نہ پہنچے لیکن اس روایت میں بہت کچھ نظر ہے ناممکن ہے کہ یہ حدیبیہ والے واقعہ کا ذکر ہو، اس لیے کہ اس وقت تک تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ مسلمان ہی نہ ہوئے تھے بلکہ مشرکین کے طلایہ کے یہ اس دن سردار تھے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں موجود ہے اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ واقعہ عمرۃ القضاء کا ہو۔ اس لیے کہ حدیبیہ کے صلح نامہ کی شرائط کے مطابق یہ طے شدہ امر تھا کہ اگلے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں عمرہ ادا کریں اور تین دن تک مکہ میں ٹھہریں چنانچہ اسی قرارداد کے مطابق جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو کافروں نے آپ کو روکا نہیں، نہ آپ سے جنگ و جدال کیا۔ اسی طرح یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ واقعہ فتح مکہ کا ہو اس لیے کہ فتح مکہ والے سال آپ اپنے ساتھ قربانیاں لے کر نہیں گئے تھے اس وقت تو آپ جنگی حیثیت سے گئے تھے، لڑنے اور جہاد کرنے کی نیت سے تشریف لے گئے تھے، پس اس روایت میں بہت کچھ خلل ہے اور اس میں ضرور قباحت واقع ہوئی ہے خوب سوچ لینا چاہیئے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { قریش نے اپنے چالیس یا پچاس آدمی بھیجے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے اردگرد گھومتے رہیں اور موقعہ پا کر کچھ نقصان پہنچائیں یا کسی کو گرفتار کر کے لے آئیں، یہاں یہ سارے کے سارے پکڑے لیے گئے لیکن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف فرما دیا اور سب کو چھوڑ دیا انہوں نے آپ کے لشکر پر کچھ پتھر بھی پھینکے تھے اور کچھ تیر بھی چلائے تھے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:31556] ‏‏‏‏ یہ بھی مروی ہے کہ { ایک صحابی جنہیں ابن زنیم کہا جاتا تھا حدیبیہ کے ایک ٹیلے پر چڑھے تھے مشرکین نے تیربازی کر کے ان کو شہید کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سوار ان کے تعاقب میں روانہ کئے وہ ان سب کو جو تعداد میں بارہ سو تھے گرفتار کر کے لے آئے، آپ نے ان سے پوچھا کہ کوئی عہد و پیمان ہے؟ کہا نہیں لیکن پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا۔ اور اسی بارے میں آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» ۱؎ [48-الفتح:24] ‏‏‏‏ نازل ہوئی۔

📖 احسن البیان

24۔ 1 جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام حدیبیہ میں تھے تو کافروں نے 80 آدمی، جو ہتھیاروں سے لیس تھے، اس نیت سے بھیجے کہ اگر ان کو موقع مل جائے تو دھوکے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اکرام کے خلاف کاروائی کریں چناچہ یہ مسلح جتھہ جبل تغیم کی طرف سے حدیبیہ میں آیا جس کا علم مسلمانوں کو بھی ہوگیا اور انہوں نے ہمت کر کے تمام آدمیوں کو گرفتار کرلیا اور بارگاہ رسالت میں پیش کردیا۔ ان کا جرم شدید تھا اور ان کو جو بھی سزا دی جاتی، صحیح ہوتی۔ لیکن اس میں خطرہ یہی تھا پھر جنگ ناگزیر ہوجاتی۔ جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس موقعے پر جنگ کے بجائے صلح چاہتے تھے کیونکہ اس میں مسلمانوں کا مفاد تھا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو معاف کر کے چھوڑ دیا (صحیح مسلم)

