بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الذاريات
سورۃ الذاريات — 60 آیات — صفحہ 1 از 2
قرآن کریم Surah 51
وَالذّٰرِیٰتِ ذَرۡوًا ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
قسم ہے اُن ہواؤں کی جو گرد اڑانے والی ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
قسم ہے بکھیرنے والیوں کی اڑا کر
احمد رضا خان بریلوی
قسم ان کی جو بکھیر کر اڑانے والیاں
علامہ محمد حسین نجفی
قَسم ہے ان (ہواؤں) کی جو گرد و غبار اڑاتی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
قسم ہے ان (ہواؤں) کی جو اڑا کر بکھیرنے والی ہیں!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏‏‏‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏‏‏‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ ۱؎ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏‏‏‏

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔ «وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏‏‏‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً» یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏‏‏‏

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ’ تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے ‘۔ پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏‏‏‏

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں ‘۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو ‘، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ’بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں ‘ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں ‘ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ’ اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو ‘۔ پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ’ یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
قسم ہے بکھیرنے والیوں کی اڑا کر (1)۔
(آیت 1) ➊ { وَ الذّٰرِيٰتِ ذَرْوًا:} قسم کا مقصد کسی بات کی تاکید اور اسے سچا ثابت کرنا ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی قسمیں دراصل اپنے جواب قسم کی دلیل اور شاہد ہیں جنھیں قسم کی صورت میں لایا گیا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے حق ہونے کی دلیل کے طور پر چار قسمیں کھائی ہیں۔ ➋ {وَ الذّٰرِيٰتِ ذَرْوًا:الذّٰرِيٰتِ”ذَرَا يَذْرُوْ ذَرْوًا “} سے اسم فاعل {”ذَارِيَةٌ“} کی جمع ہے۔ اس کا معنی ”ہوا کا کسی چیز کو اڑانا اور بکھیرنا“ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَاَصْبَحَ هَشِيْمًا تَذْرُوْهُ الرِّيٰحُ» ‏‏‏‏ [ الکہف: ۴۵ ] ”پھر وہ چورا بن گئی، جسے ہوائیں اڑائے پھرتی ہیں۔“ {” ذَرْوًا “} مفعول مطلق ہے جو {” الذّٰرِيٰتِ “} کی تاکید کے لیے لایا گیا ہے۔ {” الذّٰرِيٰتِ “} کا لفظی معنی ہے اڑانے والیاں۔ اب ان اڑانے والیوں سے مراد کیا ہے؟ مفسرین کا اتفاق ہے کہ ان سے مراد ہوائیں ہیں جو تیز چلتی ہیں تو گرد و غبار اور خس و خاشاک کو اڑا کر بکھیرتی چلی جاتی ہیں۔
فَالۡحٰمِلٰتِ وِقۡرًا ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھانے والی ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اٹھانے والیاں بوجھ کو
احمد رضا خان بریلوی
پھر بوجھ اٹھانے والیاں
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ان (بادلوں) کی جو پانی کا بوجھ اٹھانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ایک بڑے بوجھ (بادل) کو اٹھانے والی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏‏‏‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏‏‏‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ ۱؎ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏‏‏‏

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔ «وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏‏‏‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً» یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏‏‏‏

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ’ تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے ‘۔ پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏‏‏‏

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں ‘۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو ‘، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ’بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں ‘ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں ‘ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ’ اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو ‘۔ پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ’ یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
2۔ 1 وقر، ہر وہ بوجھ جسے کوئی جاندار لے کر چلے، حاملات، وہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو اٹھائے ہوئے ہیں یا پھر وہ بادل ہیں جو پانی کا بوجھ اٹھائے ہوتے ہیں جیسے چوپائے، حمل کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔
(آیت 2){ فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا:وِقْرًا “} بوجھ، اس پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، بھاری بوجھ۔ یہ بھی ہواؤں ہی کی صفت ہے کہ پھر وہ ہوائیں سورج کی حرارت کے ساتھ سمندر سے اٹھنے والے آبی بخارات سے بننے والے کروڑوں اربوں ٹن وزنی بھاری بادلوں کو اٹھاتی ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ عربی زبان میں عام طور پر جب صفات کا عطف فاء کے ساتھ ہو تو ایک تو وہ سب ایک ہی موصوف کی صفتیں ہوتی ہیں، دوسرا ان میں ترتیب ہوتی ہے، جیسا کہ سورۂ عادیات میں ہے: «‏‏‏‏وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا (1) فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا (2) فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًا (3) فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا (4) فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا» [ العادیات: ۱ تا ۵ ] ”قسم ہے ان (گھوڑوں) کی جو پیٹ اور سینے سے آواز نکالتے ہوئے دوڑنے والے ہیں! پھر جو سم مار کر چنگاریاں نکالنے والے ہیں! پھر جو صبح کے وقت حملہ کرنے والے ہیں! پھر اس کے ساتھ غبار اڑاتے ہیں۔ پھر وہ اس کے ساتھ بڑی جماعت کے درمیان جا گھستے ہیں۔ “ یہاں فاء کے ساتھ عطف سے ظاہر ہے کہ یہ اور اس کے بعد آیات میں مذکور سب صفات ہواؤں ہی کی ہیں۔
فَالۡجٰرِیٰتِ یُسۡرًا ۙ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر سبک رفتاری کے ساتھ چلنے والی ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر چلنے والیاں نرمی سے
احمد رضا خان بریلوی
پھر نرم چلنے والیاں
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ان (کشتیوں) کی جو دھیمی رفتار سے چلنے والی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ھر آسانی سے چلنے والی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏‏‏‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏‏‏‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ ۱؎ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏‏‏‏

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔ «وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏‏‏‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً» یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏‏‏‏

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ’ تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے ‘۔ پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏‏‏‏

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں ‘۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو ‘، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ’بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں ‘ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں ‘ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ’ اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو ‘۔ پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ’ یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
3۔ 1 جاریات، پانی میں چلنے والی کشتیاں، یُسْرا آسانی سے۔
(آیت 3){ فَالْجٰرِيٰتِ يُسْرًا:} یہ بھی ان ہواؤں ہی کی صفت ہے کہ پھر وہ اتنے بے حساب وزنی بادلوں کو اٹھا کر آسانی کے ساتھ چلتی ہیں، انھیں اس بوجھ کی وجہ سے چلنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آتی۔
فَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا ۙ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر ایک بڑے کام (بارش) کی تقسیم کرنے والی ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر کام کو تقسیم کرنے والیاں
احمد رضا خان بریلوی
پھر حکم سے بانٹنے والیاں
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ان (فرشتوں کی) جو معاملہ کے تقسیم کرنے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ایک بڑے کام (بارش) کو تقسیم کرنے والی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏‏‏‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏‏‏‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ ۱؎ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏‏‏‏

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔ «وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏‏‏‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً» یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏‏‏‏

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ’ تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے ‘۔ پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏‏‏‏

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں ‘۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو ‘، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ’بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں ‘ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں ‘ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ’ اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو ‘۔ پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ’ یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
4۔ 1 مقسمات، اس سے مراد فرشتے ہیں جو کام کو تقسیم کرلیتے ہیں، کوئی رحمت کا فرشتہ ہے تو کوئی عذاب کا، کوئی پانی کا ہے تو کوئی سختی کا، کوئی ہواؤں کا فرشتہ ہے تو کوئی موت اور حوادث کا۔ بعض نے ان سب سے صرف ہوائیں مراد لی ہیں اور ان سب کو ہواؤں کی صفت بتایا ہے۔ جیسے کہ فاضل مترجم نے بھی اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ لیکن ہم نے امام ابن کثیر اور امام شوکانی کی تفسیر کے مطابق تشریح کی ہے۔ قسم سے مقصد مقسم علیہ کی سچائی کو بیان کرنا ہوتا ہے یا بعض دفعہ صرف تاکید مقصود ہوتی ہے اور بعض دفعہ مقسم علیہ کو دلیل کے طور پر پیش کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یہاں قسم کی یہی تیسری قسم ہے۔ آگے جواب قسم یہ بیان کیا گیا ہے کہ تمک سے جو وعدے کیے جاتے ہیں یقیناً وہ سچے ہیں اور قیامت برپا ہو کر رہے گی جس میں انصاف کیا جائے گا۔ یہ ہواؤں کا چلنا، بادلوں کا پانی کو اٹھانا، سمندروں میں کشتیوں کا چلنا اور فرشتوں کا مختلف امور کو سر انجام دینا، قیامت کے وقوع پر دلیل ہے، کیونکہ جو ذات یہ سارے کام کرتی ہے جو بظاہر نہایت مشکل اور اسباب عادیہ کے خلاف ہیں، وہی ذات قیامت والے دن تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ بھی کرسکتی ہے۔
(آیت 4) {فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا:} یہ بھی وہ ہوائیں ہی ہیں جو بھاری بادلوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے انھیں اللہ کے حکم سے زمین کے مختلف حصوں میں لے جا کر ان کے حصے کی بارش برساتی ہیں، جس سے مردہ زمین زندہ ہوتی ہے اور ہر علاقے کے لوگوں میں ان کا رزق تقسیم ہوتا ہے۔
اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۙ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حق یہ ہے کہ جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جا رہا ہے وہ سچی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقین مانو کہ تم سے جو وعدے کیے جاتے ہیں (سب) سچے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جس بات کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے ضروری سچ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک تم سے جو وعدہ کیا گیا ہے وہ سچا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہ بلاشبہ جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یقینا سچا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏‏‏‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏‏‏‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ ۱؎ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏‏‏‏

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔ «وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏‏‏‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً» یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏‏‏‏

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ’ تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے ‘۔ پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏‏‏‏

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں ‘۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو ‘، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ’بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں ‘ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں ‘ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ’ اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو ‘۔ پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ’ یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6،5) ➊ {اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ …:} یہاں {” اِنَّمَا “} اکٹھا لفظ نہیں جو کلمہ حصر ہے اور جس کا معنی ہے ”اس کے سوا نہیں“ بلکہ اس میں {”إِنَّ“} حرف تاکید الگ ہے اور {”مَا “} الگ ہے جو اسم موصول ہے اور اس کا معنی ہے ”وہ جو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے زمانے میں رسم الخط پوری طرح ضبط نہیں ہوا تھا، انھوں نے ان دونوں کو اکٹھا لکھ دیا، تو بعد میں امت نے قرآن مجید کی حفاظت کا اتنا زبردست اہتمام کیا کہ صحابہ نے جو لفظ جس طرح لکھا تھا قرآن مجید کے رسم الخط میں اسے اسی طرح باقی رکھا گیا۔ ➋ یعنی ان چاروں صفات کی حامل ہوائیں شاہد ہیں کہ تم سے دوبارہ زندہ کیے جانے اور قبروں سے نکل کر اللہ کے سامنے پیش ہونے کا جو وعدہ کیا جاتا ہے وہ یقینا سچا ہے اور ہر عمل کی جزا بلاشبہ یقینا واقع ہونے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان ہواؤں کی مُردوں کے زندہ کرنے پر دلالت کو ایک اور آیت میں خوب واضح فرمایا ہے، فرمایا: «وَ هُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الأعراف: ۵۷ ] ”اور وہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت سے پہلے بھیجتا ہے، اس حال میں کہ خوش خبری دینے والی ہیں، یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادل اٹھاتی ہیں تو ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف ہانکتے ہیں، پھر اس سے پانی اتارتے ہیں، پھر اس کے ساتھ ہر قسم کے کئی پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مُردوں کو نکالیں گے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ قرآن مجید نے بارش کے ساتھ مردہ زمین کے زندہ کرنے کو قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنے کی دلیل کے طور پر بار بار بیان فرمایا ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ فاطر (۹) اور سورۂ روم (۴۸ تا ۵۰)۔
وَّ اِنَّ الدِّیۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بیشک انصاف ہونے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک انصاف ضرور ہونا
علامہ محمد حسین نجفی
اور بےشک جزا وسزا ضرور واقع ہو نے والی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ جزا یقینا واقع ہونے والی ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏‏‏‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏‏‏‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ ۱؎ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏‏‏‏

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔ «وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏‏‏‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً» یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏‏‏‏

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ’ تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے ‘۔ پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏‏‏‏

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں ‘۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو ‘، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ’بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں ‘ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں ‘ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ’ اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو ‘۔ پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ’ یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الۡحُبُکِ ۙ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
قسم ہے متفرق شکلوں والے آسمان کی
مولانا محمد جوناگڑھی
قسم ہے راہوں والے آسمان کی
احمد رضا خان بریلوی
آرائش والے آسمان کی قسم
علامہ محمد حسین نجفی
اور قَسم ہے راستوں والے آسمان کی۔
عبدالسلام بن محمد
قسم ہے آسمان کی جو راستوں والا ہے!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏‏‏‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏‏‏‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ ۱؎ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏‏‏‏

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔ «وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏‏‏‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً» یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏‏‏‏

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ’ تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے ‘۔ پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏‏‏‏

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں ‘۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو ‘، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ’بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں ‘ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں ‘ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ’ اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو ‘۔ پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ’ یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
7۔ 1 دوسرا ترجمہ، حسن جمال اور زینت و رونق والا کیا گیا ہے چاند، سورج ستارے و سیارے، روشن ستارے، اس کی بلندی اور وسعت، یہ سب چیزیں آسمان کی رونق وزینت اور خوب صورتی کا باعث ہیں
(آیت 7) {وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِ: ”حَبَكَ يَحْبُكُ حَبْكًا“} (ن، ض) کسی چیز کو باندھنا، مضبوط بنانا، جولاہے کا کپڑے کو مضبوطی اور خوبصورتی کے ساتھ بننا۔ {” الْحُبُكِ”حَبِيْكَةٌ“} کی جمع ہے۔ {”حُبُكُ الرَّمْلِ وَالْمَاءِ وَالشَّعْرِ“} ٹھہرے ہوئے پانی یا ریت پر ہوا سے جو لہریں سی بن جاتی ہیں، گھونگھریالے بالوں کی لہریں۔ {”حُبُكُ السَّمَاءِ“} آسمان میں ستاروں کے راستے۔ (قاموس)
اِنَّکُمۡ لَفِیۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ ۙ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(آخرت کے بارے میں) تمہاری بات ایک دوسرے سے مختلف ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً تم مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تم مختلف بات میں ہو
علامہ محمد حسین نجفی
تم مختلف (بےجوڑ) باتوں میں پڑے ہوئے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
کہ بلا شبہ تم یقینا ایک اختلاف والی بات میں پڑے ہوئے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏‏‏‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏‏‏‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ ۱؎ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏‏‏‏

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔ «وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏‏‏‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً» یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏‏‏‏

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ’ تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے ‘۔ پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏‏‏‏

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں ‘۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو ‘، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ’بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں ‘ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں ‘ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ’ اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو ‘۔ پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ’ یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
8۔ 1 یعنی اے اہل مکہ! تمہارا کسی بات میں آپس میں اتفاق نہیں ہے۔ ہمارے پیغمبر کو تم میں سے کوئی جادو گر، کوئی شاعر، کوئی کاہن اور کوئی جھوٹا کہتا ہے۔ اسی طرح کوئی قیامت کی بالکل نفی کرتا ہے، کوئی شک کا اظہار، علاوہ ازیں ایک طرف اللہ کے خالق اور رازق ہونے کا اعتراف کرتے ہو، دوسری طرف دوسروں کو بھی معبود بنا رکھا ہے۔
(آیت 8){ اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ:} یعنی یہ آسمان جو نہایت مضبوط و مستحکم اور بے حد خوبصورت ہے، جس میں ستاروں کے راستے ہیں اور جو بادلوں کی لہروں سے آراستہ ہے، شاہد ہے کہ تم ایسی بات میں پڑے ہوئے ہو جس میں تمھارا بہت اختلاف ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اس میں آسمان کی شہادت کیسے ہے اور یہ کہنے سے حاصل کیا ہے کہ تم ایسی بات میں پڑے ہوئے ہو جس میں بہت اختلاف ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اتنا مستحکم و مضبوط، بلند و بالا، خوبصورت اور مزین آسمان شاہد ہے کہ اس کے بنانے والے کے لیے قیامت برپا کرنا اور تمھیں دوبارہ زندہ کرنا کچھ مشکل نہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ بَنٰىهَا» ‏‏‏‏ [ النازعات: ۲۷ ] ”کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان؟ اس نے اسے بنایا۔ “ رہا یہ سوال کہ جواب قسم {” اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ “} کی مناسبت قسم کے ساتھ کیا ہے؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ دراصل یہاں بات مختصر کی گئی ہے، تفصیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مضبوط و مستحکم آسمان کی قسم کھا کر فرمایا کہ اے گروہ کفار! اس آسمان کی قسم ہے کہ قیامت کے متعلق اللہ کا قول حق اور تمھارا قول باطل ہے، کیونکہ تم ایسے قول میں پڑے ہوئے ہو جو باہم مختلف اور متناقض ہے، جب کہ حق میں اختلاف نہیں ہوتا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا» [ النساء: ۸۲ ] ”اور اگر وہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔“ چنانچہ تم میں سے کوئی تو کہتا ہے کہ یہ دنیا ایسے ہی چلی آئی ہے، کچھ لوگ مرتے ہیں اور دوسرے پیدا ہوتے ہیں، نہ آج تک کوئی دوبارہ آیا نہ کوئی دوبارہ زندگی ہے۔ کوئی تناسخ کا قائل ہے اور کہتا ہے کہ اچھے اور برے اعمال کا بدلا تو لازم ہے مگر اس کے لیے کوئی دن مقرر نہیں، بلکہ انسان دنیا میں بار بار اچھی یا بری مخلوق کی صورت میں جنم لیتا رہتا ہے۔ کوئی آخرت کو تو مانتا ہے مگر کچھ ہستیوں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ ایسی زور آور ہیں کہ اپنی شفاعت کے ساتھ اس دن اپنے نام لیواؤں کو زبردستی چھڑا لیں گی۔ یہ اختلاف دلیل ہے کہ قیامت کے متعلق تمھارا قول باطل ہے۔ قیامت کے متعلق کفار کے اختلاف کا ذکر سورۂ نبا کے شروع میں بھی فرمایا: «عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ (1) عَنِ النَّبَاِ الْعَظِيْمِ (2) الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْتَلِفُوْنَ» ‏‏‏‏ [ النبا: ا تا ۳ ] ”کس چیز کے بارے میں وہ آپس میں سوال کر رہے ہیں؟ (کیا) اس بڑی خبر کے بارے میں؟ وہ کہ جس میں وہ اختلاف کرنے والے ہیں۔“
یُّؤۡفَکُ عَنۡہُ مَنۡ اُفِکَ ﴿ؕ۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس سے وہی برگشتہ ہوتا ہے جو حق سے پھرا ہوا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس سے وہی باز رکھا جاتا ہے جو پھیر دیا گیا ہو
احمد رضا خان بریلوی
اس قرآن سے وہی اوندھا کیا جاتا ہے جس کی قسمت ہی میں اوندھایا جانا ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اس (دین) سے پھرتا وہی ہے جو (حق سے) پھرا ہوا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس (قیامت) سے وہی بہکایا جاتا ہے جو (پہلے سے) بہکایا گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏‏‏‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏‏‏‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ ۱؎ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏‏‏‏

