بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الأنفال
سورۃ الأنفال — 75 آیات — صفحہ 1 از 2
قرآن کریم Surah 8
یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ؕ قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَیۡنِکُمۡ ۪ وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں؟ کہو “یہ انفال تو اللہ اور اُس کے رسُولؐ کے ہیں، پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ لوگ آپ سے غنیمتو ں کا حکم دریافت کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے! کہ یہ غنیمتیں اللہ کی ہیں اور رسول کی ہیں، سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اے محبوب! تم سے غنیمتوں کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ غنیمتوں کے مالک اللہ اور رسول ہیں تو اللہ ڈرو اور اپنے آ پس میں میل (صلح صفائی) رکھو اور اللہ اور رسول کا حکم مانو اگر ایمان رکھتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) لوگ آپ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ انفال اللہ اور اللہ کے رسول کے لئے ہیں۔ پس اگر تم مؤمن ہو تو اللہ سے ڈرو۔ اور اپنے باہمی تعلقات و معاملات کی اصلاح کرو۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔
عبدالسلام بن محمد
وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کی ہیں، سو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو، اگر تم مومن ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بخاری شریف میں ہے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورۃ الانفال غزوہ بدر کے بارے میں اتری ہے۔۱؎ [صحیح بخاری:4645] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں انفال سے مراد غنیمتیں ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری کتاب التفسیر سورۃ الانفال باب:1] ‏‏‏‏ جو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہی تھیں ان میں سے کوئی چیز کسی اور کیلئے نہ تھی۔ آپ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا گھوڑا بھی انفال میں سے ہے اور سامان بھی۔ سائل نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا اس نے پھر پوچھا کہ جس انفال کا ذکر کتاب اللہ میں ہے اس سے کیا مراد ہے؟ غرض پوچھتے پوچھتے آپ کو تنگ کر دیا تو آپ نے فرمایا اس کا یہ کرتوت اس سے کم نہیں جسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مارا تھا۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:168/6] ‏‏‏‏ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے جب سوال ہوتا تو آپ فرماتے نہ تجھے حکم دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں واللہ حق تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے والا حکم فرمانے والا حلال حرام کی وضاحت کرنے والا ہی بنا کر بھیجا ہے۔ آپ نے اس سائل کو جواب دیا کہ کسی کسی کو بطور نفل [ مال غنیمت ] ‏‏‏‏ گھوڑا بھی ملتا اور ہتھیار بھی۔ دو تین دفعہ اس نے یہی سوال کیا جس سے آپ غضبناک ہو گئے اور فرمانے لگے یہ تو ایسا ہی شخص ہے جسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑے لگائے تھے یہاں تک کہ اس کی ایڑیاں اور ٹخنے خون آلود ہو گئے تھے۔ اس پر سائل کہنے لگا کہ خیر آپ سے تو اللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا بدلہ لے ہی لیا۔ الغرض سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک تو یہاں نفل سے مراد پانچویں حصے کے علاوہ وہ انعامی چیزیں ہیں جو امام اپنے سپاہیوں کو عطا فرمائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانچویں حصے کا مسئلہ پوچھا جو چار ایسے ہی حصوں کے بعد رہ جائے۔ پس یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:168/6] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں لڑائی والے دن اس سے زیادہ امام نہیں دے سکتا بلکہ لڑائی کے شروع سے پہلے اگر چاہے دیدے۔ عطا فرماتے ہیں کہ یہاں مراد مشرکوں کا وہ مال ہے جو بے لڑے بھڑے مل جائے خواہ جانور ہو خواہ لونڈی غلام یا اسباب ہو پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہی تھا آپ کو اختیار تھا کہ جس کام میں چاہیں لگا لیں تو گویا ان کے نزدیک مال فے انفال ہے۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:169/6] ‏‏‏‏ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد لشکر کے کسی رسالے کو بعوض ان کی کارکردگی یا حوصلہ افزائی کے امام انہیں عام تقسیم سے کچھ زیادہ دے اسے انفال کہا جاتا ہے۔ مسند احمد میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر والے دن جب میرے بھائی عمیر قتل کئے گئے میں نے سعید بن العاص کو قتل کیا اور اس کی تلوار لے لی جسے ذوالکتیعہ کہا جاتا تھا سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ اسے باقی مال کے ساتھ رکھ آؤ۔ } میں نے حکم کی تعمیل تو کر لی لیکن اللہ ہی کو معلوم ہے کہ اس وقت میرے دل پر کیا گذری۔

ایک طرف بھائی کے قتل کا صدمہ دوسری طرف اپنا حاصل کردہ سامان واپس ہونے کا صدمہ۔ ابھی میں چند قدم ہی چلا ہوں گا جو سورۃ الانفال نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: { جاؤ اور وہ تلوار جو تم ڈال آئے ہو لے جاؤ }۔ ۱؎ [مسند احمد:180/1:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ مسند میں سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آج کے دن اللہ تعالیٰ نے مجھے مشرکوں سے بچا لیا اب آپ یہ تلوار مجھے دے دیجئیے آپ نے فرمایا: { سنو نہ یہ تمہاری ہے نہ میری ہے۔ اسے بیت المال میں داخل کر دو }،میں نے رکھ دی اور میرے دل میں خیال آیا کہ آج جس نے مجھ جیسی محنت نہیں کی اسے یہ انعام مل جائے گا یہ کہتا ہوا جا ہی رہا تھا جو آواز آئی کہ کوئی میرا نام لے کر میرے پیچھے سے مجھے پکار رہا ہے لوٹا اور پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہیں میرے بارے میں کوئی وحی نہیں اتری؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں تم نے مجھ سے تلوار مانگی تھی اس وقت وہ میری نہ تھی اب وہ مجھے دے دی گئی اور میں تمہیں دے رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ہے۔ } } ۱؎ [سنن ابوداود:2740،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پس آیت «‏‏‏‏يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۠ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [8-الأنفال:1] ‏‏‏‏، اس بارے میں اتری ہے جو ابوداؤد طیالسی میں انہی سے مروی ہے کہ { میرے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئی ہیں۔ مجھے بدر والے دن ایک تلوار ملی میں اسے لے کر سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ تلوار آپ مجھے عنایت فرمائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ جہاں سے لی ہے وہیں رکھ دو }۔ میں نے پھر طلب کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا۔ میں نے پھر مانگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا۔ اسی وقت یہ آیت اتری۔}

یہ پوری حدیث ہم نے آیت «‏‏‏‏وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْـنًا ۭ وَاِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۭ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 29- العنكبوت: 8 ] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ پس ایک تو یہ آیت دوسری آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ» ۱؎ [ 5- المآئدہ: 90 ] ‏‏‏‏، چوتھی آیت وصیت۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1748] ‏‏‏‏ سیرت ابن اسحاق میں ہے ابوسعید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی میں مجھے سیف بن عاند کی تلوار ملی جسے مرزبان کہا جاتا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو وہ جمع کرا دے، میں بھی گیا اور وہ تلوار رکھ آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ اگر کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگتا تو آپ انکار نہ کرتے۔ ارقم بن ارقم خزاعی رضی اللہ عنہ نے اس تلوار کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کا سوال کیا آپ نے انہیں عطا فرما دی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15672] ‏‏‏‏ اس آیت کے نزول کا سبب مسند امام احمد میں ہے کہ ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے انفال کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا ہم بدریوں کے بارے میں ہے جبکہ ہم مال کفار کے بارے میں باہم اختلاف کرنے لگے اور جھگڑے بڑھ گئے تو یہ آیت اتری اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد ہو گئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کو برابری سے تقسیم فرمایا۔۱؎ [مسند احمد:319/5:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوۂ بدر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔۱؎ [مسند احمد:324/5:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ ہم غزوہ بدر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اللہ تعالیٰ نے کافروں کو شکست دے دی ہماری ایک جماعت نے تو ان کا تعاقب کیا کہ پوری ہزیمت دیدے دوسری جماعت نے مال غنیمت میدان جنگ سے سمیٹنا شروع کیا اور ایک جماعت اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد کھڑی ہو گئی کہ کہیں کوئی دشمن آپ کو کوئی ایذاء نہ پہنچائے۔ رات کو سب لوگ جمع ہوئے اور ہر جماعت اپنا حق اس مال پر جتانے لگی۔ پہلی جماعت نے کہا دشمنوں کو ہم نے ہی ہرایا ہے۔ دوسری جماعت نے کہا مال غنیمت ہمارا ہی سمیٹا ہوا ہے۔ تیسری جماعت نے کہا ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چوکیداری کی ہے پس یہ آیت اتری اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس مال کو ہم میں تقسیم فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ حملے کی موجودگی میں چوتھائی بانٹتے اور لوٹتے وقت تہائی آپ انفال کو مکروہ سمجھتے۔۱؎ [سنن ترمذي:1561،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن مردویہ میں ہے کہ بدر والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ { جو ایسا کرے اسے یہ انعام اور جو ایسا کرے اسے یہ انعام۔ } اب نوجوان تو دوڑ پڑے اور کار نمایاں انجام دیئے۔ بوڑھوں نے مورچے تھامے اور جھنڈوں تلے رہے۔ اب جوانوں کا مطالبہ تھا کہ کل مال ہمیں ملنا چاہیئے بوڑھے کہتے تھے کہ لشکر گاہ کو ہم نے محفوظ رکھا تم اگر شکست اٹھاتے تو یہیں آتے۔

اسی جھگڑے کے فیصلے میں یہ آیت اتری۔۱؎ [سنن ابوداود:2737،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان ہو گیا تھا کہ { جو کسی کافر کو قتل کرے اسے اتنا ملے گا اور جو کسی کافر کو قید کرے اسے اتنا ملے گا۔} ابوالیسر رضی اللہ عنہ دو قیدی پکڑ لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وعدہ یاد دلایا اس پر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر تو ہم سب یونہی رہ جائیں گے۔ بزدلی یا بے طاقتی کی وجہ سے ہم آگے نہ بڑھے ہوں یہ بات نہیں بلکہ اس لیے کہ پچھلی جانب سے کفار نہ آ پڑیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اس لیے ہم آپ کے اردگرد رہے، اسی جھگڑے کے فیصلے میں یہ آیت اتری اور آیت «وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ باللّٰهِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [ 8- الانفال: 41 ] ‏‏‏‏، بھی اتری۔ امام ابو عبیداللہ قاسم بن سلام نے اپنی کتاب احوال الشرعیہ میں لکھا ہے کہ انفال غنیمت ہے اور حربی کافروں کے جو مال مسلمانوں کے قبضے میں آئیں وہ سب ہیں پس انفال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں تھے بدر والے دن بغیر پانچواں حصہ نکالے جس طرح اللہ نے آپ کو سمجھایا آپ نے مجادین میں تقسیم کیا اس کے بعد پانچواں حصہ نکالنے کے حکم کی آیت اتری ۱؎ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:0000،۔] ‏‏‏‏ اور یہ پہلا حکم منسوخ ہو گیا لیکن ابن زید وغیرہ اسے منسوخ نہیں بتلاتے بلکہ محکم کہتے ہیں۔ انفال غنیمت کی جمع ہے مگر اس میں سے پانجواں حصہ مخصوص ہے۔ اس کی اہل کیلئے جیسے کہ کتاب اللہ میں حکم ہے اور جیسے کہ سنت رسول اللہ جاری ہوئی ہے۔ انفال کے معنی کلام عرب میں ہر اس احسان کے ہیں جسے کوئی بغیر کسی پابندی یا وجہ کے دوسرے کے ساتھ کرے۔ پہلے کی تمام امتوں پر یہ مال حرام تھے اس امت پر اللہ نے رحم فرمایا اور مال غنیمت ان کے لیے حلال کیا۔

چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں پھر ان کے ذکر میں ایک یہ ہے کہ آپ نے فرمایا میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئیں مجھ سے پہلے کسی کو حلال نہ تھیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:335] ‏‏‏‏ امام ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام جن لشکریوں کو کوئی انعام دے جو اس کے مقررہ حصہ کے علاوہ ہو اسے نفل کہتے ہیں غنیمت کے انداز اور اس کے کارنامے کے صلے کے برابر یہ ملتا ہے۔ اس نفل کی چار صورتیں ہیں ایک تو مقتول کا مال اسباب وغیرہ جس میں سے پانچواں حصہ نہیں نکالا جاتا۔ دوسرے وہ نفل جو پانچواں حصہ علیحدہ کرنے کے بعد دیا جاتا ہے۔ مثلاً امام نے کوئی چھوٹا سا لشکر کسی دشمن پر بھیج دیا وہ غنیمت یا مال لے کر پلٹا تو امام اس میں سے اسے چوتھائی یا تہائی بانٹ دے تیسرے صورت یہ کہ جو پانچواں حصہ نکال کر باقی کا تقسیم ہو چکا ہے، اب امام بقدر خزانہ اور بقدر شخصی جرات کے اس میں سے جسے جتنا چاہے دے۔ چوتھی صورت یہ کہ امام پانچواں حصہ نکالنے سے پہلے ہی کسی کو کچھ دے مثلاً چرواہوں کو، سائیسوں کو، بہشتیوں کو وغیرہ۔ پھر ہر صورت میں بہت کچھ اختلاف ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ نکالنے سے پہلے جو سامان اسباب مقتولین کا مجاہدین کو دیا جائے وہ انفال میں داخل ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا حصہ پانچویں حصے میں سے پانچواں جو تھا اس میں سے آپ جسے جاہیں جتنا چاہیں عطا فرمائیں یہ نفل ہے۔

پس امام کو چاہیئے کہ دشمنوں کی کثرت مسلمانوں کی قلت اور ایسے ہی ضروری وقتوں میں اس سنت کی تابعیداری کرے۔ ہاں جب ایسا موقع نہ ہو تو نفل ضروری نہیں۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ امام ایک چھوٹی سی جماعت کہیں بھیجتا ہے اور ان سے کہدیتا ہے کہ جو شخص جو کچھ حاصل کرے پانچواں حصہ نکال کر باقی سب اسی کا ہے تو وہ سب انہی کا ہے کیونکہ انہوں نے اسی شرط پر غزوہ کیا ہے اور یہ رضا مندی سے طے ہو چکی ہے۔ لیکن ان کے اس بیان میں جو کہا گیا ہے کہ بدر کی غنیمت کا پانچواں حصہ نہیں نکالا گیا۔ اس میں ذرا کلام ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ دو اونٹنیاں وہ ہیں جو انہیں بدر کے دن پانچویں حصے میں ملی تھیں میں نے اس کا پورا بیان کتاب السیرہ میں کر دیا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ قولہ تعالیٰ «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ» ’ تم اپنے کاموں میں اللہ کا ڈر رکھو، آپس میں صلح و صفائی رکھو، ظلم، جھگڑے اور مخالفت سے باز آ جاؤ۔ جو ہدایت و علم اللہ کی طرف سے تمہیں ملا ہے اس کی قدر کرو۔ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو، عدل و انصاف سے ان مالوں کو تقسیم کرو۔ پرہیزگاری اور صلاحیت اپنے اندر پیدا کرو ‘۔ سدی رحمة الله کہتے ہیں کہ «وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ» کے معنی ہیں کہ آپس میں لڑو جھگرو نہیں اور گالی گلوچ نہ بکو۔ مسند ابویعلیٰ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بیٹھے ایک مرتبہ مسکرائے اور پھر ہنس دیئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ فدا ہوں، کیسے ہنس دیئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میری امت کے دو شخص اللہ رب العزت کے سامنے گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے ایک نے کہا اللہ میرے بھائی سے میرے ظلم کا بدلہ لے اللہ نے اس سے فرمایا ٹھیک ہے اسے بدلہ دے اس نے کہا اللہ میرے پاس تو نیکیاں اب باقی نہیں رہیں اس نے کہا پھر اللہ میری برائیاں اس پر لا دھ دے۔}

اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو نکل آئے اور فرمانے لگے { وہ دن بڑا ہی سخت ہے لوگ چاہتے ہوں گے تلاش میں ہوں گے کہ کسی پر ان کا بوجھ لادھ دیا جائے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے طالب اپنی نگاہ اٹھا اور ان جنتیوں کو دیکھ وہ دیکھے گا اور کہے گا چاندی کے قلعے اور سونے کے محل میں دیکھ رہا ہوں جو لؤ لؤ اور موتیوں سے جڑاؤ کئے ہوئے ہیں پروردگار مجھے بتایا جائے کہ یہ مکانات اور یہ درجے کسی نبی کے ہیں یا کسی صدیق کے یا کسی شہید کے؟ اللہ فرمائے گا یہ اس کے ہیں جو ان کی قیمت ادا کر دے۔ وہ کہے گا اللہ کس سے ان کی قیمت ادا ہو سکے گی؟ فرمائے گا تیرے پاس تو اس کی قیمت ہے وہ خوش ہو کر پوچھے گا کہ پروردگار کیا؟ اللہ فرمائے گا یہی کہ تیرا جو حق اس مسلمان پر ہے تو اسے معاف کر دے، بہت جلد کہے گا کہ اللہ میں نے معاف کیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو گا کہ اب اس کا ہاتھ تھام لے اور تم دونوں جنت میں چلے جاؤ۔ } پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کا آخری حصہ تلاوت فرمایا کہ { اللہ سے ڈرو اور آپس کی اصلاح کرو دیکھو اللہ تعالیٰ خود قیامت کے دن مومنوں میں صلح کرائے گا۔}۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،۔] ‏‏‏‏
یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم دریافت کرتے ہیں (1) آپ فرما دیجئے! کہ غنیمتیں اللہ کی ہیں اور رسول کی ہیں (2) سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو (3)۔
{سورة الانفال} (آیت 1) ➊ {يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ:الْاَنْفَالِ “} یہ {” نَفَلٌ“ } (نون اور فاء کے فتح کے ساتھ) کی جمع ہے، جیسا کہ {”فَرَسٌ“} کی جمع {” اَفْرَاسٌ“} ہے۔ جس کا معنی زائد چیز ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ}» [ بنی إسرائیل: ۷۹ ] ”اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کے ساتھ بیدار رہ، اس حال میں کہ تیرے لیے زائد ہے۔“ یعنی رات کا قیام فرض نمازوں سے زائد ہے۔ یہ لفظ کئی معنوں میں آتا ہے: (1) مال غنیمت، کیونکہ جہاد کا اصل مقصد تو ثواب اور حصولِ جنت ہے، غنیمت تو ایک زائد چیز ہے۔ شاید اسی لیے پہلی امتوں کے لیے غنیمت حلال نہیں تھی، اس امت کو ثواب پر مزید غنیمت بھی حلال کر دی گئی۔ (2) امیر کسی خاص کارنامے پر غنیمت کے حصے سے زائد کسی انعام کا اعلان کر دے، یا دینا چاہے تو یہ بھی نفل ہے۔ (3) مقتول کے پاس جو بھی سامان اسلحہ یا سواری وغیرہ ہو وہ قاتل کو دیا جائے، اسے ”سلب“ کہتے ہیں، یہ بھی نفل ہے۔ (4) عام جنگ کے علاوہ کچھ دستے جنگ کے لیے جاتے ہوئے یا واپسی پر کسی بستی پر حملے کے لیے بھیجے جائیں اور وہ غنیمت لے کر آئیں تو وہ پورے لشکر کے لیے ہوگی، مگر اس دستے کو مجموعی غنیمت میں سے الگ زائد حصہ بھی دیا جائے گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے وقت چوتھا حصہ اور واپسی پر تیسرا حصہ عطا فرماتے تھے۔ (5) امیر غنیمت کی تقسیم سے پہلے کوئی ایک چیز اپنے لیے چن لے، مثلاً کوئی اسلحہ یا سواری، یا لونڈی وغیرہ، اسے ”صفی“ بھی کہتے تھے۔ زمانۂ جاہلیت میں معمول تھا کہ جنگ میں جو شخص جو کچھ لوٹ لیتا اسی کا ہوتا۔ اسلام میں سب سے پہلا عظیم الشان معرکہ بدر واقع ہوا تو ابھی تک کفار سے حاصل ہونے والے مال کی تقسیم کا طریقہ مقرر نہیں ہوا تھا۔ بدر میں جب بہت سا مالِ غنیمت حاصل ہوا تو یہ مسئلہ پیش آیا۔ چنانچہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو میں آپ کے ساتھ بدر میں شریک ہوا۔ لوگوں کا باہمی مقابلہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دی، تو ایک گروہ انھیں ہزیمت دیتے اور قتل کرتے ہوئے ان کے پیچھے چل پڑا، ایک گروہ لشکر گاہ پر متوجہ ہو کر اس کی حفاظت اور مال جمع کرنے لگ گیا اور ایک گروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیرا ڈالے رکھا کہ دشمن آپ کے متعلق کسی غفلت سے فائدہ نہ اٹھا لے۔ آخر سب لوگ واپس آ کر جمع ہوئے تو جنھوں نے غنیمتیں جمع کی تھیں، کہنے لگے، یہ ہم نے جمع کی ہیں، کسی اور کا ان میں کوئی حصہ نہیں، جو دشمن کے پیچھے گئے تھے انھوں نے کہا تم ہم سے زیادہ اس کے حق دار نہیں ہو، ہم نے دشمن کو ان سے ہٹایا اور انھیں مار بھگایا ہے۔ جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیر ڈالے رکھا، انھوں نے کہا، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے میں رکھا اور اس بات سے ڈرے کہ دشمن کسی طرح کی غفلت میں آپ کو نقصان نہ پہنچائے، چنانچہ ہم اس کام میں مشغول رہے، تو اس وقت یہ آیات اتریں: «{ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ }» تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دشمن کی زمین میں حملے کے لیے جاتے تو چوتھا حصہ بطور نفل (زائد) دیتے تھے، پھر جب واپس آتے، لوگ تھکے ہوئے ہوتے تو تیسرا حصہ بطور نفل عطا فرماتے تھے اور آپ خصوصاً زائد حصے دینا پسند نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے: ”مومنوں کا قوت والا ان کے کمزور پر غنیمت واپس لاتا ہے۔“ [ أحمد: 323/5، ۳۲۴، ح ۲۲۷۶۲، وقال شعیب الأرنؤوط حسن لغیرہ ] ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان اور مستدرک حاکم میں بھی اس حدیث کے بعض اجزا مروی ہیں۔ ➋ {قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ …:} فرمایا آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ یہ کس کا حق ہیں، کس طرح تقسیم ہوں گی، آپ فرما دیں کہ غنیمتیں حقیقت میں تم میں سے کسی کی بھی ملکیت نہیں، یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت ہیں، تمھارا ان میں کچھ دخل نہیں، کیونکہ فتح تمھاری طاقت سے نہیں بلکہ اللہ کی مدد سے ہوئی ہے۔ آگے دور تک یہ بات بیان کی ہے کہ فتح اللہ کی مدد ہی سے ہوئی ہے اور ہوتی ہے، اس لیے تم اللہ سے ڈرو اور ان اموال کی وجہ سے تمھارے باہمی تعلقات میں جو خرابی آئی ہے اسے درست کرو اور اگر تم مومن ہو تو اللہ اور اس کا رسول جو بھی حکم دیں اس کی اطاعت کرو، جسے جتنا دیں یا نہ دیں، وہ اس پر راضی رہے اور اس مال کی بنا پر تمھارے آپس کے تعلقات ہر گز خراب نہیں ہونے چاہییں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم آپس کے تعلقات بگاڑنے سے بچو، اس لیے کہ یہ چیز (دین) کو مونڈ دینے والی ہے۔“ [ ترمذی، صفۃ القیامۃ، باب فی فضل صلاح ذات البین: ۲۵۰۸، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] تفسیر ابن کثیر میں یہاں مسند ابی یعلی کے حوالے سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث نقل کی گئی ہے جس میں اپنے بھائی کو معاف کرنے والے کے لیے اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں جانے کا ذکر ہے، یہ روایت مستدرک میں بھی ہے، جسے امام حاکم نے صحیح کہا ہے، مگر ذہبی نے اس کے ایک راوی عباد کو ضعیف اور اس کے شیخ کو {”لَا يُعْرَفُ“} کہا ہے۔ ➌ { اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو بھی ایمان کی شرط قرار دیا گیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے مراد (جیسا کہ ظاہر ہے) آپ کی سنت کی پیروی ہے، لہٰذا جو شخص آپ کی سنت سے منہ موڑ کر صرف قرآن کی اطاعت کرنا چاہتا ہے (جبکہ حدیث کے بغیر قرآن پر عمل کسی صورت ممکن ہی نہیں) وہ قرآن کی واضح تصریح کے مطابق دائرۂ ایمان سے خارج ہے۔
اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ اِذَا تُلِیَتۡ عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُہٗ زَادَتۡہُمۡ اِیۡمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ۚ﴿ۖ۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
سچّے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سُن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں
علامہ محمد حسین نجفی
(کامل) ایمان والے تو بس وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دھل جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کی جائے تو ان کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور وہ ہر ایک حال میں اپنے پروردگار پر توکل (بھروسہ) رکھتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
(اصل) مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو انھیں ایمان میں بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان سے خالی لوگ اور حقیقت ایمان ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں منافقوں کے دل میں نہ فریضے کی ادائیگی کے وقت ذکر اللہ ہوتا ہے نہ کسی اور وقت پر۔ نہ ان کے دلوں میں ایمان کا نور ہوتا ہے نہ اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے۔ نہ تنہائی میں نمازی رہتے ہیں نہ اپنے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں، ایسے لوگ ایمان سے خالی ہوتے ہیں، لیکن ایماندار ان کے برعکس ہوتے ہیں۔ ان کے دل یاد خالق سے کپکپاتے رہتے ہیں فرائض ادا کرتے ہیں آیات الٰہی سن کر ایمان چمک اٹھتے ہیں تصدیق میں بڑھ جاتے ہیں رب کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ کی یاد سے تھر تھراتے رہتے ہیں اللہ کا ڈر ان میں سمایا ہوا ہوتا ہے اسی وجہ سے نہ تو حکم کا خلاف کرتے ہیں نہ منع کئے ہوئے کام کو کرتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّـهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 135 ] ‏‏‏‏ ’ ان سے اگر کوئی برائی سرزد ہو بھی جاتی ہے تو یاد اللہ کرتے ہیں پھر اپنے گناہ سے استغفار کرتے ہیں حقیقت میں سوائے اللہ کے کوئی گناہوں کا بخشنے والا بھی نہیں۔ یہ لوگ باوجود علم کے کسی گناہ پر اصرار نہیں کرتے۔ ‘ اور آیتوں میں ہے آیت «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» ۱؎ [ 79- النازعات: 40، 41 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ جو شخص اپنے رب کے پاس کھڑا ہونے سے ڈرا اور اپنے نفس کو خواہشوں سے روکا اس کا ٹھکانا جنت ہے۔ ‘ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے جی میں ظلم کرنے کی یا گناہ کرنے کی آتی ہے لیکن اگر ان سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر جا وہیں ان کا دل کانپنے لگتا ہے، ام الدرداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دل اللہ کے خوف سے حرکت کرنے لگتے ہیں ایسے وقت انسان کو اللہ عزوجل سے دعا مانگنی چاہیئے۔ ایمانی حالت بھی ان کی روز بروز زیادتی میں رہتی ہے ادھر قرآنی آیات سنیں اور ایمان بڑھا۔

جیسے اور جگہ ہے کہ «وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ» ۱؎ [ 9-التوبة: 124 ] ‏‏‏‏ ’ جب کوئی سورت اترتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا دیا؟ بات یہ ہے کہ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور وہ خوش ہو جاتے ہیں۔‘ اس آیت سے اور اس جیسی اور آیتوں سے امام الائمہ امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام رحمہ اللہ علیہم نے استدلال کیا ہے کہ ایمان کی زیادتی سے مراد ہے کہ دلوں میں ایمان کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے یہی مذہب جمہور امت کا ہے بلکہ کئی ایک نے اس پر اجماع نقل کیا ہے جیسے شافعی، احمد بن حنبل، ابوعبیدہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ جیسے کہ ہم نے شرح بخاری کے شروع میں پوری طرح بیان کر دیا ہے۔ «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ «وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» یعنی ’ ان کا بھروسہ صرف اپنے رب پر ہوتا ہے ‘ نہ اس کے سوا کسی سے وہ امید رکھیں نہ اس کے سوا کوئی ان کا مقصود، نہ اس کے سوا کسی سے وہ پناہ چاہیں نہ اس کے سوا کسی سے مرادیں مانگیں نہ کسی اور کی طرف جھکیں وہ جانتے ہیں کہ قدرتوں والا وہی ہے جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوتا تمام ملک میں اسی کا حکم چلتا ہے ملک صرف وہی ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہ اس کے کسی حکم کو کوئی ٹال سکے وہ جلد ہی حساب لینے والا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ پر توکل کرنا ہی پورا ایمان ہے۔ «الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» ‏‏‏‏۱؎ [8-الأنفال:3] ‏‏‏‏ ان مومنوں کے ایمان اور اعتقاد کی حالت بیان فرما کر اب ان کے اعمال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ وہ نمازوں کے پابند ہوتے ہیں۔ وقت کی، وضو کی، رکوع کی، سجدے کی، کامل پاکیزگی کی، قرآن کی تلاوت، تشہد، درود، سب چیزوں کی حفاظت و نگرانی کرتے ہیں۔‘

اللہ کے اس حق کی ادائیگی کے ساتھ ہی بندوں کے حق بھی نہیں بھولتے۔ واجب خرچ یعنی زکوٰۃ مستحب خرچ یعنی للہ فی اللہ خیرات برابر دیتے ہیں چونکہ تمام مخلوق اللہ کی عیال ہے اس لیے اللہ کو سب سے زیادہ پیارا وہ ہے جو اس کی مخلوق کی سب سے زیادہ خدمت کرے اللہ کے دیئے ہوئے کو اللہ کی راہ میں دیتے رہو یہ مال تمہارے پاس اللہ کی امانت ہے بہت جلد تم اسے چھوڑ کر رخصت ہونے والے ہو۔ پھر فرماتا ہے کہ «أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا» ۱؎ [8-الأنفال:4] ‏‏‏‏ ’ جن میں یہ اوصاف ہوں وہ سچے مومن ہیں ‘ طبرانی میں ہے کہ حارث بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرے تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ { تمہاری صبح کس حال میں ہوئی؟ } انہوں نے جواب دیا کہ سچے مومن ہونے کی حالت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { سمجھ لو کہ کیا کہہ رہے ہو؟ ہرچیز کی حقیقت ہوا کرتی ہے۔ جانتے ہو حقیقت ایمان کیا ہے؟ } جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنی خواہشیں دنیا سے الگ کر لیں راتیں یاد اللہ میں جاگ کر دن اللہ کی راہ میں بھوکے پیاسے رہ کر گذراتا ہوں۔ گویا میں اللہ کے عرش کو اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھتا رہتا ہوں اور گویا کہ میں اہل جنت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپس میں ہنسی خوشی ایک دوسرے سے مل جل رہے ہیں اور گویا کہ میں اہل دوزخ کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ دوزخ میں جل بھن رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { حارثہ تو نے حقیقت جان لی پس اس حال پر ہمیشہ قائم رہنا۔ } تین مرتبہ یہی فرمایا۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏‏‏‏ پس آیت میں بالکل محاورہ عرب کے مطابق ہے جیسے وہ کہا کرتے ہیں کہ گو فلاں قوم میں سردار بہت سے ہیں لیکن صحیح معنی میں سردار فلاں ہے یا فلاں قبیلے میں تاجر بہت ہیں لیکن صحیح طور پر تاجر فلاں ہے، فلاں لوگوں میں شاعر ہیں لیکن سچا شاعر فلاں ہے۔

آیت میں ہے «هُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 163 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کے مرتبے اللہ کے ہاں بڑے بڑے ہیں اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے وہ ان کی لغزشوں سے درگذر فرمائے گا ان کی نیکیوں کی قدردانی کرے گا۔ ‘ گویہ درجے اونچے نیچے ہوں گے لیکن کسی بلند مرتبہ شخص کے دل میں یہ خیال نہ ہو گا کہ میں فلاں سے اعلیٰ ہوں اور نہ کسی ادنیٰ درجے والوں کو یہ خیال ہو گا کہ میں فلاں سے کم ہوں۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ علیین والوں کو نیچے کے درجے کے لوگ اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یہ مرتبے تو انبیاء کے ہونگے؟ کوئی اور تو اس مرتبے پر نہ پہنچ سکے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیوں نہیں؟ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ لوگ بھی جو اللہ پر ایمان لائیں اور رسولوں کو سچ جانیں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:3656] ‏‏‏‏ اہل سنن کی حدیث میں ہے کہ { اہل جنت بلند درجہ جنتیوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے چمکیلے ستاروں کو دیکھا کرتے ہو یقیناً سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم انہی میں ہیں اور بہت اچھے ہیں۔} ۱؎ [سنن ابن ماجہ:0000،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
2۔ 1 ان آیات میں اہل ایمان کی 4 صفات بیان کی گئی ہیں 1، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں نہ کہ صرف اللہ کی یعنی قرآن کی۔ 2۔ اللہ کا ذکر سن کر، اللہ کی جلالت و عظمت سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ 3۔ تلاوت قرآن سے ایمانوں میں اضافہ ہوتا ہے (جس سے معلوم ہوا کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے، جیسا کہ محدثین کا مسلک ہے) 4۔ اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ توکل کا مطلب ہے ظاہری اسباب اختیار کرنے کے بعد اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یعنی اسباب سے اعراض و گریز بھی نہیں کرتے کیونکہ انہیں اختیار کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہی دیا ہے، لیکن اسباب ظاہری کو ہی نہیں سب کچھ ہی نہیں سمجھ لیتے بلکہ ان کا یہ یقین ہوتا ہے کہ اصل کار فرما مشیت الٰہی ہی ہے، اس لئے جب تک اللہ کی مشیت بھی نہیں ہوگی، یہ ظاہری اسباب کچھ نہیں کرسکیں گے اور اس یقین اعتماد کی بنیاد پر پھر وہ اللہ کی مدد و اعانت حاصل کرنے سے ایک لمحے کے لئے بھی غافل نہیں ہوتے۔ آگے ان کی مزید صفات کا تذکرہ ہے اور ان صفات کے حاملین کے لئے اللہ کی طرف سے سچے مومن ہونے کا سرٹیفیکیٹ اور مغفرت و رحمت الٰہی اور رزق کریم کی نوید ہے جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْھُمْ (اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان میں شمار فرمالے) جنگ بدر کا پس منظر۔ جنگ بدر جو 2 ہجری میں ہوئی کافروں کیساتھ مسلمانوں کی پہلی جنگ تھی۔ علاوہ ازیں یہ منصوبہ بندی اور تیاری کے بغیر اچانک ہوئی نیز بےسروسامانی کیوجہ سے بعض مسلمان ذہنی طور پر اس کے لیے تیار بھی نہیں تھے۔ مختصرا اس کا پس منظر اس طرح ہے کہ ابو سفیان کی (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) سر کردگی میں ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ جارہا تھا چونکہ مسلمانوں کا بھی بہت سامال و اسباب ہجرت کیوجہ سے مکہ رہ گیا تھا یا کافروں نے چھین لیا تھا نیز کافروں کی قوت وشوکت کو توڑنا بھی مقتضائے وقت تھا۔ ان تمام باتوں کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجارتی قافلے پر حملہ کرنے کا پروگرام بنایا اور مسلمان اس نیت سے مدینہ سے چل پڑے۔ ابو سفیان کو بھی اس امر کی اطلاع مل گئی۔ چناچہ انہوں نے ایک تو اپنا راستہ تبدیل کرلیا۔ دوسرے مکہ اطلاع بھجوادی جس کی بنا پر ابو جہل ایک لشکر لے کر اپنے قافلے کی حفاظت کے لیے بدر کی جانب چل پڑا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صورت حال کا علم ہوا تو صحابہ کرام کے سامنے معاملہ رکھ دیا اور اللہ کا وعدہ بھی بتلایا کہ ان دونوں (تجارتی قافلہ اور لشکر) میں سے ایک چیز تمہیں ضرور حاصل ہوگی۔ تاہم پھر بھی لڑائی میں بعض صحابہ نے تردد کا اظہار اور تجارتی قافلے کے تعاقب کا مشورہ دیا، جب کہ دوسرے تمام صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑنے میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ اسی پس منظر میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
(آیت 2تا4) {اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ …:} اوپر فرمایا کہ اطاعت ہے تو ایمان ہے، اب ان آیات میں ایمان والوں کی چند صفات بیان فرمائیں۔ سرفہرست یہ ہے کہ جب ان کے تنازعات کے درمیان اللہ کا ذکر یا اس کا حکم آ جائے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور وہ اس کی نافرمانی سے کانپ اٹھتے ہیں۔ دوسری علامت یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کے احکام بیان کیے جائیں تو وہ انھیں سچے دل سے مانتے ہوئے ان کی اطاعت کرتے ہیں، جس سے ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان ایک ہی حالت پر نہیں رہتا بلکہ اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ دلائل کو دیکھ کر یقین و تصدیق میں بھی اور اعمال کی کمی بیشی کے لحاظ سے بھی۔ تیسری علامت یہ ہے کہ جس کام کا انھیں حکم دیا جاتا ہے وہ اس کے تمام ذرائع اور اسباب تو اختیار کرتے اور اپنی کوشش پوری کرتے ہیں، مگر ان کا بھروسا ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے، اپنی تیاری یا اسباب پر نہیں۔ اپنی پوری کوششوں کے بعد وہ اس کے انجام کو اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ان کی چوتھی علامت یہ ہے کہ وہ نماز کو اس کے پورے حقوق اور آداب کے ساتھ ہمیشہ ادا کرتے ہیں اور پانچویں علامت یہ ہے کہ اپنے اموال میں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں، جن لوگوں میں یہ پانچ علامات پائی جائیں اللہ تعالیٰ نے صرف انھی کو {”الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا“} یعنی پکے سچے مومن قرار دیا ہے، ایسے ہی مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجات بھی ہوں گے، بڑی بخشش بھی اور باعزت روزی بھی۔
الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ؕ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وه اس میں سے خرچ کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کریں،
علامہ محمد حسین نجفی
جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں اور اس میں سے جو ہم نے انھیں دیا، خرچ کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان سے خالی لوگ اور حقیقت ایمان ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں منافقوں کے دل میں نہ فریضے کی ادائیگی کے وقت ذکر اللہ ہوتا ہے نہ کسی اور وقت پر۔ نہ ان کے دلوں میں ایمان کا نور ہوتا ہے نہ اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے۔ نہ تنہائی میں نمازی رہتے ہیں نہ اپنے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں، ایسے لوگ ایمان سے خالی ہوتے ہیں، لیکن ایماندار ان کے برعکس ہوتے ہیں۔ ان کے دل یاد خالق سے کپکپاتے رہتے ہیں فرائض ادا کرتے ہیں آیات الٰہی سن کر ایمان چمک اٹھتے ہیں تصدیق میں بڑھ جاتے ہیں رب کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ کی یاد سے تھر تھراتے رہتے ہیں اللہ کا ڈر ان میں سمایا ہوا ہوتا ہے اسی وجہ سے نہ تو حکم کا خلاف کرتے ہیں نہ منع کئے ہوئے کام کو کرتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّـهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 135 ] ‏‏‏‏ ’ ان سے اگر کوئی برائی سرزد ہو بھی جاتی ہے تو یاد اللہ کرتے ہیں پھر اپنے گناہ سے استغفار کرتے ہیں حقیقت میں سوائے اللہ کے کوئی گناہوں کا بخشنے والا بھی نہیں۔ یہ لوگ باوجود علم کے کسی گناہ پر اصرار نہیں کرتے۔ ‘ اور آیتوں میں ہے آیت «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» ۱؎ [ 79- النازعات: 40، 41 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ جو شخص اپنے رب کے پاس کھڑا ہونے سے ڈرا اور اپنے نفس کو خواہشوں سے روکا اس کا ٹھکانا جنت ہے۔ ‘ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے جی میں ظلم کرنے کی یا گناہ کرنے کی آتی ہے لیکن اگر ان سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر جا وہیں ان کا دل کانپنے لگتا ہے، ام الدرداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دل اللہ کے خوف سے حرکت کرنے لگتے ہیں ایسے وقت انسان کو اللہ عزوجل سے دعا مانگنی چاہیئے۔ ایمانی حالت بھی ان کی روز بروز زیادتی میں رہتی ہے ادھر قرآنی آیات سنیں اور ایمان بڑھا۔

جیسے اور جگہ ہے کہ «وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ» ۱؎ [ 9-التوبة: 124 ] ‏‏‏‏ ’ جب کوئی سورت اترتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا دیا؟ بات یہ ہے کہ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور وہ خوش ہو جاتے ہیں۔‘ اس آیت سے اور اس جیسی اور آیتوں سے امام الائمہ امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام رحمہ اللہ علیہم نے استدلال کیا ہے کہ ایمان کی زیادتی سے مراد ہے کہ دلوں میں ایمان کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے یہی مذہب جمہور امت کا ہے بلکہ کئی ایک نے اس پر اجماع نقل کیا ہے جیسے شافعی، احمد بن حنبل، ابوعبیدہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ جیسے کہ ہم نے شرح بخاری کے شروع میں پوری طرح بیان کر دیا ہے۔ «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ «وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» یعنی ’ ان کا بھروسہ صرف اپنے رب پر ہوتا ہے ‘ نہ اس کے سوا کسی سے وہ امید رکھیں نہ اس کے سوا کوئی ان کا مقصود، نہ اس کے سوا کسی سے وہ پناہ چاہیں نہ اس کے سوا کسی سے مرادیں مانگیں نہ کسی اور کی طرف جھکیں وہ جانتے ہیں کہ قدرتوں والا وہی ہے جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوتا تمام ملک میں اسی کا حکم چلتا ہے ملک صرف وہی ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہ اس کے کسی حکم کو کوئی ٹال سکے وہ جلد ہی حساب لینے والا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ پر توکل کرنا ہی پورا ایمان ہے۔ «الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» ‏‏‏‏۱؎ [8-الأنفال:3] ‏‏‏‏ ان مومنوں کے ایمان اور اعتقاد کی حالت بیان فرما کر اب ان کے اعمال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ وہ نمازوں کے پابند ہوتے ہیں۔ وقت کی، وضو کی، رکوع کی، سجدے کی، کامل پاکیزگی کی، قرآن کی تلاوت، تشہد، درود، سب چیزوں کی حفاظت و نگرانی کرتے ہیں۔‘

اللہ کے اس حق کی ادائیگی کے ساتھ ہی بندوں کے حق بھی نہیں بھولتے۔ واجب خرچ یعنی زکوٰۃ مستحب خرچ یعنی للہ فی اللہ خیرات برابر دیتے ہیں چونکہ تمام مخلوق اللہ کی عیال ہے اس لیے اللہ کو سب سے زیادہ پیارا وہ ہے جو اس کی مخلوق کی سب سے زیادہ خدمت کرے اللہ کے دیئے ہوئے کو اللہ کی راہ میں دیتے رہو یہ مال تمہارے پاس اللہ کی امانت ہے بہت جلد تم اسے چھوڑ کر رخصت ہونے والے ہو۔ پھر فرماتا ہے کہ «أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا» ۱؎ [8-الأنفال:4] ‏‏‏‏ ’ جن میں یہ اوصاف ہوں وہ سچے مومن ہیں ‘ طبرانی میں ہے کہ حارث بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرے تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ { تمہاری صبح کس حال میں ہوئی؟ } انہوں نے جواب دیا کہ سچے مومن ہونے کی حالت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { سمجھ لو کہ کیا کہہ رہے ہو؟ ہرچیز کی حقیقت ہوا کرتی ہے۔ جانتے ہو حقیقت ایمان کیا ہے؟ } جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنی خواہشیں دنیا سے الگ کر لیں راتیں یاد اللہ میں جاگ کر دن اللہ کی راہ میں بھوکے پیاسے رہ کر گذراتا ہوں۔ گویا میں اللہ کے عرش کو اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھتا رہتا ہوں اور گویا کہ میں اہل جنت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپس میں ہنسی خوشی ایک دوسرے سے مل جل رہے ہیں اور گویا کہ میں اہل دوزخ کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ دوزخ میں جل بھن رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { حارثہ تو نے حقیقت جان لی پس اس حال پر ہمیشہ قائم رہنا۔ } تین مرتبہ یہی فرمایا۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏‏‏‏ پس آیت میں بالکل محاورہ عرب کے مطابق ہے جیسے وہ کہا کرتے ہیں کہ گو فلاں قوم میں سردار بہت سے ہیں لیکن صحیح معنی میں سردار فلاں ہے یا فلاں قبیلے میں تاجر بہت ہیں لیکن صحیح طور پر تاجر فلاں ہے، فلاں لوگوں میں شاعر ہیں لیکن سچا شاعر فلاں ہے۔

آیت میں ہے «هُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 163 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کے مرتبے اللہ کے ہاں بڑے بڑے ہیں اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے وہ ان کی لغزشوں سے درگذر فرمائے گا ان کی نیکیوں کی قدردانی کرے گا۔ ‘ گویہ درجے اونچے نیچے ہوں گے لیکن کسی بلند مرتبہ شخص کے دل میں یہ خیال نہ ہو گا کہ میں فلاں سے اعلیٰ ہوں اور نہ کسی ادنیٰ درجے والوں کو یہ خیال ہو گا کہ میں فلاں سے کم ہوں۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ علیین والوں کو نیچے کے درجے کے لوگ اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یہ مرتبے تو انبیاء کے ہونگے؟ کوئی اور تو اس مرتبے پر نہ پہنچ سکے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیوں نہیں؟ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ لوگ بھی جو اللہ پر ایمان لائیں اور رسولوں کو سچ جانیں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:3656] ‏‏‏‏ اہل سنن کی حدیث میں ہے کہ { اہل جنت بلند درجہ جنتیوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے چمکیلے ستاروں کو دیکھا کرتے ہو یقیناً سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم انہی میں ہیں اور بہت اچھے ہیں۔} ۱؎ [سنن ابن ماجہ:0000،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ لَہُمۡ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ وَ مَغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ۚ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں قصوروں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں ان کے لیے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہی سچے مسلمان ہیں، ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور بخشش ہے اور عزت کی روزی
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک ایسے لوگ حقیقی مؤمن ہیں۔ ان کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں مرتبے ہیں۔ اور بخشش ہے اور بہترین روزی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہی لوگ سچے مومن ہیں، انھی کے لیے ان کے رب کے پاس بہت سے درجے اور بڑی بخشش اور باعزت رزق ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان سے خالی لوگ اور حقیقت ایمان ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں منافقوں کے دل میں نہ فریضے کی ادائیگی کے وقت ذکر اللہ ہوتا ہے نہ کسی اور وقت پر۔ نہ ان کے دلوں میں ایمان کا نور ہوتا ہے نہ اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے۔ نہ تنہائی میں نمازی رہتے ہیں نہ اپنے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں، ایسے لوگ ایمان سے خالی ہوتے ہیں، لیکن ایماندار ان کے برعکس ہوتے ہیں۔ ان کے دل یاد خالق سے کپکپاتے رہتے ہیں فرائض ادا کرتے ہیں آیات الٰہی سن کر ایمان چمک اٹھتے ہیں تصدیق میں بڑھ جاتے ہیں رب کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ کی یاد سے تھر تھراتے رہتے ہیں اللہ کا ڈر ان میں سمایا ہوا ہوتا ہے اسی وجہ سے نہ تو حکم کا خلاف کرتے ہیں نہ منع کئے ہوئے کام کو کرتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّـهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 135 ] ‏‏‏‏ ’ ان سے اگر کوئی برائی سرزد ہو بھی جاتی ہے تو یاد اللہ کرتے ہیں پھر اپنے گناہ سے استغفار کرتے ہیں حقیقت میں سوائے اللہ کے کوئی گناہوں کا بخشنے والا بھی نہیں۔ یہ لوگ باوجود علم کے کسی گناہ پر اصرار نہیں کرتے۔ ‘ اور آیتوں میں ہے آیت «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ» ۱؎ [ 79- النازعات: 40، 41 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ جو شخص اپنے رب کے پاس کھڑا ہونے سے ڈرا اور اپنے نفس کو خواہشوں سے روکا اس کا ٹھکانا جنت ہے۔ ‘ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے جی میں ظلم کرنے کی یا گناہ کرنے کی آتی ہے لیکن اگر ان سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر جا وہیں ان کا دل کانپنے لگتا ہے، ام الدرداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دل اللہ کے خوف سے حرکت کرنے لگتے ہیں ایسے وقت انسان کو اللہ عزوجل سے دعا مانگنی چاہیئے۔ ایمانی حالت بھی ان کی روز بروز زیادتی میں رہتی ہے ادھر قرآنی آیات سنیں اور ایمان بڑھا۔

جیسے اور جگہ ہے کہ «وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ» ۱؎ [ 9-التوبة: 124 ] ‏‏‏‏ ’ جب کوئی سورت اترتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا دیا؟ بات یہ ہے کہ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور وہ خوش ہو جاتے ہیں۔‘ اس آیت سے اور اس جیسی اور آیتوں سے امام الائمہ امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام رحمہ اللہ علیہم نے استدلال کیا ہے کہ ایمان کی زیادتی سے مراد ہے کہ دلوں میں ایمان کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے یہی مذہب جمہور امت کا ہے بلکہ کئی ایک نے اس پر اجماع نقل کیا ہے جیسے شافعی، احمد بن حنبل، ابوعبیدہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ جیسے کہ ہم نے شرح بخاری کے شروع میں پوری طرح بیان کر دیا ہے۔ «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ «وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» یعنی ’ ان کا بھروسہ صرف اپنے رب پر ہوتا ہے ‘ نہ اس کے سوا کسی سے وہ امید رکھیں نہ اس کے سوا کوئی ان کا مقصود، نہ اس کے سوا کسی سے وہ پناہ چاہیں نہ اس کے سوا کسی سے مرادیں مانگیں نہ کسی اور کی طرف جھکیں وہ جانتے ہیں کہ قدرتوں والا وہی ہے جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوتا تمام ملک میں اسی کا حکم چلتا ہے ملک صرف وہی ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہ اس کے کسی حکم کو کوئی ٹال سکے وہ جلد ہی حساب لینے والا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ پر توکل کرنا ہی پورا ایمان ہے۔ «الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» ‏‏‏‏۱؎ [8-الأنفال:3] ‏‏‏‏ ان مومنوں کے ایمان اور اعتقاد کی حالت بیان فرما کر اب ان کے اعمال کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ وہ نمازوں کے پابند ہوتے ہیں۔ وقت کی، وضو کی، رکوع کی، سجدے کی، کامل پاکیزگی کی، قرآن کی تلاوت، تشہد، درود، سب چیزوں کی حفاظت و نگرانی کرتے ہیں۔‘

اللہ کے اس حق کی ادائیگی کے ساتھ ہی بندوں کے حق بھی نہیں بھولتے۔ واجب خرچ یعنی زکوٰۃ مستحب خرچ یعنی للہ فی اللہ خیرات برابر دیتے ہیں چونکہ تمام مخلوق اللہ کی عیال ہے اس لیے اللہ کو سب سے زیادہ پیارا وہ ہے جو اس کی مخلوق کی سب سے زیادہ خدمت کرے اللہ کے دیئے ہوئے کو اللہ کی راہ میں دیتے رہو یہ مال تمہارے پاس اللہ کی امانت ہے بہت جلد تم اسے چھوڑ کر رخصت ہونے والے ہو۔ پھر فرماتا ہے کہ «أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا» ۱؎ [8-الأنفال:4] ‏‏‏‏ ’ جن میں یہ اوصاف ہوں وہ سچے مومن ہیں ‘ طبرانی میں ہے کہ حارث بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرے تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ { تمہاری صبح کس حال میں ہوئی؟ } انہوں نے جواب دیا کہ سچے مومن ہونے کی حالت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { سمجھ لو کہ کیا کہہ رہے ہو؟ ہرچیز کی حقیقت ہوا کرتی ہے۔ جانتے ہو حقیقت ایمان کیا ہے؟ } جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنی خواہشیں دنیا سے الگ کر لیں راتیں یاد اللہ میں جاگ کر دن اللہ کی راہ میں بھوکے پیاسے رہ کر گذراتا ہوں۔ گویا میں اللہ کے عرش کو اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھتا رہتا ہوں اور گویا کہ میں اہل جنت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپس میں ہنسی خوشی ایک دوسرے سے مل جل رہے ہیں اور گویا کہ میں اہل دوزخ کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ دوزخ میں جل بھن رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { حارثہ تو نے حقیقت جان لی پس اس حال پر ہمیشہ قائم رہنا۔ } تین مرتبہ یہی فرمایا۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏‏‏‏ پس آیت میں بالکل محاورہ عرب کے مطابق ہے جیسے وہ کہا کرتے ہیں کہ گو فلاں قوم میں سردار بہت سے ہیں لیکن صحیح معنی میں سردار فلاں ہے یا فلاں قبیلے میں تاجر بہت ہیں لیکن صحیح طور پر تاجر فلاں ہے، فلاں لوگوں میں شاعر ہیں لیکن سچا شاعر فلاں ہے۔

آیت میں ہے «هُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 163 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کے مرتبے اللہ کے ہاں بڑے بڑے ہیں اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے وہ ان کی لغزشوں سے درگذر فرمائے گا ان کی نیکیوں کی قدردانی کرے گا۔ ‘ گویہ درجے اونچے نیچے ہوں گے لیکن کسی بلند مرتبہ شخص کے دل میں یہ خیال نہ ہو گا کہ میں فلاں سے اعلیٰ ہوں اور نہ کسی ادنیٰ درجے والوں کو یہ خیال ہو گا کہ میں فلاں سے کم ہوں۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ علیین والوں کو نیچے کے درجے کے لوگ اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یہ مرتبے تو انبیاء کے ہونگے؟ کوئی اور تو اس مرتبے پر نہ پہنچ سکے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیوں نہیں؟ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ لوگ بھی جو اللہ پر ایمان لائیں اور رسولوں کو سچ جانیں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:3656] ‏‏‏‏ اہل سنن کی حدیث میں ہے کہ { اہل جنت بلند درجہ جنتیوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے چمکیلے ستاروں کو دیکھا کرتے ہو یقیناً سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم انہی میں ہیں اور بہت اچھے ہیں۔} ۱؎ [سنن ابن ماجہ:0000،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کَمَاۤ اَخۡرَجَکَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَیۡتِکَ بِالۡحَقِّ ۪ وَ اِنَّ فَرِیۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ لَکٰرِہُوۡنَ ۙ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اِس مال غنیمت کے معاملہ میں بھی ویسی ہی صورت پیش آ رہی ہے جیسی اُس وقت پیش آئی تھی جبکہ) تیرا رب تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ سخت ناگوار تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ آپ کو روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی
احمد رضا خان بریلوی
جس طرح اے محبوب! تمہیں تمہارے رب نے تمہارے گھر سے حق کے ساتھ برآمد کیا اور بیشک مسلمانوں کا ایک گروہ اس پر ناخوش تھا
علامہ محمد حسین نجفی
(یہ انفال کا معاملہ ایسا ہی ہے) جیساکہ آپ کے پروردگار نے (جنگِ بدر میں) حق کے ساتھ آپ کو آپ کے گھر سے نکالا اور اہلِ ایمان کا ایک گروہ اس کو ناپسند کر رہا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
جس طرح تیرے رب نے تجھے تیرے گھر سے حق کے ساتھ نکالا، حالانکہ یقینا مومنوں کی ایک جماعت تو ناپسند کرنے والی تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ٭٭

مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ «كَمَا أَخْرَجَكَ» میں «كَمَا» کے آنے کا کیا سبب ہے۔ بعض نے کہا کہ آیت زیر ذکر میں تشبیہہ دی گئی ہے، مومنین کے باہمی صلح ساتھ ان کے ارتقاب اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں۔ ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ جیسے تم نے مال غنیمت میں اختلاف کیا آخر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے نبی کو اس کی تقسیم کا اختیار دے دیا اور اپنے عدل و انصاف کے ساتھ اسے تم میں بانٹ دیا درحقیقت تمہارے لیے اسی میں بھلائی تھی اسی طرح اس نے باوجود تمہاری اس چاہت کے کہ قریش کا تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے اور جنگی جماعت سے مقابلہ نہ ہو اس نے تمہارا مقابلہ بغیر کسی وعدے کے ایک پر شکوہ جماعت سے کرا دیا اور تمہیں اس پر غالب کر دیا کہ اللہ کی بات بلند ہو جائے اور تمہیں فتح، نصرت، غلبہ اور شان شوکت عطا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت «كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 2-البقرة: 216 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ تم پر جہاد فرض کیا گیا حالانکہ تم اسے برا جانتے ہو بہت ممکن ہے کہ ایک چیز کو اپنے حق میں اچھی نہ جانو اور درحقیقت وہی تمہارے حق میں بہتر ہو اور حق میں وہ بد تر ہو۔ دراصل حقائق کا علم اللہ ہی کو ہے تم محض بےعلم ہو۔ ‘ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جیسے مومنوں کے ایک گروہ کی چاہت کے خلاف تجھے تیرے رب نے شہر سے باہر لڑائی کیلئے نکالا اور نتیجہ اسی کا اچھا ہوا ایسے ہی جو لوگ جہاد کیلئے نکلنا بوجھ سمجھ رہے ہیں دراصل یہی ان کے حق میں بہتر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مال غنیمت میں ان کا اختلاف بالکل بدر والے دن کے اختلاف کے مشابہ تھا۔ کہنے لگے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قافلے کا فرمایا تھا لشکر کا نہیں ہم جنگی تیاری کر کے نکلے ہی نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے اسی ارادے سے نکلے تھے کہ ابوسفیان کے اس قافلے کو روکیں جو شام سے مدینہ کو قریشیوں کے بہت سے مال اسباب لے کر آ رہا تھا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تیار کیا اور تین سو دس سے کچھ اوپر لوگوں کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے چلے اور سمندر کے کنارے کے راستے کی طرف سے بدر کے مقام سے چلے۔ ابوسفیان کو چونکہ آپ کے نکلنے کی خبر پہنچ چکی تھی اس نے اپنا راستہ بدل دیا اور ایک تیز رو قاصد کو مکے دوڑایا۔ وہاں سے قریش قریب ایک ہزار کے لشکر جرار لے کر لوہے میں ڈوبے ہوئے بدر کے میدان میں پہنچ گئے پس یہ دونوں جماعتیں ٹکرا گئیں ایک گھمسان کی لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح دلوائی اپنا دین بلند کیا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی اور اسلام کو کفر پر غالب کیا جیسے کہ اب بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ یہاں مقصد بیان صرف اتنا ہی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پتہ چلا کہ مشرکین کی جنگی مہم مکے سے آ رہی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ سے بذریعہ وحی کے وعدہ کیا کہ یا تو قافلہ آپ کو ملے گا یا لشکر کفار۔ اکثر مسلمان جی سے چاہتے تھے کہ قافلہ مل جائے کیونکہ یہ نسبتاً ہلکی چیز تھی لیکن اللہ کا ارادہ تھا کہ اسی وقت بغیر زیادہ تیاری اور اہتمام کے اور آپس کے قول قرار کے مڈبھیڑ ہو جائے اور حق وباطل کی تمیز ہو جائے کفار کی ہمت ٹوٹ جائے اور دین حق نکھر آئے۔ تفسیر ابن مردویہ میں ہے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ مدینے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { مجھے خبر پہنچی ہے کہ ابوسفیان کا قافلہ لوٹ رہا ہے تو کیا تم اس کے لیے تیار ہو کہ ہم اس قافلے کی طرف بڑھیں؟ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مال غنیمت دلوا دے۔ } ہم سب نے تیاری ظاہر کی آپ ہمیں لے کر چلے ایک دن یا دو دن کا سفر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ { قریشیوں سے جہاد کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہیں تمہارے چلنے کا علم ہو گیا ہے اور وہ تم سے لڑنے کیلئے چل پڑے ہیں۔}

ہم نے جواب دیا کہ واللہ ہم میں ان سے مقابلے کی طاقت نہیں ہم تو صرف قافلے کے ارادے سے نکلے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی سوال کیا اور ہم نے پھر یہی جواب دیا۔ اب مقداد بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس وقت آپ کو وہ نہ کہیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تو اور تیرا رب جا کر کافروں سے لڑے، ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو ہمیں بڑا ہی رنج ہونے لگا کہ کاش یہی جواب ہم بھی دیتے تو ہمیں مال کے ملنے سے اچھا تھا، پس یہ آیت «كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِن بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ» ۱؎ [8-الأنفال:5] ‏‏‏‏ اتری۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ بدر کی جانب چلتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روحا میں پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ { بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ } صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں ہمیں بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ فلاں فلاں جگہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر خطبہ دیا اور یہی فرمایا اب کی مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہی جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسرے خطبے میں یہی فرمایا اس پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے دریافت فرما رہے ہیں؟ اس اللہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت وبزرگی عنایت فرمائی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے نہ میں ان راستوں میں کبھی چلا ہوں اور نہ مجھے اس لشکر کا علم ہے ہاں اتنا میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ برک غماد تک بھی چڑھائی کریں تو واللہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب تھامے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوں گے ہم ان کی طرح نہیں جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہدیا تھا کہ «فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ» ۱؎ [ 5-المائدہ: 24 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ تو اپنے ساتھ اپنے پروردگار کو لے کر چلا جا اور تم دونوں ان سے لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔‘

نہیں نہیں بلکہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ آپ کا ساتھ دے ہم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر حکم کفار سے جہاد کے لیے صدق دل سے تیار ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گو آپ کسی کام کو زیر نظر رکھ رکھ نکلے ہوں لیکن اس وقت کوئی اور نیا کام پیش نگاہ ہو تو «بِسْمِ اللَّـهِ» کیجئے، ہم تابعداری سے منہ پھیرنے والے نہیں۔ آپ جس سے چاہیں ناطہٰ توڑ لیجئے اور جس سے چاہیں جوڑ لیجئے جس سے چاہیں عداوت کیجئے اور جس سے چاہیں محبت کیجئے ہم اسی میں آپ کے ساتھ ہیں۔ یا رسول اللہ ہماری جانوں کے ساتھ ہمارے مال بھی حاضر ہیں، آپ کو جس قدر ضرورت ہو لیجئے اور کام میں لگائیے۔ پس سعد کے اس فرمان پر قران کی یہ آیتیں اتری ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15724:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن سے بدر میں جنگ کرنے کی بابت صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا اور سعد بن عباد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کو کمر بندی کا حکم دے دیا اس وقت بعض مسلمانوں کو یہ ذرا گراں گذرا اس پر یہ آیتیں اتریں۔ پس حق میں جھگڑنے سے مراد جہاد میں اختلاف کرنا ہے اور مشرکوں کے لشکر سے مڈبھیڑ ہونے اور ان کی طرف چلنے کو ناپسند کرنا ہے۔ اس کے بعد ان کے لیے واضح ہو گیا یعنی یہ امر کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بغیر حکم رب العزت کے کوئی حکم نہیں دیتے۔

دوسری تفسیر میں ہے کہ اس سے مراد مشرک لوگ ہیں جو حق میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ اسلام کا ماننا ان کے نزدیک ایسا ہے جیسے دیکھتے ہوئے موت کے منہ میں کودنا۔ یہ وصف مشرکوں کے سوا اور کسی کا نہیں اہل کفر کی پہلی علامت یہی ہے ابن زید کا یہ قول وارد کر کے امام ابن جرید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قول بالکل بے معنی ہے اس لیے کہ اس سے پہلے کا قول آیت «يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ» ۱؎ [ 8-الانفال: 6 ] ‏‏‏‏ اہل ایمان کی خبر ہے تو اس سے متصل خبر بھی انہی کی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن اسحاق رحمہ اللہ ہی کا قول اس بارے میں ٹھیک ہے کہ یہ خبر مومنوں کی ہے نہ کہ کافروں کی۔ حق بات یہی ہے جو امام صاحب نے کہی۔ سیاق کلام کی دلالت بھی اسی پر ہے ـ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مسند احمد میں ہے کہ بدر کی لڑائی کی فتح کے بعد بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب چلئے قافلے کو بھی دبالیں اب کوئی روک نہیں ہے۔ اس وقت سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کفار سے قید ہو کر آئے ہوئے زنجیروں سے جکڑے ہوئے تھے اونچی آواز سے کہنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: { کیوں؟ } انہوں نے جواب دیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا وہ اللہ نے پورا کیا ایک جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گئی۔۱؎ [سنن ترمذي:3080،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

مسلمانوں کی چاہت تھی کہ لڑائی والے گروہ سے تو مڈبھیڑ نہ ہو البتہ قافلے والے مل جائیں اور اللہ کی چاہت تھی کہ شوکت و شان والی قوت و گھمنڈوالی لڑائی بھڑائی والی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو جائے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر تمہیں غالب کر کے تمہاری مدد کرے، اپنے دین کو ظاہر کر دے اور اپنے کلمے کو بلند کر دے اور اپنے دین کو دوسرے تمام دینوں پر اونچا کر دے پس انجام کی بھلائی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ اپنی عمدہ تدبیر سے تمہیں سنبھال رہا ہے تمہاری مرضی کے خلاف کرتا ہے اور اسی میں تمہاری مصلحت اور بھلائی ہوتی ہے جیسے فرمایا کہ «كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [2-البقرة:216] ‏‏‏‏ ’ جہاد تم پر لکھا گیا اور وہ تمہیں ناپسند ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ تمہاری ناپسندیدگی کی چیز میں ہی انجام کے لحاظ سے تمہارے لیے بہتری ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ درحقیقت تمہارے حق میں بری ہو۔‘ اب جنگ بدر کا مختصر سا واقعہ بزبان سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سنئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ابوسفیان شام سے مع قافلے کے اور مع اسباب کے آ رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو فرمایا کہ { چلو ان کا راستہ روکو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے یہ اسباب تمہیں دلوا دے۔} چونکہ کسی لڑانے والی جماعت سے لڑائی کرنے کا خیال بھی نہ تھا، اس لیے لوگ بغیر کسی خاص تیاری کے جیسے تھے ویسے ہی ہلکے پھلکے نکل کھڑے ہوئے۔ ابوسفیان بھی غافل نہ تھا اس نے جاسوس چھوڑ رکھے تھے اور آتے جاتوں سے بھی دریافت حال کر رہا تھا ایک قافلے سے اسے معلوم ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر تیرے اور تیرے قافلے کی طرف چل پڑے ہیں۔

اس نے ضیغم بن عمرو غفاری کو انعام دے دلا کر اسی وقت قریش مکہ کے پاس یہ پیغام دے کر روانہ کیا کہ تمہارے مال خطرے میں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے اس طرف آ رہے ہیں تمہیں چاہیئے کہ پوری تیاری سے فوراً ہماری مدد کو آؤ اس نے بہت جلد وہاں پہنچ کر خبر دی تو قریشیوں نے زبردست حملے کی تیار کر لی اور نکل کھڑے ہوئے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب ذفران وادی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے لشکروں کا سازو سامان سے نکلنا معلوم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا اور یہ خبر بھی کر دی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر جواب دیا اور بہت اچھا کہا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور آپ نے بھی معقول جواب دیا۔ پھر مقداد رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہو اسے انجام دیجئیے ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں اور ہر طرح فرمانبردار ہیں ہم بنو اسرائیل کی طرح نہیں کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب جا کر لڑ لو ہم تماشا دیکھتے ہیں نہیں بلکہ ہمارا یہ قول ہے کہ اللہ کی مدد کے ساتھ چلئے جنگ کیجئے ہم آپکے ساتھ ہیں اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ برک غماد تک یعنی حبشہ کے ملک تک بھی چلیں تو ہم ساتھ سے منہ نہ موڑیں گے اور وہاں پہنچائے اور پہنچے بغیر کسی طرح نہ رہیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بہت اچھا کہا اور ان کو بڑی دعائیں دیں لیکن پھر بھی یہی فرماتے رہے کہ { لوگو مجھے مشورہ دو میری بات کا جواب دو۔} اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انصاریوں کے گروہ سے تھی ایک تو اس لیے کہ گنتی میں یہی زیادہ تھے۔

دوسرے اس لیے بھی کہ عقبہ میں جب انصار نے بیعت کی تھی تو اس بات پر کی تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکے سے نکل کر مدینے میں پہنچ جائیں پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں جو بھی دشمن آپ پر چڑھائی کر کے آئے ہم اس کے مقابلے میں سینہ سپر ہو جائیں گے اس میں چونکہ یہ وعدہ نہ تھا کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی پر چڑھ کر جائیں تو بھی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیں گے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اب ان کا ارادہ معلوم کر لیں۔ یہ سمجھ کر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور عرض کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جواب طلب فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یہی بات ہے } تو سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا جانتے ہیں اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اسے بھی حق مانتے ہیں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سننے اور اس پر عمل کرنے کی بیعت کر چکے ہیں۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا ہے اسے پورا کیجئے، ہم آپ کی ہمرکابی سے نہ ہٹیں گے۔

اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو اپنا سچا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اگر سمندر کے کنارے پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں گھوڑا ڈال دیں تو ہم بھی بلا تامل اس میں کود پڑیں گے ہم میں سے ایک کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ پائیں گے جسے ذرا سا بھی تامل ہو ہم اس پر بخوشی رضامند ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دشمنوں کے مقابلے پر چھوڑ دیں۔ ہم لڑائیوں میں بہادری کرنے والے مصیبت کے جھیلنے والے اور دشمن کے دل پر سکہ جما دینے والے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کام دیکھ کر ان شاءاللہ خوش ہوں گے چلئے اللہ کا نام لے کر چڑھائی کیجئے اللہ برکت دے۔ ان کے اس جواب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی مسرور ہوئے اسی وقت کوچ کا حکم دیا کہ { چلو اللہ کی برکت پر خوش ہو جاؤ۔ رب مجھ سے وعدہ کر چکا ہے کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت ہمارے ہاتھ لگے گی واللہ میں تو ان لوگوں کے گرنے کی جگہ ابھی یہیں سے گویا اپنی آنکھوں دیکھ رہا ہوں۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15732] ‏‏‏‏
5۔ 1 یعنی جس طرح مال غنیمت کی تقسیم کا معاملہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا باعث بنا ہوا تھا، پھر اسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ کردیا گیا تو اسی میں مسلمان کی بہتری تھی، اسی طرح آپ کا مدینہ سے نکلنا اور پھر آگے چل کر تجارتی قافلے کے بجائے، لشکر قریش سے مڈ بھیڑ ہوجانا، بعض طبائع کے لئے ناگوار تھا لیکن اس میں بھی بلآخر فائدہ مسلمانوں ہی کا تھا۔ 5۔ 2 یہ ناگواری لشکر قریش سے لڑنے کے معاملے میں تھی، جس کا اظہار چند افراد کی طرف سے ہوا اور اس کی وجہ صرف بےسروسامانی تھی۔ اس کا تعلق مدینہ سے نکلنے سے نہیں ہے۔
(آیت 5) {كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ …: } یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی بات ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ بھی اسی طرح ہے جیسے تیرے رب نے تجھے تیرے گھر سے حق کے ساتھ نکالا۔ مفسرین نے اس {” كَمَا “} (جس طرح) کی کئی توجیہیں کی ہیں، بعض نے وہ بیس تک پہنچا دی ہیں، البتہ صاحب کشاف نے صرف دو توجیہیں کی ہیں، جن میں سے زیادہ واضح یہ ہے کہ یہاں مبتدا محذوف ہے اور عبارت یوں ہو گی {” هٰذِهِ الْحَالُ كَحَالِ إِخْرَاجِكَ يَعْنِيْ اَنَّ حَالَهُمْ فِيْ كَرَاهِيَةِ مَا رَأَيْتَ مِنْ تَنْفِيْلِ الْغَزْوَةِ مِثْلُ حَالِهِمْ فِيْ كَرَاهَةِ خُرُوْجِكِ لِلْحَرْبِ “} یعنی غزوۂ بدر سے حاصل ہونے والی غنیمت کی تقسیم کے بارے میں آپ کی رائے اور فیصلے کو ناگوار سمجھنے میں ان کا حال ایسا ہی ہے جس طرح ان کا حال آپ کے لڑائی کے لیے نکلنے کے بارے میں تھا، حالانکہ دونوں ہی میں آپ کے لیے اور مسلمانوں کے لیے خیر ہی خیر تھی۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”غنیمت کا یہ جھگڑا بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ نکلتے وقت عقل سے تدبیریں کرنے لگے اور آخر کار صلاح وہی ٹھہری جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تو ہر کام میں یہی اختیار کرو کہ حکم برداری میں اپنی عقل کو دخل نہ دو۔“ (موضح)
یُجَادِلُوۡنَکَ فِی الۡحَقِّ بَعۡدَ مَا تَبَیَّنَ کَاَنَّمَا یُسَاقُوۡنَ اِلَی الۡمَوۡتِ وَ ہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ ؕ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ اس حق کے معاملہ میں تجھ سے جھگڑ رہے تھے دراں حالے کہ وہ صاف صاف نمایاں ہو چکا تھا ان کا حال یہ تھا کہ گویا وہ آنکھوں دیکھے موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
وه اس حق کے بارے میں، اس کے بعد کہ اس کا ﻇہور ہوگیا تھا آپ سے اس طرح جھگڑ رہے تھے کہ گویا کوئی ان کو موت کی طرف ہانکے لیے جاتا ہے اور وه دیکھ رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
سچی بات میں تم سے جھگڑتے تھے بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکی گویا وہ آنکھوں دیکھی موت کی طرف ہانکے جاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
باوجودیکہ حق واضح ہوگیا تھا مگر وہ گروہ آپ سے اس امرِ حق میں یوں جھگڑ رہا تھا۔ کہ گویا اسے موت کی طرف ہانک کر لے جایا جا رہا ہے اور وہ اپنی آنکھوں سے موت کو دیکھ رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ تجھ سے حق میں جھگڑتے تھے، اس کے بعد کہ وہ صاف ظاہر ہو چکا تھا، جیسے انھیں موت کی طرف ہانکا جا رہا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ٭٭

مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ «كَمَا أَخْرَجَكَ» میں «كَمَا» کے آنے کا کیا سبب ہے۔ بعض نے کہا کہ آیت زیر ذکر میں تشبیہہ دی گئی ہے، مومنین کے باہمی صلح ساتھ ان کے ارتقاب اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں۔ ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ جیسے تم نے مال غنیمت میں اختلاف کیا آخر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے نبی کو اس کی تقسیم کا اختیار دے دیا اور اپنے عدل و انصاف کے ساتھ اسے تم میں بانٹ دیا درحقیقت تمہارے لیے اسی میں بھلائی تھی اسی طرح اس نے باوجود تمہاری اس چاہت کے کہ قریش کا تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے اور جنگی جماعت سے مقابلہ نہ ہو اس نے تمہارا مقابلہ بغیر کسی وعدے کے ایک پر شکوہ جماعت سے کرا دیا اور تمہیں اس پر غالب کر دیا کہ اللہ کی بات بلند ہو جائے اور تمہیں فتح، نصرت، غلبہ اور شان شوکت عطا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت «كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 2-البقرة: 216 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ تم پر جہاد فرض کیا گیا حالانکہ تم اسے برا جانتے ہو بہت ممکن ہے کہ ایک چیز کو اپنے حق میں اچھی نہ جانو اور درحقیقت وہی تمہارے حق میں بہتر ہو اور حق میں وہ بد تر ہو۔ دراصل حقائق کا علم اللہ ہی کو ہے تم محض بےعلم ہو۔ ‘ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جیسے مومنوں کے ایک گروہ کی چاہت کے خلاف تجھے تیرے رب نے شہر سے باہر لڑائی کیلئے نکالا اور نتیجہ اسی کا اچھا ہوا ایسے ہی جو لوگ جہاد کیلئے نکلنا بوجھ سمجھ رہے ہیں دراصل یہی ان کے حق میں بہتر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مال غنیمت میں ان کا اختلاف بالکل بدر والے دن کے اختلاف کے مشابہ تھا۔ کہنے لگے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قافلے کا فرمایا تھا لشکر کا نہیں ہم جنگی تیاری کر کے نکلے ہی نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے اسی ارادے سے نکلے تھے کہ ابوسفیان کے اس قافلے کو روکیں جو شام سے مدینہ کو قریشیوں کے بہت سے مال اسباب لے کر آ رہا تھا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تیار کیا اور تین سو دس سے کچھ اوپر لوگوں کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے چلے اور سمندر کے کنارے کے راستے کی طرف سے بدر کے مقام سے چلے۔ ابوسفیان کو چونکہ آپ کے نکلنے کی خبر پہنچ چکی تھی اس نے اپنا راستہ بدل دیا اور ایک تیز رو قاصد کو مکے دوڑایا۔ وہاں سے قریش قریب ایک ہزار کے لشکر جرار لے کر لوہے میں ڈوبے ہوئے بدر کے میدان میں پہنچ گئے پس یہ دونوں جماعتیں ٹکرا گئیں ایک گھمسان کی لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح دلوائی اپنا دین بلند کیا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی اور اسلام کو کفر پر غالب کیا جیسے کہ اب بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ یہاں مقصد بیان صرف اتنا ہی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پتہ چلا کہ مشرکین کی جنگی مہم مکے سے آ رہی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ سے بذریعہ وحی کے وعدہ کیا کہ یا تو قافلہ آپ کو ملے گا یا لشکر کفار۔ اکثر مسلمان جی سے چاہتے تھے کہ قافلہ مل جائے کیونکہ یہ نسبتاً ہلکی چیز تھی لیکن اللہ کا ارادہ تھا کہ اسی وقت بغیر زیادہ تیاری اور اہتمام کے اور آپس کے قول قرار کے مڈبھیڑ ہو جائے اور حق وباطل کی تمیز ہو جائے کفار کی ہمت ٹوٹ جائے اور دین حق نکھر آئے۔ تفسیر ابن مردویہ میں ہے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ مدینے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { مجھے خبر پہنچی ہے کہ ابوسفیان کا قافلہ لوٹ رہا ہے تو کیا تم اس کے لیے تیار ہو کہ ہم اس قافلے کی طرف بڑھیں؟ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مال غنیمت دلوا دے۔ } ہم سب نے تیاری ظاہر کی آپ ہمیں لے کر چلے ایک دن یا دو دن کا سفر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ { قریشیوں سے جہاد کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہیں تمہارے چلنے کا علم ہو گیا ہے اور وہ تم سے لڑنے کیلئے چل پڑے ہیں۔}

ہم نے جواب دیا کہ واللہ ہم میں ان سے مقابلے کی طاقت نہیں ہم تو صرف قافلے کے ارادے سے نکلے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی سوال کیا اور ہم نے پھر یہی جواب دیا۔ اب مقداد بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس وقت آپ کو وہ نہ کہیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تو اور تیرا رب جا کر کافروں سے لڑے، ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو ہمیں بڑا ہی رنج ہونے لگا کہ کاش یہی جواب ہم بھی دیتے تو ہمیں مال کے ملنے سے اچھا تھا، پس یہ آیت «كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِن بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ» ۱؎ [8-الأنفال:5] ‏‏‏‏ اتری۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ بدر کی جانب چلتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روحا میں پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ { بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ } صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں ہمیں بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ فلاں فلاں جگہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر خطبہ دیا اور یہی فرمایا اب کی مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہی جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسرے خطبے میں یہی فرمایا اس پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے دریافت فرما رہے ہیں؟ اس اللہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت وبزرگی عنایت فرمائی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے نہ میں ان راستوں میں کبھی چلا ہوں اور نہ مجھے اس لشکر کا علم ہے ہاں اتنا میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ برک غماد تک بھی چڑھائی کریں تو واللہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب تھامے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوں گے ہم ان کی طرح نہیں جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہدیا تھا کہ «فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ» ۱؎ [ 5-المائدہ: 24 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ تو اپنے ساتھ اپنے پروردگار کو لے کر چلا جا اور تم دونوں ان سے لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔‘

