بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الفتح — Surah Fath
آیت نمبر 15
کل آیات: 29
قرآن کریم الفتح آیت 15
آیت نمبر: 15 — سورۃ الفتح islamicurdubooks.com ↗
سَیَقُوۡلُ الۡمُخَلَّفُوۡنَ اِذَا انۡطَلَقۡتُمۡ اِلٰی مَغَانِمَ لِتَاۡخُذُوۡہَا ذَرُوۡنَا نَتَّبِعۡکُمۡ ۚ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّبَدِّلُوۡا کَلٰمَ اللّٰہِ ؕ قُلۡ لَّنۡ تَتَّبِعُوۡنَا کَذٰلِکُمۡ قَالَ اللّٰہُ مِنۡ قَبۡلُ ۚ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ بَلۡ تَحۡسُدُوۡنَنَا ؕ بَلۡ کَانُوۡا لَا یَفۡقَہُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۱۵﴾
جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں اِن سے صاف کہہ دینا کہ "تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے، اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے" یہ کہیں گے کہ "نہیں، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو" (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں
جب تم غنیمتیں لینے جانے لگو گے تو جھٹ سے یہ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ کہنے لگیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیجئے، وه چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو بدل دیں آپ کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی فرما چکا ہے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے، وه اس کا جواب دیں گے (نہیں نہیں) بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو، (اصل بات یہ ہے) کہ وه لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہیں
اب کہیں گے پیچھے بیٹھ رہنے والے جب تم غنیمتیں لینے چلو تو ہمیں بھی اپنے پیچھے آنے دو وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں تم فرماؤ ہرگز ہمارے ساتھ نہ آؤ اللہ نے پہلے سے یونہی فرمادیا تو اب کہیں گے بلکہ تم ہم سے جلتے ہو بلکہ وہ بات نہ سمجھتے تھے مگر تھوڑی
جب تم (جنگِ خیبر میں) غنیمتیں حاصل کرنے کیلئے چلوگے تو جو پیچھے چھوڑ دئیے گئے وہ ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اجازت دو کہ ہم آپ کے پیچھے آئیں وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی بات کو بدل دیں۔ آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ تم اب کبھی ہمارے پیچھے نہیں آسکتے! اللہ پہلے ہی ایسی بات کہہ چکا ہے اس پر وہ ضرور کہیں گے کہ بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو بلکہ یہ (کم عقل) بہت ہی کم بات سمجھتے ہیں۔
عنقریب پیچھے چھوڑ دیے جانے والے لوگ کہیں گے جب تم کچھ غنیمتوں کی طرف چلو گے، تا کہ انھیں لے لو ،ہمیں چھوڑو کہ ہم تمھارے ساتھ چلیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔ کہہ دے تم ہمارے ساتھ کبھی نہیں جاؤ گے، اسی طرح اللہ نے پہلے سے کہہ دیا ہے۔ تو وہ ضرور کہیں گے بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو۔ بلکہ وہ نہیں سمجھتے تھے مگر بہت تھوڑا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مال غنیمت کے طالب ٭٭