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔ «وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏‏‏‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً» یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏‏‏‏

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ’ تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے ‘۔ پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏‏‏‏

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں ‘۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو ‘، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ’بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں ‘ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں ‘ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ’ اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو ‘۔ پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ’ یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
9۔ 1 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے، یا حق سے یعنی بعث و توحید سے یا مطلب ہے مذکورہ اختلاف سے وہ شخص پھیر دیا گیا جسے اللہ نے اپنی توفیق سے پھیر دیا، پہلے مفہوم میں ذم ہے اور دوسرے میں مدح۔
(آیت 9) {یُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَ:عَنْهُ “} کی ضمیر کا مرجع یا تو {” اِنَّ الدِّيْنَ لَوَاقِعٌ “} میں لفظ {” الدِّيْنَ “} ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ اس (قیامت) سے وہی بہکایا جاتا ہے جو (پہلے ہی) بہکایا گیا ہو، کسی صحیح الدماغ آدمی کو اس سے پھیرا اور بہکایا نہیں جا سکتا۔ یا {” عَنْهُ “} کی ضمیر کا مرجع {” قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ “} ہے، اس صورت میں {”عَنْ“} تعلیل کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہو گا کہ یقینا تم ایک اختلاف والی بات میں پڑے ہوئے ہو جس کی وجہ سے وہی آدمی بہکایا جاتا ہے جو (پہلے ہی) بہکایا گیا ہو، ایسی مختلف باتوں کی وجہ سے کسی صحیح دماغ والے کو بہکایا نہیں جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ {”عَنْ“} کے معانی میں سے تعلیل مسلّم معنی ہے، اس معنی کی مثال یہ آیت ہے: «وَ مَا نَحْنُ بِتَارِكِيْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ» [ ھود: ۵۳ ] ”اور ہم اپنے معبودوں کو تیرے کہنے کی وجہ سے ہر گز چھوڑنے والے نہیں۔“
قُتِلَ الۡخَرّٰصُوۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مارے گئے قیاس و گمان سے حکم لگانے والے
مولانا محمد جوناگڑھی
بے سند باتیں کرنے والے غارت کر دیئے گئے
احمد رضا خان بریلوی
مارے جایں دل سے تراشنے والے
علامہ محمد حسین نجفی
غارت ہوں اٹکل پچو باتیں بنانے والے۔
عبدالسلام بن محمد
اٹکل لگا نے والے مارے گئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏‏‏‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏‏‏‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ ۱؎ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏‏‏‏

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔ «وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏‏‏‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً» یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏‏‏‏

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ’ تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے ‘۔ پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏‏‏‏

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں ‘۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو ‘، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ’بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں ‘ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں ‘ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ’ اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو ‘۔ پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ’ یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 10){ قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَ: ”خَرَصَ يَخْرُصُ خَرْصًا“} (ن) اندازہ لگانا، اٹکل لگانا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ» [ الزخرف: ۲۰ ] ”وہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔“ {”خَرَّاصٌ“} مبالغے کا صیغہ ہے، بہت اٹکل لگانے والا۔ کفا رکے پاس آسمانی ہدایت کی روشنی نہیں اس لیے وہ علم اور یقین سے محروم ہیں، ان کا سارا دار و مدار ظن و تخمین اور وہم و گمان پر ہے۔ چنانچہ شرک کی بنیاد سراسر گمان اور اندازوں پر ہے (دیکھیے نجم: ۲۳، ۲۸) اور قیامت کا انکار بھی محض خرص و تخمین (اٹکل اور اندازوں) پر ہے۔ ظاہر ہے اٹکل اور اندازوں کا انجام ہلاکت کے سوا کچھ نہیں، اس لیے فرمایا، اٹکل لگانے والے مارے گئے۔
الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ غَمۡرَۃٍ سَاہُوۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو جہالت میں غرق اور غفلت میں مدہوش ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو غفلت میں ہیں اور بھولے ہوئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جو نشے میں بھولے ہوئے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جو غفلت کے عالم میں مدہوش ہیں (بھولے پڑے ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جو خود بڑی غفلت میں بھولے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏‏‏‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏‏‏‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ ۱؎ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏‏‏‏

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔ «وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏‏‏‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً» یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏‏‏‏

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ’ تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے ‘۔ پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏‏‏‏

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں ‘۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو ‘، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ’بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں ‘ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں ‘ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ’ اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو ‘۔ پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ’ یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 11) {الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَ:”غَمَرَ يَغْمُرُ غَمْرًا “} (ن) {” اَلْمَاءُ “} کا معنی ”پانی کا کسی چیز کو ڈھانپ لینا“ ہے، اس لیے گہرے پانی کو {”غَمْرَةٌ“} کہتے ہیں۔ سختی اور موت کو اور جہالت و غفلت کو بھی {”غَمْرَةٌ“} کہتے ہیں، کیونکہ وہ بھی آدمی کی عقل کو ڈھانپ لیتی ہیں۔ {” غَمْرَةٍ “} پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی غفلت“ کیا گیا ہے۔ {” سَاهُوْنَ”سَهَا يَسْهُوْ سَهْوًا“} (ن) سے اسم فاعل کی جمع ہے، بھولے ہوئے۔ یعنی انھوں نے آخرت کا انکار محض خیال اور اندازے کی بنا پر کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس کی تیاری سے بہت بڑی غفلت میں مبتلا ہو کر اپنے خوفناک انجام کو بھولے ہوئے ہیں۔
یَسۡـَٔلُوۡنَ اَیَّانَ یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پوچھتے ہیں آخر وہ روز جزاء کب آئے گا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پوچھتے ہیں کہ یوم جزا کب ہوگا؟
احمد رضا خان بریلوی
پوچھتے ہیں انصاف کا دن کب ہوگا
علامہ محمد حسین نجفی
وہ پوچھتے ہیں کہ جزا و سزا کا دن کب آئے گا؟
عبدالسلام بن محمد
پوچھتے ہیں جزا کا دن کب ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏‏‏‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏‏‏‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ ۱؎ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏‏‏‏

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔ «وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏‏‏‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً» یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏‏‏‏

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ’ تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے ‘۔ پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏‏‏‏

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں ‘۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو ‘، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ’بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں ‘ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں ‘ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ’ اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو ‘۔ پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ’ یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 12) {يَسْـَٔلُوْنَ اَيَّانَ يَوْمُ الدِّيْنِ:} یعنی جب انھیں قیامت کے انکار کی کوئی معقول دلیل نہیں ملتی تو وہ کہتے ہیں، اچھا یہ بتاؤ جزا کا دن کب ہے؟ ظاہر ہے ان کا یہ سوال محض انکار اور استہزا کے لیے ہے، کیونکہ تاریخ کا تعین کوئی دلیل نہیں جس سے کوئی منکر اقرار پر آمادہ ہو جائے، بلکہ اس کے بعد ان کا اگلا سوال یہ ہو گا کہ اس کے آنے سے پہلے آخر ہم یہ یقین کیسے کر لیں کہ اس دن وہ واقعی آ جائے گی؟ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کا وقت نہیں بتایا۔
یَوۡمَ ہُمۡ عَلَی النَّارِ یُفۡتَنُوۡنَ ﴿۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ اُس روز آئے گا جب یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں یہ وه دن ہے کہ یہ آگ پر تپائے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اس دن ہوگا جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن یہ لوگ آگ میں تپائے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏‏‏‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏‏‏‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ ۱؎ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏‏‏‏

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔ «وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏‏‏‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً» یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏‏‏‏

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ’ تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے ‘۔ پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏‏‏‏

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں ‘۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو ‘، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ’بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں ‘ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں ‘ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ’ اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو ‘۔ پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ’ یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
13۔ 1 یفتنون کے معنی ہیں یحرقون ویعذبون جس طرح سونے کو آگ میں ڈال کر پرکھا جاتا ہے، اسی طرح یہ ڈالے جائیں گے۔
(آیت 13) {يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُوْنَ: ”فَتَنَ يَفْتُنُ“} (ن،ض) کا معنی آزمانا بھی ہے اور جلانا بھی۔ کھرے یا کھوٹے کی پہچان کے لیے سونے کو آگ میں پگھلایا جائے تو کہتے ہیں: {”فَتَنْتُ الذَّهَبَ۔“} فرمایا، وہ روزِ جزا اس دن ہو گا جب انھیں آگ پر رکھ کر تپایا اور جلایا جائے گا۔
ذُوۡقُوۡا فِتۡنَتَکُمۡ ؕ ہٰذَا الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اِن سے کہا جائے گا) اب چکھو مزا اپنے فتنے کا یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اپنی فتنہ پردازی کا مزه چکھو، یہی ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور فرمایا جائے گا چکھو اپنا تپنا، یہ ہے وہ جس کی تمہیں جلدی تھی
علامہ محمد حسین نجفی
اور) ان سے کہا جائے گا کہ اپنے فتنہ کا مزا چکھو یہی وہ عذاب ہے جس کی تم جلدی کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اپنے جلنے کا مزہ چکھو، یہی ہے جسے تم جلدی مانگتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏‏‏‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏‏‏‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ ۱؎ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏‏‏‏

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔ «وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏‏‏‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً» یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏‏‏‏

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ’ تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے ‘۔ پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏‏‏‏

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں ‘۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو ‘، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ’بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں ‘ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏‏‏‏“ پھر فرمایا ’ جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں ‘ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ’ اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو ‘۔ پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ’ یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
14۔ 1 فِتْنَۃ بمعنی عذاب یا آگ میں جلنا۔
(آیت 14) {ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ …:} یہ بات انھیں ذلیل کرنے کے لیے بطور طنز کہی جائے گی۔
اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۙ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
البتہ متقی لوگ اُس روز باغوں اور چشموں میں ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک تقویٰ والے لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک پرہیزگار باغوں اور چشموں میں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک پرہیزگار لوگ بہشتوں اور باغوں میں ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حسن کارکردگی کے انعامات ٭٭

پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے دن جنتوں میں اور نہروں میں ہوں گے بخلاف ان بدکرداروں کے جو عذاب و سزا، طوق و زنجیر، سختی اور مار پیٹ میں ہوں گے۔ جو فرائض الٰہی ان کے پاس آئے تھے یہ ان کے عامل تھے اور ان سے پہلے بھی وہ اخلاص سے کام کرنے والے تھے۔ لیکن اس تفسیر میں ذرا تامل ہے دو وجہ سے اول تو یہ کہ یہ تفسیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی کہی جاتی ہے لیکن سند صحیح سے ان تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کی یہ سند بالکل ضعیف ہے۔ دوسرے یہ کہ «اٰخِذِیْنَ» کا لفظ حال ہے، اگلے جملے سے تو یہ مطلب ہوا کہ متقی لوگ جنت میں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں حاصل کر رہے ہوں گے اس سے پہلے وہ بھلائی کے کام کرنے والے تھے یعنی دنیا میں جیسے اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے اور آیتوں میں فرمایا «كُلُوا وَاشْرَ‌بُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:24] ‏‏‏‏ یعنی ’ دار دنیا میں تم نے جو نیکیاں کی تھیں ان کے بدلے اب تم یہاں شوق سے پاکیزہ و پسندیدہ کھاتے پیتے رہو ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 15){ اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍ:} مکذبین کے بعد متقین کا ذکر فرمایا۔ اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حجر کی آیت (۴۵) کی تفسیر۔ آیت کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ جنتوں میں داخلے کا سبب تقویٰ ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا» ‏‏‏‏ [ مریم: ۶۳ ] ”یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے بناتے ہیں جو بہت بچنے والا ہو۔“
اٰخِذِیۡنَ مَاۤ اٰتٰہُمۡ رَبُّہُمۡ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِکَ مُحۡسِنِیۡنَ ﴿ؕ۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو کچھ اُن کا رب انہیں دے گا اسے خوشی خوشی لے رہے ہوں گے وہ اُس دن کے آنے سے پہلے نیکو کار تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے رب نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے اسے لے رہے ہوں گے وه تو اس سے پہلے ہی نیکوکار تھے
احمد رضا خان بریلوی
اپنے رب کی عطائیں لیتے ہوئے، بیشک وہ اس سے پہلے نیکو کار تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کا پروردگار جو کچھ انہیں عطا کرے گا وہلے رہے ہوں گے بےشک وہ اس (دن) سے پہلے ہی (دنیا میں) نیکوکار تھے۔
عبدالسلام بن محمد
لینے والے ہوں گے جو ان کا رب انھیں دے گا، یقینا وہ اس سے پہلے نیکی کرنے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حسن کارکردگی کے انعامات ٭٭

پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے دن جنتوں میں اور نہروں میں ہوں گے بخلاف ان بدکرداروں کے جو عذاب و سزا، طوق و زنجیر، سختی اور مار پیٹ میں ہوں گے۔ جو فرائض الٰہی ان کے پاس آئے تھے یہ ان کے عامل تھے اور ان سے پہلے بھی وہ اخلاص سے کام کرنے والے تھے۔ لیکن اس تفسیر میں ذرا تامل ہے دو وجہ سے اول تو یہ کہ یہ تفسیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی کہی جاتی ہے لیکن سند صحیح سے ان تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کی یہ سند بالکل ضعیف ہے۔ دوسرے یہ کہ «اٰخِذِیْنَ» کا لفظ حال ہے، اگلے جملے سے تو یہ مطلب ہوا کہ متقی لوگ جنت میں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں حاصل کر رہے ہوں گے اس سے پہلے وہ بھلائی کے کام کرنے والے تھے یعنی دنیا میں جیسے اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے اور آیتوں میں فرمایا «كُلُوا وَاشْرَ‌بُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» ۱؎ [69-الحاقة:24] ‏‏‏‏ یعنی ’ دار دنیا میں تم نے جو نیکیاں کی تھیں ان کے بدلے اب تم یہاں شوق سے پاکیزہ و پسندیدہ کھاتے پیتے رہو ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 16) ➊ {اٰخِذِيْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ:} اس کے لفظی معنی اگرچہ یہی ہیں کہ ”وہ لینے والے ہوں گے جو ان کا رب انھیں دے گا“ مگر موقع و محل کی مناسبت اور {” اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ “} کے لفظ کے تقاضے سے ظاہر ہے کہ یہاں صرف لینا ہی مراد نہیں بلکہ مراد ان کے رب کا انھیں بے حساب دینا اور ان کا اس سے جی بھر کر خوشی خوشی لینا ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ يَقُوْلُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَيَقُوْلُوْنَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِيْ يَدَيْكَ، فَيَقُوْلُ هَلْ رَضِيْتُمْ؟ فَيَقُوْلُوْنَ وَ مَا لَنَا لاَ نَرْضٰی يَا رَبِّ! وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِّنْ خَلْقِكَ؟ فَيَقُوْلُ أَلاَ أُعْطِيْكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذٰلِكَ؟ فَيَقُوْلُوْنَ يَا رَبِّ! وَ أَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذٰلِكَ؟ فَيَقُوْلُ أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِيْ فَلاَ أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا ] [ بخاري، التوحید، باب کلام الرب مع أھل الجنۃ: ۷۵۱۸] ”اللہ تعالیٰ اہلِ جنت سے کہے گا: ”اے جنت والو!“ وہ کہیں گے: ”ہم حاضر ہیں اے ہمارے پروردگار! ہم حاضر ہیں اور ساری خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔“ فرمائے گا: ”کیا تم راضی ہو گئے؟“ وہ کہیں گے: ”ہمیں کیا ہے کہ ہم راضی نہ ہوں جب کہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرمایا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں کیا۔“ فرمائے گا: ”کیا میں تمھیں اس سے بھی افضل چیز نہ دوں؟“ وہ کہیں گے: ”اے ہمارے رب! بھلا اس سے افضل چیز کیا ہے؟“ فرمائے گا: ”میں تمھیں اپنی رضا اور خوشنودی عطا کرتا ہوں، سو اس کے بعد میں کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔“ ➋ {اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِيْنَ: ”إِنَّ“} تعلیل کے لیے ہوتا ہے، یعنی یہ نعمت انھیں اس لیے ملے گی کہ وہ اس سے پہلے دنیا میں احسان کرنے والے تھے۔ احسان کی تعریف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی ہے: [ أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ] [ بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۵۰ ] ”(احسان یہ ہے) کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، سو اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو یقینا وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“ {” مُحْسِنِيْنَ “} کا لفظی معنی {”عَامِلِيْنَ الْحَسَنَاتِ“} ہے، یعنی وہ نیکیاں کرنے والے تھے۔ آگے ان نیکیوں کی کچھ تفصیل ہے۔
کَانُوۡا قَلِیۡلًا مِّنَ الَّیۡلِ مَا یَہۡجَعُوۡنَ ﴿۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
راتوں کو کم ہی سوتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه رات کو بہت کم سویا کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
وہ رات میں کم سویا کرتے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ لوگ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ رات کے بہت تھوڑے حصے میں سوتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔‏‏‏‏“ ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔‏‏‏‏“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔‏‏‏‏“ بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔‏‏‏‏“ احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔‏‏‏‏“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔ ”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ‌ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ» ۱؎ [9-التوبة:102] ‏‏‏‏ یعنی ’ جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے ‘۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔‏‏‏‏“

{ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔ پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ’ سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» ۱؎ [3-آل عمران:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں ‘۔ اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1145] ‏‏‏‏ اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [12-یوسف:98] ‏‏‏‏ ’ میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا ‘، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔

پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔ ابوداؤد وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔‏‏‏‏“ اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔ ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1479] ‏‏‏‏

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11] ‏‏‏‏ ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں ‘، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ’ خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ ‘ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت ‘۔ واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔

پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ’ میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے ‘۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔
17۔ 1 ھجوع کے معنی ہیں رات کو سونا۔ ما یھجعون میں ما تاکید کے لیے ہے۔ وہ رات کو کم سوتے تھے، مطلب ہے ساری رات سو کر غفلت اور عیش و عشرت میں نہیں گزار دیتے تھے۔ بلکہ رات کا کچھ حصہ اللہ کی یاد میں اور اس کی بارگاہ میں گڑ گڑاتے ہوئے گزارتے تھے۔ جیسا کہ حدیث بھی قیام اللیل کی تاکید ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں فرمایا ' لوگو! لوگوں کو کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، سلام پھیلاؤ اور رات کو اٹھ کر نماز پڑھو، جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے ' (مسند احمد 5۔ 451)۔
(آیت 17) {كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ: ”هَجَعَ يَهْجَعُ هُجُوْعًا“} (ف) سونا، رات کا سونا، ہلکا سا سونا، تینوں معنوں میں آتا ہے۔ {” مَا يَهْجَعُوْنَ “} کے دو معنی کیے گئے ہیں، ایک یہ کہ {” مَا “} مصدریہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ رات میں سے بہت تھوڑا حصہ سوتے تھے۔ ابن کثیر نے یہ مطلب احنف بن قیس، حسن بصری اور زہری سے نقل فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ مزمل میں فرمایا: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (1) قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا (2) نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا (3) اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا» ‏‏‏‏ [ المزمل: ۱ تا ۴ ] ”اے کپڑے میں لپٹنے والے! رات کو قیام کر مگر تھوڑا۔ آدھی رات (قیام کر)، یا اس سے تھوڑا کم کر لے۔ یا اس سے زیادہ کرلے اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھ۔“ ان آیات کے نازل ہونے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ ایک سال تک اس پر عمل کرتے رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے سورۂ مزمل کا آخری حصہ نازل کیا، جس میں فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَيِ الَّيْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآىِٕفَةٌ مِّنَ الَّذِيْنَ مَعَكَ وَ اللّٰهُ يُقَدِّرُ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى وَ اٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ فِي الْاَرْضِ يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ» ‏‏‏‏ [ المزمل: ۲۰ ] ”بلاشبہ تیرا رب جانتا ہے کہ تو رات کے دو تہائی کے قریب اور اس کا نصف اور اس کا تیسرا حصہ قیام کرتا ہے اور ان لوگوں کی ایک جماعت بھی جو تیرے ساتھ ہیں اور اللہ رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم ہرگز اس کی طاقت نہیں رکھو گے، سو اس نے تم پر مہربانی فرمائی تو قرآن میں سے جو میسر ہو پڑھو، اس نے جان لیا کہ یقینا تم میں سے کچھ بیمار ہوں گے اور کچھ دوسرے زمین میں سفر کریں گے، اللہ کا فضل تلاش کریں گے اور کچھ دوسرے اللہ کی راہ میں لڑیں گے، پس اس میں سے جو میسر ہو پڑھو۔“ تو صحیح مسلم (۷۴۶) میں مذکور عائشہ رضی اللہ عنھا کی حدیث کے مطابق قیام اللیل جو فرض تھا، نفل ہو گیا اور اس میں تخفیف ہو گئی اور رات کے اکثر حصے کے بجائے حکم ہوا: «‏‏‏‏فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ» کہ جتنا قیام آسانی سے کر سکتے ہو کر لو۔ اس آیت کی تفسیر اور قیام اللیل کی فضیلت کے لیے سورۂ مزمل کی ابتدائی اور آخری آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ {” كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ “} کا مطلب اگر یہ کیا جائے کہ جنت میں وہ متقی جائیں گے جو رات کا تھوڑا حصہ سوتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے دائمی عمل سے اس مطلب کی تائید نہیں ہوتی۔ ہاں مندرجہ ذیل حدیث کو سامنے رکھا جائے تو {” مَا يَهْجَعُوْنَ “} کا یہ مطلب بالکل درست ہے۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [ مَنْ صَلَّی الْعِشَاءَ فِيْ جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَ مَنْ صَلَّی الصُّبْحَ فِيْ جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا صَلَّی اللَّيْلَ كُلَّهُ ] [ مسلم، المساجد و مواضع الصلاۃ، باب فضل صلاۃ العشاء والصبح في جماعۃ: ۶۵۶ ] ”جو شخص عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے تو گویا اس نے نصف رات قیام کیا اور جو شخص صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے تو گویا اس نے ساری رات قیام کیا۔“ مزید بحث سورۂ سجدہ کی آیت (۱۶): «‏‏‏‏تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ» ‏‏‏‏ کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ {” مَا يَهْجَعُوْنَ “} کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اس میں {” مَا “} نافیہ ہے۔ ابن کثیر نے یہ مطلب ابن عباس، مطرف بن عبد اللہ اور مجاہد سے نقل فرمایا ہے اور تفسیر ابن کثیر کے محقق دکتور حکمت بن بشیر نے طبری اور دوسری کتابوں میں مذکور ان کی سندوں کو حسن یا صحیح قرار دیا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ اور ابوجعفر باقر کے اقوال بھی اسی پر مبنی ہیں کہ {” مَا “} نافیہ ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [ لَمْ تَكُنْ تَمْضِيْ عَلَيْهِمْ لَيْلَةٌ إِلاَّ يَأْخُذُوْنَ مِنْهَا وَ لَوْ شَيْئًا ] [ ابن کثیر: 417/7 ] ”یعنی ان پر جو رات بھی گزرتی تھی اس میں سے کچھ نہ کچھ حصہ لیتے تھے خواہ تھوڑا ہی ہو۔“ مطرف بن عبد اللہ نے فرمایا: {” قَلَّ لَيْلَةٌ لاَ تَأْتِيْ عَلَيْهِمْ إِلاَّ يُصَلُّوْنَ فِيْهَا لِلّٰهِ عَزَّوَجَلَّ، إِمَّا مِنْ أَوَّلِهَا وَ إِمَّا مِنْ أَوْسَطِهَا “} [ ابن کثیر: 417/7 ] ”ان پر کم ہی کوئی رات آتی تھی مگر وہ اس میں اللہ عز و جل کے لیے نماز پڑھتے تھے، یا اس کے شروع میں یا اس کے درمیان میں۔“ مجاہد نے فرمایا: {” قَلَّ مَا يَرْقُدُوْنَ لَيْلَةً حَتَّي الصِّبَاحَ لاَ يَتَهَجَّدُوْنَ “} [ ابن کثیر: 417/7 ] ”کم ہی کوئی رات ہوتی تھی جس میں وہ صبح تک سوئے رہیں اور تہجد نہ پڑھیں۔“ انس بن مالک اور ابوالعالیہ نے فرمایا: {” كَانُوْا يُصَلُّوْنَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ“} [ ابن کثیر: ۷؍۴۱۷ ] ”وہ مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے تھے۔“ اور ابوجعفر باقر نے فرمایا: {” كَانُوْا لاَ يَنَامُوْنَ حَتّٰي يُصَلُّوا الْعَتَمَةَ “} [ ابن کثیر: 417/7 ] ”وہ جب تک عشاء نہ پڑھ لیتے سوتے نہیں تھے۔“ {” مَا يَهْجَعُوْنَ “} میں {” مَا “} کو نافیہ ماننے کی صورت میں ترجمہ ہو گا ”وہ سوتے نہیں تھے“ یعنی جاگتے تھے۔ اس کے مطابق آیت کا ترجمہ، تفسیر اور اس پر حاشیہ تفسیر ثنائی سے نقل کیے جاتے ہیں۔ ترجمہ ہے: ”یہ لوگ راتوں کو کسی قدر جاگا کرتے اور صبح کے وقت خدا سے بخشش مانگا کرتے تھے۔“ تفسیر ہے: ”ان کی نیکی کا نمونہ یہ ہے کہ یہ لوگ راتوں کو بغرض عبادت کسی قدر جاگا کرتے اور تہجد کے بعد یا شب خیزی کے بعد صبح کے وقت خدا سے بخشش مانگا کرتے تھے۔ یعنی صبح سے پہلے تھوڑی رات رہتے اٹھتے تھے اور خدا کی یاد جتنی بھی ہو سکے کرکے صبح سویرے اپنے لیے اور اپنے ماں باپ کے لیے بلکہ جملہ مومنین کے لیے استغفار کرتے تھے۔“ حاشیہ ہے: {” مَا يَهْجَعُوْنَ “} میں دو لفظ ہیں۔ {”هَجَعَ“} کے معنی ہیں رات کی نیند۔ قاموس میں ہے: {” اَلْهُجُوْعُ النَّوْمُ لَيْلًا۔“ ” مَا “} نافیہ ہے، پس معنی یہ ہیں ”رات کو تھوڑا سا وقت نیند ترک کر دیتے تھے۔“ وہ تھوڑا سا وقت چاہے نماز تہجد کا ہو، جیسے سورۂ بنی اسرائیل میں ہے: «‏‏‏‏وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ» ‏‏‏‏ [ بني إسرائیل: ۷۹ ] یا نماز عشاء کا ہو، جیسے «‏‏‏‏وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ» [ ھود: ۱۱۴ ] میں {” زُلَفًا “} سے مراد عشاء کی نماز ہے، ممکن ہے یہی مراد {” مَا يَهْجَعُوْنَ “} سے ہو۔ (واللہ اعلم)“ (ثنائی) معارف القرآن میں ہے: ” «كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ» ‏‏‏‏ میں {” يَهْجَعُوْنَ”هُجُوْعٌ“} سے مشتق ہے، جس کے معنی رات کو سونے کے آتے ہیں۔ اس میں مومنین متقین کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ رات کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارتے ہیں، سوتے کم ہیں، جاگتے زیادہ ہیں اور یہ وقت نماز و عبادت میں گزارتے ہیں۔ یہ تفسیر ابن جریر نے اختیار کی ہے اور حسن بصری سے یہی منقول ہے کہ متقین حضرات رات کو جاگنے اور عبادت کرنے کی مشقت اٹھاتے ہیں اور بہت کم سوتے ہیں۔ اور ابن عباس اور قتادہ وغیرہ ائمۂ تفسیر نے اس جملے کا مطلب حرفِ {” مَا “} کو اس میں نفی کے لیے قرار دے کر یہ بتلایا ہے کہ ”رات کو تھوڑا سا حصہ ان پر ایسا بھی آتا ہے جس میں وہ سوتے نہیں، بلکہ عبادت و نماز وغیرہ میں مشغول رہتے ہیں۔ اس مفہوم کے اعتبار سے وہ سب لوگ اس کا مصداق ہو جاتے ہیں جو رات کے کسی بھی حصہ میں عبادت کر لیں، خواہ شروع میں یا آخر میں یا درمیان میں۔ اسی لیے انس اور ابوالعالیہ نے اس کا مصداق ان لوگوں کو قرار دیا جو مغرب و عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہیں اور امام ابوجعفر باقر نے فرمایا کہ جو لوگ عشاء کی نماز سے پہلے نہ سوویں وہ بھی اس میں داخل ہیں۔ (ابن کثیر)“
وَ بِالۡاَسۡحَارِ ہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ﴿۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر وہی رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وقت سحر استغفار کیا کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور پچھلی رات استغفار کرتے
علامہ محمد حسین نجفی
اور صبح سحر کے وقت مغفرت طلب کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور رات کی آخری گھڑیوں میں وہ بخشش مانگتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔‏‏‏‏“ ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔‏‏‏‏“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔‏‏‏‏“ بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔‏‏‏‏“ احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔‏‏‏‏“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔ ”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ‌ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ» ۱؎ [9-التوبة:102] ‏‏‏‏ یعنی ’ جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے ‘۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔‏‏‏‏“

{ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔ پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ’ سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» ۱؎ [3-آل عمران:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں ‘۔ اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1145] ‏‏‏‏ اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [12-یوسف:98] ‏‏‏‏ ’ میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا ‘، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔

پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔ ابوداؤد وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔‏‏‏‏“ اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔ ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1479] ‏‏‏‏

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11] ‏‏‏‏ ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں ‘، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ’ خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ ‘ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت ‘۔ واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔

پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ’ میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے ‘۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔
18۔ 1 وقت سحر قبولیت دعا کے بہترین اوقات میں سے ہے حدیث میں آتا ہے کہ جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور ندا دیتا ہے کہ کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ میں اس کی توبہ قبول کروں؟ کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں کوئی سائل ہے کہ میں اس کے سوال کو پورا کر دوں۔ یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔ّصحیح مسلم)
(آیت 18) {وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ: ”أَسْحَارٌ“ ”سَحَرٌ“} (سین اور حاء کے فتحہ کے ساتھ) رات کا آخری حصہ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِيْنَ يَبْقٰی ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ يَقُوْلُ مَنْ يَدْعُوْنِيْ فَأَسْتَجِيْبَ لَهُ؟ مَنْ يَسْأَلُنِيْ فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِيْ فَأَغْفِرَ لَهُ؟ ] [ بخاري، التھجد، باب الدعاء والصلاۃ من آخر اللیل: ۱۱۴۵ ] ”ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات، جب رات کا آخری ثلث باقی رہ جاتا ہے، آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے: ”کون ہے جو مجھ سے دعا کرے تو میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخشوں؟“
وَ فِیۡۤ اَمۡوَالِہِمۡ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الۡمَحۡرُوۡمِ ﴿۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُن کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کے مال میں مانگنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے مالوں میں حق تھا منگتا اور بے نصیب کا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کے مالوں میں سے سوال کرنے والے اور سوال نہ کرنے والے محتاج سب کا حصہ تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے مالوں میں سوال کرنے والے اور محروم کے لیے ایک حصہ تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔‏‏‏‏“ ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔‏‏‏‏“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔‏‏‏‏“ بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔‏‏‏‏“ احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔‏‏‏‏“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔ ”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ‌ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ» ۱؎ [9-التوبة:102] ‏‏‏‏ یعنی ’ جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے ‘۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔‏‏‏‏“

{ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔ پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ’ سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» ۱؎ [3-آل عمران:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں ‘۔ اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1145] ‏‏‏‏ اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [12-یوسف:98] ‏‏‏‏ ’ میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا ‘، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔

پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔ ابوداؤد وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔‏‏‏‏“ اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔ ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1479] ‏‏‏‏

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11] ‏‏‏‏ ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں ‘، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ’ خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ ‘ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت ‘۔ واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔

پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ’ میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے ‘۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔
19۔ 1 محروم سے مراد، وہ ضرورت مند ہے جو سوال سے اجتناب کرتا ہے۔ چناچہ مستحق ہونے کے باوجودلوگ اسے نہیں دیتے۔ یا وہ شخص ہے جس کا سب کچھ، آفت ارضی و سماوی میں، تباہ ہوجائے۔
(آیت 19){ وَ فِيْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآىِٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ معارج (۲۴، ۲۵) کی تفسیر۔
وَ فِی الۡاَرۡضِ اٰیٰتٌ لِّلۡمُوۡقِنِیۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یقین والوں کے لئے تو زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کو
علامہ محمد حسین نجفی
اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لئے (ہماری قدرت کی) نشانیاں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔‏‏‏‏“ ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔‏‏‏‏“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔‏‏‏‏“ بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔‏‏‏‏“ احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔‏‏‏‏“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔ ”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ‌ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ» ۱؎ [9-التوبة:102] ‏‏‏‏ یعنی ’ جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے ‘۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔‏‏‏‏“

{ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔ پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ’ سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» ۱؎ [3-آل عمران:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں ‘۔ اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1145] ‏‏‏‏ اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [12-یوسف:98] ‏‏‏‏ ’ میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا ‘، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔

پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔ ابوداؤد وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔‏‏‏‏“ اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔ ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1479] ‏‏‏‏

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11] ‏‏‏‏ ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں ‘، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ’ خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ ‘ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت ‘۔ واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔

پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ’ میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے ‘۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 20) ➊ { وَ فِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ:} شروع سورت میں چار طرح کی ہواؤں کی قسم اٹھا کر فرمایا کہ قیامت حق ہے، پھر اس پر آسمان کی قسم اٹھائی۔ اب ”واؤ“ کے ذریعے سے اسی کے ساتھ سلسلہ کلام جوڑ کر فرمایا: ”اور زمین میں بھی یقین کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔“ یہ وہی استدلال ہے جو قرآن میں قیامت حق ہونے کے لیے جا بجا موجود ہے۔ مثلاً فرمایا: «وَ مِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ اِنَّ الَّذِيْۤ اَحْيَاهَا لَمُحْيِ الْمَوْتٰى» ‏‏‏‏ [ حٰمٓ السجدۃ: ۳۹ ] ”اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تو زمین کو دبی ہوئی (بنجر) دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور پھولتی ہے۔ بے شک وہ جس نے اسے زندہ کیا، یقینا مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ زمین کی پہلی ساری کھیتی چورا بن کر ختم ہوجاتی ہے، پھر دوبارہ نئی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو ہر شخص کے مشاہدے میں آتی ہے، اس پر بہت زیادہ غور و فکر کی ضرورت نہیں، صرف یقین کی ضرورت ہے۔ اس لیے اس آیت میں غور و فکر کی دعوت نہیں دی، جس طرح اس کے بعد والی آیت میں {” اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ “} فرمایا ہے، بلکہ فرمایا: ”زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔“ یہ اس لیے فرمایا کہ ان نشانیوں سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو یقین کرتے ہیں۔ ➋ { ” وَ فِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ “} (اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں) اس میں صریح الفاظ میں یہ نہیں بتایا کہ کس چیز کی نشانیاں ہیں، کیونکہ اس میں صرف قیامت حق ہونے ہی کی نشانیاں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت اور اس کی لامحدود قدرت کی بھی بے شمار نشانیاں ہیں۔ زمخشری نے فرمایا: ”اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جو صانع اور اس کی قدرت و حکمت اور تدبیر پر دلالت کرتی ہیں، چنانچہ زمین اپنے اوپر والی چیزوں کے لیے بچھونے کی طرح ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا» ‏‏‏‏ [ طٰہٰ: ۵۳ ] ”وہ جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنایا۔“ اور چلنے والوں کے لیے اس میں راستے اور وسیع شاہراہیں ہیں جو اس کے کندھوں پر چلتے پھرتے ہیں اور اس کے مختلف حصے ہیں، جیسے میدان، پہاڑ، ریگستان، سمندر وغیرہ اور کئی ٹکڑے ہیں، مثلاً سخت، نرم، زرخیز، شور وغیرہ۔ وہ حاملہ جانور کی طرح ہے جس کے پیٹ سے بے شمار پودے، درخت اور پھل پیدا ہوتے ہیں، جن کے رنگ، خوشبو اور ذائقے مختلف ہیں، حالانکہ سبھی ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ ایک دوسرے پر برتری رکھتے ہیں اور یہ سب کچھ زمین پر رہنے والوں کی ضروریات، ان کی صحت و بیماری کی مصلحتوں کے عین موافق ہے۔ پھر اس میں پھوٹنے والے چشمے، رنگا رنگ معدنیات اور خشکی، ہوا اور سمندر میں پھیلے ہوئے مختلف شکلوں، صورتوں اور کاموں والے وحشی، پالتو، مفید اور زہریلے جانور اور اس کے علاوہ شمار سے باہر چیزیں ہیں جن میں یقین کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، کیونکہ وہی دیکھنے والی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔“
وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور خود تمہارے اپنے وجود میں ہیں کیا تم کو سوجھتا نہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور خود تمہاری ذات میں بھی، تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور خود تم میں تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور خود تمہارے وجود کے اندر بھی۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟
عبدالسلام بن محمد
اور تمھارے نفسوں میں بھی، تو کیا تم نہیں دیکھتے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔‏‏‏‏“ ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔‏‏‏‏“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔‏‏‏‏“ بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔‏‏‏‏“ احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔‏‏‏‏“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔ ”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ‌ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ» ۱؎ [9-التوبة:102] ‏‏‏‏ یعنی ’ جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے ‘۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔‏‏‏‏“

{ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔ پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ’ سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» ۱؎ [3-آل عمران:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں ‘۔ اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1145] ‏‏‏‏ اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [12-یوسف:98] ‏‏‏‏ ’ میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا ‘، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔

پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔ ابوداؤد وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔‏‏‏‏“ اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔ ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1479] ‏‏‏‏

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11] ‏‏‏‏ ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں ‘، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ’ خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ ‘ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت ‘۔ واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔

پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ’ میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے ‘۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 21) ➊ { وَ فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ:} یعنی خود تمھارے نفسوںمیں دوبارہ زندہ ہونے کی بے شمار نشانیاں موجود ہیں کہ مٹی اور نطفے سے لے کر موت تک ہر لمحہ موت کے بعد زندگی کا شاہد ہے، کیونکہ جسم کا ہر خلیہ جو موجود ہوتا ہے فنا ہوتا اور اس کی جگہ نیا خلیہ وجود میں آتا رہتا ہے اور یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے، جس کے دوران انسان بچپن، جوانی اور بڑھاپے کی طرف بھی منتقل ہوتا رہتا ہے، مگر موت و حیات کے اس سلسلے پر غور کرنے والے بہت ہی کم ہیں۔ یہ بحث تفصیل کے ساتھ سورۂ مومنون (۱۲ تا ۱۶) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ ➋ انسان کی ذات میں قیامت کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت، حکمت، تدبیر، صنعت، قدرت اور دوسری صفات کی بھی بے شمار نشانیاں موجود ہیں۔ مفسر کیلانی لکھتے ہیں: ”انسان کا اپنا وجود اور اس کی مشینری کائنات اصغر ہے اور اس میں جو نشانیاں ہیں وہ کائنات اکبر کی نشانیوں سے کسی طرح کم نہیں۔ انسان کا معدہ ایک چکی کی طرح دن رات کام میں لگا رہتا ہے، جو غذا کو پیس کر ایک ملغوبہ تیار کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ جب یہ فارغ ہو جائے تو اور غذا طلب کرتا ہے جسے ہم بھوک کہتے ہیں۔ اس ملغوبہ کی تیاری میں اگر پانی کی کمی ہو تو ہمیں پیاس لگ جاتی ہے اور ہم کھانے پینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ پھر اس کے اندر چھلنی بھی ہے جس سے چھن کر یہ ملغوبہ جگر میں چلا جاتا ہے، جہاں اچھالنے والی، دفع کرنے والی، صاف کرنے والی، کھینچنے والی مشینیں اور قوتیں کام کر رہی ہیں۔ یہیں دوسری اخلاط بنتی ہیں۔ فالتو پانی کو گردے پیشاب کے راستے خارج کر دیتے ہیں۔ قوت دافعہ فالتو مواد یا فضلہ کو خارج کرنے کا کام کرتی ہے اور جس طرح انسان کھانے پینے پر مجبور ہوتا ہے اسی طرح رفع حاجت پر مجبور ہو جاتا ہے اور اگر روکے تو بیمار پڑ جاتا ہے۔ پھر انسان کے جسم میں اتنی باریک نالیاں ہیں جن کا سوراخ خورد بین کے بغیر نظر ہی نہیں آ سکتا، انھی کے ذریعے انسان کے جسم کے ہر حصے کو خون پہنچتا ہے۔ اس سلسلہ میں انسان کا دل پمپ کا کام کرتا ہے جو ایک منٹ بھی ٹھہر جائے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔ پھر انسان کا سانس لینا بھی ایک الگ پورا نظام ہے۔ سب سے زیادہ باریک آنکھ کے طبقے اور جھلیاں ہیں جو ایسی لطافت کے ساتھ بنائی گئی ہیں کہ اگر ذرا سا فتور آ جائے تو بینائی جواب دے جاتی ہے۔ (پھر سننے، سونگھنے، چکھنے، سوچنے، سمجھنے، یاد رکھنے، محسوس کرنے، سونے، جاگنے، بولنے اور دوسرے بے شمار افعال کے نظام ہیں جن میں سے ہر ایک پر غور کیا جائے تو آدمی حیرت کے سمندر میں غرق ہو جاتا ہے) انسان کا جسم ابتدا ہی سے حکیموں اور ڈاکٹروں کی تحقیق کا مرکز بنا ہوا ہے، مگر اس کے بیشتر اسرار آج تک پردۂ راز ہی میں ہیں۔“ [ تیسیر القرآن ] ➌ { ” وَ فِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ “} میں آفاقی آیات کا ذکر ہے اور {” وَ فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ “} میں انفسی آیات کا۔ مزید دیکھیے حم السجدہ (۵۳)۔
وَ فِی السَّمَآءِ رِزۡقُکُمۡ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آسمان ہی میں ہے تمہارا رزق بھی اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تمہاری روزی اور جو تم سے وعده کیا جاتا ہے سب آسمان میں ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور آسمان میں تمہاری روزی بھی ہے اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ وعید کیا جاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور آسمان ہی میں تمھارا رزق ہے اور وہ بھی جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔‏‏‏‏“ ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔‏‏‏‏“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔‏‏‏‏“ بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔‏‏‏‏“ احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔‏‏‏‏“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔ ”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ‌ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ» ۱؎ [9-التوبة:102] ‏‏‏‏ یعنی ’ جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے ‘۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔‏‏‏‏“

{ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔ پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ’ سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» ۱؎ [3-آل عمران:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں ‘۔ اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1145] ‏‏‏‏ اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [12-یوسف:98] ‏‏‏‏ ’ میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا ‘، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔

پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔ ابوداؤد وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔‏‏‏‏“ اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔ ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1479] ‏‏‏‏

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11] ‏‏‏‏ ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں ‘، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ’ خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ ‘ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت ‘۔ واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔

پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ’ میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے ‘۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔
22۔ 1 یعنی بارش بھی آسمان سے ہوتی ہے جس سے تمہارا رزق پیدا ہوتا ہے اور جنت دوزخ ثواب وعتاب بھی آسمانوں میں ہے جن کا وعدہ کیا جاتا ہے۔
(آیت 22) ➊ {وَ فِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ:} اکثر مفسرین نے یہاں رزق سے مراد بارش لی ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا» [ المؤمن: ۱۳ ] ”وہی ہے جو تمھیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمھارے لیے آسمان سے رزق اتارتا ہے۔“ مگر لفظ عام ہیں، اس لیے رزق سے مراد وہ سب کچھ ہے جو دنیا میں انسان کو جینے، کھانے پینے اور کام کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ یعنی تمھیں جو کچھ دیا جا رہا ہے وہ آسمان میں اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے اور تمھیں وہیں سے عطا ہوتا ہے۔ {” وَ فِي السَّمَآءِ “} مقدم لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”تمھارا رزق آسمان ہی میں ہے۔“ تو جب تمھارا رزق آسمان ہی میں ہے تو پھر کمائی کے لیے اتنی فکر کیوں کہ جائز و ناجائز کی تمیز بھی نہ کی جائے اور حق والوں کو حق بھی نہ دیا جائے؟ پھر سائل اور محروم پر خرچ کرنے میں بخل اور دریغ کیسا؟ اور جب آتا آسمان سے ہے تو کسی پر خرچ کرکے اپنا احسان جتلانے کی کیا وجہ؟ ➋ { وَ مَا تُوْعَدُوْنَ:} یعنی حشر و نشر، جزا و سزا اور جنت و دوزخ وغیرہ، جن کے رونما ہونے کا وعدہ تمام انبیاء کی زبانی اور تمام آسمانی کتابوں کے ذریعے سے کیا گیا ہے، ان سب کا حکم آسمان ہی سے ہے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”آنے والی جو بات ہے اس کا حکم آسمان ہی سے اترتا ہے۔“ (موضح) ➌ اس مقام پر بعض مفسرین نے کچھ لوگوں کے واقعات لکھے ہیں جنھوں نے یہ آیت سن کر کمائی ترک کر دی اور اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے جنگل بیابان کی راہ لی اور وہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں تازہ کھجوریں اور رزق ملنے لگا۔ چنانچہ طبری نے سفیان ثوری کی زبانی نقل کیا ہے کہ واصل احدب نے یہ آیت {” وَ فِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ “} پڑھی تو کہنے لگے: ”میرا رزق تو مجھے آسمان میں نظر آ رہا ہے اور میں اسے زمین میں ڈھونڈتا پھرتا ہوں۔“ یہ کہہ کر وہ ایک خرابے میں چلے گئے۔ تین دن تک کھانے کو کچھ نہ ملا، جب تیسرا دن ہوا تو اچانک ان کے پاس تازہ کھجوروں کی ایک ٹوکری آ گئی۔ ان کا ایک بھائی تھا، جو ان سے بھی اچھی نیت والا تھا، وہ بھی اس خرابے میں ان کے ساتھ آ گیا تو ٹوکریاں دو ہو گئیں۔ ان کا یہی حال رہا، یہاں تک کہ موت نے ان کے درمیان جدائی ڈال دی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی ہی کہانیوں نے اسلام کا رخِ روشن مسخ کیا ہے۔ آسمان میں رزق ہونے کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ آدمی کمانا ترک کر دے۔ یہ رہبانیت ہے جس کی اسلام میں گنجائش ہی نہیں، یہاں تو محنت کرکے کمانے اور دوسروں پر خرچ کرنے کی تلقین ہے، جنگلوں، بیابانوں یا خانقاہوں میں بیٹھ کر لوگوں کی طرف سے یا غیب سے آنے والے رزق کے انتظار کے بجائے جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے سے پاکیزہ ترین رزق حاصل کرنے کی ترغیب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی پوری زندگی اس کی شاہد ہے۔ آسمان میں رزق ہونے کا یقین دلانے کا مطلب صرف یہ ہے کہ آدمی اپنی ساری جد و جہد کے باوجود بھروسا صرف آسمان والے پر رکھے اور ایک لمحہ کے لیے بھی رزق کی خاطر اس کے حکم سے سرتابی نہ کرے۔ تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ ابن کثیر رحمہ اللہ جیسے محقق نے کسی تنقید کے بغیر یہ کہانی نقل کر دی ہے، حالانکہ طبری میں اس روایت کے راوی طبری کے استاذ محمد بن حمید رازی ہیں، جن کا ضعیف ہونا معروف ہے۔
فَوَ رَبِّ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثۡلَ مَاۤ اَنَّکُمۡ تَنۡطِقُوۡنَ ﴿٪۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس قسم ہے آسمان اور زمین کے مالک کی، یہ بات حق ہے، ایسی ہی یقینی جیسے تم بول رہے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمان وزمین کے پروردگار کی قسم! کہ یہ بالکل برحق ہے ایسا ہی جیسے کہ تم باتیں کرتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو آسمان اور زمین کے رب کی قسم بیشک یہ قرآن حق ہے ویسی ہی زبان میں جو تم بولتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
پس قَسم ہے آسمان و زمین کے پروردگار کی کہ یہ بات حق ہے جیسے کہ تم بو لتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
سو آسمان و زمین کے رب کی قسم ہے !بلاشبہ یہ (بات) یقینا حق ہے اس (بات) کی طرح کہ بلاشبہ تم بولتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔‏‏‏‏“ ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔‏‏‏‏“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔‏‏‏‏“ بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔‏‏‏‏“ احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔‏‏‏‏“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔ ”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ‌ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ» ۱؎ [9-التوبة:102] ‏‏‏‏ یعنی ’ جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے ‘۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔‏‏‏‏“

{ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔ پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ’ سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔‏‏‏‏“ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» ۱؎ [3-آل عمران:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں ‘۔ اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1145] ‏‏‏‏ اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [12-یوسف:98] ‏‏‏‏ ’ میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا ‘، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔

پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔ ابوداؤد وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔‏‏‏‏“ اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔ ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1479] ‏‏‏‏

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11] ‏‏‏‏ ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں ‘، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ’ خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ ‘ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت ‘۔ واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔

پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ’ میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے ‘۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔
23۔ 1 انہ میں ضمیر کا مرجع (یہ) وہ امور و آیات ہیں جو مذکور ہوئیں۔
(آیت 23) {فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ …:} کسی بات کا یقین دلانے کے لیے اس کی تشبیہ ایسی چیز کے ساتھ دی جاتی ہے جو مخاطب کے نزدیک یقینی ہو، مثلاً کہا جاتا ہے: {”كَمَا أَنَّكَ هٰهُنَا“} کہ یہ بات ایسے ہی یقینی ہے جیسے تم یہاں موجود ہو، یا {”كَمَا أَنَّكَ تَسْمَعُ وَ تَرٰي“} جیسے یہ یقینی ہے کہ تم سن رہے ہو اور دیکھ رہے ہو۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کا یقین دلانے کے لیے جو اس سے پہلے گزری ہیں آسمان و زمین کے رب کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ سب کچھ ایسے ہی حق اور یقینی ہے جیسے تمھیں یقین ہے کہ تم بولتے ہو۔ اس سے پہلے مذکور چیزوں میں سب سے قریب یہ ہے کہ تمھارا رزق اور وہ تمام چیزیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان ہی میں ہیں۔ اس لیے مطلب یہ ہوا کہ تمھارے رزق کا اور تم سے وعدہ کردہ چیزوں کا آسمان ہی میں ہونا ایسے ہی یقینی ہے جیسے تمھارا بولنا یقینی ہے اور تمھیں کوئی شک نہیں کہ تم واقعی بولتے ہو۔ {” اِنَّهٗ لَحَقٌّ “} (بلاشبہ یقینا یہ حق ہے) سے مراد سورت کے شروع سے یہاں تک مذکور تمام چیزیں بھی ہو سکتی ہیں کہ بلاشبہ یقینا تم سے کیے گئے وعدے، قیامت، جزا و سزا، جنت و جہنم، تمھارے رزق کا اور تم سے وعدہ کردہ چیزوں کا آسمان ہی میں ہونا ایسے ہی حق ہے جیسے یہ حق ہے کہ تم بول رہے ہو اور تمھیں اپنے بولنے میں شک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سننے یا دیکھنے وغیرہ کے بجائے بولنے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ سننے یا دیکھنے میں بعض اوقات شبہ بھی پڑ جاتا ہے، مگر آدمی کو اپنے بولنے میں کبھی شبہ نہیں ہوتا کہ میں بول رہا ہوں اور بات کر رہا ہوں۔
ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ ضَیۡفِ اِبۡرٰہِیۡمَ الۡمُکۡرَمِیۡنَ ﴿ۘ۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، ابراہیمؑ کے معزز مہمانوں کی حکایت بھی تمہیں پہنچی ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تجھے ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی خبر بھی پہنچی ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
اے محبوب! کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی
علامہ محمد حسین نجفی
(اے حبیب(ص)!) کیا آپ تک ابراہیم (‌ع) کے معزز مہمانوں کی بات پہنچی ہے؟
عبدالسلام بن محمد
کیا تیرے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات آئی ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مہمان اور میزبان ؟ ٭٭

یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔ حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُ‌دُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» ۱؎ [4-النساء:86] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی ‘۔ پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔

ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“ اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ خلیل اللہ (‏‏‏‏علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے ‘۔ جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَ‌أَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَ‌هُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْ‌سِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَ‌أَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْ‌نَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَ‌اءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ‏‏‏‏، یعنی ’ آپ (‏‏‏‏علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں ‘، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ’ تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب ‘۔ اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔‏‏‏‏“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ’ بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ ‘ اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»
24۔ 1 ھَلْ استفہام کے لئے ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تنبیہ ہے کہ اس قصے کا تجھے علم نہیں، بلکہ ہم تجھے وحی کے ذریعے سے مطلع کر رہے ہیں۔
(آیت 24) ➊ { هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ …:} یہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے چند انبیاء کی مدد کا اور انھیں جھٹلانے والی اقوام پر آنے والے عذابوں کا ذکر فرمایا۔ ابراہیم اور لوط علیھما السلام کے واقعات اور ان کے تفسیری فوائد سورۂ ہود (۶۹ تا ۸۳)، حجر (۵۱ تا ۷۷) اور عنکبوت (۱۶ تا ۳۵) میں تفصیل سے گزر چکے ہیں۔ اس مقام سے تعلق رکھنے والی چند باتیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں۔ ➋ کیا تیرے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی ہے؟ سوال سے مقصود اس واقعہ کی عظمت و شان اور اہمیت کا احساس دلانا ہے اور یہ بھی کہ آپ کو اس بات کی خبر نہ تھی، یہ ہم ہیں جو وحی کے ذریعے سے آپ کو اس سے آگاہ کر رہے ہیں۔ ➌ { ” الْمُكْرَمِيْنَ “} (معزز) اس لیے فرمایا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۲۶ ] ”بلکہ وہ بندے ہیں جنھیں عزت دی گئی ہے۔“ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی حکم ہے: [ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ] [ بخاري، الأدب، باب من کان یؤمن باللّٰہ…: ۶۰۱۸ ] ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“
اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ سَلٰمٌ ۚ قَوۡمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ ﴿ۚ۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب وہ اُس کے ہاں آئے تو کہا آپ کو سلام ہے اُس نے کہا "آپ لوگوں کو بھی سلام ہے کچھ نا آشنا سے لوگ ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه جب ان کے ہاں آئے تو سلام کیا، ابراہیم نے جواب سلام دیا (اور کہا یہ تو) اجنبی لوگ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جب وہ اس کے پاس آکر بولے سلام کہا، سلام ناشناسا لوگ ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کہ جب وہ آپ(ع) کے پاس آئے تو سلام کیا آپ(ع) نے بھی (جواب میں) سلام کیا۔ (پھر دل میں کہا) کچھ اجنبی لوگ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جب وہ اس پر داخل ہوئے تو انھوں نے سلام کہا ۔ اس نے کہا سلام ہو، کچھ اجنبی لوگ ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مہمان اور میزبان ؟ ٭٭

یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔ حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُ‌دُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» ۱؎ [4-النساء:86] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی ‘۔ پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔

ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“ اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ خلیل اللہ (‏‏‏‏علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے ‘۔ جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَ‌أَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَ‌هُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْ‌سِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَ‌أَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْ‌نَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَ‌اءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ‏‏‏‏، یعنی ’ آپ (‏‏‏‏علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں ‘، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ’ تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب ‘۔ اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔‏‏‏‏“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ’ بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ ‘ اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»
25۔ 1 یہ اپنے جی میں کہا، ان سے خطاب کر کے نہیں کہا۔
(آیت 25) ➊ { اِذْ دَخَلُوْا عَلَيْهِ فَقَالُوْا …:” سَلٰمًا “} اور {” سَلٰمٌ “} کے فرق کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۶۹) کی تفسیر۔ ➋ { قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ:} یہ بات دل میں کہی یا گھر والوں سے کہی اور ممکن ہے انسانی شکل میں آنے والے فرشتوں سے کہی ہو کہ آپ اس علاقے میں نئے تشریف لائے ہیں، پہلے کبھی آپ کو یہاں نہیں دیکھا۔
فَرَاغَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِیۡنٍ ﴿ۙ۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گیا، اور ایک موٹا تازہ بچھڑا لا کر
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر (چﭗ چاپ جلدی جلدی) اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے (کا گوشت) ﻻئے
احمد رضا خان بریلوی
پھر اپنے گھر گیا تو ایک فربہ بچھڑا لے آیا
علامہ محمد حسین نجفی
پس چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور (تھوڑی دیر میں) ایک موٹا تازہ (بھنا ہوا) بچھڑالے آئے۔
عبدالسلام بن محمد
پس چپکے سے اپنے گھر والوں کی طرف گیا، پس (بھناہوا) موٹا تازہ بچھڑا لے آیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مہمان اور میزبان ؟ ٭٭

یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔ حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُ‌دُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» ۱؎ [4-النساء:86] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی ‘۔ پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔

ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“ اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ خلیل اللہ (‏‏‏‏علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے ‘۔ جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَ‌أَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَ‌هُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْ‌سِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَ‌أَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْ‌نَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَ‌اءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ‏‏‏‏، یعنی ’ آپ (‏‏‏‏علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں ‘، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ’ تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب ‘۔ اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔‏‏‏‏“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ’ بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ ‘ اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 26) ➊ {فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ: ”رَاغَ يَرُوْغُ رَوْغًا“} (ن) کا معنی خفیہ طور پر جانا، حیلے کے ساتھ تیزی سے نکل جانا ہے۔ یہ {”رَوْغَانُ الثَّعْلَبِ“} سے ہے، لومڑی کا خفیہ طریقے سے آنا جانا۔ مطلب یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنے کے لیے خاموشی سے گئے، تاکہ انھیں خبر نہ ہو سکے اور وہ جاتے ہوئے دیکھ کر مہمانی لانے سے منع نہ کر دیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مہمانوں سے پوچھنا کہ کیا آپ کھانا کھائیں گے تو ایک طرف، انھیں تو مہمانی کے اہتمام کا حتیٰ الوسع پتا بھی نہیں لگنے دینا چاہیے۔ ➋ { فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِيْنٍ:} سورۂ ہود میں {” بِعِجْلٍ حَنِيْدٍ “} (بھنا ہوا بچھڑا) آیا ہے۔ معلوم ہوا موٹا تازہ بچھڑا بھون کر لائے تھے۔ بعض مفسرین نے {” سَمِيْنٍ “} کا معنی ”گھی میں تلا ہوا“ کیا ہے، کیونکہ ”سمن “ کا معنی موٹاپا بھی ہے اور گھی بھی۔ اس کے مطابق {” سَمِيْنٍ “} کا معنی موٹا بھی ہو سکتا ہے اور گھی میں تلا ہوا بھی۔ مگر {” حَنِيْدٍ “} کے ساتھ {” سَمِيْنٍ “} کا معنی ”موٹا“ زیادہ مناسب ہے، کیونکہ {” حَنِيْدٍ “ } گرم پتھروں یا کوئلے پر بھنے ہوئے کو کہتے ہیں۔
فَقَرَّبَہٗۤ اِلَیۡہِمۡ قَالَ اَلَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۫۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مہمانوں کے آگے پیش کیا اُس نے کہا آپ حضرات کھاتے نہیں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اسے ان کے پاس رکھا اور کہا آپ کھاتے کیوں نہیں
احمد رضا خان بریلوی
پھر اسے ان کے پاس رکھا کہا کیا تم کھاتے نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جسے مہمانوں کے سامنے پیش کیا (مگر جب انہوں نے ہاتھ نہ بڑھائے تو) کہا آپ کھاتے کیوں نہیں؟
عبدالسلام بن محمد
پھر اسے ان کے قریب کیا کہا کیاتم نہیں کھاتے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مہمان اور میزبان ؟ ٭٭

یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔ حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُ‌دُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» ۱؎ [4-النساء:86] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی ‘۔ پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔

ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“ اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ خلیل اللہ (‏‏‏‏علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے ‘۔ جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَ‌أَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَ‌هُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْ‌سِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَ‌أَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْ‌نَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَ‌اءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ‏‏‏‏، یعنی ’ آپ (‏‏‏‏علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں ‘، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ’ تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب ‘۔ اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔‏‏‏‏“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ’ بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ ‘ اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»
27۔ 1 یعنی سامنے رکھنے کے باوجود انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ ہی نہیں بڑھایا تو پوچھا
(آیت 27) {فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ یہ بھی مہمان نوازی کے آداب میں سے ہے کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو کھانے تک جانے کی زحمت دینے کے بجائے اسے ان کی خدمت میں پیش کرنا چاہیے اور یہ بھی کہ اگر وہ کھانے میں تامل کریں تو شائستہ طریقے سے کھانے کی درخواست کرنی چاہیے۔
فَاَوۡجَسَ مِنۡہُمۡ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ ؕ وَ بَشَّرُوۡہُ بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ ﴿۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر وہ اپنے دل میں ان سے ڈرا انہوں نے کہا ڈریے نہیں، اور اُسے ایک ذی علم لڑکے کی پیدائش کا مژدہ سنایا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر تو دل ہی دل میں ان سے خوفزده ہوگئے انہوں نے کہا آپ خوف نہ کیجئے۔ اور انہوں نے اس (حضرت ابراہیم) کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے جی میں ان سے ڈرنے لگا وہ بولے ڈریے نہیں اور اسے ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی،
علامہ محمد حسین نجفی
(مگر جب انہوں نے پھر بھی کچھ نہ کھایا) تو آپ(ع) نے ان لوگوں سے اپنے اندر کچھ خوف محسوس کیا ان (مہمانوں نے) کہا ڈرئیے نہیں! اور پھر انہیں ایک صاحبِ علم بیٹے کی ولادت کی خوشخبری دی۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس نے ان سے دل میں خوف محسوس کیا، انھوں نے کہا مت ڈر ! اور انھوںنے اسے ایک بہت علم والے لڑکے کی خوش خبری دی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مہمان اور میزبان ؟ ٭٭

یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔ حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُ‌دُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» ۱؎ [4-النساء:86] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی ‘۔ پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔

ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“ اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ خلیل اللہ (‏‏‏‏علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے ‘۔ جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَ‌أَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَ‌هُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْ‌سِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَ‌أَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْ‌نَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَ‌اءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ‏‏‏‏، یعنی ’ آپ (‏‏‏‏علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں ‘، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ’ تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب ‘۔ اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔‏‏‏‏“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ’ بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ ‘ اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»
28۔ 1 ڈر اس لئے محسوس کیا کہ حضرت ابراہیم ؑ سمجھے، یہ کھانا نہیں کھا رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آنے والے کسی خیر کی نیت سے نہیں بلکہ شر کی نیت سے آئے ہیں۔ 28۔ 2 حضرت ابراہیم ؑ کے چہرے پر خوف کے آثار دیکھ کر فرشتوں نے کہا۔
(آیت 28) ➊ {فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيْفَةً …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۷۰) کی تفسیر۔ ➋ { وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ:} سورۂ ہود میں اس لڑکے کا نام اسحاق آیا ہے، وہ ”غلام عليم“ تھے اور اسماعیل علیہ السلام ”غلام حلیم۔“ ان کا ذکر سورۂ صافات (۱۰۱) میں ہے۔ اسحاق علیہ السلام کو {” بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ “} فرمایا، حالانکہ {” عَلِيْمٍ “} تو انھوں نے جوانی میں بننا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ جو بچے حفظ شروع کر دیں انھیں آئندہ کا لحاظ کرتے ہوئے حافظ کہا جا سکتا ہے۔ (و اللہ اعلم)
فَاَقۡبَلَتِ امۡرَاَتُہٗ فِیۡ صَرَّۃٍ فَصَکَّتۡ وَجۡہَہَا وَ قَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِیۡمٌ ﴿۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ سن کر اُس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنا منہ پیٹ لیا اور کہنے لگی، "بوڑھی، بانجھ!"
مولانا محمد جوناگڑھی
پس ان کی بیوی آگے بڑھی اور حیرت میں آکر اپنے منھ پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں تو بوڑھیا ہوں اور ساتھ ہی بانجھ
احمد رضا خان بریلوی
اس پر اس کی بی بی چلاتی آئی پھر اپنا ماتھا ٹھونکا اور بولی کیا بڑھیا بانجھ
علامہ محمد حسین نجفی
پس آپ(ع) کی بیوی (سارہ) چیختی ہوئی آئی اور اس نے اپنا منہ پیٹ لیا اور کہا بوڑھی، بانجھ؟ (بچہ کس طرح ہوگا؟)
عبدالسلام بن محمد
تو اس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی، پس اس نے اپنا چہرہ پیٹ لیا اور اس نے کہا بوڑھی بانجھ!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مہمان اور میزبان ؟ ٭٭

یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔ حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُ‌دُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» ۱؎ [4-النساء:86] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی ‘۔ پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔

ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“ اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ خلیل اللہ (‏‏‏‏علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے ‘۔ جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَ‌أَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَ‌هُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْ‌سِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَ‌أَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْ‌نَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَ‌اءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ‏‏‏‏، یعنی ’ آپ (‏‏‏‏علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں ‘، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ’ تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب ‘۔ اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔‏‏‏‏“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ’ بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ ‘ اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»
29۔ 1 صرۃ کے دوسرے معنی ہیں چیخ و پکار، یعنی چیختے ہوئے کہا۔
(آیت 29) ➊ { فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِيْ صَرَّةٍ …:” صَرَّةٍ “} صیحہ، چیخ۔ {”صَرَّ يَصُرُّ“ (ن) ”صَرِيْرُ الْقَلَمِ“} (قلم کی آواز) اور {”صَرِيْرُ الْبَابِ“ } (دروازے کی آواز) بھی اسی سے مشتق ہے۔ {” صَرَّةٍ “} میں تنوین تعظیم کی ہے: {”أَيْ صَيْحَةٌ عَظِيْمَةٌ وَ رَنَّةٌ۔“} ابن کثیر نے فرمایا: {” صَرَّةٍ “} سے مراد اس کا {” يٰوَيْلَتٰۤي “} کہنا ہے جو سورۂ ہود(۷۲) میں مذکور ہے، یہاں اس کا قول مختصر ذکر فرمایا ہے۔ {” عَجُوْزٌ عَقِيْمٌ”أَيْ أَنَا عَجُوْزٌ عَقِيْمٌ“} یعنی یہ بشارت سن کر اپنی عمر کو دیکھتے ہوئے حیرت و مسرت کے جذبات سے بے اختیار چیختی ہوئی فرشتوں کی طرف آئی۔ ➋ { فَصَكَّتْ وَجْهَهَا: ”صَكَّ يَصُكُّ صَكًّا“} (ن) چہرے پر زور سے ہاتھ مارنا، جیسا کہ عورتیں تعجب کے وقت کرتی ہیں۔ یعنی تعجب سے چہرے کو پیٹ کر کہنے لگی کہ میں تو بوڑھی ہوں، جوانی کی عمر سے بانجھ ہوں، اب خاک بچہ جنوں گی۔ ➌ بعض لوگوں نے اس سے ماتم اور سینہ کوبی کی دلیل کشید کی ہے، مگر یہ نہیں سوچا کہ کیا خوشی کی خبر پر بھی ماتم ہوتا ہے!؟
قَالُوۡا کَذٰلِکِ ۙ قَالَ رَبُّکِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انہوں نے کہا "یہی کچھ فرمایا ہے تیرے رب نے، وہ حکیم ہے اور سب کچھ جانتا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے کہا ہاں تیرے پروردگار نے اسی طرح فرمایا ہے، بیشک وه حکیم وعلیم ہے
احمد رضا خان بریلوی
انہوں نے کہا تمہارے رب نے یونہی فرمادیا، اور وہی حکیم دانا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے کہا! تمہارے پروردگار نے ایسا ہی کہا ہے بےشک وہ بڑا علیم و حکیم ہے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا تیرے رب نے ایسے ہی فرمایا ہے، یقینا وہی کمال حکمت والا، بے حد علم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مہمان اور میزبان ؟ ٭٭

یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔ حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُ‌دُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» ۱؎ [4-النساء:86] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی ‘۔ پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔

ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“ اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ خلیل اللہ (‏‏‏‏علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے ‘۔ جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَ‌أَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَ‌هُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْ‌سِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَ‌أَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْ‌نَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَ‌اءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ‏‏‏‏، یعنی ’ آپ (‏‏‏‏علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں ‘، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ’ تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب ‘۔ اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔‏‏‏‏“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ’ بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ ‘ اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»
30۔ 1 یعنی جس طرح ہم نے تجھے کہا ہے، یہ ہم نے اپنی طرف سے نہیں کہا ہے، بلکہ تیرے رب نے اسی طرح کہا ہے جس کی ہم تجھے اطلاع دے رہے ہیں، اس لئے اس پر تعجب کی ضرورت ہے نہ کہ شک کرنے کی، اس لئے کہ اللہ جو چاہتا ہے وہ لا محالہ ہو کر رہتا ہے۔
(آیت 30) {قَالُوْا كَذٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ …:} فرشتوں نے کہا بے شک آپ ایسی ہی ہیں، مگر ہم بھی اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے بلکہ آپ کے رب کی بات بتا رہے ہیں، اس نے ایسے ہی فرمایا ہے، یقینا وہ کمال حکمت اور علم والا ہے، نہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر ہے اور نہ اس کے کسی کام میں کوئی خامی یا غلطی ہے۔
قَالَ فَمَا خَطۡبُکُمۡ اَیُّہَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ابراہیمؑ نے کہا "اے فرستادگان الٰہی، کیا مہم آپ کو در پیش ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
(حضرت ابرہیم علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتو!) تمہارا کیا مقصد ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
ابراہیم نے فرمایا تو اے فرشتو! تم کس کام سے آئے
علامہ محمد حسین نجفی
آپ (ابراہیم(ع)) نے کہا اے فرستادو آخر تمہاری مہم کیا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
کہا تو اے بھیجے ہوئے (قاصدو!) تمھارا معاملہ کیا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭

پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ’ جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی ‘، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔ سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَ‌أَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِ‌ينَ» ۱؎ [29-العنكبوت:32] ‏‏‏‏ یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔ اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ’ اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا ‘، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔

چنانچہ فرما دیا گیا کہ ’ وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں ‘۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔ معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (‏‏‏‏امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم) پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں ‘۔
31۔ 1 یعنی اس بشارت کے علاوہ تمہارا اور کیا کام اور مقصد ہے جس کے لئے تمہیں بھیجا گیا ہے۔
(آیت 31) ➊ { قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ:} جب ابراہیم علیہ السلام مہمانوں کے کھانا نہ کھانے پر خوف زدہ ہوئے اور صاف اظہار بھی کر دیا: «‏‏‏‏اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ» [ الحجر: ۵۲ ] ”ہم تو تم سے ڈرنے والے ہیں۔“ کیونکہ انھیں ان کے فرشتہ ہونے کا اندازہ ہو گیا تھا اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ فرشتوںکا اس طرح آنا معمولی بات نہیں ہوتی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ» [ الحجر: ۸ ] ”ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق (عذاب) کے ساتھ اور اس وقت وہ مہلت دیے گئے نہیں ہوتے۔“ اس لیے وہ شدید ڈر گئے، تو فرشتوں نے ان کا خوف دور کرنے کے لیے ان سے دو باتیں کہیں، ایک یہ: «‏‏‏‏لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍ» [ ہود: ۷۰ ] ”ڈرو نہیں، کیونکہ ہم لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔“ یعنی آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں، ہماری منزل مقصود دوسری ہے۔ دوسری بات انھوں نے یہ کی کہ ہم آپ کو بیٹے اور پوتے اسحاق و یعقوب کی بشارت دینے آئے ہیں۔ (دیکھیے ہود: ۷۱) جب ابراہیم علیہ السلام کو اطمینان ہو گیا تو انھوں نے پوچھا، تو اے بھیجے جانے والے فرشتو! (قومِ لوط کے ساتھ) تمھارا معاملہ کیا ہے اور تم ان کے متعلق کیا کرنا چاہتے ہو؟ یاد رہے! {”خَطْبٌ“} کا لفظ عموماً کسی اہم یا سخت معاملے کے متعلق ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ ➋ اس سارے واقعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انبیاء علیھم السلام عالم الغیب نہیں ہوتے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ حجر (۶۲) کی تفسیر۔
قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰی قَوۡمٍ مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انہوں نے کہا "ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے جواب دیا کہ ہم گناه گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بولے ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے کہا کہ ہم ایک مجرم قوم (قومِ لوط(ع)) کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا بے شک ہم کچھ گناہ گار لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭

پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ’ جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی ‘، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔ سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَ‌أَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِ‌ينَ» ۱؎ [29-العنكبوت:32] ‏‏‏‏ یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔ اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ’ اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا ‘، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔

چنانچہ فرما دیا گیا کہ ’ وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں ‘۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔ معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (‏‏‏‏امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم) پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں ‘۔
32۔ 1 اس سے مراد قوم لوط ہے جن کا سب سے بڑا جرم لواطت تھا۔
(آیت 32تا34) {قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِيْنَ …:} ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۸۳)، حجر (۵۸، ۷۴) اور سورۂ عنکبوت (۳۱ تا ۳۵)۔
لِنُرۡسِلَ عَلَیۡہِمۡ حِجَارَۃً مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿ۙ۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تاکہ اُس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ ہم ان پر مٹی کے کنکر برسائیں
احمد رضا خان بریلوی
کہ ان پر گارے کے بنائے ہوئے پتھر چھوڑیں،
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ ہم ان پر ایسے سنگ گل (سخت مٹی کے پتھر) برسائیں۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر (کھنگر) پھینکیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭

پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ’ جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی ‘، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔ سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَ‌أَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِ‌ينَ» ۱؎ [29-العنكبوت:32] ‏‏‏‏ یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔ اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ’ اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا ‘، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔

چنانچہ فرما دیا گیا کہ ’ وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں ‘۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔ معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (‏‏‏‏امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم) پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں ‘۔
33۔ 1 برسائیں کا مطلب ہے، ان کنکریوں سے انہیں رجم کردیں۔ یہ کنکریاں خالص پتھر کی تھیں نہ آسمانی اولے تھے، بلکہ مٹی کی بنی ہوئی تھیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
مُّسَوَّمَۃً عِنۡدَ رَبِّکَ لِلۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو آپ کے رب کے ہاں حد سے گزر جانے والوں کے لیے نشان زدہ ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
جو تیرے رب کی طرف سے نشان زده ہیں، ان حد سے گزر جانے والوں کے لیے
احمد رضا خان بریلوی
جو تمہارے رب کے پاس حد سے بڑھنے والوں کے لیے نشان کیے رکھے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جو آپ(ع) کے پروردگار کی طرف سے نشان زدہ ہیں حد سے بڑھنے والوں کیلئے۔
عبدالسلام بن محمد
جن پر تیرے رب کے ہاں حد سے بڑھنے والوں کے لیے نشان لگائے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭

پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ’ جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی ‘، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔ سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَ‌أَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِ‌ينَ» ۱؎ [29-العنكبوت:32] ‏‏‏‏ یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔ اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ’ اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا ‘، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔

چنانچہ فرما دیا گیا کہ ’ وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں ‘۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔ معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (‏‏‏‏امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم) پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں ‘۔
34۔ 1 مسومۃ (نامزد یا نشان زدہ) ان کی مخصوص علامت تھی جن سے انہیں پہچان لیا جاتا تھا یا وہ عذاب کے لیے مخصوص تھیں، بعض کہتے ہیں کہ جس کنکری سے موت جس کی موت واقع ہوئی تھی اس پر اسی کا نام لکھا ہوا تھا، مسرفین جو شرک و ضلالت میں بہت بڑھے ہوئے تھے اور فسق و فجور میں حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ کَانَ فِیۡہَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر ہم نے اُن سب لوگوں کو نکال لیا جو اُس بستی میں مومن تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس جتنے ایمان والے وہاں تھے ہم نے انہیں نکال لیا
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے اس شہر میں جو ایمان والے تھے نکال لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
سو وہاں جتنے اہلِ ایمان تھے ہم نے ان کو نکال لیا۔
عبدالسلام بن محمد
سو ہم نے اس (بستی) میں ایمان والوں سے جو بھی تھا نکال لیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭

پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ’ جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی ‘، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔ سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَ‌أَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِ‌ينَ» ۱؎ [29-العنكبوت:32] ‏‏‏‏ یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔ اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ’ اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا ‘، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔

چنانچہ فرما دیا گیا کہ ’ وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں ‘۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔ معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (‏‏‏‏امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم) پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں ‘۔
35۔ 1 یعنی عذاب آنے سے پہلے ہم ان کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دے دیا تاکہ وہ عذاب سے محفوظ رہیں۔
(آیت 35) {فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ:} عذاب آنے سے پہلے لوط علیہ السلام کے گھر والوں کو اس بستی سے نکالنے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۸۱) اور سورۂ حجر (۶۵)۔
فَمَا وَجَدۡنَا فِیۡہَا غَیۡرَ بَیۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۚ۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہاں ہم نے ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے وہاں مسلمانوں کا صرف ایک ہی گھر پایا
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے وہاں ایک ہی گھر مسلمان پایا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ایک گھر کے سوا اور مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے اس میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا کوئی نہ پایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭

پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ’ جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی ‘، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔ سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَ‌أَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِ‌ينَ» ۱؎ [29-العنكبوت:32] ‏‏‏‏ یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔ اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ’ اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا ‘، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔

چنانچہ فرما دیا گیا کہ ’ وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں ‘۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔ معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (‏‏‏‏امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم) پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں ‘۔
36۔ 1 اور یہ اللہ کے پیغمبر حضرت لوط ؑ کا گھر تھا جس میں دو بیٹیاں اور کچھ ایمان لانے والے تھے، کہتے ہیں کہ کل تیرہ آدمی تھے۔ ان میں حضرت لوط ؑ کا گھر تھا، جس میں ان کی دو بیٹیاں اور کچھ ایمان لانے والے تھے ان میں حضرت لوط ؑ کی بیوی شامل نہ تھی بلکہ وہ اپنی قوم کے ساتھ عذاب سے ہلاک ہونے والوں میں سے تھی۔ (ایسر التفاسیر) اسلام کے معنی ہیں اطاعت انقیاد اللہ کے حکموں پر سر اطاعت خم کردینے والا مسلم ہے اس اعتبار سے ہر مومن مسلمان ہے اسی لیے پہلے ان کے لیے مومن کا لفظ استعمال کیا، اور پھر ان ہی کے لیے مسلم کا لفظ بولا گیا ہے اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ ان کے مصداق میں کوئی فرق نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگ مومن اور مسلم کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ قرآن نے جو کہیں مومن اور مسلم کا لفظ استعمال کیا ہے۔ تو وہ ان معانی کے اعتبار سے ہے جو عربی لغت کی رو سے ان کے درمیان ہے اس لیے لغوی استعمال کے مقابلے میں حقیقت شرعیہ کا اعتبار زیادہ ضروری ہے اور حقیقت شرعیہ کے اعتبار سے ان کے درمیان صرف وہی فرق ہے حدیث جبرائیل ؑ سے ثابت ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اسلام کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا لا الہ الا اللہ کی شہادت، اقامت صلوۃ، ایتائے زکوٰۃ، حج اور صیام رمضان۔ اور جب ایمان کی بابت پوچھا گیا تو فرمایا، اللہ پر ایمان لانا، اس کے ملائکہ، کتابوں، رسولوں اور تقدیر (خیر وشر کے من جانب اللہ ہونے) پر ایمان رکھنا، یعنی دل سے ان چیزوں پر یقین رکھنا ایمان اور احکام و فرائض کی ادائیگی اسلام ہے۔ اس لحاظ سے ہر مومن مسلمان اور ہر مسلمان مومن ہے (فتح القدیر) اور جو مومن اور مسلمان کے درمیان میں فرق کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے کہ یہاں قرآن نے ایک ہی گروہ کے لیے مومن اور مسلمان کے الفاظ استعمال کیے ہیں لیکن ان کے درمیان جو فرق ہے اس کی رو سے ہر مومن مسلم بھی ہے تاہم ہر مسلم کا مومن ہونا ضروری نہیں (ابن کثیر) بہرحال یہ ایک علمی بحث ہے فریقین کے پاس اپنے اپنے موقف پر استدلال کے لیے دلائل موجود ہیں۔
(آیت 36) {فَمَا وَجَدْنَا فِيْهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ:} یعنی اس بستی میں مسلمانوں کا صرف ایک گھر تھا اور وہ لوط علیہ السلام کا گھر تھا، جنھیں بیوی کے سوا اس کے تمام افراد کو ساتھ لے کر نکل جانے کا حکم ہوا۔ ان دونوں آیات سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا ہو تو وہی ایمان بھی ہے، اس صورت میں اسلام و ایمان اور مسلم و مومن ایک ہی چیز ہیں۔ ہاں جب اسلام حقیقی نہ ہو، بلکہ صرف ظاہری اعمال پر مشتمل ہو تو اسلام اور ایمان میں فرق ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ اور محدثین یہی فرماتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ حجرات (۱۴، ۱۵) کی تفسیر۔
وَ تَرَکۡنَا فِیۡہَاۤ اٰیَۃً لِّلَّذِیۡنَ یَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ ﴿ؕ۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کے بعد ہم نے وہاں بس ایک نشانی اُن لوگوں کے لیے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وہاں ہم نے ان کے لیے جو درد ناک عذاب کا ڈر رکھتے ہیں ایک (کامل) علامت چھوڑی
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے اس میں نشانی باقی رکھی ان کے لیے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے اس (واقعہ) میں ایک نشانی چھوڑ دی ہے ان لوگوں کے لئے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اس میں ان لوگوں کے لیے ایک نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭

پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ’ جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی ‘، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔ سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَ‌أَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِ‌ينَ» ۱؎ [29-العنكبوت:32] ‏‏‏‏ یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔ اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ’ اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا ‘، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔

چنانچہ فرما دیا گیا کہ ’ وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں ‘۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔ معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (‏‏‏‏امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم) پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں ‘۔
37۔ 1 یہ آیت یا کامل علامت وہ آثار عذاب ہیں جو ان ہلاک شدہ بستیوں میں ایک عرصے تک باقی رہے۔ اور یہ علامت بھی انہی کے لئے ہے جو عذاب الٰہی سے ڈرنے والے ہیں، کیونکہ وعظ و نصیحت کا اثر بھی وہی قبول کرتے ہیں اور آیات میں غور و فکر بھی وہی کرتے ہیں۔
(آیت 37){ وَ تَرَكْنَا فِيْهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ:} اس بستی کو عذاب الیم سے ڈرنے والوں کے لیے نشانی اس لیے قرار دیا کہ وہی اس سے عبرت حاصل کرتے اور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ڈرنے کے بجائے سرکشی اختیار کرتے اور خواہش نفس کے پیچھے چلتے ہیں ان کے لیے ہر نشانی کفر اور سرکشی میں اضافے کا باعث ہی بنتی ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ حجر (۷۵ تا ۷۷) اور سورۂ عنکبوت (۳۵)۔
وَ فِیۡ مُوۡسٰۤی اِذۡ اَرۡسَلۡنٰہُ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور (تمہارے لیے نشانی ہے) موسیٰؑ کے قصے میں جب ہم نے اُسے صریح سند کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا
مولانا محمد جوناگڑھی
موسیٰ (علیہ السلام کے قصے) میں (بھی ہماری طرف سے تنبیہ ہے) کہ ہم نے اسے فرعون کی طرف کھلی دلیل دے کر بھیجا
احمد رضا خان بریلوی
اور موسیٰ میں جب ہم نے اسے روشن سند لے کر فرعون کے پاس بھیجا
علامہ محمد حسین نجفی
اور جنابِ موسیٰ (ع) کے قصہ میں بھی (ایک نشانی ہے) جبکہ ہم نے ان کو فرعون کے پاس ایک واضح سند کے ساتھ بھیجا۔
عبدالسلام بن محمد
اور موسیٰ میں(بھی ایک نشانی ہے) جب ہم نے اسے فرعون کی طرف ایک واضح دلیل دے کر بھیجا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انجام تکبر ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ’ جس طرح قوم لوط کے انجام کو دیکھ کر لوگ عبرت حاصل کر سکتے ہیں اسی قسم کا فرعونیوں کا واقعہ ہے ہم نے ان کی طرف اپنے کلیم پیغمبر موسیٰ علیہ السلام کو روشن دلیلیں اور واضح برہان دے کر بھیجا لیکن ان کے سردار فرعون نے جو تکبر کا مجسمہ تھا حق کے ماننے سے عناد کیا اور ہمارے فرمان کو بےپرواہی سے ٹال دیا ‘۔ اس دشمن الٰہی نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر اپنے راج لشکر کے بل بوتے پر رب کے فرمان کی عزت نہ کی اور اپنے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر موسیٰ علیہ السلام کی ایذاء رسانی پر اتر آیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ یا تو جادوگر ہے یا دیوانہ ہے ’ پس اس ملامتی کافر، فاجر، معاند، متکبر شخص کو ہم نے اس کے لاؤ لشکر سمیت دریا برد کر دیا ‘۔ ’ اسی طرح عادیوں کے سراسر عبرتناک واقعات بھی تمہارے گوش گزار ہو چکے ہیں جن کی سیاہ کاریوں کے وبال میں ان پر بے برکت ہوائیں بھیجی گئیں جن ہواؤں نے سب کے حلیے بگاڑ دئیے ایک لپٹ جس چیز کو لگ گئی وہ گلی سڑی ہڈی کی طرح ہو گئی ‘۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہوا دوسری زمین میں مسخر ہے جب اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو ہلاک کرنا چاہا تو ہوا کے داروغہ کو حکم دیا کہ ان کی تباہی کے لیے ہوائیں چلا دو، فرشتے نے کہا: کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا وزن کر دوں جتنا بیل کا نتھنا ہوتا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: نہیں، اگر اتنا وزن کر دیا تو زمین کو اور اس کائنات کو الٹ دے گی بلکہ اتنا وزن کرو جتنا انگوٹھی کا حلقہ ہوتا ہے یہ تھیں وہ ہوائیں جو کہ جہاں جہاں سے گزر گئیں تمام چیزوں کو تہ و بالا کرتی گئیں“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/22:ضعیف] ‏‏‏‏ اس حدیث کا فرمان رسول ہونا تو منکر ہے سمجھ سے زیادہ قریب بات یہی ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول ہے یرموک کی لڑائی میں انہیں دو بورے اہل کتاب کی کتابوں کے ملے تھے ممکن ہے انہی میں سے یہ بات آپ نے بیان فرمائی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» یہ ہوائیں جنوبی تھیں، { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میری مدد پروا ہواؤں سے کی گئی ہے اور عادی پچھوا ہواؤں سے ہلاک ہوئے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4105] ‏‏‏‏

