بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الذاريات — Surah Dhariyat
آیت نمبر 43
کل آیات: 60
قرآن کریم الذاريات آیت 43
آیت نمبر: 43 — سورۃ الذاريات islamicurdubooks.com ↗
وَ فِیۡ ثَمُوۡدَ اِذۡ قِیۡلَ لَہُمۡ تَمَتَّعُوۡا حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۴۳﴾
اور (تمہارے لیے نشانی ہے) ثمود میں، جب اُن سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک مزے کر لو
اور ﺛمود (کے قصے) میں بھی (عبرت) ہے جب ان سے کہا گیا کہ تم کچھ دنوں تک فائده اٹھا لو
اور ثمود میں جب ان سے فرمایا گیا ایک وقت تک برت لو
اور قبیلۂ ثمود کی سرگزشت میں بھی (ایک نشانی ہے) جبکہ ان سے کہا گیا کہ تم ایک خاص وقت تک (دنیا کی نعمتوں) سے فائدہ اٹھا لو۔
اور ثمود میں، جب ان سے کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 39،40،41،42،43،44،45،46

گناہ گاروں کا انجام ٭٭

no t(fseer

no t(fseer

no t(fseer

📖 احسن البیان

43۔ 1 یعنی جب انہوں نے اپنے ہی طلب کردہ معجزے اونٹنی کو قتل کردیا، تو ان سے کہہ دیا گیا کہ اب تین دن اور تم دنیا کے مزے لوٹ لو، تین دن کے بعد تم ہلاک کردیئے جاؤ گے۔ یہ اسی طرف اشارہ ہے بعض نے اسے حضرت صالح ؑ کی ابتدائے نبوت کا قول قرار دیا ہے۔ الفاظ اس مفہوم کے بھی متحمل ہیں بلکہ سیاق سے یہی معنی زیادہ قریب ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 44،43) {وَ فِيْ ثَمُوْدَ اِذْ قِيْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِيْنٍ …:} اس کی تفسیر میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ جب انھوں نے اونٹنی کو کاٹ دیا تو ان سے کہا گیا کہ تین دن تک خوب فائدہ اٹھا لو، اس کے بعد تم پر عذاب آ جائے گا۔ ان تین دنوں میں وہ تائب ہو سکتے تھے، مگر وہ اپنی سرکشی پر اور صالح علیہ السلام کی تکذیب پر اڑے رہے، تو تیسرے دن ان کے دیکھتے دیکھتے ایک ہولناک چیخ بلند ہوئی (ہود: ۶۷) جس کے ساتھ نہایت خوفناک کڑک والی بجلی گری، جس نے انھیں بھسم کر دیا اور وہ اس طرح نیست و نابود ہوئے جیسے کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا۔ فرمایا: «كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا» ‏‏‏‏ [ ھود: ۶۸ ] ”جیسے وہ ان میں رہے ہی نہ تھے۔“ دوسرا قول یہ ہے کہ اس {” تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِيْنٍ “} (ایک وقت تک خوب فائدہ اٹھا لو) کہنے سے مراد صالح علیہ السلام کا ان کی طرف مبعوث ہونے کے وقت کا خطاب ہے کہ دنیا میں تمھیں موت تک مہلت ہے، اس میں خوب فائدہ اٹھا لو، مگر اس اونٹنی کو نقصان نہ پہنچانا ورنہ تم پر عذاب آ جائے گا، مگر انھوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور اونٹنی کو کاٹ دیا تو انھیں صاعقہ نے پکڑ لیا۔ آیت کے الفاظ میں دونوں معنوں کی گنجائش ہے اور دونوں بیک وقت بھی مراد ہو سکتے ہیں۔
← پچھلی آیت (42) پوری سورۃ اگلی آیت (44) →