نہیں نہیں بلکہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ آپ کا ساتھ دے ہم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر حکم کفار سے جہاد کے لیے صدق دل سے تیار ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گو آپ کسی کام کو زیر نظر رکھ رکھ نکلے ہوں لیکن اس وقت کوئی اور نیا کام پیش نگاہ ہو تو «بِسْمِ اللَّـهِ» کیجئے، ہم تابعداری سے منہ پھیرنے والے نہیں۔ آپ جس سے چاہیں ناطہٰ توڑ لیجئے اور جس سے چاہیں جوڑ لیجئے جس سے چاہیں عداوت کیجئے اور جس سے چاہیں محبت کیجئے ہم اسی میں آپ کے ساتھ ہیں۔ یا رسول اللہ ہماری جانوں کے ساتھ ہمارے مال بھی حاضر ہیں، آپ کو جس قدر ضرورت ہو لیجئے اور کام میں لگائیے۔ پس سعد کے اس فرمان پر قران کی یہ آیتیں اتری ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15724:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن سے بدر میں جنگ کرنے کی بابت صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا اور سعد بن عباد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کو کمر بندی کا حکم دے دیا اس وقت بعض مسلمانوں کو یہ ذرا گراں گذرا اس پر یہ آیتیں اتریں۔ پس حق میں جھگڑنے سے مراد جہاد میں اختلاف کرنا ہے اور مشرکوں کے لشکر سے مڈبھیڑ ہونے اور ان کی طرف چلنے کو ناپسند کرنا ہے۔ اس کے بعد ان کے لیے واضح ہو گیا یعنی یہ امر کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بغیر حکم رب العزت کے کوئی حکم نہیں دیتے۔

دوسری تفسیر میں ہے کہ اس سے مراد مشرک لوگ ہیں جو حق میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ اسلام کا ماننا ان کے نزدیک ایسا ہے جیسے دیکھتے ہوئے موت کے منہ میں کودنا۔ یہ وصف مشرکوں کے سوا اور کسی کا نہیں اہل کفر کی پہلی علامت یہی ہے ابن زید کا یہ قول وارد کر کے امام ابن جرید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قول بالکل بے معنی ہے اس لیے کہ اس سے پہلے کا قول آیت «يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ» ۱؎ [ 8-الانفال: 6 ] ‏‏‏‏ اہل ایمان کی خبر ہے تو اس سے متصل خبر بھی انہی کی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن اسحاق رحمہ اللہ ہی کا قول اس بارے میں ٹھیک ہے کہ یہ خبر مومنوں کی ہے نہ کہ کافروں کی۔ حق بات یہی ہے جو امام صاحب نے کہی۔ سیاق کلام کی دلالت بھی اسی پر ہے ـ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مسند احمد میں ہے کہ بدر کی لڑائی کی فتح کے بعد بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب چلئے قافلے کو بھی دبالیں اب کوئی روک نہیں ہے۔ اس وقت سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کفار سے قید ہو کر آئے ہوئے زنجیروں سے جکڑے ہوئے تھے اونچی آواز سے کہنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: { کیوں؟ } انہوں نے جواب دیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا وہ اللہ نے پورا کیا ایک جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گئی۔۱؎ [سنن ترمذي:3080،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

مسلمانوں کی چاہت تھی کہ لڑائی والے گروہ سے تو مڈبھیڑ نہ ہو البتہ قافلے والے مل جائیں اور اللہ کی چاہت تھی کہ شوکت و شان والی قوت و گھمنڈوالی لڑائی بھڑائی والی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو جائے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر تمہیں غالب کر کے تمہاری مدد کرے، اپنے دین کو ظاہر کر دے اور اپنے کلمے کو بلند کر دے اور اپنے دین کو دوسرے تمام دینوں پر اونچا کر دے پس انجام کی بھلائی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ اپنی عمدہ تدبیر سے تمہیں سنبھال رہا ہے تمہاری مرضی کے خلاف کرتا ہے اور اسی میں تمہاری مصلحت اور بھلائی ہوتی ہے جیسے فرمایا کہ «كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [2-البقرة:216] ‏‏‏‏ ’ جہاد تم پر لکھا گیا اور وہ تمہیں ناپسند ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ تمہاری ناپسندیدگی کی چیز میں ہی انجام کے لحاظ سے تمہارے لیے بہتری ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ درحقیقت تمہارے حق میں بری ہو۔‘ اب جنگ بدر کا مختصر سا واقعہ بزبان سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سنئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ابوسفیان شام سے مع قافلے کے اور مع اسباب کے آ رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو فرمایا کہ { چلو ان کا راستہ روکو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے یہ اسباب تمہیں دلوا دے۔} چونکہ کسی لڑانے والی جماعت سے لڑائی کرنے کا خیال بھی نہ تھا، اس لیے لوگ بغیر کسی خاص تیاری کے جیسے تھے ویسے ہی ہلکے پھلکے نکل کھڑے ہوئے۔ ابوسفیان بھی غافل نہ تھا اس نے جاسوس چھوڑ رکھے تھے اور آتے جاتوں سے بھی دریافت حال کر رہا تھا ایک قافلے سے اسے معلوم ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر تیرے اور تیرے قافلے کی طرف چل پڑے ہیں۔

اس نے ضیغم بن عمرو غفاری کو انعام دے دلا کر اسی وقت قریش مکہ کے پاس یہ پیغام دے کر روانہ کیا کہ تمہارے مال خطرے میں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے اس طرف آ رہے ہیں تمہیں چاہیئے کہ پوری تیاری سے فوراً ہماری مدد کو آؤ اس نے بہت جلد وہاں پہنچ کر خبر دی تو قریشیوں نے زبردست حملے کی تیار کر لی اور نکل کھڑے ہوئے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب ذفران وادی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے لشکروں کا سازو سامان سے نکلنا معلوم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا اور یہ خبر بھی کر دی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر جواب دیا اور بہت اچھا کہا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور آپ نے بھی معقول جواب دیا۔ پھر مقداد رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہو اسے انجام دیجئیے ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں اور ہر طرح فرمانبردار ہیں ہم بنو اسرائیل کی طرح نہیں کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب جا کر لڑ لو ہم تماشا دیکھتے ہیں نہیں بلکہ ہمارا یہ قول ہے کہ اللہ کی مدد کے ساتھ چلئے جنگ کیجئے ہم آپکے ساتھ ہیں اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ برک غماد تک یعنی حبشہ کے ملک تک بھی چلیں تو ہم ساتھ سے منہ نہ موڑیں گے اور وہاں پہنچائے اور پہنچے بغیر کسی طرح نہ رہیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بہت اچھا کہا اور ان کو بڑی دعائیں دیں لیکن پھر بھی یہی فرماتے رہے کہ { لوگو مجھے مشورہ دو میری بات کا جواب دو۔} اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انصاریوں کے گروہ سے تھی ایک تو اس لیے کہ گنتی میں یہی زیادہ تھے۔

دوسرے اس لیے بھی کہ عقبہ میں جب انصار نے بیعت کی تھی تو اس بات پر کی تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکے سے نکل کر مدینے میں پہنچ جائیں پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں جو بھی دشمن آپ پر چڑھائی کر کے آئے ہم اس کے مقابلے میں سینہ سپر ہو جائیں گے اس میں چونکہ یہ وعدہ نہ تھا کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی پر چڑھ کر جائیں تو بھی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیں گے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اب ان کا ارادہ معلوم کر لیں۔ یہ سمجھ کر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور عرض کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جواب طلب فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یہی بات ہے } تو سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا جانتے ہیں اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اسے بھی حق مانتے ہیں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سننے اور اس پر عمل کرنے کی بیعت کر چکے ہیں۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا ہے اسے پورا کیجئے، ہم آپ کی ہمرکابی سے نہ ہٹیں گے۔

اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو اپنا سچا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اگر سمندر کے کنارے پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں گھوڑا ڈال دیں تو ہم بھی بلا تامل اس میں کود پڑیں گے ہم میں سے ایک کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ پائیں گے جسے ذرا سا بھی تامل ہو ہم اس پر بخوشی رضامند ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دشمنوں کے مقابلے پر چھوڑ دیں۔ ہم لڑائیوں میں بہادری کرنے والے مصیبت کے جھیلنے والے اور دشمن کے دل پر سکہ جما دینے والے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کام دیکھ کر ان شاءاللہ خوش ہوں گے چلئے اللہ کا نام لے کر چڑھائی کیجئے اللہ برکت دے۔ ان کے اس جواب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی مسرور ہوئے اسی وقت کوچ کا حکم دیا کہ { چلو اللہ کی برکت پر خوش ہو جاؤ۔ رب مجھ سے وعدہ کر چکا ہے کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت ہمارے ہاتھ لگے گی واللہ میں تو ان لوگوں کے گرنے کی جگہ ابھی یہیں سے گویا اپنی آنکھوں دیکھ رہا ہوں۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15732] ‏‏‏‏
6۔ 1 یعنی یہ بات ظاہر ہوگئی تھی کہ قافلہ تو بچ کر نکل گیا ہے اور اب لشکر قریش ہی سامنے ہے جس سے لڑائی ناگزیر ہے۔ 6۔ 2 یہ بےسروسامانی کی حالت میں لڑنے کی وجہ سے بعض مسلمانوں کی جو کیفیت تھی اس کا اظہار ہے۔
(آیت 6) ➊ {يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ …:} حق سے مراد کفار کا قافلہ نکل جانے کے بعد کفار سے ہر صورت لڑائی ہے، جس کا انجام فتح اور غنائم ہو گا۔ مختصراً واقعہ یہ ہے کہ سن ۲ ھ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ کفارِ قریش کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ابوسفیان کی سرکردگی میں شام سے مکہ جا رہا ہے اور مدینہ کے قریب کے راستے پر پہنچ چکا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی مختصر سی جمعیت جو تین سو سے کچھ اوپر تھی، لے کر قافلے کے تعاقب کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ ابوسفیان کو آپ کے نکلنے کی اطلاع ہو گئی، اس نے ایک تیز رفتار سوار کے ذریعے سے مکہ اطلاع بھیج دی اور خود احتیاطاً اصل راستہ چھوڑ کر ساحلی راستہ اختیار کر لیا۔ مکہ میں جب یہ خبر پہنچی تو ابوجہل ایک بڑا مسلح لشکر لے کر قافلے کی حفاظت کے لیے روانہ ہو گیا اور آ کر بدر میں ڈیرے ڈال دیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو آپ نے مسلمانوں کے سامنے ساری صورت حال رکھ دی کہ ایک طرف تجارتی قافلہ ہے اور دوسری طرف قریش کا لشکر ہے، اللہ کا وعدہ ہے کہ تمھیں دونوں میں سے ایک ضرور ملے گا۔ اس پر بعض صحابہ کو تردد ہوا، وہ چاہتے تھے کہ لشکر کے بجائے قافلے کا تعاقب کیا جائے۔ اس وقت ابوبکر، عمر، سعد بن معاذ اور مقداد بن اسود رضی اللہ عنھم نے اطاعت کی تقریریں کیں، مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ ہمیں موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں جیسا نہیں پائیں گے، جنھوں نے کہا کہ جا تو اور تیرا رب لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں!! تب آپ بدر کی طرف روانہ ہوئے اور اس وقت بعض صحابہ نے لشکر سے نہ لڑنے کا مشورہ دیا تھا، اسے {” يُجَادِلُوْنَكَ “} (وہ تجھ سے جھگڑتے تھے) سے تعبیر کیا ہے۔ ➋ {كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ …:} یعنی سمجھتے تھے کہ اتنے بڑے لشکر سے لڑنا اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالنا ہے۔
وَ اِذۡ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحۡدَی الطَّآئِفَتَیۡنِ اَنَّہَا لَکُمۡ وَ تَوَدُّوۡنَ اَنَّ غَیۡرَ ذَاتِ الشَّوۡکَۃِ تَکُوۡنُ لَکُمۡ وَ یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّحِقَّ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَ یَقۡطَعَ دَابِرَ الۡکٰفِرِیۡنَ ۙ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مِل جائے گا تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو! جب کہ اللہ تم سے ان دو جماعتوں میں سے ایک کا وعده کرتا تھا کہ وه تمہارے ہاتھ آجائے گی اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مسلح جماعت تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا ﺛابت کردے اور ان کافروں کی جڑ کاٹ دے
احمد رضا خان بریلوی
اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں وعدہ دیا تھا کہ ان دونوں گروہوں میں ایک تمہارے لیے ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ ملے جس میں کانٹے کا کھٹکا نہیں (کوئی نقصان نہ ہو) اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام سے سچ کو سچ کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کا ٹ دے
علامہ محمد حسین نجفی
اور (یاد کرو وہ وقت) کہ جب خدا نے تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا کہ وہ تمہارے لئے ہے (تمہارے ہاتھ آئے گا) اور تم یہ چاہتے تھے کہ غیر مسلح گروہ تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام و احکام کے ذریعہ سے حق کو ثابت کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کر رہا تھا کہ وہ تمھارے لیے ہو گا اور تم چاہتے تھے کہ جو کانٹے والا نہیں وہ تمھیں مل جائے اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو اپنی باتوں کے ساتھ سچا کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ٭٭

مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ «كَمَا أَخْرَجَكَ» میں «كَمَا» کے آنے کا کیا سبب ہے۔ بعض نے کہا کہ آیت زیر ذکر میں تشبیہہ دی گئی ہے، مومنین کے باہمی صلح ساتھ ان کے ارتقاب اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں۔ ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ جیسے تم نے مال غنیمت میں اختلاف کیا آخر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے نبی کو اس کی تقسیم کا اختیار دے دیا اور اپنے عدل و انصاف کے ساتھ اسے تم میں بانٹ دیا درحقیقت تمہارے لیے اسی میں بھلائی تھی اسی طرح اس نے باوجود تمہاری اس چاہت کے کہ قریش کا تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے اور جنگی جماعت سے مقابلہ نہ ہو اس نے تمہارا مقابلہ بغیر کسی وعدے کے ایک پر شکوہ جماعت سے کرا دیا اور تمہیں اس پر غالب کر دیا کہ اللہ کی بات بلند ہو جائے اور تمہیں فتح، نصرت، غلبہ اور شان شوکت عطا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت «كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 2-البقرة: 216 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ تم پر جہاد فرض کیا گیا حالانکہ تم اسے برا جانتے ہو بہت ممکن ہے کہ ایک چیز کو اپنے حق میں اچھی نہ جانو اور درحقیقت وہی تمہارے حق میں بہتر ہو اور حق میں وہ بد تر ہو۔ دراصل حقائق کا علم اللہ ہی کو ہے تم محض بےعلم ہو۔ ‘ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جیسے مومنوں کے ایک گروہ کی چاہت کے خلاف تجھے تیرے رب نے شہر سے باہر لڑائی کیلئے نکالا اور نتیجہ اسی کا اچھا ہوا ایسے ہی جو لوگ جہاد کیلئے نکلنا بوجھ سمجھ رہے ہیں دراصل یہی ان کے حق میں بہتر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مال غنیمت میں ان کا اختلاف بالکل بدر والے دن کے اختلاف کے مشابہ تھا۔ کہنے لگے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قافلے کا فرمایا تھا لشکر کا نہیں ہم جنگی تیاری کر کے نکلے ہی نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے اسی ارادے سے نکلے تھے کہ ابوسفیان کے اس قافلے کو روکیں جو شام سے مدینہ کو قریشیوں کے بہت سے مال اسباب لے کر آ رہا تھا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تیار کیا اور تین سو دس سے کچھ اوپر لوگوں کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے چلے اور سمندر کے کنارے کے راستے کی طرف سے بدر کے مقام سے چلے۔ ابوسفیان کو چونکہ آپ کے نکلنے کی خبر پہنچ چکی تھی اس نے اپنا راستہ بدل دیا اور ایک تیز رو قاصد کو مکے دوڑایا۔ وہاں سے قریش قریب ایک ہزار کے لشکر جرار لے کر لوہے میں ڈوبے ہوئے بدر کے میدان میں پہنچ گئے پس یہ دونوں جماعتیں ٹکرا گئیں ایک گھمسان کی لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح دلوائی اپنا دین بلند کیا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی اور اسلام کو کفر پر غالب کیا جیسے کہ اب بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ یہاں مقصد بیان صرف اتنا ہی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پتہ چلا کہ مشرکین کی جنگی مہم مکے سے آ رہی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ سے بذریعہ وحی کے وعدہ کیا کہ یا تو قافلہ آپ کو ملے گا یا لشکر کفار۔ اکثر مسلمان جی سے چاہتے تھے کہ قافلہ مل جائے کیونکہ یہ نسبتاً ہلکی چیز تھی لیکن اللہ کا ارادہ تھا کہ اسی وقت بغیر زیادہ تیاری اور اہتمام کے اور آپس کے قول قرار کے مڈبھیڑ ہو جائے اور حق وباطل کی تمیز ہو جائے کفار کی ہمت ٹوٹ جائے اور دین حق نکھر آئے۔ تفسیر ابن مردویہ میں ہے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ مدینے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { مجھے خبر پہنچی ہے کہ ابوسفیان کا قافلہ لوٹ رہا ہے تو کیا تم اس کے لیے تیار ہو کہ ہم اس قافلے کی طرف بڑھیں؟ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مال غنیمت دلوا دے۔ } ہم سب نے تیاری ظاہر کی آپ ہمیں لے کر چلے ایک دن یا دو دن کا سفر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ { قریشیوں سے جہاد کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہیں تمہارے چلنے کا علم ہو گیا ہے اور وہ تم سے لڑنے کیلئے چل پڑے ہیں۔}

ہم نے جواب دیا کہ واللہ ہم میں ان سے مقابلے کی طاقت نہیں ہم تو صرف قافلے کے ارادے سے نکلے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی سوال کیا اور ہم نے پھر یہی جواب دیا۔ اب مقداد بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس وقت آپ کو وہ نہ کہیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تو اور تیرا رب جا کر کافروں سے لڑے، ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو ہمیں بڑا ہی رنج ہونے لگا کہ کاش یہی جواب ہم بھی دیتے تو ہمیں مال کے ملنے سے اچھا تھا، پس یہ آیت «كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِن بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ» ۱؎ [8-الأنفال:5] ‏‏‏‏ اتری۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ بدر کی جانب چلتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روحا میں پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ { بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ } صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں ہمیں بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ فلاں فلاں جگہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر خطبہ دیا اور یہی فرمایا اب کی مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہی جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسرے خطبے میں یہی فرمایا اس پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے دریافت فرما رہے ہیں؟ اس اللہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت وبزرگی عنایت فرمائی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے نہ میں ان راستوں میں کبھی چلا ہوں اور نہ مجھے اس لشکر کا علم ہے ہاں اتنا میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ برک غماد تک بھی چڑھائی کریں تو واللہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب تھامے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوں گے ہم ان کی طرح نہیں جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہدیا تھا کہ «فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ» ۱؎ [ 5-المائدہ: 24 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ تو اپنے ساتھ اپنے پروردگار کو لے کر چلا جا اور تم دونوں ان سے لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔‘

نہیں نہیں بلکہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ آپ کا ساتھ دے ہم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر حکم کفار سے جہاد کے لیے صدق دل سے تیار ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گو آپ کسی کام کو زیر نظر رکھ رکھ نکلے ہوں لیکن اس وقت کوئی اور نیا کام پیش نگاہ ہو تو «بِسْمِ اللَّـهِ» کیجئے، ہم تابعداری سے منہ پھیرنے والے نہیں۔ آپ جس سے چاہیں ناطہٰ توڑ لیجئے اور جس سے چاہیں جوڑ لیجئے جس سے چاہیں عداوت کیجئے اور جس سے چاہیں محبت کیجئے ہم اسی میں آپ کے ساتھ ہیں۔ یا رسول اللہ ہماری جانوں کے ساتھ ہمارے مال بھی حاضر ہیں، آپ کو جس قدر ضرورت ہو لیجئے اور کام میں لگائیے۔ پس سعد کے اس فرمان پر قران کی یہ آیتیں اتری ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15724:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن سے بدر میں جنگ کرنے کی بابت صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا اور سعد بن عباد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کو کمر بندی کا حکم دے دیا اس وقت بعض مسلمانوں کو یہ ذرا گراں گذرا اس پر یہ آیتیں اتریں۔ پس حق میں جھگڑنے سے مراد جہاد میں اختلاف کرنا ہے اور مشرکوں کے لشکر سے مڈبھیڑ ہونے اور ان کی طرف چلنے کو ناپسند کرنا ہے۔ اس کے بعد ان کے لیے واضح ہو گیا یعنی یہ امر کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بغیر حکم رب العزت کے کوئی حکم نہیں دیتے۔

دوسری تفسیر میں ہے کہ اس سے مراد مشرک لوگ ہیں جو حق میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ اسلام کا ماننا ان کے نزدیک ایسا ہے جیسے دیکھتے ہوئے موت کے منہ میں کودنا۔ یہ وصف مشرکوں کے سوا اور کسی کا نہیں اہل کفر کی پہلی علامت یہی ہے ابن زید کا یہ قول وارد کر کے امام ابن جرید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قول بالکل بے معنی ہے اس لیے کہ اس سے پہلے کا قول آیت «يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ» ۱؎ [ 8-الانفال: 6 ] ‏‏‏‏ اہل ایمان کی خبر ہے تو اس سے متصل خبر بھی انہی کی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن اسحاق رحمہ اللہ ہی کا قول اس بارے میں ٹھیک ہے کہ یہ خبر مومنوں کی ہے نہ کہ کافروں کی۔ حق بات یہی ہے جو امام صاحب نے کہی۔ سیاق کلام کی دلالت بھی اسی پر ہے ـ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مسند احمد میں ہے کہ بدر کی لڑائی کی فتح کے بعد بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب چلئے قافلے کو بھی دبالیں اب کوئی روک نہیں ہے۔ اس وقت سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کفار سے قید ہو کر آئے ہوئے زنجیروں سے جکڑے ہوئے تھے اونچی آواز سے کہنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: { کیوں؟ } انہوں نے جواب دیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا وہ اللہ نے پورا کیا ایک جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گئی۔۱؎ [سنن ترمذي:3080،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

مسلمانوں کی چاہت تھی کہ لڑائی والے گروہ سے تو مڈبھیڑ نہ ہو البتہ قافلے والے مل جائیں اور اللہ کی چاہت تھی کہ شوکت و شان والی قوت و گھمنڈوالی لڑائی بھڑائی والی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو جائے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر تمہیں غالب کر کے تمہاری مدد کرے، اپنے دین کو ظاہر کر دے اور اپنے کلمے کو بلند کر دے اور اپنے دین کو دوسرے تمام دینوں پر اونچا کر دے پس انجام کی بھلائی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ اپنی عمدہ تدبیر سے تمہیں سنبھال رہا ہے تمہاری مرضی کے خلاف کرتا ہے اور اسی میں تمہاری مصلحت اور بھلائی ہوتی ہے جیسے فرمایا کہ «كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [2-البقرة:216] ‏‏‏‏ ’ جہاد تم پر لکھا گیا اور وہ تمہیں ناپسند ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ تمہاری ناپسندیدگی کی چیز میں ہی انجام کے لحاظ سے تمہارے لیے بہتری ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ درحقیقت تمہارے حق میں بری ہو۔‘ اب جنگ بدر کا مختصر سا واقعہ بزبان سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سنئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ابوسفیان شام سے مع قافلے کے اور مع اسباب کے آ رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو فرمایا کہ { چلو ان کا راستہ روکو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے یہ اسباب تمہیں دلوا دے۔} چونکہ کسی لڑانے والی جماعت سے لڑائی کرنے کا خیال بھی نہ تھا، اس لیے لوگ بغیر کسی خاص تیاری کے جیسے تھے ویسے ہی ہلکے پھلکے نکل کھڑے ہوئے۔ ابوسفیان بھی غافل نہ تھا اس نے جاسوس چھوڑ رکھے تھے اور آتے جاتوں سے بھی دریافت حال کر رہا تھا ایک قافلے سے اسے معلوم ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر تیرے اور تیرے قافلے کی طرف چل پڑے ہیں۔

اس نے ضیغم بن عمرو غفاری کو انعام دے دلا کر اسی وقت قریش مکہ کے پاس یہ پیغام دے کر روانہ کیا کہ تمہارے مال خطرے میں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے اس طرف آ رہے ہیں تمہیں چاہیئے کہ پوری تیاری سے فوراً ہماری مدد کو آؤ اس نے بہت جلد وہاں پہنچ کر خبر دی تو قریشیوں نے زبردست حملے کی تیار کر لی اور نکل کھڑے ہوئے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب ذفران وادی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے لشکروں کا سازو سامان سے نکلنا معلوم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا اور یہ خبر بھی کر دی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر جواب دیا اور بہت اچھا کہا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور آپ نے بھی معقول جواب دیا۔ پھر مقداد رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہو اسے انجام دیجئیے ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں اور ہر طرح فرمانبردار ہیں ہم بنو اسرائیل کی طرح نہیں کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب جا کر لڑ لو ہم تماشا دیکھتے ہیں نہیں بلکہ ہمارا یہ قول ہے کہ اللہ کی مدد کے ساتھ چلئے جنگ کیجئے ہم آپکے ساتھ ہیں اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ برک غماد تک یعنی حبشہ کے ملک تک بھی چلیں تو ہم ساتھ سے منہ نہ موڑیں گے اور وہاں پہنچائے اور پہنچے بغیر کسی طرح نہ رہیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بہت اچھا کہا اور ان کو بڑی دعائیں دیں لیکن پھر بھی یہی فرماتے رہے کہ { لوگو مجھے مشورہ دو میری بات کا جواب دو۔} اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انصاریوں کے گروہ سے تھی ایک تو اس لیے کہ گنتی میں یہی زیادہ تھے۔

دوسرے اس لیے بھی کہ عقبہ میں جب انصار نے بیعت کی تھی تو اس بات پر کی تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکے سے نکل کر مدینے میں پہنچ جائیں پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں جو بھی دشمن آپ پر چڑھائی کر کے آئے ہم اس کے مقابلے میں سینہ سپر ہو جائیں گے اس میں چونکہ یہ وعدہ نہ تھا کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی پر چڑھ کر جائیں تو بھی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیں گے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اب ان کا ارادہ معلوم کر لیں۔ یہ سمجھ کر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور عرض کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جواب طلب فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یہی بات ہے } تو سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا جانتے ہیں اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اسے بھی حق مانتے ہیں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سننے اور اس پر عمل کرنے کی بیعت کر چکے ہیں۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا ہے اسے پورا کیجئے، ہم آپ کی ہمرکابی سے نہ ہٹیں گے۔

اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو اپنا سچا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اگر سمندر کے کنارے پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں گھوڑا ڈال دیں تو ہم بھی بلا تامل اس میں کود پڑیں گے ہم میں سے ایک کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ پائیں گے جسے ذرا سا بھی تامل ہو ہم اس پر بخوشی رضامند ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دشمنوں کے مقابلے پر چھوڑ دیں۔ ہم لڑائیوں میں بہادری کرنے والے مصیبت کے جھیلنے والے اور دشمن کے دل پر سکہ جما دینے والے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کام دیکھ کر ان شاءاللہ خوش ہوں گے چلئے اللہ کا نام لے کر چڑھائی کیجئے اللہ برکت دے۔ ان کے اس جواب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی مسرور ہوئے اسی وقت کوچ کا حکم دیا کہ { چلو اللہ کی برکت پر خوش ہو جاؤ۔ رب مجھ سے وعدہ کر چکا ہے کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت ہمارے ہاتھ لگے گی واللہ میں تو ان لوگوں کے گرنے کی جگہ ابھی یہیں سے گویا اپنی آنکھوں دیکھ رہا ہوں۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15732] ‏‏‏‏
7۔ 1 یعنی یا تو تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے گا، جس سے تمہیں بغیر لڑائی کے وافر مال و اسباب مل جائے گا، بصورت دیگر لشکر قریش سے تمہارا مقا لہ ہوگا اور تمہیں غلبہ ہوگا اور مال غنیمت ملے گا۔ 7۔ 2 یعنی تجارتی قافلہ سے بغیر لڑے مال ہاتھ آجائے۔
(آیت 7) ➊ {وَ اِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ:} یعنی قافلے یا کفار پر فتح اور اموال غنیمت۔ ➋ {وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ …: ” الشَّوْكَةِ “} کانٹے کو کہتے ہیں، یعنی تمھاری خواہش یہ تھی کہ کسی تکلیف اور جنگ کے بغیر حاصل ہونے والا قافلہ تمھیں مل جائے، جب کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنی باتوں اور وعدوں کے مطابق حق کو سچا ثابت فرمائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔
لِیُحِقَّ الۡحَقَّ وَ یُبۡطِلَ الۡبَاطِلَ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ۚ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہو جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ﺛابت کردے گو یہ مجرم لوگ ناپسند ہی کریں
احمد رضا خان بریلوی
کہ سچ کو سچ کرے اور جھوٹ کو جھوٹا پڑے برا مانیں مجرم،
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ حق کو حق کرکے اور باطل کو باطل کرکے دکھا دے اگرچہ مجرم لوگ اس بات کو کتنا ہی ناپسند کریں (یعنی خدا چاہتا تھا کہ تمہاری مسلح گروہ سے مڈبھیڑ ہو)۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ وہ حق کو سچا کر دے اور باطل کو جھوٹا کر دے، خواہ مجرم ناپسند ہی کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ٭٭

مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ «كَمَا أَخْرَجَكَ» میں «كَمَا» کے آنے کا کیا سبب ہے۔ بعض نے کہا کہ آیت زیر ذکر میں تشبیہہ دی گئی ہے، مومنین کے باہمی صلح ساتھ ان کے ارتقاب اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں۔ ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ جیسے تم نے مال غنیمت میں اختلاف کیا آخر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے نبی کو اس کی تقسیم کا اختیار دے دیا اور اپنے عدل و انصاف کے ساتھ اسے تم میں بانٹ دیا درحقیقت تمہارے لیے اسی میں بھلائی تھی اسی طرح اس نے باوجود تمہاری اس چاہت کے کہ قریش کا تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے اور جنگی جماعت سے مقابلہ نہ ہو اس نے تمہارا مقابلہ بغیر کسی وعدے کے ایک پر شکوہ جماعت سے کرا دیا اور تمہیں اس پر غالب کر دیا کہ اللہ کی بات بلند ہو جائے اور تمہیں فتح، نصرت، غلبہ اور شان شوکت عطا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت «كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 2-البقرة: 216 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ تم پر جہاد فرض کیا گیا حالانکہ تم اسے برا جانتے ہو بہت ممکن ہے کہ ایک چیز کو اپنے حق میں اچھی نہ جانو اور درحقیقت وہی تمہارے حق میں بہتر ہو اور حق میں وہ بد تر ہو۔ دراصل حقائق کا علم اللہ ہی کو ہے تم محض بےعلم ہو۔ ‘ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جیسے مومنوں کے ایک گروہ کی چاہت کے خلاف تجھے تیرے رب نے شہر سے باہر لڑائی کیلئے نکالا اور نتیجہ اسی کا اچھا ہوا ایسے ہی جو لوگ جہاد کیلئے نکلنا بوجھ سمجھ رہے ہیں دراصل یہی ان کے حق میں بہتر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مال غنیمت میں ان کا اختلاف بالکل بدر والے دن کے اختلاف کے مشابہ تھا۔ کہنے لگے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قافلے کا فرمایا تھا لشکر کا نہیں ہم جنگی تیاری کر کے نکلے ہی نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے اسی ارادے سے نکلے تھے کہ ابوسفیان کے اس قافلے کو روکیں جو شام سے مدینہ کو قریشیوں کے بہت سے مال اسباب لے کر آ رہا تھا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تیار کیا اور تین سو دس سے کچھ اوپر لوگوں کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے چلے اور سمندر کے کنارے کے راستے کی طرف سے بدر کے مقام سے چلے۔ ابوسفیان کو چونکہ آپ کے نکلنے کی خبر پہنچ چکی تھی اس نے اپنا راستہ بدل دیا اور ایک تیز رو قاصد کو مکے دوڑایا۔ وہاں سے قریش قریب ایک ہزار کے لشکر جرار لے کر لوہے میں ڈوبے ہوئے بدر کے میدان میں پہنچ گئے پس یہ دونوں جماعتیں ٹکرا گئیں ایک گھمسان کی لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح دلوائی اپنا دین بلند کیا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی اور اسلام کو کفر پر غالب کیا جیسے کہ اب بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ یہاں مقصد بیان صرف اتنا ہی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پتہ چلا کہ مشرکین کی جنگی مہم مکے سے آ رہی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ سے بذریعہ وحی کے وعدہ کیا کہ یا تو قافلہ آپ کو ملے گا یا لشکر کفار۔ اکثر مسلمان جی سے چاہتے تھے کہ قافلہ مل جائے کیونکہ یہ نسبتاً ہلکی چیز تھی لیکن اللہ کا ارادہ تھا کہ اسی وقت بغیر زیادہ تیاری اور اہتمام کے اور آپس کے قول قرار کے مڈبھیڑ ہو جائے اور حق وباطل کی تمیز ہو جائے کفار کی ہمت ٹوٹ جائے اور دین حق نکھر آئے۔ تفسیر ابن مردویہ میں ہے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ مدینے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { مجھے خبر پہنچی ہے کہ ابوسفیان کا قافلہ لوٹ رہا ہے تو کیا تم اس کے لیے تیار ہو کہ ہم اس قافلے کی طرف بڑھیں؟ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مال غنیمت دلوا دے۔ } ہم سب نے تیاری ظاہر کی آپ ہمیں لے کر چلے ایک دن یا دو دن کا سفر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ { قریشیوں سے جہاد کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہیں تمہارے چلنے کا علم ہو گیا ہے اور وہ تم سے لڑنے کیلئے چل پڑے ہیں۔}

ہم نے جواب دیا کہ واللہ ہم میں ان سے مقابلے کی طاقت نہیں ہم تو صرف قافلے کے ارادے سے نکلے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی سوال کیا اور ہم نے پھر یہی جواب دیا۔ اب مقداد بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس وقت آپ کو وہ نہ کہیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تو اور تیرا رب جا کر کافروں سے لڑے، ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو ہمیں بڑا ہی رنج ہونے لگا کہ کاش یہی جواب ہم بھی دیتے تو ہمیں مال کے ملنے سے اچھا تھا، پس یہ آیت «كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِن بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ» ۱؎ [8-الأنفال:5] ‏‏‏‏ اتری۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ بدر کی جانب چلتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روحا میں پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ { بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ } صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں ہمیں بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ فلاں فلاں جگہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر خطبہ دیا اور یہی فرمایا اب کی مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہی جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسرے خطبے میں یہی فرمایا اس پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے دریافت فرما رہے ہیں؟ اس اللہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت وبزرگی عنایت فرمائی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے نہ میں ان راستوں میں کبھی چلا ہوں اور نہ مجھے اس لشکر کا علم ہے ہاں اتنا میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ برک غماد تک بھی چڑھائی کریں تو واللہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب تھامے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوں گے ہم ان کی طرح نہیں جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہدیا تھا کہ «فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ» ۱؎ [ 5-المائدہ: 24 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ تو اپنے ساتھ اپنے پروردگار کو لے کر چلا جا اور تم دونوں ان سے لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔‘

نہیں نہیں بلکہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ آپ کا ساتھ دے ہم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر حکم کفار سے جہاد کے لیے صدق دل سے تیار ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گو آپ کسی کام کو زیر نظر رکھ رکھ نکلے ہوں لیکن اس وقت کوئی اور نیا کام پیش نگاہ ہو تو «بِسْمِ اللَّـهِ» کیجئے، ہم تابعداری سے منہ پھیرنے والے نہیں۔ آپ جس سے چاہیں ناطہٰ توڑ لیجئے اور جس سے چاہیں جوڑ لیجئے جس سے چاہیں عداوت کیجئے اور جس سے چاہیں محبت کیجئے ہم اسی میں آپ کے ساتھ ہیں۔ یا رسول اللہ ہماری جانوں کے ساتھ ہمارے مال بھی حاضر ہیں، آپ کو جس قدر ضرورت ہو لیجئے اور کام میں لگائیے۔ پس سعد کے اس فرمان پر قران کی یہ آیتیں اتری ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15724:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن سے بدر میں جنگ کرنے کی بابت صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا اور سعد بن عباد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کو کمر بندی کا حکم دے دیا اس وقت بعض مسلمانوں کو یہ ذرا گراں گذرا اس پر یہ آیتیں اتریں۔ پس حق میں جھگڑنے سے مراد جہاد میں اختلاف کرنا ہے اور مشرکوں کے لشکر سے مڈبھیڑ ہونے اور ان کی طرف چلنے کو ناپسند کرنا ہے۔ اس کے بعد ان کے لیے واضح ہو گیا یعنی یہ امر کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بغیر حکم رب العزت کے کوئی حکم نہیں دیتے۔

دوسری تفسیر میں ہے کہ اس سے مراد مشرک لوگ ہیں جو حق میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ اسلام کا ماننا ان کے نزدیک ایسا ہے جیسے دیکھتے ہوئے موت کے منہ میں کودنا۔ یہ وصف مشرکوں کے سوا اور کسی کا نہیں اہل کفر کی پہلی علامت یہی ہے ابن زید کا یہ قول وارد کر کے امام ابن جرید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قول بالکل بے معنی ہے اس لیے کہ اس سے پہلے کا قول آیت «يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ» ۱؎ [ 8-الانفال: 6 ] ‏‏‏‏ اہل ایمان کی خبر ہے تو اس سے متصل خبر بھی انہی کی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن اسحاق رحمہ اللہ ہی کا قول اس بارے میں ٹھیک ہے کہ یہ خبر مومنوں کی ہے نہ کہ کافروں کی۔ حق بات یہی ہے جو امام صاحب نے کہی۔ سیاق کلام کی دلالت بھی اسی پر ہے ـ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مسند احمد میں ہے کہ بدر کی لڑائی کی فتح کے بعد بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب چلئے قافلے کو بھی دبالیں اب کوئی روک نہیں ہے۔ اس وقت سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کفار سے قید ہو کر آئے ہوئے زنجیروں سے جکڑے ہوئے تھے اونچی آواز سے کہنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: { کیوں؟ } انہوں نے جواب دیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا وہ اللہ نے پورا کیا ایک جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گئی۔۱؎ [سنن ترمذي:3080،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏

مسلمانوں کی چاہت تھی کہ لڑائی والے گروہ سے تو مڈبھیڑ نہ ہو البتہ قافلے والے مل جائیں اور اللہ کی چاہت تھی کہ شوکت و شان والی قوت و گھمنڈوالی لڑائی بھڑائی والی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو جائے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر تمہیں غالب کر کے تمہاری مدد کرے، اپنے دین کو ظاہر کر دے اور اپنے کلمے کو بلند کر دے اور اپنے دین کو دوسرے تمام دینوں پر اونچا کر دے پس انجام کی بھلائی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ اپنی عمدہ تدبیر سے تمہیں سنبھال رہا ہے تمہاری مرضی کے خلاف کرتا ہے اور اسی میں تمہاری مصلحت اور بھلائی ہوتی ہے جیسے فرمایا کہ «كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ۱؎ [2-البقرة:216] ‏‏‏‏ ’ جہاد تم پر لکھا گیا اور وہ تمہیں ناپسند ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ تمہاری ناپسندیدگی کی چیز میں ہی انجام کے لحاظ سے تمہارے لیے بہتری ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ درحقیقت تمہارے حق میں بری ہو۔‘ اب جنگ بدر کا مختصر سا واقعہ بزبان سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سنئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ابوسفیان شام سے مع قافلے کے اور مع اسباب کے آ رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو فرمایا کہ { چلو ان کا راستہ روکو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے یہ اسباب تمہیں دلوا دے۔} چونکہ کسی لڑانے والی جماعت سے لڑائی کرنے کا خیال بھی نہ تھا، اس لیے لوگ بغیر کسی خاص تیاری کے جیسے تھے ویسے ہی ہلکے پھلکے نکل کھڑے ہوئے۔ ابوسفیان بھی غافل نہ تھا اس نے جاسوس چھوڑ رکھے تھے اور آتے جاتوں سے بھی دریافت حال کر رہا تھا ایک قافلے سے اسے معلوم ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر تیرے اور تیرے قافلے کی طرف چل پڑے ہیں۔

اس نے ضیغم بن عمرو غفاری کو انعام دے دلا کر اسی وقت قریش مکہ کے پاس یہ پیغام دے کر روانہ کیا کہ تمہارے مال خطرے میں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے اس طرف آ رہے ہیں تمہیں چاہیئے کہ پوری تیاری سے فوراً ہماری مدد کو آؤ اس نے بہت جلد وہاں پہنچ کر خبر دی تو قریشیوں نے زبردست حملے کی تیار کر لی اور نکل کھڑے ہوئے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب ذفران وادی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے لشکروں کا سازو سامان سے نکلنا معلوم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا اور یہ خبر بھی کر دی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر جواب دیا اور بہت اچھا کہا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور آپ نے بھی معقول جواب دیا۔ پھر مقداد رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہو اسے انجام دیجئیے ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں اور ہر طرح فرمانبردار ہیں ہم بنو اسرائیل کی طرح نہیں کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب جا کر لڑ لو ہم تماشا دیکھتے ہیں نہیں بلکہ ہمارا یہ قول ہے کہ اللہ کی مدد کے ساتھ چلئے جنگ کیجئے ہم آپکے ساتھ ہیں اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ برک غماد تک یعنی حبشہ کے ملک تک بھی چلیں تو ہم ساتھ سے منہ نہ موڑیں گے اور وہاں پہنچائے اور پہنچے بغیر کسی طرح نہ رہیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بہت اچھا کہا اور ان کو بڑی دعائیں دیں لیکن پھر بھی یہی فرماتے رہے کہ { لوگو مجھے مشورہ دو میری بات کا جواب دو۔} اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انصاریوں کے گروہ سے تھی ایک تو اس لیے کہ گنتی میں یہی زیادہ تھے۔

دوسرے اس لیے بھی کہ عقبہ میں جب انصار نے بیعت کی تھی تو اس بات پر کی تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکے سے نکل کر مدینے میں پہنچ جائیں پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں جو بھی دشمن آپ پر چڑھائی کر کے آئے ہم اس کے مقابلے میں سینہ سپر ہو جائیں گے اس میں چونکہ یہ وعدہ نہ تھا کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی پر چڑھ کر جائیں تو بھی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیں گے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اب ان کا ارادہ معلوم کر لیں۔ یہ سمجھ کر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور عرض کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جواب طلب فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یہی بات ہے } تو سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا جانتے ہیں اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اسے بھی حق مانتے ہیں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سننے اور اس پر عمل کرنے کی بیعت کر چکے ہیں۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا ہے اسے پورا کیجئے، ہم آپ کی ہمرکابی سے نہ ہٹیں گے۔

اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو اپنا سچا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اگر سمندر کے کنارے پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں گھوڑا ڈال دیں تو ہم بھی بلا تامل اس میں کود پڑیں گے ہم میں سے ایک کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ پائیں گے جسے ذرا سا بھی تامل ہو ہم اس پر بخوشی رضامند ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دشمنوں کے مقابلے پر چھوڑ دیں۔ ہم لڑائیوں میں بہادری کرنے والے مصیبت کے جھیلنے والے اور دشمن کے دل پر سکہ جما دینے والے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کام دیکھ کر ان شاءاللہ خوش ہوں گے چلئے اللہ کا نام لے کر چڑھائی کیجئے اللہ برکت دے۔ ان کے اس جواب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی مسرور ہوئے اسی وقت کوچ کا حکم دیا کہ { چلو اللہ کی برکت پر خوش ہو جاؤ۔ رب مجھ سے وعدہ کر چکا ہے کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت ہمارے ہاتھ لگے گی واللہ میں تو ان لوگوں کے گرنے کی جگہ ابھی یہیں سے گویا اپنی آنکھوں دیکھ رہا ہوں۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15732] ‏‏‏‏
8۔ 1 لیکن اللہ اس کے برعکس یہ چاہتا تھا کہ لشکر قریش سے تمہاری جنگ ہو تاکہ کفر کی قوت و شوکت ٹوٹ جائے گو یہ امر مجرموں (مشرکوں) کے لئے ناگوار ہی ہو۔
(آیت 8) {لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَ يُبْطِلَ الْبَاطِلَ …:} اس لیے اس نے ایسے اسباب پیدا فرما دیے کہ تمھارا مقابلہ تجارتی قافلے کے بجائے قریش کے لشکر سے ہوا اور تمھیں فتح نصیب ہوئی، جس سے ان کی سیاسی اور فوجی طاقت پر کاری ضرب لگی، یہی اللہ تعالیٰ کی وہ حکمت تھی جسے تم نہیں سمجھ رہے تھے اور تم میں سے بہت سے لوگ یہ چاہ رہے تھے کہ لشکر سے مقابلے کے بجائے تجارتی قافلہ ان کے ہاتھ لگے۔
اِذۡ تَسۡتَغِیۡثُوۡنَ رَبَّکُمۡ فَاسۡتَجَابَ لَکُمۡ اَنِّیۡ مُمِدُّکُمۡ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُرۡدِفِیۡنَ ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ موقع یاد کرو جبکہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لیے پے در پے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے
احمد رضا خان بریلوی
جب تم اپنے رب سے فریا د کرتے تھے تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں تمہیں مدد دینے والا ہوں ہزاروں فرشتوں کی قطار سے
علامہ محمد حسین نجفی
(اس وقت کو یاد کرو) جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کر رہے تھے اور اس نے تمہاری فریاد سن لی (اور فرمایا) کہ تمہاری مدد کے لیے یکے بعد دیگرے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
جب تم اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمھاری دعا قبول کر لی کہ بے شک میں ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمھاری مدد کرنے والا ہوں، جو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے پہلا غزوہ بدر بنیاد لا الہ الا اللہ ٭٭

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی طرف نظر ڈالی وہ تین سو سے کچھ اوپر تھے پھر مشرکین کو دیکھا ان کی تعدد ایک ہزار سے زیادہ تھی۔ اسی وقت آپ قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے چادر اوڑھے ہوئے تھے اور تہبند باندھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا شروع کی کہ { الٰہی جو تیرا وعدہ ہے اسے اب پورا فرما الٰہی جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا ہے وہی کر اے اللہ اہل اسلام کی یہ تھوڑی سی جماعت اگر ہلاک ہو جائے گی تو پھر کبھی بھی تیری توحید کے ساتھ زمین پر عبادت نہ ہو گی۔ یونہی آپ دعا اور فریاد میں لگے رہے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں پر سے اتر گئی اسی وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر اٹھا کر آپ کے جسم مبارک پر ڈال کر (‏‏‏‏پیچھے سے آپ کو اپنی بانہوں میں لے کر) کو آپ کو وہاں سے ہٹانے لگے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب بس کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے جی بھر کر دعا مانگ لی وہ اپنے وعدے کو ضرور پورا کرے گا اسی وقت یہ آیت اتری۔} اس کے بعد مشرک اور مسلمان آپس میں لڑائی میں گتھم گتھا ہو گئے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو شکست دی ان میں سے ستر شخص تو قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قیدی کفار کے بارے میں سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تو فرمایا رسول اللہ آخر یہ ہمارے کنبے برادری کے خویش و اقارب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیجئیے مال ہمیں کام آئے گا اور کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ کل انہیں ہدایت دیدے اور یہ ہمارے قوت و بازو بن جائیں۔

اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا میری رائے تو اس بارے میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کے خلاف ہے میرے نزدیک تو ان میں سے فلاں جو میرا قریشی رشتہ دار ہے مجھے سونپ دیجئیے کہ میں اس کی گردن ماروں اور عقیل کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کیجئے کہ وہ اس کا کام تمام کریں اور حمزہ رضی اللہ عنہ کے سپرد ان کا فلاں بھائی کیجئے کہ وہ اسے صاف کر دیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ ظاہر کر دیں کہ ہمارے دل ان مشرکوں کی محبت سے خالی ہیں، اللہ رب العزت کے نام پر انہیں چھوڑ چکے ہیں اور رشتہ داریاں ان سے توڑ چکے ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ سرداران کفر ہیں اور کافروں کے گروہ ہیں۔ انہیں زندہ چھوڑنا مناسب نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مشورہ قبول کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات کی طرف مائل نہ ہوئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دوسرے دن صبح ہی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آخر اس رونے کا کیا سبب ہے؟ اگر کوئی ایسا ہی باعث ہو تو میں بھی ساتھ دوں ورنہ تکلف سے ہی رونے لگوں کیونکہ آپ دونوں بزرگوں کو روتا دیکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ رونا بوجہ اس عذاب کے ہے جو تیرے ساتھیوں پر فدیہ لے لینے کے باعث پیش ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس کے ایک درخت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا دیکھو اللہ کا عذاب اس درخت تک پہنچ چکا ہے۔ } اسی کا بیان آیت «‏‏‏‏مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۭتُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 8- الانفال: 67 ] ‏‏‏‏ سے «‏‏‏‏فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا ڮ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [ 8- الانفال: 69 ] ‏‏‏‏ تک ہے ـ

پس اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت حلال فرمایا پھر اگلے سال جنگ احد کے موقعہ پر فدیہ لینے کے بدلے ان کی سزا طے ہوئی ستر مسلمان صحابہ شہید ہوئے لشکر اسلام میں بھگدڑ مچ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چار دانت شہید ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر جو خود تھا وہ ٹوٹ گیا چہرہ خون آلودہ ہو گیا۔ پس یہ آیت اتری «‏‏‏‏اَوَلَمَّآ اَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَيْھَا ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا ۭ قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [ 3- آل عمران: 165 ] ‏‏‏‏، ’ یعنی جب تمہیں مصیبت پہنچی تو کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آ گئی؟ جواب دے کہ یہ خود تمہاری اپنی طرف سے ہے۔ تم اس سے پہلے اس سے دگنی راحت بھی تو پا چکے ہو یقین مانو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ یہ فدیہ لینے کا بدل ہے یہ حدیث مسلم شریف وغیرہ میں بھی ہے۔۱؎ [صحیح مسلم:1763] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے کہ یہ آیت «إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ» الخ انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں ہے اور روایت میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا میں اپنا پورا مبالغہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب مناجات ختم کیجئے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15754] ‏‏‏‏ اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مقداد بن اسود نے ایک ایسا کام کیا کہ اگر میں کرتا تو مجھے اپنے اور تمام اعمال سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مشرکوں پر بد دعا کر رہے تھے تو آپ آئے اور کہنے لگے ہم آپ سے وہ نہیں کہیں گے جو قوم موسیٰ نے کہا تھا کہ «فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ» ۱؎ [ 5-المائدہ: 24 ] ‏‏‏‏ خود اپنے رب کو ساتھ لے کر جا اور لڑ بھڑ لو بلکہ ہم جو کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھائیں گے چلئے ہم آپ کے دائیں بائیں برابر کفار سے جہاد کریں گے آگے پیچھے بھی ہم ہی ہم نظر آئیں گے میں نے دیکھا کہ ان کے اس قول سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے اور آپ کا چہرہ مبارک چمکنے لگا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس دعا کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے تشریف لائے کہ{ «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 54-القمر: 45 ] ‏‏‏‏ عنقریب مشرکین شکست کھائیں گے اور پیٹھ دکھائیں گے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:3953] ‏‏‏‏ ارشاد ہوا کہ «إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ» یعنی ’ ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری امداد کی جائے گی جو برابر ایک دوسرے کے پیچھے سلسلہ وار آئیں گے اور تمہاری مدد کریں گے ایک کے بعد ایک آتا رہے گا۔‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے دائیں حصے میں آئے تھے جس پر کمان سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تھی اور بائیں حصے پر میکائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتوں کی فوج کے ساتھ اترے تھے۔ اس طرف میری کمان تھی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15769:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک قرأت میں «مُرْدَفِينَ» بھی ہے۔ مشہور یہ ہے کہ ان دونوں فرشتوں کے ساتھ پانچ پانچ سو فرشتے تھے جو بطور امداد آسمان سے بحکم الٰہی اترے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک مسلمان ایک کافر پر حملہ کرنے کیلئے اس کا تعاقت کر رہا تھا کہ اچانک ایک کوڑا مانگنے کی آواز اور ساتھ ہی ایک گھوڑ سوار کی آواز آئی کہ اے خیروم آگے بڑھ وہیں دیکھا کہ وہ مشرک چت گرا ہوا ہے اس کا منہ کوڑے کے لگنے سے بگڑ گیا ہے اور ہڈیاں پسلیاں چور چور ہو گئی ہیں۔

اس انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو سچا ہے یہ تیری آسمانی مدد تھی۔ } پس اس دن ستر کافر قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے۔۱؎ [صحیح مسلم:1763] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے کہ ”بدر والے دن فرشتوں کا اترنا“ پھر حدیث لائے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کا درجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں کیسا سمجھا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اور مسلمانوں سے بہت افضل۔} جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اس طرح بدر میں آنے والے فرشتے بھی اور فرشتوں میں افضل گنے جاتے ہیں۔۱؎ [صحیح بخاری:3992] ‏‏‏‏ بخاری اور مسلم میں ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حاطب بن ابو بلتعہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا مشورہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ تو بدری صحابی ہیں تم نہیں جانتے اللہ تعالیٰ نے بدریوں پر نظر ڈالی اور فرمایا تم جو چاہے کرو میں نے تمہیں بخش دیا۔ }۱؎ [صحیح بخاری:3007] ‏‏‏‏ پھر اللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ فرماتا ہے کہ «وَمَا جَعَلَهُ اللَّـهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» ۱؎ [8-الأنفال:10] ‏‏‏‏ ’ فرشتوں کا بھیجنا اور تمہیں اس کی خوشخبری دینا صرف تمہاری خوشی اور اطمینان دل کے لیے تھا ورنہ اللہ تعالیٰ ان کو بھیجے بغیر بھی اس پر قادر ہے جس کی چاہے مدد کرے اور اسے غالب کر دے۔ ‘ بغیر نصرت پروردگار کے کوئی فتح پا نہیں سکتا اللہ ہی کی طرف سے مدد ہوتی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 47- محمد: 6-4 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ کافروں سے جب میدان ہو تو گردن مارنا ہے جب اس میں کامیابی ہو جائے تو پھر قید کرنا ہے۔ اس کے بعد یا احسان کے طور پر چھوڑ دینا یا فدیہ لے لینا ہے یہاں تک کہ لڑائی موقوف ہو جائے۔ ‘ یہ ظاہری صورت ہے «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لِيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» یعنی ’ اگر رب چاہے تو آپ ہی ان سے بدلے لے لے لیکن وہ ایک سے ایک کو آزما رہا ہے اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے اعمال اکارت نہیں جائیں گے۔ انہیں اللہ تعالیٰ راہ رکھائے گا اور انہیں خوشحال کر دے گا اور جان پہچان کی جنت میں لے جائے گا۔‘ ۱؎ [47-محمد:4-6] ‏‏‏‏

اور آیت میں ہے «وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ وَلِيُمَحِّصَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ» ۱؎ [ 3- آل عمران: 141، 140 ] ‏‏‏‏، ’ یہ دن ہم لوگوں میں گھماتے رہتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ جانچ لے اور شہیدوں کو الگ کر لے ظالموں سے اللہ ناخوش رہتا ہے اس میں ایمانداروں کا امتیاز ہو جاتا ہے اور یہ کفار کے مٹانے کی صورت ہے۔‘ جہاد کا شرعی فلسفہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکوں کو موحدوں کے ہاتھوں سزا دیتا ہے۔ اس سے پہلے عام آسمانی عذابوں سے وہ ہلاک کر دیئے جاتے تھے جیسے قوم نوح پر طوفان آیا، عاد والے آندھی میں تباہ ہوئے، ثمودی چیخ سے غارت کر دیئے گئے، قوم لوط پر پتھر بھی برسے، زمین میں بھی دھنسائے گئے اور ان کی بستیاں الٹ دی گئیں، قوم شعیب پر ابر کا عذاب آیا۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں دشمنان دین مع فرعون اور اس کی قوم اور اس کے لشکروں کے ڈبو دیئے گئے۔ اللہ نے توراۃ اتاری اور اس کے بعد سے اللہ کا حکم جاری ہو گیا جیسے فرمان ہےآیت «‏‏‏‏وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَاۗىِٕرَ للنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ» [ 28- القص: 43 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ پہلی بستیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب دی جو سوچنے سمجھنے کی بات تھی۔‘

پھر سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کو سزا دینا شروع کر دیا تاکہ مسلمانوں کے دل صاف ہو جائیں اور کافروں کی ذلت اور بڑھ جائے جیسے اس امت کو اللہ جل شانہ کا حکم ہے آیت «‏‏‏‏قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [ 9- التوبہ: 14 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ اے مومنو! ان سے جہاد کرو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سزا دے گا انہیں ذلیل کرے گا اور تمہیں ان پر مدد عطا فرما کر مومنوں کے سینے صاف کر دے گا۔ ‘ اسی میدان بدر میں گھمنڈ و نخوت کے پتلوں کا، کفر کے سرداروں کا ان مسلمانوں کے ہاتھ قتل ہونا جن پر ہمیشہ ان کی نظریں ذلت و حقارت کے ساتھ پڑتی رہیں کچھ کم نہ تھا۔ ابوجہل اگر اپنے گھر میں اللہ کے کسی عذاب سے ہلاک ہو جاتا تو اس میں وہ شان نہ تھی جو معرکہ قتال میں مسلمانوں کے ہاتھوں ٹکڑے ہونے میں ہے۔ جیسے کہ ابولہب کی موت اسی طرح کی واقع ہوئی تھی کہ اللہ کے عذاب میں ایسا سڑا کہ موت کے بعد کسی نے نہ تو اسے نہلایا نہ دفنایا بلکہ دور سے پانی ڈال کر لوگوں نے پتھر پھینکنے شروع کئے اور انہیں میں وہ دب گیا۔ اللہ عزت والا ہے پھر اس کا رسول اور ایماندار۔ دنیا آخرت میں عزت اور بھلائی ان ہی کے حصے کی چیز ہے۔ جیسے ارشاد ہے ہے آیت «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 40- غافر: 52، 51 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ ہم ضرور بضرور اپنے رسولوں کی، ایماندار بندوں کی اس جہان میں اور اس جہان میں مدد فرمائیں گے۔ اللہ حکیم ہے گو وہ قادر تھا کہ بغیر تمہارے لڑے بھڑے کفار کو ملیامیٹ کر دے لیکن اس میں بھی اس کی حکمت ہے جو وہ تمہارے ہاتھوں انہیں ڈھیر کر رہا ہے۔‘
9۔ 1 اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جب کہ کافر اس سے تین گنا (یعنی ہزار کے قریب تھے پھر مسلمانوں نہتے اور بےسروسامان تھے جب کے کافروں کے پاس اسلحے کی بھی فروانی تھی ان حالات میں مسلمانوں کا سہارا صرف اللہ کی ذات ہی تھی جس سے وہ گڑ گڑا کر مدد کی فریادیں کر رہے تھے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم الگ ایک خیمے میں نہایت الحاح وزاری سے مصروف دعا تھے (صحیح بخاری) چناچہ اللہ تعالیٰ نے دعائیں قبول کیں اور ایک ہزار فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے مسلسل لگاتار مسلمانوں کی مدد کے لئے آگئے۔
(آیت 9) ➊ {اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ …:} اپنی تعداد، تیاری، اسلحہ کی کے تین گنا سے زیادہ اور ہر قسم کے اسلحے سے لیس ہونے کی وجہ سے سب مسلمان ہی اپنے پروردگار سے مدد کے لیے فریاد کر رہے تھے۔ خصوصاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو نہایت عجز اور الحاح کے ساتھ دعا فرما رہے تھے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بدر کا دن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی طرف دیکھا، وہ ایک ہزار تھے اور آپ کے ساتھی تین سو انیس آدمی تھے، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے کی طرف رخ کرکے ہاتھ پھیلا دیے اور اپنے رب سے بلند آواز سے فریاد کرنے لگے: ”اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے وہ مجھ سے پورا کر، اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے وہ مجھ سے پورا کر۔ اے اللہ! اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو پھر زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔“ آپ اپنے رب سے بلند آواز سے فریاد کرتے رہے اور ہاتھ پھیلائے ہوئے دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ کی چادر کندھوں سے گر گئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے، آپ کی چادر پکڑی، اسے آپ کے کندھوں پر ڈالا، پھر پیچھے سے آپ سے چمٹ گئے اور کہا: ”اے اللہ کے نبی! آپ کا اپنے رب کو قسم دینا آپ کے لیے کافی ہے، کیونکہ یقینا وہ آپ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرے گا۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «{ اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ }» پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ساتھ آپ کی مدد فرمائی۔ [ مسلم، الجہاد، باب الإمداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر…: ۱۷۶۳ ] ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کہنے کے بعد آپ یہ کہتے ہوئے نکلے: «{ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ }» [ القمر: ۴۵ ] ”یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھیں پھیر کر بھاگیں گے۔“ [ بخاری، المغازی، باب قول اللہ تعالٰی: «‏‏‏‏إذ تستغیثون ربکم…» : ۳۹۵۳ ] ➋ {اَنِّيْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ:} ایک دوسرے کے پیچھے، یعنی پے در پے آنے والے ہیں۔ چنانچہ بدر میں فرشتے نازل ہوئے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: ”یہ جبریل ہیں، اپنے گھوڑے کے سر (لگام) کو پکڑے ہوئے ہیں، لڑائی کے ہتھیار پہنے ہوئے ہیں۔“ [ بخاری، المغازی، باب شہود الملائکۃ بدراً: ۳۹۹۵ ] یہاں ایک ہزار فرشتے اترنے کے وعدے کا ذکر ہے جو واقعی اترے۔ رفاعہ بن رافع قرظی بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پوچھا: ”تم اہل بدر کو اپنے میں کیسا شمار کرتے ہو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے سب سے بہتر لوگ۔“ یا اس کے ہم معنی کوئی بات کہی۔ (جبریل علیہ السلام نے) فرمایا: ”اسی طرح وہ فرشتے بھی (افضل) ہیں جو بدر میں شریک ہوئے تھے۔“ [ بخاری، المغازی، باب شہود الملائکۃ بدرًا: ۳۹۹۲ ] سورۂ آل عمران میں تین ہزار اور پانچ ہزار فرشتوں کے وعدے کا ذکر ہے، تطبیق کے لیے دیکھیے آل عمران (۱۲۴، ۱۲۵)۔
وَ مَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشۡرٰی وَ لِتَطۡمَئِنَّ بِہٖ قُلُوۡبُکُمۡ ۚ وَ مَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿٪۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ بات اللہ نے تمہیں صرف اس لیے بتا دی کہ تمہیں خوشخبری ہو اور تمہارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں، ورنہ مدد تو جب بھی ہوتی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، یقیناً اللہ زبردست اور دانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ تعالیٰ نے یہ امداد محض اس لیے کی کہ بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دلوں کو قرار ہو جائے اور مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو کہ زبردست حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یہ تو اللہ نے کیا مگر تمہاری خوشی کو اور اس لیے کہ تمہارے دل چین پائیں، اور مدد نہیں مگر اللہ کی طرف سے بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ نے ایسا اس لئے کیا کہ تمہارے لئے خوشخبری ہو اور تمہارے مضطرب دلوں کو اطمینان ہو ورنہ فتح و فیروزی تو بہرحال اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ یقینا اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ نے اسے نہیں بنایا مگر ایک خوش خبری اور تاکہ اس کے ساتھ تمھارے دل مطمئن ہوں اور مدد نہیں ہے مگر اللہ کے پاس سے۔ بے شک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب سے پہلا غزوہ بدر بنیاد لا الہ الا اللہ ٭٭

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی طرف نظر ڈالی وہ تین سو سے کچھ اوپر تھے پھر مشرکین کو دیکھا ان کی تعدد ایک ہزار سے زیادہ تھی۔ اسی وقت آپ قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے چادر اوڑھے ہوئے تھے اور تہبند باندھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا شروع کی کہ { الٰہی جو تیرا وعدہ ہے اسے اب پورا فرما الٰہی جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا ہے وہی کر اے اللہ اہل اسلام کی یہ تھوڑی سی جماعت اگر ہلاک ہو جائے گی تو پھر کبھی بھی تیری توحید کے ساتھ زمین پر عبادت نہ ہو گی۔ یونہی آپ دعا اور فریاد میں لگے رہے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں پر سے اتر گئی اسی وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر اٹھا کر آپ کے جسم مبارک پر ڈال کر (‏‏‏‏پیچھے سے آپ کو اپنی بانہوں میں لے کر) کو آپ کو وہاں سے ہٹانے لگے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب بس کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے جی بھر کر دعا مانگ لی وہ اپنے وعدے کو ضرور پورا کرے گا اسی وقت یہ آیت اتری۔} اس کے بعد مشرک اور مسلمان آپس میں لڑائی میں گتھم گتھا ہو گئے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو شکست دی ان میں سے ستر شخص تو قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قیدی کفار کے بارے میں سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تو فرمایا رسول اللہ آخر یہ ہمارے کنبے برادری کے خویش و اقارب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیجئیے مال ہمیں کام آئے گا اور کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ کل انہیں ہدایت دیدے اور یہ ہمارے قوت و بازو بن جائیں۔

اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا میری رائے تو اس بارے میں سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کے خلاف ہے میرے نزدیک تو ان میں سے فلاں جو میرا قریشی رشتہ دار ہے مجھے سونپ دیجئیے کہ میں اس کی گردن ماروں اور عقیل کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کیجئے کہ وہ اس کا کام تمام کریں اور حمزہ رضی اللہ عنہ کے سپرد ان کا فلاں بھائی کیجئے کہ وہ اسے صاف کر دیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ ظاہر کر دیں کہ ہمارے دل ان مشرکوں کی محبت سے خالی ہیں، اللہ رب العزت کے نام پر انہیں چھوڑ چکے ہیں اور رشتہ داریاں ان سے توڑ چکے ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ سرداران کفر ہیں اور کافروں کے گروہ ہیں۔ انہیں زندہ چھوڑنا مناسب نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مشورہ قبول کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات کی طرف مائل نہ ہوئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دوسرے دن صبح ہی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آخر اس رونے کا کیا سبب ہے؟ اگر کوئی ایسا ہی باعث ہو تو میں بھی ساتھ دوں ورنہ تکلف سے ہی رونے لگوں کیونکہ آپ دونوں بزرگوں کو روتا دیکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ رونا بوجہ اس عذاب کے ہے جو تیرے ساتھیوں پر فدیہ لے لینے کے باعث پیش ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس کے ایک درخت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا دیکھو اللہ کا عذاب اس درخت تک پہنچ چکا ہے۔ } اسی کا بیان آیت «‏‏‏‏مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۭتُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 8- الانفال: 67 ] ‏‏‏‏ سے «‏‏‏‏فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا ڮ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [ 8- الانفال: 69 ] ‏‏‏‏ تک ہے ـ

پس اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت حلال فرمایا پھر اگلے سال جنگ احد کے موقعہ پر فدیہ لینے کے بدلے ان کی سزا طے ہوئی ستر مسلمان صحابہ شہید ہوئے لشکر اسلام میں بھگدڑ مچ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چار دانت شہید ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر جو خود تھا وہ ٹوٹ گیا چہرہ خون آلودہ ہو گیا۔ پس یہ آیت اتری «‏‏‏‏اَوَلَمَّآ اَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَيْھَا ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا ۭ قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [ 3- آل عمران: 165 ] ‏‏‏‏، ’ یعنی جب تمہیں مصیبت پہنچی تو کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آ گئی؟ جواب دے کہ یہ خود تمہاری اپنی طرف سے ہے۔ تم اس سے پہلے اس سے دگنی راحت بھی تو پا چکے ہو یقین مانو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ یہ فدیہ لینے کا بدل ہے یہ حدیث مسلم شریف وغیرہ میں بھی ہے۔۱؎ [صحیح مسلم:1763] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا فرمان ہے کہ یہ آیت «إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ» الخ انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں ہے اور روایت میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا میں اپنا پورا مبالغہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب مناجات ختم کیجئے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15754] ‏‏‏‏ اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مقداد بن اسود نے ایک ایسا کام کیا کہ اگر میں کرتا تو مجھے اپنے اور تمام اعمال سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مشرکوں پر بد دعا کر رہے تھے تو آپ آئے اور کہنے لگے ہم آپ سے وہ نہیں کہیں گے جو قوم موسیٰ نے کہا تھا کہ «فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ» ۱؎ [ 5-المائدہ: 24 ] ‏‏‏‏ خود اپنے رب کو ساتھ لے کر جا اور لڑ بھڑ لو بلکہ ہم جو کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھائیں گے چلئے ہم آپ کے دائیں بائیں برابر کفار سے جہاد کریں گے آگے پیچھے بھی ہم ہی ہم نظر آئیں گے میں نے دیکھا کہ ان کے اس قول سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے اور آپ کا چہرہ مبارک چمکنے لگا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس دعا کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے تشریف لائے کہ{ «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 54-القمر: 45 ] ‏‏‏‏ عنقریب مشرکین شکست کھائیں گے اور پیٹھ دکھائیں گے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:3953] ‏‏‏‏ ارشاد ہوا کہ «إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ» یعنی ’ ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری امداد کی جائے گی جو برابر ایک دوسرے کے پیچھے سلسلہ وار آئیں گے اور تمہاری مدد کریں گے ایک کے بعد ایک آتا رہے گا۔‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے دائیں حصے میں آئے تھے جس پر کمان سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تھی اور بائیں حصے پر میکائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتوں کی فوج کے ساتھ اترے تھے۔ اس طرف میری کمان تھی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15769:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک قرأت میں «مُرْدَفِينَ» بھی ہے۔ مشہور یہ ہے کہ ان دونوں فرشتوں کے ساتھ پانچ پانچ سو فرشتے تھے جو بطور امداد آسمان سے بحکم الٰہی اترے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک مسلمان ایک کافر پر حملہ کرنے کیلئے اس کا تعاقت کر رہا تھا کہ اچانک ایک کوڑا مانگنے کی آواز اور ساتھ ہی ایک گھوڑ سوار کی آواز آئی کہ اے خیروم آگے بڑھ وہیں دیکھا کہ وہ مشرک چت گرا ہوا ہے اس کا منہ کوڑے کے لگنے سے بگڑ گیا ہے اور ہڈیاں پسلیاں چور چور ہو گئی ہیں۔

اس انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تو سچا ہے یہ تیری آسمانی مدد تھی۔ } پس اس دن ستر کافر قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے۔۱؎ [صحیح مسلم:1763] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے کہ ”بدر والے دن فرشتوں کا اترنا“ پھر حدیث لائے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کا درجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں کیسا سمجھا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اور مسلمانوں سے بہت افضل۔} جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اس طرح بدر میں آنے والے فرشتے بھی اور فرشتوں میں افضل گنے جاتے ہیں۔۱؎ [صحیح بخاری:3992] ‏‏‏‏ بخاری اور مسلم میں ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حاطب بن ابو بلتعہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا مشورہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ تو بدری صحابی ہیں تم نہیں جانتے اللہ تعالیٰ نے بدریوں پر نظر ڈالی اور فرمایا تم جو چاہے کرو میں نے تمہیں بخش دیا۔ }۱؎ [صحیح بخاری:3007] ‏‏‏‏ پھر اللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ فرماتا ہے کہ «وَمَا جَعَلَهُ اللَّـهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» ۱؎ [8-الأنفال:10] ‏‏‏‏ ’ فرشتوں کا بھیجنا اور تمہیں اس کی خوشخبری دینا صرف تمہاری خوشی اور اطمینان دل کے لیے تھا ورنہ اللہ تعالیٰ ان کو بھیجے بغیر بھی اس پر قادر ہے جس کی چاہے مدد کرے اور اسے غالب کر دے۔ ‘ بغیر نصرت پروردگار کے کوئی فتح پا نہیں سکتا اللہ ہی کی طرف سے مدد ہوتی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 47- محمد: 6-4 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ کافروں سے جب میدان ہو تو گردن مارنا ہے جب اس میں کامیابی ہو جائے تو پھر قید کرنا ہے۔ اس کے بعد یا احسان کے طور پر چھوڑ دینا یا فدیہ لے لینا ہے یہاں تک کہ لڑائی موقوف ہو جائے۔ ‘ یہ ظاہری صورت ہے «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لِيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» یعنی ’ اگر رب چاہے تو آپ ہی ان سے بدلے لے لے لیکن وہ ایک سے ایک کو آزما رہا ہے اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے اعمال اکارت نہیں جائیں گے۔ انہیں اللہ تعالیٰ راہ رکھائے گا اور انہیں خوشحال کر دے گا اور جان پہچان کی جنت میں لے جائے گا۔‘ ۱؎ [47-محمد:4-6] ‏‏‏‏

اور آیت میں ہے «وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ وَلِيُمَحِّصَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ» ۱؎ [ 3- آل عمران: 141، 140 ] ‏‏‏‏، ’ یہ دن ہم لوگوں میں گھماتے رہتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ جانچ لے اور شہیدوں کو الگ کر لے ظالموں سے اللہ ناخوش رہتا ہے اس میں ایمانداروں کا امتیاز ہو جاتا ہے اور یہ کفار کے مٹانے کی صورت ہے۔‘ جہاد کا شرعی فلسفہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکوں کو موحدوں کے ہاتھوں سزا دیتا ہے۔ اس سے پہلے عام آسمانی عذابوں سے وہ ہلاک کر دیئے جاتے تھے جیسے قوم نوح پر طوفان آیا، عاد والے آندھی میں تباہ ہوئے، ثمودی چیخ سے غارت کر دیئے گئے، قوم لوط پر پتھر بھی برسے، زمین میں بھی دھنسائے گئے اور ان کی بستیاں الٹ دی گئیں، قوم شعیب پر ابر کا عذاب آیا۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں دشمنان دین مع فرعون اور اس کی قوم اور اس کے لشکروں کے ڈبو دیئے گئے۔ اللہ نے توراۃ اتاری اور اس کے بعد سے اللہ کا حکم جاری ہو گیا جیسے فرمان ہےآیت «‏‏‏‏وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَاۗىِٕرَ للنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ» [ 28- القص: 43 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ پہلی بستیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب دی جو سوچنے سمجھنے کی بات تھی۔‘

پھر سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کو سزا دینا شروع کر دیا تاکہ مسلمانوں کے دل صاف ہو جائیں اور کافروں کی ذلت اور بڑھ جائے جیسے اس امت کو اللہ جل شانہ کا حکم ہے آیت «‏‏‏‏قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [ 9- التوبہ: 14 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ اے مومنو! ان سے جہاد کرو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سزا دے گا انہیں ذلیل کرے گا اور تمہیں ان پر مدد عطا فرما کر مومنوں کے سینے صاف کر دے گا۔ ‘ اسی میدان بدر میں گھمنڈ و نخوت کے پتلوں کا، کفر کے سرداروں کا ان مسلمانوں کے ہاتھ قتل ہونا جن پر ہمیشہ ان کی نظریں ذلت و حقارت کے ساتھ پڑتی رہیں کچھ کم نہ تھا۔ ابوجہل اگر اپنے گھر میں اللہ کے کسی عذاب سے ہلاک ہو جاتا تو اس میں وہ شان نہ تھی جو معرکہ قتال میں مسلمانوں کے ہاتھوں ٹکڑے ہونے میں ہے۔ جیسے کہ ابولہب کی موت اسی طرح کی واقع ہوئی تھی کہ اللہ کے عذاب میں ایسا سڑا کہ موت کے بعد کسی نے نہ تو اسے نہلایا نہ دفنایا بلکہ دور سے پانی ڈال کر لوگوں نے پتھر پھینکنے شروع کئے اور انہیں میں وہ دب گیا۔ اللہ عزت والا ہے پھر اس کا رسول اور ایماندار۔ دنیا آخرت میں عزت اور بھلائی ان ہی کے حصے کی چیز ہے۔ جیسے ارشاد ہے ہے آیت «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 40- غافر: 52، 51 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ ہم ضرور بضرور اپنے رسولوں کی، ایماندار بندوں کی اس جہان میں اور اس جہان میں مدد فرمائیں گے۔ اللہ حکیم ہے گو وہ قادر تھا کہ بغیر تمہارے لڑے بھڑے کفار کو ملیامیٹ کر دے لیکن اس میں بھی اس کی حکمت ہے جو وہ تمہارے ہاتھوں انہیں ڈھیر کر رہا ہے۔‘
10۔ 1 یعنی فرشتوں کا نزول تو صرف خوشخبری اور تمہارے دلوں کے اطمینان کے لئے تھا ورنہ اصل مدد تو اللہ کی طرف سے تھی جو فرشتوں کے بغیر بھی تمہاری مدد کرسکتا تھا تاہم اس سے یہ سمجھنا بھی صحیح نہیں کہ فرشتوں نے عملاً جنگ میں حصہ نہیں لیا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ میں فرشتوں نے عملی حصہ لیا اور کئی کافروں کو انہوں نے تہ تیغ کیا (صحیح بخاری)۔
(آیت 10) ➊ {وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى …:} آیت کے ان الفاظ سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ فرشتوں نے خود لڑنے میں کوئی حصہ نہیں لیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مسلمانوں کی مدد کے لیے محض اس لیے بھیجا تھا کہ ان کے حوصلے بلند ہوں اور انھیں اطمینان رہے کہ ان کی مدد کے لیے فرشتے موجود ہیں، لیکن یہ خیال صحیح نہیں۔ صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ اس دوران میں کہ ایک مسلمان مشرکین میں سے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا کہ اس نے کوڑا مارنے کی ضرب کی آواز سنی اور ایک سوار کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا حیزوم! آگے بڑھو۔ اس نے اس مشرک کو دیکھا کہ وہ چت گر گیا ہے، دیکھا تو اس کی ناک پر نشان تھا، چہرہ پھٹ گیا تھا، جس طرح کوڑا مارنے سے ہوتا ہے اور وہ ساری جگہ سبز ہو گئی تھی۔ وہ انصاری آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بیان کی، تو آپ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، یہ تیسرے آسمان کی مدد میں سے تھا۔“ [ مسلم، الجھاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر…: ۱۷۶۳ ] بدر کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے کئی جنگوں میں فرشتوں کے ساتھ مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ میں نے بہت سے قابل اعتماد لوگوں سے سنا کہ متحدہ ہندوستان میں حافظ عبد اللہ روپڑی رحمہ اللہ کے حکم پر مسلمانوں نے عید الاضحی کے دن گائیں ذبح کیں، تو ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا، مسلمانوں نے تھوڑی تعداد میں ہونے کے باوجود مقابلہ کیا تو کفار کثیر تعداد میں قتل ہوئے اور بھاگ گئے۔ جب مقدمہ چلا تو جنگ میں شریک مسلمان اور کافر پیش ہوئے، کفار کو شناخت کے لیے کہا گیا تو انھوں نے کہا، ہم سے تو وہ لوگ لڑے ہیں جو سفید لباس میں ملبوس گھوڑوں پر سوار تھے، حالانکہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی اس حالت میں نہ تھا۔ کشمیر میں کفار کے خلاف کار روائیوں کے دوران بھی فرشتوں کی مدد کے کئی واقعات پیش آئے ہیں جو مجلہ الدعوۃ اور غزوہ کے مختلف شماروں میں شائع ہوئے ہیں۔ شاعر نے سچ کہا ہے: فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی ➋ {وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ …:} یعنی یہ نہ سمجھو کہ تمھیں جو فتح نصیب ہوئی ہے وہ ان فرشتوں کی وجہ سے ہوئی ہے، بلکہ حقیقت میں مدد اللہ کی طرف سے ہے، وہ چاہتا تو فرشتوں کے بغیر ہی تمھیں فتح عطا کر دیتا، مگر جہاد کو دین کا حصہ بنانے سے تمھارے ایمان کا امتحان، تمھارے ہاتھوں کافروں کو ذلیل اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت سے سرفراز کرنا مقصود ہے۔ پہلی امتوں میں سے جو امت اپنے پیغمبر کو جھٹلاتی اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی نہ کسی طرح کا عذاب نازل ہو جاتا، پانی میں غرق کرنا، خوف ناک چیخ، زلزلہ، پتھروں کی بارش اور شکلیں مسخ کر دینا وغیرہ۔ نوح علیہ السلام کی قوم کے غرق ہونے سے لے کر فرعون کے غرق ہونے تک یہی سلسلہ قائم رہا۔ آخر کار جب موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل ہوئی تو جہاد شروع ہوا اور اس کے بعد یہی طریقہ جاری ہے، اب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ہاتھوں کفار کو عذاب دینا چاہتا ہے، فرمایا: «{ قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَ يُخْزِهِمْ … }» [ التوبۃ: ۱۴، ۱۵ ] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے چھ فائدے بیان فرمائے ہیں، تفصیل کے لیے سورۂ توبہ میں ان آیات کی تفسیر دیکھیے۔ اگرچہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھی آسمان سے عذاب کے بعض واقعات پیش آئے، جیسے اصحاب الفیل کا واقعہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق آپ کی امت میں شراب، زنا، ریشم اور باجوں گاجوں کو حلال کرلینے والوں پر زمین میں دھنس جانے اور بندر اور خنزیر بنا دیے جانے کے عذاب آئیں گے۔ [ بخاری، الأشربۃ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر…: ۵۵۹۰، عن أبی مالک الأشعری رضی اللہ عنہ ] مگر وہ عبرت کے لیے ہوں گے اور جزوی، یعنی کہیں کہیں ہوں گے۔ کفار کو کفر سے روکنے اور ان کی سرکشی ختم کرکے انھیں اسلام کے زیر نگیں لانے کی ذمہ داری اب جہاد کے ذریعے سے مسلمانوں ہی پر ہے، جس میں یقینا اللہ تعالیٰ کی مدد بھی شامل ہو گی۔
اِذۡ یُغَشِّیۡکُمُ النُّعَاسَ اَمَنَۃً مِّنۡہُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَہِّرَکُمۡ بِہٖ وَ یُذۡہِبَ عَنۡکُمۡ رِجۡزَ الشَّیۡطٰنِ وَ لِیَرۡبِطَ عَلٰی قُلُوۡبِکُمۡ وَ یُثَبِّتَ بِہِ الۡاَقۡدَامَ ﴿ؕ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ وقت جبکہ اللہ اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان و بے خوفی کی کیفیت طاری کر رہا تھا، اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دُور کرے اور تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعہ سے تمہارے قدم جما دے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا اپنی طرف سے چین دینے کے لیے اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا کہ اس پانی کے ذریعہ سے تم کو پاک کر دے اور تم سے شیطانی وسوسہ کو دفع کر دے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور تمہارے پاؤں جما دے
احمد رضا خان بریلوی
جب اس نے تمہیں اونگھ سے گھیر دیا تو اس کی طرف سے چین (تسکین) تھی اور آسمان سے تم پر پانی اتارا کہ تمہیں اس سے ستھرا کردے اور شیطان کی ناپاکی تم سے دور فرمادے اور تمہارے دلو ں کی ڈھارس بندھائے اور اس سے تمہارے قدم جمادے
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وقت (بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ) جب اللہ نے تمہیں غنودگی سے ڈھانپ دیا تھا تاکہ اس کی طرف سے تمہیں امن و سکون حاصل ہو۔ اور آسمان سے تم پر پانی برسا رہا تھا۔ تاکہ تمہیں پاک صاف کرے اور تم سے شیطان کی نجاست و ناپاکی دور کرے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کرے (تمہاری ڈھارس بندھائے) اور تمہارے قدموں کو جمائے۔
عبدالسلام بن محمد
جب وہ تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا، اپنی طرف سے خوف دور کرنے کے لیے اور تم پر آسمان سے پانی اتارتا تھا، تاکہ اس کے ساتھ تمھیں پاک کر دے اور تم سے شیطان کی گندگی دور کرے اور تاکہ تمھارے دلوں پر مضبوط گرہ باندھے اور اس کے ساتھ قدموں کو جما دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تائید الٰہی کے بعد فتح و کامرانی۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسانات بیان فرماتا ہے کہ اس جنگ بدر میں جبکہ اپنی کمی اور کافروں کی زیادتی، اپنی بےسرو سامانی اور کافروں کے پر شوکت سروسامان دیکھ کر مسلمانوں کے دل پر برا اثر پڑ رہا تھا پروردگار نے ان کے دلوں کے اطمینان کیلئے ان پر اونگھ ڈال دی جنگ احد میں بھی یہی حال ہوا تھا جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ» ۱؎ [ 3- آل عمران: 154 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ پورے غم و رنج کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں امن دیا جو اونگھ کی صورت میں تمہیں ڈھانکے ہوئے تھا ایک جماعت اسی میں مشغول تھی۔ ‘ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد والے دن اونگھ غالب آ گئی تھی اس وقت میں نیند میں جھوم رہا تھا میری تلوار میرے ہاتھ سے گر پڑتی تھی اور میں اٹھاتا تھا میں نے جب نظر ڈالی تو دیکھا کہ لوگ ڈھالیں سروں پر رکھے ہوئے نیند کے جھولے لے رہے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بدر والے دن ہمارے پورے لشکر میں گھوڑ سوار صرف ایک ہی مقداد تھے میں نے نگاہ بھر کر دیکھا کہ سارا لشکر نیند میں مست ہے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت تلے نماز میں مشغول تھے روتے جاتے تھے اور نماز پڑھتے جاتے تھے صبح تک آپ اسی طرح مناجات میں مشغول رہے۔۱؎ [مسند احمد:125/1:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی للہ عنہ فرماتے ہیں کہ میدان جنگ میں اونگھ کا آنا اللہ کی طرف سے امن کا ملنا ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حرکت ہے، اونگھ صرف آنکھوں میں ہی ہوتی ہے اور نیند کا تعلق دل سے ہے۔