ارشاد الٰہی ہے کہ جن بدوی لوگوں نے حدیبیہ میں اللہ کے رسول اور صحابہ کا ساتھ نہ دیا وہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان صحابہ رضی اللہ عنہم کو خیبر کی فتح کے موقع پر مال غنیمت سمیٹنے کے لیے جاتے ہوئے دیکھیں گے تو آرزو کریں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے لو، مصیبت کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے راحت کو دیکھ کر شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ انہیں ہرگز ساتھ نہ لینا جب یہ جنگ سے جی چرائیں تو پھر غنیمت میں حصہ کیوں لیں؟ اللہ تعالیٰ نے خیبر کی غنیمتوں کا وعدہ اہل حدیبیہ سے کیا ہے نہ کہ ان سے جو مشکل وقت پر ساتھ نہ دیں اور آرام کے وقت مل جائیں ان کی چاہت ہے کہ کلام الٰہی کو بدل دیں۔ یعنی اللہ نے تو صرف حدیبیہ کی حاضری والوں سے وعدہ کیا تو یہ چاہتے ہیں کہ باوجود اپنی غیر حاضری کے اللہ کے اس وعدے میں مل جائیں تاکہ وہ بھی بدلا ہوا ثابت ہو جائے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:343/11] ‏‏‏‏ ابن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے یہ حکم الٰہی ہے «فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَاىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِيَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِيَ عَدُوًّا» [9-التوبة:83] ‏‏‏‏ یعنی ’ اے نبی! اگر تمہیں اللہ ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے اور وہ تم سے جہاد کے لیے نکلنے کی اجازت مانگیں تو تم ان سے کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہ نکلو اور میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے نہ لڑو ‘، تم وہی ہو کہ پہلی مرتبہ ہم سے پیچھے رہ جانے میں ہی خوش رہے بس اب ہمیشہ بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو لیکن اس قول میں نظر ہے اس لیے کہ یہ آیت سورۃ برات کی ہے جو غزوہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور غزوہ تبوک غزوہ حدیبیہ کے بہت بعد کا ہے۔

ابن جریج رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مراد اس سے ان منافقوں کا مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ ملا کر جہاد سے باز رکھنا ہے، فرماتا ہے کہ انہیں ان کی اس آرزو کا جواب دو کہ تم ہمارے ساتھ چلنا چاہو اس سے پہلے اللہ یہ وعدہ اہل حدیبیہ سے کر چکا ہے اس لیے تم ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اب وہ طعنہ دیں گے کہ اچھا ہمیں معلوم ہو گیا تم ہم سے جلتے ہو تم نہیں چاہتے کہ غنیمت کا حصہ تمہارے سوا کسی اور کو ملے، اللہ فرماتا ہے دراصل یہ ان کی ناسمجھی ہے اور اسی ایک پر کیا موقوف ہے یہ لوگ سراسر بےسمجھ ہیں۔

📖 احسن البیان

15۔ 1 اس میں غزوہ خیبر کا ذکر ہے جس کی فتح کی نوید اللہ تعالیٰ نے حدیبیہ میں دی تھی نیز اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ یہاں سے جتنا بھی مال غنیمت حاصل ہوگا وہ صرف حدیبیہ میں شریک ہونے والوں کا حصہ ہے چناچہ حدیبیہ سے واپسی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی مسلسل عہد شکنی کی وجہ سے خیبر پر چڑھائی کا پروگرام بنایا تو مذکورہ متخلفین نے بھی محض مال غنیمت کے حصول کے لیے ساتھ جانے کا ارادہ ظاہر کیا جسے منظور نہیں کیا گیا آیت میں مغانم سے مراد مغانم خیبر ہی ہیں۔ 15۔ 2 اللہ کے کلام سے مراد، اللہ کا خیبر کی غنیمت کو اہل حدیبیہ کے لئے خاص کرنے کا وعدہ ہے، منافقین اس میں شریک ہو کر اللہ کے کلام یعنی اس کے وعدے کو بدلنا چاہتے تھے۔ 15۔ 3 یہ نفی بمعنی نہی ہے یعنی تمہیں ہمارے ساتھ چلنے کی اجازت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی یہی ہے۔ 15۔ 4 یعنی یہ متخلفین کہیں گے کہ تم ہمیں حسد کی بنا پر ساتھ لے جانے سے گریز کر رہے ہو تاکہ مال غنیمت میں ہم تمہارے ساتھ شریک نہ ہوں۔ 15۔ 5 یعنی بات یہ نہیں ہے جو وہ سمجھ رہے ہیں، بلکہ یہ پابندی ان کے پیچھے رہنے کی پا داش میں ہے۔ لیکن اصل بات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 15) ➊ { سَيَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ …:} اللہ تعالیٰ نے بیعتِ رضوان میں شریک صحابہ پر اپنے بہت سے انعامات کے علاوہ، جن کا ذکر آیت (۱۸، ۱۹) میں آ رہا ہے، انھیں ایک بہت جلدی حاصل ہونے والی فتح کا وعدہ بھی فرمایا جس میں انھیں بہت سی غنیمتیں حاصل ہوں گی۔ مقصد ان کی اس دل شکنی کا ازالہ تھا جو حدیبیہ کے موقع پر ہوئی، اس کے علاوہ اس اطاعت، وفا داری اور جاں فروشی کا انعام دینا بھی تھا جس کا مظاہرہ انھوں نے اس سارے غزوہ کے دوران کیا۔ ان غنیمتوں سے مراد خیبر ہے جس کا فتح کرنا یہودیوں کی مسلسل شرارتوں اور عہد شکنیوں کی وجہ سے نہایت ضروری تھا، مگر قریش کی حمایت کی وجہ سے اس میں مشکلات در پیش تھی۔ اب قریش کی طرف سے بے فکری ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر چڑھائی کا ارادہ فرمایا۔ اس مہم میں مسلمانوں کی فتح اور بے شمار غنیمتوں کا حصول سب کو صاف نظر آ رہا تھا اور ایسے ہی ہوا کہ صلح حدیبیہ کے تین ماہ بعد ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر چڑھائی کی اور بڑی آسانی سے اسے فتح فرما لیا، بلکہ خیبر کے اردگرد کی یہودیوں کی بہت سی بستیاں بھی کسی خاص مزاحمت کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ آ گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی آگاہ فرما دیا کہ جب تم خیبر کی طرف غنیمتیں حاصل کرنے کے لیے روانہ ہو گے تو یہ پیچھے رہنے والے کہیں گے، ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دو۔ ➋ { يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ان غنیمتوں کا وعدہ اس درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں سے کیا تھا اور یہ چاہتے ہیں کہ وہ غنیمتیں ان لوگوں کو بھی مل جائیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانے کے لیے گھر ہی سے نہیں نکل سکے، بیعت انھوں نے خاک کرنا تھی۔ اب ان کی بات مان لی جائے تو اللہ کی بات تو اپنی جگہ نہ رہی۔ ➌ { قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا:} آپ ان سے کہیے، تم ہمارے ساتھ ہر گز نہیں جاؤ گے، کیونکہ یہ ان لوگوں کا حق ہے جنھوں نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا جب موت آنکھوں کے سامنے نظر آ رہی تھی۔ ➍ {كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ پہلے ہی کر دیا ہے کہ فتح کے ثمرات کے حق دار بھی صرف وہ ہیں جنھوں نے اس وقت ساتھ دیا جب جان و مال کی بازی لگانے کا وقت تھا۔ ➎ { فَسَيَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا:} فرمایا، یہ لوگ ساتھ جانے کی اجازت نہ ملنے پر کہیں گے، بلکہ تم لوگ ہم پر حسد کرتے ہو کہ ان غنیمتوں کے حصول سے ہماری مالی حالت اچھی نہ ہو جائے۔ ➏ { بَلْ كَانُوْا لَا يَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا:} فرمایا، مسلمانوں کو ان پر کوئی حسد نہیں اور نہ ان کی پاک فطرت میں اس کی گنجائش ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کو خواہ مخواہ مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، اپنے قصور کی سمجھ نہ انھیں پہلے آئی نہ اب تک اسے سمجھ رہے ہیں ({كَانُوْا} میں استمرار ہے) کہ جب اس سے پہلے وہ کوئی جانی و مالی خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں ہوئے تو اب آسانی سے ہاتھ آنے والے مالِ غنیمت میں انھیں کیسے حصے دار بنایا جا سکتا ہے اور جب پہلے ان کے اموال اور گھر والوں نے انھیں گھر سے نکلنے سے روکے رکھا تو اب وہ انھیں نکلنے سے کیوں نہیں روک رہے؟ بہت کم سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بالکل نہیں سمجھتے۔ قرآن مجید اور کلامِ عرب میں قلیل کا لفظ مطلق نفی کے لیے عام استعمال ہوا ہے۔
← پچھلی آیت (14) پوری سورۃ اگلی آیت (16) →