اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے (وہ اپنے کفر سے) باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس دلیل روشن نہ آ جائے
مولانا محمد جوناگڑھی
اہل کتاب کے کافر اور مشرک لوگ جب تک کہ ان کے پاس ﻇاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے (وه دلیل یہ تھی کہ)
احمد رضا خان بریلوی
کتابی کافر اور مشرک اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تک ان کے پاس روشن دلیل نہ آئے
علامہ محمد حسین نجفی
اہلِ کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے وہ (اپنے کفر سے) باز آنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس ایک واضح دلیل نہ آجائے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، باز آنے والے نہ تھے، یہاں تک کہ ان کے پاس کھلی دلیل آئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سات قرأت اور قرآن حکیم ٭٭
اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں۔ فرماتا ہے یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے، پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں۔ جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ» * «مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ» * «بِأَيْدِي سَفَرَةٍ» * «كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ۱؎ [80-عبس:13-16] الخ یعنی ’ وہ نامی گرامی بلند و بالا، پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ’ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں ‘۔ جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً» کہ وہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ ابن زید فرماتے ہیں «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ان صحیفوں میں کتابیں ہیں، استقامت اور عدل و انصاف والی۔
پھر فرمایا «وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ» ۱؎ [98-البينة:4] یعنی ’ اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختلاف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے ‘۔ جیسے کہ آیت میں ہے «وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [3-آل عمران:105] یعنی ’ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈلا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے ‘۔ جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ { یہودیوں کے اکہتر فرقے ہو گئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، ایک کے سب جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا: وہ ایک کون ہے؟ فرمایا: ”وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن] پھر فرمایا: «وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» ۱؎ [98-البينة:5] الخ یعنی ’ انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو ‘، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36] الخ یعنی ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو ‘۔ «حنیف» کی پوری تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔ پھر فرمایا «وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ» ’ نمازوں کو قائم کریں ‘، جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ عبادت ہے، «وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ» ‘ اور زکوٰۃ دیتے رہیں ‘ یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں، «وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ» ‘ یہی دین مضبوط، سیدھا، درست، عدل والا اور عمدگی والا ہے ‘۔ بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔
اہل کتاب کے کافر (1) اور مشرک لوگ جب تک کہ ان کے پاس ظاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے (وہ دلیل یہ تھی کہ)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ أَمَرَنِيْ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ: «لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا» قَالَ وَسَمَّانِيْ؟ قَالَ نَعَمْ، فَبَكٰی] [بخاري، التفسیر، سورۃ: «لم یکن» : ۴۹۵۹ ] ”اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمھیں {” لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا “} پڑھ کر سناؤں۔“ اُبی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اور کیا اللہ نے میرا نام بھی لیا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”ہاں!“ تو اُبی رضی اللہ عنہ (یہ سن کر خوشی سے) رونے لگے۔“ (آیت 1) {لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …: ” مُنْفَكِّيْنَ “ ”فَكَّ يَفُكُّ فَكًّا“ (ن) ”اَلشَّيْءَ“} کسی چیز کو دوسری سے جدا کرنا، {”اَلْعُقْدَةَ“} گرہ کھولنا اور {”اَلْخَتَمَ“} مہر توڑنا۔ {”اِنْفَكَّ يَنْفَكُّ“} (انفعال) ایک چیز کا دوسری چیز سے الگ ہونا جس کے ساتھ وہ خوب جڑی ہوئی تھی، جیسے {”اِنْفَكَّ الْعَظْمُ“} ”ہڈی اپنے جوڑ سے الگ ہو گئی۔“ {” مُنْفَكِّيْنَ “} اسم فاعل ہے، (اپنے کفر سے) باز آنے والے، الگ ہونے والے۔یعنی پیغمبر آخرالزماں اور قرآن بھیجنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) اور مشرکینِ عرب کو راہِ حق پر لایا جائے، کیونکہ یہ لوگ اس قدر بگڑے ہوئے تھے کہ ان کا راہ حق پر آنا اس کے بغیر ممکن نہ تھا کہ ایک پیغمبر آئے جو ایک مقدس آسمانی کتاب لائے جس میں عمدہ و دل نشین مضامین ہوں اور وہ انھیں پڑھ کر سنائے، کسی حکیم یا صوفی یا عادل بادشاہ کے بس کی بات نہ تھی کہ انھیں راہِ راست پر لے آتا۔ (اشرف الحواشی)
(یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ کا ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھے
احمد رضا خان بریلوی
وہ کون وہ اللہ کا رسول کہ پاک صحیفے پڑھتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
یعنی اللہ کا ایک رسول(ع) جو انہیں پاک و پاکیزہ صحیفے پڑھ کر سنا ئے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کی طرف سے ایک رسول، جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سات قرأت اور قرآن حکیم ٭٭
اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں۔ فرماتا ہے یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے، پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں۔ جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ» * «مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ» * «بِأَيْدِي سَفَرَةٍ» * «كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ۱؎ [80-عبس:13-16] الخ یعنی ’ وہ نامی گرامی بلند و بالا، پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ’ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں ‘۔ جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً» کہ وہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ ابن زید فرماتے ہیں «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ان صحیفوں میں کتابیں ہیں، استقامت اور عدل و انصاف والی۔
پھر فرمایا «وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ» ۱؎ [98-البينة:4] یعنی ’ اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختلاف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے ‘۔ جیسے کہ آیت میں ہے «وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [3-آل عمران:105] یعنی ’ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈلا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے ‘۔ جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ { یہودیوں کے اکہتر فرقے ہو گئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، ایک کے سب جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا: وہ ایک کون ہے؟ فرمایا: ”وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن] پھر فرمایا: «وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» ۱؎ [98-البينة:5] الخ یعنی ’ انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو ‘، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36] الخ یعنی ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو ‘۔ «حنیف» کی پوری تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔ پھر فرمایا «وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ» ’ نمازوں کو قائم کریں ‘، جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ عبادت ہے، «وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ» ‘ اور زکوٰۃ دیتے رہیں ‘ یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں، «وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ» ‘ یہی دین مضبوط، سیدھا، درست، عدل والا اور عمدگی والا ہے ‘۔ بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔
2۔ 1 حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ 2 یعنی قرآن مجید جو لوح محفوظ میں پاک صحیفوں میں درج ہے۔
(آیت 3،2){ رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً …:} قرآن مجید کو {” صُحُفًا مُّطَهَّرَةً “} اور اس میں موجود احکام اور سورتوں کو {” قَيِّمَةٌ “} (نہایت مضبوط) قرار دیا ہے کہ ان میں کسی قسم کی ناپاک بات یا کمزور اور بے بنیاد قصہ یا حکم نہیں۔ اگرکسی شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پاک صحیفوں اور ان میں لکھے ہوئے مضبوط احکام کی پاکیزگی اور مضبوطی معلوم کرنے کا شوق ہو تو وہ قرآن مجید کا بائبل کے مجموعے میں موجود پہلے صحیفوں کے ساتھ موازنہ کرلے، جن میں صحیح باتوں کے ساتھ عقل و اخلاق سے گری ہوئی باتیں، واضح تحریف شدہ احکام اور اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی اور انبیائے کرام کی توہین اور ان پر تہمتوں کی نجاست صاف نظر آتی ہے، مثلاً لوط اور سلیمان علیھما السلام پر بے بنیاد تہمتیں، جن سے وہ ہر طرح سے پاک اور بری ہیں۔
اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں۔ فرماتا ہے یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے، پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں۔ جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ» * «مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ» * «بِأَيْدِي سَفَرَةٍ» * «كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ۱؎ [80-عبس:13-16] الخ یعنی ’ وہ نامی گرامی بلند و بالا، پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ’ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں ‘۔ جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً» کہ وہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ ابن زید فرماتے ہیں «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ان صحیفوں میں کتابیں ہیں، استقامت اور عدل و انصاف والی۔
پھر فرمایا «وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ» ۱؎ [98-البينة:4] یعنی ’ اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختلاف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے ‘۔ جیسے کہ آیت میں ہے «وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [3-آل عمران:105] یعنی ’ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈلا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے ‘۔ جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ { یہودیوں کے اکہتر فرقے ہو گئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، ایک کے سب جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا: وہ ایک کون ہے؟ فرمایا: ”وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن] پھر فرمایا: «وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» ۱؎ [98-البينة:5] الخ یعنی ’ انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو ‘، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36] الخ یعنی ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو ‘۔ «حنیف» کی پوری تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔ پھر فرمایا «وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ» ’ نمازوں کو قائم کریں ‘، جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ عبادت ہے، «وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ» ‘ اور زکوٰۃ دیتے رہیں ‘ یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں، «وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ» ‘ یہی دین مضبوط، سیدھا، درست، عدل والا اور عمدگی والا ہے ‘۔ بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔
3۔ 1 یہاں کتب سے مراد احکام دینیہ، قیمہ، معتدل اور سیدھے۔
پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی اُن میں تفرقہ برپا نہیں ہوا مگر اِس کے بعد کہ اُن کے پاس (راہ راست) کا بیان واضح آ چکا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اہل کتاب اپنے پاس ﻇاہر دلیل آجانے کے بعد ہی (اختلاف میں پڑ کر) متفرق ہوگئے
احمد رضا خان بریلوی
اور پھوٹ نہ پڑی کتاب والوں میں مگر بعد اس کے کہ وہ روشن دلیل ان کے پاس تشریف لائے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی (اور وہ اہلِ کتاب تھے) وہ تو واضح دلیل کے آجانے کے بعد ہی تفرقہ میں پڑے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھیںکتاب دی گئی، جدا جدا نہیں ہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس کھلی دلیل آگئی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سات قرأت اور قرآن حکیم ٭٭
اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں۔ فرماتا ہے یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے، پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں۔ جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ» * «مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ» * «بِأَيْدِي سَفَرَةٍ» * «كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ۱؎ [80-عبس:13-16] الخ یعنی ’ وہ نامی گرامی بلند و بالا، پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ’ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں ‘۔ جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً» کہ وہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ ابن زید فرماتے ہیں «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ان صحیفوں میں کتابیں ہیں، استقامت اور عدل و انصاف والی۔