یہ یاد رہے کہ اونگھ آنے کا مشہور واقعہ تو جنگ احد کا ہے لیکن اس آیت میں جو بدر کے واقعہ کے قصے کے بیان میں اونگھ کا اترنا موجود ہے پس سخت لڑائی کے وقت یہ واقعہ ہوا اور مومنوں کے دل اللہ کے عطا کردہ امن سے مطمئن ہو گئے یہ بھی مومنوں پر اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم تھا «‏‏‏‏فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» ۱؎ [ 94-الشرح: 5، 6 ] ‏‏‏‏ سچ ہے سختی کے بعد آسانی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھپر تلے دعا میں مشغول تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اونگھنے لگے۔ تھوڑی دیر میں جاگے اور تبسم فرما کر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { خوش ہو یہ ہیں جبرائیل علیہ السلام گرد آلود پھر آیت قرآنی «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» ۱؎ [ 54-القمر: 45 ] ‏‏‏‏ پڑھتے ہوئے جھونپڑی کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ یعنی ابھی ابھی یہ لشکر شکست کھائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2915] ‏‏‏‏ دوسرا احسان اس جنگ کے موقعہ پر یہ ہوا کہ بارش برس گئی۔ قوله تعالٰى «وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً» یعنی ’ اللہ نے تم پر آسمان سے پانی برسایا۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے میدان بدر کے پانی پر قبضہ کر لیا تھا مسلمانوں کے اور پانی کے درمیان وہ حائل ہو گئے تھے مسلمان کمزوری کی حالت میں تھے شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم تو اپنے تئیں اللہ والے سمجھتے ہو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے میں موجود مانتے ہو اور حالت یہ ہے کہ پانی تک تمہارے قبضہ میں نہیں مشرکین کے ہاتھ میں پانی ہے تم نماز بھی جنبی ہونے کی حالت میں پڑھ رہے ہو ایسے وقت آسمان سے مینہ برسنا شروع ہوا اور پانی کی ریل پیل ہو گئی۔

مسلمانوں نے پانی پیا بھی، پلایا بھی، نہا دھو کر پاکی بھی حاصل کر لی اور پانی بھر بھی لیا اور شیطانی وسوسہ بھی زائل ہو گیا اور جو چکنی مٹی پانی کے راستے میں تھی دھل کر وہاں کی سخت زمین نکل آئی اور ریت جم گئی کہ اس پر آمد ورفت آسان ہو گئی اور فرشتوں کی امداد آسمان سے آ گئی پانچ سو فرشتے تو جبرائیل علیہ السلام کی ما تحتیٰ میں اور پانچ سو میکائیل کی ما تحتیٰ میں۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15783:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ مشہور یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف تشریف لے چلے تو سب سے پہلے جو پانی تھا وہاں ٹھہرے حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ کو اللہ کا حکم یہاں پڑاؤ کرنے کا ہوا تب تو خیر اور اگر جنگی مصلحت کے ساتھ پڑاؤ یہاں کیا ہو تو آپ اور آگے چلئے آخری پانی پر قبضہ کیجئے وہیں حوض بنا کر یہاں کے سب پانی وہاں جمع کر لیں تو پانی پر ہمارا قبضہ رہے گا اور دشمن پانی بغیر رہ جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا بھی۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏‏‏‏ مغازی اموی میں ہے کہ اس رائے کے بعد جبرائیل علیہ السلام کی موجودگی میں ایک فرشتے نے آ کر آپ کو سلام پہنچایا اور اللہ کا حکم بھی کہ یہی رائے ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ انہیں جانتے ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا میں آسمان کے تمام فرشتوں سے واقف نہیں ہوں ہاں ہیں یہ فرشتے شیطان نہیں۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ مشرکین ڈھلوان کی طرف تھے اور مسلمان اونچائی کی طرف تھے بارش ہونے سے مسلمانوں کی طرف تو زمین دھل کر صاف ہو گئی اور پانی سے انہیں نفع پہنچا لیکن مشرکین کی طرف پانی کھڑا ہو گیا۔

کیچڑ اور پھسلن ہو گئی کہ انہیں چلنا پھرنا دو بھر ہو گیا بارش اس سے پہلے ہوئی تھی غبار جم گیا تھا زمین سخت ہو گئی تھی دلوں میں خوشی پیدا ہو گئی تھی ثابت قدمی میسر ہو چکی تھی اب اونگھ آنے لگی اور مسلمان تازہ دم ہو گئے۔ صبح لڑائی ہونے والی ہے رات کو ہلکی سی بارش ہو گئی ہم درختوں تلے جاچھپے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہے۔ یہ اس لیے کہ اللہ تمہیں پاک کر دے وضو بھی کر لو اور غسل بھی اس ظاہری پاکی کے ساتھ ہی باطنی پاکیزگی بھی حاصل ہوئی شیطانی وسوسے بھی دور ہو گئے دل مطمئن ہو گئے جیسے کہ جنتیوں کے بارے میں فرمان ہے کہ آیت «‏‏‏‏عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ ۖ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا» ۱؎ [ 76-الإنسان: 21 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ ان کے بدن پر نہیں اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنکھن پہنائے جائیں گے اور انہیں ان کا رب پاک اور پاک کرنے والا شربت پلائے گا۔ ‘ پس لباس اور زیور تو ظاہری زینت کی چیز ہوئی اور پاک کرنے والا پانی جس سے دلوں کی پاکیزگی اور حسد و بغض کی دوری ہو جائے۔ یہ تھی باطنی زینت۔ پھر فرماتا ہے کہ اس سے مقصود دلوں کی مضبوطی بھی تھی کہ صبرو برداشت پیدا ہو شجاعت و بہادری ہو دل بڑھ جائے ثابت قدمی ظاہر ہو جائے اور حملے میں استقامت پیدا ہو جائے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر اپنی ایک باطنی نعمت کا اظہار فرما رہا ہے تاکہ مسلمان اس پر بھی اللہ کا شکر بجا لائیں کہ اللہ تعالیٰ تبارک و تقدس و تمجد نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم جاؤ مسلمانوں کی مدد و نصرت کرو، ان کے ساتھ مل کر ہمارے دشمنوں کو نیچا دکھاؤ۔ ان کی گنتی گھٹاؤ اور ہمارے دوستوں کی تعداد بڑھاؤ۔

کہا گیا ہے کہ فرشتہ کسی مسلمان کے پاس آتا اور کہتا کہ مشرکوں میں عجیب بد دلی پھیلی ہوئی ہے۔ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں نے حملہ کر دیا تو ہمارے قدم نہیں ٹک سکتے ہم تو بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اب ہر ایک دوسرے سے کہتا دوسرا تیسرے سے پھر صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل بڑھ جاتے اور سمجھ لیتے کہ مشرکوں میں طاقت و قوت نہیں۔ پھر فرماتا ہے «إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا» کہ ’ تم اے فرشتوں اس کام میں لگو ادھر میں مشرکوں کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دوں گا میں ان کے دلوں میں ذلت اور حقارت ڈال دوں گا میرے حکم کے نہ ماننے والوں کا میرے رسول کے منکروں کا یہی حال ہوتا ہے۔ ‘ پھر تم ان کے سروں پر وار لگا کر دماغ نکال دو، گردنوں پر تلوار مار کے سر اور دھڑ میں جدائی کر دو۔ «فَوْقَ الْأَعْنَاقِ» ہاتھ پاؤں اور جوڑ جوڑ پور پور کو تاک تاک کر زخم لگاؤ۔ پس گردنوں کے اوپر سے بعض کے نزدیک مراد تو سر ہیں اور بعض کے نزدیک خود گردن مراد ہے، چنانچہ اور جگہ ہے آیت «فَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ» ۱؎ [47-محمد:4] ‏‏‏‏ ’ جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { میں قدرتی عذابوں سے لوگوں کو ہلاک کرنے کیلئے نہیں بھیجا گیا بلکہ گردن مارنے اور قید کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ }۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15798] ‏‏‏‏ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گردن پر اور سر پر وار کرنے کا استدلال اس سے ہو سکتا ہے۔ مغازی اموی میں ہے کہ مقتولین بدر کے پاس سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گذرے تو ایک شعر کا ابتدائی ٹکڑا «نُفَلِّقُ هَامًا . . .» ‏‏‏‏ یعنی سر ٹوٹے پڑے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ دیا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پورا شعر پڑھ دیا «مِنْ رِجَالٍ أَعِزَّةٍ عَلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا» یعنی سر ٹوٹے پڑے ہیں ان لوگو کے جو ہم پر غرور کرتے تھے کیونکہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور نافرمان تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ شعر یاد تھے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائق، جیسے آیت میں ہے «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ» ۱؎ [ 36-يس: 69 ] ‏‏‏‏ ’ اور ہم نے ان [ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے۔ ‘ اس شعر کا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ ظالم اور باغی تھے اور آج تک غلبے اور شوکت سے تھے آج ان کے سر ٹوٹے ہوئے اور ان کے دماغ بکھرے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جو مشرک لوگ فرشتوں کے ہاتھ قتل ہوئے تھے انہیں مسلمان اس طرح پہچان لیتے تھے کہ ان کی گردنوں کے اوپر اور ہاتھ پیروں کے جوڑ ایسے زخم زدہ تھے جیسے آگ سے جلے ہونے کے نشانات۔ «‏‏‏‏وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ» ’ اے مومنو! دشمنوں کو مارو ان کے جوڑ بندوں پر تاکہ ہاتھ پاؤں ٹوٹ جائیں۔‘ «بَنَانٍ» جمع ہے «‏‏‏‏بَنَانَةً» ‏‏‏‏ کی۔ عربی شعروں میں بَنَانَةً کا استعمال موجود ہے پس ہر جوڑ اور ہر حصے کو «بَنَانٍ» کہتے ہیں۔ اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں منہ پر آنکھ پر آگ کے کوڑے برساؤ ہاں جب انہیں گرفتار کر لو پھر نہ مارنا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بدر کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ ابوجہل ملعون نے کہا تھا کہ جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو زندہ گرفتار کر لو تاکہ ہم انہیں اس بات کا مزہ زیادہ دیر تک چکھائیں کہ وہ ہمارے دین کو برا کہتے تھے، ہمارے دین سے ہٹ گئے تھے، لات و عزی کی پرستش چھوڑ بیٹھے ٹھے۔

پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور فرشتوں کو یہ حکم دیا۔ چنانچہ جو ستر آدمی ان کافروں کے قتل ہوئے ان میں ایک یہ پاجی بھی تھا اور جو ستر آدمی قید ہوئے ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط بھی تھا لعنہ اللہ تعالیٰ، اس کو قید میں ہی قتل کیا گیا اور اس سمیت مقتولین مشرکین کی تعداد ستر ہی تھی۔ «ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ» ’ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کا نتیجہ اور بدلہ یہ ہے۔‘ شقاق ماخوذ ہے شق سے۔ شق کہتے ہیں پھاڑنے چیرنے اور دو ٹکڑے کرنے کو۔ پس ان لوگوں نے گویا شریعت، ایمان اور فرماں برداری کو ایک طرف کیا اور دوسری جانب خود رہے۔ لکڑی کے پھاڑنے کو بھی عرب یہی کہتے ہیں جبکہ لکڑی کے دو ٹکڑے کر دیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف چل کر کوئی بچ نہیں سکا۔ کون ہے جو اللہ سے چھپ جائے؟ اور اس کے بےپناہ اور سخت عذابوں سے بچ جائے؟ نہ کوئی اس کے مقابلے کا نہ کسی کو اس کے عذابوں کی طاقت نہ اس سے کوئی بچ نکلے۔ نہ اس کا غضب کوئی سہہ سکے۔ وہ بلند و بالا وہ غالب اور انتقام والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود اور رب نہیں۔ وہ اپنی ذات میں، اپنی صفتوں میں یکتا اور لا شریک ہے۔ «ذَلِكُمْ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابَ النَّارِ» ‏‏‏‏ ’ اے کافرو! دنیا کے یہ عذاب اٹھاؤ اور ابھی آخرت میں دوزخ کا عذاب باقی ہے۔‘
11۔ 1 جنگ احد کی طرح جنگ بدر میں بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اونگھ طاری کردی جس سے ان کے دلوں کے بوجھ ہلکے ہوگئے اور اطمینان و سکون کی ایک خاص کیفیت ان پر طاری ہوگئی۔ 11۔ 2 تیسرا انعام یہ کیا کہ بارش نازل فرمادی جس سے ایک تو ریتلی زمین میں نقل و حرکت آسان ہوگئی دوسرے وضو و طہارت میں آسانی ہوگئی، تیسرے اس سے شیطانی وسوسوں کا ازالہ فرما دیا جو اہل ایمان کے دلوں میں ڈال رہا تھا کہ تم اللہ کے نیک بندے ہوتے ہوئے بھی پانی سے دور ہو، دوسرے جنابت کی حالت میں تم لڑوگے تو کیسے اللہ کی رحمت و نصرت تمہیں حاصل ہوگی؟ تیسرے تم پیاسے ہو، جب کہ تمہارے دشمن سیراب ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ 11۔ 3 یہ چوتھا انعام ہے جو دلوں اور قدموں کو مضبوط کرکے کیا گیا۔
(آیت 11) ➊ { اِذْ يُغَشِّيْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ:} جنگ بدر میں فرشتوں کے ساتھ مدد کے علاوہ یہ دوسری مدد تھی۔ یہ اونگھ دو طرح سے آئی، ایک تو یہ کہ جس رات کی صبح کو لڑائی ہونے والی تھی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم خوب سوئے، حالانکہ دشمن کی فکر لگی ہوئی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند بھیج دی، تاکہ وہ تازہ دم ہو جائیں اور دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”بدر کے دن مقداد رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی کے پاس گھوڑا نہیں تھا، میں نے دیکھا کہ ہم میں سے ہر شخص سو رہا تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درخت کے نیچے نماز پڑھتے رہے اور رو رو کر دعائیں کرتے رہے، حتیٰ کہ صبح ہو گئی۔“ [ أحمد: ۱؍۱۲۵، ح: ۱۰۲۳، قال شعیب أرنؤوط إسنادہ صحیح ] اس نیند کے ساتھ مسلمان تازہ دم ہو گئے۔ دوسرا یہ کہ لڑائی سے پہلے میدان میں آنے پر تمام مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ نے اونگھ طاری کر دی، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لڑائی کے دوران میں اونگھ طاری ہونے کا واقعہ جنگ احد میں بھی پیش آیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَآىِٕفَةً مِّنْكُمْ }» [ آل عمران: ۱۵۴ ] ”پھر اس غم کے بعد اس نے تم پر ایک امن نازل فرمایا، جو ایک اونگھ تھی، جو تم میں سے کچھ لوگوں پر چھا رہی تھی۔“ یہاں مذکور آیت: «{ اِذْ يُغَشِّيْكُمُ النُّعَاسَ }» میں یہ معاملہ بدر کے دن پیش آیا، جس سے مسلمانوں کے دلوں سے دشمن کا خوف ختم ہو گیا اور امن و اطمینان کی کیفیت پیدا ہو گئی۔“ سبھی شرکاء پر ایک ہی وقت میں اونگھ طاری کرنا، جس سے وہ بے سدھ ہو کر سو بھی نہ جائیں، بلکہ دشمن کی حرکت پر فوراً متحرک ہو جائیں اور اس اونگھ کی برکت سے انھیں ہر قسم کے خطرے سے بے خوف کرکے امن عطا کرنا، یقینا ایک عظیم معجزہ تھا۔ اہل علم فرماتے ہیں، لڑائی کے دوران میں اونگھ آنا اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہوتی ہے۔ ➋ {وَ يُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً …: } یہ بھی اسی رات کا واقعہ ہے کہ رات کو بارش ہو گئی، جس سے ایک تو ریت جم گئی اور زمین پر پاؤں اچھی طرح جمنے لگے، جس سے فائدہ اٹھا کر مسلمان آگے بڑھے، نقل و حرکت آسان ہو گئی، دوسرے پانی کی کمی دو ر ہو گئی اور وضو اور طہارت کے لیے آسانی ہو گئی، جب کہ کفار کے پڑاؤ کی جگہ نیچی تھی، وہاں بارش کی وجہ سے کیچڑ ہو گئی اور پاؤں پھسلنے لگے۔ تیسرے مسلمانوں کے دلوں سے شیطان کی گندگی، یعنی گھبراہٹ، خوف، اللہ تعالیٰ سے بدگمانی اور مایوسی کی کیفیت دور ہو گئی اور صبح ہوئی تو وہ لڑنے کے لیے چاق چوبند تھے۔ بدر کے موقع پر یہ تیسرا انعام تھا جس سے کفار پر فتح یاب ہونے میں بڑی مدد ملی۔ (ابن کثیر)
اِذۡ یُوۡحِیۡ رَبُّکَ اِلَی الۡمَلٰٓئِکَۃِ اَنِّیۡ مَعَکُمۡ فَثَبِّتُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ سَاُلۡقِیۡ فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا الرُّعۡبَ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ وَ اضۡرِبُوۡا مِنۡہُمۡ کُلَّ بَنَانٍ ﴿ؕ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ وقت جبکہ تمہارا رب فرشتوں کو اشارہ کر رہا تھا کہ “میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اہلِ ایمان کو ثابت قدم رکھو، میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رُعب ڈالے دیتا ہوں، پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس وقت کو یاد کرو جب کہ آپ کا رب فرشتوں کو حکم دیتا تھا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں سو تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ میں ابھی کفار کے قلوب میں رعب ڈالے دیتا ہوں، سو تم گردنوں پر مارو اور ان کے پور پور کو مارو
احمد رضا خان بریلوی
جب اے محبوب! تمہارا رب فرشتوں کو وحی بھیجتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابت رکھو عنقریب میں کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈالوں گا تو کافروں کی گردنوں سے اوپر مارو اور ان کی ایک ایک پور (جوڑ) پر ضرب لگا ؤ
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وقت بھی (یاد رکھنے کے قابل ہے) جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو وحی کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تم اہلِ ایمان کو ثابت قدم رکھو۔ میں عنقریب کافروں کے دلوں میں (مؤمنوں کا) رعب ڈال دوں گا سو (اے مسلمانو) تم کافروں کی گردنوں پر ضرب لگاؤ اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
جب تیرا رب فرشتوں کی طرف وحی کر رہا تھا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں، پس تم ان لوگوں کو جمائے رکھو جو ایمان لائے ہیں، عنقریب میں ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے کفر کیا، رعب ڈال دوں گا۔ پس ان کی گردنوں کے اوپر ضرب لگاؤ اور ان کے ہر ہر پور پر ضرب لگاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تائید الٰہی کے بعد فتح و کامرانی۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسانات بیان فرماتا ہے کہ اس جنگ بدر میں جبکہ اپنی کمی اور کافروں کی زیادتی، اپنی بےسرو سامانی اور کافروں کے پر شوکت سروسامان دیکھ کر مسلمانوں کے دل پر برا اثر پڑ رہا تھا پروردگار نے ان کے دلوں کے اطمینان کیلئے ان پر اونگھ ڈال دی جنگ احد میں بھی یہی حال ہوا تھا جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ» ۱؎ [ 3- آل عمران: 154 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ پورے غم و رنج کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں امن دیا جو اونگھ کی صورت میں تمہیں ڈھانکے ہوئے تھا ایک جماعت اسی میں مشغول تھی۔ ‘ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد والے دن اونگھ غالب آ گئی تھی اس وقت میں نیند میں جھوم رہا تھا میری تلوار میرے ہاتھ سے گر پڑتی تھی اور میں اٹھاتا تھا میں نے جب نظر ڈالی تو دیکھا کہ لوگ ڈھالیں سروں پر رکھے ہوئے نیند کے جھولے لے رہے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بدر والے دن ہمارے پورے لشکر میں گھوڑ سوار صرف ایک ہی مقداد تھے میں نے نگاہ بھر کر دیکھا کہ سارا لشکر نیند میں مست ہے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت تلے نماز میں مشغول تھے روتے جاتے تھے اور نماز پڑھتے جاتے تھے صبح تک آپ اسی طرح مناجات میں مشغول رہے۔۱؎ [مسند احمد:125/1:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی للہ عنہ فرماتے ہیں کہ میدان جنگ میں اونگھ کا آنا اللہ کی طرف سے امن کا ملنا ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حرکت ہے، اونگھ صرف آنکھوں میں ہی ہوتی ہے اور نیند کا تعلق دل سے ہے۔

یہ یاد رہے کہ اونگھ آنے کا مشہور واقعہ تو جنگ احد کا ہے لیکن اس آیت میں جو بدر کے واقعہ کے قصے کے بیان میں اونگھ کا اترنا موجود ہے پس سخت لڑائی کے وقت یہ واقعہ ہوا اور مومنوں کے دل اللہ کے عطا کردہ امن سے مطمئن ہو گئے یہ بھی مومنوں پر اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم تھا «‏‏‏‏فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» ۱؎ [ 94-الشرح: 5، 6 ] ‏‏‏‏ سچ ہے سختی کے بعد آسانی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھپر تلے دعا میں مشغول تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اونگھنے لگے۔ تھوڑی دیر میں جاگے اور تبسم فرما کر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { خوش ہو یہ ہیں جبرائیل علیہ السلام گرد آلود پھر آیت قرآنی «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» ۱؎ [ 54-القمر: 45 ] ‏‏‏‏ پڑھتے ہوئے جھونپڑی کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ یعنی ابھی ابھی یہ لشکر شکست کھائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2915] ‏‏‏‏ دوسرا احسان اس جنگ کے موقعہ پر یہ ہوا کہ بارش برس گئی۔ قوله تعالٰى «وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً» یعنی ’ اللہ نے تم پر آسمان سے پانی برسایا۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے میدان بدر کے پانی پر قبضہ کر لیا تھا مسلمانوں کے اور پانی کے درمیان وہ حائل ہو گئے تھے مسلمان کمزوری کی حالت میں تھے شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم تو اپنے تئیں اللہ والے سمجھتے ہو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے میں موجود مانتے ہو اور حالت یہ ہے کہ پانی تک تمہارے قبضہ میں نہیں مشرکین کے ہاتھ میں پانی ہے تم نماز بھی جنبی ہونے کی حالت میں پڑھ رہے ہو ایسے وقت آسمان سے مینہ برسنا شروع ہوا اور پانی کی ریل پیل ہو گئی۔

مسلمانوں نے پانی پیا بھی، پلایا بھی، نہا دھو کر پاکی بھی حاصل کر لی اور پانی بھر بھی لیا اور شیطانی وسوسہ بھی زائل ہو گیا اور جو چکنی مٹی پانی کے راستے میں تھی دھل کر وہاں کی سخت زمین نکل آئی اور ریت جم گئی کہ اس پر آمد ورفت آسان ہو گئی اور فرشتوں کی امداد آسمان سے آ گئی پانچ سو فرشتے تو جبرائیل علیہ السلام کی ما تحتیٰ میں اور پانچ سو میکائیل کی ما تحتیٰ میں۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15783:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ مشہور یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف تشریف لے چلے تو سب سے پہلے جو پانی تھا وہاں ٹھہرے حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ کو اللہ کا حکم یہاں پڑاؤ کرنے کا ہوا تب تو خیر اور اگر جنگی مصلحت کے ساتھ پڑاؤ یہاں کیا ہو تو آپ اور آگے چلئے آخری پانی پر قبضہ کیجئے وہیں حوض بنا کر یہاں کے سب پانی وہاں جمع کر لیں تو پانی پر ہمارا قبضہ رہے گا اور دشمن پانی بغیر رہ جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا بھی۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏‏‏‏ مغازی اموی میں ہے کہ اس رائے کے بعد جبرائیل علیہ السلام کی موجودگی میں ایک فرشتے نے آ کر آپ کو سلام پہنچایا اور اللہ کا حکم بھی کہ یہی رائے ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ انہیں جانتے ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا میں آسمان کے تمام فرشتوں سے واقف نہیں ہوں ہاں ہیں یہ فرشتے شیطان نہیں۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ مشرکین ڈھلوان کی طرف تھے اور مسلمان اونچائی کی طرف تھے بارش ہونے سے مسلمانوں کی طرف تو زمین دھل کر صاف ہو گئی اور پانی سے انہیں نفع پہنچا لیکن مشرکین کی طرف پانی کھڑا ہو گیا۔

کیچڑ اور پھسلن ہو گئی کہ انہیں چلنا پھرنا دو بھر ہو گیا بارش اس سے پہلے ہوئی تھی غبار جم گیا تھا زمین سخت ہو گئی تھی دلوں میں خوشی پیدا ہو گئی تھی ثابت قدمی میسر ہو چکی تھی اب اونگھ آنے لگی اور مسلمان تازہ دم ہو گئے۔ صبح لڑائی ہونے والی ہے رات کو ہلکی سی بارش ہو گئی ہم درختوں تلے جاچھپے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہے۔ یہ اس لیے کہ اللہ تمہیں پاک کر دے وضو بھی کر لو اور غسل بھی اس ظاہری پاکی کے ساتھ ہی باطنی پاکیزگی بھی حاصل ہوئی شیطانی وسوسے بھی دور ہو گئے دل مطمئن ہو گئے جیسے کہ جنتیوں کے بارے میں فرمان ہے کہ آیت «‏‏‏‏عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ ۖ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا» ۱؎ [ 76-الإنسان: 21 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ ان کے بدن پر نہیں اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنکھن پہنائے جائیں گے اور انہیں ان کا رب پاک اور پاک کرنے والا شربت پلائے گا۔ ‘ پس لباس اور زیور تو ظاہری زینت کی چیز ہوئی اور پاک کرنے والا پانی جس سے دلوں کی پاکیزگی اور حسد و بغض کی دوری ہو جائے۔ یہ تھی باطنی زینت۔ پھر فرماتا ہے کہ اس سے مقصود دلوں کی مضبوطی بھی تھی کہ صبرو برداشت پیدا ہو شجاعت و بہادری ہو دل بڑھ جائے ثابت قدمی ظاہر ہو جائے اور حملے میں استقامت پیدا ہو جائے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر اپنی ایک باطنی نعمت کا اظہار فرما رہا ہے تاکہ مسلمان اس پر بھی اللہ کا شکر بجا لائیں کہ اللہ تعالیٰ تبارک و تقدس و تمجد نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم جاؤ مسلمانوں کی مدد و نصرت کرو، ان کے ساتھ مل کر ہمارے دشمنوں کو نیچا دکھاؤ۔ ان کی گنتی گھٹاؤ اور ہمارے دوستوں کی تعداد بڑھاؤ۔

کہا گیا ہے کہ فرشتہ کسی مسلمان کے پاس آتا اور کہتا کہ مشرکوں میں عجیب بد دلی پھیلی ہوئی ہے۔ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں نے حملہ کر دیا تو ہمارے قدم نہیں ٹک سکتے ہم تو بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اب ہر ایک دوسرے سے کہتا دوسرا تیسرے سے پھر صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل بڑھ جاتے اور سمجھ لیتے کہ مشرکوں میں طاقت و قوت نہیں۔ پھر فرماتا ہے «إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا» کہ ’ تم اے فرشتوں اس کام میں لگو ادھر میں مشرکوں کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دوں گا میں ان کے دلوں میں ذلت اور حقارت ڈال دوں گا میرے حکم کے نہ ماننے والوں کا میرے رسول کے منکروں کا یہی حال ہوتا ہے۔ ‘ پھر تم ان کے سروں پر وار لگا کر دماغ نکال دو، گردنوں پر تلوار مار کے سر اور دھڑ میں جدائی کر دو۔ «فَوْقَ الْأَعْنَاقِ» ہاتھ پاؤں اور جوڑ جوڑ پور پور کو تاک تاک کر زخم لگاؤ۔ پس گردنوں کے اوپر سے بعض کے نزدیک مراد تو سر ہیں اور بعض کے نزدیک خود گردن مراد ہے، چنانچہ اور جگہ ہے آیت «فَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ» ۱؎ [47-محمد:4] ‏‏‏‏ ’ جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { میں قدرتی عذابوں سے لوگوں کو ہلاک کرنے کیلئے نہیں بھیجا گیا بلکہ گردن مارنے اور قید کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ }۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15798] ‏‏‏‏ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گردن پر اور سر پر وار کرنے کا استدلال اس سے ہو سکتا ہے۔ مغازی اموی میں ہے کہ مقتولین بدر کے پاس سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گذرے تو ایک شعر کا ابتدائی ٹکڑا «نُفَلِّقُ هَامًا . . .» ‏‏‏‏ یعنی سر ٹوٹے پڑے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ دیا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پورا شعر پڑھ دیا «مِنْ رِجَالٍ أَعِزَّةٍ عَلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا» یعنی سر ٹوٹے پڑے ہیں ان لوگو کے جو ہم پر غرور کرتے تھے کیونکہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور نافرمان تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ شعر یاد تھے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائق، جیسے آیت میں ہے «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ» ۱؎ [ 36-يس: 69 ] ‏‏‏‏ ’ اور ہم نے ان [ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے۔ ‘ اس شعر کا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ ظالم اور باغی تھے اور آج تک غلبے اور شوکت سے تھے آج ان کے سر ٹوٹے ہوئے اور ان کے دماغ بکھرے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جو مشرک لوگ فرشتوں کے ہاتھ قتل ہوئے تھے انہیں مسلمان اس طرح پہچان لیتے تھے کہ ان کی گردنوں کے اوپر اور ہاتھ پیروں کے جوڑ ایسے زخم زدہ تھے جیسے آگ سے جلے ہونے کے نشانات۔ «‏‏‏‏وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ» ’ اے مومنو! دشمنوں کو مارو ان کے جوڑ بندوں پر تاکہ ہاتھ پاؤں ٹوٹ جائیں۔‘ «بَنَانٍ» جمع ہے «‏‏‏‏بَنَانَةً» ‏‏‏‏ کی۔ عربی شعروں میں بَنَانَةً کا استعمال موجود ہے پس ہر جوڑ اور ہر حصے کو «بَنَانٍ» کہتے ہیں۔ اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں منہ پر آنکھ پر آگ کے کوڑے برساؤ ہاں جب انہیں گرفتار کر لو پھر نہ مارنا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بدر کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ ابوجہل ملعون نے کہا تھا کہ جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو زندہ گرفتار کر لو تاکہ ہم انہیں اس بات کا مزہ زیادہ دیر تک چکھائیں کہ وہ ہمارے دین کو برا کہتے تھے، ہمارے دین سے ہٹ گئے تھے، لات و عزی کی پرستش چھوڑ بیٹھے ٹھے۔

پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور فرشتوں کو یہ حکم دیا۔ چنانچہ جو ستر آدمی ان کافروں کے قتل ہوئے ان میں ایک یہ پاجی بھی تھا اور جو ستر آدمی قید ہوئے ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط بھی تھا لعنہ اللہ تعالیٰ، اس کو قید میں ہی قتل کیا گیا اور اس سمیت مقتولین مشرکین کی تعداد ستر ہی تھی۔ «ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ» ’ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کا نتیجہ اور بدلہ یہ ہے۔‘ شقاق ماخوذ ہے شق سے۔ شق کہتے ہیں پھاڑنے چیرنے اور دو ٹکڑے کرنے کو۔ پس ان لوگوں نے گویا شریعت، ایمان اور فرماں برداری کو ایک طرف کیا اور دوسری جانب خود رہے۔ لکڑی کے پھاڑنے کو بھی عرب یہی کہتے ہیں جبکہ لکڑی کے دو ٹکڑے کر دیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف چل کر کوئی بچ نہیں سکا۔ کون ہے جو اللہ سے چھپ جائے؟ اور اس کے بےپناہ اور سخت عذابوں سے بچ جائے؟ نہ کوئی اس کے مقابلے کا نہ کسی کو اس کے عذابوں کی طاقت نہ اس سے کوئی بچ نکلے۔ نہ اس کا غضب کوئی سہہ سکے۔ وہ بلند و بالا وہ غالب اور انتقام والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود اور رب نہیں۔ وہ اپنی ذات میں، اپنی صفتوں میں یکتا اور لا شریک ہے۔ «ذَلِكُمْ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابَ النَّارِ» ‏‏‏‏ ’ اے کافرو! دنیا کے یہ عذاب اٹھاؤ اور ابھی آخرت میں دوزخ کا عذاب باقی ہے۔‘
12۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے سے اور خاص اپنی طرف سے جس جس طریقے سے مسلمانوں کی بدر میں مدد فرمائی اس کا بیان ہے۔ 12۔ 1 بَنَانِ۔ ہاتھوں اور پیروں کے پور۔ یعنی ان کی انگلیوں کے اطراف (کنارے) یہ اطراف کاٹ دیئے جائیں تو ظاہر ہے کہ وہ معزور ہوجائیں گے۔ اسطرح وہ ہاتھوں سے تلوار چلانے کے اور پیروں سے بھاگنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
(آیت 12) ➊ {اِذْ يُوْحِيْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓىِٕكَةِ اَنِّيْ مَعَكُمْ:} اس سے معلوم ہوا کہ فرشتے بھی اپنے طور پر کچھ نہیں کر سکتے۔ ➋ { سَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ: } یہ چوتھا انعام ہے جو میدان بدر ہی میں نہیں بلکہ تمام جنگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امت مسلمہ کو عطا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔“ ان میں سے ایک یہ بیان فرمائی: ”مجھے ایک مہینے کی مسافت پر رعب کے ذریعے سے مدد دی گئی۔“ [ بخاری، التیمم، بابٌ: ۳۳۵ ] اس کا باعث اللہ تعالیٰ نے دوسری آیات میں کفار کا مشرک ہونا بیان فرمایا۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۵۱)۔ ➌ { فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ …: } گردنوں پر مارو، تاکہ ان کے ناپاک جسموں سے زمین پاک ہو اور ہاتھوں اور پاؤں کے ہر ہر پور پر ضرب لگاؤ، تاکہ وہ ہاتھوں سے لڑ نہ سکیں اور پاؤں سے بھاگ نہ سکیں۔
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ شَآقُّوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ۚ وَ مَنۡ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسولؐ کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسولؐ کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے سو بےشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخا لفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کرے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ اس لئے ہے کہ ان لوگوں نے خدا اور رسول(ص) کی مخالفت کی۔ یاد رکھو کہ جو کوئی بھی خدا اور رسول کی مخالفت کرے گا تو اللہ (مکافاتِ عمل میں) سخت سزا دینے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے تو بے شک اللہ بہت سخت عذاب والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تائید الٰہی کے بعد فتح و کامرانی۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسانات بیان فرماتا ہے کہ اس جنگ بدر میں جبکہ اپنی کمی اور کافروں کی زیادتی، اپنی بےسرو سامانی اور کافروں کے پر شوکت سروسامان دیکھ کر مسلمانوں کے دل پر برا اثر پڑ رہا تھا پروردگار نے ان کے دلوں کے اطمینان کیلئے ان پر اونگھ ڈال دی جنگ احد میں بھی یہی حال ہوا تھا جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ» ۱؎ [ 3- آل عمران: 154 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ پورے غم و رنج کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں امن دیا جو اونگھ کی صورت میں تمہیں ڈھانکے ہوئے تھا ایک جماعت اسی میں مشغول تھی۔ ‘ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد والے دن اونگھ غالب آ گئی تھی اس وقت میں نیند میں جھوم رہا تھا میری تلوار میرے ہاتھ سے گر پڑتی تھی اور میں اٹھاتا تھا میں نے جب نظر ڈالی تو دیکھا کہ لوگ ڈھالیں سروں پر رکھے ہوئے نیند کے جھولے لے رہے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بدر والے دن ہمارے پورے لشکر میں گھوڑ سوار صرف ایک ہی مقداد تھے میں نے نگاہ بھر کر دیکھا کہ سارا لشکر نیند میں مست ہے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت تلے نماز میں مشغول تھے روتے جاتے تھے اور نماز پڑھتے جاتے تھے صبح تک آپ اسی طرح مناجات میں مشغول رہے۔۱؎ [مسند احمد:125/1:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی للہ عنہ فرماتے ہیں کہ میدان جنگ میں اونگھ کا آنا اللہ کی طرف سے امن کا ملنا ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حرکت ہے، اونگھ صرف آنکھوں میں ہی ہوتی ہے اور نیند کا تعلق دل سے ہے۔

یہ یاد رہے کہ اونگھ آنے کا مشہور واقعہ تو جنگ احد کا ہے لیکن اس آیت میں جو بدر کے واقعہ کے قصے کے بیان میں اونگھ کا اترنا موجود ہے پس سخت لڑائی کے وقت یہ واقعہ ہوا اور مومنوں کے دل اللہ کے عطا کردہ امن سے مطمئن ہو گئے یہ بھی مومنوں پر اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم تھا «‏‏‏‏فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» ۱؎ [ 94-الشرح: 5، 6 ] ‏‏‏‏ سچ ہے سختی کے بعد آسانی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھپر تلے دعا میں مشغول تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اونگھنے لگے۔ تھوڑی دیر میں جاگے اور تبسم فرما کر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { خوش ہو یہ ہیں جبرائیل علیہ السلام گرد آلود پھر آیت قرآنی «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» ۱؎ [ 54-القمر: 45 ] ‏‏‏‏ پڑھتے ہوئے جھونپڑی کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ یعنی ابھی ابھی یہ لشکر شکست کھائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2915] ‏‏‏‏ دوسرا احسان اس جنگ کے موقعہ پر یہ ہوا کہ بارش برس گئی۔ قوله تعالٰى «وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً» یعنی ’ اللہ نے تم پر آسمان سے پانی برسایا۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے میدان بدر کے پانی پر قبضہ کر لیا تھا مسلمانوں کے اور پانی کے درمیان وہ حائل ہو گئے تھے مسلمان کمزوری کی حالت میں تھے شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم تو اپنے تئیں اللہ والے سمجھتے ہو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے میں موجود مانتے ہو اور حالت یہ ہے کہ پانی تک تمہارے قبضہ میں نہیں مشرکین کے ہاتھ میں پانی ہے تم نماز بھی جنبی ہونے کی حالت میں پڑھ رہے ہو ایسے وقت آسمان سے مینہ برسنا شروع ہوا اور پانی کی ریل پیل ہو گئی۔

مسلمانوں نے پانی پیا بھی، پلایا بھی، نہا دھو کر پاکی بھی حاصل کر لی اور پانی بھر بھی لیا اور شیطانی وسوسہ بھی زائل ہو گیا اور جو چکنی مٹی پانی کے راستے میں تھی دھل کر وہاں کی سخت زمین نکل آئی اور ریت جم گئی کہ اس پر آمد ورفت آسان ہو گئی اور فرشتوں کی امداد آسمان سے آ گئی پانچ سو فرشتے تو جبرائیل علیہ السلام کی ما تحتیٰ میں اور پانچ سو میکائیل کی ما تحتیٰ میں۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15783:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ مشہور یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف تشریف لے چلے تو سب سے پہلے جو پانی تھا وہاں ٹھہرے حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ کو اللہ کا حکم یہاں پڑاؤ کرنے کا ہوا تب تو خیر اور اگر جنگی مصلحت کے ساتھ پڑاؤ یہاں کیا ہو تو آپ اور آگے چلئے آخری پانی پر قبضہ کیجئے وہیں حوض بنا کر یہاں کے سب پانی وہاں جمع کر لیں تو پانی پر ہمارا قبضہ رہے گا اور دشمن پانی بغیر رہ جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا بھی۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏‏‏‏ مغازی اموی میں ہے کہ اس رائے کے بعد جبرائیل علیہ السلام کی موجودگی میں ایک فرشتے نے آ کر آپ کو سلام پہنچایا اور اللہ کا حکم بھی کہ یہی رائے ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ انہیں جانتے ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا میں آسمان کے تمام فرشتوں سے واقف نہیں ہوں ہاں ہیں یہ فرشتے شیطان نہیں۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ مشرکین ڈھلوان کی طرف تھے اور مسلمان اونچائی کی طرف تھے بارش ہونے سے مسلمانوں کی طرف تو زمین دھل کر صاف ہو گئی اور پانی سے انہیں نفع پہنچا لیکن مشرکین کی طرف پانی کھڑا ہو گیا۔

کیچڑ اور پھسلن ہو گئی کہ انہیں چلنا پھرنا دو بھر ہو گیا بارش اس سے پہلے ہوئی تھی غبار جم گیا تھا زمین سخت ہو گئی تھی دلوں میں خوشی پیدا ہو گئی تھی ثابت قدمی میسر ہو چکی تھی اب اونگھ آنے لگی اور مسلمان تازہ دم ہو گئے۔ صبح لڑائی ہونے والی ہے رات کو ہلکی سی بارش ہو گئی ہم درختوں تلے جاچھپے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہے۔ یہ اس لیے کہ اللہ تمہیں پاک کر دے وضو بھی کر لو اور غسل بھی اس ظاہری پاکی کے ساتھ ہی باطنی پاکیزگی بھی حاصل ہوئی شیطانی وسوسے بھی دور ہو گئے دل مطمئن ہو گئے جیسے کہ جنتیوں کے بارے میں فرمان ہے کہ آیت «‏‏‏‏عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ ۖ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا» ۱؎ [ 76-الإنسان: 21 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ ان کے بدن پر نہیں اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنکھن پہنائے جائیں گے اور انہیں ان کا رب پاک اور پاک کرنے والا شربت پلائے گا۔ ‘ پس لباس اور زیور تو ظاہری زینت کی چیز ہوئی اور پاک کرنے والا پانی جس سے دلوں کی پاکیزگی اور حسد و بغض کی دوری ہو جائے۔ یہ تھی باطنی زینت۔ پھر فرماتا ہے کہ اس سے مقصود دلوں کی مضبوطی بھی تھی کہ صبرو برداشت پیدا ہو شجاعت و بہادری ہو دل بڑھ جائے ثابت قدمی ظاہر ہو جائے اور حملے میں استقامت پیدا ہو جائے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر اپنی ایک باطنی نعمت کا اظہار فرما رہا ہے تاکہ مسلمان اس پر بھی اللہ کا شکر بجا لائیں کہ اللہ تعالیٰ تبارک و تقدس و تمجد نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم جاؤ مسلمانوں کی مدد و نصرت کرو، ان کے ساتھ مل کر ہمارے دشمنوں کو نیچا دکھاؤ۔ ان کی گنتی گھٹاؤ اور ہمارے دوستوں کی تعداد بڑھاؤ۔

کہا گیا ہے کہ فرشتہ کسی مسلمان کے پاس آتا اور کہتا کہ مشرکوں میں عجیب بد دلی پھیلی ہوئی ہے۔ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں نے حملہ کر دیا تو ہمارے قدم نہیں ٹک سکتے ہم تو بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اب ہر ایک دوسرے سے کہتا دوسرا تیسرے سے پھر صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل بڑھ جاتے اور سمجھ لیتے کہ مشرکوں میں طاقت و قوت نہیں۔ پھر فرماتا ہے «إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا» کہ ’ تم اے فرشتوں اس کام میں لگو ادھر میں مشرکوں کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دوں گا میں ان کے دلوں میں ذلت اور حقارت ڈال دوں گا میرے حکم کے نہ ماننے والوں کا میرے رسول کے منکروں کا یہی حال ہوتا ہے۔ ‘ پھر تم ان کے سروں پر وار لگا کر دماغ نکال دو، گردنوں پر تلوار مار کے سر اور دھڑ میں جدائی کر دو۔ «فَوْقَ الْأَعْنَاقِ» ہاتھ پاؤں اور جوڑ جوڑ پور پور کو تاک تاک کر زخم لگاؤ۔ پس گردنوں کے اوپر سے بعض کے نزدیک مراد تو سر ہیں اور بعض کے نزدیک خود گردن مراد ہے، چنانچہ اور جگہ ہے آیت «فَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ» ۱؎ [47-محمد:4] ‏‏‏‏ ’ جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { میں قدرتی عذابوں سے لوگوں کو ہلاک کرنے کیلئے نہیں بھیجا گیا بلکہ گردن مارنے اور قید کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ }۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15798] ‏‏‏‏ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گردن پر اور سر پر وار کرنے کا استدلال اس سے ہو سکتا ہے۔ مغازی اموی میں ہے کہ مقتولین بدر کے پاس سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گذرے تو ایک شعر کا ابتدائی ٹکڑا «نُفَلِّقُ هَامًا . . .» ‏‏‏‏ یعنی سر ٹوٹے پڑے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ دیا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پورا شعر پڑھ دیا «مِنْ رِجَالٍ أَعِزَّةٍ عَلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا» یعنی سر ٹوٹے پڑے ہیں ان لوگو کے جو ہم پر غرور کرتے تھے کیونکہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور نافرمان تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ شعر یاد تھے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائق، جیسے آیت میں ہے «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ» ۱؎ [ 36-يس: 69 ] ‏‏‏‏ ’ اور ہم نے ان [ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے۔ ‘ اس شعر کا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ ظالم اور باغی تھے اور آج تک غلبے اور شوکت سے تھے آج ان کے سر ٹوٹے ہوئے اور ان کے دماغ بکھرے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جو مشرک لوگ فرشتوں کے ہاتھ قتل ہوئے تھے انہیں مسلمان اس طرح پہچان لیتے تھے کہ ان کی گردنوں کے اوپر اور ہاتھ پیروں کے جوڑ ایسے زخم زدہ تھے جیسے آگ سے جلے ہونے کے نشانات۔ «‏‏‏‏وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ» ’ اے مومنو! دشمنوں کو مارو ان کے جوڑ بندوں پر تاکہ ہاتھ پاؤں ٹوٹ جائیں۔‘ «بَنَانٍ» جمع ہے «‏‏‏‏بَنَانَةً» ‏‏‏‏ کی۔ عربی شعروں میں بَنَانَةً کا استعمال موجود ہے پس ہر جوڑ اور ہر حصے کو «بَنَانٍ» کہتے ہیں۔ اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں منہ پر آنکھ پر آگ کے کوڑے برساؤ ہاں جب انہیں گرفتار کر لو پھر نہ مارنا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بدر کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ ابوجہل ملعون نے کہا تھا کہ جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو زندہ گرفتار کر لو تاکہ ہم انہیں اس بات کا مزہ زیادہ دیر تک چکھائیں کہ وہ ہمارے دین کو برا کہتے تھے، ہمارے دین سے ہٹ گئے تھے، لات و عزی کی پرستش چھوڑ بیٹھے ٹھے۔

پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور فرشتوں کو یہ حکم دیا۔ چنانچہ جو ستر آدمی ان کافروں کے قتل ہوئے ان میں ایک یہ پاجی بھی تھا اور جو ستر آدمی قید ہوئے ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط بھی تھا لعنہ اللہ تعالیٰ، اس کو قید میں ہی قتل کیا گیا اور اس سمیت مقتولین مشرکین کی تعداد ستر ہی تھی۔ «ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ» ’ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کا نتیجہ اور بدلہ یہ ہے۔‘ شقاق ماخوذ ہے شق سے۔ شق کہتے ہیں پھاڑنے چیرنے اور دو ٹکڑے کرنے کو۔ پس ان لوگوں نے گویا شریعت، ایمان اور فرماں برداری کو ایک طرف کیا اور دوسری جانب خود رہے۔ لکڑی کے پھاڑنے کو بھی عرب یہی کہتے ہیں جبکہ لکڑی کے دو ٹکڑے کر دیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف چل کر کوئی بچ نہیں سکا۔ کون ہے جو اللہ سے چھپ جائے؟ اور اس کے بےپناہ اور سخت عذابوں سے بچ جائے؟ نہ کوئی اس کے مقابلے کا نہ کسی کو اس کے عذابوں کی طاقت نہ اس سے کوئی بچ نکلے۔ نہ اس کا غضب کوئی سہہ سکے۔ وہ بلند و بالا وہ غالب اور انتقام والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود اور رب نہیں۔ وہ اپنی ذات میں، اپنی صفتوں میں یکتا اور لا شریک ہے۔ «ذَلِكُمْ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابَ النَّارِ» ‏‏‏‏ ’ اے کافرو! دنیا کے یہ عذاب اٹھاؤ اور ابھی آخرت میں دوزخ کا عذاب باقی ہے۔‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 13){ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ:} یعنی کفار کو بدر کے دن جو ذلت آمیز شکست ہوئی اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی اس طرح مخالفت کی کہ صاف مقابلے پر اتر آئے۔ {” شَآقُّوا “} یہ {” شِقٌّ “} سے مفاعلہ ہے کہ ایک طرف ایک ہو اور دوسری طرف دوسرا اس کے مقابلے میں ہو، یعنی مخالفت، مقابلے میں آنا۔
ذٰلِکُمۡ فَذُوۡقُوۡہُ وَ اَنَّ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ ہے تم لوگوں کی سزا، اب اس کا مزا چکھو، اور تمہیں معلوم ہو کہ حق کا انکار کرنے والوں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
سو یہ سزا چکھو اور جان رکھو کہ کافروں کے لیے جہنم کا عذاب مقرر ہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ تو چکھو اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ کافروں کو آ گ کا عذاب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے مخالفینِ حق) دنیا میں تمہاری یہ سزا ہے۔ پس اس کا مزہ چکھو۔ اور (آخرت میں) آتشِ دوزخ کا عذاب بھی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ ہے! سو اسے چکھو اور (جان لو) کہ کافروں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تائید الٰہی کے بعد فتح و کامرانی۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسانات بیان فرماتا ہے کہ اس جنگ بدر میں جبکہ اپنی کمی اور کافروں کی زیادتی، اپنی بےسرو سامانی اور کافروں کے پر شوکت سروسامان دیکھ کر مسلمانوں کے دل پر برا اثر پڑ رہا تھا پروردگار نے ان کے دلوں کے اطمینان کیلئے ان پر اونگھ ڈال دی جنگ احد میں بھی یہی حال ہوا تھا جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ» ۱؎ [ 3- آل عمران: 154 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ پورے غم و رنج کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں امن دیا جو اونگھ کی صورت میں تمہیں ڈھانکے ہوئے تھا ایک جماعت اسی میں مشغول تھی۔ ‘ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد والے دن اونگھ غالب آ گئی تھی اس وقت میں نیند میں جھوم رہا تھا میری تلوار میرے ہاتھ سے گر پڑتی تھی اور میں اٹھاتا تھا میں نے جب نظر ڈالی تو دیکھا کہ لوگ ڈھالیں سروں پر رکھے ہوئے نیند کے جھولے لے رہے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بدر والے دن ہمارے پورے لشکر میں گھوڑ سوار صرف ایک ہی مقداد تھے میں نے نگاہ بھر کر دیکھا کہ سارا لشکر نیند میں مست ہے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت تلے نماز میں مشغول تھے روتے جاتے تھے اور نماز پڑھتے جاتے تھے صبح تک آپ اسی طرح مناجات میں مشغول رہے۔۱؎ [مسند احمد:125/1:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی للہ عنہ فرماتے ہیں کہ میدان جنگ میں اونگھ کا آنا اللہ کی طرف سے امن کا ملنا ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حرکت ہے، اونگھ صرف آنکھوں میں ہی ہوتی ہے اور نیند کا تعلق دل سے ہے۔

یہ یاد رہے کہ اونگھ آنے کا مشہور واقعہ تو جنگ احد کا ہے لیکن اس آیت میں جو بدر کے واقعہ کے قصے کے بیان میں اونگھ کا اترنا موجود ہے پس سخت لڑائی کے وقت یہ واقعہ ہوا اور مومنوں کے دل اللہ کے عطا کردہ امن سے مطمئن ہو گئے یہ بھی مومنوں پر اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم تھا «‏‏‏‏فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» ۱؎ [ 94-الشرح: 5، 6 ] ‏‏‏‏ سچ ہے سختی کے بعد آسانی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھپر تلے دعا میں مشغول تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اونگھنے لگے۔ تھوڑی دیر میں جاگے اور تبسم فرما کر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { خوش ہو یہ ہیں جبرائیل علیہ السلام گرد آلود پھر آیت قرآنی «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» ۱؎ [ 54-القمر: 45 ] ‏‏‏‏ پڑھتے ہوئے جھونپڑی کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ یعنی ابھی ابھی یہ لشکر شکست کھائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2915] ‏‏‏‏ دوسرا احسان اس جنگ کے موقعہ پر یہ ہوا کہ بارش برس گئی۔ قوله تعالٰى «وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً» یعنی ’ اللہ نے تم پر آسمان سے پانی برسایا۔ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے میدان بدر کے پانی پر قبضہ کر لیا تھا مسلمانوں کے اور پانی کے درمیان وہ حائل ہو گئے تھے مسلمان کمزوری کی حالت میں تھے شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم تو اپنے تئیں اللہ والے سمجھتے ہو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے میں موجود مانتے ہو اور حالت یہ ہے کہ پانی تک تمہارے قبضہ میں نہیں مشرکین کے ہاتھ میں پانی ہے تم نماز بھی جنبی ہونے کی حالت میں پڑھ رہے ہو ایسے وقت آسمان سے مینہ برسنا شروع ہوا اور پانی کی ریل پیل ہو گئی۔

مسلمانوں نے پانی پیا بھی، پلایا بھی، نہا دھو کر پاکی بھی حاصل کر لی اور پانی بھر بھی لیا اور شیطانی وسوسہ بھی زائل ہو گیا اور جو چکنی مٹی پانی کے راستے میں تھی دھل کر وہاں کی سخت زمین نکل آئی اور ریت جم گئی کہ اس پر آمد ورفت آسان ہو گئی اور فرشتوں کی امداد آسمان سے آ گئی پانچ سو فرشتے تو جبرائیل علیہ السلام کی ما تحتیٰ میں اور پانچ سو میکائیل کی ما تحتیٰ میں۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15783:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ مشہور یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف تشریف لے چلے تو سب سے پہلے جو پانی تھا وہاں ٹھہرے حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ کو اللہ کا حکم یہاں پڑاؤ کرنے کا ہوا تب تو خیر اور اگر جنگی مصلحت کے ساتھ پڑاؤ یہاں کیا ہو تو آپ اور آگے چلئے آخری پانی پر قبضہ کیجئے وہیں حوض بنا کر یہاں کے سب پانی وہاں جمع کر لیں تو پانی پر ہمارا قبضہ رہے گا اور دشمن پانی بغیر رہ جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا بھی۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏‏‏‏ مغازی اموی میں ہے کہ اس رائے کے بعد جبرائیل علیہ السلام کی موجودگی میں ایک فرشتے نے آ کر آپ کو سلام پہنچایا اور اللہ کا حکم بھی کہ یہی رائے ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ انہیں جانتے ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا میں آسمان کے تمام فرشتوں سے واقف نہیں ہوں ہاں ہیں یہ فرشتے شیطان نہیں۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ مشرکین ڈھلوان کی طرف تھے اور مسلمان اونچائی کی طرف تھے بارش ہونے سے مسلمانوں کی طرف تو زمین دھل کر صاف ہو گئی اور پانی سے انہیں نفع پہنچا لیکن مشرکین کی طرف پانی کھڑا ہو گیا۔

کیچڑ اور پھسلن ہو گئی کہ انہیں چلنا پھرنا دو بھر ہو گیا بارش اس سے پہلے ہوئی تھی غبار جم گیا تھا زمین سخت ہو گئی تھی دلوں میں خوشی پیدا ہو گئی تھی ثابت قدمی میسر ہو چکی تھی اب اونگھ آنے لگی اور مسلمان تازہ دم ہو گئے۔ صبح لڑائی ہونے والی ہے رات کو ہلکی سی بارش ہو گئی ہم درختوں تلے جاچھپے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہے۔ یہ اس لیے کہ اللہ تمہیں پاک کر دے وضو بھی کر لو اور غسل بھی اس ظاہری پاکی کے ساتھ ہی باطنی پاکیزگی بھی حاصل ہوئی شیطانی وسوسے بھی دور ہو گئے دل مطمئن ہو گئے جیسے کہ جنتیوں کے بارے میں فرمان ہے کہ آیت «‏‏‏‏عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ ۖ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا» ۱؎ [ 76-الإنسان: 21 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ ان کے بدن پر نہیں اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنکھن پہنائے جائیں گے اور انہیں ان کا رب پاک اور پاک کرنے والا شربت پلائے گا۔ ‘ پس لباس اور زیور تو ظاہری زینت کی چیز ہوئی اور پاک کرنے والا پانی جس سے دلوں کی پاکیزگی اور حسد و بغض کی دوری ہو جائے۔ یہ تھی باطنی زینت۔ پھر فرماتا ہے کہ اس سے مقصود دلوں کی مضبوطی بھی تھی کہ صبرو برداشت پیدا ہو شجاعت و بہادری ہو دل بڑھ جائے ثابت قدمی ظاہر ہو جائے اور حملے میں استقامت پیدا ہو جائے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر اپنی ایک باطنی نعمت کا اظہار فرما رہا ہے تاکہ مسلمان اس پر بھی اللہ کا شکر بجا لائیں کہ اللہ تعالیٰ تبارک و تقدس و تمجد نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم جاؤ مسلمانوں کی مدد و نصرت کرو، ان کے ساتھ مل کر ہمارے دشمنوں کو نیچا دکھاؤ۔ ان کی گنتی گھٹاؤ اور ہمارے دوستوں کی تعداد بڑھاؤ۔

کہا گیا ہے کہ فرشتہ کسی مسلمان کے پاس آتا اور کہتا کہ مشرکوں میں عجیب بد دلی پھیلی ہوئی ہے۔ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں نے حملہ کر دیا تو ہمارے قدم نہیں ٹک سکتے ہم تو بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اب ہر ایک دوسرے سے کہتا دوسرا تیسرے سے پھر صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل بڑھ جاتے اور سمجھ لیتے کہ مشرکوں میں طاقت و قوت نہیں۔ پھر فرماتا ہے «إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا» کہ ’ تم اے فرشتوں اس کام میں لگو ادھر میں مشرکوں کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دوں گا میں ان کے دلوں میں ذلت اور حقارت ڈال دوں گا میرے حکم کے نہ ماننے والوں کا میرے رسول کے منکروں کا یہی حال ہوتا ہے۔ ‘ پھر تم ان کے سروں پر وار لگا کر دماغ نکال دو، گردنوں پر تلوار مار کے سر اور دھڑ میں جدائی کر دو۔ «فَوْقَ الْأَعْنَاقِ» ہاتھ پاؤں اور جوڑ جوڑ پور پور کو تاک تاک کر زخم لگاؤ۔ پس گردنوں کے اوپر سے بعض کے نزدیک مراد تو سر ہیں اور بعض کے نزدیک خود گردن مراد ہے، چنانچہ اور جگہ ہے آیت «فَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ» ۱؎ [47-محمد:4] ‏‏‏‏ ’ جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { میں قدرتی عذابوں سے لوگوں کو ہلاک کرنے کیلئے نہیں بھیجا گیا بلکہ گردن مارنے اور قید کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ }۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15798] ‏‏‏‏ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گردن پر اور سر پر وار کرنے کا استدلال اس سے ہو سکتا ہے۔ مغازی اموی میں ہے کہ مقتولین بدر کے پاس سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گذرے تو ایک شعر کا ابتدائی ٹکڑا «نُفَلِّقُ هَامًا . . .» ‏‏‏‏ یعنی سر ٹوٹے پڑے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ دیا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پورا شعر پڑھ دیا «مِنْ رِجَالٍ أَعِزَّةٍ عَلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا» یعنی سر ٹوٹے پڑے ہیں ان لوگو کے جو ہم پر غرور کرتے تھے کیونکہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور نافرمان تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ شعر یاد تھے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائق، جیسے آیت میں ہے «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ» ۱؎ [ 36-يس: 69 ] ‏‏‏‏ ’ اور ہم نے ان [ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے۔ ‘ اس شعر کا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ ظالم اور باغی تھے اور آج تک غلبے اور شوکت سے تھے آج ان کے سر ٹوٹے ہوئے اور ان کے دماغ بکھرے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جو مشرک لوگ فرشتوں کے ہاتھ قتل ہوئے تھے انہیں مسلمان اس طرح پہچان لیتے تھے کہ ان کی گردنوں کے اوپر اور ہاتھ پیروں کے جوڑ ایسے زخم زدہ تھے جیسے آگ سے جلے ہونے کے نشانات۔ «‏‏‏‏وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ» ’ اے مومنو! دشمنوں کو مارو ان کے جوڑ بندوں پر تاکہ ہاتھ پاؤں ٹوٹ جائیں۔‘ «بَنَانٍ» جمع ہے «‏‏‏‏بَنَانَةً» ‏‏‏‏ کی۔ عربی شعروں میں بَنَانَةً کا استعمال موجود ہے پس ہر جوڑ اور ہر حصے کو «بَنَانٍ» کہتے ہیں۔ اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں منہ پر آنکھ پر آگ کے کوڑے برساؤ ہاں جب انہیں گرفتار کر لو پھر نہ مارنا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بدر کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ ابوجہل ملعون نے کہا تھا کہ جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو زندہ گرفتار کر لو تاکہ ہم انہیں اس بات کا مزہ زیادہ دیر تک چکھائیں کہ وہ ہمارے دین کو برا کہتے تھے، ہمارے دین سے ہٹ گئے تھے، لات و عزی کی پرستش چھوڑ بیٹھے ٹھے۔

پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور فرشتوں کو یہ حکم دیا۔ چنانچہ جو ستر آدمی ان کافروں کے قتل ہوئے ان میں ایک یہ پاجی بھی تھا اور جو ستر آدمی قید ہوئے ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط بھی تھا لعنہ اللہ تعالیٰ، اس کو قید میں ہی قتل کیا گیا اور اس سمیت مقتولین مشرکین کی تعداد ستر ہی تھی۔ «ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ» ’ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کا نتیجہ اور بدلہ یہ ہے۔‘ شقاق ماخوذ ہے شق سے۔ شق کہتے ہیں پھاڑنے چیرنے اور دو ٹکڑے کرنے کو۔ پس ان لوگوں نے گویا شریعت، ایمان اور فرماں برداری کو ایک طرف کیا اور دوسری جانب خود رہے۔ لکڑی کے پھاڑنے کو بھی عرب یہی کہتے ہیں جبکہ لکڑی کے دو ٹکڑے کر دیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف چل کر کوئی بچ نہیں سکا۔ کون ہے جو اللہ سے چھپ جائے؟ اور اس کے بےپناہ اور سخت عذابوں سے بچ جائے؟ نہ کوئی اس کے مقابلے کا نہ کسی کو اس کے عذابوں کی طاقت نہ اس سے کوئی بچ نکلے۔ نہ اس کا غضب کوئی سہہ سکے۔ وہ بلند و بالا وہ غالب اور انتقام والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود اور رب نہیں۔ وہ اپنی ذات میں، اپنی صفتوں میں یکتا اور لا شریک ہے۔ «ذَلِكُمْ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابَ النَّارِ» ‏‏‏‏ ’ اے کافرو! دنیا کے یہ عذاب اٹھاؤ اور ابھی آخرت میں دوزخ کا عذاب باقی ہے۔‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 14) {ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ:” ذٰلِكُمْ “ } یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر گزشتہ آیت میں مذکور {” الْعِقَابِ “} ہے، یعنی {”ذٰلِكُمُ الْعَذَابُ فَذُوْقُوْهُ “} ”یہ ہے وہ عذاب سو اسے چکھو۔“
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا زَحۡفًا فَلَا تُوَلُّوۡہُمُ الۡاَدۡبَارَ ﴿ۚ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے ایمان لانے والو، جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دوچار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! جب تم کافروں سے دو بدو مقابل ہو جاؤ تو ان سے پشت مت پھیرنا
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! جب کافروں کے لام (لشکر) سے تمہارا مقابلہ ہو تو انہیں پیٹھ نہ دو
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! جب کافروں کے لشکر سے تمہاری مڈبھیڑ ہو جائے تو خبردار! ان کے مقابلہ میں ان کو پیٹھ نہ دکھانا (بلکہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح جم کر لڑنا)۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، آمنے سامنے مقابلے کی صورت میں ملو تو ان سے پیٹھیں نہ پھیرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شہیدان وفا کے قصے ٭٭

جہاد کے میدان میں جو مسلمان بھی بھاگ کھڑا ہوا اس کی سزا اللہ کے ہاں جہنم کی آگ ہے۔ جب لشکر کفار سے مڈبھیڑ ہو جائے اس وقت پیٹھ پھیڑ ہو جائے اس وقت پیٹھ پھیرنا حرام ہے ہاں اس شخص کے لیے جو فن جنگ کے طور پر پینترا بدلے یا دشمن کو اپنے پیچھے لگا کر موقعہ پر وار کرنے کے لیے بھاگے یا اس طرح لشکر پیچھے ہٹے اور دشمن کو گھات میں لے کر پھر ان پر اچانک چھاپہ مار دے تو بیشک اس کیلئے پیٹھ پھیرنا جائز ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں جانا ہو جہاں چھوٹے سے لشکر سے بڑے لشکر کا ٹکراؤ ہو یا امام اعظم سے ملنا ہو تو وہ بھی اس میں داخل ہے۔ مسند احمد میں ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تھا میں بھی اس میں ہی تھا لوگوں میں بھگدڑ مچی میں بھی بھاگا ہم لوگ بہت ہی نادم ہوئے کہ ہم اللہ کی راہ سے بھاگے ہیں اللہ کا غضب ہم پر ہے ہم اب مدینے جائیں اور وہاں رات گذار کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوں اگر ہماری توبہ کی کوئی صورت نکل آئے تو خیر ورنہ ہم جنگوں میں نکل جائیں۔ چنانچہ نماز فجر سے پہلے ہم جا کر بیٹھ گئے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ { تم کون لوگ ہو؟ } ہم نے کہا بھاگنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں بلکہ تم لوٹنے والے ہو میں تمہاری جماعت ہوں اور میں تمام مسلمانوں کی جماعت ہوں۔ } ہم نے بےساختہ آگے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ چوم لیے۔۱؎ [سنن ترمذي:1716،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابوداؤد و ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہہ کر فرماتے ہیں ہم اسے ابن ابی زیاد کے علاوہ کسی کی حدیث سے پہچانتے نہیں۔

ابن ابی حاتم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد آپ کا اس آیت «أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَى فِئَةٍ» کا تلاوت کرنا بھی مذکور ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2647،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابوعبیدہ جنگ فارس میں ایک پل پر گھیر لیے گئے مجوسیوں کے ٹڈی دل لشکروں نے چاروں طرف سے آپ کو گھیر لیا موقعہ تھا کہ آپ ان میں سے بچ کر نکل آتے لیکن آپ نے مردانہ وار اللہ کی راہ میں جام شہادت نوش فرمایا جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا اگر وہ وہاں سے میرے پاس چلے آتے تو ان کے لیے جائز تھا کیونکہ میں مسلمانوں کی جماعت ہوں مجھ سے مل جانے میں کوئی حرج نہیں اور روایت میں ہے میں تمام مسلمانوں کی جماعت ہوں۔ اور روایت میں ہے کہ تم اس آیت کا غلط مطلب نہ لینا یہ واقعہ بدر کے متعلق ہے۔ اب تمام مسلمانوں کیلئے وہ فعتہ جس کی طرف پناہ لینے کے لیے واپس مڑنا جائز ہے، میں ہوں۔ ابن عمر سے نافع نے سوال کیا کہ ہم لوگ دشمن کی لڑائی کے وقت ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور ہمیں یہ معلوم نہیں کہ فئتہ سے مراد امام لشکر ہے یا مسلمانوں کو جنگی مرکز آپ نے فرمایا فئتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے میں نے اس آیت «إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ» کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا یہ آیت بدر کے دن اتری ہے نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد۔ «مُتَحَيِّزًا» کے معنی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پناہ لینے والا۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں لشکر کفار سے بھاگ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس پناہ لے اس کے لیے جائز ہے۔ آج بھی امیر اور سالار لشکر کے پاس یا اپنے مرکز میں جو بھی آئے اس کیلئے یہی حکم ہے۔

ہاں اس صورت کے سوا نامردی اور بزدلی کے طور پر لشکر گاہ سے جو بھاگ کھڑا ہو لڑائی میں پشت دکھائے وہ جہنمی ہے اور اس پر اللہ کا غضب ہے وہ حرمت کے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو [۱] ‏‏‏‏ شرک باللہ [۲] ‏‏‏‏ جادو کرنا [۳] ‏‏‏‏ کسی کو نا حق قتل کردینا [۴] ‏‏‏‏ سود کھانا [۵] ‏‏‏‏ مالِ یتیم کھاجانا [۶] ‏‏‏‏ جہاد میں پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا [۷] ‏‏‏‏ پاک دامن اور بے گناہ عورتوں پر الزام لگانا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2766] ‏‏‏‏ یہ بات اور کئی طرح بھی ثابت ہے کہ یہ آیت بدر کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’ وہ بھاگے تو اللہ تعالیٰ کا غضب لے کر بھاگے گا۔ اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔‘ ۱؎ [مسند احمد:224/5:ضعیف] ‏‏‏‏ . بشر بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بیعت کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو بیعت کے لئے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط کی کہ { «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ» کی گواہی دو، میری رسالت کو مانو، نماز پابندی سے پڑھو، زکواۃ دیتے رہو، حج کرو، رمضان کے روزے رکھو اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کروگے۔ } میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس میں دو باتیں میرے لئے دشوار ہیں ایک تو جہاد کہ اگر بہ حالت جنگ کوئی پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گا تو اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہوجائے گا اور مجھے خوف ہے کہ موت سے گھبرا کر کہیں مجھ سے یہ گناہ سرزد نہ ہوجائے۔ دوسرے صدقہ سو اللہ تعالیٰ کی قسم مجھے غنیمت اور اس کے سوا کچھ نہیں ملتا ہے اور دس اونٹنیاں ہیں جن کا دودھ دوھ لیا، پیا پلایا، اس پر سواری کرلی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام لیا اس کو ہلایا اور کہا { جہاد بھی نہ کرو گے، صدقہ بھی نہ دوگے تو پھر جنت کا استحقاق کیسے حاصل کروگے۔} میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے منظور ہے میں ہر شرط پر بیعت کروں گا۔۱؎ [مسند احمد:224/5:ضعیف] ‏‏‏‏

طبرانی میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ تین گناہوں کے ساتھ کوئی نیکی نفع نہیں دیتی اللہ کے ساتھ شرک، ماں باپ کی نافرمانی، لڑائی سے بھاگنا، یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1384] ‏‏‏‏ اسی طرح طبرانی میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جس نے دعا «أَسْتَغْفِرُ اللہ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» پڑھ لیا اس کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں گو وہ لڑائی سے بھاگا ہو۔} ۱؎ [سنن ترمذي:3577،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتاتے ہیں اور نبی کریم کے مولیٰ زید رضی اللہ عنہ اس کے راوی ہیں۔ ان سے اس کے سوا کوئی حدیث نظر سے نہیں گزری۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ بھاگنے کی حرمت کا یہ حکم صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مخصوص تھا اس لیے کہ ان پر جہاد فرض عین تھا اور کہا گیا ہے کہ انصار کے ساتھ ہی مخصوص تھا اسلئے کہ ان کی بیعت سننے اور ماننے کی تھی خوشی میں بھی اور ناخوشی میں بھی۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ یہ خاص تھا کیونکہ ان کی کوئی جماعت تھی ہی نہیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ { اے اللہ اگر تو اس جماعت کو ہلاک کر دے گا تو پھر زمین میں تیری عبادت نہ کی جائے گی۔} ۱؎ [صحیح مسلم:1763] ‏‏‏‏ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں «وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ» سے مراد بدر کا دن ہے اب اگر کوئی اپنی بری جماعت کی طرف آ جائے یا کسی قلعے میں پناہ لے تو میرے خیال میں تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ یزید بن ابی حبیب فرماتے ہیں کہ بدر والے دن جو بھاگے اس کیلئے دوزخ واجب تھی اس کے بعد جنگ احد ہوئی اس وقت یہ آیتیں اتریں «‏‏‏‏إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا ۖ وَلَقَدْ عَفَا اللَّـهُ عَنْهُمْ» ۱؎ [ 3- آل عمران: 155 ] ‏‏‏‏ تک۔ اس کے سات سال بعد جنگ حنین ہوئی جس کے بارے میں قرانی ذکر ہے آیت «‏‏‏‏ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ» ۱؎ [ 9- التوبہ: 25 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر اللہ نے جس کی چاہی توبہ قبول فرمائی۔ ‘ اور آیت میں ہے «ثُمَّ يَتُوبُ اللَّـهُ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ» ۱؎ [ 9- التوبہ: 27 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر اللہ اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے۔‘ ابوداؤد نسائی مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے کہ ابوسعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت بدریوں کے بارے میں اتری ہے۱؎ [سنن ابوداود:2648،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن یہ یاد رہے کہ گویہ مان لیا جائے کہ سبب نزول اس آیت کا بدری لوگ ہیں مگر لڑائی سے منہ پھیرنا تو حرام ہے جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گذرا کہ سات ہلاک کرنے والے گناہوں میں ایک یہ بھی ہے اور یہی مذہب جمہور کا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
15۔ 1 زَ حْفًا کے معنی ہیں ایک دوسرے کے مقابل اور دوبدو ہونا۔ یعنی مسلمان اور کافر جب ایک دوسرے کے بالمقابل صف آرا ہوں تو پیٹھ پھیر کا بھاگنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایک حدیث میں ہے اَ جْتَنِبُوْا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ ' سات ہلاک کردینے والی چیزوں سے بچو ان سات میں ایک واتّوَلَیِ یَوم الزَّحْفِ (مقابلے والے دن پیٹھ پھیر جانا ہے)
(آیت 15) {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا …:” زَحَفَ الصَّبِيُّ “} جب بچہ زمین پر گھسٹتا ہوا چلے۔{” زَحَفَ الْجَيْشُ “} بڑا لشکر بھی چونکہ آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے، اس لیے لشکر کے بڑھنے کو بھی {” زَحَفَ“} کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ دشمن جب مقابلے کے لیے میدان میں سامنے آ کھڑا ہو تو بھاگو نہیں۔ یہ حکم صرف بدر ہی میں نہیں تھا بلکہ یہ حکم سب مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے ہے۔ متعدد احادیث میں کفار سے مقابلے کے وقت بھاگنے کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔“ ان میں سے ایک دشمن سے مڈ بھیڑ کے وقت پیٹھ پھیرنا ہے۔ [ بخاری، الوصایا، باب قول اللہ تعالٰی: «‏‏‏‏إن الذین یأکلون…» : ۲۷۶۶ ] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لیے بزدلی سے پناہ کی کئی دعائیں سکھائی ہیں، چنانچہ آپ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: [ اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ أَنْ اُرَدَّ اِلٰی اَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ ] [ بخاری، الدعوات، باب الاستعاذۃ من أرذل العمر…: ۶۳۷۴، عن سعد رضی اللہ عنہ ] انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی منزل پر اترتے تو میں کثرت سے آپ کو یہ پڑھتے ہوئے سنتا: [ اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُبِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَ ضَلَعِ الدَّيْنِ وَ غَلَبَةِ الرِّجَالِ ] [ بخاری، الجھاد والسیر، باب من غذا بصبی للخدمۃ: ۲۸۹۳ ]
وَ مَنۡ یُّوَلِّہِمۡ یَوۡمَئِذٍ دُبُرَہٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوۡ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ فَقَدۡ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ مَاۡوٰىہُ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری، الا یہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دُوسری فوج سے جا ملنے کے لیے، تو وہ اللہ کے غضب میں گھِر جائے گا، اُس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، اور وہ بہت بُری جائے بازگشت ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو شخص ان سے اس موقع پر پشت پھیرے گا مگر ہاں جو لڑائی کے لیے پینترا بدلتا ہو یا جو (اپنی) جماعت کی طرف پناه لینے آتا ہو وه مستثنیٰ ہے۔ باقی اور جو ایسا کرے گا وه اللہ کے غضب میں آجائے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا وه بہت ہی بری جگہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جو اس دن انہیں پیٹھ دے گا مگر لڑائی کا ہنرَ کرنے یا اپنی جماعت میں جاملنے کو، تو وہ اللہ کے غضب میں پلٹا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا بری جگہ ہے پلٹنے کی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو ایسے (جنگ والے) موقع پر ان کو پیٹھ دکھائے گا۔ سوا اس کے جو جنگی چال کے طور پر ہٹ جائے۔ یا کسی (اپنے) فوجی دستہ کے پاس جگہ لینے کے لیے ایسا کرے (کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے) تو وہ خدا کے قہر و غضب میں آجائے گا۔ اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہوگا۔ اور وہ بہت بری جائے بازگشت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو کوئی اس دن ان سے اپنی پیٹھ پھیرے، ماسوائے اس کے جو لڑائی کے لیے پینترا بدلنے والا ہو، یا کسی جماعت کی طرف پناہ لینے والا ہو تو یقینا وہ اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ لوٹنے کی بری جگہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شہیدان وفا کے قصے ٭٭

