بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الذاريات — Surah Dhariyat
آیت نمبر 39
کل آیات: 60
قرآن کریم الذاريات آیت 39
آیت نمبر: 39 — سورۃ الذاريات islamicurdubooks.com ↗
فَتَوَلّٰی بِرُکۡنِہٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوۡ مَجۡنُوۡنٌ ﴿۳۹﴾
تو وہ اپنے بل بوتے پر اکڑ گیا اور بولا یہ جادوگر ہے یا مجنوں ہے
پس اس نےاپنے بل بوتے پر منھ موڑا اور کہنے لگا یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے
تو اپنے لشکر سمیت پھر گیا اورت بولا جادوگر ہے یا دیوانہ،
تو اس نے اپنی طاقت کے بِرتے پر رُوگردانی کی اور کہا کہ (یہ شخص) جادوگر ہےیا دیوانہ؟
تو اس نے اپنی قوت کے سبب منہ پھیر لیا اور اس نے کہا یہ جادوگر ہے، یا دیوانہ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 39،40،41،42،43،44،45،46

گناہ گاروں کا انجام ٭٭

no t(fseer

no t(fseer

no t(fseer

📖 احسن البیان

39۔ 1 جانب اقویٰ کو رکن کہتے ہیں۔ یہاں مراد اس کی اپنی قوت اور لشکر ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 39) {فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ:بِرُكْنِهٖ “} میں ”باء“ سببیہ ہے۔ {”رُكْنٌ“} کسی چیز کا سہارا اور آسرا، قوت۔ یعنی اس نے اپنی سلطنت اور فوجوں کی قوت کی وجہ سے ان واضح دلائل سے منہ پھیر لیا اور حق پہچان لینے کے باوجود ایمان لانے سے انکار کر دیا اور لوگوں کو موسیٰ علیہ السلام سے برگشتہ کرنے کے لیے کہنے لگا کہ یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ اور ان کی فرعون کے ساتھ تفصیلی گفتگو، جس میں فرعون نے انھیں دیوانہ اور پھر جادوگر قرار دیا سورۂ شعراء (۱۰ تا ۳۵) میں ملاحظہ فرمائیں۔
← پچھلی آیت (38) پوری سورۃ اگلی آیت (40) →