📖 القرآن الکریم

(آیت 24) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ …:} جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حدیبیہ میں تھے تو صلح کی بات چیت کے دوران اور صلح ہو جانے کے بعد بھی مشرکین نے کوششیں کیں کہ کسی طرح لڑائی چھڑ جائے اور صلح نہ ہو سکے۔ ان کے متعدد گروہ چھپ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے خلاف کارروائی کے لیے آئے، مگر کوئی نقصان نہ پہنچا سکے، بلکہ ہر مرتبہ مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ انھیں قتل بھی کیا جا سکتا تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں چھوڑ دیا، کیونکہ سزا دینے کی صورت میں جنگ ناگزیر ہو جاتی جب کہ مسلمانوں کی مصلحت صلح میں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے اس احسان کی یاد دہانی کروائی ہے۔ یہاں کفار کی ان کوششوں کے تین واقعات درج کیے جاتے ہیں: (1) سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتا تھا، ان کے گھوڑے کو پانی پلاتا، اس کی مالش کرتا، ان کی خدمت کرتا اور انھی کے ہاں کھانا کھایا کرتا تھا اور میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوئے اپنا اہل و مال چھوڑ آیا تھا۔ پھر جب ہماری اور اہلِ مکہ کی صلح ہو گئی اور ہم ایک دوسرے سے ملنے جلنے لگے تو میں ایک درخت کے نیچے کانٹے وغیرہ صاف کرکے اس کے سائے میں لیٹ گیا۔ اہلِ مکہ میں سے چار مشرک میرے پاس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بد زبانی کرنے لگے۔ میں ان سے نفرت کی وجہ سے ایک اور درخت کے نیچے چلا گیا اور وہ اپنا اسلحہ درخت کے ساتھ لٹکا کر لیٹ گئے۔ اسی دوران وادی کے نیچے سے کسی نے آواز دی: ”او مہاجرو! ابن زُنیم کو قتل کر دیا گیا۔“ میں نے اپنی تلوار لی اور ان چاروں پر حملہ کر دیا، وہ سوئے ہوئے تھے، میں نے ان کا اسلحہ لے کر اپنی مٹھی میں اکٹھا کر لیا اور ان سے کہا:”قسم اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو عزت بخشی ہے! تم میں سے جو بھی سر اٹھائے گا میں اس کا سر اڑا دوں گا جس میں اس کی آنکھیں ہیں۔“ خیر میں انھیں ہانکتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا اور میرا چچا عامر عَبَلات میں سے ”مِکرز“ نامی ایک مشرک کو کھینچتا ہوا لایا۔ یہاں تک کہ ہم نے انھیں ستر (۷۰) مشرکین سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کھڑا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: [ دَعُوْهُمْ يَكُنْ لَهُمْ بَدْءُ الْفُجُوْرِ وَ ثِنَاهُ ] ”انھیں چھوڑ دو، تاکہ عہد شکنی کی ابتدا اور دہرائی انھی کے ذمے رہے۔“ غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں معاف کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «‏‏‏‏وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» [ الفتح: ۲۴ ] ”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمھیں ان پر فتح دے دی۔“ [ مسلم، الجہاد، باب غزوۃ ذي قرد وغیرھا: ۱۸۰۷ ] (2) انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہلِ مکہ میں سے اسّی (۸۰) مسلح آدمی جبل تنعیم سے اتر کر آئے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی غفلت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، مگر آپ نے انھیں زندہ سلامت گرفتار کر لیا۔ پھر انھیں زندہ ہی رہنے دیا تو اللہ عز و جل نے یہ آیت اتاری: «وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» ‏‏‏‏ [ الفتح:۲۴] ”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمھیں ان پر فتح دے دی۔“ [ مسلم، الجہاد، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «وھو الذی کف أیدیہم عنکم» : ۱۸۰۸ ] (3) عبد اللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں اس درخت کے نیچے موجود تھے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے۔ اس کی ٹہنیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر سے لگ رہی تھیں اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سہیل بن عمرو آپ کے سامنے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”لکھو، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔“ تو سہیل نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: ”ہم نہیں جانتے رحمان کیا ہوتا ہے، ہمارے معاملے میں وہی لکھو جو ہمارے ہاں معروف ہے۔“ اس نے کہا: ”یہ لکھو: {” بِسْمِكَ اللّٰهُمَّ۔“} پھر انھوں نے لکھا: ”یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مکہ سے صلح کی ہے۔“ تو سہیل بن عمرو نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: ”اللہ کی قسم! اگر آپ اللہ کے رسول ہوں تو ہم نے آپ پر ظلم کیا، ہمارے معاملے میں وہ لکھو جو ہمارے ہاں معروف ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھو، یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب نے صلح کی ہے اور میں اللہ کا رسول بھی ہوں۔“ یہ معاملہ ہو رہا تھا کہ تیس مسلح نوجوان نکل کر ہمارے سامنے آ گئے اور ہمارے سامنے آ کر مشتعل ہو گئے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اندھا کر دیا، ہم نے بڑھ کر انھیں گرفتار کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تم کسی کے عہد میں آئے ہو یا کسی نے تمھیں امان دی ہے؟“ انھوں نے کہا: ”نہیں!“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں رہا کر دیا، اس پر اللہ عز و جل نے یہ آیت نازل فرمائی: «‏‏‏‏وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» [ الفتح: ۲۴ ] ”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمھیں ان پر فتح دے دی اور اللہ اس کو جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے خوب دیکھنے والا ہے۔ “ [ مسند أحمد:۴ /۸۶،۸۷،ح:۱۶۸۰۵ ] مسند احمد کے محققین نے اسے صحیح کہا ہے۔ ➋ یہاں بیت اللہ والے شہر کا نام ”مکہ“ بیان فرمایا ہے، جب کہ سورۂ آلِ عمران (۹۶) میں اس کا نام ”بکہ“ قرار دیا ہے، معلوم ہوا اس شہر کے دونوں نام ہیں۔ ➌ { وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا:} یعنی اللہ تعالیٰ کفار کی سرا سر زیادتی اور تمھارے صبر اور اطاعت کو خوب دیکھ رہا تھا، اس کے باوجود اس نے بہت سی مصلحتوں کے پیشِ نظر ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے۔
← پچھلی آیت (23) پوری سورۃ اگلی آیت (25) →