جہاد کے میدان میں جو مسلمان بھی بھاگ کھڑا ہوا اس کی سزا اللہ کے ہاں جہنم کی آگ ہے۔ جب لشکر کفار سے مڈبھیڑ ہو جائے اس وقت پیٹھ پھیڑ ہو جائے اس وقت پیٹھ پھیرنا حرام ہے ہاں اس شخص کے لیے جو فن جنگ کے طور پر پینترا بدلے یا دشمن کو اپنے پیچھے لگا کر موقعہ پر وار کرنے کے لیے بھاگے یا اس طرح لشکر پیچھے ہٹے اور دشمن کو گھات میں لے کر پھر ان پر اچانک چھاپہ مار دے تو بیشک اس کیلئے پیٹھ پھیرنا جائز ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں جانا ہو جہاں چھوٹے سے لشکر سے بڑے لشکر کا ٹکراؤ ہو یا امام اعظم سے ملنا ہو تو وہ بھی اس میں داخل ہے۔ مسند احمد میں ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تھا میں بھی اس میں ہی تھا لوگوں میں بھگدڑ مچی میں بھی بھاگا ہم لوگ بہت ہی نادم ہوئے کہ ہم اللہ کی راہ سے بھاگے ہیں اللہ کا غضب ہم پر ہے ہم اب مدینے جائیں اور وہاں رات گذار کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوں اگر ہماری توبہ کی کوئی صورت نکل آئے تو خیر ورنہ ہم جنگوں میں نکل جائیں۔ چنانچہ نماز فجر سے پہلے ہم جا کر بیٹھ گئے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ { تم کون لوگ ہو؟ } ہم نے کہا بھاگنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں بلکہ تم لوٹنے والے ہو میں تمہاری جماعت ہوں اور میں تمام مسلمانوں کی جماعت ہوں۔ } ہم نے بےساختہ آگے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ چوم لیے۔۱؎ [سنن ترمذي:1716،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابوداؤد و ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہہ کر فرماتے ہیں ہم اسے ابن ابی زیاد کے علاوہ کسی کی حدیث سے پہچانتے نہیں۔

ابن ابی حاتم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد آپ کا اس آیت «أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَى فِئَةٍ» کا تلاوت کرنا بھی مذکور ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2647،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابوعبیدہ جنگ فارس میں ایک پل پر گھیر لیے گئے مجوسیوں کے ٹڈی دل لشکروں نے چاروں طرف سے آپ کو گھیر لیا موقعہ تھا کہ آپ ان میں سے بچ کر نکل آتے لیکن آپ نے مردانہ وار اللہ کی راہ میں جام شہادت نوش فرمایا جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا اگر وہ وہاں سے میرے پاس چلے آتے تو ان کے لیے جائز تھا کیونکہ میں مسلمانوں کی جماعت ہوں مجھ سے مل جانے میں کوئی حرج نہیں اور روایت میں ہے میں تمام مسلمانوں کی جماعت ہوں۔ اور روایت میں ہے کہ تم اس آیت کا غلط مطلب نہ لینا یہ واقعہ بدر کے متعلق ہے۔ اب تمام مسلمانوں کیلئے وہ فعتہ جس کی طرف پناہ لینے کے لیے واپس مڑنا جائز ہے، میں ہوں۔ ابن عمر سے نافع نے سوال کیا کہ ہم لوگ دشمن کی لڑائی کے وقت ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور ہمیں یہ معلوم نہیں کہ فئتہ سے مراد امام لشکر ہے یا مسلمانوں کو جنگی مرکز آپ نے فرمایا فئتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے میں نے اس آیت «إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ» کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا یہ آیت بدر کے دن اتری ہے نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد۔ «مُتَحَيِّزًا» کے معنی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پناہ لینے والا۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں لشکر کفار سے بھاگ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس پناہ لے اس کے لیے جائز ہے۔ آج بھی امیر اور سالار لشکر کے پاس یا اپنے مرکز میں جو بھی آئے اس کیلئے یہی حکم ہے۔

ہاں اس صورت کے سوا نامردی اور بزدلی کے طور پر لشکر گاہ سے جو بھاگ کھڑا ہو لڑائی میں پشت دکھائے وہ جہنمی ہے اور اس پر اللہ کا غضب ہے وہ حرمت کے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو [۱] ‏‏‏‏ شرک باللہ [۲] ‏‏‏‏ جادو کرنا [۳] ‏‏‏‏ کسی کو نا حق قتل کردینا [۴] ‏‏‏‏ سود کھانا [۵] ‏‏‏‏ مالِ یتیم کھاجانا [۶] ‏‏‏‏ جہاد میں پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا [۷] ‏‏‏‏ پاک دامن اور بے گناہ عورتوں پر الزام لگانا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2766] ‏‏‏‏ یہ بات اور کئی طرح بھی ثابت ہے کہ یہ آیت بدر کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’ وہ بھاگے تو اللہ تعالیٰ کا غضب لے کر بھاگے گا۔ اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔‘ ۱؎ [مسند احمد:224/5:ضعیف] ‏‏‏‏ . بشر بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بیعت کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو بیعت کے لئے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط کی کہ { «لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ» کی گواہی دو، میری رسالت کو مانو، نماز پابندی سے پڑھو، زکواۃ دیتے رہو، حج کرو، رمضان کے روزے رکھو اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کروگے۔ } میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس میں دو باتیں میرے لئے دشوار ہیں ایک تو جہاد کہ اگر بہ حالت جنگ کوئی پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گا تو اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہوجائے گا اور مجھے خوف ہے کہ موت سے گھبرا کر کہیں مجھ سے یہ گناہ سرزد نہ ہوجائے۔ دوسرے صدقہ سو اللہ تعالیٰ کی قسم مجھے غنیمت اور اس کے سوا کچھ نہیں ملتا ہے اور دس اونٹنیاں ہیں جن کا دودھ دوھ لیا، پیا پلایا، اس پر سواری کرلی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام لیا اس کو ہلایا اور کہا { جہاد بھی نہ کرو گے، صدقہ بھی نہ دوگے تو پھر جنت کا استحقاق کیسے حاصل کروگے۔} میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے منظور ہے میں ہر شرط پر بیعت کروں گا۔۱؎ [مسند احمد:224/5:ضعیف] ‏‏‏‏

طبرانی میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ تین گناہوں کے ساتھ کوئی نیکی نفع نہیں دیتی اللہ کے ساتھ شرک، ماں باپ کی نافرمانی، لڑائی سے بھاگنا، یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1384] ‏‏‏‏ اسی طرح طبرانی میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جس نے دعا «أَسْتَغْفِرُ اللہ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» پڑھ لیا اس کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں گو وہ لڑائی سے بھاگا ہو۔} ۱؎ [سنن ترمذي:3577،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتاتے ہیں اور نبی کریم کے مولیٰ زید رضی اللہ عنہ اس کے راوی ہیں۔ ان سے اس کے سوا کوئی حدیث نظر سے نہیں گزری۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ بھاگنے کی حرمت کا یہ حکم صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مخصوص تھا اس لیے کہ ان پر جہاد فرض عین تھا اور کہا گیا ہے کہ انصار کے ساتھ ہی مخصوص تھا اسلئے کہ ان کی بیعت سننے اور ماننے کی تھی خوشی میں بھی اور ناخوشی میں بھی۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ یہ خاص تھا کیونکہ ان کی کوئی جماعت تھی ہی نہیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ { اے اللہ اگر تو اس جماعت کو ہلاک کر دے گا تو پھر زمین میں تیری عبادت نہ کی جائے گی۔} ۱؎ [صحیح مسلم:1763] ‏‏‏‏ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں «وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ» سے مراد بدر کا دن ہے اب اگر کوئی اپنی بری جماعت کی طرف آ جائے یا کسی قلعے میں پناہ لے تو میرے خیال میں تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ یزید بن ابی حبیب فرماتے ہیں کہ بدر والے دن جو بھاگے اس کیلئے دوزخ واجب تھی اس کے بعد جنگ احد ہوئی اس وقت یہ آیتیں اتریں «‏‏‏‏إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا ۖ وَلَقَدْ عَفَا اللَّـهُ عَنْهُمْ» ۱؎ [ 3- آل عمران: 155 ] ‏‏‏‏ تک۔ اس کے سات سال بعد جنگ حنین ہوئی جس کے بارے میں قرانی ذکر ہے آیت «‏‏‏‏ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ» ۱؎ [ 9- التوبہ: 25 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر اللہ نے جس کی چاہی توبہ قبول فرمائی۔ ‘ اور آیت میں ہے «ثُمَّ يَتُوبُ اللَّـهُ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ» ۱؎ [ 9- التوبہ: 27 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ پھر اللہ اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے۔‘ ابوداؤد نسائی مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے کہ ابوسعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت بدریوں کے بارے میں اتری ہے۱؎ [سنن ابوداود:2648،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن یہ یاد رہے کہ گویہ مان لیا جائے کہ سبب نزول اس آیت کا بدری لوگ ہیں مگر لڑائی سے منہ پھیرنا تو حرام ہے جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گذرا کہ سات ہلاک کرنے والے گناہوں میں ایک یہ بھی ہے اور یہی مذہب جمہور کا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
16۔ 1 گزشتہ آیت میں پیٹھ پھیرنے سے جو منع کیا گیا ہے، دو صورتیں اس سے مستشنٰی ہیں۔ ایک تحرف کی دوسری تحیز کی تَحَرُّفْ کے معنی ہیں ایک طرف پھرجانا، یعنی لڑائی میں جنگی چال کے طور پر یا دشمن کو دھوکے میں ڈالنے کی غرض سے لڑتا لڑتا ایک طرف پھر جائے، دشمن یہ سمجھے کہ شاید یہ شکت خوردہ ہو کر بھاگ رہا ہے لیکن وہ پھر ایک دم پینترا بدل کر اچانک دشمن پر حملہ کردے۔ یہ پیٹھ پھیرنا نہیں ہے بلکہ یہ جنگی چال ہے جو بعض دفعہ ضروری ہوتی ہے۔ تَحَیُّزُ کے معنی ملنے اور پناہ لینے کے ہیں، کوئی مجاہد لڑتا لڑتا تنہا رہ جائے تو یہ لطائف الحیل میدان جنگ سے ایک طرف ہوجائے، تاکہ وہ اپنی جماعت کی طرف پناہ حاصل کرسکے اور اس کی مدد سے دوبارہ حملہ کرے۔ یہ دونوں صورتیں جائز ہیں۔ 16۔ 2 یعنی مذکورہ دو صورتوں کے علاوہ کوئی شخص میدان جنگ سے پیٹھ پھیرے گا، اس کے لئے سخت وعید ہے۔
(آیت 16) {اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰى فِئَةٍ:مُتَحَرِّفًا “ ” تَحَرَّفَ “} سے اسم فاعل ہے، جس کا معنی ایک طرف ہونا ہے، یعنی ایک طرف سے دوسری طرف دشمن کو دھوکا دینے کے لیے پلٹنا، پینترا بدلنا۔ {” مُتَحَيِّزًا “ ” تَحَيَّزَ “ } سے ہے، کسی جگہ اکٹھا ہونا، یعنی دشمن کو گھیرنے کے لیے یا ان کو دھوکا دینے کے لیے ایک طرف سے دوسری طرف پلٹنا یا پیچھے ہٹنا یا مسلمانوں کی بڑی جماعت کی طرف پناہ کے لیے اور دوبارہ حملے کے لیے لوٹ آنا گناہ نہیں، یعنی اللہ کا غضب اور جہنم کا ٹھکانا ہونا تو جنگ سے بھاگنے والے پر ہے، اگر فنون حرب کے تحت میدان چھوڑ کر پیچھے ہٹ جائے تو گناہ نہیں۔
فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡہُمۡ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَہُمۡ ۪ وَ مَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ۚ وَ لِیُبۡلِیَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡہُ بَلَآءً حَسَنًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور تو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا (اور مومنوں کے ہاتھ جو اِس کام میں استعمال کیے گئے) تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے، یقیناً اللہ سُننے والا اور جاننے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
سو تم نے انہیں قتل نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل کیا۔ اور آپ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے وه پھینکی اور تاکہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے ان کی محنت کا خوب عوض دے بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا، اور اے محبوب! وہ خاک جو تم نے پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی اور اس لیے کہ مسلمانوں کو اس سے اچھا انعام عطا فرمائے، بیشک اللہ سنتا جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے مسلمانو) تم نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے قتل کیا اور (اے رسول(ص)) وہ سنگریزے تو نے نہیں پھینکے جبکہ تو نے پھینکے بلکہ خدا نے پھینکے (یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ) خدا اہلِ ایمان پر خوب احسان فرمائے (یا اللہ اس کے ذریعہ سے ایمان والوں کو بہترین آزمائش میں ڈال کر آزمائے) یقینا اللہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پس تم نے انھیں قتل نہیں کیا اور لیکن اللہ نے انھیں قتل کیا اور تو نے نہیں پھینکا جب تو نے پھینکا اور لیکن اللہ نے پھینکا اور تاکہ وہ مومنوں کو انعام عطا کرے، اپنی طرف سے اچھا انعام، بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی مدد ہی وجہ کامرانی ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ بندوں کے کل کاموں کا خالق وہی ہے ان سے جو بھی اچھائیاں سرزد ہوں اس پر قابل تعریف وہی ہے اس لیے کہ توفیق اسی کی طرف سے ہے اور اعانت و مدد بھی اسی کی جانب سے ہے اسی لیے فرماتا ہے کہ ’ اے مسلمانوں تم نے آپ اپنی طاقت و قوت سے اپنے دشمنوں کو قتل نہیں کیا تم تو مٹی بھر تھے اور دشمن بہت زیادہ تھے تم بیکس اور کمزور تھے دشمن کس بل والے قوت طاقت والے تھے۔ یہ اللہ ہی کی مدد تھی کہ اس نے تمہیں ان پر غالب کر دیا ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» ۱؎ [ 3- آل عمران: 123 ] ‏‏‏‏، ’ اللہ نے بدر کے دن تمہاری مدد کی ‘ اور آیت میں ہے آیت «‏‏‏‏لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ» ۱؎ [ 9- التوبہ: 25 ] ‏‏‏‏، ’ بہت سی جگہ اللہ جل شانہ نے تمہاری امداد فرمائی ہے، حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں اپنی زیادتی پر گھمنڈ ہوا لیکن وہ بیکارثابت ہوئی اور یہ وسیع زمین تم پر تنگ ہو گئی اور آخر منہ موڑ کر تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ ‘ پس ثابت ہے کہ گنتی کی زیادتی، ہتھیاروں کی عمدگی اور سازو سامان کی فروانی پر غلبہ موقوف نہیں وہ تو اللہ کی مدد پر موقوف ہے۔ جیسے ارشاد الٰہی ہے آیت «كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِينَ» [ 2-البقرة: 249 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ بسا اوقات چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے بڑے بڑے لشکروں کے منہ پھیر دیئے ہیں اور ان پر غلبہ حاصل کر لیا ہے یہ سب اللہ کے حکم اور اس کی مدد سے ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ‘ پھر مٹی کی اس مٹھی کا ذکر ہو رہا ہے «وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ رَمَىٰ» جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی میں کافروں کی طرف پھینکی تھی پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جھونپڑی میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔

روئے، گڑگڑائے اور مناجات کر کے باہر نکلے اور کنکریوں کی ایک مٹھی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی اور فرمایا: { ان کے چہرے بگڑ جائیں، ان کے منہ پھر جائیں ساتھ ہی صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ فوراً عام حملہ کر دو۔} ادھر حملہ ہوا ادھر سے وہ کنکریاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے کافروں کی آنکھوں میں ڈال دیں۔ وہ سب اپنی آنکھیں مل ہی رہے تھے جو لشکر اسلام ان کے کلے پر پہنچ گیا۔ پس فرماتا ہے کہ وہ مٹھی تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکی تھی یعنی پھینکی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لیکن ان کی آنکھوں تک پہنچا کر انہیں شکست دینے والا اللہ تعالیٰ ہی تھا نہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کی جس میں یہ بھی کہا کہ { اے میرے پروردگار اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر کبھی بھی تیری عبادت زمین پر نہ کی جائے گی۔ } اسی وقت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ایک مٹھی زمین سے مٹی کی بھرلیں اور ان کے منہ کی طرف پھینک دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا پس مشرکین کے سارے لشکر کے منہ اور آنکھ اور نتھنوں میں وہ مٹی گھس گئی اور انہیں پیٹھ پھیرتے ہی بنی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15740:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ مسلمانوں نے ان کو قتل کرتے ہوئے ان کا پیچھا کیا اور قید کرلیا۔ کافروں کو یہ ہزیمت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے کے سبب ہوئی۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کنکر لئے تھے ایک سامنے پھینکا دو کنکر دشمن فوج کے سیدھی و بائیں طرف پھینکے تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15839:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { کنکریوں کی ایک مٹھی زمین سے بھر کر مجھے دو } سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مٹھی بھردی جس میں کنکریاں تھیں اور مٹی بھی۔ آپ نے مشرکوں کی طرف وہ مٹھی پھینکی جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15835:ضعیف] ‏‏‏‏

ادھر سے مسلمانوں نے ان پر حملہ کر دیا اور قتل کرنا اور قیمہ کرنا شروع کر دیا اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ یہ تیرے بس کی بات نہ تھی بلکہ یہ اللہ کے بس کی چیز تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ تین کنکر لے کر آپ نے پھینکے تھے ایک دائیں ایک بائیں ایک بیچ میں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15839:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ گو حنین والے دن بھی آپ نے کنکریاں مشرکوں کی طرف پھینکی تھیں لیکن یہاں ذکر جنگ بدر کے دن کا ہے۔ حکیم بن حزام کا بیان ہے کہ جنگ بدر کے دن ہم نے ایک آواز سنی کہ گویا آسمان سے کوئی کنکر کسی طشت میں گرا اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھینکی ہوئی کنکریاں ہم میں پہنچیں اور ہمیں شکست ہوئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15835:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت اس سند سے بہت غریب ہے۔ یہاں دو قول اور بھی ہیں لیکن بالکل غریب ہیں۔ ایک تو یہ کہ خیبر کی جنگ کے موقع پر یوم ابن ابی حقیق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کمان منگائی لوگوں نے بہت لمبی کمان لا کر آپ کو دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قلعے کی طرف تیر پھینکا وہ گھومتا ہوا چلا اور سردار قلعہ الوالحقیق کو اس کے گھر میں اس کے بسترے پر جا کر لگا اور اسی سے وہ مرا اس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ ’ وہ تیر تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکا تھا۔ ‘۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:443/13:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب ہے ممکن ہے راوی کو شبہ ہو گیا ہو یا مراد ان کی یہ ہو کہ یہ آیت عام ہے یہ واقعہ بھی اسی میں شامل ہے۔

ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ سورۃ الانفال کی اس آیت میں جنگ بدر کے بیان کا ذکر ہے۔ تو یہ واقعہ اسی جنگ بدر کا ہے اور یہ بات بالکل ظاہر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے «وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا» ’ تاکہ مومنوں کو اپنی نعمت کا اقرار کرا دے کہ باوجود ان کی کثرت ان کی قلت، ان کے سازو سامان ان کی بےسرو سامانی کے رب العالمین نے انہیں ان پر غالب کر دیا۔‘ حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ نے بڑا اچھا امتحان ہم سے لیا ہے۔} «إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» ‏‏‏‏ ’ اللہ دعاؤں کا سننے والا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مدد اور غلبے کا مستحق کون ہے؟ ‘ پھر فرماتا ہے «ذَٰلِكُمْ وَأَنَّ اللَّـهَ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِينَ» ’ اس فتح کے ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سن لو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے حیلے حوالے کمزور کر دے گا ان کی شان گھٹا دے گا ان کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا ‘ اور یہی ہوا بھی۔
17۔ 1 یعنی جنگ بدر کی ساری صورت حال تمہارے سامنے رکھ دی گئی ہے اور جس جس طرح اللہ نے تمہاری وہاں مدد فرمائی، اس کی وضاحت کے بعد تم یہ نہ سمجھ لینا کہ کافروں کا قتل، یہ تمہارا کارنامہ ہے۔ نہیں، بلکہ یہ اللہ کی اس مدد کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے تمہیں یہ فتح حاصل ہوئی اس لئے دراصل انہیں قتل کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ 17۔ 2 جنگ بدر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریوں کی ایک مٹھی بھر کر کافروں کی طرف پھینکی تھی، جسے ایک تو اللہ تعالیٰ نے کافروں کے مونہوں اور آنکھوں تک پہنچادیا اور دوسرے، اس میں یہ تاثیر پیدا فرمادی کہ اس سے ان کی آنکھیں چندھیا گئیں اور انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا، یہ معجزہ بھی، جو اس وقت اللہ کی مدد سے ظاہر ہوا، مسلمانوں کی کامیابی میں بہت مددگار ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اے پیغمبر! کنکریاں بیشک آپ نے پھینکی تھیں، لیکن اس میں تاثیر ہم نے پیدا کی تھی، اگر ہم اس میں یہ تاثیر پیدا نہ کرتے تو یہ کنکریاں کیا کرسکتی تھیں؟ اس لئے یہ بھی دراصل ہمارا ہی کام تھا نہ کہ آپ کا۔ 17۔ 3 بلاء یہاں نعمت کے معنی میں ہے۔ یعنی اللہ کی یہ تائید و نصرت، اللہ کا انعام ہے جو مومنوں پر ہوا۔
(آیت 17) ➊ {فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ …:} صاحب کشاف نے فرمایا، یہاں حرف ”فاء“ یعنی ”پس “ ایک شرط کا جواب ہے کہ اگر تم فخر کرو کہ ہم نے یہ کیا وہ کیا تو درست نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم نے انھیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انھیں قتل کیا، کیونکہ نہ تمھاری تعداد زیادہ تھی اور نہ تمھارے پاس اتنا سروسامان تھا کہ تم کافروں کے ہر طرح سے مسلح اور عظیم لشکر کو شکست دے سکتے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ اس لیے فرمایا کہ مسلمان یہ سمجھیں کہ فتح ہماری قوت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہے، لہٰذا ان کو چاہیے کہ کسی بات میں اپنا دخل نہ دیا کریں۔ (موضح) ➋ { وَ مَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ:} یعنی وہ مٹھی جو آپ نے پھینکی، درحقیقت آپ نے نہیں پھینکی، کیونکہ اگر وہ آپ کی پھینکی ہوئی ہوتی تو اتنی دور ہی جا سکتی جتنی ایک آدمی کے پھینکنے سے جا سکتی ہے، اس کو اتنا بڑھانا اور ٹھیک نشانے پر پہنچانا کہ ہر مشرک کی آنکھ میں پہنچ جائے صرف اللہ تعالیٰ کا کام تھا۔ یہ اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جو حافظ ابن کثیر نے علی بن طلحہ عن ابن عباس رضی اللہ عنھما کی حسن سند سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا: ”یا رب! اگر یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو پھر زمین میں تیری عبادت کبھی نہیں ہوگی۔“ تو جبریل علیہ السلام نے کہا: ”آپ مٹی کی ایک مٹھی لیں اور ان کے چہروں پر پھینکیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کی ایک مٹھی پکڑی اور ان کے چہروں کی طرف پھینکی تو جو بھی مشرک تھا اس کی آنکھوں، نتھنوں اور منہ میں اس مٹھی کا کچھ حصہ جا پہنچا تو وہ پیٹھ دے کر بھاگ گئے۔ گویا مٹی پھینکی آپ نے لیکن اس کو نشانے تک اللہ نے پہنچایا، ابتدائی کام پھینکنا آپ کا تھا اور انتہا نشانے پر لگانا اللہ کا فعل تھا۔ اگر درحقیقت خود آپ ہی اللہ تعالیٰ تھے تو دونوں فعل آپ کے ہوئے، آپ سے ایک فعل (نشانے پر لگانے) کی نفی کیوں کی گئی؟ ➌ بعض لوگ {” مَا رَمَيْتَ “} سے ثابت کرتے ہیں کہ درحقیقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی پروردگار عالم تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے پھینکنے کو اپنا پھینکنا قرار دیا، مگر اس صورت میں تو لازم آئے گا کہ {” وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ “} سے بدری مسلمان بھی خود اللہ تعالیٰ ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کفار کے قتل کرنے کو اپنا کام قرار دیا ہے۔ مگر یہ نہایت کفریہ بات ہے جس سے دین اسلام کی جڑ ہی کٹ جاتی ہے۔ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کچھ بدر ہی میں شہید ہوئے، کچھ بعد میں فوت یا شہید ہوئے، خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زہر کے اثر سے وفات پائی اور اللہ تعالیٰ تو ہمیشہ زندہ حی و قیوم ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ہستی تو ایک ہی ہے، فرمایا: «{ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ }» ان لوگوں کا رب عجیب ہے، جو ایک نہیں بلکہ بڑی تعداد میں ہے اور وہ شہید ہوتا اور مرتا بھی ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہندوؤں کی طرح ہر چیز کو رب مانتے ہیں اور اسے وحدت الوجود کہتے ہیں۔ جس کا نتیجہ قرآن و حدیث کے احکام کا خاتمہ اور اسلام و کفر اور جنت و دوزخ سب کے وجود کا انکار ہے۔ [ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ] ➍ { وَ لِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِيْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا:لِيُبْلِيَ “} یہ {” بَلَاءٌ“} سے مشتق ہے، از باب افعال، آزمانا، جو سختی اور مصیبت کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور نعمت عطا فرما کر بھی، اس لیے {” بَلَاءٌ“} کا معنی مصیبت بھی ہے اور انعام بھی۔ یہاں مراد انعام یا احسان اور عطا کے ساتھ آزمانا ہے۔ یعنی باوجود یہ کہ مسلمانوں کا سامان اور لشکر کافروں کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں فتح دی، تاکہ وہ اس نعمت کو پہچانیں اور اس کا شکر بجا لائیں۔
ذٰلِکُمۡ وَ اَنَّ اللّٰہَ مُوۡہِنُ کَیۡدِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے اور کافروں کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ اللہ ان کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(ایک بات تو) یہ ہوئی اور (دوسری بات یہ ہے) اللہ تعالیٰ کو کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنا تھا
احمد رضا خان بریلوی
یہ تو لو اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ اللہ کافروں کا داؤ سست کرنے والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہو چکا ہے اور (کفار کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ) اللہ ان کی مخفی تدبیروں کو کمزور کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بات یہ ہے! اور یہ کہ اللہ کافروں کی خفیہ تدبیر کو کمزور کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی مدد ہی وجہ کامرانی ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ بندوں کے کل کاموں کا خالق وہی ہے ان سے جو بھی اچھائیاں سرزد ہوں اس پر قابل تعریف وہی ہے اس لیے کہ توفیق اسی کی طرف سے ہے اور اعانت و مدد بھی اسی کی جانب سے ہے اسی لیے فرماتا ہے کہ ’ اے مسلمانوں تم نے آپ اپنی طاقت و قوت سے اپنے دشمنوں کو قتل نہیں کیا تم تو مٹی بھر تھے اور دشمن بہت زیادہ تھے تم بیکس اور کمزور تھے دشمن کس بل والے قوت طاقت والے تھے۔ یہ اللہ ہی کی مدد تھی کہ اس نے تمہیں ان پر غالب کر دیا ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» ۱؎ [ 3- آل عمران: 123 ] ‏‏‏‏، ’ اللہ نے بدر کے دن تمہاری مدد کی ‘ اور آیت میں ہے آیت «‏‏‏‏لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ» ۱؎ [ 9- التوبہ: 25 ] ‏‏‏‏، ’ بہت سی جگہ اللہ جل شانہ نے تمہاری امداد فرمائی ہے، حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں اپنی زیادتی پر گھمنڈ ہوا لیکن وہ بیکارثابت ہوئی اور یہ وسیع زمین تم پر تنگ ہو گئی اور آخر منہ موڑ کر تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ ‘ پس ثابت ہے کہ گنتی کی زیادتی، ہتھیاروں کی عمدگی اور سازو سامان کی فروانی پر غلبہ موقوف نہیں وہ تو اللہ کی مدد پر موقوف ہے۔ جیسے ارشاد الٰہی ہے آیت «كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِينَ» [ 2-البقرة: 249 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ بسا اوقات چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے بڑے بڑے لشکروں کے منہ پھیر دیئے ہیں اور ان پر غلبہ حاصل کر لیا ہے یہ سب اللہ کے حکم اور اس کی مدد سے ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ‘ پھر مٹی کی اس مٹھی کا ذکر ہو رہا ہے «وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ رَمَىٰ» جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی میں کافروں کی طرف پھینکی تھی پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جھونپڑی میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔

روئے، گڑگڑائے اور مناجات کر کے باہر نکلے اور کنکریوں کی ایک مٹھی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی اور فرمایا: { ان کے چہرے بگڑ جائیں، ان کے منہ پھر جائیں ساتھ ہی صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ فوراً عام حملہ کر دو۔} ادھر حملہ ہوا ادھر سے وہ کنکریاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے کافروں کی آنکھوں میں ڈال دیں۔ وہ سب اپنی آنکھیں مل ہی رہے تھے جو لشکر اسلام ان کے کلے پر پہنچ گیا۔ پس فرماتا ہے کہ وہ مٹھی تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکی تھی یعنی پھینکی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لیکن ان کی آنکھوں تک پہنچا کر انہیں شکست دینے والا اللہ تعالیٰ ہی تھا نہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کی جس میں یہ بھی کہا کہ { اے میرے پروردگار اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر کبھی بھی تیری عبادت زمین پر نہ کی جائے گی۔ } اسی وقت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ایک مٹھی زمین سے مٹی کی بھرلیں اور ان کے منہ کی طرف پھینک دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا پس مشرکین کے سارے لشکر کے منہ اور آنکھ اور نتھنوں میں وہ مٹی گھس گئی اور انہیں پیٹھ پھیرتے ہی بنی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15740:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ مسلمانوں نے ان کو قتل کرتے ہوئے ان کا پیچھا کیا اور قید کرلیا۔ کافروں کو یہ ہزیمت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے کے سبب ہوئی۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کنکر لئے تھے ایک سامنے پھینکا دو کنکر دشمن فوج کے سیدھی و بائیں طرف پھینکے تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15839:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { کنکریوں کی ایک مٹھی زمین سے بھر کر مجھے دو } سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مٹھی بھردی جس میں کنکریاں تھیں اور مٹی بھی۔ آپ نے مشرکوں کی طرف وہ مٹھی پھینکی جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15835:ضعیف] ‏‏‏‏

ادھر سے مسلمانوں نے ان پر حملہ کر دیا اور قتل کرنا اور قیمہ کرنا شروع کر دیا اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ یہ تیرے بس کی بات نہ تھی بلکہ یہ اللہ کے بس کی چیز تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ تین کنکر لے کر آپ نے پھینکے تھے ایک دائیں ایک بائیں ایک بیچ میں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15839:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ گو حنین والے دن بھی آپ نے کنکریاں مشرکوں کی طرف پھینکی تھیں لیکن یہاں ذکر جنگ بدر کے دن کا ہے۔ حکیم بن حزام کا بیان ہے کہ جنگ بدر کے دن ہم نے ایک آواز سنی کہ گویا آسمان سے کوئی کنکر کسی طشت میں گرا اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھینکی ہوئی کنکریاں ہم میں پہنچیں اور ہمیں شکست ہوئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15835:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت اس سند سے بہت غریب ہے۔ یہاں دو قول اور بھی ہیں لیکن بالکل غریب ہیں۔ ایک تو یہ کہ خیبر کی جنگ کے موقع پر یوم ابن ابی حقیق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کمان منگائی لوگوں نے بہت لمبی کمان لا کر آپ کو دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قلعے کی طرف تیر پھینکا وہ گھومتا ہوا چلا اور سردار قلعہ الوالحقیق کو اس کے گھر میں اس کے بسترے پر جا کر لگا اور اسی سے وہ مرا اس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ ’ وہ تیر تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکا تھا۔ ‘۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:443/13:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب ہے ممکن ہے راوی کو شبہ ہو گیا ہو یا مراد ان کی یہ ہو کہ یہ آیت عام ہے یہ واقعہ بھی اسی میں شامل ہے۔

ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ سورۃ الانفال کی اس آیت میں جنگ بدر کے بیان کا ذکر ہے۔ تو یہ واقعہ اسی جنگ بدر کا ہے اور یہ بات بالکل ظاہر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے «وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا» ’ تاکہ مومنوں کو اپنی نعمت کا اقرار کرا دے کہ باوجود ان کی کثرت ان کی قلت، ان کے سازو سامان ان کی بےسرو سامانی کے رب العالمین نے انہیں ان پر غالب کر دیا۔‘ حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ نے بڑا اچھا امتحان ہم سے لیا ہے۔} «إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» ‏‏‏‏ ’ اللہ دعاؤں کا سننے والا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مدد اور غلبے کا مستحق کون ہے؟ ‘ پھر فرماتا ہے «ذَٰلِكُمْ وَأَنَّ اللَّـهَ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِينَ» ’ اس فتح کے ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سن لو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے حیلے حوالے کمزور کر دے گا ان کی شان گھٹا دے گا ان کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا ‘ اور یہی ہوا بھی۔
18۔ 1 دوسرا مقصد اس کا کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنا اور ان کی قوت و شوکت کو توڑنا تھا۔
(آیت 18) {ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَيْدِ الْكٰفِرِيْنَ:} یعنی یہ بات تو ہے ہی جس کا ذکر گزرا، یعنی فرشتوں کے ساتھ مدد، بارش برسانا، اونگھ ڈالنا، مشرکین کی آنکھوں میں خاک ڈالنا، ان کے ستر آدمیوں کا قتل اور ستر کا قید ہونا اور مسلمانوں کو فتح عظیم عطا ہونا وغیرہ، اس کے ساتھ مزید سنو کہ اللہ آئندہ بھی کفار کی سازشوں کو کمزور کر دے گا اور یہ اپنی کسی سازش میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ (ابن کثیر) یا یہ کہ انھوں نے جو یہ منصوبہ بنایا تھا کہ اپنے تجارتی قافلے کو بچا لے جائیں گے اور مسلمانوں کا زور بھی توڑ دیں گے، ان کا منصوبہ خاک میں ملا دیا، وہ خود مارے گئے اور تمھارے ہاتھوں قیدی بن گئے اور بھاری جانی و مالی نقصان اٹھا کر پسپا ہوئے۔
اِنۡ تَسۡتَفۡتِحُوۡا فَقَدۡ جَآءَکُمُ الۡفَتۡحُ ۚ وَ اِنۡ تَنۡتَہُوۡا فَہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ وَ اِنۡ تَعُوۡدُوۡا نَعُدۡ ۚ وَ لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡکُمۡ فِئَتُکُمۡ شَیۡئًا وَّ لَوۡ کَثُرَتۡ ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اِن کافروں سے کہہ دو) “اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو، فیصلہ تمہارے سامنے آ گیا اب باز آ جاؤ تو تمہارے ہی لیے بہتر ہے، ورنہ پھر پلٹ کر اسی حماقت کا اعادہ کرو گے تو ہم بھی اسی سزا کا اعادہ کریں گے اور تمہاری جمعیت، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو، تمہارے کچھ کام نہ آ سکے گی اللہ مومنوں کے ساتھ ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر تم لوگ فیصلہ چاہتے ہو تو وه فیصلہ تمہارے سامنے آموجود ہوا اور اگر باز آجاؤ تو یہ تمہارے لیے نہایت خوب ہے اور اگر تم پھر وہی کام کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کام کریں گے اور تمہاری جمعیت تمہارے ذرا بھی کام نہ آئے گی گو کتنی زیاده ہو اور واقعی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے کافرو! اگر تم فیصلہ مانگتے ہو تو یہ فیصلہ تم پر آچکا اور اگر با ز ا ٓ ؤ تو تمہارا بھلا ہے اور اگر تم پھر شرارت کرو تو ہم پھر نہ دیں گے اور تمہارا جتھا تمہیں کچھ کام نہ دے گا چاہے کتنا ہی بہت ہو اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے کفارِ مکہ) اگر تم فتحمندی کے طلبگار ہو (کہ جو حق پر ہے اس کی فتح ہو) تو (مسلمانوں کی) فتح تمہارے سامنے آگئی! اور اگر تم اب بھی (جنگ و جدال) سے باز آجاؤ تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر پلٹ کر پھر وہی (شرارت) کروگے تو ہم بھی وہی کریں گے (مسلمانوں کی نصرت کریں گے اور تمہیں سزا دیں گے) اور تمہاری جمعیت چاہے کتنی ہی زیادہ ہو تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ بے شک اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اگر تم فیصلہ چاہو تو یقینا تمھارے پاس فیصلہ آ چکا اور اگر باز آجائو تو وہ تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر تم دوبارہ کرو گے تو ہم (بھی) دوبارہ کریں گے اور تمھاری جماعت ہر گز تمھارے کچھ کام نہ آئے گی، خواہ بہت زیادہ ہو اور (جان لو) کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایمان والوں کا متعین و مددگار اللہ عزاسمہ ٭٭

اللہ تعالیٰ کافروں سے فرما رہا ہے کہ «إِن تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ» ’ تم یہ دعائیں کرتے تھے کہ ہم میں اور مسلمانوں میں اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے جو حق پر ہوا سے غالب کر دے اور اس کی مد فرمائے تو اب تمہاری یہ خواہش بھی پوری ہو گئی مسلمان بحکم الٰہی اپنے دشمنوں پر غالب آ گئے۔‘ ۱؎ [سنن نسائی:221،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوجہل نے بدر والے دن کہا تھا کہ اے اللہ ہم میں سے جو رشتوں ناتوں کا توڑنے والا ہو اور غیر معروف چیز لے کر آیا ہو اسے توکل کی لڑائی میں شکست دے پس اللہ تعالیٰ نے یہی کیا اور یہ اور اس کا لشکر ہار گئے، مکے سے نکلنے سے پہلے ان مشرکوں نے خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر دعا کی تھی کہ الٰہی دونوں لشکروں میں سے تیرے نزدیک جو اعلیٰ ہو اور زیادہ بزرگ ہو اور زیادہ بہتری والا ہو تو اس کی مدد کر۔ پس اس آیت میں ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ ’ لو اللہ کی مدد آ گئی تمہارا کہا ہوا پورا ہو گیا۔ ہم نے اپنے نبی کو جو ہمارے نزدیک بزرگ، بہتر اور اعلیٰ تھے غالب کر دیا۔‘ خود قرآن نے ان کی دعا نقل کی ہے کہ یہ کہتے تھے دعا «وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» ۱؎ [ 8- الانفال: 32 ] ‏‏‏‏، ’ الٰہی اگر یہ تیری جانب سے راست ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور درد ناک عذاب ہم پر لا۔‘ پھر فرماتا ہے «وَإِن تَعُودُوا نَعُدْ وَلَن تُغْنِيَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْئًا وَلَوْ كَثُرَتْ» کہ ’ اگر اب بھی تم اپنے کفر سے باز آ جاؤ تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کو نہ جھٹلاؤ تو دونوں جہان میں بھلائی پاؤ گے۔ ‘ اور «وَإِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا» ۱؎ [ 17-الاسراء: 8 ] ‏‏‏‏ ’ اگر پھر تم نے یہی کفر و گمراہی کو تو ہم بھی اسی طرح مسلمانوں کے ہاتھوں تمہیں پست کریں گے۔ اگر تم نے پھر اسی طرح فتح مانگی تو ہم پھر اپنے نیک بندوں پر اپنی مدد اتاریں گے ‘ لیکن اول قول قوی ہے۔ یاد رکھو گو تم سب کے سب مل کر چڑھائی کرو تمہاری تعداد کتنی ہی بڑھ جائے اپنے تمام لشکر جمع کر لو لیکن سب تدبیریں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو اسے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا۔ «وَأَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ» ظاہر ہے کہ ’ خالق کائنات مومنوں کے ساتھ ہے‘ اس لیے کہ وہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔
19۔ 1 ابو جہل وغیرہ روسائے قریش نے مکہ سے نکلتے وقت دعا کی تھی کہ ' اللہ ہم میں سے جو تیرا زیادہ نافرمان اور قاطع رحم ہے، کل کو تو اسے ہلاک کردے ' اپنے طور پر وہ مسلمانوں کو قاطع رحم اور نافرمان سمجھتے تھے، اس لئے اس قسم کی دعا کی۔ اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمادی تو اللہ تعالیٰ ان کافروں سے کہہ رہا ہے کہ فتح یعنی حق اور باطل کے درمیان فیصلہ طلب کر رہے تھے تو وہ فیصلہ تو سامنے آچکا ہے، اس لئے اب تم کفر سے باز آجاؤ، تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر پھر تم دوبارہ مسلمانوں کے مقابلے میں آؤ گے تو ہم بھی دوبارہ ان کی مدد کریں گے اور تمہاری جماعت کثرت کے باوجود تمہارے کچھ کام نہ آئے گی۔
(آیت 19) ➊ {اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ …:} فتح کا معنی یہاں فیصلہ ہے، جیسا کہ کفار کہتے تھے: «{ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ }» [ السجدۃ: ۲۸ ] ”یہ فیصلہ کب ہو گا، اگر تم سچے ہو؟“ عبد اللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ”جب (بدر کے دن) لوگ ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو ابوجہل نے کہا، اے اللہ! ہم میں سے جو شخص زیادہ رشتوں کو توڑنے والا اور ہمارے سامنے غیر معروف بات پیش کرنے والا ہے اسے آج صبح ہلاک کر دے، تو یہ فیصلہ طلب کرنے والا ابوجہل تھا۔“ [ مستدرک حاکم 328/2، ح: ۳۲۶۴۔ أحمد: 431/5، ح: ۲۳۶۶۱، و صححہ شعیب أرنؤوط۔ السنن الکبریٰ للنسائی: 350/6، ح: ۱۱۲۰۱ ] ”اگر تم فیصلہ چاہو“ یہ خطاب کفار سے ہے، کیونکہ انھوں نے مکہ سے روانہ ہوتے وقت اور ابوجہل نے معرکۂ بدر سے پہلے یہ دعا کی تھی: ”اے اللہ! ہم میں سے جو حق پر ہے اسے غالب اور جو باطل پر ہے اسے رسوا کر۔“ گویا یہاں {” الْفَتْحُ “} کا معنی حکم اور فیصلہ ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”مکی سورتوں میں ہر جگہ کافروں کا یہ کلام نقل فرمایا کہ ہر گھڑی کہتے ہیں: «{ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ }» یعنی کب فیصلہ ہو گا، سو اب فرمایا کہ یہ فیصلہ آ پہنچا۔“ (موضح) ➋ { وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ......:} یعنی اگر پھر مسلمانوں کی مخالفت اور ان سے جنگ کرو گے تو ہم پھر تمھارے ساتھ یہی سلوک کریں گے، اگرچہ تمھاری جماعت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔ ➌ { وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ:اَنَّ “} سے پہلے کئی الفاظ مقدر مانے جا سکتے ہیں، آسان یہ ہے کہ اس جملے کو {” وَاعْلَمُوْا “} کا مفعول مان لیا جائے، یعنی جان لو کہ یقینا اللہ مومنوں کے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ ہو کوئی اس کا کیا بگاڑ سکتا ہے؟
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَا تَوَلَّوۡا عَنۡہُ وَ اَنۡتُمۡ تَسۡمَعُوۡنَ ﴿ۚۖ۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے ایمان لانے والو، اللہ اور اُس کے رسُول کی اطاعت کرو اور حکم سُننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا مانو اور اس (کا کہنا ماننے) سے روگردانی مت کرو سنتے جانتے ہوئے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن سنا کہ اسے نہ پھرو،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اور اس سے روگردانی نہ کرو حالانکہ تم (آوازِ حق) سن رہے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اس سے منہ نہ پھیرو، جب کہ تم سن رہے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی نگاہ میں بدترین مخلوق ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے اور مخالفت سے اور کافروں جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ «لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ» ’ اطاعت کو نہ چھوڑو، تابع داری سے منہ نہ موڑو۔ جن کاموں سے اللہ اور اس کا رسول روک دے رک جایا کرو۔ ‘ «وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ» ‏‏‏‏ ’ سن کر ان سنی نہ کر دیا کرو، مشرکوں کی طرح نہ بن جاؤ کہ سنا نہیں اور کہدیا کہ سن لیا، نہ منافقوں کی طرح بنو کہ بظاہر ماننے والا ظاہر کر دیا اور درحقیقت یہ بات نہیں۔‘ بدترین مخلوق جانوروں، کیڑے مکوڑوں سے بھی برے اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو حق باتوں سے اپنے کان بہرے کر لیں اور حق کے سمجھنے سے گونگے بن جائیں، بےعقلی سے کام لیں۔ اس لیے کہ تمام جانور بھی اللہ قادر کل کے زیر فرمان ہیں جو جس کام کیلئے بنایا گیا ہے اس میں مشغول ہے مگر یہ ہیں کہ پیدا کئے گئے عبادت کے لیے لیکن کفر کرتے ہیں۔ چنانچہ اور آیت میں انہیں جانوروں سے تشبیہ دی گئی۔ فرمان ہے آیت «وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ» ۱؎ [ 2-البقرة: 171 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ کافروں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی انہیں آواز دے تو سوائے پکارا اور ندا کے کچھ نہ سنیں۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ «أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ» ۱؎ [ 7-الأعراف: 179 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے اور غافل۔‘ ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے بنا عبدالدار کے قریشی ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4646] ‏‏‏‏ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے منافق ہیں۔ بات یہ ہے کہ مشرک منافق دونوں ہی مراد ہیں دونوں ہی مراد ہیں دونوں میں صحیح فہم اور سلامتی والی عقل نہیں ہوتی نہ ہی عمل صالح کی انہیں توفیق ہوتی ہے۔ اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ انہیں سنا دیتا لیکن نہ ان میں بھلائی نہ توفیق الہٰ۔ اللہ جل شانہُ کو علم ہے کہ انہیں سنایا بھی سمجھایا بھی تو بھی یہ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئیں گے بلکہ اور اکڑ کر بھاگ جائیں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 20) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ …: } کفار کو تنبیہ کے بعد اب مسلمانوں کو تلقین ہو رہی ہے کہ جب تمھیں کسی معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم معلوم ہو جائے تو اس کے خلاف کسی کی مت سنو، بلکہ اس کی اطاعت کرو۔ پہلے اللہ کی اطاعت بطور تمہید ہے، کیونکہ رسول کی اطاعت بھی اللہ ہی کی اطاعت ہے۔ سورت کے ابتدا میں اموالِ غنیمت کے متعلق اختلاف کو ختم کرنے کے لیے «{ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ}» کا اعلان فرمایا تھا اور اطاعت رسول کو ایمان کی شرط قرار دیا تھا، پھر درمیان میں اپنے انعامات ذکر فرمائے اور اب پہلے کلام کو پھر اطاعت کی تلقین پر ختم فرمایا۔ ➋ { وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ:} اس کا یہ مطلب نہیں کہ جب تم سن رہے ہو اس وقت اس سے منہ نہ پھیرو، دوسرے اوقات میں بے شک پھیر لو، بلکہ مطلب یہ ہے کہ تم ہر وقت اللہ کے احکام قرآن و حدیث کی صورت میں سنتے ہو، اگر نہ سنا ہو، یا علم نہ ہو تو عذر ہو سکتا ہے، مگر حکم سن کر پھر بجا نہ لانا ایمان والوں کو زیب نہیں دیتا۔ جو شخص خود حکم سن کر بجا نہیں لاتا اس تک حکم اگر کسی کے واسطے سے پہنچے گا تو کیسے مانے گا۔
وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ ہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سُنا حالانکہ وہ نہیں سُنتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہونا جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم نے سن لیا حاﻻنکہ وه سنتے (سناتے کچھ) نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے کہا ہم نے سنا او ر وہ نہیں سنتے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو کہتے تو ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ (دراصل) وہ کچھ بھی سنتے (سناتے) نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائو جنھوں نے کہا ہم نے سنا، حالانکہ وہ نہیں سنتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی نگاہ میں بدترین مخلوق ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے اور مخالفت سے اور کافروں جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ «لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ» ’ اطاعت کو نہ چھوڑو، تابع داری سے منہ نہ موڑو۔ جن کاموں سے اللہ اور اس کا رسول روک دے رک جایا کرو۔ ‘ «وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ» ‏‏‏‏ ’ سن کر ان سنی نہ کر دیا کرو، مشرکوں کی طرح نہ بن جاؤ کہ سنا نہیں اور کہدیا کہ سن لیا، نہ منافقوں کی طرح بنو کہ بظاہر ماننے والا ظاہر کر دیا اور درحقیقت یہ بات نہیں۔‘ بدترین مخلوق جانوروں، کیڑے مکوڑوں سے بھی برے اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو حق باتوں سے اپنے کان بہرے کر لیں اور حق کے سمجھنے سے گونگے بن جائیں، بےعقلی سے کام لیں۔ اس لیے کہ تمام جانور بھی اللہ قادر کل کے زیر فرمان ہیں جو جس کام کیلئے بنایا گیا ہے اس میں مشغول ہے مگر یہ ہیں کہ پیدا کئے گئے عبادت کے لیے لیکن کفر کرتے ہیں۔ چنانچہ اور آیت میں انہیں جانوروں سے تشبیہ دی گئی۔ فرمان ہے آیت «وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ» ۱؎ [ 2-البقرة: 171 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ کافروں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی انہیں آواز دے تو سوائے پکارا اور ندا کے کچھ نہ سنیں۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ «أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ» ۱؎ [ 7-الأعراف: 179 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے اور غافل۔‘ ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے بنا عبدالدار کے قریشی ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4646] ‏‏‏‏ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے منافق ہیں۔ بات یہ ہے کہ مشرک منافق دونوں ہی مراد ہیں دونوں ہی مراد ہیں دونوں میں صحیح فہم اور سلامتی والی عقل نہیں ہوتی نہ ہی عمل صالح کی انہیں توفیق ہوتی ہے۔ اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ انہیں سنا دیتا لیکن نہ ان میں بھلائی نہ توفیق الہٰ۔ اللہ جل شانہُ کو علم ہے کہ انہیں سنایا بھی سمجھایا بھی تو بھی یہ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئیں گے بلکہ اور اکڑ کر بھاگ جائیں گے۔
21۔ 1 یعنی سن لینے کے باوجود، عمل نہ کرنا، یہ کافروں کا طریقہ ہے، تم اس رویے سے بچو۔ اگلی آیت میں ایسے ہی لوگوں کو بہرہ، گونگا، غیر عاقل اور بدترین خلائق قرار دیا گیا ہے۔ دَوَبّ، دَا بَّۃ، کی جمع ہے، جو بھی زمین پر چلنے پھرنے والی چیز ہے وہ دابہ ہے۔ مراد مخلوقات ہے۔ یعنی یہ سب سے بدتر ہیں جو حق کے معاملے میں بہرے گونگے اور غیر عاقل ہیں۔
(آیت 21) {وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا …:} ان سے مراد مشرکین، منافقین اور اہل کتاب ہیں جو کانوں سے تو اللہ اور اس کے رسول کا کلام سنتے ہیں، مگر اس طرح کہ وہ نہیں سنتے، کیونکہ نہ وہ دل سے سنتے ہیں اور نہ قبول کرتے ہیں، ان کا سننا نہ سننے کے برابر ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۴۶)۔
اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الۡبُکۡمُ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے
مولانا محمد جوناگڑھی
بےشک بدترین خلائق اللہ تعالیٰ کے نزدیک وه لوگ ہیں جو بہرے ہیں گونگے ہیں جو کہ (ذرا) نہیں سمجھتے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک اللہ کے نزدیک سب جانوروں سے بدتر جانور وہ (انسان) ہیں جو بہرے گونگے ہیں جو عقل سے ذرا کام نہیں لیتے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک تمام جانوروں سے برے اللہ کے نزدیک وہ بہرے، گونگے ہیں، جو سمجھتے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی نگاہ میں بدترین مخلوق ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے اور مخالفت سے اور کافروں جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ «لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ» ’ اطاعت کو نہ چھوڑو، تابع داری سے منہ نہ موڑو۔ جن کاموں سے اللہ اور اس کا رسول روک دے رک جایا کرو۔ ‘ «وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ» ‏‏‏‏ ’ سن کر ان سنی نہ کر دیا کرو، مشرکوں کی طرح نہ بن جاؤ کہ سنا نہیں اور کہدیا کہ سن لیا، نہ منافقوں کی طرح بنو کہ بظاہر ماننے والا ظاہر کر دیا اور درحقیقت یہ بات نہیں۔‘ بدترین مخلوق جانوروں، کیڑے مکوڑوں سے بھی برے اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو حق باتوں سے اپنے کان بہرے کر لیں اور حق کے سمجھنے سے گونگے بن جائیں، بےعقلی سے کام لیں۔ اس لیے کہ تمام جانور بھی اللہ قادر کل کے زیر فرمان ہیں جو جس کام کیلئے بنایا گیا ہے اس میں مشغول ہے مگر یہ ہیں کہ پیدا کئے گئے عبادت کے لیے لیکن کفر کرتے ہیں۔ چنانچہ اور آیت میں انہیں جانوروں سے تشبیہ دی گئی۔ فرمان ہے آیت «وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ» ۱؎ [ 2-البقرة: 171 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ کافروں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی انہیں آواز دے تو سوائے پکارا اور ندا کے کچھ نہ سنیں۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ «أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ» ۱؎ [ 7-الأعراف: 179 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے اور غافل۔‘ ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے بنا عبدالدار کے قریشی ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4646] ‏‏‏‏ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے منافق ہیں۔ بات یہ ہے کہ مشرک منافق دونوں ہی مراد ہیں دونوں ہی مراد ہیں دونوں میں صحیح فہم اور سلامتی والی عقل نہیں ہوتی نہ ہی عمل صالح کی انہیں توفیق ہوتی ہے۔ اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ انہیں سنا دیتا لیکن نہ ان میں بھلائی نہ توفیق الہٰ۔ اللہ جل شانہُ کو علم ہے کہ انہیں سنایا بھی سمجھایا بھی تو بھی یہ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئیں گے بلکہ اور اکڑ کر بھاگ جائیں گے۔
22۔ 1 اس بات کو قرآن کریم میں دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا ہے۔ (لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ) 7۔ الاعراف:179) ان کے دل ہیں، لیکن ان سے سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں، لیکن ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں یہ چوپائے کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ۔ یہ لوگ (اللہ سے) بیخبر ہیں۔
(آیت 22) {اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ …: ” الدَّوَآبِّ”دَابَّةٌ“} کی جمع ہے، {” دَبَّ يَدِبُّ (ض)“} زمین پر چلنا۔ انسان کو {” الدَّوَآبِّ “} میں اس لیے شمار کیا کہ کتب لغہ میں ہر جاندار کو دابہ کہہ لیتے ہیں۔ مصباح میں ہے {”دَابَّةٌ“} زمین کا ہر جاندار، خواہ سمجھ رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، یعنی کفار و منافقین جو کان سے اچھی بات نہ سنیں، زبان سے اچھی بات نہ نکالیں اور اللہ کی دی ہوئی عقل سے کام نہ لیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام جانوروں سے بدتر ہیں، کیونکہ جانور تو اپنے فطری تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور ان لوگوں کو عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، مگر یہ اس غرض کو بھی پورا نہیں کرتے۔ یہاں پہلے بہرے ہونے کا ذکر ہے، پھر گونگے ہونے کا، کیونکہ حق سن کر ہی اس کی تائید و تبلیغ زبان سے ہوتی ہے، پھر بے عقل ہونے کا، کیونکہ بعض بہرے اور گونگے عقل سے حق کو سمجھتے اور اسے قبول کر لیتے ہیں، مگر یہ لوگ تینوں چیزوں سے خالی ہیں۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۷۹) اور فرقان (۴۴)۔
وَ لَوۡ عَلِمَ اللّٰہُ فِیۡہِمۡ خَیۡرًا لَّاَسۡمَعَہُمۡ ؕ وَ لَوۡ اَسۡمَعَہُمۡ لَتَوَلَّوۡا وَّ ہُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سُننے کی توفیق دیتا (لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ ان کو سُنواتا تو وہ بے رُخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی خوبی دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق دے دیتا اور اگر ان کو اب سنا دے تو ضرور روگردانی کریں گے بے رخی کرتے ہوئے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی جانتا تو انہیں سنادیتا اور اگر سنا دیتا جب بھی انجام کا ر منہ پھیر کر پلٹ جاتے
علامہ محمد حسین نجفی
اگر اللہ جانتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو ضرور انہیں سنوا دیتا اور اگر (اس بھلائی کے بغیر) انہیں سنواتا۔ تو وہ بے رخی کرتے ہوئے پیٹھ پھیر دیتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی جانتا تو انھیں ضرور سنوا دیتا اور اگر وہ انھیں سنوا دیتا تو بھی وہ منہ پھیر جاتے، اس حال میں کہ وہ بے رخی کرنے والے ہوتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی نگاہ میں بدترین مخلوق ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے اور مخالفت سے اور کافروں جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ «لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ» ’ اطاعت کو نہ چھوڑو، تابع داری سے منہ نہ موڑو۔ جن کاموں سے اللہ اور اس کا رسول روک دے رک جایا کرو۔ ‘ «وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ» ‏‏‏‏ ’ سن کر ان سنی نہ کر دیا کرو، مشرکوں کی طرح نہ بن جاؤ کہ سنا نہیں اور کہدیا کہ سن لیا، نہ منافقوں کی طرح بنو کہ بظاہر ماننے والا ظاہر کر دیا اور درحقیقت یہ بات نہیں۔‘ بدترین مخلوق جانوروں، کیڑے مکوڑوں سے بھی برے اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو حق باتوں سے اپنے کان بہرے کر لیں اور حق کے سمجھنے سے گونگے بن جائیں، بےعقلی سے کام لیں۔ اس لیے کہ تمام جانور بھی اللہ قادر کل کے زیر فرمان ہیں جو جس کام کیلئے بنایا گیا ہے اس میں مشغول ہے مگر یہ ہیں کہ پیدا کئے گئے عبادت کے لیے لیکن کفر کرتے ہیں۔ چنانچہ اور آیت میں انہیں جانوروں سے تشبیہ دی گئی۔ فرمان ہے آیت «وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ» ۱؎ [ 2-البقرة: 171 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ کافروں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی انہیں آواز دے تو سوائے پکارا اور ندا کے کچھ نہ سنیں۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ «أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ» ۱؎ [ 7-الأعراف: 179 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے اور غافل۔‘ ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے بنا عبدالدار کے قریشی ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4646] ‏‏‏‏ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے منافق ہیں۔ بات یہ ہے کہ مشرک منافق دونوں ہی مراد ہیں دونوں ہی مراد ہیں دونوں میں صحیح فہم اور سلامتی والی عقل نہیں ہوتی نہ ہی عمل صالح کی انہیں توفیق ہوتی ہے۔ اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ انہیں سنا دیتا لیکن نہ ان میں بھلائی نہ توفیق الہٰ۔ اللہ جل شانہُ کو علم ہے کہ انہیں سنایا بھی سمجھایا بھی تو بھی یہ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئیں گے بلکہ اور اکڑ کر بھاگ جائیں گے۔
23۔ 1 یعنی ان کے سماع کو نافع بناکر ان کو فہم صحیح عطا فرما دیتا، جس سے وہ حق کو قبول کرلیتے اور اسے اپنالیتے۔ لیکن چونکہ ان کے اندر خیر یعنی حق کی طلب ہی نہیں ہے، اس لئے وہ فہم صحیح سے محروم ہیں۔ 23۔ 2 پہلے سماع سے مراد سماع نافع ہے۔ اس دوسرے سماع سے مراد مطلق سماع ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ انہیں حق بات سنوا بھی دے تو چونکہ ان کے اندر حق کی طلب ہی نہیں ہے، اس لئے وہ بدستور اس سے اعراض کریں گے۔
(آیت 23) {وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ …:} یعنی اگر ان کے دل میں خیر یعنی حق کی طلب ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے سننے کو نافع بنا کر ایمان و عمل کی توفیق دے دیتا۔ پہلے {” لَاَسْمَعَهُمْ “} (انھیں ضرور سنوا دیتا) سے مراد وہ سنانا ہے جو دل سے ہو اور فائدہ مند ہو اور {” لَوْ اَسْمَعَهُمْ “} (اور اگر وہ انھیں سنوا دیتا) سے مراد محض کانوں سے سنوانا ہے، یعنی اگر انھیں اسی حال میں کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں ہے، سنواتا تو یقینا وہ منہ پھیر کر چل دیتے، یعنی ان لوگوں نے مسلسل گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے اندر سے وہ استعداد ہی ختم کر دی ہے جو ایمان اور راہِ ہدایت کی پیروی کے لیے بیج کی حیثیت رکھتی ہے، پھر جب بیج ہی نہ ہو تو پھل کی امید کیا ہو سکتی ہے، چنانچہ دوسری آیت میں فرمایا: «{ كَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ }» [ المطففین: ۱۴ ] ”خبردار رہو کہ ان کے برے اعمال ان کے دلوں پر زنگ بن کر چھا گئے ہیں۔“
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ ۚ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوۡلُ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَ قَلۡبِہٖ وَ اَنَّہٗۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے ایمان لانے والو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جبکہ رسُول تمہیں اس چیز کی طرف بُلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے، اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لاؤ، جب کہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ آدمی کے اور اس کے قلب کے درمیان آڑ بن جایا کرتا ہے اور بلاشبہ تم سب کو اللہ ہی کے پاس جمع ہونا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجا تا ہے اور یہ کہ تمہیں اس کی طرف اٹھنا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہو۔ جب کہ وہ (رسول) تمہیں بلائیں۔ اس چیز کی طرف جو تمہیں (روحانی) زندگی بخشنے والی ہے۔ اور جان لو۔ کہ اللہ (اپنے مقررہ اسباب کے تحت) انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور (یہ بھی جان لو کہ) تم سب اسی کے حضور جمع کئے جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اور رسول کی دعوت خوشی سے قبول کرو، جب وہ تمھیں اس چیز کے لیے دعوت دے جو تمھیں زندگی بخشتی ہے اور جان لو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے اور یہ کہ حقیقت یہ ہے کہ تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دل رب کی انگلیوں میں ہیں ٭٭

صحیح بخاری شریف میں ہے «اسْتَجِيبُوا» معنی میں «أَجِيبُوا» کے ہے «لِمَا يُحْيِيكُمْ» معنی «بِما يُصْلِحُكُم» کے ہے یعنی ’ اللہ اور اس کا رسول تمہیں جب آواز دے تم جواب دو اور مان لو کیونکہ اس کے فرمان کے ماننے میں ہی تمہاری مصلحت ہے۔‘ ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { میں نماز میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گذرے۔ مجھے آواز دی، میں آپ کے پاس نہ آیا۔ جب نماز پڑھ چکا تو حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے کس نے روکا تھا کہ تو میرے پاس چلا آئے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ اے ایمان والو اللہ اور اللہ کا رسول تمہیں جب آواز دیں تم قبول کر لیا کرو کیونکہ اسی میں تمہاری زندگی ہے۔ سنیں اس مسجد سے نکلنے سے پہلے ہی میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورت سکھاؤں گا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد سے جانے کا ارادہ کیا تو میں نے آپ کو آپ کا وعدہ یاد دلایا } ۱؎ [صحیح بخاری:4647] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سورت فاتحہ بتلائی اور فرمایا: { سات آیتیں دوہرائی ہوئی یہی ہیں۔ } اس حدیث کا پورا پورا بیان سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔ زندگی، آخرت میں نجات، عذاب سے بچاؤ اور چھٹکارا قرآن کی تعلیم، حق کو تسلیم کرنے اور اسلام لانے اور جہاد میں ہے۔ ان ہی چیزوں کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔ اللہ انسان اور اس کے دل میں حائل ہے۔ یعنی مومن میں اور کفر میں کافر میں اور ایمان میں۔ یہ معنی ایک مرفوع حدیث میں بھی ہیں لیکن ٹھیک یہی ہے کہ یہ قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ہے مرفوع حدیث نہیں۔ [الدر المنشور للسیوطی:320/3] ‏‏‏‏

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یعنی اسے اس حال میں چھوڑنا ہے کہ وہ کسی چیز کو سمجھتا نہیں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر نہ ایمان لا سکے نہ کفر کر سکے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ آیت مثل آیت «‏‏‏‏وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ» ۱؎ [ 50- ق: 16 ] ‏‏‏‏ کے ہے یعنی ’ بندے کی رگ جان سے بھی زیادہ نزدیک ہم ہیں۔ ‘ اس آیت کے مناسب حدیثیں بھی ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ { «يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ } تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہوئی وحی پر ایمان لا چکے ہیں کیا پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری نسبت خطرہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان دل ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے ان کا تغیر و تبدل کرتا رہتا ہے۔} ۱؎ [سنن ترمذي:2140،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ترمذی میں بھی یہ روایت کتاب القدر میں موجود ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے { «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اے دلوں کے پھیر نے والے میرے دل کو اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رکھ۔ } مسند احمد میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر دل اللہ تعالیٰ رب العالمین کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جب سیدھا کرنا چاہتا ہے کر دیتا ہے اور جب ٹیڑھا کرنا چاہتا ہے کر دیتا ہے } [سنن ترمذي:2140،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تھی کہ { اے مقلب القلوب اللہ میرا دل اپنے دین پر ثابت قدم رکھ، فرماتے ہیں میزان رب رحمان کے ہاتھ میں ہے، جھکاتا ہے اور اونچی کرتا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:199،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند کی اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کو اکثر سن کر مائی عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بکثرت اس دعا کے کرنے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { انسان کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جب چاہتا ہے ٹیڑھا کر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے سیدھا کر دیتا ہے۔}

مسند احمد میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کو بکثرت سن کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ { کیا دل پلٹ جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب دیا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا پروردگار ہے دعا کرتے ہیں کہ «‏‏‏‏رَبَّنَا أَنْ لَا يُزِيغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا، وَنَسْأَلُهُ أَنْ يَهَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْهُ رَحْمَةً إِنَّهُ هُوَ الْوَهَّابُ» وہ ہدایت کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت و نعمت عطا فرمائے وہ بڑی ہی بخشش کرنے والا اور بہت انعاموں والا ہے۔ } سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں { میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر درخواست کی کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میرے لیے بھی کوئی دعا سکھائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یہ دعا مانگا کرو دعا «‏‏‏‏اللَّهُمَّ رَبَّ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ، اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي، وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلاتِ الْفِتَنِ» یعنی اے اللہ اسے محمد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار میرے گناہ معاف فرما میرے دل کی سختی دور کر دے مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بجا لے جب تک بھی تو مجھے زندہ رکھ۔ } ۱؎ [مسند احمد:302/6:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمام انسانوں کے دل ایک ہی دل کی طرح اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ جس طرح چاہتا ہے انہیں الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے پھر آپ نے دعا کی کہ «اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ، صَرِّفْ قُلُوبَنَا إِلَى طَاعَتِكَ» اے دلوں کے پھیر نے والے اللہ ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر لے۔ }۱؎ [صحیح مسلم:2654] ‏‏‏‏
24۔ 1 لِمَا یُحْیِیْکُمْ ایسی چیزوں کی طرف جس سے تمہیں زندگی ملے۔ بعض نے اس سے جہاد مراد لیا ہے کہ اس میں تمہاری زندگی کا سروسامان ہے۔ بعض نے قرآن کے اوامرو نواہی اور احکام شرعیہ مراد لئے ہیں، جن میں جہاد بھی آجاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ صرف اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، اور اس پر عمل کرو، اسی میں تمہاری زندگی ہے۔ 24۔ 2 یعنی موت وارد کرکے، جس کا مزہ ہر نفس کو چکھنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قبل اس کے کہ تمہیں موت آجائے، اللہ اور رسول کی بات مان لو اور اس پر عمل کرو۔ بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ انسان کے دل کے جس طرح قریب ہے اس میں اسے بطور تمثیل بیان کیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ دلوں کے بھیدوں کو جانتا ہے۔ اس سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ امام ابن جریر نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اپنے بندوں کے دلوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور جب چاہتا ان کے اور انکے دلوں کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ حتی کہ انسان اسکی مشیت کے بغیر کسی چیز کو پا نہیں سکتا۔ بعض نے اسے جنگ بدر سے متعلق قراردیا ہے کہ مسلمان دشمن کی کثرت سے خوف زدہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے دلوں کے درمیان حائل ہو کر مسلمانوں کے دلوں میں موجود خوف کو امن سے بدل دیا۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ آیت کے یہ سارے ہی مفہوم مراد ہوسکتے ہیں (فتح القدیر) امام ابن جریر کے بیان کردہ مفہوم کی تائید ان احادیث سے ہوتی ہے جن میں دین پر ثابت قدمی کی دعائیں کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ مثلا ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بنی آدم کے دل ایک دل کی طرح رحمان کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں انہیں جس طرح چاہتا ہے پھیرتا رہتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی۔ اللہم مصرف القلوب صرف قلوبنا الی طاعتک۔ اے دلوں کے پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیردے۔ بعض روایات میں ثبت قلبی علی دینک کے الفاظ ہیں۔
(آیت 24) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ:”اَجَابَ يُجِيْبُ“} کا معنی قبول کرنا ہے اور{” اسْتَجِيْبُوْا “} باب استفعال {”اِسْتَجَابَ يَسْتَجِيْبُ “ } سے ہے، جس میں عموماً طلب ہوتی ہے، یہاں طلب کا معنی نہیں ہو سکتا، لہٰذا سین اور تاء کے اضافے سے معنی میں زیادتی مراد ہو گی، اس لیے ”خوشی سے قبول کرو“ ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر خوشی سے لبیک کہنا تم پرلازم ہے۔ ➋ { اِذَا دَعَاكُمْ:} ”جب وہ تمھیں دعوت دے“ کا مطلب یہ ہے کہ فوراً قبول کرو، دیر نہ کرو۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بلایا، وہ نماز پوری کرکے آئے تو آپ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا: ”تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا؟“ انھوں نے کہا: ”آئندہ میں ان شاء اللہ ایسا نہیں کروں گا۔“ [ ترمذی، فضائل القرآن، باب ما جاء فی فضل فاتحۃ الکتاب: ۲۸۷۵ ] صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر میں ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے ہوئے بلانا اور اسی وقت نہ آنے پر یہی تلقین فرمانا موجود ہے۔ [ بخاری، التفسیر، باب: «یأیھا الذین اٰمنوا استجیبوا…» ‏‏‏‏: ۴۶۴۷ ] ➌ {لِمَا يُحْيِيْكُمْ:} ”اس چیز کے لیے جو تمھیں زندگی بخشتی ہے“ اس سے متعلق علمائے سلف کے مختلف اقوال ہیں، بعض نے اسلام و ایمان اور بعض نے قرآن، لیکن اکثر نے اس سے جہاد مراد لیا ہے، کیونکہ جہاد دنیا اور آخرت میں زندگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، خصوصاً اس لیے کہ شروع سورت سے یہی بات چلی آ رہی ہے، آیت: «{ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ }» [ البقرۃ: ۲۴۳ ] سے مراد بھی جہاد کی ترغیب ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ”جب تم عینہ (حیلے سے سود کی ایک قسم) کے ساتھ بیع کرو گے اور بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے اور کاشت کاری پر خوش ہو جاؤ گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی بڑی ذلت مسلط کرے گا جسے دور نہیں کرے گا، حتیٰ کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آؤ۔“ [ أبوداوٗد، البیوع، باب فی النہی عن العینۃ: ۳۴۶۲۔ السلسۃ الصحیحۃ: ۱۱ ] ➍ {وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ:} یعنی حق واضح ہو جانے کے بعد بھی اگر کوئی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم نہ مانے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو یہ سزا ملتی ہے کہ وہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور اس کے بعد اسے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنے کی توفیق نہیں ملتی، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ }» [ الصف: ۵ ] ”جب وہ خود ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔“ آیت کے یہ معنی ابن عباس رضی اللہ عنھما اور جمہو رمفسرین نے بیان فرمائے ہیں۔ سورۂ انعام کی آیت (۱۰۹، ۱۱۰) میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے، جنگ تبوک میں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فوری طور پر نہ نکل سکے تو بعد میں جانے کی توفیق ہی نہیں ملی، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے صدق اور انابت کی وجہ سے انھیں توبہ کی توفیق دی اور قرآن میں ان کا ذکر خیر فرمایا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ اس آیت کی تشریح یہ فرماتے ہیں: ”حکم بجا لانے میں دیر نہ کرو، شاید اس وقت دل ایسا نہ رہے، دل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔“ (موضح) بعض مفسرین نے اس کی تفسیر یہ فرمائی کہ اللہ کے حائل ہونے سے مراد موت ہے، یعنی موت آنے سے پہلے اطاعت بجا لاؤ، اس کے بعد «{ وَ اَنَّهٗۤ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ }» (اور جان لو کہ یہ یقینی حقیقت ہے کہ تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) کے جملے سے بھی اس معنی کی تائید ہوتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ دونوں معنی ہی مراد ہو سکتے ہیں اور ان کا آپس میں کوئی تضاد نہیں۔
وَ اتَّقُوۡا فِتۡنَۃً لَّا تُصِیۡبَنَّ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡکُمۡ خَآصَّۃً ۚ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور بچو اُس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف اُنہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم ایسے وبال سے بچو! کہ جو خاص کر صرف ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہو گا جو تم میں سے ان گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں اور یہ جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس فتنہ سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں کو ہی نہ پہنچے گا اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس فتنہ سے بچو جو صرف انہی تک محدود نہیں رہے گا جنہوں نے تم میں سے ظلم و تعدی کی (بلکہ سب اس کی لپیٹ میں آجائیں گے) اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس عظیم فتنے سے بچ جائو جو لازماً ان لوگوں کو خاص طور پر نہیں پہنچے گا جنھوں نے تم میںسے ظلم کیا اور جان لو کہ اللہ بہت سخت سزا والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
برائیوں سے نہ روکنا عذاب الٰہی کا سبب ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے کہ اس امتحان اور اس محنت اور فتنے کا خوف رکھو جو گنہگاروں بدکاروں پر ہی نہیں رہے گا بلکہ اس بلاء کی وبا عام ہو گی۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے کہا کہ اے ابوعبداللہ تمہیں کون سی چیز لائی ہے؟ تم نے مقتول خلیفہ کو دھوکہ دیا پھر اس کے خون کے بدلے کی جستجو میں تم آئے اس پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانے میں اس آیت «وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [ 8-الانفال: 25 ] ‏‏‏‏، کو پڑھتے تھے لیکن یہ خیال بھی نہ تھا کہ ہم ہی اس کے اہل ہیں یہاں تک کہ یہ واقعات رونما ہوئے۔ ۱؎ [مسند احمد:165/1:جید] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی ہم اس آیت سے ڈرا دئے گئے تھے لیکن یہ خیال بھی نہ تھا کہ ہم ہی اس کے ساتھ مخصوص کر دیئے گئے ہیں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ آیت خاصتاً اہل بدر کے بارے میں اتری ہے کہ وہ جنگ جمل میں آپس میں خوب لڑے بھڑے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مراد اس سے خاص اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرماتے ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو حکم فرما رہا کہ وہ آپس میں کسی خلاف شرع کام کو باقی اور جاری نہ رہنے دیں۔ ورنہ اللہ کے عام عذاب میں سب پکڑ لیے جائیں گے۔ یہ تفسیر نہایت عمدہ ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ حکم تمہارے لیے بھی ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم میں سے ہر شخص فتنے میں مشغول ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ «‏‏‏‏إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ» ۱؎ [ 64-التغابن: 15 ] ‏‏‏‏ ’ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں فتنہ ہیں پس تم میں سے جو بھی پناہ مانگے وہ اللہ تعالیٰ سے مانگے ہر گمراہ کن فتنے سے پناہ طلب کر لیا کرے۔‘

صحیح بات یہی ہے کہ اس فرمان میں صحابہ اور غزوی صحابہ رضی اللہ عنہم سب کو تنبیہ ہے گو خطاب انہی سے ہے اسی پر دلالت ان احادیث کی ہے جو فتنے سے ڈرانے کیلئے ہیں گو ان کے بیان میں ائمہ کرام کی مستقل تصانیف ہیں لیکن بعض مخصوص حدیثیں ہم یہاں بھی وارد کرتے ہیں اللہ ہماری مدد فرمائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو اللہ عزوجل عذاب نہیں کرتا ہاں اگر وہ کوئی برائی دیکھیں اور اس کے مٹانے پر قادر ہوں پھر بھی اس خلاف شرع کام کو نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ سب کو عذاب کرتا ہے۔} ۱؎ [مسند احمد:192/4:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ اس کی اسناد میں ایک راوی مبہم ہے۔ اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یا تو تم اچھی باتوں کا حکم اور بری باتوں سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے پاس سے کوئی عام عذاب نازل فرمائے گا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:2129،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ ایک آدمی ایک بات زبان سے نکالتا تھا اور منافق ہو جاتا تھا لیکن اب تو تم ایک ہی مجلس میں نہایت بےپرواہی سے چار چار دفعہ ایسے کلمات اپنی زبان سے نکال دیا کرتے ہو واللہ یا تو تم نیک باتوں کا حکم بری باتوں سے روکو اور نیکیوں کی رغبت دلاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تم سب کو تہس نہس کر دے گا یا تم پر برے لوگوں کو مسلط کر دے گا پھر نیک لوگ دعائیں کریں گے لیکن وہ قبول نہ فرمائے گا۔ ۱؎ [مسند احمد:390/5:ضعیف] ‏‏‏‏ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں اپنے کانوں کی طرف اپنی انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا اللہ کی حدوں پر قائم رہنے والے، ان میں واقع ہونے والے اور ان کے بارے میں سستی کرنے والوں کی مثال ان لوگوں کی سی ہے جو ایک کشتی میں سوار ہوئے کوئی نیچے تھا کوئی اوپر تھا۔نیچے والے پانی لینے کے لیے اوپر آتے تھے اوپر والوں کو تکلیف ہوتی تھی آخر انہوں نے کہا آؤ یہیں سے نیچے سے ہی کشتی کا ایک تختہ توڑ لیں حسب ضرورت پانی یہیں سے لے لیا کریں گے تاکہ نہ اوپر جانا پڑے نہ انہیں تکلیف پہنچے پس اگر اوپر والے ان کے کام اپنے ذمہ لے لیں اور انہیں کشی کے نیچے کا تختہ اکھاڑ نے سے روک دیں تو وہ بھی بچیں اور یہ بھی ورنہ وہ بھی ڈوبیں گے اور یہ بھی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2686] ‏‏‏‏

