بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الفتح — Surah Fath
آیت نمبر 26
کل آیات: 29
قرآن کریم الفتح آیت 26
آیت نمبر: 26 — سورۃ الفتح islamicurdubooks.com ↗
اِذۡ جَعَلَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الۡجَاہِلِیَّۃِ فَاَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ اَلۡزَمَہُمۡ کَلِمَۃَ التَّقۡوٰی وَ کَانُوۡۤا اَحَقَّ بِہَا وَ اَہۡلَہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿٪۲۶﴾
(یہی وجہ ہے کہ) جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں جاہلانہ حمیت بٹھا لی تو اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی اور مومنوں کو تقویٰ کی بات کا پابند رکھا کہ وہی اُس کے زیادہ حق دار اور اُس کے اہل تھے اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے
جب کہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت کو جگہ دی اور حمیت بھی جاہلیت کی، سو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مومنین پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تقوے کی بات پر جمائے رکھا اور وه اس کے اہل اور زیاده مستحق تھے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے
جبکہ کافروں نے اپنے دلوں میں اَڑ رکھی وہی زمانہٴ جاہلیت کی اَڑ (ضد) تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں پر اتارا اور پرہیزگاری کا کلمہ ان پر لازم فرمایا اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے
(وہ وقت یاد کرو) جب کافروں نے اپنے دلوں میں عصبیت پیدا کی اور عصبیت بھی جاہلیت والی اللہ نے اپنا سکون و اطمینان اپنے رسول(ص) اور اہلِ ایمان پر نازل فرمایا اور انہیں پرہیزگاری کی بات کا پابند رکھا کہ وہی اس کے زیادہ حقدار تھے اور اس کے اہل بھی اور اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔
جب ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، اپنے دلوں میں ضد رکھ لی، جو جاہلیت کی ضد تھی تو اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر اتار دی اور انھیں تقویٰ کی بات پر قائم رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے لائق تھے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر فرماتا ہے جبکہ یہ کافر اپنے دلوں میں غیرت و حمیت جاہلیت کو جما چکے تھے صلح نامہ میں آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھنے سے انکار کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ لفظ رسول اللہ لکھوانے سے انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے اس وقت اپنے نبی اور مومنوں کے دل کھول دئیے ان پر اپنی سکینت نازل فرما کر انہیں مضبوط کر دیا اور تقوے کے کلمے پر انہیں جما دیا یعنی «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ» پر جیسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے اور جیسے کہ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں موجود ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3265،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کرتا رہوں جب تک کہ وہ «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ» نہ کہہ لیں، جس نے «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ» کہہ لیا، اس نے مجھ سے اپنے مال کو اور اپنی جان کو بچا لیا مگر حق اسلام کی وجہ سے اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے“ }۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ایک قوم کی مذمت بیان کرتے ہوئے فرمایا «اِنَّهُمْ كَانُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ يَسْتَكْبِرُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:35] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان سے کہا جاتا تھا کہ سوائے اللہ کے کوئی عبادت کے لائق نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے ‘۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہاں مسلمانوں کی تعریف بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ یہی اس کے زیادہ حقدار اور یہی اس کے قابل بھی تھے۔ یہ کلمہ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» ہے انہوں نے اس سے تکبر کیا اور مشرکین قریش نے اسی سے حدیبیہ والے دن تکبر کیا پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک مدت معینہ تک کے لیے صلح نامہ مکمل کر لیا۔ ابن جریر میں بھی یہ حدیث ان ہی زیادتیوں کے ساتھ مروی ہے لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پچھلے جملے راوی کے اپنے ہیں یعنی زہری رحمہ اللہ کا قول ہے جو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ گویا حدیث میں ہی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد اخلاص ہے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کلمہ یہ ہے «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْك لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» ‏‏‏‏۔ مسور رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْك لَہٗ» ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد «لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ» ہے۔ یہی قول سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ کی وحدانیت کی شہادت ہے جو تمام تقوے کی جڑ ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ» بھی ہے اور جہاد فی سبیل اللہ بھی ہے۔ عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کلمہ تقویٰ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» ہے۔ زہری فرماتے رحمہ اللہ ہیں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» مراد ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ» ہے۔

پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے اسے معلوم ہے کہ مستحق خیر کون ہے؟ اور مستحق شر کون ہے؟ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت اسی طرح ہے «اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیتہ حمیتہ الجاھلیتہ ولو حمیتم کما حموا الفسد المسجد الحرام» یعنی ’ کافروں نے جس وقت اپنے دل میں جاہلانہ ضد پیدا کر لی اگر اس وقت تم بھی ان کی طرح ضد پر آ جاتے تو نتیجہ یہ ہوتا کہ مسجد الحرام میں فساد برپا ہو جاتا ‘۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس قرأت کی خبر پہنچی تو بہت تیز ہوئے لیکن سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تو آپ کو بھی معلوم ہو گا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا جاتا رہتا تھا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ آپ کو سکھاتا تھا آپ اس میں سے مجھے بھی سکھاتے تھے اس پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ ذی علم اور قرآن دان ہیں آپ کو جو کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے وہ پڑھئے اور سکھائیے۔ ۱؎ [سنن نسائی] ‏‏‏‏

ان احادیث کا بیان جن میں حدیبیہ کا قصہ اور صلح کا واقعہ ہے مسند احمد میں۔ ۱؎ [مسند احمد:323/4:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا مروان بن حکم رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیارت بیت اللہ کے ارادے سے چلے آپ کا ارادہ جنگ کا نہ تھا، ستر اونٹ قربانی کے آپ کے ساتھ تھے، کل ساتھی آپ کے سات سو تھے، ایک ایک اونٹ دس دس آدمیوں کی طرف سے تھا۔ آپ جب عسفان پہنچے تو سیدنا بشر بن سفیان کعبی رضی اللہ عنہ نے آپ کو خبر دی کہ یا رسول اللہ! قریشیوں نے آپ کے آنے کی خبر پا کر مقابلہ کی تیاریاں کر لی ہیں، انہوں نے اونٹوں کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی اپنے ساتھ لے لیے ہیں اور چیتے کی کھالیں پہن لی ہیں اور عہد و پیمان کر لیے ہیں کہ وہ آپ کو اس طرح جبراً مکہ میں نہیں آنے دیں گے، خالد بن ولید کو انہوں نے چھوٹا سا لشکر دے کر کراع غمیم تک پہنچا دیا۔ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس قریشیوں کو لڑائیوں نے کھا لیا کتنی اچھی بات تھی کہ وہ مجھے اور لوگوں کو چھوڑ دیتے اگر وہ مجھ پر غالب آ جاتے تو ان کا مقصود پورا ہو جاتا اور اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور لوگوں پر غالب کر دیتا تو پھر یہ لوگ بھی دین اسلام کو قبول کر لیتے اور اگر اس وقت بھی اس دین میں نہ آنا چاہتے تو مجھ سے لڑتے اور اس وقت ان کی طاقت بھی پوری ہوتی قریشیوں نے کیا سمجھ رکھا ہے؟ قسم اللہ کی اس دین پر میں ان سے جہاد کرتا رہوں گا اور ان سے مقابلہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ یا تو اللہ مجھے ان پر کھلم کھلا غلبہ عطا فرما دے یا میری گردن کٹ جائے۔‏‏‏‏“ پھر آپ نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ دائیں طرف حمص کے پیچھے سے اس راستہ پر چلیں جو ثنیۃ المرار کو جاتا ہے اور حدیبیہ مکہ کے نیچے کے حصے میں ہے۔ خالد والے لشکر نے جب دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستہ بدل دیا ہے تو یہ دوڑے ہوئے قریشیوں کے پاس گئے اور انہیں اس کی خبر دی، ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ثنیۃ المرار میں پہنچے تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی، لوگ کہنے لگے اونٹنی تھک گئی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ یہ تھکی، نہ اس کی بیٹھ جانے کی عادت ہے، اسے اس اللہ نے روک لیا ہے جس نے مکہ سے ہاتھیوں کو روک لیا تھا، سنو قریش آج مجھ سے جو چیز مانگیں گے، جس میں صلہ رحمی ہو میں انہیں دوں گا۔