بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الذاريات — Surah Dhariyat
آیت نمبر 40
کل آیات: 60
قرآن کریم الذاريات آیت 40
آیت نمبر: 40 — سورۃ الذاريات islamicurdubooks.com ↗
فَاَخَذۡنٰہُ وَ جُنُوۡدَہٗ فَنَبَذۡنٰہُمۡ فِی الۡیَمِّ وَ ہُوَ مُلِیۡمٌ ﴿ؕ۴۰﴾
آخر کار ہم نے اُسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا اور وہ ملامت زدہ ہو کر رہ گیا
بالﺂخر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو اپنے عذاب میں پکڑ کر دریا میں ڈال دیا وه تھا ہی ملامت کے قابل
تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں ڈال دیا اس حال میں کہ وہ اپنے آپ کو ملامت کررہا تھا
انجامِ کار ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا درآنحالیکہ وہ قابلِ ملامت تھا۔
پس ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا، پھر انھیں سمندر میں پھینک دیا، اس حال میں کہ وہ قابل ملامت کام کرنے والا تھا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 39،40،41،42،43،44،45،46

گناہ گاروں کا انجام ٭٭

no t(fseer

no t(fseer

no t(fseer

📖 احسن البیان

40۔ 1 یعنی اس کے کام ہی ایسے تھے کہ جن پر وہ ملامت ہی کا مستحق تھا

📖 القرآن الکریم

(آیت 40) {فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ …: ”أَلَامَ يُلِيْمُ“} (افعال) ایسا کام کرنا جس پر ملامت کی جائے۔ {” مُلِيْمٌ “} مستحق ملامت، ایسا کام کرنے والا جس پر اسے ملامت کی جائے۔ یعنی وہ ایسا ظالم و سرکش تھا کہ اس کے سمندر میں لشکر سمیت غرق ہونے پر کسی نے اس کے حق میں کوئی کلمۂ خیر نہیں کہا، بلکہ ہر شخص کے منہ سے اس کے لیے ملامت اور پھٹکار ہی نکلی، جس نے سنا یہی کہا کہ ان کے ساتھ ایسے ہی ہونا چاہیے تھا۔ خس کم جہاں پاک۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ» [ الدخان: ۲۹ ] ”پھر نہ آسمان ان پر رویا نہ زمین۔“ سمندر میں پھینکے جانے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۹۰ تا ۹۲)، طٰہٰ (۷۷، 78) اور شعراء (۵۲ تا ۶۷)۔
← پچھلی آیت (39) پوری سورۃ اگلی آیت (41) →