ایک اور حدیث میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { جب میری امت میں گناہ ظاہر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے عام عذاب آب پر بھیجے گا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں تو نیک لوگ بھی ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں؟ پوچھا پھر وہ لوگ کیا کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں بھی وہی پہنچے گا جو اوروں کو پہنچا اور پھر انہیں اللہ کی مغفرت اور رضا مندی ملے گی۔ ۱؎ [مسند احمد:294/6:صحیح] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جو لوگ برے کام کرنے لگیں اور ان میں کوئی ذی عزت ذی اثر شخص ہو اور وہ منع نہ کرے روکے نہیں تو ان سب کو اللہ کا عذاب ہو گا سزا میں سب شامل رہیں گے۔ } [ مسند و ابوداؤد وغیرہ ] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { کرنے والے تھوڑے ہوں نہ کرنے والے زیادہ اور ذی اثر ہوں پھر بھی وہ اس برائی کو نہ روکیں تو اللہ ان سب کو اجتماعی سزا دے گا۔} مسند کی اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جب زمین والوں میں بدی ظاہر ہو جائے تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب اتارتا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ ان ہی میں اللہ کے اطاعت گذار بندے بھی ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عذاب عام ہو گا پھر وہ اللہ کی رحمت کی طرف لوٹ جائیں گے۔}
25۔ 1 اس سے مراد یا تو بندوں کا ایک دوسرے پر تسلط ہے جو بلا تخصیص، عام و خاص پر ظلم کرتے ہیں، یا وہ عام عذاب ہیں جو کثرت بارش یا سیلاب وغیرہ اراضی و سماوی آفات کی صورت میں آتے ہیں اور نیک اور بد سب ہی ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ یا بعض احادیث میں امر بالمعروف و نہی ترک کی وجہ سے عذاب کی جو وعید بیان کی گئی ہے، مراد ہے۔
(آیت 25) ➊ {وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا …: ” فِتْنَةً “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ”عظیم فتنہ“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ متعدد احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ جب کسی قوم میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فریضہ سرانجام نہ دیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس پر ہمہ گیر عذاب بھیج دیتا ہے۔ (ابن کثیر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے، یا پھر اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے گا، پھر تم اس سے دعا کرو گے مگر وہ تمھاری دعا قبول نہیں کرے گا۔“ [ أحمد: 388/5، ۳۸۹، ح: ۲۳۳۰۱، عن حذیفۃ بن یمان رضی اللہ عنہ وحسنہ شعیب أرنؤوط ] اصحاب سبت یعنی ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑنے والوں کا قصہ اس کی ایک مثال ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۶۴ تا ۱۶۷)۔ ➋ { وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ:} مطلب یہ ہے کہ حکم کی بجا آوری میں کاہلی کرنے سے ایک تو دل ہٹتا ہے، دم بدم مشکل میں پڑتا ہے، دوسرے نیک لوگوں کے عمل میں سستی اختیار کرنے سے گناہ گار بالکل ہی عمل چھوڑ بیٹھیں گے، تو رسم بد پھیلے گی، اس کا وبال سب پر پڑے گا۔
وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡتُمۡ قَلِیۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ تَخَافُوۡنَ اَنۡ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىکُمۡ وَ اَیَّدَکُمۡ بِنَصۡرِہٖ وَ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یاد کرو وہ وقت جبکہ تم تھوڑے تھے، زمین میں تم کو بے زور سمجھا جاتا تھا، تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں مٹا نہ دیں پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کر دی، اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبُوط کیے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا، شاید کہ تم شکر گزار بنو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس حالت کو یاد کرو! جب کہ تم زمین میں قلیل تھے، کمزور شمار کئے جاتے تھے۔ اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ تم کو لوگ نوچ کھسوٹ نہ لیں، سو اللہ نے تم کو رہنے کی جگہ دی اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی اور تم کو نفیس نفیس چیزیں عطا فرمائیں تاکہ تم شکر کرو
احمد رضا خان بریلوی
اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے ملک میں دبے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لے جائیں تو اس نے تمہیں جگہ دی اور اپنی مدد سے زور دیا اور ستھری چیزیں تمہیں روزی دیں کہ کہیں تم احسان مانو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وقت یاد کرو۔ جب تم تھوڑے تھے اور ملک میں کمزور سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لے جائیں تو اللہ نے تمہیں (مدینہ میں) پناہ دی اور اپنی نصرت سے تمہاری تائید کی اور تمہیں پاک و پاکیزہ چیزیں دے کر رزق کا سامان مہیا کر دیا۔ تاکہ تم شکر گزار ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور یاد کرو جب تم بہت تھوڑے تھے، زمین میں نہایت کمزور سمجھے گئے تھے، ڈرتے تھے کہ لوگ تمھیں اچک کر لے جائیں گے تو اس نے تمھیں جگہ دی اور اپنی مدد کے ساتھ تمھیں قوت بخشی اور تمھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا، تاکہ تم شکر کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اہل ایمان پر اللہ کے احسانات ٭٭

مومنوں کو پروردگار عالم اپنے احسانات یاد دلا رہا ہے کہ ان کی گنتی اس نے بڑھا دی، ان کی کمزوری کو زور سے بدل دیا، ان کے خوف کو امن سے بدل دیا، ان کی ناتوانی کو طاقت سے بدل دیا، ان کی فقیری کو امیری سے بدل دیا، انہوں نے جیسے جیسے اللہ کے فرمان کی بجا آوری کی ویسے ویسے یہ تری پا گئے۔ مومن صحابہ رضی اللہ عنہم مکہ کے قیام کی حالت میں تعداد میں بہت تھوڑے تھے، چھپے پھرتے تھے، بیقرار رہتے تھے، ہر وقت دشمنوں کا خطرہ لگا رہتا تھا، مجوسی ان کے دشمن تھے، یہودی ان کی جان کے پیچھے، بت پرست ان کے خون کے پیاسے، نصرانی ان کی فکر میں۔ دشمنوں کی یہ حالت تھی تو ان کی اپنی یہ حالت کہ تعداد میں انگلیوں پر گن لو۔ بغیر طاقت شان شوکت مطلقاً نہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں مدینے کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیتا ہے یہ مان لیتے ہیں وہاں پہنچتے ہی اللہ ان کے قدم جما دیتا ہے وہاں مدینہ والوں کو ان کا ساتھی بلکہ پشت پناہ بنا دیتا ہے وہ ان کی مدد پر اور ساتھ دینے پر تیار ہو جاتے ہیں بدر والے دن اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں، اپنے مال پانی کی طرح راہ حق میں بہاتے ہیں اور دوسرے موقعوں پر بھی نہ اطاعت چھوڑتے ہیں نہ ساتھ نہ سخاوت۔ «وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡتُمۡ قَلِیۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ»

نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چاند کی طرح چمکنے لگتے ہیں اور سورج کی طرح دمکنے لگتے ہیں۔ قتادہ بن دعامہ سدوسی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عرب کے یہ لوگ سب سے زیادہ گرے ہوئے، سب سے زیادہ تنگ حال، سب سے زیادہ بھوکے ننگے، سب سے زیادہ گمراہ اور بےدین و مذہب تھے۔ جیتے تو ذلت کی حالت میں، مرتے تو جہنمی ہو کر، ہر ایک ان کے سر کچلتا لیکن یہ آپ میں الجھے رہتے۔ واللہ روئے زمین پر ان سے زیادہ گمراہ کوئی نہ تھا۔ اب یہ اسلام لائے اللہ کے رسول کے اطاعت گذار بنے تو ادھر سے ادھر تک شہروں بلکہ ملکوں پر ان کا قبضہ ہو گیا دنیا کی دولت ان کے قدموں پر بکھرنے لگی لوگوں کی گردنوں کے مالک اور دنیا کے بادشاہ بن گئے یاد رکھو یہ سب کچھ سچے دین اور اللہ کے رسول کی تعلیم پر عمل کے نتائج تھے پس تم اپنے پروردگار کے شکر میں لگے رہو اور اس کے بڑے بڑے احسان تم پر ہیں وہ شکر کو اور شکر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے سنو شکر گذار نعمتوں کی زیادتی میں ہی رہتے۔
26۔ 1 اس میں مکی زندگی کے شدائد و خطرات کا بیان اور اس کے بعد مدنی زندگی میں مسلمان جس آرام و راحت اور آسودگی سے بفضل الٰہی ہمکنار ہوئے، اس کا تذکرہ ہے۔
(آیت 26) {وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ …:} اس میں مکی زندگی میں مسلمانوں کی قلت تعداد، سختی اور خوف کا، پھر مدینہ میں ان کو اپنا گھر، امن و سکون اور راحت و آرام ملنے کا ذکر ہے۔ ”اور تمھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا“ میں دوسری تمام پاکیزہ نعمتوں کے ساتھ غنیمت کے اموال کا حلال کرنا بھی شامل ہے، کیونکہ یہ پہلی امتوں کے لیے حلال نہیں تھے، بلکہ جلا دیے جاتے تھے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَخُوۡنُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ وَ تَخُوۡنُوۡۤا اَمٰنٰتِکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے ایمان لانے والو، جانتے بُوجھتے اللہ اور اس کے رسُولؐ کے ساتھ خیانت نہ کرو، اپنی امانتوں میں غداری کے مرتکب نہ ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول (کے حقوق) میں جانتے ہوئے خیانت مت کرو اور اپنی قابل حفاﻇت چیزوں میں خیانت مت کرو
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے دغا نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! سمجھتے بوجھتے ہوئے اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ ہی اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور رسول کی خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو، جب کہ تم جانتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو ٭٭

کہتے ہیں کہ یہ آیت ابولبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے یہودیوں کے پاس بھیجا تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی شرط کے ماننے پر قلعہ خالی کر دیں ان یہودیوں نے آپ ہی سے مشورہ دریافت کیا تو آپ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر انہیں بتا دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ تمہارے حق میں یہی ہوگا۔ اب ابو لبابہ رضی اللہ عنہ بہت ہی نادم ہوئے کہ افسوس میں نے بہت برا کیا اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خیانت کی۔ اسی ندامت کی حالت میں قسم کھا بیٹھے کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہو میں کھانے کا ایک لقمہ بھی نہ اٹھاؤں گا چاہے مر ہی جاؤں۔ مسجد نبوی میں آ کر ایک ستون کے ساتھ اپنے تئیں بندھوا دیا نو دن اسی حالت میں گذر گئے غشی آ گئی بیہوش ہو کر مردے کی طرح گر پڑے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول کر لی اور یہ آیتیں نازل ہوئیں لوگ آئے آپ کو خوشخبری سنائی اور اس ستون سے کھولنا چاہاتو انہوں نے فرمایا واللہ میں اپنے تئیں کسی سے نہ کھلواؤں گا بجز اس کے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ مبارک سے کھولیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے انہیں کھولا تو آپ عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول کر لے تو میں اپنا کل مال راہ للہ صدقہ کر دونگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: { نہیں صرف ایک تہائی فی سبیل اللہ دے دو یہی کافی ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15937:مرسل] ‏‏‏‏ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ امیر کو فتنہ و فساد کرکے قتل کردینا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیانت ہے۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15939:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابوسفیان مکے سے چلا جبر ئیل علیہ السلام نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ ابوسفیان فلاں جگہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ذکر کیا اور فرما دیا کہ { اس طرف چلو لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ کرنا }،لیکن ایک منافق نے اسے لکھ بھیجا کہ تیرے پکڑنے کے ارادے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں ہوشیار رہنا۔ پس یہ آیت اتری لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور اس کی سند اور متن دونوں ہی قابل نظر ہیں۔ بخاری و مسلم میں حاطب بن ابو بلتعہ رضی اللہ عنہ کا قصہ ہے کہ فتح مکہ والے سال انہوں نے قریش کو خط بھیج دیا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے سے انہیں مطلع کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی ان کے پیچھے دوڑائے اور خط پکڑا گیا۔ حاطب رضی اللہ عنہ نے اپنے قصور کا اقرار کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی گردن مارنے کی اجازت چاہی کہ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے خیانت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے چھوڑ دو یہ بدری صحابی ہے۔ تم نہیں جانتے بدری کی طرف اللہ تعالیٰ نے بذات خود فرما دیا ہے جو چاہو تم کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3007] ‏‏‏‏ میں کہتا ہوں کسی خاص واقعہ کے بارے میں اترنے کے باوجود الفاظ کی عمومیت اپنے حکم عموم پر ہی رہے گی یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ خیانت عام ہے چھوٹے بڑے لازم متعدی سب گناہ خیانت میں داخل ہیں۔ اپنی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو یعنی فرض کو ناقص نہ کرو، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو نہ چھوڑو، اس کی نافرمانی نہ کرو۔

عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی کے سامنے اس کے حق کا اظہار کرنا اور درپردہ کرنا اس کے الٹ، باتیں کرنا اور کے سامنے اس کے خلاف کرنا بھی امانت کو ضائع کرنا اور اپنے نفس کی خیانت کرنا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب کسی نے اللہ و رسول کی خیانت کی تو اس نے امانت داری میں رخنہ ڈال دیا، ایک صورت اس کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی پھر اسے مشرکوں میں پھیلا دیا۔ پس منافقوں کے اس فعل سے مسلمانوں کو روکا جا رہا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہارے امتحان کا باعث ہیں ‘۔ یہ دیکھیں آیا اللہ کا شکر کرتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو؟ یا ان میں مشغول ہو کر، ان کی محبت میں پھنس کر اللہ کی باتوں اور اس کی اطاعت سے ہٹ جاتے ہو؟ اسی طرح ہر خیرو شر سے اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ اس کا ارشاد ہے کہ «‏‏‏‏إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ» ۱؎ [ 64-التغابن: 15 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے ‘، مسلمانو مال و اولاد کے چکر میں اللہ کی یاد نہ بھول جانا۔ ایسا کرنے والے نقصان پانے والے ہیں اور آیت میں ہے کہ «‏‏‏‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ» ۱؎ [ 64-التغابن: 14 ] ‏‏‏‏ ’ تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہنا۔ سمجھ لو کہ اللہ کے پاس اجر یہاں کے مال و اولاد سے بہت بہتر ہیں اور بہت بڑے ہیں کیونکہ ان میں سے بعض تو دشمن ہی ہوتے ہیں اور اکثر بینفع ہوتے ہیں۔‘

اللہ سبحانہ و تعالیٰ متصرف و مالک ہے، دنیا و آخرت اسی کی ہے قیامت کے ثواب اسی کے قبضے میں ہیں، ایک اثر میں فرمان الٰہی ہے کہ ’ اے ابن آدم مجھے ڈھونڈ تو پائے گا، مجھے پالینا تمام چیزوں کو پالینا ہے، میرا فوت ہو جانا تمام چیزوں کا فوت ہو جانا ہے، میں تیری تمام چیزوں سے تیری محبت کا زیادہ حقدار ہوں۔ ‘ صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { تین چیزیں جس میں ہوں اس نے ایمان کی مٹھاس چکھ لی [1] ‏‏‏‏ جسے اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ پیارا ہو، [2] ‏‏‏‏ جو محض اللہ کے لیے دوستی رکھتا ہو اور [3] ‏‏‏‏ جسے آگ میں جل جانے سے بھی زیادہ برا ایمان کے بعد کفر کرنامعلوم ہوتا ہو۔ } بلکہ یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی اولاد و مال اور نفس کی محبت پر مقدم ہے جیسے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی باایمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے نفس سے اور اہل سے اور مال سے اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔}
27۔ 1 اللہ اور رسول کے حقوق میں خیانت یہ ہے کہ جلوت میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع دار بن کر رہے اور خلوت میں اس کے برعکس معصیت کار۔ اسی طرح یہ بھی خیانت ہے کہ فرائض میں سے کسی فرض کا ترک اور نواہی میں سے کسی بات کا ارتکاب کیا جائے اور ایک شخص دوسرے کے پاس جو امانت رکھواتا ہے اس میں خیانت نہ کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی امانت کی حفاظت کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اکثر خطبوں میں یہ ضرور ارشاد فرماتے تھے ' اس کا ایمان نہیں، جس کے اندر امانت کی پاسداری نہیں اور اس کا دین نہیں، جس کے اندر دین کی پابندی کا احساس نہیں۔
(آیت 27){ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ …:} امانتوں میں خیانت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس سے وہ تمام ذمہ داریاں اور عہد معاہدے مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ یا بندوں سے کیے گئے ہوں۔ صلح، جنگ اور نکاح وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں، ایک دوسرے کے ذاتی راز اور فوجی راز بھی امانت ہیں۔ حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ سے پہلے ایک عورت کو خط دے کر مکہ بھیجا تھا، جس میں اہل مکہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حملے کے ارادے سے آگاہ کیا تھا اور اس پر اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوئی تھی۔ [ بخاری، ۳۹۸۳۔ مسلم: ۲۴۹۴ ] سورۂ ممتحنہ کے شروع میں اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کم ہی کوئی خطبہ دیا مگر اس میں فرمایا: [ لاَ اِيْمَانَ لِمَنْ لاَّ أَمَانَةَ لَهُ وَلاَ دِيْنَ لِمَنْ لاَّ عَهْدَ لَهُ ] [ أحمد: 135/3، ح: ۱۲۳۸۳، و حسنہ شعیب الأرنؤوط۔ ابن حبان: ۱۹۴ ] ”اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جس کی کوئی امانت نہیں اور اس شخص کا کوئی دین نہیں جس کا کوئی عہد نہیں۔“ عبد اللہ بن عمرو اور ابوہریرہ رضی اللہ عنھم سے مروی ہے کہ منافق کی علامات میں سے ایک علامت امانت میں خیانت بھی ہے۔ [ بخاری، الإیمان، باب علامات المنافق: ۳۳۔ مسلم: ۵۹ ]
وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اَمۡوَالُکُمۡ وَ اَوۡلَادُکُمۡ فِتۡنَۃٌ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗۤ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿٪۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامانِ آزمائش ہیں اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم اس بات کو جان رکھو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اوﻻد ایک امتحان کی چیز ہے۔ اور اس بات کو بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا بھاری اجر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد سب فتنہ ہے اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جان لو۔ کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد (تمہارے لئے) ایک آزمائش ہیں اور یہ بھی کہ اللہ ہی کے پاس بڑا اجر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جان لو کہ تمھارے مال اور تمھاری اولاد ایک آزمائش کے سوا کچھ نہیں اور یہ کہ اللہ، اسی کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو ٭٭

کہتے ہیں کہ یہ آیت ابولبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے۔ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے یہودیوں کے پاس بھیجا تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی شرط کے ماننے پر قلعہ خالی کر دیں ان یہودیوں نے آپ ہی سے مشورہ دریافت کیا تو آپ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر انہیں بتا دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ تمہارے حق میں یہی ہوگا۔ اب ابو لبابہ رضی اللہ عنہ بہت ہی نادم ہوئے کہ افسوس میں نے بہت برا کیا اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خیانت کی۔ اسی ندامت کی حالت میں قسم کھا بیٹھے کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہو میں کھانے کا ایک لقمہ بھی نہ اٹھاؤں گا چاہے مر ہی جاؤں۔ مسجد نبوی میں آ کر ایک ستون کے ساتھ اپنے تئیں بندھوا دیا نو دن اسی حالت میں گذر گئے غشی آ گئی بیہوش ہو کر مردے کی طرح گر پڑے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول کر لی اور یہ آیتیں نازل ہوئیں لوگ آئے آپ کو خوشخبری سنائی اور اس ستون سے کھولنا چاہاتو انہوں نے فرمایا واللہ میں اپنے تئیں کسی سے نہ کھلواؤں گا بجز اس کے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ مبارک سے کھولیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے انہیں کھولا تو آپ عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول کر لے تو میں اپنا کل مال راہ للہ صدقہ کر دونگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: { نہیں صرف ایک تہائی فی سبیل اللہ دے دو یہی کافی ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15937:مرسل] ‏‏‏‏ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ امیر کو فتنہ و فساد کرکے قتل کردینا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیانت ہے۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15939:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابوسفیان مکے سے چلا جبر ئیل علیہ السلام نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ ابوسفیان فلاں جگہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ذکر کیا اور فرما دیا کہ { اس طرف چلو لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ کرنا }،لیکن ایک منافق نے اسے لکھ بھیجا کہ تیرے پکڑنے کے ارادے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں ہوشیار رہنا۔ پس یہ آیت اتری لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور اس کی سند اور متن دونوں ہی قابل نظر ہیں۔ بخاری و مسلم میں حاطب بن ابو بلتعہ رضی اللہ عنہ کا قصہ ہے کہ فتح مکہ والے سال انہوں نے قریش کو خط بھیج دیا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے سے انہیں مطلع کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی ان کے پیچھے دوڑائے اور خط پکڑا گیا۔ حاطب رضی اللہ عنہ نے اپنے قصور کا اقرار کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی گردن مارنے کی اجازت چاہی کہ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے خیانت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے چھوڑ دو یہ بدری صحابی ہے۔ تم نہیں جانتے بدری کی طرف اللہ تعالیٰ نے بذات خود فرما دیا ہے جو چاہو تم کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3007] ‏‏‏‏ میں کہتا ہوں کسی خاص واقعہ کے بارے میں اترنے کے باوجود الفاظ کی عمومیت اپنے حکم عموم پر ہی رہے گی یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ خیانت عام ہے چھوٹے بڑے لازم متعدی سب گناہ خیانت میں داخل ہیں۔ اپنی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو یعنی فرض کو ناقص نہ کرو، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو نہ چھوڑو، اس کی نافرمانی نہ کرو۔

عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی کے سامنے اس کے حق کا اظہار کرنا اور درپردہ کرنا اس کے الٹ، باتیں کرنا اور کے سامنے اس کے خلاف کرنا بھی امانت کو ضائع کرنا اور اپنے نفس کی خیانت کرنا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب کسی نے اللہ و رسول کی خیانت کی تو اس نے امانت داری میں رخنہ ڈال دیا، ایک صورت اس کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی پھر اسے مشرکوں میں پھیلا دیا۔ پس منافقوں کے اس فعل سے مسلمانوں کو روکا جا رہا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہارے امتحان کا باعث ہیں ‘۔ یہ دیکھیں آیا اللہ کا شکر کرتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو؟ یا ان میں مشغول ہو کر، ان کی محبت میں پھنس کر اللہ کی باتوں اور اس کی اطاعت سے ہٹ جاتے ہو؟ اسی طرح ہر خیرو شر سے اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ اس کا ارشاد ہے کہ «‏‏‏‏إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ» ۱؎ [ 64-التغابن: 15 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے ‘، مسلمانو مال و اولاد کے چکر میں اللہ کی یاد نہ بھول جانا۔ ایسا کرنے والے نقصان پانے والے ہیں اور آیت میں ہے کہ «‏‏‏‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ» ۱؎ [ 64-التغابن: 14 ] ‏‏‏‏ ’ تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہنا۔ سمجھ لو کہ اللہ کے پاس اجر یہاں کے مال و اولاد سے بہت بہتر ہیں اور بہت بڑے ہیں کیونکہ ان میں سے بعض تو دشمن ہی ہوتے ہیں اور اکثر بینفع ہوتے ہیں۔‘

اللہ سبحانہ و تعالیٰ متصرف و مالک ہے، دنیا و آخرت اسی کی ہے قیامت کے ثواب اسی کے قبضے میں ہیں، ایک اثر میں فرمان الٰہی ہے کہ ’ اے ابن آدم مجھے ڈھونڈ تو پائے گا، مجھے پالینا تمام چیزوں کو پالینا ہے، میرا فوت ہو جانا تمام چیزوں کا فوت ہو جانا ہے، میں تیری تمام چیزوں سے تیری محبت کا زیادہ حقدار ہوں۔ ‘ صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { تین چیزیں جس میں ہوں اس نے ایمان کی مٹھاس چکھ لی [1] ‏‏‏‏ جسے اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ پیارا ہو، [2] ‏‏‏‏ جو محض اللہ کے لیے دوستی رکھتا ہو اور [3] ‏‏‏‏ جسے آگ میں جل جانے سے بھی زیادہ برا ایمان کے بعد کفر کرنامعلوم ہوتا ہو۔ } بلکہ یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی اولاد و مال اور نفس کی محبت پر مقدم ہے جیسے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی باایمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے نفس سے اور اہل سے اور مال سے اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔}
28۔ 1 مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے، یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں؟ اگر پورے کرتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ اس آزمائش میں کامیاب ہے۔ بصورت دیگر ناکام۔ اس صورت میں یہی مال اور اولاد اس کے لئے عذاب الٰہی کا باعث بن جائیں گے۔
(آیت 28) {وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ …:} مال اور اولاد کی محبت انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش ہے، کیونکہ عام طور پر انھی کے لیے آدمی خیانت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کا ارتکاب کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ مَجْهَلَةٌ مَحْزَنَةٌ ] ”بے شک بچہ بخل، بزدلی، جہالت اور غم کا باعث ہوتا ہے۔“ [ صحیح الجامع الصغیر: ۱۹۹۰۔ مستدرک حاکم: 296/3، ح: ۵۲۸۴، عن الأسود بن خلف ] درحقیقت اللہ تعالیٰ آزمانا چاہتا ہے کہ آدمی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو ترجیح دیتا ہے، یا مال اور اولاد کی ایسی محبت کو جس سے خیانت اور احکامِ الٰہی کی نافرمانی لازم آتی ہو۔ اس ناجائز محبت پر غالب آنے کا طریقہ اس بات کا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بہت ہی بڑا اجر ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ فُرۡقَانًا وَّ یُکَفِّرۡ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے ایمان لانے والو، اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لیے کسوٹی بہم پہنچا دے گا اور تمہاری بُرائیوں کو تم سے دُور کر دے گا، اور تمہارے قصور معاف کر دے گا اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناه دور کر دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! اگر اللہ سے ڈرو گے تو تمہیں وہ دیگا جس سے حق کو باطل سے جدا کرلو اور تمہاری برائیاں اتار دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو اگر تم تقوائے الٰہی اختیار کرو۔ تو خدا تمہیں حق و باطل میں تفرقہ کرنے کی قوت و صلاحیت عطا فرمائے گا۔ اور تمہاری برائیوں کو ڈھانپ لے گا (پردہ پوشی کرے گا) اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور اللہ بڑا فضل (و کرم) والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمھارے لیے (حق و باطل میں) فرق کرنے کی بڑی قوت بنادے گا اور تم سے تمھاری برائیاں دور کر دے گا اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دنیا و آخرت کی سعادت مندی ٭٭

’ اے مومنو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو تو اللہ تم کو دین اور دنیا میں نجات دے گا۔‘ «فُرۡقَانً» سے مراد نجات ہے دنیوی بھی اور اخروی بھی اور فتح و نصرت غلبہ و امتیاز بھی مراد ہے جس سے حق و باطل میں تمیز ہو جائے۔ بات یہی ہے کہ جو اللہ کی فرمانبرداری کرے، نافرمانی سے بچے اللہ اس کی مدد کرتا ہے۔ جو حق و باطل میں تمیز کر لیتا ہے، دنیاو آخرت کی سعادت مندی حاصل کر لیتا ہے اس کے گناہ مٹ جاتے ہیں لوگوں سے پوشیدہ کروئے جات یہیں اور اللہ کی طرف سے اجر و ثواب کا وہ کامل مستحق ٹھہر جاتا ہے۔ جیسے فرمان عالی شان ہے «‏‏‏‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [ 57-الحدید: 28 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ اے مسلمانو! اللہ کا ڈر دلوں میں رکھو۔ اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کے دوہرے حصے دے گا اور تمہارے لیے ایک نور مہیا کر دے گا جس کے ساتھ تم چلتے پھرتے رہو گے اور تمہیں بخش بھی دے گا، اللہ غفورو رحیم ہے۔‘
29۔ 1 تقویٰ کا مطلب ہے، اوامر الٰہی کی مخالفت اور اس کی مناہی کے ارتکاب سے بچنا اور فرقان کے کئی معنی بیان کئے گئے ہیں مثلاً ایسی چیز جس سے حق و باطل کے درمیان فرق کیا جاسکے۔ مطلب یہ ہے کہ تقویٰ کی بدولت دل مضبوط، بصیرت تیزتر اور ہدایت کا راستہ واضح تر ہوجاتا ہے، جس سے انسان کو ہر ایسے موقعے پر، جب عام انسان شک و شبہ کی وادیوں میں بھٹک رہے ہوں، صراط مستقیم کی توفیق مل جاتی ہے۔ علاوہ ازیں فتح اور نصرت اور نجات و مخرج بھی اس کے معنی کئے گئے ہیں۔ اور سارے ہی مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ تقویٰ سے یقینا یہ سارے ہی فوائد حاصل ہوتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ کفر، مغفرت گناہ اور فضل عظیم بھی حاصل ہوتا ہے۔
(آیت 29) ➊ {اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا …:} مال اور اولاد کی آزمائش سے خبردار کرنے کے بعد اب تقویٰ کی تعلیم دی ہے اور اس کے فوائد بیان کیے ہیں، تقویٰ کا مادہ ”و ق ی“ ہے اور یہ اسم مصدر ہے۔ {” تَتَّقُوا “} باب افتعال سے ہے، اس کا معنی بچنا ہے، آدمی اسی چیز سے بچتا ہے جس سے ڈرتا ہو، اس لیے اس کا معنی ڈرنا بھی کر لیا جاتا ہے۔ {” فَرْقٌ“} اور {” فُرْقَانٌ“} مصدر ہیں، دونوں کا ایک ہی معنی ہے، مگر {” فُرْقَانًا “} کے حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی اگر تم ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی نافرمانی سے بچتے رہو گے، خواہ کوئی دوسرا تمھارے پاس ہو یا نہ ہو تو تمھیں چار نعمتیں عطا ہوں گی، پہلی یہ کہ تم میں حق اور باطل کو پہچاننے اور ان کے درمیان فرق کرنے کی بہت بڑی قوت پیدا ہو جائے گی اور اس قوت کی بدولت اللہ تعالیٰ تمھیں کسی بھی شبہے، شک یا تذبذب کا شکار ہونے کے بجائے واضح طور پر ہر کام کے درست یا نا درست ہونے کی پہچان اور پھر اس کے مطابق عمل کرنے کی قوت عطا کرے گا، تم آسانی سے حق کا فیصلہ کرکے اس پر عمل کر سکو گے۔ دیکھیے سورۂ حدید (۲۸) اسی طرح وہ تمھیں فتح و نصرت عطا کرکے تمھارے اور تمھارے دشمنوں کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ دوسری یہ کہ وہ تم سے تمھاری برائیاں دور کر دے گا اور تیسری یہ کہ قیامت کے دن وہ تمھارے گناہ بخش دے گا۔ ➋ { وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ:} یہ چوتھی نعمت ہے۔ فضل کا معنی زائد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں اتنا ہی بدلہ نہیں دے گا جتنا تم عمل کر وگے بلکہ اس سے کہیں زیادہ دے گا، کیونکہ وہ بہت زائد حتیٰ کہ تمھاری سوچ سے بھی بہت زائد عطیہ دینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ }» [ السجدۃ: ۱۷ ] ”پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔“
وَ اِذۡ یَمۡکُرُ بِکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِیُثۡبِتُوۡکَ اَوۡ یَقۡتُلُوۡکَ اَوۡ یُخۡرِجُوۡکَ ؕ وَ یَمۡکُرُوۡنَ وَ یَمۡکُرُ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ ﴿۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جبکہ منکرینِ حق تیرے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تجھے قید کر دیں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کر دیں وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس واقعہ کا بھی ذکر کیجئے! جب کہ کافر لوگ آپ کی نسبت تدبیر سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کر لیں، یا آپ کو قتل کر ڈالیں یا آپ کو خارج وطن کر دیں اور وه تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور سب سے زیاده مستحکم تدبیر واﻻ اللہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب یاد کرو جب کافر تمہارے ساتھ مکر کرتے تھے کہ تمہیں بند کرلیں یا شہید کردیں یا نکا ل دیں اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرماتا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے رسول(ص)) وہ وقت یاد کرو جب کافر آپ کے خلاف منصوبے بنا رہے تھے کہ آپ کو قید کر دیں۔ یا قتل کریں۔ یا شہر بدر کر دیں وہ بھی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ بھی تدبیر کر رہا تھا اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تیرے خلاف خفیہ تدبیریں کر رہے تھے، تا کہ تجھے قید کر دیں، یا تجھے قتل کر دیں، یا تجھے نکال دیں اور وہ خفیہ تدبیرکر رہے تھے اور اللہ بھی خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی ناپاک سازش ٭٭

کافروں نے یہی تین ارادے کئے تھے جب ابوطالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے راز اور ان کے پوشیدہ چالیں معلوم بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں وہ تین شورشیں کر رہے ہیں قید، قتل یا جلاوطنی۔ } اس نے تعجب ہو کر پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر کس نے دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے پروردگار نے }، اس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پروردگار بہترین پروردگار ہے، تم اس کی خیر خواہی میں ہی رہنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں اس کی خیر خواہی کیا کرتا وہ خود میری حفاظت اور بھلائی کرتا ہے۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15978:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے لیکن اس واقعہ میں ابوطالب کا ذکر بہت غریب بلکہ منکر ہے اس لیے کہ آیت تو مدینے میں اتری ہے اور کافروں کا یہ مشورہ ہجرت کی رات تھا اور یہ واقعہ ابوطالب کی موت کے تقریباً تین سال کے بعد کا ہے۔ اسی کی موت نے ان کی جرأتیں دو بالا کر دی تھیں، اس ہمت اور نصرت کے بعد ہی تو کافروں نے آپ کی ایذاء دہی پر کمر باندھی تھی۔ چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ قریش کے تمام قبیلوں کے سرداروں نے دارالندوہ میں جمع ہونے کا ارادہ کیا۔ ملعون ابلیس انہیں ایک بہت بڑے مقطع بزرگ کی صورت میں ملا۔ انہوں نے پوچھا آپ کون ہیں؟ اس نے کہا اہل نجد کا شیخ ہوں۔ مجھے معلوم ہوا تھا کہ آپ لوگ آج ایک مشورے کی غرض سے جمع ہونے والے ہیں، میں بھی حاضر ہوا کہ اس مجلس میں شامل ہو جاؤں اور رائے میں اور خیر خواہی میں کوئی کمی نہ کروں۔

آخرمجلس جمع ہوئی تو اس نے کہا اس شخص کے بارے میں پورے غور و خوض سے کوئی صحیہ رائے قائم کر لو۔ واللہ اس نے تو سب کا ناک میں دم کر دیا ہے۔ وہ دلوں پر کیسے قبضہ کر لیتا ہے؟ کوئی نہیں جو اس کی باتوں کا بھوکوں کی طرح مشتاق نہ رہتا ہو۔ واللہ اگر تم نے اسے یہاں سے نکالا تو وہ اپنی شیریں زبانی اور آتش بیانی سے ہزارہا ساتھی پیدا کر لے گا اور پھر جو ادھر کا رخ کرے گا تو تمہیں چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا پھر تو تمہارے شریفوں کو تہ تیغ کر کے تم سب کو یہاں سے بیک بینی و دوگوش نکال باہر کرے گا۔ سب نے کہا شیخ جی سچ فرماتے ہیں اور کوئی رائے پیش کرو اس پر ابوجہل ملعون نے کہا ایک رائے میری سن لو۔ میرا خیال ہے کہ تم سب کے ذہن میں بھی یہ بات نہ آئی ہو گی، بس یہی رائے ٹھیک ہے، تم اس پر بے کھٹکے عمل کرو۔ سب نے کہا چچا بیان فرما ئیے! اس نے کہا ہر قبیلے سے ایک نوجوان جری بہادر شریف مانا ہوا شخص چن لو یہ سب نوجوان ایک ساتھ اس پر حملہ کریں اور اپنی تلواروں سے اس کے ٹکڑے اڑا دیں پھر تو اس کے قبیلے کے لوگ یعنی بنی ہاشم کو یہ تو ہمت نہ ہو گی قریش کے تمام قبیلوں سے لڑیں کیونکہ ہر قبیلے کا ایک نوجوان اس کے قتل میں شریک ہو گا۔ اس کا خون تمام قبائل قریش میں بٹا ہوا ہو گا نا چار وہ دیت لینے پر آمادہ ہو جائیں گے، ہم اس بلا سے چھوٹ جائیں گے اور اس شخص کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اب تو شیخ نجدی اچھل پڑا اور کہنے لگا اللہ جانتا ہے واللہ بس یہی ایک رائے بالکل ٹھیک ہے اس کے سوا کوئی اور بات سمجھ میں نہیں آتی بس یہی کرو اور اس قصے کو ختم کرو اس سے بہتر کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ یہ پختہ فیصلہ کر کے یہ مجلس برخاست ہوئی۔

وہیں جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا آج کی رات آپ اپنے گھر میں اپنے بسترے پر نہ سوئیں کافروں نے آپ کے خلاف آج میٹنگ میں یہ تجویز طے کی ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر اپنے بستر پر نہ لیٹے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کی اجازت دے دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینے پہنچ جانے کے بعد اس آیت میں اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا اور ان کے اس فریب کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا «وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّـهُ ۖ وَاللَّـهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ» ’ وہ تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور سب سے زیاده مستحکم تدبیر واﻻ اللہ ہے۔ ‘ ان کا قول تھا «ثُمَّ تَرَبَّصُوا بِهِ رَيْب الْمَنُون حَتَّى يَهْلِك كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْله مِنْ الشُّعَرَاء» اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے «‏‏‏‏أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ» ۱؎ [ 52-الطور: 30 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ شاعر ہے ہم اس کے بارے میں حادثہ موت کا انتظار کررہے ہیں۔‘ اس دن کا نام ہی یوم الزحمہ ہو گیا کیونکہ اس روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی گئی تھی۔۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:468/2] ‏‏‏‏ ان کے انہی ارادوں کا ذکر آیت «وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 17-الإسراء: 76 ] ‏‏‏‏ میں ہے ’ اور قریب تھا کہ یہ لوگ تمہیں زمین [ مکہ ] ‏‏‏‏ سے پھسلا دیں تاکہ تمہیں وہاں سے جلا وطن کر دیں۔ اور اس وقت تمہارے پیچھے یہ بھی نہ رہتے مگر کم۔‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف میں اللہ کے حکم کے منتظر تھے یہاں تک کہ قریشیوں نے جمع ہو کر مکر کا ارادہ کیا۔ جبرائیل علیہ اسللام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دی اور کہا کہ آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مکان میں نہ سوئیں جہاں سویا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر اپنے بسترے پر اپنی سبز چادر اوڑھا کر لیٹنے کو فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے۔ قریش کے مختلف قبیلوں کا مقررہ جتھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دراوزے کو گھیرے کھڑا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے ایک مٹھی مٹی اور کنکر بھر کر ان کے سروں اور آنکھوں میں ڈال کر سورۃ یاسین کی «يس وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ تَنزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أُنذِرَ آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقَانِ فَهُم مُّقْمَحُونَ وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ» ۱؎ [ 36-یس: 1-9 ] ‏‏‏‏ تک کی تلاوت کرتے ہوئے نکل گئے۔۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:469/2:معضل و ضعیف] ‏‏‏‏

صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتی ہوئی آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ { پیاری بیٹی کیوں رو رہی ہو؟} عرض کیا کہ ابا جی کیسے نہ روؤں یہ قریش خانہ کعبہ میں جمع ہیں لات و عزیٰ کی قسمیں کھا کر یہ طے کیا ہے کہ ہر قبیلے کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی اٹھ کھڑے ہوں اور ایک ساتھ حملہ کر کے قتل کر دیں تاکہ الزام سب پر آئے اور ایک بلوہ قرارپائے کوئی خاص شخص قاتل نہ ٹھہرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بیٹی پانی لاؤ } پانی آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور مسجد الحرام کی طرف چلے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور دیکھتے ہی غل مچایا کہ لو وہ آ گیا اٹھو اسی وقت ان کے سر جھک گئے ٹھوڑیاں سینے سے لگ گئیں نگاہ اونچی نہ کر سکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر ان کی طرف پھینکی اور فرمایا: { یہ منہہ الٹے ہو جائیں گے یہ چہرے برباد ہو جائیں }،جس شخص پر ان کنکریوں میں سے کوئی کنکر پڑا وہ ہی بدر والے دن کفر کی حالت میں قتل کیا گیا۔ ۱؎ [مسند احمد:303/1:حسن] ‏‏‏‏

کسی نے کہا صبح کو اسے قید کر دو، کسی نے کہا مار ڈالو، کسی نے کہا دیس نکالا دے دو، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر مطلع فرما دیا۔ اس رات سیدنا علی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترے پر سوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکے سے نکل کھڑے ہوئے۔ غار میں جا کر بیٹھے رہے۔ مشرکین یہ سمجھ کر کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بسترے پر لیٹے ہوئے ہیں سار رات پہرہ دیتے رہے صبح سب کود کر اندر پہنچے دیکھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں ساری تدبیر چوپٹ ہو گئی پوچھا کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں؟ آپ نے اپنی لاعلمی ظاہر کی۔ یہ لوگ قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے اس پہاڑ تک پہنچ گئے۔ وہاں سے پھر کوئی پتہ نہ چلا سکا۔ پہاڑ پر چڑھ گئے، اس غار کے پاس سے گذرے لیکن دیکھا کہ وہاں مکڑی کا جالا تنا ہوا ہے کہنے لگے اگر اس میں جاتے تو یہ جالا کیسے ثابت رہ جاتا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین راتین اسی غار میں گذاریں۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1129] ‏‏‏‏ پس فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے مکر کیا میں بھی ان سے ایسی مضبوط چال چلا کہ آج تجھے ان سے بچا کر لے ہی آیا۔‘
30۔ 1 یہ اس سازش کا تذکرہ جو روسائے مکہ نے ایک رات دار الندہ میں تیار کی تھی اور بالاخر یہ طے پایا تھا کہ مختلف قبیلوں کے نوجوانوں کو آپ کے قتل پر مامور کیا جائے تاکہ کسی ایک کو قتل کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے بلکہ دیت دیکر جان چھوٹ جائے۔ 30۔ 2 چناچہ اس سازش کے تحت ایک رات یہ نوجوان آپ کے گھر کے باہر اس انتظار میں کھڑے رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلیں تو آپ کا کام تمام کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سازش سے آگاہ فرمادیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکلنے کا پتہ ہی نہیں لگا، حتیٰ کہ آپ غار ثور میں پہنچ گئے۔ یہ کافروں کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر تھی۔ جس سے بہتر کوئی تدبیر نہیں کرسکتا۔
(آیت 30) {وَ اِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …:} جب تقریباً تمام صحابہ ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، علی رضی اللہ عنھما اور اکّا دکّا مسلمان مکہ میں رہ گئے تو کفار کو فکر لاحق ہوئی کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی ہمارے ہاتھ سے نکل گئے تو وہ ہمارے لیے ایسا خطرہ ثابت ہوں گے جو ہمارے قابو سے باہر ہو گا۔ چنانچہ ان کی دار الندوہ میں مجلس ہوئی، جس میں تجاویز و آراء طلب کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا خلاصہ بیان فرمایا ہے، ایک رائے یہ تھی کہ آپ کو قید کر دیں اور موت تک وہاں سے نہ نکلنے دیں، اس پر یہ امکان سامنے آیا کہ ان کے ساتھی کار روائی کرکے انھیں چھڑا لیں گے۔ ایک تجویز یہ آئی کہ انھیں قتل کر دیا جائے، اس پر آپ کے خاندان بنو عبد مناف کے ساتھ لڑائی کا خطرہ سامنے آیا اور ایک مشورہ یہ آیا کہ ہم خود ہی انھیں مکہ سے نکال دیں، جہاں چاہیں جائیں، ہماری تو جان چھوٹے گی، اس پر یہ خطرہ سامنے آیا کہ وہ اپنے صدق و امانت، خوش خلقی اور خوش کلامی سے لوگوں کو اکٹھا کرکے تم پر حملہ آور ہوں گے۔ آخر فیصلہ یہ ٹھہرا کہ ہر قبیلے سے ایک نوجوان لیا جائے، وہ سب رات کو آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیں، آپ جوں ہی باہر نکلیں وہ سب مل کر حملہ کرکے آپ کا کام تمام کر دیں۔ بنو عبد مناف کس کس سے لڑیں گے، آخر دیت پر راضی ہو جائیں گے۔ جبریل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ کو ان کی سازش کی اطلاع دے دی اور یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کی اجازت دے دی ہے۔ آپ اس رات اپنے بستر پر نہیں سوئے، بلکہ علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر سلا دیا۔ کافر ساری رات انتظار میں رہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی خفیہ تدبیر سے کفار کی سازش کو ناکام کرکے آپ کو بحفاظت نکال لیا، اگلے دن آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی معیت میں ہجرت فرمائی۔ سیرت کی تمام کتابوں میں یہ قصہ مذکور ہے جس کا یہ خلاصہ قرآن مجید کے مطابق ہے۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: ”ہجرت کی رات علی رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کا سودا کیا، وہ یہ کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر اوڑھی اور آپ کی جگہ سو گئے۔“ [ أحمد: 330/1، ۳۳۱، ح: ۳۰۶۲۔ مستدرک حاکم: 4/3، ح ۴۲۶۴۔ وصححہ الحاکم و وافقہ الذھبی ] ہجرت کے واقعہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۴۰)۔
وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ ہٰذَاۤ ۙ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے کہ “ہاں سُن لیا ہم نے، ہم چاہیں تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بنا سکتے ہیں، یہ تو وہی پُرانی کہانیاں ہیں جو پہلے سے لوگ کہتے چلے آ رہے ہیں "
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا، اگر ہم چاہیں تو اس کے برابر ہم بھی کہہ دیں، یہ تو کچھ بھی نہیں صرف بے سند باتیں ہیں جو پہلوں سے منقول چلی آرہی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو کہتے ہیں ہاں ہم نے سنا ہم چاہتے تو ایسی ہم بھی کہہ دیتے یہ تو نہیں مگر اگلوں کے قصے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ان کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ہاں ہم نے سن لیا۔ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام پیش کر سکتے ہیں۔ یہ نہیں ہیں مگر گزرے ہوئے لوگوں کی داستانیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں بے شک ہم نے سن لیا، اگر ہم چاہیں تو یقینا اس جیسا ہم بھی کہہ دیں، یہ تو پہلے لوگوں کی فرضی کہانیوں کے سوا کچھ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور و تکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت بیان کرتا ہے کہ ’ جھوٹ موت بک دیتے ہیں کہ ہاں بھئی ہم نے قرآن سن لیا، اس میں رکھا کیا ہے۔ ہم خود قدر ہیں، اگر چاہیں تو اسی جیسا کلام کہدیں۔ حالانکہ وہ کہہ نہیں سکتے۔‘ اپنی عاجزی اور تہی دستی کو خوب جانتے، لیکن زبان سے شیخی بگھارتے تھے۔ جہاں قرآن سنا تو اس کی قدر گھٹانے کیلئے بک دیا جب کہ ان سے زبردست دعوے کے ساتھ کہا گیا کہ لاؤ اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لاؤ تو سب عاجز ہو گئے۔ پس یہ قول صرف جاہلوں کی خوش طبعی کیلئے کہتے تھے۔ کہا گیا ہے کہ یہ کہنے والا نصر بن حارث ملعون تھا۔ یہ خبیث فارس کے ملک گیا تو تھا اور رستم و اسفند یار کے قصے یاد کر آیا تھا۔ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی آپ لوگوں کو کلام اللہ شریف سنا رہے ہوتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوتے تو یہ اپنی مجلس جماتا اور فارس کے قصے سناتا، پھر فخراً کہتا کہو میرا بیان اچھا ہے یا محمد کا؟ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ یہ بدر کے دن قید ہو کر لایا گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی گردن ماری گئی «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اسے قید کرنے والے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ تھے۔ قبہ بن ابی معیط، طعیمہ بن عدی، نصر بن حارث، یہ تینوں اسی قید میں قتل کئے گئے۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا بھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا قیدی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ اللہ عزوجل کی کتاب کے بارے میں زبان درازی کرتا تھا۔} انہوں نے بعد از قتل پھر کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں جسے باندھ کر لایا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ { یا اللہ اپنے فضل سے مقداد کو غنی کر دے۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15993] ‏‏‏‏

آپ خوش ہو گئے اور عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہی میرا مقصد اور مقصود تھا۔ اسی کے بارے میں یہ آیت «وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَـٰذَا ۙ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ» اتری ہے۔ ایک روایت میں طعیمہ کی بجائے مطعم بن عدی کا نام ہے لیکن یہ غلط ہے بدر والے دن وہ تو زندہ ہی نہ تھا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ { اگر آج یہ زندہ ہوتا اور مجھ سے ان قیدیوں کو طلب کرتا تو میں اسے دے دیتا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3139] ‏‏‏‏ اس لیے کہ طائف سے لوٹتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی اپنی پناہ میں مکہ میں لے گیا تھا۔ یہ کفار کہتے تھے کہ قرآن میں سوائے پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیوں کے کیا دھرا ہے انہیں کو پڑھ پڑھ کر لوگوں کو سناتا رہتا ہے۔ حالانکہ یہ محض جھوت بات تھی جو انہوں نے گھڑ لی تھی اسی لیے ان کے اس قول کو نقل کر کے جناب باری نے فرمایا ہے کہ «‏‏‏‏وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَىٰ عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 25-الفرقان: 5، 6 ] ‏‏‏‏ ’ انہیں جواب دے کہ اسے تو آسمان و زمین کی تمام غائب باتوں کے جاننے والے نے اتارا ہے جو غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ توبہ کرنے والوں کی خطائیں معاف فرماتا ہے، اپنے سامنے جھکنے والوں پر بڑے کرم کرتا ہے۔ ‘ پھر ان کی جہالت کا کرشمہ بیان ہو رہا ہے کہ چاہیئے تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ یا اللہ اگر یہ حق ہے تو ہمیں اس کی ہدایت دے اور اس کی اتباع کی توفیق نصیب فرما لیکن بجائے اس کے یہ دعا کرنے لگے کہ ہمیں جلد عذاب کر۔ «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [ 29-العنکبوت: 53 ] ‏‏‏‏ بات یہ ہے کہ ’ اللہ کی طرف سے ہرچیز کا وقت مقرر ہے ورنہ اس پر بھی عذاب آ جاتا لیکن اگر تمہارا یہی حال رہا تو پھر بھی وہ دن دور نہیں اچانک ان کی بیخبری میں اپنے وقت پر آ ہی جائے گا۔‘

یہ تو کہا کرتے تھے کہ «‏‏‏‏وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ» ۱؎ [38-ص:16] ‏‏‏‏ ’ ہمارا فیصلہ فیصلے کے دن سے پہلے ہی ہو جائے گا ‘ بطور مذاق عذاب کے واقع ہونے کی درخواست کرتے تھے جو کافروں پر آنے ولا ہے، جسے کوئی روک نہیں سکتا، آیت میں ہے «سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 70-المعارج: 1 - 3 ] ‏‏‏‏ ’ جو اس اللہ کی طرف سے ہو گا جو سیڑھیوں والا ہے۔‘ اگلی امتوں کے جاہلوں کا بھی یہی وطیرہ رہا۔ قوم شعیب نے کہا تھا کہ اے مدعی نبوت اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کو گرا دے۔ اسی طرح ان لوگوں نے کہا۔ ابوجہل وغیرہ نے یہ دعا کی تھی جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ ’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اور انہی میں سے بعض کا استغفار اللہ کے عذاب کی ڈھال ہے۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:4648] ‏‏‏‏ نصر بن حارث بن کلدہ نے بھی یہی دعا کی تھی جس کا ذکر «سَأَلَ سَائِلٌ» میں ہے ان کے اسی قول کا ذکر آیت «‏‏‏‏وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 38-ص: 16 ] ‏‏‏‏، میں ہے اور آیت «‏‏‏‏وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ» ۱؎ [ 6-الأنعام: 94 ] ‏‏‏‏، میں ہے اور آیت «سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ۱؎ [ 70-المعارج: 1 - 3 ] ‏‏‏‏، میں ہے۔ غرض دس سے اوپر اوپر آیتیں اس بیان میں ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:231/6] ‏‏‏‏ عمرو بن العاص جنگ احد میں اپنے گھوڑے پر سوار تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ اگر محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ کا لایا ہوا دین حق ہے تو مجھے میرے گھوڑے سمیت زمین میں دھنسا دے گو اس امت کے بیوقوفوں نے یہ تمنا کی لیکن اللہ نے اس امت پر رحم فرمایا اور جواب دیا کہ ایک تو پیغمبر کی موجودگی عام عذاب سے مانع ہے دوسرے تم لوگوں کا استغفار۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:231/6] ‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ مشرک حج میں طواف کے وقت کہتے تھے «لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ» اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: { بس بس یہیں تک بولو آگے نہ بڑھو } لیکن وہ پھر کہتے «اَلاَ شَرِیْكّا هُوَ لَكَ تَمْلِکُهُ وَمَا مَلَك» یعنی ہم حاضر ہیں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں۔پھر کہتے ہاں وہ شریک جو خود بھی تیری ملکیت میں ہیں اور جن چیزوں کو وہ مالک ہیں ان کا بھی اصل مالک تو ہی ہے اور کہتے «غُفْرَانَكَ غُفْرَانَكَ» اے اللہ ہم تجھ سے استغفار کرتے ہیں اے اللہ تو ہمیں معاف فرما۔

اسی طلب بخشش کو عذاب کے جلد نہ آنے کا سبب بتایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان میں دو سبب تھے ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے استغفار پس آپ تو چل دیئے اور استغفار باقی رہ گیا۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3082،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ قریشی آپس میں کہا کرتے تھے کہ محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ کو اللہ نے ہم میں سے ہم پر بزرگ بنایا اے اللہ اگر یہ سچا ہے تو تو ہمیں عذاب کر۔ جب ایمان لائے تو اپنے اس قول پر برا ہی نادم ہوئے اور استغفار کیا اسی کا بیان دوسری آیت میں ہے۔ پس انبیاء کی موجودگی میں قوموں پر عذاب نہیں آتا ہاں وہ نکل جائیں پھر عذاب برس پڑتے ہیں اور چونکہ ان کی قسمت میں ایمان تھا اور بعد از ایمان وہ استغفار اہل مکہ کے لیے باعث امن و امان تھا۔ ان دو وجہہ امن میں سے ایک تو اب نہ رہا دوسرا اب بھی موجود ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { مجھ پر دو امن میری امت کیلئے اترے ہیں ایک میری موجودگی دوسرے ان کا استغفار پس جب میں چلا جاؤں گا تو استغفار قیامت تک کیلئے ان میں چھوڑ جاؤں گا۔ } ایک اور حدیث میں ہے کہ شیطان نے کہا اے اللہ مجھے تیری عزت کی قسم میں تو جب تک تیرے بندوں کے جسم میں روح ہے انہیں بہکاتا رہوں گا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ’ مجھے بھی میری جلالت اور میری بزرگی کی قسم جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا۔‘ ۱؎ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:104] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بندہ اللہ کے عذابوں سے امن میں رہتا ہے جب تک وہ اللہ عزوجل سے استغفار کرتا ہے۔} ۱؎ [مسند احمد:20/6:صحیح] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 31) ➊ { وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا قَالُوْا …: ” اَسَاطِيْرُ “} یہ {”اُسْطُوْرَةٌ، اُسْطَارَةٌ، اُسْطِيْرَةٌ“} کی جمع ہے، بے ترتیب کہانیاں۔ (قاموس) ابن جریر نے فرمایا کہ{ ”سَطْرٌ “} کی جمع {”اَسْطُرٌ“} ہے اور اس کی جمع {” اَسَاطِيْرُ “} ہے۔ کفار کہتے تھے کہ یہ قرآن ہے ہی کیا، محض پہلے لوگوں کی بے ترتیب فرضی کہانیاں ہیں۔ یہ انھوں نے محض جہل کی وجہ سے کہا، کیونکہ قرآن ترتیب وار تاریخ اورقصے بیان کرنے کے لیے نہیں، بلکہ نصیحت کے لیے اتارا گیا ہے، اس لیے جس مقام پر جس واقعے کے جس قدر بیان کی ضرورت تھی، بیان فرما دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر ان کا یہ اعتراض اور اس کا جواب اس مقام سے کچھ مفصل ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ فرقان (۵، ۶)۔ ➋ {لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ:} یہ ان کے عجز کی دلیل ہے، اللہ تعالیٰ نے انھیں پہلے پورے قرآن، پھر اس کی دس سورتوں اور پھر صرف ایک سورت کی مثل لانے کے لیے کہا۔ وہ جواب میں کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو اس جیسا ہم بھی کہہ دیں، کوئی ان سے پوچھے اگر واقعی ایسا ہی ہے توتمھیں کس نے اس جیسا کلام لانے سے روکا ہے، تمھاری مقابلے کی غیرت کہاں گئی؟ اس قدر لاجواب ہونے کے باوجود تم کیوں نہیں کہنا چاہتے؟ کچھ تو زبان کھولو، صرف «{ اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ }» کی تین آیتوں جیسی ہی سورت لے آؤ۔ معلوم ہوا تم صاف جھوٹ کہہ رہے ہو۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۳، ۲۴)۔
وَ اِذۡ قَالُوا اللّٰہُمَّ اِنۡ کَانَ ہٰذَا ہُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِکَ فَاَمۡطِرۡ عَلَیۡنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ بات بھی یاد ہے جو اُنہوں نے کہی تھی کہ “خدایا اگر یہ واقعی حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی درد ناک عذاب ہم پر لے آ"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب کہ ان لوگوں نے کہا کہ اے اللہ! اگر یہ قرآن آپ کی طرف سے واقعی ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہم پر کوئی دردناک عذاب واقع کر دے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب بولے کہ اے اللہ اگر یہی (قرآن) تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لا،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) وہ وقت یاد کرو۔ جب انہوں نے کہا۔ اے اللہ! اگر یہ (اسلام) تیری طرف سے برحق ہے۔ تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب لا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب انھوں نے کہا اے اللہ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور و تکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت بیان کرتا ہے کہ ’ جھوٹ موت بک دیتے ہیں کہ ہاں بھئی ہم نے قرآن سن لیا، اس میں رکھا کیا ہے۔ ہم خود قدر ہیں، اگر چاہیں تو اسی جیسا کلام کہدیں۔ حالانکہ وہ کہہ نہیں سکتے۔‘ اپنی عاجزی اور تہی دستی کو خوب جانتے، لیکن زبان سے شیخی بگھارتے تھے۔ جہاں قرآن سنا تو اس کی قدر گھٹانے کیلئے بک دیا جب کہ ان سے زبردست دعوے کے ساتھ کہا گیا کہ لاؤ اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لاؤ تو سب عاجز ہو گئے۔ پس یہ قول صرف جاہلوں کی خوش طبعی کیلئے کہتے تھے۔ کہا گیا ہے کہ یہ کہنے والا نصر بن حارث ملعون تھا۔ یہ خبیث فارس کے ملک گیا تو تھا اور رستم و اسفند یار کے قصے یاد کر آیا تھا۔ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی آپ لوگوں کو کلام اللہ شریف سنا رہے ہوتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوتے تو یہ اپنی مجلس جماتا اور فارس کے قصے سناتا، پھر فخراً کہتا کہو میرا بیان اچھا ہے یا محمد کا؟ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ یہ بدر کے دن قید ہو کر لایا گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی گردن ماری گئی «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اسے قید کرنے والے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ تھے۔ قبہ بن ابی معیط، طعیمہ بن عدی، نصر بن حارث، یہ تینوں اسی قید میں قتل کئے گئے۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا بھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا قیدی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ اللہ عزوجل کی کتاب کے بارے میں زبان درازی کرتا تھا۔} انہوں نے بعد از قتل پھر کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں جسے باندھ کر لایا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ { یا اللہ اپنے فضل سے مقداد کو غنی کر دے۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15993] ‏‏‏‏

آپ خوش ہو گئے اور عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہی میرا مقصد اور مقصود تھا۔ اسی کے بارے میں یہ آیت «وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَـٰذَا ۙ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ» اتری ہے۔ ایک روایت میں طعیمہ کی بجائے مطعم بن عدی کا نام ہے لیکن یہ غلط ہے بدر والے دن وہ تو زندہ ہی نہ تھا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ { اگر آج یہ زندہ ہوتا اور مجھ سے ان قیدیوں کو طلب کرتا تو میں اسے دے دیتا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3139] ‏‏‏‏ اس لیے کہ طائف سے لوٹتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی اپنی پناہ میں مکہ میں لے گیا تھا۔ یہ کفار کہتے تھے کہ قرآن میں سوائے پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیوں کے کیا دھرا ہے انہیں کو پڑھ پڑھ کر لوگوں کو سناتا رہتا ہے۔ حالانکہ یہ محض جھوت بات تھی جو انہوں نے گھڑ لی تھی اسی لیے ان کے اس قول کو نقل کر کے جناب باری نے فرمایا ہے کہ «‏‏‏‏وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَىٰ عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 25-الفرقان: 5، 6 ] ‏‏‏‏ ’ انہیں جواب دے کہ اسے تو آسمان و زمین کی تمام غائب باتوں کے جاننے والے نے اتارا ہے جو غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ توبہ کرنے والوں کی خطائیں معاف فرماتا ہے، اپنے سامنے جھکنے والوں پر بڑے کرم کرتا ہے۔ ‘ پھر ان کی جہالت کا کرشمہ بیان ہو رہا ہے کہ چاہیئے تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ یا اللہ اگر یہ حق ہے تو ہمیں اس کی ہدایت دے اور اس کی اتباع کی توفیق نصیب فرما لیکن بجائے اس کے یہ دعا کرنے لگے کہ ہمیں جلد عذاب کر۔ «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [ 29-العنکبوت: 53 ] ‏‏‏‏ بات یہ ہے کہ ’ اللہ کی طرف سے ہرچیز کا وقت مقرر ہے ورنہ اس پر بھی عذاب آ جاتا لیکن اگر تمہارا یہی حال رہا تو پھر بھی وہ دن دور نہیں اچانک ان کی بیخبری میں اپنے وقت پر آ ہی جائے گا۔‘

یہ تو کہا کرتے تھے کہ «‏‏‏‏وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ» ۱؎ [38-ص:16] ‏‏‏‏ ’ ہمارا فیصلہ فیصلے کے دن سے پہلے ہی ہو جائے گا ‘ بطور مذاق عذاب کے واقع ہونے کی درخواست کرتے تھے جو کافروں پر آنے ولا ہے، جسے کوئی روک نہیں سکتا، آیت میں ہے «سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 70-المعارج: 1 - 3 ] ‏‏‏‏ ’ جو اس اللہ کی طرف سے ہو گا جو سیڑھیوں والا ہے۔‘ اگلی امتوں کے جاہلوں کا بھی یہی وطیرہ رہا۔ قوم شعیب نے کہا تھا کہ اے مدعی نبوت اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کو گرا دے۔ اسی طرح ان لوگوں نے کہا۔ ابوجہل وغیرہ نے یہ دعا کی تھی جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ ’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اور انہی میں سے بعض کا استغفار اللہ کے عذاب کی ڈھال ہے۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:4648] ‏‏‏‏ نصر بن حارث بن کلدہ نے بھی یہی دعا کی تھی جس کا ذکر «سَأَلَ سَائِلٌ» میں ہے ان کے اسی قول کا ذکر آیت «‏‏‏‏وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 38-ص: 16 ] ‏‏‏‏، میں ہے اور آیت «‏‏‏‏وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ» ۱؎ [ 6-الأنعام: 94 ] ‏‏‏‏، میں ہے اور آیت «سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ۱؎ [ 70-المعارج: 1 - 3 ] ‏‏‏‏، میں ہے۔ غرض دس سے اوپر اوپر آیتیں اس بیان میں ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:231/6] ‏‏‏‏ عمرو بن العاص جنگ احد میں اپنے گھوڑے پر سوار تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ اگر محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ کا لایا ہوا دین حق ہے تو مجھے میرے گھوڑے سمیت زمین میں دھنسا دے گو اس امت کے بیوقوفوں نے یہ تمنا کی لیکن اللہ نے اس امت پر رحم فرمایا اور جواب دیا کہ ایک تو پیغمبر کی موجودگی عام عذاب سے مانع ہے دوسرے تم لوگوں کا استغفار۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:231/6] ‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ مشرک حج میں طواف کے وقت کہتے تھے «لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ» اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: { بس بس یہیں تک بولو آگے نہ بڑھو } لیکن وہ پھر کہتے «اَلاَ شَرِیْكّا هُوَ لَكَ تَمْلِکُهُ وَمَا مَلَك» یعنی ہم حاضر ہیں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں۔پھر کہتے ہاں وہ شریک جو خود بھی تیری ملکیت میں ہیں اور جن چیزوں کو وہ مالک ہیں ان کا بھی اصل مالک تو ہی ہے اور کہتے «غُفْرَانَكَ غُفْرَانَكَ» اے اللہ ہم تجھ سے استغفار کرتے ہیں اے اللہ تو ہمیں معاف فرما۔

اسی طلب بخشش کو عذاب کے جلد نہ آنے کا سبب بتایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان میں دو سبب تھے ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے استغفار پس آپ تو چل دیئے اور استغفار باقی رہ گیا۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3082،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ قریشی آپس میں کہا کرتے تھے کہ محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ کو اللہ نے ہم میں سے ہم پر بزرگ بنایا اے اللہ اگر یہ سچا ہے تو تو ہمیں عذاب کر۔ جب ایمان لائے تو اپنے اس قول پر برا ہی نادم ہوئے اور استغفار کیا اسی کا بیان دوسری آیت میں ہے۔ پس انبیاء کی موجودگی میں قوموں پر عذاب نہیں آتا ہاں وہ نکل جائیں پھر عذاب برس پڑتے ہیں اور چونکہ ان کی قسمت میں ایمان تھا اور بعد از ایمان وہ استغفار اہل مکہ کے لیے باعث امن و امان تھا۔ ان دو وجہہ امن میں سے ایک تو اب نہ رہا دوسرا اب بھی موجود ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { مجھ پر دو امن میری امت کیلئے اترے ہیں ایک میری موجودگی دوسرے ان کا استغفار پس جب میں چلا جاؤں گا تو استغفار قیامت تک کیلئے ان میں چھوڑ جاؤں گا۔ } ایک اور حدیث میں ہے کہ شیطان نے کہا اے اللہ مجھے تیری عزت کی قسم میں تو جب تک تیرے بندوں کے جسم میں روح ہے انہیں بہکاتا رہوں گا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ’ مجھے بھی میری جلالت اور میری بزرگی کی قسم جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا۔‘ ۱؎ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:104] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بندہ اللہ کے عذابوں سے امن میں رہتا ہے جب تک وہ اللہ عزوجل سے استغفار کرتا ہے۔} ۱؎ [مسند احمد:20/6:صحیح] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 32) {وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ …:} یہ آیت اس بات کی مثال ہے کہ انسان جب مخالفت اور شدید دشمنی پر اتر آئے تو وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں یا کر رہا ہوں اس میں خود میرا کس قدر نقصان ہے۔ اب مکہ کے جاہل کافروں کو دیکھیے، اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنے کے بجائے کہ یا اللہ! اگر یہ دین حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہمیں اس کے قبول کرنے کی توفیق دے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی میں کہہ رہے ہیں کہ یا اللہ! اگر یہ دین واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہم پر عذاب الیم لے آ۔ اپنے خیال میں انھوں نے یہ بڑی دانش مندی کی بات کی ہو گی، مگر یہ قیامت تک کے لیے ان کی بے عقلی اور جہالت کی دلیل اور ان کے لیے عار کا باعث بن گئی۔ قرآن میں ان کے بار بار عذاب لے آنے کے مطالبے کا کئی مقامات پر ذکر ہے۔ دیکھیے سورۂ عنکبوت (۵۳)، سورۂ ص (۱۶) اور معارج (۱ تا ۳) صحیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ مطالبہ ابوجہل نے کیا تھا۔ [ بخاری، التفسیر، باب: «‏‏‏‏و إذ قالوا اللہم إن کان ھذا…» ‏‏‏‏: ۴۶۴۸ ] چونکہ باقی سب نے اسے پسند کیا تھا، اس لیے اسے سب کی طرف منسوب کر دیا گیا۔ التفسیر الوسیط میں سید طنطاوی رحمہ اللہ نے ایک واقعہ لکھا ہے جس کی سند ذکر نہیں کی (واللہ اعلم) مگر واقعہ دلچسپ اور سبق آموز ہے، اگر سنداً ثابت نہ بھی ہو تو بھی بات درست ہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے قوم سبا (اصحاب یمن) کے ایک آدمی سے کہا: ”تیری قوم کس قدر جاہل تھی کہ جنھوں نے ایک عورت کو اپنا بادشاہ بنا لیا۔“ اس نے جواب میں کہا: ”میری قوم سے آپ کی قوم زیادہ جاہل تھی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت حق کے جواب میں یہ کہا: «{ اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ }» ”اے اللہ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی اور دردناک عذاب لے آ) مگر یہ نہ کہا کہ یا اللہ! اگر یہی حق ہے تو ہمیں اس کے لیے ہدایت عطا فرما۔“
وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ وَ اَنۡتَ فِیۡہِمۡ ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمۡ وَ ہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ﴿۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جبکہ تو ان کے درمیان موجود تھا اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دیدے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے گا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وه استغفار بھی کرتے ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب! تم ان میں تشریف فرما ہو اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ ان پر عذاب نازل کرے جبکہ آپ ان کے درمیان موجود ہیں اور اللہ ایسا بھی نہیں ہے کہ ان پر عذاب نازل کرے جبکہ وہ استغفار کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ انھیں عذاب دے، جب کہ تو ان میں ہو اور اللہ انھیں کبھی عذاب دینے والا نہیں جب کہ وہ بخشش مانگتے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور و تکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت بیان کرتا ہے کہ ’ جھوٹ موت بک دیتے ہیں کہ ہاں بھئی ہم نے قرآن سن لیا، اس میں رکھا کیا ہے۔ ہم خود قدر ہیں، اگر چاہیں تو اسی جیسا کلام کہدیں۔ حالانکہ وہ کہہ نہیں سکتے۔‘ اپنی عاجزی اور تہی دستی کو خوب جانتے، لیکن زبان سے شیخی بگھارتے تھے۔ جہاں قرآن سنا تو اس کی قدر گھٹانے کیلئے بک دیا جب کہ ان سے زبردست دعوے کے ساتھ کہا گیا کہ لاؤ اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لاؤ تو سب عاجز ہو گئے۔ پس یہ قول صرف جاہلوں کی خوش طبعی کیلئے کہتے تھے۔ کہا گیا ہے کہ یہ کہنے والا نصر بن حارث ملعون تھا۔ یہ خبیث فارس کے ملک گیا تو تھا اور رستم و اسفند یار کے قصے یاد کر آیا تھا۔ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی آپ لوگوں کو کلام اللہ شریف سنا رہے ہوتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوتے تو یہ اپنی مجلس جماتا اور فارس کے قصے سناتا، پھر فخراً کہتا کہو میرا بیان اچھا ہے یا محمد کا؟ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ یہ بدر کے دن قید ہو کر لایا گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی گردن ماری گئی «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اسے قید کرنے والے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ تھے۔ قبہ بن ابی معیط، طعیمہ بن عدی، نصر بن حارث، یہ تینوں اسی قید میں قتل کئے گئے۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا بھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا قیدی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ اللہ عزوجل کی کتاب کے بارے میں زبان درازی کرتا تھا۔} انہوں نے بعد از قتل پھر کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں جسے باندھ کر لایا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ { یا اللہ اپنے فضل سے مقداد کو غنی کر دے۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15993] ‏‏‏‏

آپ خوش ہو گئے اور عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہی میرا مقصد اور مقصود تھا۔ اسی کے بارے میں یہ آیت «وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَـٰذَا ۙ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ» اتری ہے۔ ایک روایت میں طعیمہ کی بجائے مطعم بن عدی کا نام ہے لیکن یہ غلط ہے بدر والے دن وہ تو زندہ ہی نہ تھا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ { اگر آج یہ زندہ ہوتا اور مجھ سے ان قیدیوں کو طلب کرتا تو میں اسے دے دیتا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3139] ‏‏‏‏ اس لیے کہ طائف سے لوٹتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی اپنی پناہ میں مکہ میں لے گیا تھا۔ یہ کفار کہتے تھے کہ قرآن میں سوائے پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیوں کے کیا دھرا ہے انہیں کو پڑھ پڑھ کر لوگوں کو سناتا رہتا ہے۔ حالانکہ یہ محض جھوت بات تھی جو انہوں نے گھڑ لی تھی اسی لیے ان کے اس قول کو نقل کر کے جناب باری نے فرمایا ہے کہ «‏‏‏‏وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَىٰ عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 25-الفرقان: 5، 6 ] ‏‏‏‏ ’ انہیں جواب دے کہ اسے تو آسمان و زمین کی تمام غائب باتوں کے جاننے والے نے اتارا ہے جو غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ توبہ کرنے والوں کی خطائیں معاف فرماتا ہے، اپنے سامنے جھکنے والوں پر بڑے کرم کرتا ہے۔ ‘ پھر ان کی جہالت کا کرشمہ بیان ہو رہا ہے کہ چاہیئے تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ یا اللہ اگر یہ حق ہے تو ہمیں اس کی ہدایت دے اور اس کی اتباع کی توفیق نصیب فرما لیکن بجائے اس کے یہ دعا کرنے لگے کہ ہمیں جلد عذاب کر۔ «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [ 29-العنکبوت: 53 ] ‏‏‏‏ بات یہ ہے کہ ’ اللہ کی طرف سے ہرچیز کا وقت مقرر ہے ورنہ اس پر بھی عذاب آ جاتا لیکن اگر تمہارا یہی حال رہا تو پھر بھی وہ دن دور نہیں اچانک ان کی بیخبری میں اپنے وقت پر آ ہی جائے گا۔‘

یہ تو کہا کرتے تھے کہ «‏‏‏‏وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ» ۱؎ [38-ص:16] ‏‏‏‏ ’ ہمارا فیصلہ فیصلے کے دن سے پہلے ہی ہو جائے گا ‘ بطور مذاق عذاب کے واقع ہونے کی درخواست کرتے تھے جو کافروں پر آنے ولا ہے، جسے کوئی روک نہیں سکتا، آیت میں ہے «سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 70-المعارج: 1 - 3 ] ‏‏‏‏ ’ جو اس اللہ کی طرف سے ہو گا جو سیڑھیوں والا ہے۔‘ اگلی امتوں کے جاہلوں کا بھی یہی وطیرہ رہا۔ قوم شعیب نے کہا تھا کہ اے مدعی نبوت اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کو گرا دے۔ اسی طرح ان لوگوں نے کہا۔ ابوجہل وغیرہ نے یہ دعا کی تھی جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ ’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اور انہی میں سے بعض کا استغفار اللہ کے عذاب کی ڈھال ہے۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:4648] ‏‏‏‏ نصر بن حارث بن کلدہ نے بھی یہی دعا کی تھی جس کا ذکر «سَأَلَ سَائِلٌ» میں ہے ان کے اسی قول کا ذکر آیت «‏‏‏‏وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 38-ص: 16 ] ‏‏‏‏، میں ہے اور آیت «‏‏‏‏وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ» ۱؎ [ 6-الأنعام: 94 ] ‏‏‏‏، میں ہے اور آیت «سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ۱؎ [ 70-المعارج: 1 - 3 ] ‏‏‏‏، میں ہے۔ غرض دس سے اوپر اوپر آیتیں اس بیان میں ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:231/6] ‏‏‏‏ عمرو بن العاص جنگ احد میں اپنے گھوڑے پر سوار تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ اگر محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ کا لایا ہوا دین حق ہے تو مجھے میرے گھوڑے سمیت زمین میں دھنسا دے گو اس امت کے بیوقوفوں نے یہ تمنا کی لیکن اللہ نے اس امت پر رحم فرمایا اور جواب دیا کہ ایک تو پیغمبر کی موجودگی عام عذاب سے مانع ہے دوسرے تم لوگوں کا استغفار۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:231/6] ‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ مشرک حج میں طواف کے وقت کہتے تھے «لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ» اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: { بس بس یہیں تک بولو آگے نہ بڑھو } لیکن وہ پھر کہتے «اَلاَ شَرِیْكّا هُوَ لَكَ تَمْلِکُهُ وَمَا مَلَك» یعنی ہم حاضر ہیں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں۔پھر کہتے ہاں وہ شریک جو خود بھی تیری ملکیت میں ہیں اور جن چیزوں کو وہ مالک ہیں ان کا بھی اصل مالک تو ہی ہے اور کہتے «غُفْرَانَكَ غُفْرَانَكَ» اے اللہ ہم تجھ سے استغفار کرتے ہیں اے اللہ تو ہمیں معاف فرما۔