‏‏‏‏“ پھر آپ نے لشکریوں کو حکم دیا کہ وہ پڑاؤ کریں انہوں نے کہا یا رسول اللہ! اس پوری وادی میں پانی نہیں آپ نے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر ایک صحابی کو دیا اور فرمایا: ”اسے یہاں کے کسی کنویں میں گاڑ دو“، اس کے گاڑتے ہی پانی جوش مارتا ہوا ابل پڑا تمام لشکر نے پانی لے لیا اور وہ برابر بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ جب پڑاؤ ہو گیا اور وہ اطمینان سے بیٹھ گئے اتنے میں بدیل بن ورقہ اپنے ساتھ قبیلہ خزاعہ کے چند لوگوں کو لے کر آیا آپ نے اس سے بھی وہی فرمایا جو بشر بن سفیان سے فرمایا تھا چنانچہ یہ لوٹ گیا اور جا کر قریش سے کہا کہ تم لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بڑی عجلت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم سے لڑنے کو نہیں آئے، آپ تو صرف بیت اللہ کی زیارت کرنے اور اس کی عزت کرنے کو آئے ہیں تم اپنے فیصلے پر دوبارہ نظر ڈالو۔ دراصل قبیلہ خزاعہ کے مسلم و کافر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرفدار تھے مکہ کی خبریں انہی لوگوں سے آپ کو پہنچا کرتی تھیں۔ قریشیوں نے انہیں جواب دیا کہ گو آپ اسی ارادے سے آئے ہوں لیکن یوں اچانک تو ہم انہیں یہاں نہیں آنے دیں گے ورنہ لوگوں میں تو یہی باتیں ہوں گی کہ آپ مکہ گئے اور کوئی آپ کو روک نہ سکا۔ انہوں نے پھر مکرز بن حفص کو بھیجا یہ بنو عامر بن لوئی کے قبیلے میں سے تھا اسے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عہد شکن شخص ہے“ اور اس سے بھی آپ نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے آنے والے دونوں اور شخصوں سے فرمایا تھا، یہ بھی لوٹ گیا اور جا کر قریشیوں سے سارا واقعہ بیان کر دیا قریشیوں نے پھر حلیس بن علقمہ کنانی کو بھیجا یہ ادھر ادھر کے مختلف لوگوں کا سردار تھا اسے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس قوم سے ہے جو اللہ کے کاموں کی عظمت کرتی ہے اپنی قربانی کے جانوروں کو کھڑا کر دو۔‏‏‏‏“ اس نے جو دیکھا کہ ہر طرف سے قربانی کے نشان دار جانور آ جا رہے ہیں اور رک جانے کی وجہ سے ان کے بال اڑے ہوئے ہیں یہ تو وہیں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے بغیر لوٹ گیا اور جا کر قریش سے کہا کہ اللہ جانتا ہے تمہیں حلال نہیں کہ تم انہیں بیت اللہ سے روکو، اللہ کے نام کے جانور قربان گاہ سے رکے کھڑے ہیں یہ سخت ظلم ہے، اتنے دن رکے رہنے سے ان کے بال تک اڑ گئے ہیں میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہا ہوں قریش نے کہا تو تو نرا اعرابی ہے خاموش ہو کر بیٹھ جا۔

اب انہوں نے مشورہ کر کے عروہ بن مسعود ثقفی کو بھیجا عروہ نے اپنے جانے سے پہلے کہا کہ اے قریشیو! جن جن کو تم نے وہاں بھیجا وہ جب واپس ہوئے تو ان سے تم نے کیا سلوک کیا، یہ میں دیکھ رہا ہوں، تم نے انہیں برا کہا، ان کی بےعزتی کی، ان پر تہمت رکھی، ان سے بدگمانی کی، میری حالت تمہیں معلوم ہے کہ میں تمہیں مثل باپ کے سمجھتا ہوں، تم خوب جانتے ہو کہ جب تم نے ہائے وائے کی میں نے اپنی تمام قوم کو اکٹھا کیا اور جس نے میری بات مانی میں نے اسے اپنے ساتھ لیا اور تمہاری مدد کے لیے اپنی جان مال اور اپنی قوم کو لے کر آ پہنچا سب نے کہا بیشک آپ سچے ہیں ہمیں آپ سے کسی قسم کی بدگمانی نہیں آپ جائیے۔ اب یہ چلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ کر آپ کے سامنے بیٹھ کر کہنے لگا کہ آپ نے ادھر ادھر کے کچھ لوگوں کو جمع کر لیا ہے اور آئے ہیں، اپنی قوم کی شان و شوکت کو خود ہی توڑنے کے لیے۔ سنئے یہ قریشی ہیں آج یہ مصمم ارادہ کر چکے ہیں اور چھوٹے چھوٹے بچے بھی ان کے ساتھ ہیں جو چیتوں کی کھالیں پہنے ہوئے ہیں، وہ اللہ کو بیچ میں رکھ کر عہد و پیمان کر چکے ہیں کہ ہرگز ہرگز آپ کو اس طرح اچانک زبردستی مکہ میں نہیں آنے دیں گے۔ اللہ کی قسم! مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ یہ لوگ جو اس وقت بھیڑ لگائے آپ کے اردگرد کھڑے ہوئے ہیں یہ لڑائی کے وقت ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں گے۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رہا نہ گیا، آپ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے کہا جا لات کی وہ چوستا رہ، ہم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوں؟ عروہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ابوقحافہ کے بیٹے“، تو کہنے لگا اگر مجھ پر تیرا احسان پہلے کا نہ ہوتا تو میں تجھے ضرور مزہ چکھاتا۔ اس کے بعد عروہ نے پھر کچھ کہنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی میں ہاتھ ڈالا، اس کی بےادبی کو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ برداشت نہ کر سکے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی کھڑے تھے، لوہا ان کے ہاتھ میں تھا، وہی اس کے ہاتھ پر مار کر فرمایا: اپنا ہاتھ دور رکھ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو چھو نہیں سکتا۔ یہ کہنے لگا تو بڑا ہی بدزبان اور ٹیڑھا آدمی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا اس نے پوچھا یہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ تیرا بھتیجا مغیرہ بن شعبہ ہے؟“، تو کہنے لگا غدار تو تو کل تک طہارت بھی نہ جانتا تھا۔

الغرض اسے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا جو اس سے پہلے والوں کو فرمایا تھا اور یقین دلا دیا کہ ہم لڑنے نہیں آئے۔ یہ واپس چلا اور اس نے یہاں کا یہ نقشہ دیکھا تھا کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پروانے بنے ہوئے ہیں، آپ کے وضو کا پانی وہ اپنے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں، آپ کے تھوک کو اپنے ہاتھوں میں لینے کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں، آپ کا کوئی بال گر پڑے تو ہر شخص لپکتا ہے کہ وہ اسے لے لے۔ جب یہ قریشیوں کے پاس پہنچا تو کہنے لگا: اے قریش کی جماعت کے لوگو! میں کسریٰ کے ہاں اس کے دربار میں اور نجاشی کے یہاں اس کے دربار میں ہو آیا ہوں، اللہ کی قسم! میں نے ان بادشاہوں کی بھی وہ عظمت اور وہ احترام نہیں دیکھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھا ہے۔ آپ کے اصحاب تو آپ کی وہ عزت کرتے ہیں کہ اس سے زیادہ ناممکن ہے اب تم سوچ سمجھ لو اور اس بات کو باور کر لو کہ اصحاب رضی اللہ عنہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نہیں کہ اپنے نبی کو تمہارے ہاتھوں میں دے دیں۔ اب آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں مکہ والوں کے پاس بھیجنا چاہا لیکن اس سے پہلے یہ واقعہ ہو چکا تھا کہ آپ نے ایک مرتبہ سیدنا خراش بن امیہ خزاعی رضی اللہ عنہ کو اپنے اونٹ پر جس کا نام ثعلب تھا سوار کرا کر مکہ مکرمہ بھیجا تھا قریش نے اس اونٹ کی کوچیں کاٹ دیں تھیں اور خود قاصد کو بھی قتل کر ڈالتے لیکن احابیش قوم نے انہیں بچا لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں یہ لوگ مجھے قتل نہ کر دیں کیونکہ وہاں میرے قبیلہ بنو عدی کا کوئی شخص نہیں جو مجھے ان قریشیوں سے بچانے کی کوشش کرے، اس لیے کیا یہ اچھا نہ ہو گا کہ آپ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بھیجیں جو ان کی نگاہوں میں مجھ سے بہت زیادہ ذی عزت ہیں۔ چنانچہ آپ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر انہیں مکہ میں بھیجا کہ جا کر قریش سے کہہ دیں کہ ہم لڑنے کے لیے نہیں آئے بلکہ صرف بیت اللہ شریف کی زیارت اور اس کی عظمت بڑھانے کو آئے ہیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے شہر میں قدم رکھا ہی تھا جو ابان بن سعید بن عاص آپ کو مل گئے اور اپنی سواری سے اتر کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو آگے بٹھایا اور خود پیچھے بیٹھا اور اپنی ذمہ داری پر آپ کو لے چلا کہ آپ پیغام رسول اہل مکہ کو پہنچا دیں، چنانچہ آپ وہاں گئے اور قریش کو یہ پیغام پہنچا دیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ تو آ ہی گئے ہیں آپ اگر چاہیں تو بیت اللہ کا طواف کر لیں لیکن سیدنا ذوالنورین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف نہ کر لیں ناممکن ہے کہ میں طواف کروں قریشیوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو روک لیا اور انہیں واپس نہ جانے دیا، ادھر لشکر اسلام میں یہ خبر پہنچی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے۔

