بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الفتح — Surah Fath
آیت نمبر 6
کل آیات: 29
قرآن کریم الفتح آیت 6
آیت نمبر: 6 — سورۃ الفتح islamicurdubooks.com ↗
وَّ یُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقٰتِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ وَ الۡمُشۡرِکٰتِ الظَّآنِّیۡنَ بِاللّٰہِ ظَنَّ السَّوۡءِ ؕ عَلَیۡہِمۡ دَآئِرَۃُ السَّوۡءِ ۚ وَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ وَ لَعَنَہُمۡ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ جَہَنَّمَ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا ﴿۶﴾
اور اُن منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے متعلق برے گمان رکھتے ہیں برائی کے پھیر میں وہ خود ہی آ گئے، اللہ کا غضب ان پر ہوا اور اس نے ان پر لعنت کی اور ان کے لیے جہنم مہیا کر دی جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے
اور تاکہ ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرکہ عورتوں کو عذاب دے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانیاں رکھنے والے ہیں، (دراصل) انہیں پر برائی کا پھیرا ہے، اللہ ان پر ناراض ہوا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی اور وه (بہت) بری لوٹنے کی جگہ ہے
اور عذاب دے منافق مَردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مَردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ پر گمان رکھتے ہیں انہیں پر ہے بری گردش اور اللہ نے اُن پر غضب فرمایا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لیے جہنم تیار فرمایا، اور وہ کیا ہی برا انجام ہے،
اور تاکہ وہ (اللہ) منافق مَردوں اور منافق عورتوں، مشرک مَردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے بارے میں برے گمان کرتے ہیں برائی کی گردش انہی پر ہے اللہ ان پر غضبناک ہے اور ان پر لعنت کی ہے اور ان کیلئے جہنم تیار کر رکھی ہے اور وہ بہت برا انجام ہے۔
اور (تاکہ) ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے بارے میں گمان کرنے والے ہیں، برا گمان، انھی پر بری گردش ہے اور اللہ ان پر غصے ہوا اور اس نے ان پر لعنت کی اور ان کے لیے جہنم تیار کی اور وہ لوٹنے کی بری جگہ ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اطمینان و رحمت ٭٭

«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کر دیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے، اس سے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کر دیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بے نشان کر دینے کے لیے بس کافی تھا، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہو جائے اور دلیل بھی سامنے آ جائے اس کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ایمانداروں کو اپنی بہترین نعمتیں اس بہانے عطا فرمائے۔ پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ صحابہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہمارے لیے کیا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ ’ مومن مرد و عورت جنتوں میں جائیں گے جہاں چپے چپے پر نہریں جاری ہیں اور جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے ‘ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور ان کی برائیاں دور اور دفع کر دے، انہیں ان کی برائیوں کی سزا نہ دے بلکہ معاف فرما دے درگزر کر دے، بخش دے، پردہ ڈال دے، رحم کرے اور ان کی قدر دانی کرے، دراصل یہی اصل کامیابی ہے۔ جیسے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» ۱؎ [3-آلعمران:185] ‏‏‏‏ ’ یعنی جو جہنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا۔ ‘ پھر ایک اور وجہ اور غایت بیان کی جاتی ہے کہ اس لیے بھی کہ نفاق اور شرک کرنے والے مرد و عورت جو اللہ تعالیٰ کے احکام میں بدظنی کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کے ساتھ برے خیال رکھتے ہیں یہ ہیں ہی کتنے؟ آج نہیں تو کل ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا اس جنگ میں بچ گئے تو اور کسی لڑائی میں تباہ ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل اس برائی کا دائرہ انہی پر ہے ان پر اللہ کا غضب ہے یہ رحمت الٰہی سے دور ہیں ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ دوبارہ اپنی قوت، قدرت اپنے اور اپنے بندوں کے دشمنوں سے انتقام لینے کی طاقت کو ظاہر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے۔

📖 احسن البیان

6 ۔ 1 یعنی اللہ کو اس کے حکموں پر مہتم کرتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ یہ مغلوب یا مقتول ہوجائیں گے اور دین اسلام کا خاتمہ ہوجائے گا۔ (ابن کثیر) 6۔ 1 یعنی یہ جس گردش، عذاب یا ہلاکت کے مسلمانوں کے لئے منتظر ہیں، وہ تو انہی کا مقدر بننے والی ہے

📖 القرآن الکریم

(آیت 6) ➊ { وَ يُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِيْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ …:} اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سکینت کی بدولت ایمان والے مجاہد مردوں اور عورتوں کے جنت میں داخلے کے ذکر کے بعد ان لوگوں کو عذاب دینے کا ذکر فرمایا جو اس غزوہ کے نتیجے میں اللہ کے غضب اور لعنت کا نشانہ بنے اور جہنم ان کا ٹھکانا بنی۔ منافقین و کفار کو یہ عذاب مسلمانوں کی تلواروں کے ساتھ بھی دیا گیا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ» ‏‏‏‏ [ التوبۃ: ۱۴] ”ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔“ اور مسلسل خوف اور رسوائی کے ساتھ بھی اور مسلمانوں کی کامیابیاں اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کی صورت میں بھی۔ آخرت کا عذاب اس کے علاوہ اور ان سب سے بڑھ کر ہے۔ یہاں منافقین کا ذکر کفار سے پہلے کرنے کا مقصد مسلمانوں کو آگاہ کرنا ہے کہ منافقین کا کفر پوشیدہ ہے، اس لیے وہ زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں، لہٰذا مسلمانوں کو نہ انھیں بھولنا چاہیے اور نہ ان سے کبھی غافل ہونا چاہیے۔ منافق اور مشرک مردوں کے ساتھ منافق اور مشرک عورتوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ وہ بھی ان کی پوری طرح راز دار، ہر طرح سے معاون اور تمام سازشوں میں شریک ہیں۔ ➋ { الظَّآنِّيْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ:} ”منافقین“ سے مراد مدینہ منورہ کے منافقین ہیں اور ”مشرکین“ سے مراد مکہ معظمہ کے مشرکین۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو ذلت و رسوائی کا عذاب دیا، اس لیے کہ منافقین کا اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ غلط گمان تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم جو عمرۂ حدیبیہ ادا کرنے کے لیے آپ کے ساتھ گئے ہیں وہ واپس مدینہ نہیں آ سکیں گے، مشرکین انھیں وہیں تباہ و برباد کر دیں گے اور مشرکین نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر گز اپنے دین کو مٹنے سے نہیں بچا سکے گا اور کفر کا کلمہ بلند ہو کر رہے گا۔ (قرطبی وغیرہ) ➌ { عَلَيْهِمْ دَآىِٕرَةُ السَّوْءِ:} اس جملے کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ کی آیت (۹۸) کی تفسیر۔ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہی ہے: {” أَيْ اَلظَّانِّيْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ وَالْمُتَرَبِّصِيْنَ لَكُمُ الدَّوَائِرَ، عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ“} ”(تاکہ ان منافقین و منافقات اور مشرکین و مشرکات کو عذاب دے) جو اللہ کے متعلق برا گمان کرنے والے اور تم پر زمانے کی گردشوں کا انتظار کرنے والے ہیں، بری گردش خود انھی پر آنے والی ہے۔“
← پچھلی آیت (5) پوری سورۃ اگلی آیت (7) →