اسی طلب بخشش کو عذاب کے جلد نہ آنے کا سبب بتایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان میں دو سبب تھے ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے استغفار پس آپ تو چل دیئے اور استغفار باقی رہ گیا۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3082،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ قریشی آپس میں کہا کرتے تھے کہ محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ کو اللہ نے ہم میں سے ہم پر بزرگ بنایا اے اللہ اگر یہ سچا ہے تو تو ہمیں عذاب کر۔ جب ایمان لائے تو اپنے اس قول پر برا ہی نادم ہوئے اور استغفار کیا اسی کا بیان دوسری آیت میں ہے۔ پس انبیاء کی موجودگی میں قوموں پر عذاب نہیں آتا ہاں وہ نکل جائیں پھر عذاب برس پڑتے ہیں اور چونکہ ان کی قسمت میں ایمان تھا اور بعد از ایمان وہ استغفار اہل مکہ کے لیے باعث امن و امان تھا۔ ان دو وجہہ امن میں سے ایک تو اب نہ رہا دوسرا اب بھی موجود ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { مجھ پر دو امن میری امت کیلئے اترے ہیں ایک میری موجودگی دوسرے ان کا استغفار پس جب میں چلا جاؤں گا تو استغفار قیامت تک کیلئے ان میں چھوڑ جاؤں گا۔ } ایک اور حدیث میں ہے کہ شیطان نے کہا اے اللہ مجھے تیری عزت کی قسم میں تو جب تک تیرے بندوں کے جسم میں روح ہے انہیں بہکاتا رہوں گا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ’ مجھے بھی میری جلالت اور میری بزرگی کی قسم جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا۔‘ ۱؎ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:104] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بندہ اللہ کے عذابوں سے امن میں رہتا ہے جب تک وہ اللہ عزوجل سے استغفار کرتا ہے۔} ۱؎ [مسند احمد:20/6:صحیح] ‏‏‏‏
33۔ 1 یعنی پیغمبر کی موجودگی میں قوم پر عذاب نہیں آتا، اس لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود گرامی ان کے حفظ وامان کا سبب تھا۔ 33۔ 2 اس سے مراد یہ ہے کہ آئندہ مسلمان ہو کر استغفار کریں گے، یا یہ کہ طواف کرتے وقت مشرکین غَفْرَانَکَ رَبَّنَا غْفُرَانَکَ کہا کرتے تھے۔
(آیت 33) ➊ {وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِيْهِمْ:} یعنی جب تک آپ ان میں موجود ہیں اللہ تعالیٰ ان پر کبھی عذاب بھیجنے والا نہیں، کیونکہ اس کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نازل نہیں کرتا جب تک ان کا رسول اور ایمان والے ان میں موجود رہتے ہیں۔ چنانچہ نوح، ہود، صالح اور لوط علیھم السلام کے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔ قوم لوط کے متعلق فرمایا: «{ فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ }» [ الذاریات: ۳۵ ] ”ہم نے اس بستی سے جو بھی مومن تھا نکال لیا۔“ اسی طرح نوح علیہ السلام کو حکم ہوا کہ تمام اہل ایمان کو کشتی میں بٹھا لو، پھر عذاب بڑھنا شروع ہوا۔ دیکھیے سورۂ ہود (۴۰) اور سورۂ مومنون (۲۷) ➋ {وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ …:} یعنی یہ بھی اللہ تعالیٰ کا قاعدہ ہے کہ جب تک کوئی قوم اپنے گناہوں پر نادم ہو کر استغفار کرتی رہتی ہے وہ اسے ہلاک نہیں کرتا۔ یہاں فرمایا: ”جب کہ وہ بخشش مانگتے ہوں۔“ اس کی دو توجیہیں زیادہ معتبر ہیں، ایک تو یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کر جانے کے بعد بھی کچھ مسلمان مجبوراً مکہ میں رہ گئے تھے اور وہ اپنے رب سے استغفار کرتے رہتے تھے، ان کے استغفار کی برکت سے اہل مکہ پر عذاب نہیں آیا، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «{ لَوْ تَزَيَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا }» [ الفتح: ۲۵ ] ”اگر وہ (مومن اور کافر) الگ الگ ہو گئے ہوتے تو ہم ضرور ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے کفر کیا تھا، عذاب دیتے دردناک عذاب۔“ دوسری توجیہ یہ ہے کہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کے علم میں ایسے لوگ موجود تھے جو آئندہ چل کر مسلمان ہوں گے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں گے، اس لیے ان پر ایسا عذاب نہیں آ سکتا تھا جو سب کو سرے سے فنا کر ڈالے۔ اس توجیہہ کی طرف اشارہ بھی سورۂ فتح (۲۵) میں موجود ہے: «{ لِيُدْخِلَ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَآءُ }» ”تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جسے چاہے داخل کرلے۔“
وَ مَا لَہُمۡ اَلَّا یُعَذِّبَہُمُ اللّٰہُ وَ ہُمۡ یَصُدُّوۡنَ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ وَ مَا کَانُوۡۤا اَوۡلِیَآءَہٗ ؕ اِنۡ اَوۡلِیَآؤُہٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لیکن اب کیوں نہ وہ ان پر عذاب نازل کرے جبکہ وہ مسجد حرام کا راستہ روک رہے ہیں، حالانکہ وہ اس مسجد کے جائز متولی نہیں ہیں اس کے جائز متولی تو صرف اہلِ تقویٰ ہی ہو سکتے ہیں مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان میں کیا بات ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ سزا نہ دے حاﻻنکہ وه لوگ مسجد حرام سے روکتے ہیں، جب کہ وه لوگ اس مسجد کے متولی نہیں۔ اس کے متولی تو سوا متقیوں کے اور اشخاص نہیں، لیکن ان میں اکثر لوگ علم نہیں رکھتے
احمد رضا خان بریلوی
اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ کرے وہ تو مسجد حرام سے روک رہے ہیں اور وہ اس کے اہل نہیں اس کے اولیاء تو پرہیزگار ہی ہیں مگر ان میں اکثر کو علم نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
لیکن اللہ کیوں نہ ان پر عذاب نازل کرے جبکہ وہ مسجد الحرام سے (مسلمانوں کو) روک رہے ہیں حالانکہ وہ اس کے متولی نہیں ہیں اس کے متولی تو صرف پرہیزگار لوگ ہیں۔ لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھیں کیا ہے کہ اللہ انھیں عذاب نہ دے، جب کہ وہ مسجد حرام سے روک رہے ہیں، حالانکہ وہ اس کے متولی نہیں، اس کے متولی نہیں ہیں مگر جو متقی ہیں اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ارشاد ہے کہ فی الواقع یہ کفار عذابوں کے لائق ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی سے عذاب رکے ہوئے ہیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد ان پر عذاب الٰہی آیا۔ بدر کے دن ان کے تمام سردار مار ڈالے گئے یا قید کر دیئے گئے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ ٰ نے انہیں استغفار کی ہدایت کی کہ ’ اپنے شرک و فساد سے ہٹ جائیں اور اللہ سے معاف طلب کریں۔ ‘ قتادہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ وہ لوگ معافی نہیں مانگتے تھے ورنہ عذاب نہ ہوتا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:235/6] ‏‏‏‏ ہاں ان میں جو کمزر مسلمان رہ گئے تھے اور ہجرت پر قادر نہ تھے وہ استغفار میں لگے رہتے تھے اور ان کی ان میں موجودگی اللہ کے عذابوں کے رکنے کا ذریعہ تھی چنانچہ حدیبیہ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد الٰہی ہے «هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُ ۚ وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ أَن تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُم مِّنْهُم مَّعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ لِّيُدْخِلَ اللَّـهُ فِي رَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 48-الفتح: 25 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ مکے والے ہی تو وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد الحرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی نہ آنے دیا کہ وہ جہاں تھے وہیں رکے کھڑے رہے اور اپنے حلال ہونے کی جگہ نہ پہنچ سکے۔ اگر شہر مکہ میں کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں ایسی نہ ہوتیں کہ تم ان کے حال سے واقف نہیں تھے، اور عین ممکن تھا کہ لڑائی کی صورت میں تم انہیں بھی پامال کر ڈالتے اور نادانستہ ان کی طرف سے تمہیں نقصان پہنچ جاتا تو بیشک تمہیں اسی وقت لڑائی کی اجازت مل جاتی۔ اس وقت کی صلح اس لیے ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں لے لے۔‘

اگر مکے میں رکے ہوئے مسلمان وہاں سے کہیں تل جاتے تو یقیناً ان کافروں کو درد ناک مار ماری جاتی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اہل مکہ کے لیے باعث امن رہی پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد جو ضعیف مسلمان وہاں رہ گئے تھے اور استغفار کرتے رہے تھے، ان کی موجودگی کی وجہ سے عذاب نہ آیا جب وہ بھی مکے سے نکل گئے تب یہ آیت اتری کہ اب کوئی مانع باقی نہ رہا پس مسلمانوں کو مکے پر چڑھائی کرنے کی اجازت مل گئی اور یہ مفتوح ہوئے۔ ہاں ایک قول یہ بھی ہے کہ اگر مراد ان کا خود کا استغفار ہو تو اس آیت نے پہلی آیت «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ» کو منسوخ کر دیا۔ چنانچہ عکرمہ اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہ قول بھی ہے کہ «انفال» میں «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ» والی آیت کو اسکے بعد والی آیت «وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّـهُ» نے منسوخ کردیا ہے۔ چنانچہ «فَذُوقُوا الْعَذَابَ» فرمایا گیا چنانچہ اہل مکہ سے جنگ بھی ہوئی، انہیں ضرور بھی پہنچے، ان پر قحط سالیاں بھی آئیں پس ان مشرکوں کا اس آیت میں استثنا کر لیا گیا ہے۔ انہیں اللہ کے عذاب کیوں نہ ہوں؟ یہ مومن لوگوں کو کعبتہ اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں جو مومن بوجہ اپنی کمزوری کے اب تک مکہ میں ہی ہیں اور ان کے سوار اور مومنوں کو بھی طواف و نماز سے روکتے ہیں حالانکہ اصل اہلیت ان ہی میں ہے۔ ان مشرکوں میں اس کی اہلیت نہیں جیسے فرمان ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ» ۱؎ [9-التوبة:17] ‏‏‏‏، ’ مشرکین اللہ کے گھروں کی آبادی کے اہل نہیں وہ تو کفر میں مبتلا ہیں ان کے اعمال اکارت ہیں اور وہ ہمیشہ کے جہنمی ہیں۔‘

«‏‏‏‏إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّـهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَـٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 9-التوبہ: 18 ] ‏‏‏‏ ’ مسجدوں کی آبادی کے اہل اللہ پر، قیامت پر ایمان رکھنے والے، نمازی، زکوٰۃ ادا کرنے والے، صرف خوف الٰہی رکھنے والے ہی ہیں اور وہی راہ یافتہ لوگ ہیں۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 9-التوبہ: 17 ] ‏‏‏‏ ’ مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بیکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ ‘ «وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ اللَّـهِ» ۱؎ [ 2-البقرة: 217 ] ‏‏‏‏ ’ راہ رب سے روکنا، اللہ کے ساتھ کفر کرنا، مسجد الحرام کی بیحرمتی کرنا اور اس کے لائق لوگوں کو اس سے نکالنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا جرم ہے۔‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہر ایک پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا «إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ» ۔ } ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1304] ‏‏‏‏ مستدرک حاکم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو جمع کیا پھر پوچھا کہ { تم میں اس وقت کوئی اور تو نہیں؟ } انہوں نے کہا بہنوں کی اولاد اور حلیف اور مولیٰ ہیں۔ فرمایا: { یہ تینوں تو تم میں سے ہی ہیں۔ سنو تم میں سے میرے دوست وہی ہیں جو تقوے اور پرہیزگاری والے ہوں }۱؎ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:1688] ‏‏‏‏ پس اللہ کے اولیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم اور کل مجاہد خواہ وہ کوئی ہو اور کہیں کے ہوں۔ پھر ان کی ایک اور شرارت اور بےڈھنگا پن بیان فرماتا ہے۔ کعبے میں آ کر کیا کرتے ہیں؟ یا تو جانوروں کی سی سیٹیاں بجاتے ہیں، منہ میں انگلیاں رکھین اور سیٹیاں شروع کریں یا تالیاں پیٹنے لگے۔ طواف کرتے ہیں تو ننگے ہو کر، رخسار جھکا کر، سیٹی بجائی، تالی بجائی، چلئے نماز ہو گئی۔ کبھی رخسار زمین پر لٹکا لیا۔ بائیں طرف سے طواف کیا۔ یہ بھی مقصود تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بگاڑیں، مومنوں کا مذاق اڑائیں، لوگوں کو راہ رب سے روکیں۔ اب اپنے کفر کا بھرپور پھل چکھو، بدر کے دن قید ہو کے قتل ہوئے، تو لاچاری، چیخ اور زلزلے آئے۔
34۔ 1 یعنی وہ مشرکین اپنے آپ کو مسجد حرام (خانہ کعبہ) کا متولی سمجھتے تھے اور اس اعتبار سے جس کو چاہتے طواف کی اجازت دیتے اور جس کو چاہتے نہ دیتے۔ چناچہ مسلمانوں کو بھی وہ مسجد حرام میں آنے سے روکتے تھے حالانکہ وہ اس کے متولی ہی نہیں تھے، زبردستی بنے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اس کے متولی تو متقی افراد ہی بن سکتے ہیں نہ کہ مشرک۔ علاوہ ازیں اس آیت میں جس عذاب کا ذکر ہے، اس سے مراد فتح مکہ ہے جو مشرکین کے لئے عذاب عظیم رکھتا ہے۔ اس سے قبل کی آیت میں جس عذاب کی نفی ہے، جو پیغمبر کی موجودگی یا استغفار کرتے رہنے کی وجہ سے نہیں آتا، اس سے مراد عذاب استیصال اور ہلاکت کلی ہے۔ عبرت وتبیہ کے طور پر چھوٹے موٹے عذاب اس کے منافی نہیں۔
(آیت 34) {وَ مَا لَهُمْ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ …:} اس آیت میں ان کے عذاب کا مستحق ہونے کی چند وجہیں بیان کی ہیں، ایک تویہ کہ انھوں نے مسلمانوں کے مسجد حرام میں داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ دوسری یہ کہ وہ زبردستی مسجد حرام کے مالک اور متولی بنے بیٹھے ہیں، حالانکہ کعبہ کی تولیت صرف موحدین متقین کا حق ہے، مشرکین کا نہیں۔ دیکھیے سورهٔ توبہ (۱۷، ۱۸) تیسری یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی شان کے لائق اور اس کے بتائے ہوئے طریقے سے کرنے کے بجائے تالیاں پیٹ کر اور سیٹیاں بجا کر قوالی کے ذریعے سے کرتے ہیں۔ اس لیے ان پر عذاب کیوں نہ آئے، عذاب آئے گا اور ضرور آئے گا۔ پچھلی آیت میں جس عذاب کی نفی کی تھی وہ تھا جس سے قوموں کا نام و نشان مٹ جاتا تھا، یعنی عذاب استیصال۔ اس آیت میں اس عذاب کا ذکر ہے جو قحط، خوف اور جنگ کی صورت میں عبرت کے لیے ان پر مسلط ہوا، دیکھیے سورۂ نحل (۱۱۲، ۱۱۳)، سورۂ سجدہ (۲۱) اور سورۂ دخان (۱۰ تا ۱۶) یہ عذاب جنگ بدر، قحط، بھوک، خوف اور آخر میں فتح مکہ کی صورت میں اہل مکہ پر مسلط ہوا۔ جس سے ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے، یا قید ہوئے اور جو مرنے سے بچ گئے وہ آخر کار اسلام میں داخل ہو گئے۔
وَ مَا کَانَ صَلَاتُہُمۡ عِنۡدَ الۡبَیۡتِ اِلَّا مُکَآءً وَّ تَصۡدِیَۃً ؕ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ ﴿۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بیت اللہ کے پاس ان لوگوں کی نماز کیا ہوتی ہے، بس سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے ہیں پس اب لو، اِس عذاب کا مزہ چکھو اپنے اُس انکارِ حق کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کی نماز کعبہ کے پاس صرف یہ تھی سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا۔ سو اپنے کفر کے سبب اس عذاب کا مزه چکھو
احمد رضا خان بریلوی
اور کعبہ کے پاس ان کی نماز نہیں مگر سیٹی اور تالی تو اب عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور خانہ کعبہ کے پاس ان کی نماز نہیں تھی۔ مگر سیٹیاں اور تالیاں بجانا۔ سو اب عذاب کا مزہ چکھو۔ یہ تمہارے کفر کی پاداش ہے جو تم کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کی نماز اس گھر کے پاس سیٹیاں بجانے اور تالیاں بجانے کے سوا کبھی کچھ نہیں ہوتی۔ سو عذاب چکھو اس وجہ سے جو تم کفر کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ارشاد ہے کہ فی الواقع یہ کفار عذابوں کے لائق ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی سے عذاب رکے ہوئے ہیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد ان پر عذاب الٰہی آیا۔ بدر کے دن ان کے تمام سردار مار ڈالے گئے یا قید کر دیئے گئے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ ٰ نے انہیں استغفار کی ہدایت کی کہ ’ اپنے شرک و فساد سے ہٹ جائیں اور اللہ سے معاف طلب کریں۔ ‘ قتادہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ وہ لوگ معافی نہیں مانگتے تھے ورنہ عذاب نہ ہوتا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:235/6] ‏‏‏‏ ہاں ان میں جو کمزر مسلمان رہ گئے تھے اور ہجرت پر قادر نہ تھے وہ استغفار میں لگے رہتے تھے اور ان کی ان میں موجودگی اللہ کے عذابوں کے رکنے کا ذریعہ تھی چنانچہ حدیبیہ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد الٰہی ہے «هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُ ۚ وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ أَن تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُم مِّنْهُم مَّعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ لِّيُدْخِلَ اللَّـهُ فِي رَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 48-الفتح: 25 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ مکے والے ہی تو وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد الحرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی نہ آنے دیا کہ وہ جہاں تھے وہیں رکے کھڑے رہے اور اپنے حلال ہونے کی جگہ نہ پہنچ سکے۔ اگر شہر مکہ میں کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں ایسی نہ ہوتیں کہ تم ان کے حال سے واقف نہیں تھے، اور عین ممکن تھا کہ لڑائی کی صورت میں تم انہیں بھی پامال کر ڈالتے اور نادانستہ ان کی طرف سے تمہیں نقصان پہنچ جاتا تو بیشک تمہیں اسی وقت لڑائی کی اجازت مل جاتی۔ اس وقت کی صلح اس لیے ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں لے لے۔‘

اگر مکے میں رکے ہوئے مسلمان وہاں سے کہیں تل جاتے تو یقیناً ان کافروں کو درد ناک مار ماری جاتی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اہل مکہ کے لیے باعث امن رہی پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد جو ضعیف مسلمان وہاں رہ گئے تھے اور استغفار کرتے رہے تھے، ان کی موجودگی کی وجہ سے عذاب نہ آیا جب وہ بھی مکے سے نکل گئے تب یہ آیت اتری کہ اب کوئی مانع باقی نہ رہا پس مسلمانوں کو مکے پر چڑھائی کرنے کی اجازت مل گئی اور یہ مفتوح ہوئے۔ ہاں ایک قول یہ بھی ہے کہ اگر مراد ان کا خود کا استغفار ہو تو اس آیت نے پہلی آیت «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ» کو منسوخ کر دیا۔ چنانچہ عکرمہ اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہ قول بھی ہے کہ «انفال» میں «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ» والی آیت کو اسکے بعد والی آیت «وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّـهُ» نے منسوخ کردیا ہے۔ چنانچہ «فَذُوقُوا الْعَذَابَ» فرمایا گیا چنانچہ اہل مکہ سے جنگ بھی ہوئی، انہیں ضرور بھی پہنچے، ان پر قحط سالیاں بھی آئیں پس ان مشرکوں کا اس آیت میں استثنا کر لیا گیا ہے۔ انہیں اللہ کے عذاب کیوں نہ ہوں؟ یہ مومن لوگوں کو کعبتہ اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں جو مومن بوجہ اپنی کمزوری کے اب تک مکہ میں ہی ہیں اور ان کے سوار اور مومنوں کو بھی طواف و نماز سے روکتے ہیں حالانکہ اصل اہلیت ان ہی میں ہے۔ ان مشرکوں میں اس کی اہلیت نہیں جیسے فرمان ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ» ۱؎ [9-التوبة:17] ‏‏‏‏، ’ مشرکین اللہ کے گھروں کی آبادی کے اہل نہیں وہ تو کفر میں مبتلا ہیں ان کے اعمال اکارت ہیں اور وہ ہمیشہ کے جہنمی ہیں۔‘

«‏‏‏‏إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّـهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَـٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 9-التوبہ: 18 ] ‏‏‏‏ ’ مسجدوں کی آبادی کے اہل اللہ پر، قیامت پر ایمان رکھنے والے، نمازی، زکوٰۃ ادا کرنے والے، صرف خوف الٰہی رکھنے والے ہی ہیں اور وہی راہ یافتہ لوگ ہیں۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 9-التوبہ: 17 ] ‏‏‏‏ ’ مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بیکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ ‘ «وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ اللَّـهِ» ۱؎ [ 2-البقرة: 217 ] ‏‏‏‏ ’ راہ رب سے روکنا، اللہ کے ساتھ کفر کرنا، مسجد الحرام کی بیحرمتی کرنا اور اس کے لائق لوگوں کو اس سے نکالنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا جرم ہے۔‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہر ایک پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا «إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ» ۔ } ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1304] ‏‏‏‏ مستدرک حاکم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو جمع کیا پھر پوچھا کہ { تم میں اس وقت کوئی اور تو نہیں؟ } انہوں نے کہا بہنوں کی اولاد اور حلیف اور مولیٰ ہیں۔ فرمایا: { یہ تینوں تو تم میں سے ہی ہیں۔ سنو تم میں سے میرے دوست وہی ہیں جو تقوے اور پرہیزگاری والے ہوں }۱؎ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:1688] ‏‏‏‏ پس اللہ کے اولیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم اور کل مجاہد خواہ وہ کوئی ہو اور کہیں کے ہوں۔ پھر ان کی ایک اور شرارت اور بےڈھنگا پن بیان فرماتا ہے۔ کعبے میں آ کر کیا کرتے ہیں؟ یا تو جانوروں کی سی سیٹیاں بجاتے ہیں، منہ میں انگلیاں رکھین اور سیٹیاں شروع کریں یا تالیاں پیٹنے لگے۔ طواف کرتے ہیں تو ننگے ہو کر، رخسار جھکا کر، سیٹی بجائی، تالی بجائی، چلئے نماز ہو گئی۔ کبھی رخسار زمین پر لٹکا لیا۔ بائیں طرف سے طواف کیا۔ یہ بھی مقصود تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بگاڑیں، مومنوں کا مذاق اڑائیں، لوگوں کو راہ رب سے روکیں۔ اب اپنے کفر کا بھرپور پھل چکھو، بدر کے دن قید ہو کے قتل ہوئے، تو لاچاری، چیخ اور زلزلے آئے۔
35۔ 1 مشرکین جس طرح بیت اللہ کا ننگا طواف کرتے تھے، اسی طرح طواف کے دوران وہ انگلیاں منہ میں ڈال کر سیٹیاں اور ہاتھوں سے تالیاں بجاتے۔ اس کو بھی وہ عبادت اور نیکی تصور کرتے تھے۔ جس طرح آج بھی جاہل صوفی مسجدوں اور آستانوں میں رقص کرتے، ڈھول پیٹتے اور دھمالیں ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں۔ یہی ہماری نماز اور عبادت ہے۔ ناچ ناچ کر ہم اپنے یار (اللہ) کو منالیں گے۔ نعوذ باللہ من ھذہ الخرافات۔
(آیت 35) ➊ {وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِيَةً:” مُكَآءً”مَكَا يَمْكُوْ مَكْوًا وَ مُكَاءً“} سیٹی بجانا اور {” تَصْدِيَةً”صَدّٰي يُصَدِّيْ تَصْدِيَةً“} (تفعیل) تالیاں بجانا۔ یعنی وہ لوگ کعبہ کے پاس عین حرم میں تالیاں پیٹتے اور سیٹیاں بجاتے اور اسے اپنی نماز، اللہ کی عبادت اور اس کے قرب کا ذریعہ قرار دیتے۔ افسوس کہ اب مسلمانوں نے بھی نمازیں اور قرآن چھوڑ کر عاشقانہ اشعار، سیٹیوں اور تالیوں کے مجموعے قوالی کو طریقت و معرفت کا نام دے کر روح کی غذا قرار دے رکھا ہے۔ بے شمار لوگ اسے تصوف کا اہم رکن قرار دے کر صرف سیٹیوں اور تالیوں ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ باقاعدہ مرشد کے اردگرد طواف اور رقص کرکے اسے اپنی نماز سمجھتے ہیں اور برملا کہتے ہیں نماز عابداں سجدہ سجود است نماز عاشقاں کلی وجود است ”عابدوں کی نماز سجدہ سجود ہے مگر عاشقوں کی نماز (معشوق کا) پورا وجود ہی ہے۔“ ایک صوفی نے تو صاف ہی اپنے مرشد کو قبلہ بھی قرار دے دیا ہے، چنانچہ وہ کہتا ہے ہر قوم راست را ہے، دینے و قبلہ گاہے من قبلہ راست کردم برسمت کج کلا ہے ”ہر قوم کا ایک راستہ، ایک دین اور ایک قبلہ ہوتا ہے، مگر میں نے تو اپنا قبلہ ایک ٹیڑھی ٹوپی والے کی طرف سیدھا کر لیا ہے۔“ اگر ان میں سے کوئی نماز پڑھتا بھی ہے تو ایسے طریقے سے جس طریقے سے پڑھنے والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دوبارہ نماز پڑھ، تو نے نماز پڑھی ہی نہیں۔ اللہ کی قسم! جب تک مسلمان تصور شیخ کا شرک اور صوفیوں کی عبادت کے یہ خود ساختہ طریقے اور موسیقی و رقص جیسی دل میں نفاق پیدا کرنے والی خرافات ترک نہیں کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ارکان اسلام و ایمان کی پابندی، خصوصاً جہاد نہیں کرتے کبھی دنیا میں سر نہیں اٹھا سکتے، ہمیشہ ذلت و خواری ہی ان پر مسلط رہے گی۔ ➋ {فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ:} کفر و شرک کے ارتکاب، سیٹیوں، تالیوں اور رقص کو نماز سمجھنے کا نتیجہ دنیا اور آخرت کے عذاب کی صورت میں چکھو۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ لِیَصُدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ فَسَیُنۡفِقُوۡنَہَا ثُمَّ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ حَسۡرَۃً ثُمَّ یُغۡلَبُوۡنَ ۬ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی جَہَنَّمَ یُحۡشَرُوۡنَ ﴿ۙ۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جن لوگوں نے حق کو ماننے سے انکار کیا ہے وہ اپنے مال خدا کے راستے سے روکنے کے لیے صرف کر رہے ہیں اور ابھی اور خرچ کرتے رہیں گے مگر آخر کار یہی کوششیں ان کے لیے پچھتاوے کا سبب بنیں گی، پھر وہ مغلوب ہوں گے، پھر یہ کافر جہنم کی طرف گھیر لائے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
بلاشک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راه سے روکیں سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے، پھر وه مال ان کے حق میں باعﺚ حسرت ہو جائیں گے۔ پھر مغلوب ہو جائیں گے اور کافر لوگوں کو دوزخ کی طرف جمع کیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں تو اب انہیں خرچ کریں گے پھر وہ ان پر پچھتاوا ہوں گے پھر مغلوب کردیے جائیں گے اور کافروں کا حشر جہنم کی طرف ہوگا،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جو لوگ کافر ہیں وہ اس لئے اپنے مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) خدا کی راہ سے روکیں یہ آئندہ بھی اسی طرح خرچ کریں گے اور پھر انجام کار یہ (مال خرچ کرنا) ان کے لئے حسرت اور پچھتاوے کا باعث بن جائے گا۔ اور بالآخر وہ مغلوب ہو جائیں گے۔ اور جو کافر ہیں وہ گھیر گھار کر جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں، تاکہ اللہ کے راستے سے روکیں۔ پس عنقریب وہ انھیں خرچ کریں گے، پھر وہ ان پر افسوس کا باعث ہوں گے، پھر وہ مغلوب ہوں گے اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شکست خوردہ کفار کی سازشیں ٭٭

قریشیوں کو بدر میں شکست فاش ہوئی، اپنے مردے اور اپنے قیدی مسلمانوں کے ہاتھوں میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ابوسفیان اپنا قافلہ اور مال و متاع لے کر پہنچا تو عبداللہ بن ابی ربیعہ، عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ اور وہ لوگ جن کے عزیز و اقارب اس لڑائی میں کام آئے تھے ابو ابوسفیان کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپ دیکھتے ہیں ہماری کیا درگت ہوئی؟ اب اگر آپ رضامند ہوں تو یہ سارا مال روک لیا جائے اور اسی خزانے سے دوسری جنگ کی تیاری وسیع پیمانے پر کی جائے اور انہیں مزا چکھا دیا جائے چنانچہ یہ بات مان لی گئی اور پختہ ہوگئ۔ اسی پر یہ آیت «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» الخ اتری کہ ’ بلاشک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راه سے روکیں سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے، پھر وه مال ان کے حق میں باعث حسرت ہو جائیں گے۔ پھر مغلوب ہو جائیں گے اور کافر لوگوں کو دوزخ کی طرف جمع کیا جائے گا۔ ‘ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت بھی بدر کے بارے میں اتری ہے۔ الفاظ آیت کے عام ہیں گو سبب نزول خاص ہو حق کو روکنے کے لیے جو بھی مال خرچ کرے وہ آخر ندامت کے ساتھ رہ جائے گا۔ دین کا چراغ انسانی پھونکوں سے بجھ نہیں سکتا۔ اس خواہش کا انجام نا مرادی ہی ہے۔ خود اللہ اپنے دین کا ناصر اور حافظ ہے۔ اس کا کلمہ بلند ہو گا، اس کا بول بالا ہو گا، اس کا دین غالب ہو گا کفار منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔

قولہ تعالیٰ: «لِيَمِيزَ اللَّـهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَىٰ بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعًا فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہلِ سعادت کا امتیاز اہلِ شقاوت سے ہے کہ مومن کافر سے ممتاز ہوجائے گا اور یہ بھی محتمل ہے کہ امتیاز سے مراد آخرت کا امتیاز ہو۔ دنیا میں الگ رسوائی اور ذلت ہو گی آخرت میں الگ بربادی اور خواری ہو گی۔ جیتے جی یا تو اپنے سامنے اپنی پستی ذلت نکبت و ادبار اور خوری دیکھ لیں گے یا مرنے پر عذاب نار دیکھ لیں گے۔ پستی و غلامی کی مار اور شکست ان کے ماتھے پر لکھ دی گئی ہے۔ پھر آخری ٹھکانا جہنم ہے تاکہ اللہ شقی اور سعید کو الگ الگ کر دے۔ برے اور بھلے کو ممتاز کر دے یہ تفریق اور امتیاز آخرت میں ہو گی اور دنیا میں بھی۔ فرمان ہے «ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ» ۱؎ [ 10-یونس: 28 ] ‏‏‏‏، ’ قیامت کے دن ہم کافروں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود یہیں اسی جگہ ٹھہرے رہو۔ ‘ اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» ۱؎ [ 30-الروم: 14 ] ‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن یہ سب جدا جدا ہو جائیں گے‘ اور آیت میں ہے «يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ» ۱؎ [ الروم: 43 ] ‏‏‏‏ ’ اس دن یہ منتشر ہو جائیں گے ‘ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ» ۱؎ [ 36-یس: 59 ] ‏‏‏‏ ’ اے گنہگار و تم آج نیک کاروں سے الگ ہو جاؤ۔ ‘ اسی طرح دنیا میں بھی ایک دوسرے سے بالکل ممتاز تھے۔ مومنوں کے اعمال ان کے اپنے ہیں اور ان سے بالکل جدا گانہ «لِيَمِيزَ» کا لام تو دلیل ہو سکتا ہے یعنی کافر اپنے مالوں کو اللہ کی راہ کی روک کیلئے خرچ کرتے ہیں تاکہ مومن و کافر میں علیحدگی ہو جائے کہ کون اللہ کا فرمانبردار ہے اور کون نافرمانی میں ممتاز ہے؟ چنانچہ فرمان ہے «وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّـهِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 166، 167 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ کے وقت جو کچھ تم سے ہوا وہ اللہ کے حکم سے تھا تاکہ مومنوں اور منافقوں میں تمیز ہو جائے ان سے جب کہا گیا کہ آؤ راہ حق میں جہاد کرو یا دشمنوں کو دفع کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم فنون جنگ سے واقف ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے۔ ‘ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏مَّا كَانَ اللَّـهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۗ وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 179 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری موجودہ حالتوں پر ہی چھوڑنے والا نہیں وہ پاک اور پلید کو علیحدہ علیحدہ کرنے والا ہے۔‘

یہ ہی نہیں کہ اللہ تمہیں اپنے غیب پر خبردار کر دے۔ فرمان ہے «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 142 ] ‏‏‏‏، ’ کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تو اللہ نے تم میں سے مجاہدین کو اور صبر کرنے والوں کو کھلم کھلا نہیں کیا۔ ‘ سورۃ برات میں بھی اسی جیسی آیت موجود ہے تو مطلب یہ ہوا کہ ہم نے تمہیں کافروں کے ہاتھوں میں اس لیے مبتلا کیا ہے اور اس لیے انہیں اپنے مال باطل میں خرچ کرنے پر لگایا ہے کہ نیک و بد کی تمیز ہو جائے۔ «فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» ’ خبیث کو خبیث سے ملا کر جمع کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ دنیا و آخرت میں یہ لوگ برباد ہیں۔‘
36۔ 1 جب قریش مکہ کو بدر میں شکست ہوئی اور ان کے شکست خوردہ اصحاب مکہ واپس گئے۔ ادھر سے ابو سفیان بھی اپنا تجارتی قافلہ لے کر وہاں پہنچ چکے تھے تو کچھ لوگ، جن کے باپ، بیٹے یا بھائی اس جنگ میں مارے گئے تھے، ابو سفیان اور جن کا تجارت سامان میں حصہ تھا، ان کے پاس گئے اور ان سے استدعا کی وہ اس مال کو مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لئے استعمال کریں۔ مسلمانوں نے ہمیں بڑا نقصان پہنچایا ہے اس لئے ان سے انتقامی جنگ ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انہی لوگوں یا اسی قسم کا کردار اپنانے والوں کے بارے میں فرمایا کہ بیشک یہ لوگ اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کے لئے اپنا مال خرچ کرلیں لیکن ان کے حصے میں سوائے حسرت اور مغلوبیت کے کچھ نہیں آئے گا اور آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔
(آیت 36) {اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ …:} یہاں {” عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ “} سے مراد اسلام ہے، یعنی کفار خصوصاً اہل مکہ کہ جن کا یہاں ذکر ہو رہا ہے، وہ اپنے اموال لوگوں کو اسلام سے روکنے کے لیے ہر طرح سے خرچ کرتے ہیں، مال کا لالچ دے کر بھی اور جنگ کی تیاری کے لیے خوراک، سواریاں اور اسلحہ و افراد مہیا کرکے بھی۔ انھیں اسلام سے اس قدر دشمنی اور عناد ہے کہ اس سے روکنے کے لیے وہ اپنی محبوب ترین چیز مال خرچ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی خبردار کر دیا کہ آئندہ جب بھی یہ مسلمانوں کے خلاف کوئی کار روائی کریں گے انھیں اسی طرح ناکامی اور حسرت کا سامنا کرنا پڑے گا جس طرح اب بدر میں ان کا حشر ہوا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد جنگ احد اور خندق میں بھی انھیں ناکامی کے ساتھ لوٹنا پڑا، نہ مدینہ پر قبضہ کر سکے، نہ مال غنیمت حاصل کرسکے اور نہ ہی کسی کو لونڈی و غلام بنا سکے اور آخرت میں ان کافروں کا انجام یہ ہے کہ وہ جہنم میں دھکیل کر اکٹھے کیے جائیں گے۔ بعد میں بھی جب تک مسلمان اللہ کے احکام پر کاربند رہے اور انھوں نے جہاد کی تیاری میں کوتاہی نہ کی، ان کے خلاف جنگ کے لیے خرچ کیے ہوئے کفار کے اموال ہمیشہ ان کے لیے باعث حسرت ہی بنے اور وہ ہمیشہ مغلوب ہی ہوئے۔
لِیَمِیۡزَ اللّٰہُ الۡخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجۡعَلَ الۡخَبِیۡثَ بَعۡضَہٗ عَلٰی بَعۡضٍ فَیَرۡکُمَہٗ جَمِیۡعًا فَیَجۡعَلَہٗ فِیۡ جَہَنَّمَ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿٪۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تاکہ اللہ گندگی کو پاکیزگی سے چھانٹ کر الگ کرے اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے پھر اس پلندے کو جہنم میں جھونک دے یہی لوگ اصلی دیوالیے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ اللہ تعالیٰ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور ناپاکوں کو ایک دوسرے سے ملا دے، پس ان سب کو اکھٹا ڈھیر کر دے پھر ان سب کو جہنم میں ڈال دے۔ ایسے لوگ پورے خسارے میں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اس لیے کہ اللہ گندے کو ستھرے سے جدا فرمادے اور نجاستوں کو تلے اوپر رکھ کر سب ایک ڈھیر بناکر جہنم میں ڈال دے وہی نقصان پانے والے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ سب کچھ اس لئے ہوگا کہ اللہ ناپاک (لوگوں) کو پاک لوگوں سے جدا کر دے اور جو ناپاک ہیں ان کو ایک دوسرے پر تہہ بہ تہہ رکھ کر ڈھیر بنائے اور پھر اس سارے ڈھیر کو جہنم میں جھونک دے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ (نقصان) اٹھانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ اللہ ناپاک کو پاک سے جدا کر دے اور ناپاک کو، اس کے بعض کو بعض پر رکھے، پس اسے اکٹھا ڈھیر بنا دے، پھر اسے جہنم میں ڈال دے۔ یہی لوگ اصل خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شکست خوردہ کفار کی سازشیں ٭٭

قریشیوں کو بدر میں شکست فاش ہوئی، اپنے مردے اور اپنے قیدی مسلمانوں کے ہاتھوں میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ابوسفیان اپنا قافلہ اور مال و متاع لے کر پہنچا تو عبداللہ بن ابی ربیعہ، عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ اور وہ لوگ جن کے عزیز و اقارب اس لڑائی میں کام آئے تھے ابو ابوسفیان کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپ دیکھتے ہیں ہماری کیا درگت ہوئی؟ اب اگر آپ رضامند ہوں تو یہ سارا مال روک لیا جائے اور اسی خزانے سے دوسری جنگ کی تیاری وسیع پیمانے پر کی جائے اور انہیں مزا چکھا دیا جائے چنانچہ یہ بات مان لی گئی اور پختہ ہوگئ۔ اسی پر یہ آیت «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» الخ اتری کہ ’ بلاشک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راه سے روکیں سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے، پھر وه مال ان کے حق میں باعث حسرت ہو جائیں گے۔ پھر مغلوب ہو جائیں گے اور کافر لوگوں کو دوزخ کی طرف جمع کیا جائے گا۔ ‘ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت بھی بدر کے بارے میں اتری ہے۔ الفاظ آیت کے عام ہیں گو سبب نزول خاص ہو حق کو روکنے کے لیے جو بھی مال خرچ کرے وہ آخر ندامت کے ساتھ رہ جائے گا۔ دین کا چراغ انسانی پھونکوں سے بجھ نہیں سکتا۔ اس خواہش کا انجام نا مرادی ہی ہے۔ خود اللہ اپنے دین کا ناصر اور حافظ ہے۔ اس کا کلمہ بلند ہو گا، اس کا بول بالا ہو گا، اس کا دین غالب ہو گا کفار منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔

قولہ تعالیٰ: «لِيَمِيزَ اللَّـهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَىٰ بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعًا فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہلِ سعادت کا امتیاز اہلِ شقاوت سے ہے کہ مومن کافر سے ممتاز ہوجائے گا اور یہ بھی محتمل ہے کہ امتیاز سے مراد آخرت کا امتیاز ہو۔ دنیا میں الگ رسوائی اور ذلت ہو گی آخرت میں الگ بربادی اور خواری ہو گی۔ جیتے جی یا تو اپنے سامنے اپنی پستی ذلت نکبت و ادبار اور خوری دیکھ لیں گے یا مرنے پر عذاب نار دیکھ لیں گے۔ پستی و غلامی کی مار اور شکست ان کے ماتھے پر لکھ دی گئی ہے۔ پھر آخری ٹھکانا جہنم ہے تاکہ اللہ شقی اور سعید کو الگ الگ کر دے۔ برے اور بھلے کو ممتاز کر دے یہ تفریق اور امتیاز آخرت میں ہو گی اور دنیا میں بھی۔ فرمان ہے «ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ» ۱؎ [ 10-یونس: 28 ] ‏‏‏‏، ’ قیامت کے دن ہم کافروں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود یہیں اسی جگہ ٹھہرے رہو۔ ‘ اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» ۱؎ [ 30-الروم: 14 ] ‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن یہ سب جدا جدا ہو جائیں گے‘ اور آیت میں ہے «يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ» ۱؎ [ الروم: 43 ] ‏‏‏‏ ’ اس دن یہ منتشر ہو جائیں گے ‘ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ» ۱؎ [ 36-یس: 59 ] ‏‏‏‏ ’ اے گنہگار و تم آج نیک کاروں سے الگ ہو جاؤ۔ ‘ اسی طرح دنیا میں بھی ایک دوسرے سے بالکل ممتاز تھے۔ مومنوں کے اعمال ان کے اپنے ہیں اور ان سے بالکل جدا گانہ «لِيَمِيزَ» کا لام تو دلیل ہو سکتا ہے یعنی کافر اپنے مالوں کو اللہ کی راہ کی روک کیلئے خرچ کرتے ہیں تاکہ مومن و کافر میں علیحدگی ہو جائے کہ کون اللہ کا فرمانبردار ہے اور کون نافرمانی میں ممتاز ہے؟ چنانچہ فرمان ہے «وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّـهِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 166، 167 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ کے وقت جو کچھ تم سے ہوا وہ اللہ کے حکم سے تھا تاکہ مومنوں اور منافقوں میں تمیز ہو جائے ان سے جب کہا گیا کہ آؤ راہ حق میں جہاد کرو یا دشمنوں کو دفع کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم فنون جنگ سے واقف ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے۔ ‘ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏مَّا كَانَ اللَّـهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۗ وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 179 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری موجودہ حالتوں پر ہی چھوڑنے والا نہیں وہ پاک اور پلید کو علیحدہ علیحدہ کرنے والا ہے۔‘

یہ ہی نہیں کہ اللہ تمہیں اپنے غیب پر خبردار کر دے۔ فرمان ہے «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 142 ] ‏‏‏‏، ’ کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تو اللہ نے تم میں سے مجاہدین کو اور صبر کرنے والوں کو کھلم کھلا نہیں کیا۔ ‘ سورۃ برات میں بھی اسی جیسی آیت موجود ہے تو مطلب یہ ہوا کہ ہم نے تمہیں کافروں کے ہاتھوں میں اس لیے مبتلا کیا ہے اور اس لیے انہیں اپنے مال باطل میں خرچ کرنے پر لگایا ہے کہ نیک و بد کی تمیز ہو جائے۔ «فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» ’ خبیث کو خبیث سے ملا کر جمع کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ دنیا و آخرت میں یہ لوگ برباد ہیں۔‘
37۔ 1 یہ علیحدگی یا تو آخرت میں ہوگی کہ اہل سعادت کو اہل بدبخت سے الگ کردیا جائے گا، جیسا کہ فرمایا۔ (وَامْتَا زُوا الْیَوْ مَ اَتُہاَ الْمُجْرِمُوْنَ) (سورت یس۔ 59) ' اے گناہ گارو! آج الگ ہوجاؤ ' یعنی نیک لوگوں سے اور مجرموں سے یعنی کافروں، مشرکوں اور نافرمانوں کو اکٹھا کرکے سب کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ یا پھر اس کا تعلق دنیا سے ہے۔ یعنی کافر اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے جو مال خرچ کر رہے ہیں، ہم ان کو ایسا کرنے کا موقع دیں گے تاکہ اس طریقے سے اللہ تعالیٰ خبیث کو طیب سے، کافر کو مومن سے اور منافق کو مخلص سے الگ کردے۔ اس اعتبار سے آیت کے معنی ہونگے، کفار کے ذریعے سے ہم تمہاری آزمائش کریں گے، وہ تم سے لڑیں گے اور ہم انہیں ان کے مال بھی لڑائی پر خرچ کرنے کی قدرت دیں گے تاکہ خبیث، طیب سے ممتاز ہوجائے۔ پھر وہ خبیث کو ایک دوسرے سے ملا دے گا یعنی سب کو جمع کردے گا (ابن کثیر)
(آیت 37) { لِيَمِيْزَ اللّٰهُ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ …: } ناپاک کو پاک سے جدا کرنے سے مراد یا تو قیامت کے دن کفار اور مسلمانوں کو جدا جدا کرکے خبیث کفار کو تہ بہ تہ جمع کرکے جہنم میں پھینکنا ہے، یا دنیا ہی میں جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے سے اہل ایمان اور اہل کفر کو جدا جدا کرنے کے بعد خبیث لوگوں یعنی کفار کو تہ تیغ کرکے جہنم میں پھینکنا ہے اور یہی لوگ ہیں جو اصل خسارا اٹھانے والے ہیں۔
قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ یَّنۡتَہُوۡا یُغۡفَرۡ لَہُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَ ۚ وَ اِنۡ یَّعُوۡدُوۡا فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، ان کافروں سے کہو کہ اگر اب بھی باز آ جائیں تو جو کچھ پہلے ہو چکا ہے اس سے درگزر کر لیا جائے گا، لیکن اگر یہ اسی پچھلی روش کا اعادہ کریں گے تو گزشتہ قوموں کے ساتھ جو کچھ ہو چکا ہے وہ سب کو معلوم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے! کہ اگر یہ لوگ باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں سب معاف کر دیئے جائیں گے اور اگر اپنی وہی عادت رکھیں گے تو (کفار) سابقین کے حق میں قانون نافذ ہو چکا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم کافروں سے فرماؤ اگر وہ باز رہے تو جو ہو گزرا وہ انہیں معاف فرمادیا جائے گا اور اگر پھر وہی کریں تو اگلوں کا دستور گزر چکا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) کافروں سے کہہ دو کہ اگر وہ اب بھی (شرارت سے) باز آجائیں۔ تو جو کچھ گزر چکا وہ انہیں معاف کر دیا جائے گا۔ اور اگر وہ اپنی سابقہ روش کا اعادہ کریں گے تو پھر گزشتہ (نافرمان) قوموں کے ساتھ (خدا کی روش) بھی گزر چکی ہے (ان کے ساتھ بھی وہی ہوگا)۔
عبدالسلام بن محمد
ان لوگوں سے کہہ دے جنھوں نے کفر کیا، اگر وہ باز آجائیں تو جو کچھ گزر چکا انھیں بخش دیا جائے گا اور اگر پھر ایسا ہی کریں تو پہلے لوگوں کا طریقہ گزر ہی چکا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فتنے کے اختتام تک جہاد جاری رکھو ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہورہا ہے کہ ’ کافروں سے کہدو کہ اگر وہ اپنے کفر سے اور ضد سے باز آ جائیں، اسلام اور اطاعت قبول کر لیں، رب کی طرف جھک جائیں تو ان سے جو ہو چکا ہے سب معاف کر دیا جائے گا، کفر بھی، خطا بھی گناہ بھی۔‘ حدیث میں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو شخص اسلام لا کر نیکیاں کرے وہ اپنے جاہلیت کے اعمال پر پکڑا نہ جائے گا اور اسلام میں بھی پھر برائیاں کرے تو اگلی پچھلی تمام خطاؤں پر اس کی پکڑ ہو گی } ۱؎ [صحیح بخاری:6921] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسلام سے پہلے کے سب گناہ معاف ہیں توبہ بھی اپنے سے پہلے کے گناہ کو مٹا دیتی ہے۔} ۱؎ [صحیح مسلم:121] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر یہ نہ مانیں اور اپنے کفر پر قائم رہیں تو وہ اگلوں کی حالت دیکھ لیں کہ ہم نے انہیں ان کے کفر کی وجہ سے کیسا غارت کیا؟ ابھی بدری کفار کا حشر بھی ان کے سامنے ہے۔ جب تک فتنہ باقی ہے تم جنگ جاری رکھو۔‘ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آیت «وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا» ۱؎ [ 49-الحجرات: 9 ] ‏‏‏‏، کو پیش نظر رکھ کر آپ اس وقت کی باہمی جنگ میں شرکت کیوں نہیں کرتے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگوں کا یہ طعنہ اس سے بہت ہلکا ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کر کے جہنمی بن جاؤں جیسے فرمان الٰہی ہے «وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 4-النساء: 93 ] ‏‏‏‏، اس نے کہا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’ فتنہ باقی ہو تب تک لڑائی جاری رکھو۔‘ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہی ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا۔ اس وقت مسلمان کم تھے، انہیں کافر گرفتار کر لیتے تھے اور دین میں فتنے ڈالتے تھے یا تو قتل کر ڈالتے تھے یا قید کر لیتے تھے۔ جب مسلمان بڑھ گئے وہ فتنہ جاتا رہا۔

اس معترض شخص نے جب دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ مانتے نہیں تو کہا اچھا سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اللہ نے معاف فرمایا لیکن تمہیں اللہ کی وہ معافی بری معلوم ہوتی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے اور آپ کے داماد تھے، یہ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی، یہ کہتے ہوئے ان [سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا] ‏‏‏‏ کے مکان کی طرف اشارہ کیا۔۱؎ [صحیح بخاری:4650] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ لوگوں کے پاس آئے تو کسی نے کہا کہ اس فتنے کے وقت کی لڑائی کی نسبت جناب کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا جانتے بھی ہو فتنے سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافروں سے جنگ کرتے تھے، اس وقت ان کا زور تھا، ان میں جانا فتنہ تھا، تمہاری تو یہ ملکی لڑائیاں ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4651] ‏‏‏‏

اور روایت میں ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں دو شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ آپ کے سامنے ہے آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، آپ کیوں میدان جنگ میں نہیں اترے؟ فرمایا اس لیے کہ اللہ نے ہر مومن کا خون حرام کر دیا ہے انہوں نے کہا کیا فتنے کے باقی رہنے تک لڑنا اللہ کا حکم نہیں؟ آپ نے فرمایا ہے اور ہم نے اسے نبھایا بھی یہاں تک کہ فتنہ دور ہو گیا اور دین سب اللہ ہی کا ہو گیا، اب تم اپنی اس باہمی جنگ سے فتنہ کھڑا کرنا اور غیر اللہ کے دین کے لیے ہو جانا جاہتے ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4513] ‏‏‏‏ ذوالسطبین اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے میں ہرگز اس شخص سے جنگ نہ کروں گا جو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا قائل ہو۔ سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اس کی تائید کی اور فرمایا میں بھی یہی کہتا ہوں تو ان پر بھی یہی آیت «وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّـهِ» پیش کی گئی اور یہی جواب آپ نے بھی دیا۔ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وعیرہ فتنہ سے مراد شرک ہے اور یہ بھی کہ مسلمانوں کی کمزوری ایسی نہ رہے کہ کوئی انہیں ان کے سچے دین سے مرتد کرنے کی طاقت رکھے۔ دین سب اللہ کا ہو جائے یعنی توحید نکھر جائے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا کلمہ زبانوں پر چڑھ جائے شرک اور معبود ان باطل کی پرستش اٹھ جائے، تمہارے دین کے ساتھ کفر باقی نہ رہے۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھے حکم فرمایا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لیں جب وہ اسے کہہ لیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں اور اپنے مال بچا لیں گے ہاں حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:1399] ‏‏‏‏

بخاری مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری کیلئے، ایک شخص غیرت کیلئے، ایک شخص ریا کاری کیلئے لڑائی کر رہا ہے تو اللہ کی راہ میں ان میں سے کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کی غرض سے جہاد کرے وہ اللہ کی راہ میں ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر تمہارے جہاد کی وجہ سے یہ اپنے کفر سے باز آ جائیں تو تم ان سے لڑائی موقوف کر دو ان کے دلوں کا حال سپرد رب کر دو۔ اللہ ان کے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2810] ‏‏‏‏ جیسے فرمان ہے «فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 9-التوبہ: 5 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ اگر یہ توبہ کر لیں اور نمازی اور زکوٰۃ دیین والے بن جائیں تو ان کی راہ چھوڑ دو، ان کے راستے نہ روکو‘۔ اور آیت میں ہے کہ «فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ» ۱؎ [ 9-التوبہ: 11 ] ‏‏‏‏ ’ اس صورت میں وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ «وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّـهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ» ۱؎ [ 2-البقرة: 193 ] ‏‏‏‏ ’ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے پھر اگر وہ باز آ جائیں تو زیادتی کا بدلہ تو صرف ظالموں کے لیے ہی ہے۔‘ ایک صحیح رویت میں ہے کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ ایک شخص پر تلوار لے کر چڑھ گئے جب وہ زد میں آ گیا اور دیکھا کہ تلوار چلا جاتی ہے تو اس نے جلدی سے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ دیا لیکن اس کے سر پر تلوار پڑ گئی اور وہ قتل ہو گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا بیان ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { کیا تو نے اسے اس کے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہنے کے بعد قتل کیا؟ تو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے ساتھ قیامت کے دن کیا کرے گا؟} حضرت اسامہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ تو اس نے صرف اپنے بچاؤ کیلئے کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ بتا کون ہو گا جو قیامت کے دن «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا مقابلہ کرے۔ باربار آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے}، یہاں تک کہ اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آنے لگا کہ کاش کہ میں آج کے دن سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا، تاکہ اسلام کے زعم میں اس کو قتل نہ کردیتا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4269] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر یہ اب بھی باز نہ رہیں تمہاری مخالفت اور تم سے لڑائی نہ چھوڑیں تو تم یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا مولا، تمہارا مالک، تمہارا مددگار اور ناصر ہے۔ وہ تمہیں ان پر غالب کرے گا۔ وہ بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے۔‘ ابن جریر میں ہے کہ عبدالملک بن مروان نے عروہ رحمہ اللہ سے کچھ باتیں دریافت کی تھیں جس کے جواب میں آپ نے انہیں لکھا سلام علیک کے بعد میں آپ کے سامنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ بعد حمد و صلوۃ کے آپ کا خط ملا آپ نے ہجرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت مجھ سے سوال کیا ہے میں آپ کو اس واقعہ کی خبر لکھتا ہوں۔ اللہ ہی کی مدد پر خیر کرنا اور شر سے روکنا موقوف ہے مکہ شریف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کا واقعہ یوں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت دی، سبحان اللہ کیسے اچھے پیشوا بہترین رہنما تھے، اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جزائے خیر عطا فرمائے ہمیں جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب فرمائے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے دین پر زندہ رکھے اسی پر موت دے اور اسی پر قیامت کے دن کھڑا کرے، آمین۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو ہدایت اور نور کی طرف دعوت دی جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا تھا تو شروع شروع تو انہیں کچھ زیادہ برا نہیں معلوم ہوا بلکہ قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے لگیں مگر جب ان کے معبودان باطل کا ذکر آیا اس وقت وہ بگڑے بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کا برا ماننے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سختی کرنے لگے۔ اسی زمانے میں طائف کے چند قریشی مال لے کر پہنچے وہ بھی ان کے شریک حال ہو گئے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کے ماننے والے مسلمانوں کو طرح طرح سے ستانے لگے جس کی وجہ سے عام لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس آنے جانے سے ہٹ گئے بجز ان چند ہستیوں کے جو اللہ کی حفاظت میں تھیں یہی حالت ایک عرصے تک رہی جب تک کہ مسلمانوں کی تعداد کی کمی زیادتی کی حد تک نہیں پہنچی تھی۔ پھر سرداران کفر نے آپس میں مشورہ کیا کہ جتنے لوگ ایمان لا چکے ہیں ان پر اور زیادہ سختی کی جائے جو جس کا رشتہ دار اور قریبی ہو وہ اسے ہر طرح تنگ کرے تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیں اب فتنہ بڑھ گیا اور بعض لوگ ان کی سزاؤں کی تاب نہ لا کر ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔ کھرے اور ثابت قدم لوگ دین حق پر اس مصیبت کے زمانے میں بھی جمے رہے اور اللہ نے انہیں مضبوط کر دیا اور محفوظ رکھ لیا۔ آخر جب تکلیفیں حد سے گذر نے لگیں تو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دے دی۔ حبشہ کا بادشاہ نجاشی ایک نیک آدمی تھا اس کی سلطنت ظلم و زیادتی سے خالی تھی ہر طرف اس کی تعریفیں ہو رہی تھیں۔

یہ جگہ قریش کی تجارتی منڈی تھی جہاں ان کے تاجر رہا کرتے تھے اور بے خوف و خطر بڑی بڑی تجارتیں کیا کرتے تھے۔ پس جو لوگ یہاں مکہ شریف میں کافروں کے ہاتھوں بہت تنگ آ گئے تھے اور اب مصیبت جھیلنے کے قابل نہیں رہے تھے اور ہر وقت انہیں اپنے دین کے اپنے ہاتھ سے چھوٹ جانے کا خطرہ لگا رہتا تھا وہ سب حبشہ چلے گئے۔ لیکن خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہیں ٹھہرے رہے۔ اس پر بھی جب کئی سال گذر گئے تو یہاں اللہ کے فضل سے مسلمانوں کی تعداد خاصی ہو گئی اسلام پھیل گیا اور شریف اور سردار لوگ بھی اسلامی جھنڈے تلے آ گئے یہ دیکھ کر کفر کو اپنی دشمنی کا جوش ٹھنڈا کرنا پڑا۔ وہ ظلم و زیادتی سے بالکل تو نہیں لیکن کچھ نہ کچھ رک گئے۔ پس وہ فتنہ جس کے زلزلوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو وطن چھوڑ نے اور حبشہ جانے پر مجبور کیا تھا اس کے کچھ دب جانے کی خبروں نے مہاجرین حبشہ کو پھر آمادہ کیا کہ وہ مکے شریف واپس چلے آئیں۔ چنانچہ وہ بھی تھوڑے بہت آ گئے اسی اثناء میں مدینہ شریف کے چند انصار مسلمان ہو گئے۔ ان کی وجہ سے مدینہ شریف میں بھی اشاعت اسلام ہونے لگی۔ ان کا مکہ شریف آنا جانا شروع ہوا اس سے مکہ والے کچھ بگڑے اور بپھر کر ارادہ کر لیا کہ دوبارہ سخت سختی کریں چنانچہ دوسری مرتبہ پھر فتنہ شروع ہوا۔ ہجرت حبشہ پر پہلے فتنے نے آمادہ کیا واپسی پر پھر فتنہ پھیلا۔ اب ستر بزرگ سرداران مدینہ یہاں آئے اور مسلمان ہو کر نبی کریم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔

موسم حج کے موقعہ پر یہ آئے تھے۔ قبہ میں انہوں نے بیعت کی، عہدو پیمان، قول و قرر ہوئے کہ ہم آپ کے اور آپ ہمارے۔ اگر کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آدمی ہمارے ہاں آ جائے تو ہم اس کے امن و امان کے ذمے دار ہیں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر تشریف لائیں تو ہم جان مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔ اس چیز نے قریش کو اور بھڑکا دیا اور انہوں نے ضعیف اور کمزور مسلمانوں کو اور ستانا شروع کر دیا۔ ان کی سزائیں بڑھا دیں اور خون کے پیاسے ہو گئے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی کہ وہ مدینہ شریف کی طرف ہجرت کر جائیں یہ تھا آخری اور انتہائی فتنہ جس نے نہ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہی نکالا بلکہ خود اللہ کے محترم رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی مکے کو خالی کر گئے۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16097:مرسل] ‏‏‏‏ یہی ہے وہ فتنہ جسے اللہ فرماتا ہے ’ ان سے جہاد جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ مٹ جائے اور سارا دین اللہ کا ہی ہو جائے۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» نویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔
38۔ 1 باز آجانے کا مطلب، مسلمان ہونا ہے۔ جس طرح حدیث میں بھی ہے ' جس نے اسلام قبول کرکے نیکی کا راستہ اپنالیا، اس سے اس کے ان گناہوں کی باز پرس نہیں ہوگی جو اس نے جاہلیت میں کئے ہونگے اور جس نے اسلام لاکر بھی برائی نہ چھوڑی، اس سے اگلے پچھلے سب عملوں کا مواخذہ ہوگا ' (صحیح مسلم) ایک اور حدیث میں ہے۔ اسلام ماقبل کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ 38۔ 2 یعنی اگر وہ اپنے کفر وعناد پر قائم رہے تو جلد یا بدیر عذاب الہی کے مورد بن کر رہیں گے۔
(آیت 38) ➊ {قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ يَّنْتَهُوْا:نَهٰي يَنْهَي“} منع کرنا اور {” اِنْتَهَي يَنْتَهِيْ“} باز آ جانا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ عذاب کی ان تمام وعیدوں کے باوجود امید کا دروازہ کھلا ہے۔ چنانچہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ آپ ان منکروں سے کہہ دیں کہ اب بھی اگر وہ عناد اور کفر سے باز آ جائیں، اسلام میں داخل ہو جائیں اور ایک اللہ کی عبادت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اختیار کر لیں تو ان کے پہلے قصور معاف کر دیے جائیں گے۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو اسلام کی طرف مائل کیا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”اپنا دایاں ہاتھ پھیلائیے کہ میں بیعت کروں۔“ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا، آپ نے فرمایا: ”عمرو! تمھیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا: ”میں ایک شرط کرنا چاہتا ہوں؟“ فرمایا: ”کس چیز کی شرط کرنا چاہتے ہو؟“ میں نے کہا: ”یہ کہ مجھے بخش دیا جائے۔“ آپ نے فرمایا: ”کیا تمھیں معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے گناہ گرا دیتا ہے اور ہجرت اپنے سے پہلے گناہ گرا دیتی ہے اور حج اپنے سے پہلے گناہ گرا دیتا ہے۔“ [ مسلم، الإیمان، باب کون الإیمان یہدم ما قبلہ: ۱۲۱ ] باز آ جانے میں یہ بھی شامل ہے کہ اسلام لا کر اپنی حالت بھی بدلیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: ”یارسول اللہ! کیا ہم نے جو کچھ جاہلیت میں کیا اس پر ہمارا مؤاخذہ ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اسلام میں اچھے عمل کرے گا تو اس سے جاہلیت میں کیے ہوئے اعمال کا مؤاخذہ نہیں ہو گا اور جس نے اسلام میں برے عمل کیے وہ پہلے اور پچھلے اعمال کے ساتھ پکڑا جائے گا۔“ [ بخاری، استتابۃ المرتدین والمعاندین و قتالہم، باب إثم من أشرک…: ۶۹۲۱ ] ➋ {وَ اِنْ يَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِيْنَ:} یعنی اگر پھر اسلام کو اکھیڑنے اور مسلمانوں کی طاقت ختم کرنے کا منصوبہ بنائیں تو جس طرح پہلے لوگ تباہ و برباد ہوئے، جنھوں نے انبیاء کو ستایا اور ان سے جنگ کی اسی طرح یہ بھی تباہ و برباد ہوں گے اور اس سے پہلے جنگ بدر میں ان کا جو حشر ہوا اب بھی وہی ہو گا۔ (ابن کثیر)
وَ قَاتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ۚ فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے ایمان لانے والو، ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے پھر اگر وہ فتنہ سے رُک جائیں تو ان کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم ان سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیده نہ رہے۔ اور دین اللہ ہی کا ہو جائے پھر اگر یہ باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان اعمال کو خوب دیکھتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فساد باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ ہی کا ہوجائے، اگر پھر وہ باز رہیں تو اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے مسلمانو) ان (کفار) سے جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ و فساد ختم ہو جائے اور دین پورے کا پورا صرف اللہ کے لئے ہو جائے پھر اگر وہ (کفر و فتنہ پردازی سے) باز آجائیں تو وہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اس کو خوب دیکھنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان سے لڑو، یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو بے شک اللہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اسے خوب دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فتنے کے اختتام تک جہاد جاری رکھو ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہورہا ہے کہ ’ کافروں سے کہدو کہ اگر وہ اپنے کفر سے اور ضد سے باز آ جائیں، اسلام اور اطاعت قبول کر لیں، رب کی طرف جھک جائیں تو ان سے جو ہو چکا ہے سب معاف کر دیا جائے گا، کفر بھی، خطا بھی گناہ بھی۔‘ حدیث میں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو شخص اسلام لا کر نیکیاں کرے وہ اپنے جاہلیت کے اعمال پر پکڑا نہ جائے گا اور اسلام میں بھی پھر برائیاں کرے تو اگلی پچھلی تمام خطاؤں پر اس کی پکڑ ہو گی } ۱؎ [صحیح بخاری:6921] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسلام سے پہلے کے سب گناہ معاف ہیں توبہ بھی اپنے سے پہلے کے گناہ کو مٹا دیتی ہے۔} ۱؎ [صحیح مسلم:121] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر یہ نہ مانیں اور اپنے کفر پر قائم رہیں تو وہ اگلوں کی حالت دیکھ لیں کہ ہم نے انہیں ان کے کفر کی وجہ سے کیسا غارت کیا؟ ابھی بدری کفار کا حشر بھی ان کے سامنے ہے۔ جب تک فتنہ باقی ہے تم جنگ جاری رکھو۔‘ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آیت «وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا» ۱؎ [ 49-الحجرات: 9 ] ‏‏‏‏، کو پیش نظر رکھ کر آپ اس وقت کی باہمی جنگ میں شرکت کیوں نہیں کرتے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگوں کا یہ طعنہ اس سے بہت ہلکا ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کر کے جہنمی بن جاؤں جیسے فرمان الٰہی ہے «وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 4-النساء: 93 ] ‏‏‏‏، اس نے کہا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’ فتنہ باقی ہو تب تک لڑائی جاری رکھو۔‘ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہی ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا۔ اس وقت مسلمان کم تھے، انہیں کافر گرفتار کر لیتے تھے اور دین میں فتنے ڈالتے تھے یا تو قتل کر ڈالتے تھے یا قید کر لیتے تھے۔ جب مسلمان بڑھ گئے وہ فتنہ جاتا رہا۔

اس معترض شخص نے جب دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ مانتے نہیں تو کہا اچھا سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اللہ نے معاف فرمایا لیکن تمہیں اللہ کی وہ معافی بری معلوم ہوتی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے اور آپ کے داماد تھے، یہ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی، یہ کہتے ہوئے ان [سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا] ‏‏‏‏ کے مکان کی طرف اشارہ کیا۔۱؎ [صحیح بخاری:4650] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ لوگوں کے پاس آئے تو کسی نے کہا کہ اس فتنے کے وقت کی لڑائی کی نسبت جناب کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا جانتے بھی ہو فتنے سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافروں سے جنگ کرتے تھے، اس وقت ان کا زور تھا، ان میں جانا فتنہ تھا، تمہاری تو یہ ملکی لڑائیاں ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4651] ‏‏‏‏

اور روایت میں ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں دو شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ آپ کے سامنے ہے آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، آپ کیوں میدان جنگ میں نہیں اترے؟ فرمایا اس لیے کہ اللہ نے ہر مومن کا خون حرام کر دیا ہے انہوں نے کہا کیا فتنے کے باقی رہنے تک لڑنا اللہ کا حکم نہیں؟ آپ نے فرمایا ہے اور ہم نے اسے نبھایا بھی یہاں تک کہ فتنہ دور ہو گیا اور دین سب اللہ ہی کا ہو گیا، اب تم اپنی اس باہمی جنگ سے فتنہ کھڑا کرنا اور غیر اللہ کے دین کے لیے ہو جانا جاہتے ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4513] ‏‏‏‏ ذوالسطبین اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے میں ہرگز اس شخص سے جنگ نہ کروں گا جو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا قائل ہو۔ سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اس کی تائید کی اور فرمایا میں بھی یہی کہتا ہوں تو ان پر بھی یہی آیت «وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّـهِ» پیش کی گئی اور یہی جواب آپ نے بھی دیا۔ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وعیرہ فتنہ سے مراد شرک ہے اور یہ بھی کہ مسلمانوں کی کمزوری ایسی نہ رہے کہ کوئی انہیں ان کے سچے دین سے مرتد کرنے کی طاقت رکھے۔ دین سب اللہ کا ہو جائے یعنی توحید نکھر جائے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا کلمہ زبانوں پر چڑھ جائے شرک اور معبود ان باطل کی پرستش اٹھ جائے، تمہارے دین کے ساتھ کفر باقی نہ رہے۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھے حکم فرمایا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لیں جب وہ اسے کہہ لیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں اور اپنے مال بچا لیں گے ہاں حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:1399] ‏‏‏‏

بخاری مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری کیلئے، ایک شخص غیرت کیلئے، ایک شخص ریا کاری کیلئے لڑائی کر رہا ہے تو اللہ کی راہ میں ان میں سے کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کی غرض سے جہاد کرے وہ اللہ کی راہ میں ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر تمہارے جہاد کی وجہ سے یہ اپنے کفر سے باز آ جائیں تو تم ان سے لڑائی موقوف کر دو ان کے دلوں کا حال سپرد رب کر دو۔ اللہ ان کے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2810] ‏‏‏‏ جیسے فرمان ہے «فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 9-التوبہ: 5 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ اگر یہ توبہ کر لیں اور نمازی اور زکوٰۃ دیین والے بن جائیں تو ان کی راہ چھوڑ دو، ان کے راستے نہ روکو‘۔ اور آیت میں ہے کہ «فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ» ۱؎ [ 9-التوبہ: 11 ] ‏‏‏‏ ’ اس صورت میں وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ «وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّـهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ» ۱؎ [ 2-البقرة: 193 ] ‏‏‏‏ ’ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے پھر اگر وہ باز آ جائیں تو زیادتی کا بدلہ تو صرف ظالموں کے لیے ہی ہے۔‘ ایک صحیح رویت میں ہے کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ ایک شخص پر تلوار لے کر چڑھ گئے جب وہ زد میں آ گیا اور دیکھا کہ تلوار چلا جاتی ہے تو اس نے جلدی سے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ دیا لیکن اس کے سر پر تلوار پڑ گئی اور وہ قتل ہو گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا بیان ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { کیا تو نے اسے اس کے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہنے کے بعد قتل کیا؟ تو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے ساتھ قیامت کے دن کیا کرے گا؟} حضرت اسامہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ تو اس نے صرف اپنے بچاؤ کیلئے کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ بتا کون ہو گا جو قیامت کے دن «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا مقابلہ کرے۔ باربار آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے}، یہاں تک کہ اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آنے لگا کہ کاش کہ میں آج کے دن سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا، تاکہ اسلام کے زعم میں اس کو قتل نہ کردیتا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4269] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر یہ اب بھی باز نہ رہیں تمہاری مخالفت اور تم سے لڑائی نہ چھوڑیں تو تم یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا مولا، تمہارا مالک، تمہارا مددگار اور ناصر ہے۔ وہ تمہیں ان پر غالب کرے گا۔ وہ بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے۔‘ ابن جریر میں ہے کہ عبدالملک بن مروان نے عروہ رحمہ اللہ سے کچھ باتیں دریافت کی تھیں جس کے جواب میں آپ نے انہیں لکھا سلام علیک کے بعد میں آپ کے سامنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ بعد حمد و صلوۃ کے آپ کا خط ملا آپ نے ہجرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت مجھ سے سوال کیا ہے میں آپ کو اس واقعہ کی خبر لکھتا ہوں۔ اللہ ہی کی مدد پر خیر کرنا اور شر سے روکنا موقوف ہے مکہ شریف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کا واقعہ یوں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت دی، سبحان اللہ کیسے اچھے پیشوا بہترین رہنما تھے، اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جزائے خیر عطا فرمائے ہمیں جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب فرمائے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے دین پر زندہ رکھے اسی پر موت دے اور اسی پر قیامت کے دن کھڑا کرے، آمین۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو ہدایت اور نور کی طرف دعوت دی جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا تھا تو شروع شروع تو انہیں کچھ زیادہ برا نہیں معلوم ہوا بلکہ قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے لگیں مگر جب ان کے معبودان باطل کا ذکر آیا اس وقت وہ بگڑے بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کا برا ماننے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سختی کرنے لگے۔ اسی زمانے میں طائف کے چند قریشی مال لے کر پہنچے وہ بھی ان کے شریک حال ہو گئے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کے ماننے والے مسلمانوں کو طرح طرح سے ستانے لگے جس کی وجہ سے عام لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس آنے جانے سے ہٹ گئے بجز ان چند ہستیوں کے جو اللہ کی حفاظت میں تھیں یہی حالت ایک عرصے تک رہی جب تک کہ مسلمانوں کی تعداد کی کمی زیادتی کی حد تک نہیں پہنچی تھی۔ پھر سرداران کفر نے آپس میں مشورہ کیا کہ جتنے لوگ ایمان لا چکے ہیں ان پر اور زیادہ سختی کی جائے جو جس کا رشتہ دار اور قریبی ہو وہ اسے ہر طرح تنگ کرے تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیں اب فتنہ بڑھ گیا اور بعض لوگ ان کی سزاؤں کی تاب نہ لا کر ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔ کھرے اور ثابت قدم لوگ دین حق پر اس مصیبت کے زمانے میں بھی جمے رہے اور اللہ نے انہیں مضبوط کر دیا اور محفوظ رکھ لیا۔ آخر جب تکلیفیں حد سے گذر نے لگیں تو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دے دی۔ حبشہ کا بادشاہ نجاشی ایک نیک آدمی تھا اس کی سلطنت ظلم و زیادتی سے خالی تھی ہر طرف اس کی تعریفیں ہو رہی تھیں۔

یہ جگہ قریش کی تجارتی منڈی تھی جہاں ان کے تاجر رہا کرتے تھے اور بے خوف و خطر بڑی بڑی تجارتیں کیا کرتے تھے۔ پس جو لوگ یہاں مکہ شریف میں کافروں کے ہاتھوں بہت تنگ آ گئے تھے اور اب مصیبت جھیلنے کے قابل نہیں رہے تھے اور ہر وقت انہیں اپنے دین کے اپنے ہاتھ سے چھوٹ جانے کا خطرہ لگا رہتا تھا وہ سب حبشہ چلے گئے۔ لیکن خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہیں ٹھہرے رہے۔ اس پر بھی جب کئی سال گذر گئے تو یہاں اللہ کے فضل سے مسلمانوں کی تعداد خاصی ہو گئی اسلام پھیل گیا اور شریف اور سردار لوگ بھی اسلامی جھنڈے تلے آ گئے یہ دیکھ کر کفر کو اپنی دشمنی کا جوش ٹھنڈا کرنا پڑا۔ وہ ظلم و زیادتی سے بالکل تو نہیں لیکن کچھ نہ کچھ رک گئے۔ پس وہ فتنہ جس کے زلزلوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو وطن چھوڑ نے اور حبشہ جانے پر مجبور کیا تھا اس کے کچھ دب جانے کی خبروں نے مہاجرین حبشہ کو پھر آمادہ کیا کہ وہ مکے شریف واپس چلے آئیں۔ چنانچہ وہ بھی تھوڑے بہت آ گئے اسی اثناء میں مدینہ شریف کے چند انصار مسلمان ہو گئے۔ ان کی وجہ سے مدینہ شریف میں بھی اشاعت اسلام ہونے لگی۔ ان کا مکہ شریف آنا جانا شروع ہوا اس سے مکہ والے کچھ بگڑے اور بپھر کر ارادہ کر لیا کہ دوبارہ سخت سختی کریں چنانچہ دوسری مرتبہ پھر فتنہ شروع ہوا۔ ہجرت حبشہ پر پہلے فتنے نے آمادہ کیا واپسی پر پھر فتنہ پھیلا۔ اب ستر بزرگ سرداران مدینہ یہاں آئے اور مسلمان ہو کر نبی کریم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔

موسم حج کے موقعہ پر یہ آئے تھے۔ قبہ میں انہوں نے بیعت کی، عہدو پیمان، قول و قرر ہوئے کہ ہم آپ کے اور آپ ہمارے۔ اگر کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آدمی ہمارے ہاں آ جائے تو ہم اس کے امن و امان کے ذمے دار ہیں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر تشریف لائیں تو ہم جان مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔ اس چیز نے قریش کو اور بھڑکا دیا اور انہوں نے ضعیف اور کمزور مسلمانوں کو اور ستانا شروع کر دیا۔ ان کی سزائیں بڑھا دیں اور خون کے پیاسے ہو گئے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی کہ وہ مدینہ شریف کی طرف ہجرت کر جائیں یہ تھا آخری اور انتہائی فتنہ جس نے نہ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہی نکالا بلکہ خود اللہ کے محترم رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی مکے کو خالی کر گئے۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16097:مرسل] ‏‏‏‏ یہی ہے وہ فتنہ جسے اللہ فرماتا ہے ’ ان سے جہاد جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ مٹ جائے اور سارا دین اللہ کا ہی ہو جائے۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» نویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔
39۔ 1 فتنہ سے مراد شرک ہے۔ یعنی اس وقت تک جہاد جاری رکھو، جب تک شرک کا خاتمہ نہ ہوجائے۔ 39۔ 2 یعنی اللہ کی توحید کا پرچار تمام عالم میں لہرا جائے۔ 39۔ 3 یعنی تمہارے لئے ان کا ظاہری اسلام ہی کافی ہے، باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد کردو، کیونکہ اس کو ظاہر و باطن ہر چیز کا علم ہے۔
(آیت 39) ➊ {وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ:فِتْنَةٌ “} کے لفظی معنی آگ میں تپانے اور آزمانے کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک کفار سے لڑتے رہو جب تک کسی شخص کے اسلام لانے پر مشرکوں کی اسے ستانے اور آزمائش میں ڈالنے کی قوت ختم نہیں ہو جاتی اور تمام دنیا سے شرک کا غلبہ ختم نہیں ہوتا۔ اس لیے صحیح احادیث میں فتنہ کا معنی شرک بھی آیا ہے۔ مگر اس سے مراد زبردستی مسلمان بنانا اور مشرکین و کفار کو ختم کرنا نہیں، فرمایا: «{ لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ }» [ البقرۃ: ۲۵۶ ] ”دین میں کوئی زبردستی نہیں۔“ کیونکہ پھر کفار کے جزیہ دینے کی نوبت ہی نہیں آ سکتی، بلکہ اس وقت تک لڑتے رہناہے جب تک ایمان لانے والوں کے راستے میں کفار کے رکاوٹ بننے کی قوت ختم نہیں ہوتی، پوری دنیا پر اسلام کا غلبہ نہیں ہوتا اور کفر پر اصرار کی صورت میں جزیہ دے کر اسلام کی برتری تسلیم نہیں کرتے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۹۱، ۱۹۳، ۲۱۷) اور توبہ (۲۹)۔ ➋ { وَ يَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ:} یعنی تمام دینوں پر اسلام کا غلبہ ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کرتا رہوں، یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کی شہادت اور محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی شہادت دیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، پھر جب وہ یہ کچھ کر لیں تو انھوں نے اپنے خون اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیے، مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب فإن تابوا و أقاموا…: ۲۵، عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما۔ مسلم: ۲۲ ] ➌ { فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ:} یعنی اسلام لے آئیں تو تمھارے لیے ان کا ظاہر کافی ہے۔ اگر وہ دل سے مسلمان نہیں ہوئے یا چھپ کر کوئی غلط کام کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے ظاہری اور باطنی اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے، وہ خود نمٹ لے گا۔
وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَوۡلٰىکُمۡ ؕ نِعۡمَ الۡمَوۡلٰی وَ نِعۡمَ النَّصِیۡرُ ﴿۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اگر وہ نہ مانیں تو جان رکھو کہ اللہ تمہارا سرپرست ہے اور وہ بہترین حامی و مدد گار ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر روگردانی کریں تو یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارا کار ساز ہے وه بہت اچھا کار ساز ہے اور بہت اچھا مدد گار ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر وہ پھریں تو جان لو کہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے تو کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار،
علامہ محمد حسین نجفی
تو پھر جان لو کہ اللہ تمہارا سرپرست و کارساز ہے وہ کیا ہی اچھا سرپرست ہے۔ کیا ہی اچھا یار و مددگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر وہ منہ موڑ لیں تو جان لو کہ اللہ تمھارا دوست ہے، وہ اچھا دوست اور اچھا مدد گار ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فتنے کے اختتام تک جہاد جاری رکھو ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہورہا ہے کہ ’ کافروں سے کہدو کہ اگر وہ اپنے کفر سے اور ضد سے باز آ جائیں، اسلام اور اطاعت قبول کر لیں، رب کی طرف جھک جائیں تو ان سے جو ہو چکا ہے سب معاف کر دیا جائے گا، کفر بھی، خطا بھی گناہ بھی۔‘ حدیث میں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو شخص اسلام لا کر نیکیاں کرے وہ اپنے جاہلیت کے اعمال پر پکڑا نہ جائے گا اور اسلام میں بھی پھر برائیاں کرے تو اگلی پچھلی تمام خطاؤں پر اس کی پکڑ ہو گی } ۱؎ [صحیح بخاری:6921] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسلام سے پہلے کے سب گناہ معاف ہیں توبہ بھی اپنے سے پہلے کے گناہ کو مٹا دیتی ہے۔} ۱؎ [صحیح مسلم:121] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر یہ نہ مانیں اور اپنے کفر پر قائم رہیں تو وہ اگلوں کی حالت دیکھ لیں کہ ہم نے انہیں ان کے کفر کی وجہ سے کیسا غارت کیا؟ ابھی بدری کفار کا حشر بھی ان کے سامنے ہے۔ جب تک فتنہ باقی ہے تم جنگ جاری رکھو۔‘ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آیت «وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا» ۱؎ [ 49-الحجرات: 9 ] ‏‏‏‏، کو پیش نظر رکھ کر آپ اس وقت کی باہمی جنگ میں شرکت کیوں نہیں کرتے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگوں کا یہ طعنہ اس سے بہت ہلکا ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کر کے جہنمی بن جاؤں جیسے فرمان الٰہی ہے «وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 4-النساء: 93 ] ‏‏‏‏، اس نے کہا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’ فتنہ باقی ہو تب تک لڑائی جاری رکھو۔‘ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہی ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا۔ اس وقت مسلمان کم تھے، انہیں کافر گرفتار کر لیتے تھے اور دین میں فتنے ڈالتے تھے یا تو قتل کر ڈالتے تھے یا قید کر لیتے تھے۔ جب مسلمان بڑھ گئے وہ فتنہ جاتا رہا۔

اس معترض شخص نے جب دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ مانتے نہیں تو کہا اچھا سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اللہ نے معاف فرمایا لیکن تمہیں اللہ کی وہ معافی بری معلوم ہوتی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے اور آپ کے داماد تھے، یہ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی، یہ کہتے ہوئے ان [سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا] ‏‏‏‏ کے مکان کی طرف اشارہ کیا۔۱؎ [صحیح بخاری:4650] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ لوگوں کے پاس آئے تو کسی نے کہا کہ اس فتنے کے وقت کی لڑائی کی نسبت جناب کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا جانتے بھی ہو فتنے سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافروں سے جنگ کرتے تھے، اس وقت ان کا زور تھا، ان میں جانا فتنہ تھا، تمہاری تو یہ ملکی لڑائیاں ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4651] ‏‏‏‏

