بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البينة — Surah Bayyinah
آیت نمبر 5
کل آیات: 8
قرآن کریم البينة آیت 5
آیت نمبر: 5 — سورۃ البينة islamicurdubooks.com ↗
وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۙ حُنَفَآءَ وَ یُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ذٰلِکَ دِیۡنُ الۡقَیِّمَۃِ ؕ﴿۵﴾
اور اُن کو اِس کے سوا کوئی علم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، بالکل یکسو ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں یہی نہایت صحیح و درست دین ہے
انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا
اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں اور یہ سیدھا دین ہے،
حالانکہ انہیں تو بس یہی حکم دیا گیا تھا کہ دین کو اسی کیلئے خالص کرتے ہوئے اللہ کی عبادت کریں بالکل یکسُو ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی نہایت (صحیح اور) درست دین ہے۔
اور انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اس حال میںکہ اس کے لیے دین کو خالص کرنے والے، ایک طرف ہونے والے ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سات قرأت اور قرآن حکیم ٭٭

اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں۔ فرماتا ہے یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے، پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں۔ جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ» * «مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ» * «بِأَيْدِي سَفَرَةٍ» * «كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ۱؎ [80-عبس:13-16] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ وہ نامی گرامی بلند و بالا، پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ’ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں ‘۔ جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً» کہ وہ رسول (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ ابن زید فرماتے ہیں «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ان صحیفوں میں کتابیں ہیں، استقامت اور عدل و انصاف والی۔

پھر فرمایا «وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ» ۱؎ [98-البينة:4] ‏‏‏‏ یعنی ’ اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختلاف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے ‘۔ جیسے کہ آیت میں ہے «وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [3-آل عمران:105] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈلا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے ‘۔ جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ { یہودیوں کے اکہتر فرقے ہو گئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، ایک کے سب جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا: وہ ایک کون ہے؟ فرمایا: ”وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرمایا: «وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» ۱؎ [98-البينة:5] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں ‘۔ جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] ‏‏‏‏ یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو ‘، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو ‘۔ «حنیف» کی پوری تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔ پھر فرمایا «وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ» ’ نمازوں کو قائم کریں ‘، جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ عبادت ہے، «وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ» ‘ اور زکوٰۃ دیتے رہیں ‘ یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں، «وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ» ‘ یہی دین مضبوط، سیدھا، درست، عدل والا اور عمدگی والا ہے ‘۔ بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔

📖 احسن البیان

5۔ 1 یعنی ان کی کتابوں میں انہیں حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ۔۔۔ 5۔ 2 حنیف کے معنی ہیں، مائل ہونا، کسی ایک طرف یکسو ہونا، حنفآء جمع ہے۔ یعنی شرک سے توحید کی طرف اور تمام ادیان سے منقطع ہو کر صرف دین اسلام کی طرف مائل اور یکسو ہوتے ہوئے۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ والسلام نے کیا۔ 5۔ 3 ا ؛ قیّمۃ محذوف موصوف کی صفت ہے۔ دین الملۃ القیّمۃ ائ: المستقیمۃ یا الأمّۃ المستقیمۃ المعتدلۃ، یہی اس ملت یا امت کا دین ہے جو سیدھی اور معتدل ہے۔ اکثر ائمہ نے اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ اعمال، ایمان میں داخل ہیں (ابن کثیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت 5) {وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ …: ” الْقَيِّمَةِ”قَامَ يَقُوْمُ“} سے {”فَيْعِلَةٌ“} کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے، جس میں تاء مبالغے کے لیے ہے، نہایت مضبوط، سیدھی جس میں کوئی کجی نہیں: {”أَيْ ذٰلِكَ دِيْنُ الْمِلَّةِ الْقَيِّمَةِ“} ”یعنی یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔“ {” حُنَفَآءَ”حَنِيْفٌ“} کی جمع ہے جو {”حَنَفَ يَحْنِفُ حَنْفًا“} (ض) (حاء کے ساتھ) سے {”فَعِيْلٌ“} بمعنی اسم فاعل ہے،اس کا لفظی معنی ”ایک طرف مائل ہونا“ ہے۔ اس کا اکثر استعمال ”تمام راستوں سے ہٹ کر سیدھے راستے کی طرف آنے“ کے معنی میں ہوتا ہے، جب کہ {”جَنَفَ“} (جیم کے ساتھ) کا مطلب ”سیدھے راستے سے ہٹ کر ادھر ادھر ہو جانا“ ہوتا ہے۔ اس آیت میں دین کا خلاصہ بیان فرما دیا کہ پہلی امتیں ہوں یا یہ امت، سب میں ایک ہی حکم ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کریں، جو ہر قسم کے شرک اور ریا سے پاک اور خالص اللہ کے لیے ہو اور باطل پر چلنے والے تمام گروہوں سے ہٹ کر ایک اللہ کی طرف یک سو ہو جائیں، جس طرح ابراہیم علیہ السلام ہو گئے تھے اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔ جب اس امت میں بھی وہی پہلا ہی حکم ہے اور پہلی امتوں کا اور اس امت کا دین قیم ایک ہی ہے، تو انھیں ماننے سے انکار کیوں ہے؟
← پچھلی آیت (4) پوری سورۃ اگلی آیت (6) →