زہری رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ پھر قریشیوں نے سہیل بن عمرو کو آپ کے پاس بھیجا کہ تم جا کر صلح کر لو لیکن یہ ضروری ہے کہ اس سال آپ مکہ میں نہیں آ سکتے تاکہ عرب ہمیں یہ طعنہ نہ دے سکیں کہ وہ آئے اور تم روک نہ سکے چنانچہ سہیل یہ سفارت لے کر چلا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”معلوم ہوتا ہے کہ قریشیوں کا ارادہ اب صلح کا ہو گیا جو اسے بھیجا ہے“، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں شروع کیں اور دیر تک سوال جواب اور بات چیت ہوتی رہی،شرائط صلح طے ہو گئیں صرف لکھنا باقی رہا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دوڑے ہوئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور فرمانے لگے، کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ کیا یہ لوگ مشرک نہیں ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، تو کہا: پھر کیا وجہ ہے کہ ہم دینی معاملات میں اتنی کمزوری دکھائیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر اللہ کے رسول کی رکاب تھامے رہو، آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ مجھے بھی کامل یقین ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہا سے پھر بھی نہ صبر ہو سکا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسی طرح کہا، آپ نے جواب میں فرمایا: ”سنو میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کا غلام ہوں، میں اس کے فرمان کے خلاف نہیں کر سکتا اور مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے ضائع نہ کرے گا۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہنے کو تو اس وقت جوش میں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سب کچھ کہہ گیا لیکن پھر مجھے بڑی ندامت ہوئی میں نے اس کے بدلے بہت روزے رکھے، بہت سی نمازیں پڑھیں اور بہت سے غلام آزاد کئے، اس سے ڈر کر کہ مجھے اس گستاخی کی کوئی سزا اللہ کی طرف سے نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو صلح نامہ لکھنے کے لیے بلوایا اور فرمایا: ”لکھو «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» “ اس پر سہیل نے کہا: میں اسے نہیں جانتا یوں لکھئیے «بسمک اللھم» ، آپ نے فرمایا: ”اچھا یوں ہی لکھو۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا: ”لکھو یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا“، اس پر سہیل نے کہا: اگر میں آپ کو رسول مانتا تو آپ سے لڑتا ہی کیوں؟ یوں لکھئے کہ یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو نے کیا، اس بات پر کہ دس سال تک ہم میں کوئی لڑائی نہ ہو گی، لوگ امن و امان سے رہیں گے، ایک دوسرے سے بچے ہوئے رہیں گے اور یہ کہ جو شخص آپ کے پاس اپنے ولی کی اجازت کے بغیر چلا جائے گا آپ اسے واپس لوٹا دیں گے اور جو صحابی رسول قریشیوں کے پاس چلا جائے گا وہ اسے نہیں لوٹائیں گے، ہم میں آپ میں لڑائیاں بند رہیں گی، صلح قائم رہے گی، کوئی طوق و زنجیر قیدو بند بھی نہ ہو گا۔ اسی میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت اور آپ کے عہد و پیمان میں آنا چاہے وہ آ سکتا ہے اور جو شخص قریش کے عہد و پیمان میں آنا چاہے وہ بھی آ سکتا ہے، اس پر بنو خزاعہ جلدی سے بول اٹھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدو پیمان میں آنا اور بنوبکر نے کہا کہ ہم قریشیوں کے ساتھ ان کے ذمہ میں ہیں۔ صلح نامہ میں یہ بھی تھا کہ اس سال آپ واپس لوٹ جائیں، مکہ میں نہ آئیں، اگلے سال آئیں اس وقت ہم باہر نکل جائیں گے اور آپ اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سمیت آئیں، تین دن مکہ میں ٹھہریں، ہتھیار اتنے ہی ہوں جتنے ایک سوار کے پاس ہوتے ہیں، تلوار میان میں ہو۔ ابھی صلح نامہ لکھا جا رہا تھا کہ سہیل کے لڑکے سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ لوہے کی بھاری زنجیروں میں جکڑے ہوئے گرتے پڑتے مکہ سے چھپتے چھپاتے بھاگ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین مدینہ سے نکلتے ہوئے ہی فتح کا یقین کئے ہوئے تھے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھ چکے تھے اس لیے انہیں فتح ہونے میں ذرا سا بھی شک نہ تھا، یہاں آ کر جو یہ رنگ دیکھا کہ صلح ہو رہی ہے اور بغیر طواف کے، بغیر زیارت بیت اللہ کے، یہیں سے واپس ہونا پڑے گا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نفس پر دباؤ ڈال کر صلح کر رہے ہیں، تو اس سے وہ بہت ہی پریشان خاطر تھے، بلکہ قریب تھا کہ ہلاک ہو جائیں۔ یہ سب کچھ تو تھا ہی، مزید برآں جب سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ جو مسلمان تھے اور جنہیں مشرکین نے قید کر رکھا تھا اور جن پر طرح طرح کے مظالم توڑ رہے تھے یہ سن کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہوئے ہیں کسی نہ کسی طرح موقعہ پا کر بھاگ آتے ہیں اور طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاس حاضر ہوتے ہیں، تو سہیل اٹھ کر انہیں طمانچے مارنا شروع کر دیتا ہے اور کہتا ہے اے محمد! میرے آپ کے درمیان تصفیہ ہو چکا ہے یہ اس کے بعد آیا ہے لہٰذا اس شرط کے مطابق میں اسے واپس لے جاؤں گا آپ جواب دیتے ہیں کہ ہاں ٹھیک ہے، سہیل کھڑا ہوتا ہے اور ابوجندل کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر گھسیٹتا ہوا انہیں لے کر چلتا ہے، سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ بلند آواز کہتے ہیں، اے مسلمانو! مجھے مشرکوں کی طرف لوٹا رہے ہو؟ ہائے یہ میرا دین مجھ سے چھیننا چاہتے ہیں اس واقعہ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اور برافروختہ کر دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ابوجندل صبر کر اور نیک نیت رہ اور طلب ثواب میں رہ، نہ صرف تیرے لیے ہی بلکہ تجھ جیسے جتنے کمزور مسلمان ہیں ان سب کے لیے اللہ تعالیٰ راستہ نکالنے والا ہے اور تم سب کو اس درد و غم، رنج و الم، ظلم و ستم سے چھڑوانے والا ہے، ہم چونکہ صلح کر چکے ہیں شرطیں طے ہو چکی ہیں اس بنا پر ہم نے انہیں سردست واپس کر دیا ہے، ہم غدر کرنا، شرائط کے خلاف کرنا، عہد شکنی کرنا نہیں چاہتے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ پہلو بہ پہلو جانے لگے اور کہتے جاتے تھے کہ ابوجندل صبر کرو، ان میں رکھا ہی کیا ہے؟ یہ مشرک لوگ ہیں ان کا خون مثل کتے کے خون کے ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ساتھ ہی ساتھ اپنی تلوار کی موٹھ سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ کی طرف کرتے جا رہے تھے کہ وہ تلوار کھینچ لیں اور ایک ہی وار میں باپ کے آرپار کر دیں۔ لیکن سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ کا ہاتھ باپ پر نہ اٹھا۔ صلح نامہ مکمل ہو گیا فیصلہ پورا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام میں نماز پڑھتے تھے اور جانور حلال ہونے کے لیے مضطرب تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اٹھو اپنی اپنی قربانیاں کر لو اور سر منڈوا لو لیکن ایک بھی کھڑا نہ ہوا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا، آپ لوٹ کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمانے لگے: ”لوگوں کو یہ کیا ہو گیا ہے؟“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: یا رسول اللہ! اس وقت جس قدر صدمے میں یہ ہیں آپ کو بخوبی علم ہے، آپ ان سے کچھ نہ کہئے، اپنی قربانی کے جانور کے پاس جائیے اور اسے جہاں وہ ہو وہیں قربان کر دیجئیے اور خود سر منڈوا لیجئے، پھر تو ناممکن ہے کہ اور لوگ بھی یہی نہ کریں۔ آپ نے یہی کیا اب کیا تھا ہر شخص اٹھ کھڑا ہوا قربانی کو قربان کیا اور سر منڈوا لیا، اب آپ یہاں سے واپس چلے آدھا راستہ طے کیا ہو گا جو سورۃ الفتح نازل ہوئی۔ یہ روایت صحیح بخاری شریف میں بھی ہے ۱؎ [صحیح بخاری:2731] ‏‏‏‏

اس میں ہے کہ آپ کے سامنے ایک ہزار کئی سو صحابہ رضی اللہ عنہم تھے، ذوالحلیفہ پہنچ کر آپ نے قربانی کے اونٹوں کو نشان دار کیا اور عمرے کا احرام باندھا اور اپنے ایک جاسوس کو جو قبیلہ خزاعہ میں سے تھا، تجسس کے لیے روانہ کیا۔ غدیر اشطاط میں آ کر اس نے خبر دی کہ قریش نے پورا مجمع تیار کر لیا ہے ادھر ادھر کے مختلف لوگوں کو بھی انہوں نے جمع کر لیا ہے اور ان کا ارادہ لڑائی کا اور آپ کو بیت اللہ سے روکنے کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”اب بتاؤ کیا ہم ان کے اہل و عیال پر حملہ کر دیں اگر وہ ہمارے پاس آئیں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی گردن کاٹ دی ہو گی ورنہ ہم انہیں غمگین چھوڑ کر جائیں گے اگر وہ بیٹھ رہیں گے تو اس غم و رنج میں رہیں گے اور اگر انہوں نے نجات پا لی تو یہ گردنیں ہوں گی جو اللہ عزوجل نے کاٹ دی ہوں گی۔ دیکھو تو بھلا کتنا ظلم ہے کہ ہم نہ کسی سے لڑنے کو آئے، نہ کسی اور ارادے سے آئے، صرف اللہ کے گھر کی زیارت کے لیے جا رہے ہیں اور وہ ہمیں روک رہے ہیں، بتاؤ ان سے ہم کیوں نہ لڑیں؟“ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! آپ بیت اللہ کی زیارت کو نکلے ہیں، آپ چلے چلئیے ہمارا ارادہ جدال و قتال کا نہیں لیکن جو ہمیں اللہ کے گھر سے روکے گا ہم اس سے ضرور لڑیں گے خواہ کوئی ہو، آپ نے فرمایا: ”بس اب اللہ کا نام لو اور چل کھڑے ہو۔‏‏‏‏“ کچھ اور آگے چل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خالد بن ولید طلائیہ کا لشکر لے کر آ رہا ہے پس تم دائیں طرف کو ہو لو، خالد کو اس کی خبر بھی نہ ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے ان کے کلے پر پہنچ گئے۔ اب خالد دوڑا ہوا قریشیوں میں پہنچا اور انہیں اس سے مطلع کیا، اونٹنی کا نام اس روایت میں قصویٰ بیان ہوا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ جو کچھ وہ مجھ سے طلب کریں گے میں دوں گا بشرطیکہ حرمت اللہ کی اہانت نہ ہو پھر جو آپ نے اونٹنی کو للکارا تو وہ فوراً کھڑی ہو گئی۔