اور روایت میں ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں دو شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ آپ کے سامنے ہے آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، آپ کیوں میدان جنگ میں نہیں اترے؟ فرمایا اس لیے کہ اللہ نے ہر مومن کا خون حرام کر دیا ہے انہوں نے کہا کیا فتنے کے باقی رہنے تک لڑنا اللہ کا حکم نہیں؟ آپ نے فرمایا ہے اور ہم نے اسے نبھایا بھی یہاں تک کہ فتنہ دور ہو گیا اور دین سب اللہ ہی کا ہو گیا، اب تم اپنی اس باہمی جنگ سے فتنہ کھڑا کرنا اور غیر اللہ کے دین کے لیے ہو جانا جاہتے ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4513] ‏‏‏‏ ذوالسطبین اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے میں ہرگز اس شخص سے جنگ نہ کروں گا جو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا قائل ہو۔ سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اس کی تائید کی اور فرمایا میں بھی یہی کہتا ہوں تو ان پر بھی یہی آیت «وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّـهِ» پیش کی گئی اور یہی جواب آپ نے بھی دیا۔ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وعیرہ فتنہ سے مراد شرک ہے اور یہ بھی کہ مسلمانوں کی کمزوری ایسی نہ رہے کہ کوئی انہیں ان کے سچے دین سے مرتد کرنے کی طاقت رکھے۔ دین سب اللہ کا ہو جائے یعنی توحید نکھر جائے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا کلمہ زبانوں پر چڑھ جائے شرک اور معبود ان باطل کی پرستش اٹھ جائے، تمہارے دین کے ساتھ کفر باقی نہ رہے۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھے حکم فرمایا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لیں جب وہ اسے کہہ لیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں اور اپنے مال بچا لیں گے ہاں حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:1399] ‏‏‏‏

بخاری مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری کیلئے، ایک شخص غیرت کیلئے، ایک شخص ریا کاری کیلئے لڑائی کر رہا ہے تو اللہ کی راہ میں ان میں سے کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کی غرض سے جہاد کرے وہ اللہ کی راہ میں ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر تمہارے جہاد کی وجہ سے یہ اپنے کفر سے باز آ جائیں تو تم ان سے لڑائی موقوف کر دو ان کے دلوں کا حال سپرد رب کر دو۔ اللہ ان کے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2810] ‏‏‏‏ جیسے فرمان ہے «فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 9-التوبہ: 5 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ اگر یہ توبہ کر لیں اور نمازی اور زکوٰۃ دیین والے بن جائیں تو ان کی راہ چھوڑ دو، ان کے راستے نہ روکو‘۔ اور آیت میں ہے کہ «فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ» ۱؎ [ 9-التوبہ: 11 ] ‏‏‏‏ ’ اس صورت میں وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ «وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّـهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ» ۱؎ [ 2-البقرة: 193 ] ‏‏‏‏ ’ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے پھر اگر وہ باز آ جائیں تو زیادتی کا بدلہ تو صرف ظالموں کے لیے ہی ہے۔‘ ایک صحیح رویت میں ہے کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ ایک شخص پر تلوار لے کر چڑھ گئے جب وہ زد میں آ گیا اور دیکھا کہ تلوار چلا جاتی ہے تو اس نے جلدی سے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ دیا لیکن اس کے سر پر تلوار پڑ گئی اور وہ قتل ہو گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا بیان ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { کیا تو نے اسے اس کے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہنے کے بعد قتل کیا؟ تو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے ساتھ قیامت کے دن کیا کرے گا؟} حضرت اسامہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ تو اس نے صرف اپنے بچاؤ کیلئے کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ بتا کون ہو گا جو قیامت کے دن «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کا مقابلہ کرے۔ باربار آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے}، یہاں تک کہ اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آنے لگا کہ کاش کہ میں آج کے دن سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا، تاکہ اسلام کے زعم میں اس کو قتل نہ کردیتا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4269] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر یہ اب بھی باز نہ رہیں تمہاری مخالفت اور تم سے لڑائی نہ چھوڑیں تو تم یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا مولا، تمہارا مالک، تمہارا مددگار اور ناصر ہے۔ وہ تمہیں ان پر غالب کرے گا۔ وہ بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے۔‘ ابن جریر میں ہے کہ عبدالملک بن مروان نے عروہ رحمہ اللہ سے کچھ باتیں دریافت کی تھیں جس کے جواب میں آپ نے انہیں لکھا سلام علیک کے بعد میں آپ کے سامنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ بعد حمد و صلوۃ کے آپ کا خط ملا آپ نے ہجرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت مجھ سے سوال کیا ہے میں آپ کو اس واقعہ کی خبر لکھتا ہوں۔ اللہ ہی کی مدد پر خیر کرنا اور شر سے روکنا موقوف ہے مکہ شریف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کا واقعہ یوں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت دی، سبحان اللہ کیسے اچھے پیشوا بہترین رہنما تھے، اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جزائے خیر عطا فرمائے ہمیں جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب فرمائے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے دین پر زندہ رکھے اسی پر موت دے اور اسی پر قیامت کے دن کھڑا کرے، آمین۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو ہدایت اور نور کی طرف دعوت دی جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا تھا تو شروع شروع تو انہیں کچھ زیادہ برا نہیں معلوم ہوا بلکہ قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے لگیں مگر جب ان کے معبودان باطل کا ذکر آیا اس وقت وہ بگڑے بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کا برا ماننے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سختی کرنے لگے۔ اسی زمانے میں طائف کے چند قریشی مال لے کر پہنچے وہ بھی ان کے شریک حال ہو گئے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کے ماننے والے مسلمانوں کو طرح طرح سے ستانے لگے جس کی وجہ سے عام لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس آنے جانے سے ہٹ گئے بجز ان چند ہستیوں کے جو اللہ کی حفاظت میں تھیں یہی حالت ایک عرصے تک رہی جب تک کہ مسلمانوں کی تعداد کی کمی زیادتی کی حد تک نہیں پہنچی تھی۔ پھر سرداران کفر نے آپس میں مشورہ کیا کہ جتنے لوگ ایمان لا چکے ہیں ان پر اور زیادہ سختی کی جائے جو جس کا رشتہ دار اور قریبی ہو وہ اسے ہر طرح تنگ کرے تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیں اب فتنہ بڑھ گیا اور بعض لوگ ان کی سزاؤں کی تاب نہ لا کر ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔ کھرے اور ثابت قدم لوگ دین حق پر اس مصیبت کے زمانے میں بھی جمے رہے اور اللہ نے انہیں مضبوط کر دیا اور محفوظ رکھ لیا۔ آخر جب تکلیفیں حد سے گذر نے لگیں تو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دے دی۔ حبشہ کا بادشاہ نجاشی ایک نیک آدمی تھا اس کی سلطنت ظلم و زیادتی سے خالی تھی ہر طرف اس کی تعریفیں ہو رہی تھیں۔

یہ جگہ قریش کی تجارتی منڈی تھی جہاں ان کے تاجر رہا کرتے تھے اور بے خوف و خطر بڑی بڑی تجارتیں کیا کرتے تھے۔ پس جو لوگ یہاں مکہ شریف میں کافروں کے ہاتھوں بہت تنگ آ گئے تھے اور اب مصیبت جھیلنے کے قابل نہیں رہے تھے اور ہر وقت انہیں اپنے دین کے اپنے ہاتھ سے چھوٹ جانے کا خطرہ لگا رہتا تھا وہ سب حبشہ چلے گئے۔ لیکن خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہیں ٹھہرے رہے۔ اس پر بھی جب کئی سال گذر گئے تو یہاں اللہ کے فضل سے مسلمانوں کی تعداد خاصی ہو گئی اسلام پھیل گیا اور شریف اور سردار لوگ بھی اسلامی جھنڈے تلے آ گئے یہ دیکھ کر کفر کو اپنی دشمنی کا جوش ٹھنڈا کرنا پڑا۔ وہ ظلم و زیادتی سے بالکل تو نہیں لیکن کچھ نہ کچھ رک گئے۔ پس وہ فتنہ جس کے زلزلوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو وطن چھوڑ نے اور حبشہ جانے پر مجبور کیا تھا اس کے کچھ دب جانے کی خبروں نے مہاجرین حبشہ کو پھر آمادہ کیا کہ وہ مکے شریف واپس چلے آئیں۔ چنانچہ وہ بھی تھوڑے بہت آ گئے اسی اثناء میں مدینہ شریف کے چند انصار مسلمان ہو گئے۔ ان کی وجہ سے مدینہ شریف میں بھی اشاعت اسلام ہونے لگی۔ ان کا مکہ شریف آنا جانا شروع ہوا اس سے مکہ والے کچھ بگڑے اور بپھر کر ارادہ کر لیا کہ دوبارہ سخت سختی کریں چنانچہ دوسری مرتبہ پھر فتنہ شروع ہوا۔ ہجرت حبشہ پر پہلے فتنے نے آمادہ کیا واپسی پر پھر فتنہ پھیلا۔ اب ستر بزرگ سرداران مدینہ یہاں آئے اور مسلمان ہو کر نبی کریم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔

موسم حج کے موقعہ پر یہ آئے تھے۔ قبہ میں انہوں نے بیعت کی، عہدو پیمان، قول و قرر ہوئے کہ ہم آپ کے اور آپ ہمارے۔ اگر کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آدمی ہمارے ہاں آ جائے تو ہم اس کے امن و امان کے ذمے دار ہیں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر تشریف لائیں تو ہم جان مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔ اس چیز نے قریش کو اور بھڑکا دیا اور انہوں نے ضعیف اور کمزور مسلمانوں کو اور ستانا شروع کر دیا۔ ان کی سزائیں بڑھا دیں اور خون کے پیاسے ہو گئے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی کہ وہ مدینہ شریف کی طرف ہجرت کر جائیں یہ تھا آخری اور انتہائی فتنہ جس نے نہ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہی نکالا بلکہ خود اللہ کے محترم رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی مکے کو خالی کر گئے۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16097:مرسل] ‏‏‏‏ یہی ہے وہ فتنہ جسے اللہ فرماتا ہے ’ ان سے جہاد جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ مٹ جائے اور سارا دین اللہ کا ہی ہو جائے۔ ‘ «الْحَمْدُ لِلَّـه» نویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔
40۔ 1 یعنی اسلام قبول نہ کریں اور اپنے کفر اور تمہاری مخالفت پر مصر رہیں۔ 40۔ 2 یعنی تمہارے دشمنوں پر تمہارا مددگار اور تمہارا حامی و محافظ ہے۔ 40۔ 3 پس کامیاب وہی ہوگا جس کا مولیٰ اللہ ہو، اور غالب بھی وہی ہوگا جس کا مددگار وہ ہوگا۔
(آیت 40) ➊ {وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ:} یعنی اگر وہ مسلمانوں کو ستانا اور ان سے لڑنا ترک نہ کریں تو یقینا اللہ دشمنوں کے خلاف تمھارا دوست اور یارو مددگار ہے۔ ➋ { نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِيْرُ:} اور جس کا دوست اور یارو مددگار وہ ہو تو وہ بہت اچھا دوست اور بہت اچھا مددگار ہے، پھر اس پر کون غالب آ سکتا ہے؟ دیکھیے سورۂ محمد (۱۰، ۱۱)۔
وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَ لِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ اِنۡ کُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا یَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور تمہیں معلوم ہو کہ جو کچھ مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسُولؐ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو فیصلے کے روز، یعنی دونوں فوجوں کی مڈبھیڑ کے دن، ہم نے اپنے بندے پر نازل کی تھی، (تو یہ حصہ بخوشی ادا کرو) اللہ ہر چیز پر قادر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جان لو کہ تم جس قسم کی جو کچھ غنیمت حاصل کرو اس میں سے پانچواں حصہ تو اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت داروں کا اور یتیموں اور مسکینوں کا اور مسافروں کا، اگر تم اللہ پر ایمان ﻻئے ہو اور اس چیز پر جو ہم نے اپنے بندے پر اس دن اتارا ہے، جو دن حق وباطل کی جدائی کا تھا جس دن دو فوجیں بھڑ گئی تھیں۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جان لو کہ جو کچھ غنیمت لو تو اس کا پانچواں حصہ خاص اللہ اور رسول و قرابت داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کا ہے اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اس پر جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلہ کے دن اتارا جس دن دونوں فوجیں ملیں تھیں اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جان لو کہ جو چیز بھی تمہیں بطورِ غنیمت حاصل ہو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لئے، رسول کے لئے، (اور رسول کے) قرابتداروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے (یہ واجب ہے) اگر تم اللہ پر اور اس (غیبی نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندۂ خاص پر حق و باطل کا فیصلہ کر دینے والے دن نازل کی تھی جس دن (مسلمانوں اور کافروں کی) دو جمعیتوں میں مڈبھیڑ ہوئی تھی اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جان لو کہ تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو تو بے شک اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور قرابت دار اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے، اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان لائے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلے کے دن نازل کی، جس دن دو جماعتیں مقابل ہوئیں اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مال غنیمت کی تقسیم کا بیان ٭٭

اللہ تعالیٰ یہاں مال غنیمت کی تفصیل بیان کرتا ہے جو اس نے خاص طور پر امت کے لئے حلال کیا ہے۔ اس سے قبل تمام اگلی امتوں پر مال غنیمت حرام تھا۔ لیکن اس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے اسے حلال کر دیا۔ اس کی تقسیم کی تفصیل یہاں بیان ہو رہی ہے۔ مال غنیمت وہ ہے جو مسلمانوں کو جہاد کے بعد کافروں سے ہاتھ لگے اور جو مال بغیر لڑے جنگ کے ہاتھ آئے مثلاً صلح ہو گئی اور مقررہ تاوان جنگ ان سے وصول کیا یا کوئی مر گیا اور لاوارث تھا یا جزئیے اور خراج کی رقم وغیرہ وہ فے ہے۔ سلف و خلف کی ایک جماعت کا اور امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا یہی خیال ہے۔ بعض لوگ غنیمت کا اطلاق فے پر اور فے کا اطلاق غنیمت پر بھی کرتے ہیں۔ اسی لیے قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ یہ آیت سورۃ الحشر کی «‏‏‏‏مَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ» ۱؎ [ 59-الحشر: 7 ] ‏‏‏‏ کی ناسخ ہے۔ اب مال غنیمت میں فرق کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ آیت تو فے کے بارے میں ہے اور یہ غنیمت کے بارے میں۔ بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ ان دونوں قسم کے مال کی تقسیم امام کی رائے پر ہے۔ پس مقررہ حشر کی آیت اور اس آیت میں کوئی اختلاف نہیں جبکہ امام کی مرضی ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ آیت میں بیان ہے کہ خمس یعنی پانچواں حصہ مال غنیمت میں سے نکال دینا چاہیئے۔ چاہے وہ کم ہو یا زیادہ ہو۔ گو سوئی ہو یا دھاگہ ہو۔ پروردگار عالم فرماتا ہے «وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:161] ‏‏‏‏ ’ جو خیانت کرے گا وہ اسے لے کر قیامت کے دن پیش ہو گا اور ہر ایک کو اس عمل کا پورا بدلہ ملے گا کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا۔‘ کہتے ہیں کہ خمس میں سے اللہ کے لیے مقرر شدہ حصہ کعبے میں داخل کیا جائے گا۔

حضرت ابوالعالیہ ریاحی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ غنیمت کے مال کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ حصے کرتے تھے۔ چار مجاہدین میں تقسیم ہوتے پانچویں میں سے آپ مٹھی بھر کر نکال لیتے اسے کعبے میں داخل کر دیتے پھر جو بچا اس کے پانچ حصے کر ڈالتے ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قرابت داروں کا۔ ایک یتیموں کا ایک مسکینوں کا ایک مسافروں کا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16117] ‏‏‏‏ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں اللہ کا نام صرف بطور تبرک ہے گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے کے بیان کا وہ شروع ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوئی لشکر بھیجتے اور مال غنیمت کا مال ملتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پانچ حصے کرتے اور پھر پانچویں حصے کے پانچ حصے کر ڈالتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ پس یہ فرمان کہ «أَنَّ لِلَّـهِ خُمُسَهُ» یہ صرف کلام کے شروع کیلئے ہے۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ پانچویں حصے میں سے پانچواں حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے بہت سے بزرگوں کا قول یہی ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ہی حصہ ہے۔ اسی کی تائید بیھقی کی اس صحیح سند والی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وادی القریٰ میں آ کر سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غنیمت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کا ہے باقی کے چار حصے لشکریوں کے۔ } اس نے پوچھا تو اس میں کسی کو کسی پر زیادہ حق نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہرگز نہیں یہاں تک کہ تو اپنے کسی دوست کے جسم سے تیر نکالے تو اس تیر کا بھی تو اس سے زیادہ مستحق نہیں۔ } ۱؎ [بیہقی فی السنن الکبری:324/6] ‏‏‏‏ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے مال کے پانجویں حصے کی وصیت کی اور فرمایا کیا میں اپنے لیے اس حصے پر رضامند نہ ہو جاؤں جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنا رکھا ہے؟

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مال غنیمت کے پانچ حصے برابر کئے جاتے تھے چار تو ان لشکریوں کو ملتے تھے جو اس جنگ میں شامل تھے پھر پانچویں حصے کے چار حصے کئے جاتے تھے ایک چوتھائی اللہ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پھر یہ حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لیتے تھے یعنی پانچویں حصے کا پانچواں حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہو اس کا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کا حصہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا ہے۔ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حصہ ہے وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہے اختیار ہے جس کام میں آپ چاہیں لگائیں۔ مقدام بن معدیکرب عبادہ بن صامت ابودرداء اور حارث بن معاویہ کندی رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا ذکر ہونے لگا تو ابوداؤد نے عبادہ بن صامت سے کہا فلاں فلاں غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا تھا؟ آپ نے فرمایا کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جہاد میں خمس کے ایک اونٹ کے پیچھے صحابہ رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھائی سلام کے بعد کھڑے ہو گئے اور چند بال چٹکی میں لے کر فرمایا کہ ”مال غنیمت کے اونٹ کے یہ بال بھی مال غنیمت میں سے ہی ہیں اور میرے نہیں ہیں میرا حصہ تو تمہارے ساتھ صرف پانچواں ہے اور پھر وہ بھی تم ہی کو واپس دے دیا جاتا ہے پس سوئی دھاگے تک ہر چھوٹی بڑی چیز پہنچا دیا کرو، خیانت نہ کرو، خیانت عار ہے اور خیانت کرنے والے کیلئے دونوں جہان میں آگ ہے۔ قریب والوں سے دور والوں سے راہ حق میں جہاد جاری رکھو۔ شرعی کاموں میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال تک نہ کرو۔ وطن میں اور سفر میں اللہ کی مقرر کردہ حدیں جاری کرتے رہو اللہ کے لیے جہاد کرتے رہو جہاد جنت کے بہت بڑے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اسی جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ غم و رنج سے نجات دیتا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2850،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث حسن ہے اور بہت ہی اعلیٰ ہے۔

صحاح ستہ میں اس سند سے مروی نہیں لیکن مسند ہی کی دوسری روایت میں دوسری سند سے خمس کا اور خیانت کا ذکر مروی ہے۔ ابوداؤد اور نسائی میں بھی مختصراً یہ حدیث مروی ہے اس حصے میں سے نبی کریم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم بعض چیزیں اپنی ذات کے لیے بھی مخصوص فرما لیا کرتے تھے لونڈی غلام تلوار گھوڑا وغیرہ۔۱؎ [سنن ابوداود:2694،قال الشيخ الألباني:] ‏‏‏‏ جیسا کہ محمد بن سیرین اور عامر شعبی رحمہ اللہ علیہم اور اکثر علماء نے فرمایا ہے ترمذی وغیرہ میں ہے کہ ذوالفقار نامی تلوار بدر کے دن کے مال غنیمت میں سے تھی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی اسی کے بارے میں احد والے دن خواب دیکھا تھا۔۱؎ [سنن ترمذي:1561،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بھی اسی طرح آئیں تھیں۔۱؎ [سنن ابوداود:2994،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابوداؤد وغیرہ میں ہے یزید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم باڑے میں بیٹھے ہوئے تھے جو ایک صاحب تشریف لائے ان کے ہاتھ میں چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا ہم نے اسے پڑھا تو اس میں تحریر تھا کہ { یہ محمد رسول اللہ کی طرف سے زہیر بن اقیش کی طرف ہے کہ اگر تم اللہ کی وحدت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دو اور نمازیں قائم رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور غنیمت کے مال سے خمس ادا کرتے رہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اور خالص حصہ ادا کرتے رہو تو تم اللہ اور اس کے رسول کی امان میں ہو۔ } ہم نے ان سے پوچھا کہ تجھے یہ کس نے لکھ دیا ہے اس نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔۱؎ [سنن ابوداود:2999،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پس ان صحیح احادیث کی دلالت اور ثبوت اس بات پر ہے اسی لیے اکثر بزرگوں نے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خواص میں سے شمار کیا ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔

اور لوگ کہتے ہیں کہ خمس میں امام وقت مسلمانوں کی مصلحت کے مطابق جو چاہے کر سکتا ہے، جیسے کہ مال فے میں اسے اختیار ہے۔ ہمارے شیخ علامہ ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہی قول امام مالک رحمہ اللہ کا ہے اور اکثر سلف کا ہے اور یہی سب سے زیادہ صحیح قول ہے۔ جب یہ ثابت ہو گیا اور معلوم ہو گیا تو یہ بھی خیال رہے کہ خمس جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ تھا اسے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا کیا جائے بعض تو کہتے ہیں کہ اب یہ حصہ امام وقت یعنی خلیفتہ المسلمین کا ہو گا۔ سیدنا ابوبکر، سیدنا علی رضی اللہ عنہم،قتادہ رحمہ اللہ اور ایک جماعت کا یہی قول ہے۔ اور اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مسلمانوں کی مصلحت میں صرف ہو گا ایک قول ہے کہ یہ بھی اہل حاجت کی بقایا قسموں پر خرچ ہو گا یعنی قرابت دار یتیم مسکین اور مسافر۔ امام ابن جریر کا مختار مذہب یہی ہے اور بزرگوں کا فرمان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کا حصہ یتیموں مسکینوں اور مسافروں کو دے دیا جائے۔ عراق والوں کی ایک جماعت کا یہی قول ہے اور کہا گیا ہے خمس کا یہ پانچواں حصہ سب کا سب قرابت داروں کا ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن محمد بن علی اور علی بن حسین رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ یہ ہمارا حق ہے پوچھا گیا کہ آیت میں یتیموں اور مسکینوں کا بھی ذکر ہے تو امام علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس سے مراد بھی ہمارے یتیم اور مسکین ہیں۔

امام حسن بن محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کہ کلام کا شروع اس طرح ہوا ہے ورنہ دنیا آخرت کا سب کچھ اللہ ہی کا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان دونوں حصوں کے بارے میں کیا ہوا اس میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کو ملے گے۔ بعض کہتے ہیں آپ کے قرابت داروں کو۔ بعض کہتے ہیں خلیفہ کے قرابت داروں کو ان کی رائے میں ان دونوں حصوں کو گھوڑوں اور ہتھیاروں کے کام میں لگایا جائے اسی طرح خلافت صدیقی و فاروقی میں ہوتا بھی رہا ہے۔ ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں صدیق اکبر اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حصے کو جہاد کے کام میں خرچ کرتے تھے۔ پوچھا گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس بارے میں کیا کرتے تھے؟ فرمایا وہ اس بارے میں ان سے سخت تھے۔ اکثر علماء رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔ ہاں ذوی القربیٰ کا جو حصہ ہے وہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کا ہے۔ اس لیے کہ اولاد عبدالمطلب نے اولاد ہاشم کی جاہلیت میں اور اول اسلام میں موافقت کی اور انہی کے ساتھ انہوں نے گھاٹی میں قید ہونا بھی منظور کر لیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستائے جانے کی وجہ سے یہ لوگ بگڑ بیٹھے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں تھے، ان میں سے مسلمان تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی وجہ سے۔ کافر خاندانی طرف داری اور رشتوں ناتوں کی حمایت کی وجہ سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کی فرمانبرداری کی وجہ سے ستائے گئے ہاں بنو عبدشمس اور بنو نوفل گو یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی تھے۔

لیکن وہ ان کی موافقت میں نہ تھے بلکہ ان کے خلاف تھے انہیں الگ کر چکے تھے اور ان سے لڑ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ قریش کے تمام قبائل ان کے مخالف ہیں اسی لیے ابوطالب نے اپنے قصیدہ لامیہ میں ان کی بہت ہی مذمت کی ہے کیونکہ یہ قریبی قرابت دار تھے اس قصیدے میں انہوں نے کہا ہے کہ انہیں بہت جلد اللہ کی طرف سے ان کی اس شرارت کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ ان بیوقوفوں نے اپنے ہو کر ایک خاندان اور ایک خون کے ہو کر ہم سے آنکھیں پھیر لی ہیں وغیرہ۔ ایک موقعہ پر ابن جبیر بن معطم بن عدی بن نوفل اور سیدنا عثمان بن عفان بن ابوالعاص بن امیہ بن عبد شمس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور شکایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے خمس میں سے بنو عبدالملطب کو تو دیا لیکن ہمیں چھوڑ دیا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری کے لحاظ سے وہ اور ہم بالکل یکساں اور برابر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سنو! بنو ہاشم اور بنو المطلب تو بالکل ایک ہی چیز ہیں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:3140] ‏‏‏‏۔ بعض روایت میں یہ بھی ہے کہ { انہوں نے تو مجھ سے نہ کبھی جاہلیت میں جدائی برتی نہ اسلام میں۔} ۱؎ [سنن ابوداود:2980،قال الشيخ الألباني:] ‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اللہ کو علم تھا کہ بنو ہاشم میں فقراء ہیں پس صدقے کی جگہ ان کا حصہ مال غنیمت میں مقرر کر دیا۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ قرابت دار ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ علی بن حسین رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ سب قریش ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے استفتاء کیا گیا کہ ذوی القربیٰ کون ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب تحریر فرمایا کہ ہم تو کہتے تھے ہم ہیں لیکن ہماری قوم نہیں مانتی وہ سب کہتے ہیں کہ سارے ہی قریش ہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1812] ‏‏‏‏ بعض روایتوں میں صرف پہلا جملہ ہی ہے۔

دوسرے جملے کی روایت کے راوی ابو معشر نجیح بن عبدالرحمٰن مدنی کی روایت میں ہی یہ جملہ ہے کہ سب کہتے ہیں کہ سارے قریش ہیں۔ اس میں ضعف بھی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمہارے لیے لوگوں کے میل کچیل سے تو میں نے منہ پھیر لیا خمس کا پانچواں حصہ تمہیں کافی ہے۔ } یہ حدیث حسن ہے اس کے راوی ابراہیم بن مہدی کو امام ابوحاتم ثقہ بتاتے ہیں لیکن یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ یہ منکر روایتیں لاتے ہیں۔ ۱؎ [میزان الاعتدال:68/1] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ آیت میں یتیموں کا ذکر ہے یعنی مسلمانوں کے وہ بچے جن کا باپ فوت ہو چکا ہو۔ پھر بعض تو کہتے ہیں کہ یتیمی کے ساتھ فقیری بھی ہو تو وہ مستحق ہیں اور بعض کہتے ہیں ہر امیر فقیر یتیم کو یہ الفاظ شامل ہیں۔ «مَسَاكِينِ» سے مراد وہ محتاج ہیں جن کے پاس اتنا نہیں کہ ان کی فقیری اور ان کی حاجت پوری ہو جائے اور انہیں کافی ہو جائے۔ «ابْنِ السَّبِيلِ» وہ مسافر ہے جو اتنی حد تک وطن سے نکل چکا ہو یا جا رہا ہو کہ جہاں پہنچ کر اسے نماز کو قصر پڑھنا جائز ہو اور سفر خرچ کافی اس کے پاس نہ رہا ہو۔ اس کی تفسیر سورۃ برات کی «‏‏‏‏إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ» ۱؎ [ 9-التوبہ: 60 ] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ہمارا اللہ پر بھروسہ ہے اور اسی سے ہم مدد طلب کرتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر تمہارا اللہ پر اور اس کی اتاری ہوئی وحی پر ایمان ہے تو جو وہ فرما رہا ہے لاؤ یعنی مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ الگ کر دیا کرو۔‘ بخاری و مسلم میں ہے کہ وفد عبدالقیس کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تمہیں چار باتوں کا حکم کرتا ہوں اور چار سے منع کرتا ہوں میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں۔ جانتے بھی ہو کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز کو پابندی سے ادا کرنا زکوٰۃ دینا اور غنیمت میں سے خمس ادا کرنا۔} ۱؎ [صحیح بخاری:53] ‏‏‏‏

پس خمس کا دینا بھی ایمان میں داخل ہے۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری شریف میں باب باندھا ہے کہ خمس کا ادا کرنا ایمان میں ہے پھر اس حدیث کو وارد فرمایا ہے اور ہم نے شرح صحیح بخاری میں اس کا پورا مطلب واضح بھی کر دیا ہے «وَلِلَّهِ الْحَمْد وَالْمِنَّة» ۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا ایک احسان و انعام بیان فرماتا ہے کہ ’ اس نے حق و باطل میں فرق کر دیا۔ اپنے دین کو غالب کیا اپنے نبی کی اور آپ کے لشکریوں کی مدد فرمائی اور جنگ بدر میں انہیں غلبہ دیا۔ کلمہ ایمان کلمہ کفر پر چھا گیا۔ ‘ پس یوم الفرقان سے مراد بدر کا دن ہے جس میں حق و باطل کی تمیز ہوگئی۔ بہت سے بزرگوں سے یہی تفسیر مروی ہے۔ یہی سب سے پہلا غزوہ تھا۔ مشرک لوگ عتبہ بن ربیعہ کی ماتحتی میں تھے جمعہ کے دن انیس یا سترہ رمضان کو یہ لڑائی ہوئی تھی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم تین سو دس سے کچھ اوپر تھے اور مشرکوں کی تعداد نو سو سے ایک ہزار تھی۔

باوجود اس کے اللہ تبارک و تعالیٰ نے کافروں کو شکست دی ستر سے زائد تو کافر مارے گئے اور اتنے ہی قید کر لیے گئے۔ مستدرک حاکم میں ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لیلتہ القدر کو گیارہویں رات میں ہی یقین کے ساتھ تلاش کرو اس لیے کہ اس کی صبح کو بدر کی لڑائی کا دن تھا۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لیلتہ الفرقان جس دن دونوں جماعتوں میں گھمسان کی لڑائی ہوئی رمضان شریف کی سترہویں تھی یہ رات بھی جمعہ کی رات تھی۔ غزوے اور سیرت کے مرتب کرنے والے کے نزدیک یہی صحیح ہے۔ ہاں یزید بن ابوجعد رحمہ اللہ جو اپنے زمانے کے مصری علاقے کے امام تھے فرماتے ہیں کہ بدر کا دن پیر کا دن تھا لیکن کسی اور نے ان کی متابعت نہیں کی اور جمہور کا قول یقیناً ان کے قول پر مقدم ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
41۔ 1 غنیمت سے مراد وہ مال ہے جو کافروں سے کافروں پر لڑائی میں فتح و غلبہ حاصل ہونے کے بعد حاصل ہو پہلی امتوں میں اس کے لئے یہ طریقہ تھا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد کافروں سے حاصل کردہ سارا مال ایک جگہ ڈھیر کردیا جاتا اور آسمان سے آگ آتی اور اسے جلا کر بھسم کر ڈالتی۔ لیکن امت مسلمہ کے لئے یہ مال غنیمت حلال کردیا گیا۔ اور جو مال بغیر لڑائی کے صلح کے ذریعہ یا جزیہ و خراج سے وصول ہو اسے فییٔ کہا جاتا ہے تھوڑا ہو یا زیادہ، قیمتی ہو یا معمولی سب کو جمع کر کے اس کی حسب ضابطہ تقسیم کی جائے گی۔ کسی سپاہی کو اس میں سے کوئی چیز تقسیم سے قبل اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں۔ 41۔ 2 اللہ کا لفظ تو بطور تبرک کے ہے، نیز اس لئے ہے کہ ہر چیز کا اصل مالک وہی ہے اور حکم بھی اسی کا چلتا ہے، مراد اللہ اور اس کے رسول کے حصہ سے ایک ہی ہے، یعنی سارے مال غنیمت کے پانچ حصے کرکے چار حصے تو ان مجاہدین میں تقسیم کئے جائیں گے جنہوں نے جنگ میں حصہ لیا۔ ان میں پیادہ کو ایک حصہ اور سوار کو تین گنا حصہ ملے گا۔ پانچواں حصہ، جسے عربی میں خمس کہتے ہیں، کہا جاتا کہ اس کے پھر پانچ حصے کئے جائیں گے۔ ایک حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسے مفاد عامہ میں خرچ کیا جائے گا) جیسا کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ حصہ مسلمانوں پر ہی خرچ فرماتے تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھی ہے ' میرا جو پانچواں حصہ ہے وہ بھی مسلمانوں کے مصالح پر ہی خرچ ہوتا ہے ' دوسرا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کا، پھر یتیموں کا اور مسکینوں کا اور مسافروں کا کہا جاتا ہے کہ یہ خمس حسب ضرورت خرچ کیا جائے۔ 41۔ 3 اس نزول سے مراد فرشتوں کا اور آیات الٰہی (معجزات وغیرہ) کا نزول ہے جو بدر میں ہوا۔ 41۔ 4 بدر کی جنگ 2 ہجری 17 رمضان المبارک کو ہوئی۔ اس دن کو یوم الفرقان اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ کافروں اور مسلمانوں کے درمیان پہلی جنگ تھی اور مسلمانوں کو فتح و غلبہ دے کر واضح کردیا گیا کہ اسلام حق ہے اور کفر شرک باطل ہے۔ 41۔ 5 یعنی مسلمانوں اور کافروں کی فوجیں
(آیت 41) ➊ {وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ:} غنیمت وہ مال ہے جو کفار سے جنگ کی صورت میں حاصل ہو، اگر ان سے جنگ کے بغیر کوئی مال حاصل ہو تو اسے فے کہتے ہیں، اس کا ذکر سورۂ حشر (۶ تا ۹) میں ہے، مثلاً کفار خود ہی ہتھیار پھینک دیں، یا صلح کی صورت میں ان سے جزیہ وصول ہو، یا زمین کا خراج وغیرہ ہو۔ غنیمت اور فے بعض اوقات ایک دوسرے کے معنی میں بھی آ جاتے ہیں۔ {” غَنَمٌ“} کا معنی بھیڑ بکریاں ہے، جو عرب میں اکثر جنگ کے بعد غالب فریق کے قبضے میں آتی تھیں۔ بعد میں قبضے میں آنے والی ہر چیز کو غنیمت کہنے لگے۔ ➋ سورت کے شروع میں ”انفال“ کو اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت قرار دیا گیا تھا، اب غنیمت کی تقسیم کا طریقہ بیان ہوتا ہے۔ ایک مناسبت یہ ہے کہ اس سے پہلے «وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ» میں لڑائی کا حکم ہے جس کے نتیجے میں عموماً مالِ غنیمت حاصل ہوتا ہے، اس لیے اب اس کے خرچ کی جگہیں بیان فرمائیں۔ ➌ { مِنْ شَيْءٍ:} اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی چیز بڑی سے بڑی ہو یا چھوٹی سے چھوٹی، کوئی شخص اپنے پاس نہیں رکھ سکتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق سوئی دھاگا حتیٰ کہ اونٹ کی اون کی گچھی تک جمع کروانا ہو گی، اگر رکھے گا تو یہ غلول (خیانت) شمار ہو گا، جس کی وعید سورۂ آل عمران (۱۶۱) میں ہے۔ ➍ { فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ …:} مطلب یہ ہے کہ کل غنیمت کے پانچ حصے کیے جائیں گے، چار حصے ان لوگوں کو ملیں گے جنھوں نے جنگ میں شرکت کی، ان میں بھی پیادے کو ایک حصہ اور سوار کو تین حصے ملیں گے، ایک اس کا اپنا اور دو حصے گھوڑے کے اور خمس (پانچواں حصہ) ان اغراض کے لیے الگ کر لیا جائے گا جن کا آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ یہ بھی امت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر احسان ہے، ورنہ پہلی امتوں میں تو اموال غنیمت حلال ہی نہ تھے بلکہ انھیں جلا دیا جاتا تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ کا نام بطور برکت و تمہید آیا ہے، کیونکہ سب مال اللہ ہی کا ہے۔ اصل میں خمس کے مصرف پانچ ہیں، ایک حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اور اپنی بیویوں کی ضروریات کے بعد عام مسلمانوں کی مصلحت میں خرچ کرتے تھے، مثلاً مجاہدین کے لیے اسلحہ اور سواریاں وغیرہ۔ آپ کے بعد خلیفۂ وقت جہاں مناسب سمجھے خرچ کرنے میں آپ کا جانشین ہو گا۔ خمس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے مال غنیمت میں سے کوئی ایک چیز مثلاً کوئی ہتھیار یا گھوڑا یا لونڈی اپنے لیے رکھنے کا اختیار تھا، اسے {”صَفِيٌّ“} کہتے ہیں۔ {” وَ لِذِي الْقُرْبٰى “} سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار ہیں، آپ کے جد اعلیٰ عبد مناف کی اولاد چار قبیلے تھے، بنو ہاشم، بنو مطلب، بنو عبد شمس اور بنو نوفل۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم میں سے تھے، مگر آپ نے {” ذَوِي الْقُرْبٰي“} میں سے پہلے دو قبیلوں کو خمس میں سے حصہ دیا، بعد والے دو کو نہیں دیا اور ان کے پوچھنے پر بتایا کہ بنو مطلب اسلام لانے سے پہلے بھی بنو ہاشم کے ساتھی رہے ہیں، جبکہ آخری دونوں قبیلے اس وقت مخالفت میں سر گرم رہتے تھے۔ {” الْيَتٰمٰى “} وہ نا بالغ بچے جن کے باپ فوت ہو چکے ہوں۔ {” الْمَسٰكِيْنِ “} وہ ضرورت مند جن کی آمدنی ضرورت سے کم ہو۔ {” ابْنِ السَّبِيْلِ “} راہ گیر مسافر۔ اس خمس کا پانچ حصوں میں تقسیم کا طریقہ کیا ہو گا؟ کیا سب کو برابر دیا جائے گا، یا حسب ضرورت خرچ کیا جائے گا؟ امام مالک اور اکثر سلف رحمہم اللہ کا خیال ہے کہ امام (خلیفۂ اسلام) کو اختیار ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعی مصلحت، مثلاً جہاد کی تیاری، اسلحہ کی خریداری وغیرہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے جس طرح چاہے اسے تقسیم یا خرچ کرے۔ اسی پر خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم کا عمل رہا ہے۔ (قرطبی) نسائی کی حدیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے، عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کی کوہان سے دو انگلیوں میں تھوڑی سی پشم پکڑی، پھر فرمایا: ”میرے لیے فے (غنیمت) میں سے کچھ نہیں، حتیٰ کہ یہ (پشم) بھی نہیں، مگر پانچواں حصہ اور وہ پانچواں حصہ بھی تمھی میں لوٹایا جائے گا۔“ [ نسائی،أول کتاب قسم الفیٔ: ۴۱۴۴، و صححہ الألبانی ] پھر ضروری نہیں کہ پانچ حصوں میں برابر تقسیم کرے، جہاں زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت ہو زیادہ کر سکتا ہے۔ حافظ ابن تیمیہ اور ابن کثیر رحمھما اللہ نے اس کو سب سے صحیح قول قرار دیا ہے۔ ➎ {وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا:} یعنی جو فرشتے، آیات و معجزات اور نصرتِ الٰہی بدر میں اللہ تعالیٰ نے اتارے۔ {” عَبْدِنَا “} میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا بندہ کہہ کر خاص اعزاز بخشا، جیسا کہ «سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ» [ بنی إسرائیل: ۱ ] میں اور «وَ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا» [ البقرۃ: ۲۳ ] میں فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا یہ اعزاز بہت عزیز تھا، آپ کی مشہور دعا ہے: [ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِيْ بِيَدِكَ ] [ أحمد: 391/1، ح: ۳۷۱۱، عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ ] ➏ {يَوْمَ الْفُرْقَانِ:الْفُرْقَانِ “} واضح فیصلہ، یعنی بدر کے دن جس میں حق اور باطل کا فیصلہ ہوا، حق کو فتح ہوئی اور باطل مغلوب ہوا۔ (ابن کثیر) حق و باطل کے درمیان یہ پہلی باقاعدہ جنگ تھی جو ۱۷ رمضان بروز جمعہ (بروایت ابن جریر عن علی) واقع ہوئی۔
اِذۡ اَنۡتُمۡ بِالۡعُدۡوَۃِ الدُّنۡیَا وَ ہُمۡ بِالۡعُدۡوَۃِ الۡقُصۡوٰی وَ الرَّکۡبُ اَسۡفَلَ مِنۡکُمۡ ؕ وَ لَوۡ تَوَاعَدۡتُّمۡ لَاخۡتَلَفۡتُمۡ فِی الۡمِیۡعٰدِ ۙ وَ لٰکِنۡ لِّیَقۡضِیَ اللّٰہُ اَمۡرًا کَانَ مَفۡعُوۡلًا ۬ۙ لِّیَہۡلِکَ مَنۡ ہَلَکَ عَنۡۢ بَیِّنَۃٍ وَّ یَحۡیٰی مَنۡ حَیَّ عَنۡۢ بَیِّنَۃٍ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَسَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یاد کرو وہ وقت جبکہ تم وادی کے اِس جانب تھے اور وہ دُوسری جانب پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل) کی طرف تھا اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرارداد ہو چکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کر جاتے، لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لیے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کر چکا تھا اسے ظہُور میں لے آئے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے، یقیناً خدا سُننے والا اور جاننے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جب کہ تم پاس والے کنارے پر تھے اور وه دور والے کنارے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے تھا۔ اگر تم آپس میں وعدے کرتے تو یقیناً تم وقت معین پر پہنچنے میں مختلف ہو جاتے۔ لیکن اللہ کو تو ایک کام کر ہی ڈالنا تھا جو مقرر ہو چکا تھا تاکہ جو ہلاک ہو، دلیل پر (یعنی یقین جان کر) ہلاک ہو اور جو زنده رہے، وه بھی دلیل پر (حق پہچان کر) زنده رہے۔ بیشک اللہ بہت سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
جب تم نالے کے کنا رے تھے اور کافر پرلے کنا رے اور قا فلہ تم سے ترائی میں اور اگر تم آپس میں کوئی وعدہ کرتے تو ضرور وقت پر برابر نہ پہنچتے لیکن یہ اس لیے کہ اللہ پورا کرے جو کام ہونا ہے کہ جو ہلاک ہو دلیل سے ہلاک ہو اور جو جئے دلیل سے جئے اور بیشک اللہ ضرور سنتا جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جس وقت تم قریب کے ناکہ پر تھے اور وہ دور کے ناکہ پر اور قافلہ تم سے ادھر نیچے (ساحل سمندر پر) تھا اگر تم ایک دوسرے سے وقت مقرر بھی کر لیتے تو بھی تم میں اختلاف ہو جاتا۔ لیکن خدا نے تو اس بات کو پورا کرنا تھا جو (مڈبھیڑ) ہونے والی تھی۔ تاکہ جو ہلاک ہو وہ اتمامِ حجت کے بعد ہلاک ہو اور جو زندہ رہے تو وہ بھی اتمام حجت کے بعد زندہ رہے بے شک اللہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جب تم قریب والے کنارے پر اور وہ دور والے کنارے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے کی طرف تھا اور اگر تم آپس میں وعدہ کرتے تو ضرور مقرر وقت کے بارے میں آگے پیچھے ہو جاتے اور لیکن تاکہ اللہ اس کام کو پورا کردے جو کیا جانے والا تھا، تاکہ جو ہلاک ہو واضح دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے واضح دلیل سے زندہ رہے اور بے شک اللہ یقینا سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالی نے غزوہ بدر کے ذریعے ایمان کو کفر سے ممتاز کر دیا ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ اس دن تم وادی الدینا میں تھے جو مدینے شریف سے قریب ہے اور مشرک لوگ مکے کی جانب مدینے کی دور کی وادی میں تھے اور ابوسفیان اور اس کا قافلہ تجارتی اسباب سمیت نیچے کی جانب دریا کی طرف تھا اگر تم کفار قریش سے جنگ کا ارادہ پہلے سے کرتے تو یقیناً تم میں اختلاف پڑتا کہ لڑائی کہاں ہو؟‘ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ’ اگر تم لوگ آپس میں طے کر کے جنگ کے لیے تیار ہوتے اور پھر تمہیں ان کی کثرت تعداد اور کثرت اسباب معلوم ہوتی تو بہت ممکن تھا کہ ارادے پست ہو جاتے۔ ‘ اس لیے قدرت نے پہلے سے طے کئے بغیر دونوں جماعتوں کو اچانک ملا دیا کہ اللہ کا یہ ارادہ پورا ہو جائے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بلندی حاصل ہو اور شرک اور مشرکوں کو پستی ملے پس جو کرنا تھا اللہ پاک کر گذرا۔ چنانچہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان تو صرف قافلے کے ارادے سے ہی نکلے تھے اللہ نے دشمن سے مڈبھیڑ کرا دی بغیر کسی تقرر کے اور بغیر کسی جنگی تیاری کے۔ ابوسفیان ملک شام سے قافلہ لے کر چلا ابوجہل اسے مسلمانوں سے بچانے کیلئے مکے سے نکلا۔ قافلہ دوسرے راستے سے نکل گیا اور مسلمانوں اور کافروں کی جنگ ہو گئی اس سے پہلے دونوں ایک دوسرے سے بے خبر تھے ایک دوسرے کو خصوصاً پانی لانے والوں کو دیکھ کر انہیں ان کا اور انہیں ان کا علم ہوا۔

سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم برابر اپنے ارادے سے جا رہے تھے صفراء کے قریب پہنچ کر سیس بن عمرو اور عدی بن ابو الزعباء جہنی کو ابوسفیان کا پتہ چلانے کیلئے بھیجا ان دونوں نے بدر کے میدان میں پہنچ کر بطحاء کے ایک ٹیلے پر اپنی سواریاں بٹھائیں اور پانی کے لیے نکلے۔ راستے میں دو لڑکیوں کو آپس میں جھگڑتے ہوئے دیکھا ایک دوسری سے کہتی ہے تو میرا قرضہ کیوں ادا نہیں کرتی؟ اس نے کہا جلدی نہ کر کل یا پرسوں یہاں قافلہ آنے والا ہے میں تجھے تیرا حق دے دوں گی۔ مجدیٰ بن عمرو بیچ میں بول اٹھا اور کہا یہ سچ کہتی ہے اسے ان دونوں صحابیوں رضی اللہ عنہم نے سن لیا اپنے اونٹ کسے اور فوراً خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ ادھر ابوسفیان اپنے قافلے سے پہلے یہاں اکیلا پہنچا اور مجدی بن عمرو سے کہا کہ اس کنویں پر تم نے کسی کو دیکھا؟ اس نے کہا نہیں البتہ دو سوار آئے تھے اپنے اونٹ اور ٹیلے پر بٹھائے اپنی مشک میں پانی بھر اور چل دئیے۔ یہ سن کر یہ اس جگہ پہنچا مینگنیاں لیں اور انہیں توڑا اور کھجورں کی گھٹلیاں ان میں پا کر کہنے لگا واللہ یہ مدنی لوگ ہیں وہیں سے واپس اپنے قافلے میں پہنچا اور راستہ بدل کر سمندر کے کنارے چل دیا جب اسے اس طرف سے اطمینان ہو گیا تو اس نے اپنا قاصد قریشیوں کو بھیجا کہ اللہ نے تمہارے قافلے مال اور آدمیوں کو بچا لیا تم لوٹ جاؤ یہ سن کر ابوجہل نے کہا نہیں جب یہاں تک ہم آ چکے ہیں تو ہم بدر تک ضرور جائیں گے یہاں ایک بازار لگا کرتا تھا۔ وہاں ہم تین روز ٹھہریں گے وہاں اونٹ ذبح کریں گے۔ شرابیں پئیں گے کباب بنائیں گے تاکہ عرب میں ہماری دھوم مچ جائے اور ہر ایک کو ہماری بہادری اور بے جگری معلوم ہو اور وہ ہمیشہ ہم سے خوف زدہ رہیں۔ لیکن اخنس بن شریق نے کہا کہ بنو زہرہ کے لوگو اللہ تعالیٰ نے تمہارے مال محفوظ کر دیئے تم کو چاہیئے کہ اب واپس چلے جاؤ۔ اس کے قبیلے نے اس کی مان لی یہ لوگ اور بنو عدی لوٹ گئے۔۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:31/3:] ‏‏‏‏

بدر کے قریب پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب، سعد بن وقاص اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم کو خبر لانے کے لیے بھیجا چند اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی ان کے ساتھ کر دیا انہیں بنوسعید بن عاص کا اور بنو حجاج کا غلام کنویں پر مل گیا دونوں کو گرفتار کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان سے سوال کرنا شروع کیا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا قریش کے سقے ہیں انہوں نے ہمیں پانی لانے کیلئے بھیجا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ یہ ابوسفیان کے آدمی ہیں اس لیے انہوں نے ان پر سختی شروع کی آخر گھبرا کر انہوں نے کہدیا کہ ہم ابوسفیان کے قافلے کے ہیں تب انہیں چھوڑا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا اور فرمایا کہ { جب تک یہ سچ بولتے رہے تم انہیں مارتے پیٹتے رہے اور جب انہوں نے جھوٹ کہا تم نے چھوڑ دیا واللہ یہ سچے ہیں یہ قریش کے غلام ہیں۔ ہاں جی بتاؤ قریش کا لشکر کہاں ہے؟} انہوں نے کہا وادی قصویٰ کے اس طرف ٹیلے کے پیچھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ تعداد میں کتنے ہیں؟} انہوں نے کہا بہت ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { آخر کتنے ایک؟ } انہوں نے کہا تعداد تو ہمیں معلوم نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اچھا یہ بتا سکتے ہو ہر روز کتنے اونٹ کٹتے ہیں؟ } انہوں نے کہا ایک دن نو ایک دن دس۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر وہ نو سو سے ایک ہزار تک ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان میں سرداران قریش میں سے کون کون ہیں؟ } انہوں نے جواب دیا کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوالبختری بن ہشام، حکیم بن حزام، نوفل، طعیمہ بن عدی، نضر بن حارث، زمعہ بن اسود، ابوجہل، امیہ بن خلف، منبہ بن حجاج، سہیل بن عمرو، عمرو بن عبدود۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: { لو مکے نے اپنے جگر کے ٹکڑے تمہاری طرف ڈال دیئے ہیں۔} ۱؎ [صحیح مسلم:1779] ‏‏‏‏

بدر کے دن جب دونوں جماعتوں کا مقابلہ شروع ہونے لگا تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک جھونپڑی بنا دیں آپ وہاں رہیں ہم اپنے جانوروں کو یہیں بٹھا کر میدان میں جا کودیں اگر فتح ہوئی تو «الْحَمْدُ لِلَّـه» یہی مطلوب ہے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے جانوروں پر سوار ہو کر انہیں اپنے ساتھ لے کر ہماری قوم کے ان حضرات کے پاس چلے جائیں جو مدینہ شریف میں ہیں وہ ہم سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ کوئی جنگ ہونے والی ہے ورنہ وہ ہرگز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑتے آپ کی مدد کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب نکل کھڑے ہوتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس مشورے کی قدر کی انہیں دعا دی اور اس ڈیرے میں آپ ٹھہر گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور کوئی نہ تھا۔۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:44/3:] ‏‏‏‏ صبح ہوتے ہی قریشیوں کے لشکر ٹیلے کے پیچھے سے آتے ہوئے نمودار ہوئے انہیں دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب باری میں دعا کی کہ { باری تعالیٰ یہ فخر و غرور کے ساتھ تجھ سے لڑنے اور تیرے رسول کو جھٹلانے کیلئے آ رہے ہیں، باری تعالیٰ تو انہیں پست و ذلیل کر۔}

اس آیت کے آخری جملے کی تفسیر سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ یہ اس لیے کہ کفر کرنے والے دلیل ربانی دیکھ لیں گو کفر ہی پر رہیں اور ایمان والے بھی دلیل کے ساتھ ایمان لائیں۔ یعنی آمادگی اور بغیر شرط و قرار داد کے اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور مشرکوں کا یہاں اچانک آمنا سامنا کرا دیا کہ حقانیت کو باطل پر غلبہ دے کر حق کو مکمل طور پر ظاہر کر دے اس طرح کہ کسی کو شک شبہ باقی نہ رہے۔ اب جو کفر پر رہے وہ بھی کفر کو کفر سمجھ کے رہے اور جو ایمان والا ہو جائے وہ دلیل دیکھ کر ایماندار بنے ایمان ہی دلوں کی زندگی ہے اور کفر ہی اصلی ہلاکت ہے۔ جیسے فرمان قرآن ہے «أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 6-الأنعام: 122 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ وہ جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے جلا دیا اور اس کے لیے نور بنا دیا کہ اس کی روشنی میں وہ لوگوں میں چل پھر رہا ہے۔‘ تہمت کے قصہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ ہیں کہ ”پھر جسے ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہو گیا یعنی بہتان میں حصہ لیا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:2966] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ تمہارے تضرع و زاری اور تمہاری دعا و استغفار اور فریاد و مناجات کا سننے والا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم اہل حق ہو تم مستحق امداد ہو تم اس قابل ہو کر تمہیں کافروں اور مشرکوں پر غلبہ دیا جائے۔‘
42۔ 1 دُنْیَاسے مراد وہ کنارہ جو مدینہ شہر کے قریب تھا۔ قصویٰ کہتے ہیں دور کو۔ کافر اس کنارے پر تھے جو مدینہ سے دور تھا۔ 42۔ 2 اس سے مراد تجارتی قافلہ ہے جو حضرت ابو سفیان کی قیادت میں شام سے مکہ جا رہا تھا اور جسے حاصل کرنے کے لئے ہی دراصل مسلمان اس طرف آئے تھے۔ یہ پہاڑ سے بہت دور مغرب کی طرف نشیب میں تھا، جب کہ بدر کا مقام، جہاں جنگ ہوئی، بلندی پر تھا۔ 42۔ 3 یعنی اگر جنگ کے لئے باقاعدہ دن اور تاریخ کا ایک دوسرے کے ساتھ وعدہ یا اعلان ہوتا تو ممکن بلکہ یقین تھا کہ کوئی فریق لڑائی کئے بغیر ہی پسپائی اختیار کرلیتا لیکن چونکہ اس جنگ کا ہونا اللہ نے لکھ رکھا تھا اس لئے ایسے اسباب پیدا کردیئے گئے کہ دونوں فریق بدر کے مقام پر ایک دوسرے کے مقابل بغیر پیشگی وعدہ وعید کے، صف آرا ہوجائیں۔ 42۔ 4 یہ علت ہے اللہ کی اس تقدیری مشیت کی جس کے تحت بدر میں فریقین کا اجتماع ہوا، تاکہ جو ایمان پر زندہ رہے تو وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے اور اسے یقین ہو کہ اسلام حق ہے کیونکہ اس کی حقانیت کا مشاہدہ وہ بدر میں کرچکا ہے اور جو کفر کے ساتھ ہلاک ہو تو بھی دلیل کے ساتھ ہلاک ہو کیونکہ اس پر یہ واضح ہوچکا ہے کہ مشرکین کا راستہ گمراہی اور باطل کا راستہ ہے۔
(آیت 42) ➊ {اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا …:} جنگ کا محل وقوع ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ تم جس ارادے سے نکلے تھے کہ ہمیں وہ قافلہ مل جائے گا جو نہایت قیمتی ہے اور جس کے محافظ صرف تیس یا چالیس شخص ہیں، اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایسی جگہ لا کھڑا کیا جہاں لڑائی کے بغیر چارہ نہ تھا۔ {” عُدْوَةٌ “} کنارا۔ {” الدُّنْيَا “ ” دُنُوٌّ “ } (قریب ہونا) میں سے{” أَدْنٰي“} کی مؤنث ہے، قریب ترین، یعنی تم وادی بدر کے اس سرے پر تھے جو مدینہ کے قریب ترین ہے۔ {” الْقُصْوٰى “ ” أَقْصٰي“} کی مؤنث ہے دور ترین، یعنی قریش اسی وادی بدر کے مدینہ سے دور والے کنارے پر تھے۔ {” وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ “} یعنی جس قافلے کی خاطر تم نکلے تھے وہ تم سے نیچے ساحل سمندر پر تھا، جہاں تمھارا پہنچنا اس وقت ممکن نہ تھا اور تم اور قریش کسی پیشگی ارادے کے بغیر ایک ہی وادی کے کناروں پر آ جمع ہوئے تھے، نہ انھیں تمھارا علم تھا نہ تمھیں ان کا اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ حق و باطل کا ٹکراؤ کروا کر حق واضح کر دے۔ اگر تم اور قریش وقت اور جگہ طے کر کے لڑائی کے لیے نکلتے تو یقینا طے کردہ وعدے پر پہنچنے میں کمی بیشی ہو جاتی، یا تم اپنی تعداد اور تیاری کی کمی کی وجہ سے نہ پہنچتے، یا کفار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ رعب سے خائف ہو کر نہ پہنچتے، مگر اللہ تعالیٰ کا تمھیں عین ایک ہی وادی میں لا جمع کرنا اس لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرنا چاہتا تھا وہ پورا کر دے، یعنی مسلمانوں کو فتح اور کفار کو شکست ہو۔ ➋ {لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَيِّنَةٍ …:} یعنی اس لیے کہ کفار کی اتنی کثرت اور تیاری اور مسلمانوں کی قلت اور بے سروسامانی کے باوجود مسلمانوں کی فتح کے ساتھ کفار پر حجت پوری ہو جائے اور اسلام کی حقانیت واضح ہو جائے، اس کے بعد اگر کوئی کافر رہے تو دلیل دیکھ کر کافر رہے اور ہلاکت میں پڑے اور جو کوئی مسلمان ہو تو وہ بھی دلیل دیکھ کر مسلمان ہو اور ہمیشہ کی زندگی حاصل کرے۔
اِذۡ یُرِیۡکَہُمُ اللّٰہُ فِیۡ مَنَامِکَ قَلِیۡلًا ؕ وَ لَوۡ اَرٰىکَہُمۡ کَثِیۡرًا لَّفَشِلۡتُمۡ وَ لَتَنَازَعۡتُمۡ فِی الۡاَمۡرِ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ سَلَّمَ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یاد کرو وہ وقت جبکہ اے نبیؐ، خدا اُن کو تمہارے خواب میں تھوڑا دکھا رہا تھا، اگر کہیں وہ تمہیں اُن کی تعداد زیادہ دکھا دیتا تو ضرور تم لوگ ہمت ہار جاتے اور لڑائی کے معاملہ میں جھگڑا شروع کر دیتے، لیکن اللہ ہی نے اِس سے تمہیں بچایا، یقیناً وہ سینوں کا حال تک جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جب کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے تیرے خواب میں ان کی تعداد کم دکھائی، اگر ان کی زیادتی دکھاتا تو تم بزدل ہو جاتے اور اس کام کے بارے میں آپس میں اختلاف کرتے لیکن اللہ تعالیٰ نے بچا لیا، وه دلوں کے بھیدوں سے خوب آگاه ہے
احمد رضا خان بریلوی
جب کہ اے محبوب! اللہ ٹمہیں کافروں کو تمہاری خواب میں تھو ڑا دکھاتا تھا اور اے مسلمانو! اگر وہ تمہیں بہت کرکے دکھاتا تو ضرور تم بزدلی کرتے اور معاملہ میں جھگڑا ڈالتے مگر اللہ نے بچا لیا بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اور اے نبی) وہ وقت یاد کرو۔ جب اللہ نے خواب میں آپ کو ان (کفار) کی تعداد تھوڑی کرکے دکھائی تھی اور اگر وہ انہیں زیادہ کرکے دکھاتا تو تم ہمت ہار جاتے۔ اور آپس میں جھگڑنے لگتے۔ لیکن اللہ نے اس سے بچایا۔ بے شک اللہ سینوں کے اندر والی باتوں کا خوب جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جب اللہ تجھے تیرے خواب میں دکھا رہا تھا کہ وہ تھوڑے ہیں اور اگر وہ تجھے دکھاتا کہ وہ بہت ہیں تو تم ضرور ہمت ہار جاتے اور ضرور اس معاملے میں آپس میں جھگڑ پڑتے اور لیکن اللہ نے سلامت رکھا۔ بے شک وہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لڑائی میں مومن کم اور کفار زیادہ دکھائی دئیے ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں مشرکوں کی تعداد بہت کم دکھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے ذکر کیا، یہ چیز ان کی ثابت قدمی کا باعث بن گئی۔ بعض بزرگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے ان کی تعداد کم دکھائی۔ جن آنکھوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے۔ لیکن یہ قول غریب ہے جب قرآن میں «مَنَامِ» کے لفظ ہیں تو اس کی تاویل بلا دلیل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ممکن تھا کہ ان کی تعداد کی زیادتی میں رعب بٹھا دے اور آپس میں اختلاف شروع ہو جائے کہ آیا ان سے لڑیں یا نہ لڑیں؟ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے ہی بچا لیا اور ان کی تعداد کم کر کے دکھائی۔ اللہ پاک دلوں کے بھید سے سینے کے راز سے واقف ہے آنکھوں کی خیانت اور دل کے بھید جانتا ہے۔ خواب میں تعداد میں کم دکھا کر پھر یہ بھی مہربانی فرمائی کہ بوقت جنگ بھی مسلمانوں کی نگاہوں اور ان کی جانچ میں وہ بہت ہی کم آئے تاکہ مسلمان دلیر ہو جائیں اور انہیں کوئی چیز نہ سمجھیں۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں میں نے اندازہ کر کے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ لوگ تو کوئی ستر کے قریب ہوں گے اس نے پورا اندازہ کر کے کہا نہیں کوئی ایک ہزار کا یہ لشکر ہے۔ پھر اسی طرح کافروں کی نظروں میں بھی اللہ حکیم نے مسلمانوں کی تعداد کم دکھائی اب تو وہ ان پر اور یہ ان پر ٹوٹ پڑے۔ تاکہ رب کا کام جس کا کرنا وہ اپنے علم میں مقرر کر چکا تھا پورا ہو جائے کافروں پر اپنی پکڑ اور مومنوں پر اپنی رحمت نازل فرما دے۔ جب تک لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی یہی کیفیت دونوں جانب رہی لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوں سے اپنے بندوں کی مدد فرمائی مسلمانوں کا لشکر بڑھ گیا اور کافروں کا زور ٹوٹ گیا۔ چنانچہ اب تو کافروں کو مسلمان اپنے سے دگنے نظر آنے لگے اور اللہ نے موحدوں کی مدد کی اور آنکھوں والوں کیلئے عبرت کا خزانہ کھول دیا۔ جیسے کہ «‏‏‏‏قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ ۚ وَاللَّـهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَاءُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 13 ] ‏‏‏‏، میں بیان ہوا ہے۔ پس دونوں آیتیں ایک سی ہیں مسلمان تب تک کم نظر آتے رہے جب تک لڑائی شروع نہیں ہوئی۔ شروع ہوتے ہیں مسلمان دگنے دکھائی دینے لگے۔
43۔ 1 اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں کافروں کی تعداد تھوڑی دکھائی اور وہی تعداد آپ نے صحابہ کرام کے سامنے بیان فرمائی، جس سے ان کے حوصلے بڑھ گئے تھے، اگر اس کے برعکس کافروں کی تعداد زیادہ دکھائی جاتی تو صحابہ میں باہمی اختلاف کا اندیشہ تھا۔ لیکن اللہ نے ان دونوں باتوں سے بچا لیا۔
(آیت 43) ➊ {اِذْ يُرِيْكَهُمُ اللّٰهُ فِيْ مَنَامِكَ قَلِيْلًا:} نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ کافروں کی تعداد زیادہ نہیں ہے، اسی کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو دی، جس کا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں ہمت اور ثابت قدمی پیدا ہو گئی۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبی کا خواب تو وحی ہوتا ہے، پھر آپ کو وہ کم کیوں نظر آئے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ آپ کا خواب اس لحاظ سے سچا تھا کہ بعد میں ان کافروں میں سے بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے، دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ فرشتے بھی شامل تھے، اس لیے ان کے مقابلے میں کافروں کی تعداد کم ہی تھی یا معنوی طور پر یعنی اخلاقی اور روحانی طور پر ان میں قوت و طاقت نہ تھی، بظاہر وہ بہت تھے لیکن میدان کار زار میں ثبات و استقلال میں کمزور تھے، اس لیے گویا وہ تعداد میں بھی کم تھے۔ ➋ {وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِي الْاَمْرِ:} یعنی کوئی کہتا لڑو اور کوئی کہتا نہ لڑو، وہ بہت ہیں اور ہم کم۔ ➌ { وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ:} یعنی نہ ہمت ہار جانے کا موقع دیا اور نہ آپس میں لڑنے جھگڑنے کا۔
وَ اِذۡ یُرِیۡکُمُوۡہُمۡ اِذِ الۡتَقَیۡتُمۡ فِیۡۤ اَعۡیُنِکُمۡ قَلِیۡلًا وَّ یُقَلِّلُکُمۡ فِیۡۤ اَعۡیُنِہِمۡ لِیَقۡضِیَ اللّٰہُ اَمۡرًا کَانَ مَفۡعُوۡلًا ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿٪۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یاد کرو جب کہ مقابلے کے وقت خدا نے تم لوگوں کی نگاہوں میں دشمنوں کو تھوڑا دکھایا اور ان کی نگاہوں میں تمہیں کم کر کے پیش کیا، تاکہ جو بات ہونی تھی اُسے اللہ ظہُور میں لے آئے، اور آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جبکہ اس نے بوقت ملاقات انہیں تمہاری نگاہوں میں بہت کم دکھائے اور تمہیں ان کی نگاہوں میں کم دکھائے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کام کو انجام تک پہنچا دے جو کرنا ہی تھا اور سب کام اللہ ہی کی طرف پھیرے جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
او ر جب لڑتے وقت تمہیں کا فر تھو ڑے کرکے دکھائے اور تمہیں ان کی نگاہوں میں تھو ڑا کیا کہ اللہ پو را کرے جو کام ہونا ہے اور اللہ کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ وقت یاد کرو۔ کہ جب اللہ نے انہیں تمہاری نگاہوں میں کم کرکے دکھایا۔ اور تمہاری تعداد کو ان کی نظروں میں کم کرکے دکھایا تاکہ اللہ اس کو پورا کرے جو ہو کر رہنا تھا۔ اور تمام معاملات کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب وہ تمھیں، جس وقت تم مقابل ہوئے، انھیں تمھاری آنکھوں میں تھوڑے دکھاتا تھا اور تمھیں ان کی آنکھوں میں بہت کم کرتا تھا، تاکہ اللہ اس کام کو پورا کر دے جو کیا جانے والا تھا اور سب معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لڑائی میں مومن کم اور کفار زیادہ دکھائی دئیے ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں مشرکوں کی تعداد بہت کم دکھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے ذکر کیا، یہ چیز ان کی ثابت قدمی کا باعث بن گئی۔ بعض بزرگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے ان کی تعداد کم دکھائی۔ جن آنکھوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے۔ لیکن یہ قول غریب ہے جب قرآن میں «مَنَامِ» کے لفظ ہیں تو اس کی تاویل بلا دلیل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ممکن تھا کہ ان کی تعداد کی زیادتی میں رعب بٹھا دے اور آپس میں اختلاف شروع ہو جائے کہ آیا ان سے لڑیں یا نہ لڑیں؟ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے ہی بچا لیا اور ان کی تعداد کم کر کے دکھائی۔ اللہ پاک دلوں کے بھید سے سینے کے راز سے واقف ہے آنکھوں کی خیانت اور دل کے بھید جانتا ہے۔ خواب میں تعداد میں کم دکھا کر پھر یہ بھی مہربانی فرمائی کہ بوقت جنگ بھی مسلمانوں کی نگاہوں اور ان کی جانچ میں وہ بہت ہی کم آئے تاکہ مسلمان دلیر ہو جائیں اور انہیں کوئی چیز نہ سمجھیں۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں میں نے اندازہ کر کے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ لوگ تو کوئی ستر کے قریب ہوں گے اس نے پورا اندازہ کر کے کہا نہیں کوئی ایک ہزار کا یہ لشکر ہے۔ پھر اسی طرح کافروں کی نظروں میں بھی اللہ حکیم نے مسلمانوں کی تعداد کم دکھائی اب تو وہ ان پر اور یہ ان پر ٹوٹ پڑے۔ تاکہ رب کا کام جس کا کرنا وہ اپنے علم میں مقرر کر چکا تھا پورا ہو جائے کافروں پر اپنی پکڑ اور مومنوں پر اپنی رحمت نازل فرما دے۔ جب تک لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی یہی کیفیت دونوں جانب رہی لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوں سے اپنے بندوں کی مدد فرمائی مسلمانوں کا لشکر بڑھ گیا اور کافروں کا زور ٹوٹ گیا۔ چنانچہ اب تو کافروں کو مسلمان اپنے سے دگنے نظر آنے لگے اور اللہ نے موحدوں کی مدد کی اور آنکھوں والوں کیلئے عبرت کا خزانہ کھول دیا۔ جیسے کہ «‏‏‏‏قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ ۚ وَاللَّـهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَاءُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 13 ] ‏‏‏‏، میں بیان ہوا ہے۔ پس دونوں آیتیں ایک سی ہیں مسلمان تب تک کم نظر آتے رہے جب تک لڑائی شروع نہیں ہوئی۔ شروع ہوتے ہیں مسلمان دگنے دکھائی دینے لگے۔
44۔ 1 تاکہ وہ کافر بھی تم سے خوف کھا کر پیچھے نہ ہٹیں، پہلا واقعہ خواب کا تھا اور یہ دکھلانا عین قتال کے وقت تھا، جیسا کہ الفاظ قرآنی سے واضح ہے۔ تاہم یہ معاملہ ابتدا میں تھا، لیکن جب باقاعدہ لڑائی شروع ہوگئی تو پھر کافروں کو مسلمان اپنے سے دوگنا نظر آتے تھے، جیسا کہ سورة، آل عمران کی آیت 13 سے معلوم ہوتا ہے۔ بعد میں زیادہ دکھانے کی حکمت یہ نظر آتی ہے کہ کثرت دیکھ کر ان کے اندر مسلمانوں کا خوف اور دہشت بیٹھ جائے، جس سے ان کے اندر بزدلی اور پست ہمتی پیدا ہو، اس کے برعکس پہلے کم دکھانے میں حکمت یہ تھی کہ وہ لڑنے سے گریز نہ کریں۔ 44۔ 2 اس سب کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ کیا ہوا تھا، وہ پورا ہوجائے۔ اس لئے اس نے اس کے اسباب پیدا فرما دے۔
(آیت 44) ➊ {وَ اِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِيْۤ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا …:} پہلا واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کا تھا، یہ عین میدان جنگ کا واقعہ ہے، جب جنگ ہونے والی تھی مگر ابھی شروع نہیں ہوئی تھی، کافر مسلمانوں کو تھوڑے نظر آتے تھے، حتیٰ کہ بعض نے دوسرے سے پوچھا، تمھارے خیال میں یہ کتنے ہوں گے؟ اس نے کہا، ستر (۷۰) کے قریب ہوں گے۔ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کی بھی تائید ہو رہی تھی اور یہ بھی کہ مسلمانوں کی ہمت بڑھ جائے اور کفار کی نظر میں مسلمانوں کو کم دکھانے کی حکمت یہ تھی کہ وہ زیادہ تیاری کی ضرورت نہ سمجھیں اور لڑائی سے گریز نہ کریں، بلکہ دونوں فریق ایک دوسرے کو کم سمجھتے ہوئے لڑائی پر آمادہ ہو جائیں۔ یہ شروع کی بات ہے، مگر جب جنگ شروع ہو گئی تو کافروں کو مسلمانوں کی تعداد زیادہ نظر آنے لگی، جیسا کہ آل عمران میں ہے: «وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ يَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَاْيَ الْعَيْنِ» [ آل عمران: ۱۳ ] ” اور دوسری جماعت کافر تھی جو ان (مسلمانوں) کو آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اپنے سے دو گنا دیکھ رہے تھے۔“ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ جنگ شروع ہو گئی، پھر شروع ہونے پر کافروں کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ جلد ہی شکست کھا کر پیچھے کی طرف بھاگنے لگے اور مسلمانوں کے حوصلے بدستور بڑھتے گئے۔ ➋ { لِيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا:} یعنی وہی کہ اسلام کی فتح اور کفر کی شکست ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر معجزانہ دلیل قائم ہو جائے۔ ➌ { وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ:} یعنی وہی جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے اور پھر جب اصل اختیار ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے تو مسلمان کو چاہیے کہ اسی کو اپنا مقصود بنائے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمۡ فِئَۃً فَاثۡبُتُوۡا وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿ۚ۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے ایمان لانے والو، جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہو گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! جب تم کسی مخالف فوج سے بھڑ جاؤ تو ﺛابت قدم رہو اور بکثرت اللہ کو یاد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کی یاد بہت کرو کہ تم مراد کو پہنچو،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! جب کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو جائے تو ثابت قدم رہا کرو۔ اور اللہ کو یاد کرو۔ تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم کسی گروہ کے مقابل ہو تو جمے رہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہاد کے وقت کثرت سے اللہ کا ذکر ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو لڑائی کی کامیابی کی تدبیر اور دشمن کے مقابلے کے وقت شجاعت کا سبق سکھا رہا ہے ایک غزوے میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج ڈھلنے کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا: { لوگو دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے رہو لیکن جب دشمنوں سے مقابلہ ہو جائے تو استقلال رکھو اور یقین مانو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے سچی کتاب کے نازل فرمانے والے اے بادلوں کے چلانے والے اور لشکروں کو ہزیمت دینے والے اللہ ان کافروں کو شکست دے اور ان پر ہماری مدد فرما۔ }۱؎ [صحیح بخاری:2818] ‏‏‏‏ عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ { دشمن کے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور مقابلے کے وقت ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ گو وہ چیخیں چلائیں لیکن تم خاموش رہا کرو۔} ۱؎ [عبد الرزاق:9518:ضعیف] ‏‏‏‏ طبرانی میں ہے تین وقت ایسے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کو خاموشی پسند ہے [ ١ ] ‏‏‏‏ تلاوت قرآن کے وقت [ ٢ ] ‏‏‏‏ جہاد کے وقت اور [ ٣ ] ‏‏‏‏ جنازے کے وقت۔۱؎ [طبرانی کبیر:5130:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں ہے { کامل بندہ وہ ہے جو دشمن کے مقابلے کے وقت میرا ذکر کرتا رہے یعنی اس حال میں بھی میرے ذکر کو مجھ سے دعا کرنے اور فریاد کرنے کو ترک نہ کرے۔} ۱؎ [سنن ترمذي:3580،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں لڑائی کے دوران یعنی جب تلوار چلتی ہو تب بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر فرض رکھا ہے۔ عطا رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ چپ رہنا اور ذکر اللہ کرنا لڑائی کے وقت بھی واجب ہے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ تو جریج نے آپ سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ کی یاد بلند آواز سے کریں؟ آپ نے فرمایا ہاں کعب احبار فرماتے ہیں قرآن کریم کی تلاوت اور ذکر اللہ سے زیادہ محبوب اللہ کے نزدیک اور کوئی چیز نہیں۔

