بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البينة — Surah Bayyinah
آیت نمبر 4
کل آیات: 8
قرآن کریم البينة آیت 4
آیت نمبر: 4 — سورۃ البينة islamicurdubooks.com ↗
وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنَۃُ ؕ﴿۴﴾
پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی اُن میں تفرقہ برپا نہیں ہوا مگر اِس کے بعد کہ اُن کے پاس (راہ راست) کا بیان واضح آ چکا تھا
اہل کتاب اپنے پاس ﻇاہر دلیل آجانے کے بعد ہی (اختلاف میں پڑ کر) متفرق ہوگئے
اور پھوٹ نہ پڑی کتاب والوں میں مگر بعد اس کے کہ وہ روشن دلیل ان کے پاس تشریف لائے
اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی (اور وہ اہلِ کتاب تھے) وہ تو واضح دلیل کے آجانے کے بعد ہی تفرقہ میں پڑے۔
اور وہ لوگ جنھیںکتاب دی گئی، جدا جدا نہیں ہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس کھلی دلیل آگئی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سات قرأت اور قرآن حکیم ٭٭

اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں۔ فرماتا ہے یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے، پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں۔ جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ» * «مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ» * «بِأَيْدِي سَفَرَةٍ» * «كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ۱؎ [80-عبس:13-16] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ وہ نامی گرامی بلند و بالا، پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ’ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں ‘۔ جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً» کہ وہ رسول (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ ابن زید فرماتے ہیں «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ان صحیفوں میں کتابیں ہیں، استقامت اور عدل و انصاف والی۔

پھر فرمایا «وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ» ۱؎ [98-البينة:4] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختلاف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے ‘۔ جیسے کہ آیت میں ہے «وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [3-آل عمران:105] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈلا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے ‘۔ جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ { یہودیوں کے اکہتر فرقے ہو گئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، ایک کے سب جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا: وہ ایک کون ہے؟ فرمایا: ”وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرمایا: «وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» ۱؎ [98-البينة:5] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] ‏‏‏‏ یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو ‘، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو ‘۔ «حنیف» کی پوری تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔ پھر فرمایا «وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ» ’ نمازوں کو قائم کریں ‘، جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ عبادت ہے، «وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ» ‘ اور زکوٰۃ دیتے رہیں ‘ یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں، «وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ» ‘ یہی دین مضبوط، سیدھا، درست، عدل والا اور عمدگی والا ہے ‘۔ بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔

📖 احسن البیان

4۔ 1 یعنی اہل کتاب، حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل اکھٹے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث ہوگئی، اس کے بعد یہ متفرق ہوگئے، ان میں سے کچھ مومن ہوگئے لیکن اکثریت ایمان سے محروم ہی رہی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث و رسالت کو دلیل سے تعبیر کرنے میں یہی نقطہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت واضح تھی جس میں مجال انکار نہیں تھی۔ لیکن ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب محض حسد اور عناد کی وجہ سے کی۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تفرق کا ارتکاب کرنے والوں میں صرف اہل کتاب کا نام لیا ہے، حالانکہ دوسروں نے بھی اس کا ارتکاب کیا تھا، کیونکہ یہ بہرحال علم والے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور صفات کا تذکرہ ان کی کتابوں میں موجود تھا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 4) ➊ {وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ …:} اس آیت میں اہلِ کتاب کے ایک جرم کا ذکر فرمایا، مشرکین کا نام نہیں لیا، کیونکہ جب پڑھے لکھوں کا یہ حال ہے تو جاہل مشرکین کی ضد اور عناد کا اندازہ خود کرلیں۔ اہل کتاب کا یہ جرم ان کا باہمی تفرقہ تھا اور اس جرم کا ارتکاب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے بھی کیا اور آپ کی آمد پر بھی۔ آپ کی تشریف آوری سے پہلے وہ بہتر (۷۲) فرقوں میں بٹ چکے تھے۔ اس آیت میں وضاحت فرمائی کہ ان کے الگ الگ بہتر (۷۲) فرقے بننے کی وجہ یہ نہ تھی کہ انھیں اللہ کے حکم کا علم نہ تھا، نہیں! بلکہ {” الْبَيِّنَةُ “ } (کھلی دلیل اور واضح حکم) موجود ہونے کے باوجو د باہمی ضد اور عناد کی وجہ سے کسی نے احبار و رہبان میں سے کسی ایک کے اقوال کو حجت مان کر اس کے نام پر فرقہ بنا لیا اور کسی نے دوسرے کے نام پر۔ یہی حال مسلمانوں کا ہوا، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ تَفَرَّقَتِ الْيَهُوْدُ عَلٰی إِحْدٰی وَسَبْعِيْنَ فِرْقَةً، أَوِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِيْنَ فِرْقَةً، وَالنَّصَارٰی مِثْلَ ذٰلِكَ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِيْ عَلٰی ثَلاَثٍ وَّسَبْعِيْنَ فِرْقَةً ] [ترمذي، الإیمان، باب ما جاء في افتراق ھٰذہ الأمۃ: ۲۶۴۰، وقال ترمذي و الألباني حسن صحیح ] ”یہود اکہتر (۷۱) یا بہتر (۷۲) فرقوں میں بٹ گئے، نصرانیوں کا بھی یہی حال ہوا اور میری امت تہتر (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی۔“ اس افتراق کا حل پہلے بھی یہ تھا اور اب بھی یہی ہے کہ تمام امت اللہ کے نازل کردہ احکام پر متفق ہو جائے، علماء کے اقوال سے کتاب و سنت سمجھنے میں مدد لی جائے مگران میں سے کسی کے قول کو شرع سمجھ کر فرقہ نہ بنایا جائے، بلکہ جہاں اس کی بات وحی الٰہی کے خلاف ہو، خواہ کتنا ہی بڑا آدمی کیوں نہ ہو، اسے یکسر ترک کر دیا جائے۔ ➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد آپ پر اہلِ کتاب کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ ہرگز نہ تھی کہ انھیں آپ کے سچا ہونے میں کوئی شک تھا، بلکہ پہلی کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح بشارت اور نشانیاں موجود ہونے کی وجہ سے وہ آپ کو اپنے بیٹوں کی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر پہچانتے تھے، مگر محض حسد اور عناد کی وجہ سے آپ کے بارے میں جدا جدا ہوگئے، کوئی ایمان لے آیا اور کوئی کفر پر ڈٹا رہا۔ حسد اور عناد ایک تو یہ تھا کہ آپ بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل سے کیوں ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ اپنی مذہبی سرداری چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔
← پچھلی آیت (3) پوری سورۃ اگلی آیت (5) →