پھر فرمایا «وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ» ۱؎ [98-البينة:4] یعنی ’ اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختلاف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے ‘۔ جیسے کہ آیت میں ہے «وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [3-آل عمران:105] یعنی ’ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈلا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے ‘۔ جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ { یہودیوں کے اکہتر فرقے ہو گئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، ایک کے سب جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا: وہ ایک کون ہے؟ فرمایا: ”وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن] پھر فرمایا: «وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» ۱؎ [98-البينة:5] الخ یعنی ’ انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو ‘، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36] الخ یعنی ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو ‘۔ «حنیف» کی پوری تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔ پھر فرمایا «وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ» ’ نمازوں کو قائم کریں ‘، جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ عبادت ہے، «وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ» ‘ اور زکوٰۃ دیتے رہیں ‘ یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں، «وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ» ‘ یہی دین مضبوط، سیدھا، درست، عدل والا اور عمدگی والا ہے ‘۔ بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔
4۔ 1 یعنی اہل کتاب، حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل اکھٹے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث ہوگئی، اس کے بعد یہ متفرق ہوگئے، ان میں سے کچھ مومن ہوگئے لیکن اکثریت ایمان سے محروم ہی رہی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث و رسالت کو دلیل سے تعبیر کرنے میں یہی نقطہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت واضح تھی جس میں مجال انکار نہیں تھی۔ لیکن ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب محض حسد اور عناد کی وجہ سے کی۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تفرق کا ارتکاب کرنے والوں میں صرف اہل کتاب کا نام لیا ہے، حالانکہ دوسروں نے بھی اس کا ارتکاب کیا تھا، کیونکہ یہ بہرحال علم والے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور صفات کا تذکرہ ان کی کتابوں میں موجود تھا۔
(آیت 4) ➊ {وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ …:} اس آیت میں اہلِ کتاب کے ایک جرم کا ذکر فرمایا، مشرکین کا نام نہیں لیا، کیونکہ جب پڑھے لکھوں کا یہ حال ہے تو جاہل مشرکین کی ضد اور عناد کا اندازہ خود کرلیں۔ اہل کتاب کا یہ جرم ان کا باہمی تفرقہ تھا اور اس جرم کا ارتکاب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے بھی کیا اور آپ کی آمد پر بھی۔ آپ کی تشریف آوری سے پہلے وہ بہتر (۷۲) فرقوں میں بٹ چکے تھے۔ اس آیت میں وضاحت فرمائی کہ ان کے الگ الگ بہتر (۷۲) فرقے بننے کی وجہ یہ نہ تھی کہ انھیں اللہ کے حکم کا علم نہ تھا، نہیں! بلکہ {” الْبَيِّنَةُ “ } (کھلی دلیل اور واضح حکم) موجود ہونے کے باوجو د باہمی ضد اور عناد کی وجہ سے کسی نے احبار و رہبان میں سے کسی ایک کے اقوال کو حجت مان کر اس کے نام پر فرقہ بنا لیا اور کسی نے دوسرے کے نام پر۔ یہی حال مسلمانوں کا ہوا، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ تَفَرَّقَتِ الْيَهُوْدُ عَلٰی إِحْدٰی وَسَبْعِيْنَ فِرْقَةً، أَوِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِيْنَ فِرْقَةً، وَالنَّصَارٰی مِثْلَ ذٰلِكَ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِيْ عَلٰی ثَلاَثٍ وَّسَبْعِيْنَ فِرْقَةً ] [ترمذي، الإیمان، باب ما جاء في افتراق ھٰذہ الأمۃ: ۲۶۴۰، وقال ترمذي و الألباني حسن صحیح ] ”یہود اکہتر (۷۱) یا بہتر (۷۲) فرقوں میں بٹ گئے، نصرانیوں کا بھی یہی حال ہوا اور میری امت تہتر (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی۔“ اس افتراق کا حل پہلے بھی یہ تھا اور اب بھی یہی ہے کہ تمام امت اللہ کے نازل کردہ احکام پر متفق ہو جائے، علماء کے اقوال سے کتاب و سنت سمجھنے میں مدد لی جائے مگران میں سے کسی کے قول کو شرع سمجھ کر فرقہ نہ بنایا جائے، بلکہ جہاں اس کی بات وحی الٰہی کے خلاف ہو، خواہ کتنا ہی بڑا آدمی کیوں نہ ہو، اسے یکسر ترک کر دیا جائے۔ ➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد آپ پر اہلِ کتاب کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ ہرگز نہ تھی کہ انھیں آپ کے سچا ہونے میں کوئی شک تھا، بلکہ پہلی کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح بشارت اور نشانیاں موجود ہونے کی وجہ سے وہ آپ کو اپنے بیٹوں کی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر پہچانتے تھے، مگر محض حسد اور عناد کی وجہ سے آپ کے بارے میں جدا جدا ہوگئے، کوئی ایمان لے آیا اور کوئی کفر پر ڈٹا رہا۔ حسد اور عناد ایک تو یہ تھا کہ آپ بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل سے کیوں ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ اپنی مذہبی سرداری چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔
اور اُن کو اِس کے سوا کوئی علم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، بالکل یکسو ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں یہی نہایت صحیح و درست دین ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا
احمد رضا خان بریلوی
اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں اور یہ سیدھا دین ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
حالانکہ انہیں تو بس یہی حکم دیا گیا تھا کہ دین کو اسی کیلئے خالص کرتے ہوئے اللہ کی عبادت کریں بالکل یکسُو ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی نہایت (صحیح اور) درست دین ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اس حال میںکہ اس کے لیے دین کو خالص کرنے والے، ایک طرف ہونے والے ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سات قرأت اور قرآن حکیم ٭٭
اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں۔ فرماتا ہے یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے، پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں۔ جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ» * «مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ» * «بِأَيْدِي سَفَرَةٍ» * «كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ۱؎ [80-عبس:13-16] الخ یعنی ’ وہ نامی گرامی بلند و بالا، پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ’ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں ‘۔ جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً» کہ وہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ ابن زید فرماتے ہیں «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ان صحیفوں میں کتابیں ہیں، استقامت اور عدل و انصاف والی۔
پھر فرمایا «وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ» ۱؎ [98-البينة:4] یعنی ’ اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختلاف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے ‘۔ جیسے کہ آیت میں ہے «وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [3-آل عمران:105] یعنی ’ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈلا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے ‘۔ جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ { یہودیوں کے اکہتر فرقے ہو گئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، ایک کے سب جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا: وہ ایک کون ہے؟ فرمایا: ”وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن] پھر فرمایا: «وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» ۱؎ [98-البينة:5] الخ یعنی ’ انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو ‘، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36] الخ یعنی ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو ‘۔ «حنیف» کی پوری تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔ پھر فرمایا «وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ» ’ نمازوں کو قائم کریں ‘، جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ عبادت ہے، «وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ» ‘ اور زکوٰۃ دیتے رہیں ‘ یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں، «وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ» ‘ یہی دین مضبوط، سیدھا، درست، عدل والا اور عمدگی والا ہے ‘۔ بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔
5۔ 1 یعنی ان کی کتابوں میں انہیں حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ۔۔۔ 5۔ 2 حنیف کے معنی ہیں، مائل ہونا، کسی ایک طرف یکسو ہونا، حنفآء جمع ہے۔ یعنی شرک سے توحید کی طرف اور تمام ادیان سے منقطع ہو کر صرف دین اسلام کی طرف مائل اور یکسو ہوتے ہوئے۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ والسلام نے کیا۔ 5۔ 3 ا ؛ قیّمۃ محذوف موصوف کی صفت ہے۔ دین الملۃ القیّمۃ ائ: المستقیمۃ یا الأمّۃ المستقیمۃ المعتدلۃ، یہی اس ملت یا امت کا دین ہے جو سیدھی اور معتدل ہے۔ اکثر ائمہ نے اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ اعمال، ایمان میں داخل ہیں (ابن کثیر)
(آیت 5) {وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ …: ” الْقَيِّمَةِ “ ”قَامَ يَقُوْمُ“} سے {”فَيْعِلَةٌ“} کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے، جس میں تاء مبالغے کے لیے ہے، نہایت مضبوط، سیدھی جس میں کوئی کجی نہیں: {”أَيْ ذٰلِكَ دِيْنُ الْمِلَّةِ الْقَيِّمَةِ“} ”یعنی یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔“ {” حُنَفَآءَ “ ”حَنِيْفٌ“} کی جمع ہے جو {”حَنَفَ يَحْنِفُ حَنْفًا“} (ض) (حاء کے ساتھ) سے {”فَعِيْلٌ“} بمعنی اسم فاعل ہے،اس کا لفظی معنی ”ایک طرف مائل ہونا“ ہے۔ اس کا اکثر استعمال ”تمام راستوں سے ہٹ کر سیدھے راستے کی طرف آنے“ کے معنی میں ہوتا ہے، جب کہ {”جَنَفَ“} (جیم کے ساتھ) کا مطلب ”سیدھے راستے سے ہٹ کر ادھر ادھر ہو جانا“ ہوتا ہے۔ اس آیت میں دین کا خلاصہ بیان فرما دیا کہ پہلی امتیں ہوں یا یہ امت، سب میں ایک ہی حکم ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کریں، جو ہر قسم کے شرک اور ریا سے پاک اور خالص اللہ کے لیے ہو اور باطل پر چلنے والے تمام گروہوں سے ہٹ کر ایک اللہ کی طرف یک سو ہو جائیں، جس طرح ابراہیم علیہ السلام ہو گئے تھے اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔ جب اس امت میں بھی وہی پہلا ہی حکم ہے اور پہلی امتوں کا اور اس امت کا دین قیم ایک ہی ہے، تو انھیں ماننے سے انکار کیوں ہے؟
اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ یقیناً جہنم کی آگ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ لوگ بد ترین خلائق ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک جو لوگ اہل کتاب میں کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں (جائیں گے) جہاں وه ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ یہ لوگ بدترین خلائق ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جتنے کافر ہیں کتابی اور مشرک سب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے، وہی تمام مخلوق میں بدتر ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک جو اہلِ کتاب اور مشرکین کفر میں مبتلا ہیں وہ جہنم کی آگ میں پڑیں گے (اور) ہمیشہ اس میں رہیں گے یہی لوگ بدترینِ خلائق ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، جہنم کی آگ میں ہوں گے، اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی لوگ مخلوق میں سب سے برے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ساری مخلوق سے بہتر اور بدتر کون ہے؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ کافروں کا انجام بیان فرماتا ہے ’ وہ کافر خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین عرب و عجم ہوں جو بھی انبیاء اللہ کے مخالف ہوں اور کتاب اللہ کے جھٹلانے والے ہوں وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ میں ڈال دئیے جائیں گے اور اسی میں پڑے رہیں گے، نہ وہاں سے نکلیں گے، نہ رہا ہوں گے، یہ لوگ تمام مخلوق سے بدتر اور کمتر ہیں ‘۔ پھر اپنے نیک بندوں کے انجام کی خبر دیتا ہے ’ جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسموں سے سنت کی بجا آوری میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں کہ یہ ساری مخلوق سے بہتر اور بزرگ ہیں ‘۔ اس آیت سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ ایمان والے انسان فرشتوں سے بھی افضل ہیں۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کا نیک بدلہ ان کے رب کے پاس ان لازوال جنتوں کی صورت میں ہے، جن کے چپے چپے پر پاک صاف پانی کی نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں دوام اور ہمیشہ کی زندگی کے ساتھ رہیں گے، نہ وہاں سے نکالے جائیں، نہ وہ نعمتیں ان سے جدا ہوں، نہ کم ہوں، نہ اور کوئی کھٹکا ہے، نہ غم، پھر ان سب سے بڑھ چڑھ کر نعمت و رحمت یہ ہے کہ رضائے رب مرضی مولا انہیں حاصل ہو گئی ہے اور انہیں اس قدر نعمتیں باری تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں کہ یہ بھی دل سے راضی ہو گئے ہیں۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ یہ بہترین بدلہ یہ بہت بڑی جزاء یہ اجر عظیم دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہنے کا عوض ہے، ہر وہ شخص جس کے دل میں ڈر ہو، جس کی عبادت میں اخلاص ہو، جو جانتا ہو کہ اللہ کی اس پر نظریں ہیں بلکہ عبادت کے وقت اس مشغولی اور دلچسپی سے عبادت کر رہا ہو کہ گویا وہ اپنی آنکھوں سے اپنے خالق، مالک، سچے رب اور حقیقی اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بہتر شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور، فرمایا: ”وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے کہ کب جہاد کی آواز بلند ہو اور کب میں کود کر اس کی پیٹھ پر سوار ہو جاؤں اور گرجتا ہوا دشمن کی فوج میں گھسوں اور داد شجاعت دوں، لو میں تمہیں ایک اور بہترین مخلوق کی خبر دوں، وہ شخص جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہے، نہ نماز کو چھوڑتا ہے، نہ زکوٰۃ سے جی چراتا ہے۔ آؤ اب میں بدترین مخلوق بتاؤں وہ شخص کہ اللہ کے نام سے سوال کرے اور پھر نہ دیا جائے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:169/2،حسن] سورۃ «لم یکن» کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے۔
6۔ 1 یہ اللہ کے رسول اور اس کی کتابوں کا انکار کرنے والوں کا انجام۔ نیز انہیں تمام مخلوقات میں بدترین قرار دیا گیا۔
(آیت 6){ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ …: ” الْبَرِيَّةِ “ ”بَرَأَ يَبْرَأُ بَرْأً وَ بُرُوْءًا“} (ف) (پیدا کرنا) سے {”فَعِيْلَةٌ“} کے وزن پر اسم مفعول کے معنی میں ہے، مخلوق۔ یعنی یہ لوگ تمام مخلوق حتیٰ کہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اُولٰٓىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ» [ الأعراف: ۱۷۹ ] ” یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔“ کیونکہ یہ جان بوجھ کر حق کی مخالفت کر رہے ہیں۔
جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، وہ یقیناً بہترین خلائق ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک جو لوگ ایمان ﻻئےاور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہی تمام مخلوق ہیں بہتر ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور بےشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہی بہترینِ خلائق ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وہی مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ساری مخلوق سے بہتر اور بدتر کون ہے؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ کافروں کا انجام بیان فرماتا ہے ’ وہ کافر خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین عرب و عجم ہوں جو بھی انبیاء اللہ کے مخالف ہوں اور کتاب اللہ کے جھٹلانے والے ہوں وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ میں ڈال دئیے جائیں گے اور اسی میں پڑے رہیں گے، نہ وہاں سے نکلیں گے، نہ رہا ہوں گے، یہ لوگ تمام مخلوق سے بدتر اور کمتر ہیں ‘۔ پھر اپنے نیک بندوں کے انجام کی خبر دیتا ہے ’ جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسموں سے سنت کی بجا آوری میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں کہ یہ ساری مخلوق سے بہتر اور بزرگ ہیں ‘۔ اس آیت سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ ایمان والے انسان فرشتوں سے بھی افضل ہیں۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کا نیک بدلہ ان کے رب کے پاس ان لازوال جنتوں کی صورت میں ہے، جن کے چپے چپے پر پاک صاف پانی کی نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں دوام اور ہمیشہ کی زندگی کے ساتھ رہیں گے، نہ وہاں سے نکالے جائیں، نہ وہ نعمتیں ان سے جدا ہوں، نہ کم ہوں، نہ اور کوئی کھٹکا ہے، نہ غم، پھر ان سب سے بڑھ چڑھ کر نعمت و رحمت یہ ہے کہ رضائے رب مرضی مولا انہیں حاصل ہو گئی ہے اور انہیں اس قدر نعمتیں باری تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں کہ یہ بھی دل سے راضی ہو گئے ہیں۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ یہ بہترین بدلہ یہ بہت بڑی جزاء یہ اجر عظیم دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہنے کا عوض ہے، ہر وہ شخص جس کے دل میں ڈر ہو، جس کی عبادت میں اخلاص ہو، جو جانتا ہو کہ اللہ کی اس پر نظریں ہیں بلکہ عبادت کے وقت اس مشغولی اور دلچسپی سے عبادت کر رہا ہو کہ گویا وہ اپنی آنکھوں سے اپنے خالق، مالک، سچے رب اور حقیقی اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بہتر شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور، فرمایا: ”وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے کہ کب جہاد کی آواز بلند ہو اور کب میں کود کر اس کی پیٹھ پر سوار ہو جاؤں اور گرجتا ہوا دشمن کی فوج میں گھسوں اور داد شجاعت دوں، لو میں تمہیں ایک اور بہترین مخلوق کی خبر دوں، وہ شخص جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہے، نہ نماز کو چھوڑتا ہے، نہ زکوٰۃ سے جی چراتا ہے۔ آؤ اب میں بدترین مخلوق بتاؤں وہ شخص کہ اللہ کے نام سے سوال کرے اور پھر نہ دیا جائے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:169/2،حسن] سورۃ «لم یکن» کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے۔
7۔ 1 یعنی جو دل کے ساتھ ایمان لائے اور جنہوں نے اعضا کے ساتھ عمل کئے، وہ تمام مخلوقات سے بہتر اور افضل ہیں۔ جو اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ مومن بندے ملائکہ سے شرف فضل میں بہترین ہیں۔ ان کی ایک دلیل یہ آیت بھی ہے۔ البریۃ، یرأ (خلق) سے ہے۔ اسی سے اللہ کی صفت الباری ہے۔ اس لیے بریّہ اصل میں بریئۃ ہے، ہمزہ کو یا سے بدل کر یا کا یا میں ادغام کردیا گیا
(آیت 8،7) {اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …:} جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں اور تمام کتابوں پر ایمان لائے اور انھوں نے صالح اعمال کیے ان کے لیے تین بڑی بڑی بشارتیں ہیں، پہلی یہ کہ وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں، کیونکہ اپنے اختیار سے گناہ چھوڑ کر ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کا درجہ یقینا ان لوگوں سے بلند ہے جن میں نافرمانی کی استعداد ہی نہیں، دوسری یہ کہ ان کے لیے ہمیشہ رہنے کے لیے باغات ہیں، جن کے تلے نہریں بہتی ہیں اور تیسری یہ کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوگی جو آخرت کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت ہے، فرمایا: «وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ» [ التوبۃ: ۷۲ ] ”اور اللہ کی رضامندی سب سے بڑی چیز ہے۔“ ”اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے“ یعنی بے شمار نعمتوں کے بعد بھی اگر ان کا دل ہی خوش نہ ہوا تو کیا فائدہ؟ یہ نعمتیں اس کے لیے ہیں جو اپنے رب سے ڈر گیا۔ خالی بے روح کلمہ پڑھنے، بلا خشیت نماز اور بوجھل دل کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرنے اور بطور رسم عبادات ادا کرنے سے یہ مرتبہ نہیں ملتا، بلکہ اس کا مدار اللہ کے ڈر پر ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [ الرحمٰن: ۴۶ ] ”اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو باغ ہیں۔“
