بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البينة — Surah Bayyinah
آیت نمبر 1
کل آیات: 8
قرآن کریم البينة آیت 1
آیت نمبر: 1 — سورۃ البينة islamicurdubooks.com ↗
لَمۡ یَکُنِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ مُنۡفَکِّیۡنَ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ الۡبَیِّنَۃُ ۙ﴿۱﴾
اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے (وہ اپنے کفر سے) باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس دلیل روشن نہ آ جائے
اہل کتاب کے کافر اور مشرک لوگ جب تک کہ ان کے پاس ﻇاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے (وه دلیل یہ تھی کہ)
کتابی کافر اور مشرک اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تک ان کے پاس روشن دلیل نہ آئے
اہلِ کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے وہ (اپنے کفر سے) باز آنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس ایک واضح دلیل نہ آجائے۔
وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، باز آنے والے نہ تھے، یہاں تک کہ ان کے پاس کھلی دلیل آئے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سات قرأت اور قرآن حکیم ٭٭

اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں۔ فرماتا ہے یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے، پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں۔ جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ» * «مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ» * «بِأَيْدِي سَفَرَةٍ» * «كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ۱؎ [80-عبس:13-16] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ وہ نامی گرامی بلند و بالا، پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ’ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں ‘۔ جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً» کہ وہ رسول (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ ابن زید فرماتے ہیں «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ان صحیفوں میں کتابیں ہیں، استقامت اور عدل و انصاف والی۔

پھر فرمایا «وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ» ۱؎ [98-البينة:4] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختلاف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے ‘۔ جیسے کہ آیت میں ہے «وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [3-آل عمران:105] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈلا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے ‘۔ جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ { یہودیوں کے اکہتر فرقے ہو گئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، ایک کے سب جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا: وہ ایک کون ہے؟ فرمایا: ”وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرمایا: «وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» ۱؎ [98-البينة:5] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] ‏‏‏‏ یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو ‘، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو ‘۔ «حنیف» کی پوری تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔ پھر فرمایا «وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ» ’ نمازوں کو قائم کریں ‘، جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ عبادت ہے، «وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ» ‘ اور زکوٰۃ دیتے رہیں ‘ یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں، «وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ» ‘ یہی دین مضبوط، سیدھا، درست، عدل والا اور عمدگی والا ہے ‘۔ بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔

📖 احسن البیان

اہل کتاب کے کافر (1) اور مشرک لوگ جب تک کہ ان کے پاس ظاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے (وہ دلیل یہ تھی کہ)

📖 القرآن الکریم

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ أَمَرَنِيْ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ: «لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا» قَالَ وَسَمَّانِيْ؟ قَالَ نَعَمْ، فَبَكٰی] [بخاري، التفسیر، سورۃ: «لم یکن» : ۴۹۵۹ ] ”اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمھیں {” لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا “} پڑھ کر سناؤں۔“ اُبی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اور کیا اللہ نے میرا نام بھی لیا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”ہاں!“ تو اُبی رضی اللہ عنہ (یہ سن کر خوشی سے) رونے لگے۔“ (آیت 1) {لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …: ” مُنْفَكِّيْنَ”فَكَّ يَفُكُّ فَكًّا“ (ن) ”اَلشَّيْءَ“} کسی چیز کو دوسری سے جدا کرنا، {”اَلْعُقْدَةَ“} گرہ کھولنا اور {”اَلْخَتَمَ“} مہر توڑنا۔ {”اِنْفَكَّ يَنْفَكُّ“} (انفعال) ایک چیز کا دوسری چیز سے الگ ہونا جس کے ساتھ وہ خوب جڑی ہوئی تھی، جیسے {”اِنْفَكَّ الْعَظْمُ“} ”ہڈی اپنے جوڑ سے الگ ہو گئی۔“ {” مُنْفَكِّيْنَ “} اسم فاعل ہے، (اپنے کفر سے) باز آنے والے، الگ ہونے والے۔یعنی پیغمبر آخرالزماں اور قرآن بھیجنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) اور مشرکینِ عرب کو راہِ حق پر لایا جائے، کیونکہ یہ لوگ اس قدر بگڑے ہوئے تھے کہ ان کا راہ حق پر آنا اس کے بغیر ممکن نہ تھا کہ ایک پیغمبر آئے جو ایک مقدس آسمانی کتاب لائے جس میں عمدہ و دل نشین مضامین ہوں اور وہ انھیں پڑھ کر سنائے، کسی حکیم یا صوفی یا عادل بادشاہ کے بس کی بات نہ تھی کہ انھیں راہِ راست پر لے آتا۔ (اشرف الحواشی)
← پچھلی آیت پوری سورۃ اگلی آیت (2) →