بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البينة — Surah Bayyinah
آیت نمبر 8
کل آیات: 8
قرآن کریم البينة آیت 8
آیت نمبر: 8 — سورۃ البينة islamicurdubooks.com ↗
جَزَآؤُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ ذٰلِکَ لِمَنۡ خَشِیَ رَبَّہٗ ٪﴿۸﴾
اُن کی جزا اُن کے رب کے ہاں دائمی قیام کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ کچھ ہے اُس شخص کے لیے جس نے اپنے رب کا خوف کیا ہو
ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور یہ اس سے راضی ہوئے۔ یہ ہے اس کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرے
ان کا صلہ ان کے رب کے پاس بسنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں، اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے
ان کی جزا ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشگی کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں (یہ سب کچھ) اس کے لئے ہے جو اپنے پروردگار (کی حکم عدولی) سے ڈرتا ہے۔
ان کا بدلہ ان کے رب کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے۔ یہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈر گیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ساری مخلوق سے بہتر اور بدتر کون ہے؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ کافروں کا انجام بیان فرماتا ہے ’ وہ کافر خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین عرب و عجم ہوں جو بھی انبیاء اللہ کے مخالف ہوں اور کتاب اللہ کے جھٹلانے والے ہوں وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ میں ڈال دئیے جائیں گے اور اسی میں پڑے رہیں گے، نہ وہاں سے نکلیں گے، نہ رہا ہوں گے، یہ لوگ تمام مخلوق سے بدتر اور کمتر ہیں ‘۔ پھر اپنے نیک بندوں کے انجام کی خبر دیتا ہے ’ جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسموں سے سنت کی بجا آوری میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں کہ یہ ساری مخلوق سے بہتر اور بزرگ ہیں ‘۔ اس آیت سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ ایمان والے انسان فرشتوں سے بھی افضل ہیں۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کا نیک بدلہ ان کے رب کے پاس ان لازوال جنتوں کی صورت میں ہے، جن کے چپے چپے پر پاک صاف پانی کی نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں دوام اور ہمیشہ کی زندگی کے ساتھ رہیں گے، نہ وہاں سے نکالے جائیں، نہ وہ نعمتیں ان سے جدا ہوں، نہ کم ہوں، نہ اور کوئی کھٹکا ہے، نہ غم، پھر ان سب سے بڑھ چڑھ کر نعمت و رحمت یہ ہے کہ رضائے رب مرضی مولا انہیں حاصل ہو گئی ہے اور انہیں اس قدر نعمتیں باری تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں کہ یہ بھی دل سے راضی ہو گئے ہیں۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ یہ بہترین بدلہ یہ بہت بڑی جزاء یہ اجر عظیم دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہنے کا عوض ہے، ہر وہ شخص جس کے دل میں ڈر ہو، جس کی عبادت میں اخلاص ہو، جو جانتا ہو کہ اللہ کی اس پر نظریں ہیں بلکہ عبادت کے وقت اس مشغولی اور دلچسپی سے عبادت کر رہا ہو کہ گویا وہ اپنی آنکھوں سے اپنے خالق، مالک، سچے رب اور حقیقی اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بہتر شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور، فرمایا: ”وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے کہ کب جہاد کی آواز بلند ہو اور کب میں کود کر اس کی پیٹھ پر سوار ہو جاؤں اور گرجتا ہوا دشمن کی فوج میں گھسوں اور داد شجاعت دوں، لو میں تمہیں ایک اور بہترین مخلوق کی خبر دوں، وہ شخص جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہے، نہ نماز کو چھوڑتا ہے، نہ زکوٰۃ سے جی چراتا ہے۔ آؤ اب میں بدترین مخلوق بتاؤں وہ شخص کہ اللہ کے نام سے سوال کرے اور پھر نہ دیا جائے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:169/2،حسن] ‏‏‏‏ سورۃ «لم یکن» کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے۔

📖 احسن البیان

8۔ 1 ان کے ایمان وطاعت اور اعمال صالحہ کے سبب۔ اللہ کی رضامندی سب سے بڑی چیز ہے (ورضوان من اللہ اکبر) 8۔ 2 اس لئے کہ اللہ نے انہیں ایسی نعمتوں سے نواز دیا، جن میں ان کی روح اور بدن دونوں کی سعادتیں ہیں۔ 8۔ 3 یعنی یہ جزا اور رضامندی ان لوگوں کے لئے ہے جو دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہے اور اس کے ڈر کی وجہ سے اللہ کی نافرمانی کے ارکاب سے بچتے رہے۔ اگر کبھی نافرمانی کرلی بھی تو توبہ کرلی۔ اور آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کرلی، حتیٰ کہ ان کی موت اسی اطاعت پر ہوئی نہ کہ معصیت پر۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ سے ڈرنے والا معصیت پر اصرار اور دوام نہیں کرسکتا اور جو ایسا کرتا ہے، حقیقت میں اس کا دل اللہ کے خوف سے خالی ہے۔

📖 القرآن الکریم

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
← پچھلی آیت (7) پوری سورۃ اگلی آیت →