اُن کی جزا اُن کے رب کے ہاں دائمی قیام کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ کچھ ہے اُس شخص کے لیے جس نے اپنے رب کا خوف کیا ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور یہ اس سے راضی ہوئے۔ یہ ہے اس کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرے
احمد رضا خان بریلوی
ان کا صلہ ان کے رب کے پاس بسنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں، اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے
علامہ محمد حسین نجفی
ان کی جزا ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشگی کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں (یہ سب کچھ) اس کے لئے ہے جو اپنے پروردگار (کی حکم عدولی) سے ڈرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ان کا بدلہ ان کے رب کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے۔ یہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈر گیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ساری مخلوق سے بہتر اور بدتر کون ہے؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ کافروں کا انجام بیان فرماتا ہے ’ وہ کافر خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین عرب و عجم ہوں جو بھی انبیاء اللہ کے مخالف ہوں اور کتاب اللہ کے جھٹلانے والے ہوں وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ میں ڈال دئیے جائیں گے اور اسی میں پڑے رہیں گے، نہ وہاں سے نکلیں گے، نہ رہا ہوں گے، یہ لوگ تمام مخلوق سے بدتر اور کمتر ہیں ‘۔ پھر اپنے نیک بندوں کے انجام کی خبر دیتا ہے ’ جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسموں سے سنت کی بجا آوری میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں کہ یہ ساری مخلوق سے بہتر اور بزرگ ہیں ‘۔ اس آیت سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ ایمان والے انسان فرشتوں سے بھی افضل ہیں۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کا نیک بدلہ ان کے رب کے پاس ان لازوال جنتوں کی صورت میں ہے، جن کے چپے چپے پر پاک صاف پانی کی نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں دوام اور ہمیشہ کی زندگی کے ساتھ رہیں گے، نہ وہاں سے نکالے جائیں، نہ وہ نعمتیں ان سے جدا ہوں، نہ کم ہوں، نہ اور کوئی کھٹکا ہے، نہ غم، پھر ان سب سے بڑھ چڑھ کر نعمت و رحمت یہ ہے کہ رضائے رب مرضی مولا انہیں حاصل ہو گئی ہے اور انہیں اس قدر نعمتیں باری تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں کہ یہ بھی دل سے راضی ہو گئے ہیں۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ یہ بہترین بدلہ یہ بہت بڑی جزاء یہ اجر عظیم دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہنے کا عوض ہے، ہر وہ شخص جس کے دل میں ڈر ہو، جس کی عبادت میں اخلاص ہو، جو جانتا ہو کہ اللہ کی اس پر نظریں ہیں بلکہ عبادت کے وقت اس مشغولی اور دلچسپی سے عبادت کر رہا ہو کہ گویا وہ اپنی آنکھوں سے اپنے خالق، مالک، سچے رب اور حقیقی اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بہتر شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور، فرمایا: ”وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے کہ کب جہاد کی آواز بلند ہو اور کب میں کود کر اس کی پیٹھ پر سوار ہو جاؤں اور گرجتا ہوا دشمن کی فوج میں گھسوں اور داد شجاعت دوں، لو میں تمہیں ایک اور بہترین مخلوق کی خبر دوں، وہ شخص جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہے، نہ نماز کو چھوڑتا ہے، نہ زکوٰۃ سے جی چراتا ہے۔ آؤ اب میں بدترین مخلوق بتاؤں وہ شخص کہ اللہ کے نام سے سوال کرے اور پھر نہ دیا جائے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:169/2،حسن] سورۃ «لم یکن» کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے۔
8۔ 1 ان کے ایمان وطاعت اور اعمال صالحہ کے سبب۔ اللہ کی رضامندی سب سے بڑی چیز ہے (ورضوان من اللہ اکبر) 8۔ 2 اس لئے کہ اللہ نے انہیں ایسی نعمتوں سے نواز دیا، جن میں ان کی روح اور بدن دونوں کی سعادتیں ہیں۔ 8۔ 3 یعنی یہ جزا اور رضامندی ان لوگوں کے لئے ہے جو دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہے اور اس کے ڈر کی وجہ سے اللہ کی نافرمانی کے ارکاب سے بچتے رہے۔ اگر کبھی نافرمانی کرلی بھی تو توبہ کرلی۔ اور آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کرلی، حتیٰ کہ ان کی موت اسی اطاعت پر ہوئی نہ کہ معصیت پر۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ سے ڈرنے والا معصیت پر اصرار اور دوام نہیں کرسکتا اور جو ایسا کرتا ہے، حقیقت میں اس کا دل اللہ کے خوف سے خالی ہے۔