ٹھیک اسی طرح ثمودیوں کے حالات پر اور ان کے انجام پر غور کرو کہ ان سے کہہ دیا گیا کہ ایک وقت مقررہ تک تو تم فائدہ اٹھاؤ جیسے اور جگہ فرمایا «وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَـهُمْ فَاسْتَحَبُّواْ الْعَمَى عَلَى الْهُدَى فَأَخَذَتْهُمْ صَـعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُونِ» ۱؎ [41-فصلت:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ ثمودیوں کو ہم نے ہدایت دی لیکن انہوں نے ہدایت پر ضلالت کو پسند کیا جس کے باعث ذلت کے عذاب کی ہولناک چیخ نے ان کے پتے پانی کر دئیے اور کلیجے پھاڑ دئیے یہ صرف ان کی سرکشی سرتابی نافرمانی اور سیاہ کاری کا بدلہ تھا ‘۔

ان پر ان کے دیکھتے دیکھتے عذاب الٰہی آ گیا تین دن تک تو یہ انتظار میں رہے عذاب کے آثار دیکھتے رہے، آخر چوتھے دن صبح ہی صبح رب کا عذاب دفعۃً آ پڑا، حواس باختہ ہو گئے کوئی تدبیر نہ بن پڑی، اتنی بھی مہلت نہ ملی کہ کھڑے ہو کر بھاگنے کی کوشش تو کرتے یا کسی اور طرح اپنے بچاؤ کی کچھ تو فکر کر سکتے اسی طرح ان سے پہلے قوم نوح بھی ہمارے عذاب چکھ چکی ہے اپنی بدکاری اور کھلی نافرمانی کا خمیازہ وہ بھی بھگت چکی ہے یہ تمام مفصل واقعات فرعونیوں، عادیوں، ثمودیوں اور قوم نوح کے اس سے پہلے کی سورتوں کی تفسیر میں کئی بار بیان ہو چکے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 38) {وَ فِيْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ:} یعنی لوط علیہ السلام کی بستی کے علاوہ موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں بھی ان لوگوں کے لیے بڑی عبرت ہے جو عذاب الیم سے ڈرتے ہیں، جب ہم نے انھیں صریح معجزات دے کر بھیجا، جو ان کے اللہ کا پیغمبر ہونے کی واضح دلیل تھے۔
فَتَوَلّٰی بِرُکۡنِہٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوۡ مَجۡنُوۡنٌ ﴿۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تو وہ اپنے بل بوتے پر اکڑ گیا اور بولا یہ جادوگر ہے یا مجنوں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اس نےاپنے بل بوتے پر منھ موڑا اور کہنے لگا یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے لشکر سمیت پھر گیا اورت بولا جادوگر ہے یا دیوانہ،
علامہ محمد حسین نجفی
تو اس نے اپنی طاقت کے بِرتے پر رُوگردانی کی اور کہا کہ (یہ شخص) جادوگر ہےیا دیوانہ؟
عبدالسلام بن محمد
تو اس نے اپنی قوت کے سبب منہ پھیر لیا اور اس نے کہا یہ جادوگر ہے، یا دیوانہ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 39،40،41،42،43،44،45،46

گناہ گاروں کا انجام ٭٭

no t(fseer

no t(fseer

no t(fseer
39۔ 1 جانب اقویٰ کو رکن کہتے ہیں۔ یہاں مراد اس کی اپنی قوت اور لشکر ہے۔
(آیت 39) {فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ:بِرُكْنِهٖ “} میں ”باء“ سببیہ ہے۔ {”رُكْنٌ“} کسی چیز کا سہارا اور آسرا، قوت۔ یعنی اس نے اپنی سلطنت اور فوجوں کی قوت کی وجہ سے ان واضح دلائل سے منہ پھیر لیا اور حق پہچان لینے کے باوجود ایمان لانے سے انکار کر دیا اور لوگوں کو موسیٰ علیہ السلام سے برگشتہ کرنے کے لیے کہنے لگا کہ یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ اور ان کی فرعون کے ساتھ تفصیلی گفتگو، جس میں فرعون نے انھیں دیوانہ اور پھر جادوگر قرار دیا سورۂ شعراء (۱۰ تا ۳۵) میں ملاحظہ فرمائیں۔
فَاَخَذۡنٰہُ وَ جُنُوۡدَہٗ فَنَبَذۡنٰہُمۡ فِی الۡیَمِّ وَ ہُوَ مُلِیۡمٌ ﴿ؕ۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخر کار ہم نے اُسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا اور وہ ملامت زدہ ہو کر رہ گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
بالﺂخر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو اپنے عذاب میں پکڑ کر دریا میں ڈال دیا وه تھا ہی ملامت کے قابل
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں ڈال دیا اس حال میں کہ وہ اپنے آپ کو ملامت کررہا تھا
علامہ محمد حسین نجفی
انجامِ کار ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا درآنحالیکہ وہ قابلِ ملامت تھا۔
عبدالسلام بن محمد
پس ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا، پھر انھیں سمندر میں پھینک دیا، اس حال میں کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 39،40،41،42،43،44،45،46

گناہ گاروں کا انجام ٭٭

no t(fseer

no t(fseer

no t(fseer
40۔ 1 یعنی اس کے کام ہی ایسے تھے کہ جن پر وہ ملامت ہی کا مستحق تھا
(آیت 40) {فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ …: ”أَلَامَ يُلِيْمُ“} (افعال) ایسا کام کرنا جس پر ملامت کی جائے۔ {” مُلِيْمٌ “} مستحق ملامت، ایسا کام کرنے والا جس پر اسے ملامت کی جائے۔ یعنی وہ ایسا ظالم و سرکش تھا کہ اس کے سمندر میں لشکر سمیت غرق ہونے پر کسی نے اس کے حق میں کوئی کلمۂ خیر نہیں کہا، بلکہ ہر شخص کے منہ سے اس کے لیے ملامت اور پھٹکار ہی نکلی، جس نے سنا یہی کہا کہ ان کے ساتھ ایسے ہی ہونا چاہیے تھا۔ خس کم جہاں پاک۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ» [ الدخان: ۲۹ ] ”پھر نہ آسمان ان پر رویا نہ زمین۔“ سمندر میں پھینکے جانے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۹۰ تا ۹۲)، طٰہٰ (۷۷، 78) اور شعراء (۵۲ تا ۶۷)۔
وَ فِیۡ عَادٍ اِذۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمُ الرِّیۡحَ الۡعَقِیۡمَ ﴿ۚ۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور (تمہارے لیے نشانی ہے) عاد میں، جبکہ ہم نے ان پر ایک ایسی بے خیر ہوا بھیج دی
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی طرح عادیوں میں بھی (ہماری طرف سے تنبیہ ہے) جب کہ ہم نے ان پر خیر وبرکت سے خالی آندھی بھیجی
احمد رضا خان بریلوی
اور عاد میں جب ہم نے ان پر خشک آندھی بھیجی
علامہ محمد حسین نجفی
اور قبیلۂ عاد (کی داستان) میں بھی (نشانی موجود ہے) جبکہ ہم نے ان پر ایک ایسی بےبرکت ہوا بھیجی۔
عبدالسلام بن محمد
اور عاد میں، جب ہم نے ان پر بانجھ (خیرو برکت سے خالی) آندھی بھیجی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 39،40،41،42،43،44،45،46

گناہ گاروں کا انجام ٭٭

no t(fseer

no t(fseer

no t(fseer
41۔ 1 ای ترکنا فی قصۃ عاد آیۃ عاد کے قصے میں بھی ہم نے نشانی چھوڑی۔ 41۔ 2 الریح العقیم (بانجھ ہوا) جس میں خیر و برکت نہیں تھی، وہ ہوا درختوں کو ثمر آور کرنے والی تھی نہ بارش کی پیامبر، بلکہ صرف ہلاکت اور عذاب کی ہوا تھی۔
(آیت 41) {وَ فِيْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ:} یعنی قوم عاد میں بھی ہم نے ایک نشانی اور بڑی عبرت چھوڑی۔ {” الْعَقِيْمَ “} وہ رحم یا عورت جس سے بچہ پیدا نہ ہو، ایسے مرد کو بھی {”عقيم“} کہتے ہیں، پھر ہر اس چیز کو بھی جو خیر و برکت سے خالی ہو۔ قوم عاد پر جو آندھی مسلط کی گئی وہ بھی ہر خیر و برکت سے خالی اور سراسر بربادی اور تباہی تھی، اس لیے اسے {” الْعَقِيْمَ “} فرمایا۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ حاقہ (۶ تا ۸)، قمر (۱۹، ۲۰) اور سورۂ احقاف (۲۴، ۲۵)۔
مَا تَذَرُ مِنۡ شَیۡءٍ اَتَتۡ عَلَیۡہِ اِلَّا جَعَلَتۡہُ کَالرَّمِیۡمِ ﴿ؕ۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
وه جس جس چیز پر گرتی تھی اسے بوسیده ہدی کی طرح (چورا چورا) کردیتی تھی
احمد رضا خان بریلوی
جس چیز پر گزرتی اسے گلی ہوئی چیز کی طرح چھوڑتی
علامہ محمد حسین نجفی
جو جس چیز سے بھی گزرتی تھی اسے ریزہ ریزہ کر دیتی تھی۔
عبدالسلام بن محمد
جو کسی چیز کو نہ چھوڑتی تھی جس پر سے گزرتی مگر اسے بوسیدہ ہڈی کی طرح کر دیتی تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 39،40،41،42،43،44،45،46

گناہ گاروں کا انجام ٭٭

no t(fseer

no t(fseer

no t(fseer
42۔ 1 یہ اس ہوا کی تاثیر تھی جو قوم عاد پر بطور عذاب بھیجی گئی تھی۔ یہ تند تیز ہوا، سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی (الحاقہ)
(آیت 42) {مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ اَتَتْ عَلَيْهِ …: ”اَلرَّمِيْمُ“} بوسیدہ، پرانی، گلی ہوئی ہڈی۔
وَ فِیۡ ثَمُوۡدَ اِذۡ قِیۡلَ لَہُمۡ تَمَتَّعُوۡا حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور (تمہارے لیے نشانی ہے) ثمود میں، جب اُن سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک مزے کر لو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ﺛمود (کے قصے) میں بھی (عبرت) ہے جب ان سے کہا گیا کہ تم کچھ دنوں تک فائده اٹھا لو
احمد رضا خان بریلوی
اور ثمود میں جب ان سے فرمایا گیا ایک وقت تک برت لو
علامہ محمد حسین نجفی
اور قبیلۂ ثمود کی سرگزشت میں بھی (ایک نشانی ہے) جبکہ ان سے کہا گیا کہ تم ایک خاص وقت تک (دنیا کی نعمتوں) سے فائدہ اٹھا لو۔
عبدالسلام بن محمد
اور ثمود میں، جب ان سے کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 39،40،41،42،43،44،45،46

گناہ گاروں کا انجام ٭٭

no t(fseer

no t(fseer

no t(fseer
43۔ 1 یعنی جب انہوں نے اپنے ہی طلب کردہ معجزے اونٹنی کو قتل کردیا، تو ان سے کہہ دیا گیا کہ اب تین دن اور تم دنیا کے مزے لوٹ لو، تین دن کے بعد تم ہلاک کردیئے جاؤ گے۔ یہ اسی طرف اشارہ ہے بعض نے اسے حضرت صالح ؑ کی ابتدائے نبوت کا قول قرار دیا ہے۔ الفاظ اس مفہوم کے بھی متحمل ہیں بلکہ سیاق سے یہی معنی زیادہ قریب ہے۔
(آیت 44،43) {وَ فِيْ ثَمُوْدَ اِذْ قِيْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِيْنٍ …:} اس کی تفسیر میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ جب انھوں نے اونٹنی کو کاٹ دیا تو ان سے کہا گیا کہ تین دن تک خوب فائدہ اٹھا لو، اس کے بعد تم پر عذاب آ جائے گا۔ ان تین دنوں میں وہ تائب ہو سکتے تھے، مگر وہ اپنی سرکشی پر اور صالح علیہ السلام کی تکذیب پر اڑے رہے، تو تیسرے دن ان کے دیکھتے دیکھتے ایک ہولناک چیخ بلند ہوئی (ہود: ۶۷) جس کے ساتھ نہایت خوفناک کڑک والی بجلی گری، جس نے انھیں بھسم کر دیا اور وہ اس طرح نیست و نابود ہوئے جیسے کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا۔ فرمایا: «كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا» ‏‏‏‏ [ ھود: ۶۸ ] ”جیسے وہ ان میں رہے ہی نہ تھے۔“ دوسرا قول یہ ہے کہ اس {” تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِيْنٍ “} (ایک وقت تک خوب فائدہ اٹھا لو) کہنے سے مراد صالح علیہ السلام کا ان کی طرف مبعوث ہونے کے وقت کا خطاب ہے کہ دنیا میں تمھیں موت تک مہلت ہے، اس میں خوب فائدہ اٹھا لو، مگر اس اونٹنی کو نقصان نہ پہنچانا ورنہ تم پر عذاب آ جائے گا، مگر انھوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور اونٹنی کو کاٹ دیا تو انھیں صاعقہ نے پکڑ لیا۔ آیت کے الفاظ میں دونوں معنوں کی گنجائش ہے اور دونوں بیک وقت بھی مراد ہو سکتے ہیں۔
فَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہِمۡ فَاَخَذَتۡہُمُ الصّٰعِقَۃُ وَ ہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ ﴿۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر اس تنبیہ پر بھی انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی آخر کار ان کے دیکھتے دیکھتے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے اُن کو آ لیا
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی جس پر انہیں ان کے دیکھتے دیکھتے (تیز وتند) کڑاکے نے ہلاک کر دیا
احمد رضا خان بریلوی
تو انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کی آنکھوں کے سامنے انہیں کڑک نے آلیا
علامہ محمد حسین نجفی
تو انہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی تو ان کو ایک کڑک نے پکڑ لیا درآنحالیکہ وہ دیکھ رہے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر انھوں نے اپنے رب کے حکم سے سر کشی کی تو انھیں کڑک نے پکڑ لیا اور وہ دیکھ رہے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 39،40،41،42،43،44،45،46

گناہ گاروں کا انجام ٭٭

no t(fseer

no t(fseer

no t(fseer
44۔ 1 (کڑاکا) آسمانی چیخ تھی اور اس کے ساتھ (زلزلہ) تھا جیسا کہ (فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ 78؀) 7۔ الاعراف:78) میں ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مِنۡ قِیَامٍ وَّ مَا کَانُوۡا مُنۡتَصِرِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر نہ اُن میں اٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کر سکتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس نہ تو وه کھڑے ہو سکے اور نہ بدلہ لے سکے
احمد رضا خان بریلوی
تو وہ نہ کھڑے ہوسکے اور نہ وہ بدلہ لے سکتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اس کے بعد) وہ نہ تو کھڑے ہی ہو سکے اور نہ ہی اپنی کوئی مدافعت کر سکے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر نہ انھوں نے کسی طرح کھڑے ہونے کی طاقت پائی اور نہ وہ بدلہ لینے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 39،40،41،42،43،44،45،46

گناہ گاروں کا انجام ٭٭

no t(fseer

no t(fseer

no t(fseer
45۔ 1 چہ جائیکہ وہ بھاگ سکیں۔ 45۔ 2 یعنی اللہ کے عذاب سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکے۔
(آیت 45){ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِيَامٍ …: ” مُنْتَصِرِيْنَ”اِنْتِصَارٌ“} کے لفظ میں اپنے آپ کو کسی سے بچانے کا مفہوم بھی شامل ہے اور بدلا لینے کا بھی۔ یعنی جب وہ عذاب کے تھپیڑے سے زمین پر گرے تو پھر نہ کسی طرح اٹھ سکے اور نہ اس سے بچاؤ کر سکے، بدلا لینا تو بہت دور کی بات ہے۔
وَ قَوۡمَ نُوۡحٍ مِّنۡ قَبۡلُ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿٪۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ان سب سے پہلے ہم نے نوحؑ کی قوم کو ہلاک کیا کیونکہ وہ فاسق لوگ تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کا بھی اس سے پہلے (یہی حال ہو چکا تھا) وه بھی بڑے نافرمان لوگ تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان سے پہلے قوم نوح کو ہلاک فرمایا، بیشک وہ فاسق لوگ تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور قومِ نوح(ع) کا بھی اس سے پہلے (یہی حال ہوا) ہم نے اسے ہلاک کر دیا کیونکہ وہ بڑے نافرمان لوگ تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس سے پہلے نوح کی قوم کو، یقینا وہ نافرمان لوگ تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 39،40،41،42،43،44،45،46

گناہ گاروں کا انجام ٭٭

no t(fseer

no t(fseer

no t(fseer
46۔ 1 قوم نوح، عاد، فرعون اور ثمود وغیرہ بہت پہلے گزر چکی ہے اس نے بھی اطاعت الٰہی کی بجائے اسکی بغاوت کا راستہ اختیار کیا تھا۔ بالآخر اسے طوفان میں ڈبو دیا گیا۔
(آیت 46) {وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ …:} رازی نے یہاں ایک نکتہ بیان فرمایا ہے کہ ان پانچ اقوام کے ذکر میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں انھی چیزوں کے ساتھ عذاب دیا جو ان کے وجود اور قیام کا باعث تھیں۔ وہ چار چیزیں ہیں، مٹی، پانی، ہوا اور آگ۔ قومِ لوط کھنگر مٹی کے پتھروں کے ساتھ ہلاک ہوئی، فرعون اور قومِ نوح پانی کے ساتھ، عاد ہوا کے ساتھ اور ثمود آگ کے ساتھ تباہ و برباد کیے گئے۔
وَ السَّمَآءَ بَنَیۡنٰہَا بِاَیۡىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوۡسِعُوۡنَ ﴿۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا ہے اور ہم اِس کی قدرت رکھتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمان کو ہم نے (اپنے) ہاتھوں سے بنایا ہے اور یقیناً ہم کشادگی کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں سے بنایا اور بیشک ہم وسعت دینے والے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے آسمان کو (اپنی) قدرت سے بنایا اور بیشک ہم زیادہ وسعت دینے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور آسمان، ہم نے اسے قوت کے ساتھ بنایا اور بلاشبہ ہم یقینا وسعت والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق کائنات ٭٭

زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ’ ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنا دیا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ثوری رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ’ ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کر دیا ہے اور قائم رکھا ہے، زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لیے بچھونا بنا دیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے، تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے، جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس لیے کہ تمہیں نصیحت حاصل ہو تم جان لو کہ ان کا سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ لاشریک اور یکتا ہے پس تم اس کی طرف دوڑو اپنی توجہ کا مرکز صرف اسی کو بناؤ اپنے تمام تر کاموں میں اسی کی ذات پر اعتماد کرو تو تم سب کو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا میرے کھلم کھلا خوف دلانے کا لحاظ رکھنا ‘۔
47۔ 1 السماء منصوب ہے بنینا محذوف کی وجہ سے بنینا السماء بنیناھا 47۔ 2 یعنی پہلے ہی بہت وسیع ہے لیکن ہم نے اس کو اور بھی زیادہ وسیع کرنے کی طاقت رکھتے ہین۔ یا آسمان سے بارش برسا کر روزی کشادہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں وُسْع (طاقت وقدرت رکھنے والے) تو مطلب ہوگا ہمارے اندر اس جیسے اور آسمان بنانے کی بھی طاقت وقدرت موجود ہے۔ ہم آسمان و زمین بنا کر تھک نہیں گئے ہیں بلکہ ہماری قدرت طاقت کی کوئی انتہا ہی نہیں ہے۔
(آیت 47) ➊ { وَ السَّمَآءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ:} سورت کی ابتدا سے قیامت اور جزا و سزا کے حق ہونے کا بیان چلا آ رہا ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے کئی قسمیں کھائیں اور دوبارہ زندہ کرنے پر اپنے قادر ہونے کے بہت سے دلائل پیش فرمائے، جن میں آسمان و زمین کا خصوصاً ذکر فرمایا۔ درمیان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی اور کفار کو تنبیہ کے لیے قیامت اور پیغمبروں کو جھٹلانے والی اقوام کے انجامِ بد کا ذکر فرمایا۔ منکرینِ قیامت کا سب سے بڑا شبہ یہ ہے کہ مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندگی کیسے ممکن ہے؟ اس لیے اللہ تعالیٰ اس شبہے کے ردّ کے لیے آسمان و زمین کا خاص طور پر ذکر فرماتے ہیں، کیونکہ انسان کو نظر آنے والی مخلوقات میں یہ سب سے بڑے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ‏‏‏‏ [ المؤمن: ۵۷ ] ”یقینا آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنا لوگوں کو پیدا کرنے سے بہت بڑا ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ یہاں آخرت کے حق میں تاریخی دلائل ذکر کرنے کے بعد دوبارہ پھر اس کے ثبوت میں آفاقی دلائل پیش کیے جا رہے ہیں۔ قرآن مجید اسی طرح بات کو مختلف انداز سے پھیر پھیر کر بیان کرتا ہے، تاکہ وہ اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے۔ ➋ {” أَيْدٍ”يَدٌ“} کی جمع کے طور پر بھی آتا ہے جس کا معنی ہاتھ ہے اور اگر یہ معنی کیا جائے کہ ”ہم نے آسمان کو ہاتھوں کے ساتھ بنایا“ تو اس سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی، کیونکہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہیں اور اس طرح ہیں جس طرح اس کی شان کے لائق ہے، ہم نہیں جانتے نہ جان سکتے ہیں کہ کیسے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے فرمایا: «‏‏‏‏مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ» ‏‏‏‏ [ صٓ: ۷۵ ] ”تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کے لیے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا؟“ مگر یہاں {” بِاَيْىدٍ”آدَ يَئِيْدُ“} (قوی ہونا) کا مصدر ہے اور معنی اس کا ”قوت“ ہے، تنوین اس میں تعظیم کی ہے اور «‏‏‏‏وَ اَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۲۵۳ ] (اور ہم نے اسے روح القدس کے ساتھ قوت بخشی) بھی اسی سے مشتق ہے۔ اس مقام پر {” بِاَيْىدٍ “} کا یہ معنی طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَيْدِ» ‏‏‏‏ [ صٓ: ۱۷ ] ”اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کر جو قوت والا تھا۔“ یعنی اتنا عظیم آسمان بنانا معمولی کام نہیں، یہ ہماری ہی قوت ہے جس کے ساتھ ہم نے اسے اس وقت بنایا جب کچھ بھی نہیں تھا، تو ہم تمھیں دوبارہ کیوں نہیں بنا سکتے؟ آسمان کے لیے {”خَلَقْنَاهَا“} کے بجائے {” بَنَيْنٰهَا “} کا لفظ استعمال فرمایا، کیونکہ دیکھنے میں وہ ایک خیمے کی مانند نظر آتا ہے، جس کے لیے لفظ {” بِنَاءٌ“} استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر لفظ {” بِنَاءٌ“} میں بناوٹ پر غور کرنے کی دعوت بھی ہے کہ اتنے عظیم آسمان کو ستونوں کے بغیر بنانے والے کے متعلق تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ انسان ضعیف البنیان کو دوبارہ نہیں بنا سکے گا۔ پھر یہ کہنے کے بجائے کہ{”وَ بَنَيْنَا السَّمَاءَ“} (اور ہم نے آسمان کو بنایا) یہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ السَّمَآءَ بَنَيْنٰهَا» (اور آسمان، ہم نے اسے بنایا) اتنے سے لفظوں میں آسمان کا ذکر دو دفعہ فرما دیا۔ ایک لفظ {” السَّمَآءَ “} کے ساتھ اور دوسرا اس کی ضمیر {”هَا“} کے ساتھ، مقصد آسمان اور اس کی بناوٹ کی طرف اچھی طرح متوجہ کرنا ہے۔ ➌ { وَ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ:”مُوْسِعٌ “ ” أَوْسَعَ يُوْسِعُ“} (افعال) سے اسم فاعل ہے، جب کوئی وسعت والا ہو، جیسا کہ فرمایا: «عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۲۳۶ ] ”وسعت والے پر اس کی طاقت کے مطابق اور تنگی والے پر اس کی طاقت کے مطابق ہے۔“ وسعت کا لفظ قدرت اور فراخی دونوںمعنوں کے لیے آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے {”وَاسِعٌ“} بھی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ» [ البقرۃ: ۱۱۵ ] ”بے شک اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کی وسعت کی کوئی حد نہیں، اس کا وجود، حیات، علم، قدرت، حکمت وغیرہ سب لا محدود ہیں۔ {” اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ”إِنَّ“} اور ”لام“ (تاکید کے دو حرفوں) کے ساتھ اس لیے فرمایا کہ قیامت کا منکر دراصل اللہ تعالیٰ کی قدرت و وسعت کا منکر ہے اور بلاغت کا قاعدہ ہے کہ مخاطب جس قدرکسی بات کا منکر ہو اتنی ہی زیادہ تاکید کے ساتھ بات کی جاتی ہے۔ ➍ { ”أَوْسَعَ يُوْسِعُ“} کا ایک معنی وسیع کرنا بھی ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہو گا کہ ”آسمان، ہم نے اسے بنایا اور یقینا ہم وسیع کرنے والے ہیں۔“ مفسر کیلانی لکھتے ہیں: ”کائنات میں بے شمار چیزیں ایسی ہیں جن میں آج تک تخلیق اور توسیع کا عمل جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔ (بلکہ ہر چیز کا یہی حال ہے) سب سے پہلے انسان ہی کو لیجیے، اس کی نسل بڑھ رہی ہے، تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہی کائنات کا شاہکار ہے۔ پھر زمین کی پیداوار بھی اللہ تعالیٰ اسی نسبت سے بڑھاتے جا رہے ہیں۔ اس آیت میں بالخصوص آسمان کا ذکر ہے، تو آسمان کی پیدائش کا بھی یہی حال ہے، آسمان میں لاتعداد مجمع النجوم اور کہکشائیں ہیئت دانوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال کر ان کے علم کو ہر آن چیلنج کر رہی ہیں۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ہیئت دان جوں جوں پہلے سے زیادہ طاقت ور اور جدید قسم کی دور بینیں ایجاد کر رہے ہیں توں توں اس بات کا بھی انکشاف ہو رہا ہے کہ کائنات میں ہر آن مزید وسعت پیدا ہو رہی ہے۔ سیاروں کے درمیانی فاصلے بھی بڑھ رہے ہیں اور نئے نئے اجرام بھی مشاہدہ میں آ رہے ہیں۔“
وَ الۡاَرۡضَ فَرَشۡنٰہَا فَنِعۡمَ الۡمٰہِدُوۡنَ ﴿۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
زمین کو ہم نے بچھایا ہے اور ہم بڑے اچھے ہموار کرنے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور زمین کو ہم نے فرش بنا دیاہے پس ہم بہت ہی اچھے بچھانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور زمین کو ہم نے فرش کیا تو ہم کیا ہی اچھے بچھالے والے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے زمین کافرش بچھایا تو ہم کتنے اچھے فرش بچھانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور زمین، ہم نے اسے بچھا دیا، سو( ہم) اچھے بچھا نے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق کائنات ٭٭

زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ’ ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنا دیا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ثوری رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ’ ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کر دیا ہے اور قائم رکھا ہے، زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لیے بچھونا بنا دیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے، تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے، جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس لیے کہ تمہیں نصیحت حاصل ہو تم جان لو کہ ان کا سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ لاشریک اور یکتا ہے پس تم اس کی طرف دوڑو اپنی توجہ کا مرکز صرف اسی کو بناؤ اپنے تمام تر کاموں میں اسی کی ذات پر اعتماد کرو تو تم سب کو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا میرے کھلم کھلا خوف دلانے کا لحاظ رکھنا ‘۔
48۔ 1 یعنی فرش کی طرح اسے بچھا دیا ہے۔
(آیت 48) ➊ {وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا:} آسمان بنانے کی طرح زمین بچھانے کو بھی دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہونے کی دلیل کے طور پر ذکر فرمایا ہے اور {”وَفَرَشْنَا الْأَرْضَ“} کے بجائے {” وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا “} میں بھی وہی بات ملحوظ ہے جو {” وَ السَّمَآءَ بَنَيْنٰهَا “} میں ملحوظ ہے۔ زمین کی پیدائش میں اس کے گول ہونے کے ذکر کے بجائے، جو ہر ایک کی سمجھ میں آنے والی بات نہیں تھی، اس بات کا ذکر فرمایا جو ہر شخص کے مشاہدے اور استعمال میں ہے اور جس سے سب فائدہ اٹھاتے ہیں، کیونکہ اگر وہ ناہموار اور اونچی نیچی ہوتی تو اس پر ان کا اور ان کے جانوروں کا رہنا ہی ممکن نہ ہوتا، نہ وہ اس پر بیٹھ سکتے، نہ لیٹ سکتے اور نہ چل پھر سکتے اور اس خوشگوار زندگی اور آسائش کا تصور تک نہ ہوتا جو زمین کو بچھا کر اللہ تعالیٰ نے بندوں کو عطا فرما رکھی ہے۔ ➋ { فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ: ”أَيْ نَحْنُ“} یعنی ہم بہت اچھے بچھانے والے ہیں۔ ان آیات میں جمع متکلم (ہم) کا صیغہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے اظہار کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
وَ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَیۡنِ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں، شاید کہ تم اس سے سبق لو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہر چیز کو ہم نے جوڑا جوڑا پیداکیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ہر چیز کے دو جوڑ بنائے کہ تم دھیان کرو
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ہر چیز کے جو ڑے پیدا کئے (ہر چیز کو دو دو قِسم کابنایا) تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہر چیز سے ہم نے دو قسمیں بنائیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق کائنات ٭٭

زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ’ ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنا دیا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ثوری رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ’ ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کر دیا ہے اور قائم رکھا ہے، زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لیے بچھونا بنا دیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے، تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے، جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس لیے کہ تمہیں نصیحت حاصل ہو تم جان لو کہ ان کا سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ لاشریک اور یکتا ہے پس تم اس کی طرف دوڑو اپنی توجہ کا مرکز صرف اسی کو بناؤ اپنے تمام تر کاموں میں اسی کی ذات پر اعتماد کرو تو تم سب کو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا میرے کھلم کھلا خوف دلانے کا لحاظ رکھنا ‘۔
49۔ 1 یعنی ہر چیز کو جوڑا جوڑا، نر اور مادہ یا اس کی مقابل اور ضد کو بھی پیدا کیا ہے۔ جیسے روشنی اور اندھیرا، خشکی اور تری، چاند اور سورج، میٹھا اور کڑوا رات اور دن خیر اور شر زندگی اور موت ایمان اور کفر شقاوت اور سعادت جنت اور دوزخ جن وانس وغیرہ حتی کہ حیوانات کے مقابل جمادات اس لیے ضروری ہے کہ دنیا کا بھی جوڑا ہو یعنی آخرت، دنیا کے بالمقابل دوسری زندگی۔ 49۔ 2 یہ جان لو کہ ان سب کا پیدا کرنے والا صرف ایک اللہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
(آیت 49) ➊ { وَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ:} آسمان و زمین کی پیدائش کے بعد تمام موجودات کو پیدا کرنے کی کیفیت بیان فرمائی کہ جس طرح آسمان کے مقابلے میں زمین ہے اسی طرح ہم نے ہر چیز کی دو دو قسمیں بنائی ہیں، ہر ایک کے مقابلے میں دوسری چیز موجود ہے۔ چنانچہ آسمان و زمین، دن رات، خشکی و تری، اندھیرا و اجالا، موت و حیات، نیکی و بدی، جنت و دوزخ، یہاں تک کہ نباتات و حیوانات کے بھی جوڑے ہیں۔ ➋ { لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ:} تاکہ تم نصیحت حاصل کرو، توحید کو سمجھو اور جان لو کہ مخلوق جو بھی ہے اس کے مقابلے میں دوسری موجود ہے، مگر ان سب کا خالق ایک اللہ ہے، اس کا کوئی جوڑ ہے نہ ہمسر، نہ شریک اور نہ اس کے مقابلے میں کوئی ہستی ہے اور یہ بھی سمجھ لو کہ اتنی عظیم الشان کائنات کو بنانے والا تمھیں دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور تمھیں دوبارہ زندہ ہو کر اس کے حضور پیش ہونا ہے۔
فَفِرُّوۡۤا اِلَی اللّٰہِ ؕ اِنِّیۡ لَکُمۡ مِّنۡہُ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۚ۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تو دوڑو اللہ کی طرف، میں تمہارے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تم اللہ کی طرف دوڑ بھاگ (یعنی رجوع) کرو، یقیناً میں تمہیں اس کی طرف سے صاف صاف تنبیہ کرنے واﻻ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
تو اللہ کی طرف بھاگو بیشک میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
بس تم اللہ کی طرف دوڑو۔ میں تمہیں اس سے کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
پس دوڑو اللہ کی طرف، یقینا میں تمھارے لیے اس کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق کائنات ٭٭

زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ’ ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنا دیا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ثوری رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ’ ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کر دیا ہے اور قائم رکھا ہے، زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لیے بچھونا بنا دیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے، تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے، جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس لیے کہ تمہیں نصیحت حاصل ہو تم جان لو کہ ان کا سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ لاشریک اور یکتا ہے پس تم اس کی طرف دوڑو اپنی توجہ کا مرکز صرف اسی کو بناؤ اپنے تمام تر کاموں میں اسی کی ذات پر اعتماد کرو تو تم سب کو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا میرے کھلم کھلا خوف دلانے کا لحاظ رکھنا ‘۔
50۔ 1 یعنی کفر و معصیت سے توبہ کرکے فوراً بارگاہ الٰہی میں جھک جاؤ، اس میں تاخیر مت کرو۔
(آیت 50) ➊ {فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ:} یعنی جب آسمان و زمین اور کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے پر اور تمھیں دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت پر دلالت کر رہی ہے تو تم پر لازم ہے کہ اللہ کی طرف دوڑو، کفر کو ترک کرکے توحید کی طرف آؤ اور گناہوں سے توبہ کرکے اس کی رحمت کی پناہ میں آ جاؤ۔ ➋ { اِنِّيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ:} ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَثَلِيْ وَ مَثَلُ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰهُ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتٰی قَوْمًا فَقَالَ رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ، وَ إِنِّيْ أَنَا النَّذِيْرُ الْعُرْيَانُ فَالنَّجَاءَ النَّجَاءَ فَأَطَاعَتْهُ طَائِفَةٌ فَأَدْلَجُوْا عَلٰی مَهْلِهِمْ فَنَجَوْا، وَكَذَّبَتْهُ طَائِفَةٌ فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ فَاجْتَاحَهُمْ ] [بخاري، الرقاق، باب الانتہاء عن المعاصي: ۶۴۸۲ ] ”میری مثال اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ دے کر مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو ایک قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا، میں نے لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور میں ننگا ڈرانے والا ہوں، (عرب کا قدیم دستور تھا کہ دشمن کے حملے سے خبردار کرنے والا شخص کپڑے اتار دیتا اور ننگا ہو کر چیخ چیخ کر حملے سے ڈراتا) اس لیے دوڑو، دوڑو۔ تو ایک گروہ نے اس کی بات مان لی اور آرام کے ساتھ اندھیرے میں چل پڑے اور بچ کر نکل گئے اور ایک گروہ نے اسے جھٹلا دیا تو لشکر نے صبح صبح ان پر حملہ کیا اور انھیں تباہ و برباد کر دیا۔“