اس میں بھی اولیٰ وہ ہے جس کا حکم لوگوں کو نماز میں کیا گیا ہے اور جہاد میں کیا تم نہیں دیکھتے؟ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بوقت جہاد بھی اپنے ذکر کا حکم فرمایا ہے پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی۔ شاعر کہتا ہے کہ عین جنگ و جدال کے وقت بھی میرے دل میں تیری یاد ہوتی ہے۔ عنترہ کہتا ہے نیزوں اور تلواروں کے شپاشپ چلتے ہوئے بھی میں تجھے یاد کرتا رہتا ہوں۔ پس آیت میں جناب باری نے دشمنوں کے مقابلے کے وقت میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور صبر و استقامت کا حکم دیا کہ ’ نامرد، بزدل اور ڈرپوک نہ بنو اللہ کو یاد کرو اسے نہ بھولو۔ اس سے فریاد کرو اس سے دعائیں کرو اسی پر بھروسہ رکھو اس سے مدد طلب کرو۔ یہی کامیابی کے گر ہیں۔ اس وقت بھی اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو ہاتھ سے نہ جانے دو وہ جو فرمائیں بجا لاؤ جن سے روکیں رک جاؤ آپس میں جھگڑے اور اختلاف نہ پھیلاؤ ورنہ ذلیل ہو جاؤ گے بزدلی جم جائے گی ہوا اکھڑ جائے گی۔ قوت اور تیزی جاتی رہے گی اقبال اور ترقی رک جائے گی۔ دیکھو صبر کا دامن نہ چھوڑو اور یقین رکھو کہ صابروں کے ساتھ خود اللہ ہوتا ہے۔‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان احکام میں ایسے پورے اترے کہ ان کی مثال اگلوں میں بھی نہیں پیچھے والوں کا تو ذکر ہی کیا ہے؟ یہی شجاعت یہی اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہی صبر و استقلال تھا جس کے باعث مدد ربانی شامل حال رہی اور بہت ہی کم مدت میں باوجود تعداد اور اسباب کی کمی کے مشرق و مغرب کو فتح کر لیا نہ صرف لوگوں کے ملکوں کے ہی مالک بنے بلکہ ان کے دلوں کو بھی فتح کر کے اللہ کی طرف لگا دیا۔ رومیوں اور فارسیوں کو ترکوں اور صقلیہ کو بربریوں اور حبشیوں کو سوڈانیوں اور قبطیوں کو غرض دنیا کے گوروں کالوں کو مغلوب کر لیا اللہ کے کلمہ کو بلند کیا دین حق کو پھیلایا اور اسلامی حکومت کو دنیا کے کونے کونے میں جما دیا اللہ ان سے خوش رہے اور انہیں بھی خوش رکھے۔ خیال تو کرو کہ تیس سال میں دنیا کا نقشہ بدل دیا تاریخ کا ورق پلٹ دیا۔ اللہ تعالیٰ ہمارا بھی انہی کی جماعت میں حشر کرے وہ کریم و وھاب ہے۔
45۔ 1 اب مسلمانوں کو لڑائی کے وہ آداب بتائے جا رہے ہیں جن کو دشمن کے مقابلے کے وقت ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ سب سے پہلی بات ثبات قدمی اور استقلال ہے، کیونکہ اس کے بغیر میدان جنگ میں ٹھہرنا ممکن ہی نہیں ہے تاہم اس سے تحرف اور تحیز کی وہ دونوں صورتیں مستشنٰی ہوں گی جن کی پہلے وضاحت کی جا چکی ہے۔ کیونکہ بعض دفعہ ثبات قدمی کے لئے بھی تحرف یا تحیز ناگزیر ہوتا ہے۔ دوسری ہدایت یہ ہے یہ کہ اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو۔ تاکہ مسلمان اگر تھوڑے ہوں تو اللہ کی مدد کے طالب رہیں اور اللہ بھی کثرت ذکر کی وجہ سے ان کی طرف متوجہ رہے اور اگر مسلمان تعداد میں زیادہ ہوں تو کثرت کی وجہ سے ان کے اندر عجب اور غرور پیدا نہ ہو، بلکہ اصل توجہ اللہ کی امداد پر ہی رہے۔
(آیت 46،45) {اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا …: ” لَقِيْتُمْ “ ” لِقَاءٌ“} سے ہے، یعنی ملنا اور آمنے سامنے ہونا، اکثر لڑائی کی ملاقات کے لیے استعمال ہوتا ہے، یہاں بھی یہی مراد ہے۔ {” فِئَةً “} جماعت، گروہ۔ یہ{” فَاءَ يَفِيْئُ فَيْئًا “} (لوٹنا) سے مشتق ہے، کیونکہ ایک جماعت کے لوگ مدد کے لیے ایک دوسرے کی طرف لوٹ کر آتے ہیں۔ (راغب) قرآن مجید میں زیادہ تر یہ لفظ لڑنے والی جماعت کے لیے استعمال ہوا ہے، خواہ وہ کفار کی جماعت ہو یا مسلمانوں کی اور خواہ مستقل جماعت ہو یا کمک کے لیے آنے والی، مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۲۴۹ ] ”کتنی ہی تھوڑی جماعتیں زیادہ جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غالب آ گئیں۔“ اور دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۳) اور سورۂ کہف (۴۳) اس آیت میں دشمن سے مقابلے کے وقت لڑائی کے آداب اور دلیری و شجاعت حاصل کرنے کے طریقے سکھائے۔ ان میں سے پہلی چیز ثابت قدمی اور ڈٹے رہنا ہے، کیونکہ اس کے بغیر میدانِ جنگ میں ٹھہرنا ممکن ہی نہیں۔ ثابت قدمی سے مراد انتہائی بے جگری سے لڑنا ہے، لہٰذا یہ آیت «اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰى فِئَةٍ» [ الأنفال: ۱۶ ] کے خلاف نہیں، کیونکہ جنگی چال کے طور پر ایک طرف ہونا یا پیچھے ہٹنا فرار نہیں بلکہ ثابت قدمی ہی کی ایک صورت ہے۔ دوسری چیز اللہ کو کثرت سے یاد کرنا ہے، کیونکہ فتح و نصرت کا انحصار ظاہری اسباب پر نہیں بلکہ دل کی استقامت، اللہ کی یاد اور اس کا حکم بجا لانے پر ہے، اسی لیے طالوت کے ساتھیوں نے دشمن سے مڈ بھیڑ کے وقت یہ دعا کی تھی: «رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ» [ البقرۃ: ۲۵۰ ] ”اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمارے قدم ثابت رکھ اور ان کافر لوگوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بدر اور دوسرے مقامات پر نہایت عجز و زاری سے اللہ کو یاد کیا اور اس سے مدد مانگی۔ مسلمان تھوڑے ہوں تو اللہ کی مدد طلب کریں اور زیادہ ہوں تو بھی اپنی طاقت اور کثرت کے بجائے صرف اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسا رکھیں اور اس کی یاد سے غافل نہ ہوں۔ تیسری ہدایت اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہے جو ہر حال میں لازم ہے، مگر میدان جنگ میں اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، کیونکہ وہاں تھوڑی سی نافرمانی بھی بعض اوقات نا قابل تلافی نقصان کا باعث بن جاتی ہے، جیسا کہ جنگ اُحد میں ہوا۔ اس میں امیر کی اطاعت بھی شامل ہے کہ وہ بھی اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔ چوتھی ہدایت یہ کہ آپس میں جھگڑا اور اختلاف نہ کرو، ورنہ فتح کے بعد شکست نظر آنے لگے گی، جس سے تمھارے دلوں میں بزدلی پیدا ہو جائے گی اور تم ہمت ہار بیٹھو گے اور تمھاری ہوا جاتی رہے گی، یعنی تمھارے درمیان پھوٹ دیکھ کر دشمنوں پر سے رعب اٹھ جائے گا اور وہ تم پر غلبہ پانے کے لیے اپنے اندر جرأت محسوس کرنے لگیں گے۔ پانچویں ہدایت یہ کہ صبر کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، اگر صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹا تو اللہ تعالیٰ کی نصرت و معیت، یعنی خاص مدد اور خصوصی ساتھ بھی حاصل نہیں رہے گا۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۲۰۰)۔ عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگ کے موقع پر انتظار کیا، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا، پھر لوگوں میں کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، فرمایا: ”اے لوگو! دشمن سے مڈ بھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے رہو اور جب دشمن سے مقابلہ ہو جائے تو صبر کرو (ڈٹے رہو) اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔“ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم إذا لم یقاتل أول النھار…: ۲۹۶۵، ۲۹۶۶ ] حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں وہ شجاعت، صبر و ثبات اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی فرماں برداری تھی جو نہ اس سے پہلے کسی کو حاصل ہوئی نہ بعد میں ہو گی، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت اور آپ کی اطاعت سے شرق و غرب کے ممالک کے ساتھ ساتھ دلوں کو بھی فتح کیا اور روم و فارس کے مقابلے میں نہایت تھوڑی تعداد کے باوجود سب پر غالب آئے، یہاں تک کہ اللہ کا بول سب پر بالا ہو گیا اور اس کا دین سب ادیان پر غالب آ گیا اور صرف تیس سال سے بھی کم عرصے میں اسلامی ممالک مشرق سے مغرب تک پھیل گئے، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور انھیں راضی کرے اور ہمارا حشر بھی ان کے ساتھ کرے، وہ بے حد کرم اور عطا والا ہے۔
وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَا تَنَازَعُوۡا فَتَفۡشَلُوۡا وَ تَذۡہَبَ رِیۡحُکُمۡ وَ اصۡبِرُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿ۚ۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اللہ اور اس کے رسُول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی صبر سے کام لو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے رہو، آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر و سہارا رکھو، یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں جھگڑ و نہیں کہ پھر بز د لی کرو گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا جاتی رہے گی اور صبر کرو، بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اور آپس میں جھگڑا نہ کرو۔ ورنہ کمزور پڑ جاؤگے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اور (ہر قسم کی مصیبت و تکلیف میں) صبر سے کام لو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں مت جھگڑو، ورنہ بزدل ہو جائو گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہاد کے وقت کثرت سے اللہ کا ذکر ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو لڑائی کی کامیابی کی تدبیر اور دشمن کے مقابلے کے وقت شجاعت کا سبق سکھا رہا ہے ایک غزوے میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج ڈھلنے کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا: { لوگو دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے رہو لیکن جب دشمنوں سے مقابلہ ہو جائے تو استقلال رکھو اور یقین مانو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے سچی کتاب کے نازل فرمانے والے اے بادلوں کے چلانے والے اور لشکروں کو ہزیمت دینے والے اللہ ان کافروں کو شکست دے اور ان پر ہماری مدد فرما۔ }۱؎ [صحیح بخاری:2818] ‏‏‏‏ عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ { دشمن کے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور مقابلے کے وقت ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ گو وہ چیخیں چلائیں لیکن تم خاموش رہا کرو۔} ۱؎ [عبد الرزاق:9518:ضعیف] ‏‏‏‏ طبرانی میں ہے تین وقت ایسے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کو خاموشی پسند ہے [ ١ ] ‏‏‏‏ تلاوت قرآن کے وقت [ ٢ ] ‏‏‏‏ جہاد کے وقت اور [ ٣ ] ‏‏‏‏ جنازے کے وقت۔۱؎ [طبرانی کبیر:5130:ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں ہے { کامل بندہ وہ ہے جو دشمن کے مقابلے کے وقت میرا ذکر کرتا رہے یعنی اس حال میں بھی میرے ذکر کو مجھ سے دعا کرنے اور فریاد کرنے کو ترک نہ کرے۔} ۱؎ [سنن ترمذي:3580،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں لڑائی کے دوران یعنی جب تلوار چلتی ہو تب بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر فرض رکھا ہے۔ عطا رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ چپ رہنا اور ذکر اللہ کرنا لڑائی کے وقت بھی واجب ہے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ تو جریج نے آپ سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ کی یاد بلند آواز سے کریں؟ آپ نے فرمایا ہاں کعب احبار فرماتے ہیں قرآن کریم کی تلاوت اور ذکر اللہ سے زیادہ محبوب اللہ کے نزدیک اور کوئی چیز نہیں۔

اس میں بھی اولیٰ وہ ہے جس کا حکم لوگوں کو نماز میں کیا گیا ہے اور جہاد میں کیا تم نہیں دیکھتے؟ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بوقت جہاد بھی اپنے ذکر کا حکم فرمایا ہے پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی۔ شاعر کہتا ہے کہ عین جنگ و جدال کے وقت بھی میرے دل میں تیری یاد ہوتی ہے۔ عنترہ کہتا ہے نیزوں اور تلواروں کے شپاشپ چلتے ہوئے بھی میں تجھے یاد کرتا رہتا ہوں۔ پس آیت میں جناب باری نے دشمنوں کے مقابلے کے وقت میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور صبر و استقامت کا حکم دیا کہ ’ نامرد، بزدل اور ڈرپوک نہ بنو اللہ کو یاد کرو اسے نہ بھولو۔ اس سے فریاد کرو اس سے دعائیں کرو اسی پر بھروسہ رکھو اس سے مدد طلب کرو۔ یہی کامیابی کے گر ہیں۔ اس وقت بھی اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو ہاتھ سے نہ جانے دو وہ جو فرمائیں بجا لاؤ جن سے روکیں رک جاؤ آپس میں جھگڑے اور اختلاف نہ پھیلاؤ ورنہ ذلیل ہو جاؤ گے بزدلی جم جائے گی ہوا اکھڑ جائے گی۔ قوت اور تیزی جاتی رہے گی اقبال اور ترقی رک جائے گی۔ دیکھو صبر کا دامن نہ چھوڑو اور یقین رکھو کہ صابروں کے ساتھ خود اللہ ہوتا ہے۔‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان احکام میں ایسے پورے اترے کہ ان کی مثال اگلوں میں بھی نہیں پیچھے والوں کا تو ذکر ہی کیا ہے؟ یہی شجاعت یہی اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہی صبر و استقلال تھا جس کے باعث مدد ربانی شامل حال رہی اور بہت ہی کم مدت میں باوجود تعداد اور اسباب کی کمی کے مشرق و مغرب کو فتح کر لیا نہ صرف لوگوں کے ملکوں کے ہی مالک بنے بلکہ ان کے دلوں کو بھی فتح کر کے اللہ کی طرف لگا دیا۔ رومیوں اور فارسیوں کو ترکوں اور صقلیہ کو بربریوں اور حبشیوں کو سوڈانیوں اور قبطیوں کو غرض دنیا کے گوروں کالوں کو مغلوب کر لیا اللہ کے کلمہ کو بلند کیا دین حق کو پھیلایا اور اسلامی حکومت کو دنیا کے کونے کونے میں جما دیا اللہ ان سے خوش رہے اور انہیں بھی خوش رکھے۔ خیال تو کرو کہ تیس سال میں دنیا کا نقشہ بدل دیا تاریخ کا ورق پلٹ دیا۔ اللہ تعالیٰ ہمارا بھی انہی کی جماعت میں حشر کرے وہ کریم و وھاب ہے۔
46۔ 1 تیسری ہدایت، اللہ اور رسول کی اطاعت، ظاہر بات ہے ان نازک حالات میں اللہ اور رسول کی نافرمانی کتنی سخت خطرناک ہوسکتی ہے۔ اس لئے ایک مسلمان کے لئے ویسے تو ہر حالت میں اللہ اور رسول کی اطاعت ضروری ہے۔ تاہم میدان جنگ میں اس کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے اور اس موقع پر تھوڑی سی بھی نافرمانی اللہ کی مدد سے محرومی کا باعث بن سکتی ہے۔ چوتھی ہدایت کہ آپس میں تنازع اور اختلاف نہ کرو، اس سے تم بزدل ہوجاؤ گے اور ہوا اکھڑ جائے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک حدیث میں فرمایا ' لوگو! دشمن سے مڈ بھیڑ کی آرزو مت کرو اور اللہ سے عافیت مانگا کرو ' تاہم جب کبھی دشمن سے لڑائی کا موقع پیدا ہوجائے تو صبر کرو (یعنی جم کر لڑو) اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایہ تلے ہے۔ (صحیح بخاری)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ ﴿۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُن لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو جو اپنے گھروں سے اِتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان لوگوں جیسے نہ بنو جو اتراتے ہوئے اور لوگوں میں خود نمائی کرتے ہوئے اپنے گھروں سے چلے اور اللہ کی راه سے روکتے تھے، جو کچھ وه کر رہے ہیں اللہ اسے گھیر لینے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان جیسے نہ ہوتا جو اپنے گھر سے نکلے اتراتے اور لوگوں کے دکھانے کو اور اللہ کی راہ سے روکتے اور ان کے سب کام اللہ کے قابو میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان لوگوں کی مانند نہ ہو جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو اپنی شان و شوکت دکھاتے ہوئے نکلے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ خدا کی راہ سے روکتے ہیں اور وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ (اپنے علم و قدرت سے) اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اپنے گھروں سے اکڑتے ہوئے اور لوگوں کو دکھاوا کرتے ہوئے نکلے اور وہ اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور اللہ اس کا جو وہ کر رہے تھے، احاطہ کرنے والا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
میدان بدر میں ابلیس مشرکین کا ہمراہی تھا ٭٭

جہاد میں ثابت قدمی نیک نیتی ذکر اللہ کی کثرت کی نصیحت فرما کر مشرکین کی مشابہت سے روک رہا ہے کہ ’ جیسے وہ حق کو مٹانے اور لوگوں میں اپنی بہادری دھانے کے لیے فخر و غرور کے ساتھ اپنے شہروں سے چلے تم ایسا نہ کرنا۔ ‘ چنانچہ ابوجہل سے جب کہا گیا کہ قافلہ تو بچ گیا اب لوٹ کر واپس چلنا چاہیئے تو اس ملعون نے جواب دیا کہ واہ کس کا لوٹنا بدر کے پانی پر جا کر پڑاؤ کریں گے۔ وہاں شرابیں اڑائیں گے کباب کھائیں گے گانا سنیں گے تاکہ لوگوں میں شہرت ہو جائے۔ اللہ کی شان کے قربان جائیے ان کے ارمان قدرت نے پلٹ دیئے یہیں ان کی لاشیں گریں اور یہیں کے گڑھوں میں ذلت کے ساتھ ٹھونس دیئے گئے۔ اللہ ان کے اعمال کا احاطہٰ کرنے والا ہے ان کے ارادے اس پر کھلے ہیں اسی لیے انہیں برے وقت سے پالا پڑا۔ پس یہ مشرکین کا ذکر ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے سرتاج سے بدر میں لڑنے چلے تھے ان کے ساتھ گانے والیاں بھی تھیں باجے گاجے بھی تھے۔ شیطان لعین ان کا پشت پناہ بنا ہوا تھا انہیں پھسلا رہا تھا۔ ان کے کام کو خوبصورت بھلا دکھا رہا تھا ان کے کانوں میں پھونک رہا تھا کہ بھلا تمہیں کون ہرا سکتا ہے؟ ان کے دل سے بنوبکر کا مکہ پر چڑھائی کرنے کا خوف نکال رہا تھا اور سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں ان کے سامنے کھڑا ہو کر کہہ رہا تھا کہ میں تو اس علاقے کا سردار ہوں بنو مدلج سب میرے تابع ہیں میں تمہارا حمایتی ہوں بیفکر رہو۔ «يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء: 120 ] ‏‏‏‏ ’ شیطان کا کام بھی یہی ہے کہ جھوٹے وعدے، نہ پورا ہونے والی امیدوں کے سبز باغ دکھائے اور دھوکے کے جال میں پھنسائے۔‘ بدر والے دن یہ اپنے جھنڈے اور لشکر کو ساتھ لے کر مشرکوں کی حمایت میں نکلا ان کے دلوں میں ڈالتا رہا کہ بس تم بازی لے گئے میں تمہارا مددگار ہوں۔

لیکن جب مسلمانوں سے مقابلہ شروع ہوا اور اس خبیث کی نظریں فرشتوں پر پڑیں تو پچھلے پیروں بھاگا اور کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جس سے تمہاری آنکھیں اندھی ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں بدر والے دن ابلیس اپنا جھنڈا بلند کئے مدلجی شخص کی صورت میں اپنے لشکر سمیت پہنچا اور شیطان سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں نمودار ہوا اور مشرکین کے دل بڑھائے ہمت دلائی جب میدان جنگ میں صف بندی ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کی مٹھی بھر کر مشرکوں کے منہ پر ماری اس سے ان کے قدم اکھڑ گئے اور ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ جبرائیل علیہ السلام شیطان کی طرف چلے اس وقت یہ ایک مشرک کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے تھا آپ کو دیکھتے ہی اس کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑا کر اپنے لشکروں سمیت بھاگ کھڑا ہوا اس شخص نے کہا سراقہ تم تو کہہ رہے تھے کہ تم ہمارے حمایتی ہو پھر یہ کیا کر رہے ہو؟ یہ ملعون چونکہ فرشتوں کو دیکھ رہا تھا کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں تو اللہ سے ڈرنے والا آدمی ہوں اللہ کے عذاب بڑے بھاری ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16198:منقطع] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ اسے پیٹھ پھیرتا دیکھ کر حارث بن ہشام نے پکڑ لیا۔ اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا جس سے یہ بیہوش ہو کر گر پڑا دوسرے لوگوں نے کہا سراقہ تو اس حال میں ہمیں ذلیل کرتا ہے؟ اور ایسے وقت ہمیں دھوکہ دیتا ہے وہ کہنے لگا ہاں ہاں میں تم سے بری الذمہ اور بے تعلق ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جنہیں تم نہیں دیکھ رہے۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھوڑی سی دیر کے لیے ایک طرح کی بیخودی سی طاری ہو گئی پھر ہوشیار ہو کر فرمانے لگے { صحابیو خوش ہو جاؤ یہ ہیں تمہاری دائیں جانب جبرائیل علیہ السلام اور یہ ہیں تمہاری بائیں طرف میکائیل علیہ السلام اور یہ ہیں اسرافیل علیہ السلام تینوں مع اپنی اپنی فوجوں کے آ موجود ہوئے ہیں۔ } ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی صورت میں مشرکوں میں تھا ان کے دل بڑھا رہا تھا اور ان میں پشین گوئیاں کر رہا تھا کہ بے فکر رہو آج تمہیں کوئی ہرا نہیں سکتا۔ لیکن فرشتوں کے لشکر کو دیکھتے ہی اس نے تو منہ موڑا اور یہ کہتا ہوا بھاگا کہ میں تم سے بری ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جو تمہاری نگاہ میں نہیں آتے۔ حارث بن ہشام چونکہ اسے سراقہ ہی سمجھے ہوئے تھا اس لیے اس نے اس کا ہاتھ تھام لیا اس نے اس کے سینے میں اس زور سے گھونسہ مارا کہ یہ منہ کے بل گر پڑا اور شیطان بھاگ گیا سمندر میں کود پڑا اور اپنا کپڑا اونچا کر کے کہنے لگایا اللہ میں تجھے تیرا وہ وعدہ یاد دلاتا ہوں جو تو نے مجھ سے کیا ہے۔ طبرانی میں رفاعہ بن رافع سے بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏‏‏‏ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب قریشیوں نے مکے سے نکلنے کا ارادہ کیا تو انہیں بنی بکر کی جنگ یاد آ گئی اور خیال کیا کہ ایسا نہ ہو ہماری عدم موجودگی میں یہاں چڑھائی کر دیں قریب تھا کہ وہ اپنے ارادے سے دست بردار ہو جائیں اسی وقت ابلیس لعین سراقہ کی صورت میں ان کے پاس آیا جو بنو کنانہ کے سرداروں میں سے تھا کہنے لگا اپنی قوم کا میں ذمہ دار ہوں تم ان کا بے خطر ساتھ دو اور مسلمانوں کے مقابلے کے لیے مکمل تیار ہو کر جاؤ۔

خود بھی ان کے ساتھ چلا ہر منزل میں یہ اسے دیکھتے تھے سب کو یقین تھا کہ سراقہ خود ہمارے ساتھ ہے یہاں تک کہ لڑائی شروع ہو گئی اس وقت یہ مردود دم دبا کر بھاگا۔ حارث بن ہشام یا عمیر بن وہب نے اسے جاتے دیکھ لیا اس نے شور مچا دیا کہ سراقہ کہاں بھاگا جا رہا ہے؟ شیطان انہیں موت اور دوزخ کے منہ میں دھکیل کر خود فرار ہو گیا۔ کیونکہ اس نے اللہ کے لشکروں کو مسلمانوں کی امداد کے لیے آتے ہوئے دیکھ لیا تھا صاف کہدیا کہ میں تم سے بری ہوں میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اس بات میں وہ سچا بھی تھا۔ پھر کہتا ہے میں اللہ کے خوف سے ڈرتا ہوں۔ اللہ کے عذاب سخت اور بھاری ہیں۔ اس نے جبرائیل علیہ السلام کو فرشتوں کے ساتھ اترتے دیکھ لیا تھا سمجھ گیا تھا کہ ان کے مقابلے کی مجھ میں یا مشرکوں میں طاقت نہیں وہ اپنے اس قول میں تو جھوٹا تھا کہ میں خوف الٰہی کرتا ہوں یہ تو صرف اس کی زبانی بات تھی دراصل وہ اپنے میں طاقت ہی نہیں پاتا تھا۔ یہی اس دشمن رب کی عادت ہے کہ بھڑکاتا اور بہکاتا ہے حق کے مقابلے میں لاکھڑا کر دیتا ہے پھر روپوش ہو جاتا ہے۔ قران فرماتا ہے «كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [ 59-الحشر: 16 ] ‏‏‏‏ ’ شیطان انسان کو کفر کا حکم دیتا ہے پھر جب وہ کفر کر چکتا ہے تو یہ کہنے لگتا ہے کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم ۖ مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 14-إبراهيم: 22 ] ‏‏‏‏ ’ جب حق واضح جاتا ہے تو یہ کہتا ہے اللہ کے وعدے سچے ہیں میں خود جھوٹا میرے وعدے بھی سراسر جھوٹے میرا تم پر کوئی زور دعویٰ تو تھا ہی نہیں تم نے تو آپ میری آرزو پر گردن جھکا دی اب مھے سرزنش نہ کرو خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمہیں بچا سکوں گا نہ تم میرے کام آسکو گے۔ اس سے پہلے جو تم مجھے شریک رب بنا رہے تھے میں تو آج اس کا بھی انکاری ہوں۔ یقین مانو کہ ظالموں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔‘

سیدنا ابواسید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر میری آنکھیں آج بھی ہوتیں تو میں تمہیں بدر کے میدان میں وہ گھاٹی دکھا دیتا جہاں سے فرشتے آتے تھے بیشک و شبہ مجھے وہ معلوم ہے۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:52/3:ضعیف] ‏‏‏‏ انہیں ابلیس نے دیکھ لیا اور اللہ نے انہیں حکم دیا کہ مومنوں کو ثابت قدم رکھو یہ لوگوں کے پاس ان کے جان پہچان کے آدمیوں کی شکل میں آتے اور کہتے خوش ہو جاؤ یہ کافر بھی کوئی چیز ہیں اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے بے خوفی کے ساتھ شیر کا سا حملہ کر دو۔ ابلیس یہ دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا اب تک وہ سراقہ کی شکل میں کفار میں موجود تھا۔ ابوجہل نے یہ حال دیکھ کر اپنے لشکروں میں گشت شروع کیا کہہ رہا تھا کہ گھبراؤ نہیں اس کے بھاگ کھڑے ہونے سے دل تنگ نہ ہو جاؤ، وہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سیکھا پڑھا آیا تھا کہ تمیں عین موقعہ پر بزدل کر دے کوئی گھبرانے کی بات نہیں لات و عزیٰ کی قسم! آج ان مسلمانوں کو ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمیت گرفتار کر لیں گے نامردی نہ کرو دل بڑھاؤ اور سخت حملہ کرو۔ دیکھو خبردار انہیں قتل نہ کرنا زندہ پکڑنا تاکہ انہیں دل کھول کر سزا دیں۔ یہ بھی اپنے زمانے کا فرعون ہی تھا اس نے بھی جادوگروں کے ایمان لانے کو کہا تھا کہ «إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا» ۱؎ [ 7-الاعراف: 123 ] ‏‏‏‏ ’ یہ تو صرف تمہارا ایک مکر ہے کہ یہاں سے تم ہمیں نکال دو۔‘ اس نے بھی کہا تھا کہ «إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ» ۱؎ [ 20-طہٰ: 71 ] ‏‏‏‏ ’ جادوگرو یہ موسیٰ تمہارا استاد ہے حالانکہ یہ محض اس کا فریب تھا۔‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { عرفے کے دن جس قدر ابلیس حقیر و ذلیل رسوا اور درماندہ ہوتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عام معافی اور عام رحمت اتری ہے ہر ایک کے گناہ عموماً معاف ہو جاتے ہیں ہاں بدر کے دن اس کی ذلت و رسوائی کا کچھ مت پوچھو جب اس نے دیکھا کہ فرشتوں کی فوجیں جبرائیل کی ماتحتی میں آ رہی ہیں۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16204:ضعیف] ‏‏‏‏

جب دونوں فوجیں صف بندی کر کے آمنے سامنے آ گئیں تو اللہ کی قدرت و حکمت سے مسلمان کافروں کو بہت کم نظر آنے لگے اور کافر مسلمانوں کی نگاہ میں کم جچنے لگے۔ اس پر کافروں نے قہقہہ لگایا کہ دیکھو مسلمان کیسے مذہبی دیوانے ہیں؟ مٹھی بھر آدمی ہم ایک ہزار کے لشکر سے ٹکرا رہے ہیں ابھی کوئی دم میں ان کا چورا ہو جائے گا پہلے ہی حملے میں وہ چوٹ کھائیں گے کہ سر ہلاتے رہ جائیں۔ رب العالمین فرماتا ہے ’ انہیں نہیں معلوم کہ یہ متوکلین کا گروہ ہے ان کا بھروسہ اس پر ہے جو غلبہ کا مالک ہے، حکمت کا مالک ہے اللہ کے دین کی سختی مسلمانوں میں محسوس کر کے ان کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ انہیں ذہبی دیوانگی ہے۔‘ دشمن الٰہی ابوجہل ملعون ٹیلے کے اوپر سے جھانک کر اللہ والوں کی کمی اور بےسروسامانی دیکھ کر گدھے کی طرح پھول گیا اور کہنے لگا لو پالا مار لیا ہے، بس آج سے اللہ کی عبادت کرنے والوں سے زمین خالی نظر آئے گی، ابھی ہم ان میں سے ایک ایک کے دو دو کر کے رکھ دیں گے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دین میں طعنہ دینے والے مکہ کے منافق تھے۔ عامر کہتے ہیں یہ چند لوگ تھے جو زبانی مسلمان ہوئے تھے لیکن آج بدر کے میدان میں مشرکوں کے ساتھ تھے۔ انہیں مسلمانوں کی کمی اور کمزوری دیکھ کر تعجب معلوم ہوا اور کہا کہ یہ لوگ تو مذہبی فریب خوردہ ہیں۔

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ قریش کی ایک جماعت تھی قیس بن ولید بن مغیرہ، ابوقیس بن فاکہ بن مغیرہ، حارث بن زمعہ بن اسود بن عبدالمطلب اور علی بن امیہ بن خلف اور عاص بن منبہ بن حجاج یہ قریش کے ساتھ تھے لیکن یہ متردد تھے اور اسی میں رکے ہوئے تھے یہاں مسلمانوں کی حالت دیکھ کر کہنے لگے یہ لوگ تو صرف مذہبی مجنوں ہیں ورنہ مٹھی بھر بے رسد اور بے ہتھیار آدمی اتنی ٹڈی دل شوکت و شان والی فوجوں کے سامنے کیوں کھڑے ہو جاتے؟ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بدر کی لڑائی میں نہیں آئے تھے ان کا نام منافق رکھ دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ یہ قوم اسلام کا اقرار کرتی تھی لیکن مشرکوں کی رو میں بہہ کر یہاں چلی آئی یہاں آ کر مسلمانوں کا قلیل سا لشکر دیکھ کر انہوں نے یہ کہا۔ جناب باری جل شانہ ارشاد فرماتا ہے کہ ’ جو اس مالک الملک پر بھروسہ کرے اسے وہ ذی عزت کر دیتا ہے کیونکہ عزت اس کی لونڈی ہے، غلبہ اس کا غلام ہے وہ بلند جناب ہے وہ بڑا ذی شان ہے وہ سچا سلطان ہے۔ وہ حکیم ہے اس کے سب کام الحکمت سے ہوتے ہیں وہ ہرچیز کو اس کی ٹھیک جگہ رکھتا ہے۔ مستحقین امداد کی وہ مدد فرماتا ہے اور مستحقین ذلت کو وہ ذلیل کرتا ہے وہ سب کو خوب جانتا ہے۔‘
47۔ 1 مشرکین مکہ، جب اپنے قافلے کی حفاظت اور لڑائی کی نیت سے نکلے، تو بڑے اتراتے اور فخرو غرور کرتے ہوئے نکلے، مسلمانوں کو اس کافرانہ شیوے سے روکا گیا ہے۔
(آیت 47) {وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ …:} مسلمانوں کو لڑائی میں ثابت قدمی اور ذکر الٰہی کی کثرت کا حکم دینے کے بعد اب کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابن کثیر) ان سے مراد ہیں ابو جہل اور اس کے ساتھی، جو تین مقصد لے کر نکلے تھے، {” بَطَرًا “} اپنی اکڑ اور بڑائی ثابت کرنے کے لیے، {” رِئَآءَ النَّاسِ “} لوگوں کو اپنی شان و شوکت اور شجاعت دکھانے کے لیے اور {” يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ “} اللہ کے راستے، یعنی اسلام سے لوگوں کو روکنے کے لیے، جبکہ مومن صرف اور صرف اللہ کا دین غالب کرنے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے نکلتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شان و شوکت کا اظہار، فخریہ اشعار اور شراب نوشی کی محفلوں کے بجائے انھیں موت کے پیالے پی کر، ذلت و رسوائی اور دردناک مصیبتوں کے ساتھ واپس لوٹنا پڑا۔ یہ لوگ گویا اپنے رب کے ساتھ مقابلے کے لیے نکلے تھے اور اس قادر و قہار کے احاطے سے تو ان کا کوئی چھوٹا بڑا عمل باہر نہ تھا، اس کے آگے ان کی کیا پیش جا سکتی تھی۔ خندق کے موقع پر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کیا خوب کہا تھا: {جَائَتْ سَخِيْنَةُ كَيْ تُغَالِبَ رَبَّهَا وَلَيُغْلَبَنَّ مُغَالِبُ الْغَلاَّبِ} ” سخینہ یعنی قریش اپنے رب سے مقابلے کے لیے آئے اور اس زبردست غالب کا مقابلہ کرنے والا یقینا ہر صورت مغلوب ہو گا۔“
وَ اِذۡ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَکُمُ الۡیَوۡمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیۡ جَارٌ لَّکُمۡ ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الۡفِئَتٰنِ نَکَصَ عَلٰی عَقِبَیۡہِ وَ قَالَ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّنۡکُمۡ اِنِّیۡۤ اَرٰی مَا لَا تَرَوۡنَ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللّٰہَ ؕ وَ اللّٰہُ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿٪۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ذرا خیال کرو اس وقت کا جب کہ شیطان نے ان لوگوں کے کرتوت ان کی نگاہوں میں خوشنما بنا کر دکھائے تھے اور ان سے کہا تھا کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور یہ کہ میں تمہارے ساتھ ہوں مگر جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو وہ اُلٹے پاؤں پھر گیا اور کہنے لگا کہ میرا تمہارا ساتھ نہیں ہے، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم لوگ نہیں دیکھتے، مجھے خدا سے ڈر لگتا ہے اور خدا بڑی سخت سزا دینے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جبکہ ان کے اعمال کو شیطان انہیں زینت دار دکھا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ لوگوں میں سے کوئی بھی آج تم پر غالب نہیں آسکتا، میں خود بھی تمہارا حمایتی ہوں لیکن جب دونوں جماعتیں نمودار ہوئیں تو اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ گیا اور کہنے لگا میں تم سے بری ہوں۔ میں وه دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جبکہ شیطان نے ان کی نگاہ میں ان کے کام بھلے کر دکھائے اور بولا آج تم پر کوئی شخص غالب آنے والا نہیں اور تم میری پناہ میں ہو تو جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے الٹے پاؤں بھاگا اور بولا میں تم سے الگ ہوں میں وہ دیکھتا ہوں جو تمہیں نظر نہیں آتا میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ کا عذاب سخت ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وقت یاد کرو جب شیطان نے ان کے اعمال ان کے لئے آراستہ کر دیئے (انہیں خوشنما کرکے دکھایا) اور کہا آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر غالب آنے والا نہیں ہے۔ اور میں تمہارا حامی ہوں۔ پھر جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو وہ الٹے پاؤں واپس ہوا اور کہا میں تم سے بری الذمہ ہوں۔ میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ اور اللہ بڑی سخت سزا دینے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال خوش نما بنا دیے اور کہا آج تم پر لوگوں میں سے کوئی غالب آنے والا نہیں اور یقینا میں تمھارا حمایتی ہوں، پھر جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو وہ اپنی ایڑیوں پر واپس پلٹا اور اس نے کہا بے شک میں تم سے بری ہوں، بے شک میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے، بے شک میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ بہت سخت عذاب والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
میدان بدر میں ابلیس مشرکین کا ہمراہی تھا ٭٭

جہاد میں ثابت قدمی نیک نیتی ذکر اللہ کی کثرت کی نصیحت فرما کر مشرکین کی مشابہت سے روک رہا ہے کہ ’ جیسے وہ حق کو مٹانے اور لوگوں میں اپنی بہادری دھانے کے لیے فخر و غرور کے ساتھ اپنے شہروں سے چلے تم ایسا نہ کرنا۔ ‘ چنانچہ ابوجہل سے جب کہا گیا کہ قافلہ تو بچ گیا اب لوٹ کر واپس چلنا چاہیئے تو اس ملعون نے جواب دیا کہ واہ کس کا لوٹنا بدر کے پانی پر جا کر پڑاؤ کریں گے۔ وہاں شرابیں اڑائیں گے کباب کھائیں گے گانا سنیں گے تاکہ لوگوں میں شہرت ہو جائے۔ اللہ کی شان کے قربان جائیے ان کے ارمان قدرت نے پلٹ دیئے یہیں ان کی لاشیں گریں اور یہیں کے گڑھوں میں ذلت کے ساتھ ٹھونس دیئے گئے۔ اللہ ان کے اعمال کا احاطہٰ کرنے والا ہے ان کے ارادے اس پر کھلے ہیں اسی لیے انہیں برے وقت سے پالا پڑا۔ پس یہ مشرکین کا ذکر ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے سرتاج سے بدر میں لڑنے چلے تھے ان کے ساتھ گانے والیاں بھی تھیں باجے گاجے بھی تھے۔ شیطان لعین ان کا پشت پناہ بنا ہوا تھا انہیں پھسلا رہا تھا۔ ان کے کام کو خوبصورت بھلا دکھا رہا تھا ان کے کانوں میں پھونک رہا تھا کہ بھلا تمہیں کون ہرا سکتا ہے؟ ان کے دل سے بنوبکر کا مکہ پر چڑھائی کرنے کا خوف نکال رہا تھا اور سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں ان کے سامنے کھڑا ہو کر کہہ رہا تھا کہ میں تو اس علاقے کا سردار ہوں بنو مدلج سب میرے تابع ہیں میں تمہارا حمایتی ہوں بیفکر رہو۔ «يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء: 120 ] ‏‏‏‏ ’ شیطان کا کام بھی یہی ہے کہ جھوٹے وعدے، نہ پورا ہونے والی امیدوں کے سبز باغ دکھائے اور دھوکے کے جال میں پھنسائے۔‘ بدر والے دن یہ اپنے جھنڈے اور لشکر کو ساتھ لے کر مشرکوں کی حمایت میں نکلا ان کے دلوں میں ڈالتا رہا کہ بس تم بازی لے گئے میں تمہارا مددگار ہوں۔

لیکن جب مسلمانوں سے مقابلہ شروع ہوا اور اس خبیث کی نظریں فرشتوں پر پڑیں تو پچھلے پیروں بھاگا اور کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جس سے تمہاری آنکھیں اندھی ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں بدر والے دن ابلیس اپنا جھنڈا بلند کئے مدلجی شخص کی صورت میں اپنے لشکر سمیت پہنچا اور شیطان سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں نمودار ہوا اور مشرکین کے دل بڑھائے ہمت دلائی جب میدان جنگ میں صف بندی ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کی مٹھی بھر کر مشرکوں کے منہ پر ماری اس سے ان کے قدم اکھڑ گئے اور ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ جبرائیل علیہ السلام شیطان کی طرف چلے اس وقت یہ ایک مشرک کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے تھا آپ کو دیکھتے ہی اس کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑا کر اپنے لشکروں سمیت بھاگ کھڑا ہوا اس شخص نے کہا سراقہ تم تو کہہ رہے تھے کہ تم ہمارے حمایتی ہو پھر یہ کیا کر رہے ہو؟ یہ ملعون چونکہ فرشتوں کو دیکھ رہا تھا کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں تو اللہ سے ڈرنے والا آدمی ہوں اللہ کے عذاب بڑے بھاری ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16198:منقطع] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ اسے پیٹھ پھیرتا دیکھ کر حارث بن ہشام نے پکڑ لیا۔ اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا جس سے یہ بیہوش ہو کر گر پڑا دوسرے لوگوں نے کہا سراقہ تو اس حال میں ہمیں ذلیل کرتا ہے؟ اور ایسے وقت ہمیں دھوکہ دیتا ہے وہ کہنے لگا ہاں ہاں میں تم سے بری الذمہ اور بے تعلق ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جنہیں تم نہیں دیکھ رہے۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھوڑی سی دیر کے لیے ایک طرح کی بیخودی سی طاری ہو گئی پھر ہوشیار ہو کر فرمانے لگے { صحابیو خوش ہو جاؤ یہ ہیں تمہاری دائیں جانب جبرائیل علیہ السلام اور یہ ہیں تمہاری بائیں طرف میکائیل علیہ السلام اور یہ ہیں اسرافیل علیہ السلام تینوں مع اپنی اپنی فوجوں کے آ موجود ہوئے ہیں۔ } ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی صورت میں مشرکوں میں تھا ان کے دل بڑھا رہا تھا اور ان میں پشین گوئیاں کر رہا تھا کہ بے فکر رہو آج تمہیں کوئی ہرا نہیں سکتا۔ لیکن فرشتوں کے لشکر کو دیکھتے ہی اس نے تو منہ موڑا اور یہ کہتا ہوا بھاگا کہ میں تم سے بری ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جو تمہاری نگاہ میں نہیں آتے۔ حارث بن ہشام چونکہ اسے سراقہ ہی سمجھے ہوئے تھا اس لیے اس نے اس کا ہاتھ تھام لیا اس نے اس کے سینے میں اس زور سے گھونسہ مارا کہ یہ منہ کے بل گر پڑا اور شیطان بھاگ گیا سمندر میں کود پڑا اور اپنا کپڑا اونچا کر کے کہنے لگایا اللہ میں تجھے تیرا وہ وعدہ یاد دلاتا ہوں جو تو نے مجھ سے کیا ہے۔ طبرانی میں رفاعہ بن رافع سے بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏‏‏‏ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب قریشیوں نے مکے سے نکلنے کا ارادہ کیا تو انہیں بنی بکر کی جنگ یاد آ گئی اور خیال کیا کہ ایسا نہ ہو ہماری عدم موجودگی میں یہاں چڑھائی کر دیں قریب تھا کہ وہ اپنے ارادے سے دست بردار ہو جائیں اسی وقت ابلیس لعین سراقہ کی صورت میں ان کے پاس آیا جو بنو کنانہ کے سرداروں میں سے تھا کہنے لگا اپنی قوم کا میں ذمہ دار ہوں تم ان کا بے خطر ساتھ دو اور مسلمانوں کے مقابلے کے لیے مکمل تیار ہو کر جاؤ۔

خود بھی ان کے ساتھ چلا ہر منزل میں یہ اسے دیکھتے تھے سب کو یقین تھا کہ سراقہ خود ہمارے ساتھ ہے یہاں تک کہ لڑائی شروع ہو گئی اس وقت یہ مردود دم دبا کر بھاگا۔ حارث بن ہشام یا عمیر بن وہب نے اسے جاتے دیکھ لیا اس نے شور مچا دیا کہ سراقہ کہاں بھاگا جا رہا ہے؟ شیطان انہیں موت اور دوزخ کے منہ میں دھکیل کر خود فرار ہو گیا۔ کیونکہ اس نے اللہ کے لشکروں کو مسلمانوں کی امداد کے لیے آتے ہوئے دیکھ لیا تھا صاف کہدیا کہ میں تم سے بری ہوں میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اس بات میں وہ سچا بھی تھا۔ پھر کہتا ہے میں اللہ کے خوف سے ڈرتا ہوں۔ اللہ کے عذاب سخت اور بھاری ہیں۔ اس نے جبرائیل علیہ السلام کو فرشتوں کے ساتھ اترتے دیکھ لیا تھا سمجھ گیا تھا کہ ان کے مقابلے کی مجھ میں یا مشرکوں میں طاقت نہیں وہ اپنے اس قول میں تو جھوٹا تھا کہ میں خوف الٰہی کرتا ہوں یہ تو صرف اس کی زبانی بات تھی دراصل وہ اپنے میں طاقت ہی نہیں پاتا تھا۔ یہی اس دشمن رب کی عادت ہے کہ بھڑکاتا اور بہکاتا ہے حق کے مقابلے میں لاکھڑا کر دیتا ہے پھر روپوش ہو جاتا ہے۔ قران فرماتا ہے «كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [ 59-الحشر: 16 ] ‏‏‏‏ ’ شیطان انسان کو کفر کا حکم دیتا ہے پھر جب وہ کفر کر چکتا ہے تو یہ کہنے لگتا ہے کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم ۖ مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 14-إبراهيم: 22 ] ‏‏‏‏ ’ جب حق واضح جاتا ہے تو یہ کہتا ہے اللہ کے وعدے سچے ہیں میں خود جھوٹا میرے وعدے بھی سراسر جھوٹے میرا تم پر کوئی زور دعویٰ تو تھا ہی نہیں تم نے تو آپ میری آرزو پر گردن جھکا دی اب مھے سرزنش نہ کرو خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمہیں بچا سکوں گا نہ تم میرے کام آسکو گے۔ اس سے پہلے جو تم مجھے شریک رب بنا رہے تھے میں تو آج اس کا بھی انکاری ہوں۔ یقین مانو کہ ظالموں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔‘

سیدنا ابواسید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر میری آنکھیں آج بھی ہوتیں تو میں تمہیں بدر کے میدان میں وہ گھاٹی دکھا دیتا جہاں سے فرشتے آتے تھے بیشک و شبہ مجھے وہ معلوم ہے۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:52/3:ضعیف] ‏‏‏‏ انہیں ابلیس نے دیکھ لیا اور اللہ نے انہیں حکم دیا کہ مومنوں کو ثابت قدم رکھو یہ لوگوں کے پاس ان کے جان پہچان کے آدمیوں کی شکل میں آتے اور کہتے خوش ہو جاؤ یہ کافر بھی کوئی چیز ہیں اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے بے خوفی کے ساتھ شیر کا سا حملہ کر دو۔ ابلیس یہ دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا اب تک وہ سراقہ کی شکل میں کفار میں موجود تھا۔ ابوجہل نے یہ حال دیکھ کر اپنے لشکروں میں گشت شروع کیا کہہ رہا تھا کہ گھبراؤ نہیں اس کے بھاگ کھڑے ہونے سے دل تنگ نہ ہو جاؤ، وہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سیکھا پڑھا آیا تھا کہ تمیں عین موقعہ پر بزدل کر دے کوئی گھبرانے کی بات نہیں لات و عزیٰ کی قسم! آج ان مسلمانوں کو ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمیت گرفتار کر لیں گے نامردی نہ کرو دل بڑھاؤ اور سخت حملہ کرو۔ دیکھو خبردار انہیں قتل نہ کرنا زندہ پکڑنا تاکہ انہیں دل کھول کر سزا دیں۔ یہ بھی اپنے زمانے کا فرعون ہی تھا اس نے بھی جادوگروں کے ایمان لانے کو کہا تھا کہ «إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا» ۱؎ [ 7-الاعراف: 123 ] ‏‏‏‏ ’ یہ تو صرف تمہارا ایک مکر ہے کہ یہاں سے تم ہمیں نکال دو۔‘ اس نے بھی کہا تھا کہ «إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ» ۱؎ [ 20-طہٰ: 71 ] ‏‏‏‏ ’ جادوگرو یہ موسیٰ تمہارا استاد ہے حالانکہ یہ محض اس کا فریب تھا۔‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { عرفے کے دن جس قدر ابلیس حقیر و ذلیل رسوا اور درماندہ ہوتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عام معافی اور عام رحمت اتری ہے ہر ایک کے گناہ عموماً معاف ہو جاتے ہیں ہاں بدر کے دن اس کی ذلت و رسوائی کا کچھ مت پوچھو جب اس نے دیکھا کہ فرشتوں کی فوجیں جبرائیل کی ماتحتی میں آ رہی ہیں۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16204:ضعیف] ‏‏‏‏

جب دونوں فوجیں صف بندی کر کے آمنے سامنے آ گئیں تو اللہ کی قدرت و حکمت سے مسلمان کافروں کو بہت کم نظر آنے لگے اور کافر مسلمانوں کی نگاہ میں کم جچنے لگے۔ اس پر کافروں نے قہقہہ لگایا کہ دیکھو مسلمان کیسے مذہبی دیوانے ہیں؟ مٹھی بھر آدمی ہم ایک ہزار کے لشکر سے ٹکرا رہے ہیں ابھی کوئی دم میں ان کا چورا ہو جائے گا پہلے ہی حملے میں وہ چوٹ کھائیں گے کہ سر ہلاتے رہ جائیں۔ رب العالمین فرماتا ہے ’ انہیں نہیں معلوم کہ یہ متوکلین کا گروہ ہے ان کا بھروسہ اس پر ہے جو غلبہ کا مالک ہے، حکمت کا مالک ہے اللہ کے دین کی سختی مسلمانوں میں محسوس کر کے ان کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ انہیں ذہبی دیوانگی ہے۔‘ دشمن الٰہی ابوجہل ملعون ٹیلے کے اوپر سے جھانک کر اللہ والوں کی کمی اور بےسروسامانی دیکھ کر گدھے کی طرح پھول گیا اور کہنے لگا لو پالا مار لیا ہے، بس آج سے اللہ کی عبادت کرنے والوں سے زمین خالی نظر آئے گی، ابھی ہم ان میں سے ایک ایک کے دو دو کر کے رکھ دیں گے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دین میں طعنہ دینے والے مکہ کے منافق تھے۔ عامر کہتے ہیں یہ چند لوگ تھے جو زبانی مسلمان ہوئے تھے لیکن آج بدر کے میدان میں مشرکوں کے ساتھ تھے۔ انہیں مسلمانوں کی کمی اور کمزوری دیکھ کر تعجب معلوم ہوا اور کہا کہ یہ لوگ تو مذہبی فریب خوردہ ہیں۔

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ قریش کی ایک جماعت تھی قیس بن ولید بن مغیرہ، ابوقیس بن فاکہ بن مغیرہ، حارث بن زمعہ بن اسود بن عبدالمطلب اور علی بن امیہ بن خلف اور عاص بن منبہ بن حجاج یہ قریش کے ساتھ تھے لیکن یہ متردد تھے اور اسی میں رکے ہوئے تھے یہاں مسلمانوں کی حالت دیکھ کر کہنے لگے یہ لوگ تو صرف مذہبی مجنوں ہیں ورنہ مٹھی بھر بے رسد اور بے ہتھیار آدمی اتنی ٹڈی دل شوکت و شان والی فوجوں کے سامنے کیوں کھڑے ہو جاتے؟ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بدر کی لڑائی میں نہیں آئے تھے ان کا نام منافق رکھ دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ یہ قوم اسلام کا اقرار کرتی تھی لیکن مشرکوں کی رو میں بہہ کر یہاں چلی آئی یہاں آ کر مسلمانوں کا قلیل سا لشکر دیکھ کر انہوں نے یہ کہا۔ جناب باری جل شانہ ارشاد فرماتا ہے کہ ’ جو اس مالک الملک پر بھروسہ کرے اسے وہ ذی عزت کر دیتا ہے کیونکہ عزت اس کی لونڈی ہے، غلبہ اس کا غلام ہے وہ بلند جناب ہے وہ بڑا ذی شان ہے وہ سچا سلطان ہے۔ وہ حکیم ہے اس کے سب کام الحکمت سے ہوتے ہیں وہ ہرچیز کو اس کی ٹھیک جگہ رکھتا ہے۔ مستحقین امداد کی وہ مدد فرماتا ہے اور مستحقین ذلت کو وہ ذلیل کرتا ہے وہ سب کو خوب جانتا ہے۔‘
48۔ 1 مشرکین جب مکہ سے روانہ ہوئے تو انہیں اپنے حریف قبیلے بنی بکر بن کنانہ سے اندیشہ تھا کہ وہ پیچھے سے انہیں نقصان نہ پہنچائے چناچہ شیطان سراقہ بن مالک کی صورت بنا کر آیا، جو بنی بکر بن کنانہ کے ایک سردار تھے، اور انہیں نہ صرف فتح و غلبہ کی بشارت دی بلکہ اپنی حمایت کا بھی پورا یقین دلایا۔ لیکن جب ملائکہ کی صورت میں امداد الٰہی اسے نظر آئی تو ایڑیوں کے بل بھاگ کھڑا ہوا۔ 48۔ 2 اللہ کا خوف تو اس کے دل میں کیا ہونا تھا؟ تاہم اسے یقین ہوگیا تھا کہ مسلمانوں کو اللہ کی خاص مدد حاصل ہے مشرکین ان کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکیں گے۔ 48۔ 3 ممکن ہے یہ شیطان کے کلام کا حصہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے جملہ مستانفہ ہو۔
(آیت 48) ➊ {وَ اِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ …: ” جَارٌ “} کا معنی یہاں مجیر، معین، ناصر یعنی حمایتی و مدد گار ہے۔ {”نَكَصَ “} الٹے پاؤں پیچھے ہٹا۔ شیطان کے ان کے لیے ان کے اعمال کو مزین کرنے، انھیں ان کے غالب ہونے اور اپنی حمایت کا یقین دلانے کی تفسیر بعض مفسرین، مثلاً طبری، ابن کثیر اور قرطبی رحمہم اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرمائی ہے کہ قریش اور بنو کنانہ کی باہم دشمنی تھی اور انھیں ان کی طرف سے خطرہ تھا کہ وہ پیچھے سے ہم پر حملہ نہ کر دیں۔ شیطان نے ان کے سردار سراقہ بن مالک بن جعشم کی شکل میں آکر ان کی طرف سے قریش کو بے فکر ہو جانے کا اور اپنی حمایت کا یقین دلایا اور اپنے لشکر کو بھی لے کر آیا، مگر بدر میں جب مسلمانوں کے ساتھ جبریل علیہ السلام اور فرشتوں کو دیکھا تو الٹے پاؤں یہ الفاظ کہتا ہوا بھاگ گیا جن کا قرآن مجید میں ذکر ہے۔ بعض مفسرین مثلاً صاحب المنار نے یہ تفسیر کی ہے کہ شیطان انسانی شکل میں نہیں آیا بلکہ یہ تمام باتیں بطور وسوسہ اس نے ان کے دلوں میں ڈالیں کہ میں تمھارا حمایتی ہوں، یعنی جن بتوں اور خداؤں کو تم پوجتے ہو وہ ہر طرح سے تمھاری حمایت اور مدد کریں گے اور اس وقت تم اتنی تعداد اور قوت میں ہو کہ تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ وہ اپنے بتوں اور خداؤں کے بھروسے پر جو درحقیقت شیطان پر بھروسا تھا اور اپنی قوت کے زعم میں شیطان کے ڈالے ہوئے وسوسے پر اپنی فتح کا یقین کر بیٹھے، مگر بدر کے میدان میں لڑائی شروع ہونے کے بعد انھیں مسلمان دگنے نظر آنے لگے تو شیطان کے سارے دلائے ہوئے وسوسے اور یقین باطل ہو گئے۔ سید رشید رضا نے شیطان کے انسانی صورت میں آنے کی روایات کی صحت میں شک پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ روایات ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہیں جو اس وقت پانچ برس کے تھے، انھوں نے کسی اور ہی سے سنی ہوں گی، مگر صحابہ کی مرسلات بھی قبول ہوتی ہیں، کیونکہ انھوں نے کسی نہ کسی صحابی ہی سے سنی ہوتی ہیں جو سب معتبر ہیں۔ ابن کثیر کی تخریج {” هداية المستنير“} میں لکھا ہے کہ ابن کثیر نے ان آیات کے تحت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کئی روایات ذکر کی ہیں جن میں سے کوئی بھی ضعف سے خالی نہیں، مگر ان کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان واقعات کا اصل ضرور ہے، اس لیے انھیں بیان کرنے میں کوئی مانع نہیں اور {” الاستيعاب في بيان الأسباب “} میں سلیم الہلالی اور محمد بن موسیٰ نے لکھا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی (یہاں مذکور) روایت حسن ہے، اس میں دو علتیں بیان کی گئی ہیں مگر ان کی کچھ حیثیت نہیں۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی کوئی وضاحت صحیح حدیث میں نہیں آئی اور یہ معاملہ غیب سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے اگرچہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ شیطان نے واقعی انسانی وجود میں آ کر انھیں یہ کہا یا محض دل میں غرور پیدا کر کے انھیں دھوکا دیا، مگر قرآن کے الفاظ {” قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ “} اور {” نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيْهِ “} سے یہی راجح نظر آتا ہے کہ وہ ظالم انسانی شکل میں آیا تھا اور شیطان کا بعض اوقات انسانی شکل میں آنا کچھ بعید نہیں، جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز میں حملہ آور ہوا تو آپ نے پکڑ کر اس کا گلا گھونٹا، مگر پھر سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد کر کے اسے چھوڑ دیا۔ [ بخاری، الصلاۃ، باب الأسیر أو الغریم یربط فی المسجد: ۴۶۱ ] ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو بھی تین دن نظر آتا رہا اور وہ گرفتار کر کے اسے چھوڑ دیتے رہے، اس لیے اس اہم موقع پر خود اس کا آنا کوئی بعید نہیں ہے۔ ➋ {اِنِّيْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ:} یعنی مجھے وہ فرشتے نظر آ رہے ہیں جو تمھیں نظر نہیں آ رہے۔ ➌ { اِنِّيْۤ اَخَافُ اللّٰهَ:} ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی تھی، اللہ تعالیٰ نے اسے اس دن تک مہلت دی جو اللہ کے علم میں ہے۔ دیکھیے سورۂ حجر (38،37) اور سورۂ ص (81،80) قیامت تک وعدہ نہیں فرمایا اس لیے ہو سکتا ہے کہ ابلیس نے فرشتوں کو دیکھ کر یہ سمجھا ہو کہ میری مہلت کی مدت ختم ہو چکی ہے، اس لیے اس نے اللہ سے ڈرنے کا ذکرکیا، ورنہ وہ ظالم کب اللہ سے ڈرتا تھا۔
اِذۡ یَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ غَرَّہٰۤؤُ لَآءِ دِیۡنُہُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب کہ منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں کو روگ لگا ہوا ہے، کہہ رہے تھے کہ ان لوگوں کو تو اِن کے دین نے خبط میں مبتلا کر رکھا ہے حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو یقیناً اللہ بڑا زبردست اور دانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جبکہ منافق کہہ رہے تھے اور وه بھی جن کے دلوں میں روگ تھا کہ انہیں تو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے جو بھی اللہ پر بھروسہ کرے اللہ تعالیٰ بلا شک وشبہ غلبے واﻻ اور حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
جب کہتے تھے منافق اور وہ جن کے دلوں میں ا ٓزا ر ہے کہ یہ مسلمان اپنے دین پر مغرور ہیں اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (وہ وقت بھی قابل یاد ہے) جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے کہہ رہے تھے کہ ان لوگوں (مسلمانوں) کو ان کے دین نے فریب اور خبط میں مبتلا کر دیا ہے اور جو کوئی اللہ پر توکل (بھروسہ) کرتا ہے سو اللہ بڑا زبردست، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں ایک بیماری تھی، کہہ رہے تھے ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکا دیا ہے۔ اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو بے شک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
میدان بدر میں ابلیس مشرکین کا ہمراہی تھا ٭٭

جہاد میں ثابت قدمی نیک نیتی ذکر اللہ کی کثرت کی نصیحت فرما کر مشرکین کی مشابہت سے روک رہا ہے کہ ’ جیسے وہ حق کو مٹانے اور لوگوں میں اپنی بہادری دھانے کے لیے فخر و غرور کے ساتھ اپنے شہروں سے چلے تم ایسا نہ کرنا۔ ‘ چنانچہ ابوجہل سے جب کہا گیا کہ قافلہ تو بچ گیا اب لوٹ کر واپس چلنا چاہیئے تو اس ملعون نے جواب دیا کہ واہ کس کا لوٹنا بدر کے پانی پر جا کر پڑاؤ کریں گے۔ وہاں شرابیں اڑائیں گے کباب کھائیں گے گانا سنیں گے تاکہ لوگوں میں شہرت ہو جائے۔ اللہ کی شان کے قربان جائیے ان کے ارمان قدرت نے پلٹ دیئے یہیں ان کی لاشیں گریں اور یہیں کے گڑھوں میں ذلت کے ساتھ ٹھونس دیئے گئے۔ اللہ ان کے اعمال کا احاطہٰ کرنے والا ہے ان کے ارادے اس پر کھلے ہیں اسی لیے انہیں برے وقت سے پالا پڑا۔ پس یہ مشرکین کا ذکر ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے سرتاج سے بدر میں لڑنے چلے تھے ان کے ساتھ گانے والیاں بھی تھیں باجے گاجے بھی تھے۔ شیطان لعین ان کا پشت پناہ بنا ہوا تھا انہیں پھسلا رہا تھا۔ ان کے کام کو خوبصورت بھلا دکھا رہا تھا ان کے کانوں میں پھونک رہا تھا کہ بھلا تمہیں کون ہرا سکتا ہے؟ ان کے دل سے بنوبکر کا مکہ پر چڑھائی کرنے کا خوف نکال رہا تھا اور سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں ان کے سامنے کھڑا ہو کر کہہ رہا تھا کہ میں تو اس علاقے کا سردار ہوں بنو مدلج سب میرے تابع ہیں میں تمہارا حمایتی ہوں بیفکر رہو۔ «يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء: 120 ] ‏‏‏‏ ’ شیطان کا کام بھی یہی ہے کہ جھوٹے وعدے، نہ پورا ہونے والی امیدوں کے سبز باغ دکھائے اور دھوکے کے جال میں پھنسائے۔‘ بدر والے دن یہ اپنے جھنڈے اور لشکر کو ساتھ لے کر مشرکوں کی حمایت میں نکلا ان کے دلوں میں ڈالتا رہا کہ بس تم بازی لے گئے میں تمہارا مددگار ہوں۔

لیکن جب مسلمانوں سے مقابلہ شروع ہوا اور اس خبیث کی نظریں فرشتوں پر پڑیں تو پچھلے پیروں بھاگا اور کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جس سے تمہاری آنکھیں اندھی ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں بدر والے دن ابلیس اپنا جھنڈا بلند کئے مدلجی شخص کی صورت میں اپنے لشکر سمیت پہنچا اور شیطان سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں نمودار ہوا اور مشرکین کے دل بڑھائے ہمت دلائی جب میدان جنگ میں صف بندی ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کی مٹھی بھر کر مشرکوں کے منہ پر ماری اس سے ان کے قدم اکھڑ گئے اور ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ جبرائیل علیہ السلام شیطان کی طرف چلے اس وقت یہ ایک مشرک کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے تھا آپ کو دیکھتے ہی اس کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑا کر اپنے لشکروں سمیت بھاگ کھڑا ہوا اس شخص نے کہا سراقہ تم تو کہہ رہے تھے کہ تم ہمارے حمایتی ہو پھر یہ کیا کر رہے ہو؟ یہ ملعون چونکہ فرشتوں کو دیکھ رہا تھا کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں تو اللہ سے ڈرنے والا آدمی ہوں اللہ کے عذاب بڑے بھاری ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16198:منقطع] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ اسے پیٹھ پھیرتا دیکھ کر حارث بن ہشام نے پکڑ لیا۔ اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا جس سے یہ بیہوش ہو کر گر پڑا دوسرے لوگوں نے کہا سراقہ تو اس حال میں ہمیں ذلیل کرتا ہے؟ اور ایسے وقت ہمیں دھوکہ دیتا ہے وہ کہنے لگا ہاں ہاں میں تم سے بری الذمہ اور بے تعلق ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جنہیں تم نہیں دیکھ رہے۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھوڑی سی دیر کے لیے ایک طرح کی بیخودی سی طاری ہو گئی پھر ہوشیار ہو کر فرمانے لگے { صحابیو خوش ہو جاؤ یہ ہیں تمہاری دائیں جانب جبرائیل علیہ السلام اور یہ ہیں تمہاری بائیں طرف میکائیل علیہ السلام اور یہ ہیں اسرافیل علیہ السلام تینوں مع اپنی اپنی فوجوں کے آ موجود ہوئے ہیں۔ } ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی صورت میں مشرکوں میں تھا ان کے دل بڑھا رہا تھا اور ان میں پشین گوئیاں کر رہا تھا کہ بے فکر رہو آج تمہیں کوئی ہرا نہیں سکتا۔ لیکن فرشتوں کے لشکر کو دیکھتے ہی اس نے تو منہ موڑا اور یہ کہتا ہوا بھاگا کہ میں تم سے بری ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جو تمہاری نگاہ میں نہیں آتے۔ حارث بن ہشام چونکہ اسے سراقہ ہی سمجھے ہوئے تھا اس لیے اس نے اس کا ہاتھ تھام لیا اس نے اس کے سینے میں اس زور سے گھونسہ مارا کہ یہ منہ کے بل گر پڑا اور شیطان بھاگ گیا سمندر میں کود پڑا اور اپنا کپڑا اونچا کر کے کہنے لگایا اللہ میں تجھے تیرا وہ وعدہ یاد دلاتا ہوں جو تو نے مجھ سے کیا ہے۔ طبرانی میں رفاعہ بن رافع سے بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:0000،] ‏‏‏‏ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب قریشیوں نے مکے سے نکلنے کا ارادہ کیا تو انہیں بنی بکر کی جنگ یاد آ گئی اور خیال کیا کہ ایسا نہ ہو ہماری عدم موجودگی میں یہاں چڑھائی کر دیں قریب تھا کہ وہ اپنے ارادے سے دست بردار ہو جائیں اسی وقت ابلیس لعین سراقہ کی صورت میں ان کے پاس آیا جو بنو کنانہ کے سرداروں میں سے تھا کہنے لگا اپنی قوم کا میں ذمہ دار ہوں تم ان کا بے خطر ساتھ دو اور مسلمانوں کے مقابلے کے لیے مکمل تیار ہو کر جاؤ۔

خود بھی ان کے ساتھ چلا ہر منزل میں یہ اسے دیکھتے تھے سب کو یقین تھا کہ سراقہ خود ہمارے ساتھ ہے یہاں تک کہ لڑائی شروع ہو گئی اس وقت یہ مردود دم دبا کر بھاگا۔ حارث بن ہشام یا عمیر بن وہب نے اسے جاتے دیکھ لیا اس نے شور مچا دیا کہ سراقہ کہاں بھاگا جا رہا ہے؟ شیطان انہیں موت اور دوزخ کے منہ میں دھکیل کر خود فرار ہو گیا۔ کیونکہ اس نے اللہ کے لشکروں کو مسلمانوں کی امداد کے لیے آتے ہوئے دیکھ لیا تھا صاف کہدیا کہ میں تم سے بری ہوں میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اس بات میں وہ سچا بھی تھا۔ پھر کہتا ہے میں اللہ کے خوف سے ڈرتا ہوں۔ اللہ کے عذاب سخت اور بھاری ہیں۔ اس نے جبرائیل علیہ السلام کو فرشتوں کے ساتھ اترتے دیکھ لیا تھا سمجھ گیا تھا کہ ان کے مقابلے کی مجھ میں یا مشرکوں میں طاقت نہیں وہ اپنے اس قول میں تو جھوٹا تھا کہ میں خوف الٰہی کرتا ہوں یہ تو صرف اس کی زبانی بات تھی دراصل وہ اپنے میں طاقت ہی نہیں پاتا تھا۔ یہی اس دشمن رب کی عادت ہے کہ بھڑکاتا اور بہکاتا ہے حق کے مقابلے میں لاکھڑا کر دیتا ہے پھر روپوش ہو جاتا ہے۔ قران فرماتا ہے «كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [ 59-الحشر: 16 ] ‏‏‏‏ ’ شیطان انسان کو کفر کا حکم دیتا ہے پھر جب وہ کفر کر چکتا ہے تو یہ کہنے لگتا ہے کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ ‘ اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم ۖ مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 14-إبراهيم: 22 ] ‏‏‏‏ ’ جب حق واضح جاتا ہے تو یہ کہتا ہے اللہ کے وعدے سچے ہیں میں خود جھوٹا میرے وعدے بھی سراسر جھوٹے میرا تم پر کوئی زور دعویٰ تو تھا ہی نہیں تم نے تو آپ میری آرزو پر گردن جھکا دی اب مھے سرزنش نہ کرو خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمہیں بچا سکوں گا نہ تم میرے کام آسکو گے۔ اس سے پہلے جو تم مجھے شریک رب بنا رہے تھے میں تو آج اس کا بھی انکاری ہوں۔ یقین مانو کہ ظالموں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔‘

سیدنا ابواسید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر میری آنکھیں آج بھی ہوتیں تو میں تمہیں بدر کے میدان میں وہ گھاٹی دکھا دیتا جہاں سے فرشتے آتے تھے بیشک و شبہ مجھے وہ معلوم ہے۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:52/3:ضعیف] ‏‏‏‏ انہیں ابلیس نے دیکھ لیا اور اللہ نے انہیں حکم دیا کہ مومنوں کو ثابت قدم رکھو یہ لوگوں کے پاس ان کے جان پہچان کے آدمیوں کی شکل میں آتے اور کہتے خوش ہو جاؤ یہ کافر بھی کوئی چیز ہیں اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے بے خوفی کے ساتھ شیر کا سا حملہ کر دو۔ ابلیس یہ دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا اب تک وہ سراقہ کی شکل میں کفار میں موجود تھا۔ ابوجہل نے یہ حال دیکھ کر اپنے لشکروں میں گشت شروع کیا کہہ رہا تھا کہ گھبراؤ نہیں اس کے بھاگ کھڑے ہونے سے دل تنگ نہ ہو جاؤ، وہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سیکھا پڑھا آیا تھا کہ تمیں عین موقعہ پر بزدل کر دے کوئی گھبرانے کی بات نہیں لات و عزیٰ کی قسم! آج ان مسلمانوں کو ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمیت گرفتار کر لیں گے نامردی نہ کرو دل بڑھاؤ اور سخت حملہ کرو۔ دیکھو خبردار انہیں قتل نہ کرنا زندہ پکڑنا تاکہ انہیں دل کھول کر سزا دیں۔ یہ بھی اپنے زمانے کا فرعون ہی تھا اس نے بھی جادوگروں کے ایمان لانے کو کہا تھا کہ «إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا» ۱؎ [ 7-الاعراف: 123 ] ‏‏‏‏ ’ یہ تو صرف تمہارا ایک مکر ہے کہ یہاں سے تم ہمیں نکال دو۔‘ اس نے بھی کہا تھا کہ «إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ» ۱؎ [ 20-طہٰ: 71 ] ‏‏‏‏ ’ جادوگرو یہ موسیٰ تمہارا استاد ہے حالانکہ یہ محض اس کا فریب تھا۔‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { عرفے کے دن جس قدر ابلیس حقیر و ذلیل رسوا اور درماندہ ہوتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عام معافی اور عام رحمت اتری ہے ہر ایک کے گناہ عموماً معاف ہو جاتے ہیں ہاں بدر کے دن اس کی ذلت و رسوائی کا کچھ مت پوچھو جب اس نے دیکھا کہ فرشتوں کی فوجیں جبرائیل کی ماتحتی میں آ رہی ہیں۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16204:ضعیف] ‏‏‏‏

جب دونوں فوجیں صف بندی کر کے آمنے سامنے آ گئیں تو اللہ کی قدرت و حکمت سے مسلمان کافروں کو بہت کم نظر آنے لگے اور کافر مسلمانوں کی نگاہ میں کم جچنے لگے۔ اس پر کافروں نے قہقہہ لگایا کہ دیکھو مسلمان کیسے مذہبی دیوانے ہیں؟ مٹھی بھر آدمی ہم ایک ہزار کے لشکر سے ٹکرا رہے ہیں ابھی کوئی دم میں ان کا چورا ہو جائے گا پہلے ہی حملے میں وہ چوٹ کھائیں گے کہ سر ہلاتے رہ جائیں۔ رب العالمین فرماتا ہے ’ انہیں نہیں معلوم کہ یہ متوکلین کا گروہ ہے ان کا بھروسہ اس پر ہے جو غلبہ کا مالک ہے، حکمت کا مالک ہے اللہ کے دین کی سختی مسلمانوں میں محسوس کر کے ان کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ انہیں ذہبی دیوانگی ہے۔‘ دشمن الٰہی ابوجہل ملعون ٹیلے کے اوپر سے جھانک کر اللہ والوں کی کمی اور بےسروسامانی دیکھ کر گدھے کی طرح پھول گیا اور کہنے لگا لو پالا مار لیا ہے، بس آج سے اللہ کی عبادت کرنے والوں سے زمین خالی نظر آئے گی، ابھی ہم ان میں سے ایک ایک کے دو دو کر کے رکھ دیں گے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دین میں طعنہ دینے والے مکہ کے منافق تھے۔ عامر کہتے ہیں یہ چند لوگ تھے جو زبانی مسلمان ہوئے تھے لیکن آج بدر کے میدان میں مشرکوں کے ساتھ تھے۔ انہیں مسلمانوں کی کمی اور کمزوری دیکھ کر تعجب معلوم ہوا اور کہا کہ یہ لوگ تو مذہبی فریب خوردہ ہیں۔

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ قریش کی ایک جماعت تھی قیس بن ولید بن مغیرہ، ابوقیس بن فاکہ بن مغیرہ، حارث بن زمعہ بن اسود بن عبدالمطلب اور علی بن امیہ بن خلف اور عاص بن منبہ بن حجاج یہ قریش کے ساتھ تھے لیکن یہ متردد تھے اور اسی میں رکے ہوئے تھے یہاں مسلمانوں کی حالت دیکھ کر کہنے لگے یہ لوگ تو صرف مذہبی مجنوں ہیں ورنہ مٹھی بھر بے رسد اور بے ہتھیار آدمی اتنی ٹڈی دل شوکت و شان والی فوجوں کے سامنے کیوں کھڑے ہو جاتے؟ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بدر کی لڑائی میں نہیں آئے تھے ان کا نام منافق رکھ دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ یہ قوم اسلام کا اقرار کرتی تھی لیکن مشرکوں کی رو میں بہہ کر یہاں چلی آئی یہاں آ کر مسلمانوں کا قلیل سا لشکر دیکھ کر انہوں نے یہ کہا۔ جناب باری جل شانہ ارشاد فرماتا ہے کہ ’ جو اس مالک الملک پر بھروسہ کرے اسے وہ ذی عزت کر دیتا ہے کیونکہ عزت اس کی لونڈی ہے، غلبہ اس کا غلام ہے وہ بلند جناب ہے وہ بڑا ذی شان ہے وہ سچا سلطان ہے۔ وہ حکیم ہے اس کے سب کام الحکمت سے ہوتے ہیں وہ ہرچیز کو اس کی ٹھیک جگہ رکھتا ہے۔ مستحقین امداد کی وہ مدد فرماتا ہے اور مستحقین ذلت کو وہ ذلیل کرتا ہے وہ سب کو خوب جانتا ہے۔‘
49۔ 1 اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور مسلمانوں کی کامیابی کے بارے میں انہیں شک تھا، یا اس سے مراد مشرکین ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ مدینہ میں رہنے والے یہودی مراد ہوں۔ 49۔ 2 یعنی ان کی تعداد تو دیکھو اور سرو سامان جو حال ہے، وہ بھی ظاہر ہے۔ لیکن مقابلہ کرنے چلے ہیں مشرکین مکہ سے، جو تعداد میں بھی ان سے کہیں زیادہ ہیں اور ہر طرح کے سامان حرب اور وسائل سے مالا مال بھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دین نے ان کو دھوکے اور فریب میں ڈال دیا ہے۔ اور یہ موٹی سی بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آرہی۔ 49۔ 3 اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان اہل دنیا کو اہل ایمان کے عزم و ثبات کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے جن کا توکل اللہ کی ذات پر ہے جو غالب ہے یعنی اپنے پر بھروسہ کرنے والوں کو وہ بےسہارا نہیں چھوڑتا اور حکیم بھی ہے اس کے ہر فعل میں حکمت بالغہ ہے جس کے ادراک سے انسانی عقلیں قاصر ہیں۔
(آیت 49) ➊ { اِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ:} ”جن کے دلوں میں بیماری“ سے مراد نئے مسلمان ہیں، جن کے دلوں میں شک ختم ہو کر یقین کی پوری کیفیت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہودی اور مدمقابل مشرکین بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ ➋ { غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِيْنُهُمْ:} یعنی ان کے دینی جوش نے ان کو بالکل دیوانہ بنا دیا ہے، دیکھ رہے ہیں کہ ان کی تھوڑی سی تعداد ہے، کوئی سروسامان بھی نہیں ہے، حتیٰ کہ لڑنے کے لیے ایک کے سوا دوسرا گھوڑا بھی نہیں ہے، مگر چلے ہیں قریش کے مسلح اور عظیم الشان لشکر سے مقابلہ کرنے، پاگل ہی تو ہیں جو اپنی موت کو خود دعوت دے رہے ہیں۔ رسولوں اور ان کے ساتھیوں کو پاگل و دیوانہ کہنے کا یہ سلسلہ پہلے رسول سے لے کر ہمارے رسول تک چلا آیا ہے، کیونکہ کفار وہ بات سمجھ ہی نہیں سکتے جو ایمان سے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ دیکھیے سورۂ ذاریات (۵۲، ۵۳) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مسلمانوں کی دلیری دیکھ کر منافق طعن کرنے لگے، اللہ نے فرمایا، یہ غرور (دھوکا کھانا) نہیں، توکل ہے۔“ (موضح) ➌ { وَ مَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ …:} اور جس کا بھروسا اس سب پر غالب اور کمال حکمت والے پر ہو اس کا دل یقینا مضبوط ہو گا، اس لیے مسلمان کفار کے عظیم الشان لشکر کے ساتھ مقابلے کے لیے ہر طرح سے آمادہ اور پر عزم ہیں۔
وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ یَتَوَفَّی الَّذِیۡنَ کَفَرُوا ۙ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡہَہُمۡ وَ اَدۡبَارَہُمۡ ۚ وَ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کاش تم اُس حالت کو دیکھ سکتے جبکہ فرشتے مقتول کافروں کی رُوحیں قبض کر رہے تھے وہ ان کے چہروں اور ان کے کولھوں پر ضربیں لگاتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے “لو اب جلنے کی سزا بھگتو
مولانا محمد جوناگڑھی
کاش کہ تو دیکھتا جب کہ فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں ان کے منھ پر اور سرینوں پر مار مارتے ہیں (اور کہتے ہیں) تم جلنے کا عذاب چکھو
احمد رضا خان بریلوی
اور کبھی تو دیکھے جب فرشتے کافروں کی جان نکالتے ہیں مار رہے ہیں ان کے منہ پر او ر ان کی پیٹھ پر اور چکھو آ گ کا عذاب،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کاش تم وہ موقع دیکھو کہ جب فرشتے کافروں کی روحیں قبض کرتے ہیں اور ان کے چہروں اور پیٹھوں پر ضربیں لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب عذابِ آتش کا مزہ چکھو۔
عبدالسلام بن محمد
اور کاش! تو دیکھے جب فرشتے ان لوگوں کی جان قبض کرتے ہیں جنھوں نے کفر کیا، ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے ہیں۔ اور جلنے کا عذاب چکھو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفار کے لیے سکرات موت کا وقت بڑا شدید ہے ٭٭

’ کاش کہ تو اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم تو دیکھتا کے فرشتے کس بری طرح کافروں کی روح قبض کرتے ہیں وہ اس وقت ان کے چہروں اور کمروں پر مارتے ہیں اور کہتے ہیں آگ کا عذاب اپنی بداعمالیوں کے بدلے چکھو۔ ‘ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ بھی بدر کے دن کا ہے کہ سامنے سے ان کافروں کے چہروں پر تلواریں پڑتی تھیں اور جب بھاگتے تھے تو پیٹھ پر وار پڑتے تھے فرشتے انکا خوب بھرتہ بنا رہے تھے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ”میں نے ابوجہل کی پیٹھ پر کانٹوں کے نشان دیکھے ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یہ فرشتوں کی مار کے نشان ہیں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16220:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ حق یہ ہے کہ یہ آیت بدر کے ساتھ مخصوص تو نہیں الفاظ عام ہیں ہر کافر کا یہی حال ہوتا ہے۔ سورۃ قتال میں بھی اس بات کا بیان ہوا ہے اور سورۃ الانعام کی «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ» ۱؎ [ 6-الأنعام: 93 ] ‏‏‏‏ میں بھی اس کا بیان مع تفسیر گذر چکا ہے۔ چونکہ یہ نافرمان لوگ تھے ان کی موت سے بدن میں چھپتی پھرتی ہیں جنہیں فرشتے جبراً گھسیٹا جاتا ہے جس طرح کسی زندہ شخص کی کھال کو اتارا جائے اسی کے ساتھ رگیں اور پٹھے بھی آ جاتے ہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:287/4:حسن] ‏‏‏‏ فرشتے اس سے کہتے ہیں اب جلنے کا مزہ چکھو۔ یہ تمہاری دینوی بداعمالی کی سزا ہے اللہ تعالیٰ ظالم نہیں وہ تو عادل حاکم ہے۔ برکت و بلندی، غنا، پاکیزگی والا بزرگ اور تعریفوں والا ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے کہ ’ میرے بندو میں نے اپنے اوپر ظلم حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی حرام کر دیا ہے پس آپس میں کوئی کسی پر ظلم و ستم نہ کرے میرے غلاموں میں تو صرف تمہارے کئے ہوئے اعمال ہی کو گھیرے ہوئے ہوں بھلائی پاکر میری تعریفیں کرو اور اس کے سوا کچھ اور دیکھو تو اپنے تئیں ہی ملامت کرو۔‘ ۱؎ [صحیح مسلم:2577] ‏‏‏‏
50۔ 1 بعض مفسرین نے اسے جنگ بدر میں قتل ہونے والے مشرکین کی بابت قرار دیا ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب مشرکین مسلمانوں کی طرف آتے تو مسلمان ان کے چہروں پر تلواریں مارتے، جس سے بچنے کے لئے وہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے تو فرشتے ان کی دبروں پر تلواریں مارتے، لیکن یہ آیت عام ہے جو ہر کافر و مشرک کو شامل ہے اور مطلب یہ ہے کہ موت کے وقت فرشتے ان کے مونہوں اور پشتوں (یا دبروں یعنی چوتڑوں) پر مارتے ہیں، جس طرح سورة انعام میں بھی فرمایا: (وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ) 6۔ الانعام:93) فرشتے ان کو مارنے کے لئے ہاتھ دراز کرتے ہیں " اور بعض کے نزدیک فرشتوں کی یہ مار قیامت والے دن جہنم کی طرف لے جاتے ہوئے ہوگی اور داروغہ جہنم کہے گا " تم جلنے کا عذاب چکھو،
(آیت 50){ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا …:} کفار کی زندگی کے بعض احوال بیان کرنے کے بعد ان کی موت کی حالت بیان کی ہے۔ یہ آیت یہاں اگرچہ واقعۂ بدر کے سلسلے میں آئی ہے، اس لیے بعض مفسرین نے اسے بدر کے کفار کا حال قرار دیا ہے، لیکن لفظ عام ہونے کی وجہ سے یہ ہر کافر کے مرنے کے وقت کا حال بیان ہو رہا ہے۔ فرمایا کہ کافروں کی روح قبض کرتے وقت فرشتے جس طرح ان کے مونہوں اور پشتوں پر مارتے اور جس طرح جھڑکتے اور سختی کرتے ہیں، کاش! آپ وہ منظر دیکھ لیں، کیونکہ سننے میں وہ بات نہیں جو دیکھنے میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ انعام (۹۳) اور سورۂ محمد (۲۷، ۲۸) میں یہی بات بیان فرمائی ہے اور احادیث میں کافر کی جان کنی کا منظر بہت ہی ہولناک بیان کیا گیا ہے۔