بدیل بن ورقاء خزاعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر قریشیوں کو جب جواب پہنچاتا ہے تو عروہ بن مسعود ثقفی کھڑے ہو کر اپنا تعارف کرا کر جو پہلے بیان ہو چکا یہ بھی کہتا ہے کہ دیکھو اس شخص نے نہایت معقول اور واجبی بات کہی ہے اسے قبول کر لو۔ اور جب یہ خود نبی کریم صلی اللہ ع

📖 احسن البیان

2 6 ۔ 1 اذ کا ظرف یا تو لعذبتا ہے یا واذکرو محذوف ہے یعنی اس وقت کو یاد کرو جب کہ ان کافروں نے۔ 2 6 ۔ 2 کفار کی اس حمیت جاہلیہ عار اور غرور سے مراد اہل مکہ کا مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روکتا ہے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمارے بیٹوں اور باپوں کو قتل کیا ہے لات وعزی کی قسم ہم انہیں کبھی یہاں داخل نہیں ہونے دیں گے یعنی انٰہوں نے اسے اپنی عزت اور وقار کا مسئلہ بنا لیا اسی کو حمیت جاہلیہ کہا گیا ہے کیونکہ خانہ کعبہ میں عبادت کے لیے آنے سے روکنے کا کسی کو حق حاصل نہیں تھا قریش مکہ کے اس معاندانہ رویے کے جواب میں خطرہ تھا کہ مسلمانوں کے جذبات میں بھی شدت آجاتی اور وہ بھی اسے اپنے وقار کا مسئلہ بنا کر مکہ جانے پر اصرار کرتے جس سے دونوں کے درمیان لڑائی چھڑ جاتی اور یہ لڑائی مسلمانوں کے لیے سخت خطرناک رہتی اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں سکینت نازل فرما دی یعنی انہیں صبر وتحمل کی توفیق دے دی اور وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق حدیبیہ میں ہی ٹھہرے رہے جوش اور جذبے میں آ کر مکہ جانے کی کوشش نہیں کی لعض کہتے ہیں کہ اس حمیت جاہلیہ سے مراد قریش مکہ کا وہ رویہ ہے جو صلح کے لیے اور معاہدے کے وقت انہوں نے اختیار کیا یہ رویہ اور معاہدہ دونوں مسلمانوں کے لیے بظاہر ناقابل برداشت تھا لیکن انجام کے اعتبار سے چونکہ اس میں اسلام اور مسلمانوں کا بہترین مفاد تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نہایت ناگواری اور گرانی کے باوجود اسے قبول کرنے کا حوصلہ عطا فرما دیا اس کی مختصر تفصیل اس طرح ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کے بھیجے ہوئے نمائندوں کی یہ بات تسلیم کرلی کہ اس سال مسلمان عمرے کے لیے مکہ نہیں جائیں گے اور یہیں سے واپس ہوجائیں گے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو معاہدہ لکھنے کا حکم دیا انہوں نے آپ کے حکم سے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی انہوں نے اس پر اعتراض کردیا کہ رحمن رحیم کو ہم نہیں جانتے ہمارے ہاں جو لفظ استعمال ہوتا ہے اس کے ساتھ یعنی باسمک اللھم اے اللہ تیرے نام سے لکھیں چناچہ آپ نے اسی طرح لکھوایا پھر آپ نے لکھوایا یہ وہ دستاویز ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے مصالحت کی ہے قریش کے نمائندوں نے کہا اختلاف کی بنٰیاد تو آپ کی رسالت ہی ہے اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانٰ لیں تو اس کے بعد جھگڑا ہی کیا رہ جاتا ہے پھر ہمیں آپ سے لڑنے کی اور بیت اللہ میں جانے سے روکنے کی ضرورت ہی کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں محمد رسول اللہ کی جگہ محمد بن عبد اللہ لکھیں چناچہ آپ نے حضرت علی رضی الیہ کو ایسا ہی لکھنے کا حکم دیا یہ مسلمانوں کے لیے نہایت اشتعال انگیز صورت حال تھی اگر اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر سکینت نازل نہ فرماتا تو وہ کبھی اسے برداشت نہ کرتے حضرت علی ؓ نے اپنے ہاتھ سے محمد رسول اللہ کے الفاظ مٹانے اور کاٹنے سے انکار کردیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ یہ لفظ کہاں ہے بتانے کے بعد خود آپ نے اسے اپنے دست مبارک سے مٹا دیا اور اس کی جگہ محمد بن عبد اللہ تحریر کرنے کو فرمایا اس کے بعد اس معاہدے یا صلح نامے میں تین باتیں لکھیں گئیں 1۔ اہل مکہ میں سے جو مسلمان ہو کر آپ کے پاس آئے گا اسے واپس کردیا جائے گا۔ 2۔ جو مسلمان اہل مکہ سے جا ملے گا وہ اس کو واپس کرنے کے پابند نہیں ہوں گے۔ 3۔ مسلمان آئندہ سال مکہ میں آئیں گے اور یہاں تین دن قیام کرسکیں گے تاہم انہیں ہتھیار ساتھ لانے کی اجازت نہیں ہوگی (صحیح مسلم کتاب الجہاد) اور اس کے ساتھ دو باتیں اور لکھی گئیں۔ 1 اس سال لڑائی موقوف رہے گی۔ 2۔ قبائل میں سے جو چاہے مسلمانوں کے ساتھ اور جو چاہے قریش کے ساتھ ہوجائے۔ 26۔ 3 اس سے مراد کلمہ توحید و رسالت لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ہے، جس سے حدیبیہ والے دن مشرکین نے طواف وعمرہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ نبی کا خواب بھی بمنزلہ وحی ہی ہوتا ہے۔ تاہم اس خواب میں یہ تعین نہیں تھی کہ یہ اسی سال ہوگا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان، اس بشارت عظیمہ سمجھتے ہوئے، عمرے کے لئے فوراً ہی امادہ ہوگئے اور اس کے لئے عام منادی کرا دی گئی اور چل پڑے۔ بالآخر حدیبیہ میں وہ صلح ہوئی، جس کی تفصیل ابھی گزری، دراں حالیکہ اللہ کے علم میں اس خواب کی تعبیر آئندہ سال تھی، جیسا کہ آئندہ سال مسلمانوں نہایت امن کے ساتھ یہ عمرہ کیا اور اللہ نے اپنے پیغمبر کے خواب کو سچا کر دکھایا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 26) ➊ {اِذْ جَعَلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِيَّةَ:} لفظ {” اِذْ “} پچھلی آیت کے آخر میں {” لَعَذَّبْنَا “} کا ظرف ہے، یعنی اگر وہ مومن مرد اور مومن عورتیں کفار سے الگ ہو گئے ہوتے ”تو ہم ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، دردناک سزا دیتے، جب ان کفر کرنے والوں نے اپنے دل میں ضد رکھ لی تھی…۔“ اور فعل محذوف {”اُذْكُرْ“} کا مفعول بہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی اس وقت کو یاد کر جب …۔ ➋ { حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ:} جاہلیت کی ضد سے مراد یہ ہے کہ انھوں نے وہ بات ماننے سے بھی انکار کر دیا جو تمام عرب کے ہاں مسلّم تھی کہ اللہ کے گھر سے کسی طواف یا عمرہ یا حج ادا کرنے والے کو روکا نہیں جا سکتا اور حرمت والے مہینوں میں لڑنے کی اجازت نہیں۔ بلکہ وہ لڑنے پر تیار ہو گئے اور کہنے لگے، ہم یہ عار برداشت نہیں کر سکتے کہ ہم سے زبردستی کوئی مکہ میں داخل ہو، اس لیے اس سال مسلمان واپس چلے جائیں، آئندہ سال آ کر عمرہ ادا کر لیں، وہ بھی صرف تین دن ٹھہریں اور اسلحہ میں صرف تلوار لا سکتے ہیں جو نیام میں ہو۔ اس کے علاوہ ان کا بات بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے الجھنا اور صلح کے لیے ناروا شرطیں لگانا بھی جاہلیت کی ضد تھی، مثلاً یہ کہنا کہ {”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“} کے بجائے {”بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ“} لکھو اور ”محمد رسول اللہ“ کے بجائے ”محمد بن عبد اللہ“ لکھو اور کوئی شخص مسلمان ہو کر تمھارے پاس جائے تو اسے واپس کرو، لیکن اگر کوئی مرتد ہو کر ہمارے پاس آئے تو ہم اسے واپس نہیں کریں گے۔ اسی طرح سہیل بن عمرو کا اپنے مسلمان ہو جانے والے بیٹے ابوجندل کو عین معاہدے کے درمیان آ کر اپنی حالت زار دکھانے کے باوجود مسلمانوں کے ساتھ جانے کی اجازت دینے سے انکار اور سب کے سامنے اس پر تشدد بھی جاہلیت کی ضد تھی۔ ➌ { فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ:} سکینت سے مراد وہ تحمل و حوصلہ اور صبر و وقار ہے جس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے کفارِ مکہ کی جاہلانہ حمیت کا مقابلہ کیا کہ نہ مشتعل ہوئے، نہ کوئی ناحق بات زبان سے کہی اور نہ اپنے کسی عمل سے کفار کو لڑائی چھیڑنے کا موقع دیا۔ ➍ اس آیت کے الفاظ پر غور کریں تو کفار اور مسلمانوں کے طرزِ عمل کے درمیان اور اللہ تعالیٰ کے ان کے ساتھ معاملے کے درمیان فرق کا اندازہ ہوتا ہے: (1)کفار نے اپنے دلوں میں حمیت یعنی ضد رکھ لی، سوچے سمجھے بغیر یہ ضد رکھنے والے وہ خود تھے۔ اس کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کے دلوں میں سکینت تھی، جو اپنے خزانے سے نازل کرنے والا اللہ تعالیٰ تھا۔ (2)کفار کے دلوں میں موجود ضد جاہلیت کی ضد تھی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کے دلوںمیں سکینت ربانی سکینت تھی۔ ➎ {وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى:} وہ تقویٰ کی بات یہ تھی کہ مسلمان تنگی ترشی، جوش، غضب، غرض ہر طرح کے حالات میں اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا پابند بنائے رکھیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے مشتعل جذبات کو سکون بخش کر اور اپنے حکم کی پابندی پر قائم رکھ کر صلح کا کام پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا۔ ➏ { وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا:} اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے، کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے تھے اور انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور آپ کی تربیت پانے کا شرف حاصل تھا۔ ➐ { وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا:} اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔ اس علم ہی کے ساتھ اس نے ان پاکیزہ ہستیوں کو تقویٰ کے سب سے زیادہ حق دار اور اہل جان کر اپنے رسول کی صحبت کے لیے چنا، اس کی اطاعت کی توفیق بخشی اور انھیں تقویٰ کی بات پر قائم رکھا۔
← پچھلی آیت (25) پوری سورۃ اگلی آیت (27) →