بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الذاريات — Surah Dhariyat
آیت نمبر 48
کل آیات: 60
قرآن کریم الذاريات آیت 48
آیت نمبر: 48 — سورۃ الذاريات islamicurdubooks.com ↗
وَ الۡاَرۡضَ فَرَشۡنٰہَا فَنِعۡمَ الۡمٰہِدُوۡنَ ﴿۴۸﴾
زمین کو ہم نے بچھایا ہے اور ہم بڑے اچھے ہموار کرنے والے ہیں
اور زمین کو ہم نے فرش بنا دیاہے پس ہم بہت ہی اچھے بچھانے والے ہیں
اور زمین کو ہم نے فرش کیا تو ہم کیا ہی اچھے بچھالے والے،
اور ہم نے زمین کافرش بچھایا تو ہم کتنے اچھے فرش بچھانے والے ہیں۔
اور زمین، ہم نے اسے بچھا دیا، سو( ہم) اچھے بچھا نے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تخلیق کائنات ٭٭

زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ’ ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنا دیا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ثوری رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ’ ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کر دیا ہے اور قائم رکھا ہے، زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لیے بچھونا بنا دیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے، تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے، جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس لیے کہ تمہیں نصیحت حاصل ہو تم جان لو کہ ان کا سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ لاشریک اور یکتا ہے پس تم اس کی طرف دوڑو اپنی توجہ کا مرکز صرف اسی کو بناؤ اپنے تمام تر کاموں میں اسی کی ذات پر اعتماد کرو تو تم سب کو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا میرے کھلم کھلا خوف دلانے کا لحاظ رکھنا ‘۔

📖 احسن البیان

48۔ 1 یعنی فرش کی طرح اسے بچھا دیا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 48) ➊ {وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا:} آسمان بنانے کی طرح زمین بچھانے کو بھی دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہونے کی دلیل کے طور پر ذکر فرمایا ہے اور {”وَفَرَشْنَا الْأَرْضَ“} کے بجائے {” وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا “} میں بھی وہی بات ملحوظ ہے جو {” وَ السَّمَآءَ بَنَيْنٰهَا “} میں ملحوظ ہے۔ زمین کی پیدائش میں اس کے گول ہونے کے ذکر کے بجائے، جو ہر ایک کی سمجھ میں آنے والی بات نہیں تھی، اس بات کا ذکر فرمایا جو ہر شخص کے مشاہدے اور استعمال میں ہے اور جس سے سب فائدہ اٹھاتے ہیں، کیونکہ اگر وہ ناہموار اور اونچی نیچی ہوتی تو اس پر ان کا اور ان کے جانوروں کا رہنا ہی ممکن نہ ہوتا، نہ وہ اس پر بیٹھ سکتے، نہ لیٹ سکتے اور نہ چل پھر سکتے اور اس خوشگوار زندگی اور آسائش کا تصور تک نہ ہوتا جو زمین کو بچھا کر اللہ تعالیٰ نے بندوں کو عطا فرما رکھی ہے۔ ➋ { فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ: ”أَيْ نَحْنُ“} یعنی ہم بہت اچھے بچھانے والے ہیں۔ ان آیات میں جمع متکلم (ہم) کا صیغہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے اظہار کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
← پچھلی آیت (47) پوری سورۃ اگلی آیت (49) →