بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنفال — Surah Anfal
آیت نمبر 37
کل آیات: 75
قرآن کریم الأنفال آیت 37
آیت نمبر: 37 — سورۃ الأنفال islamicurdubooks.com ↗
لِیَمِیۡزَ اللّٰہُ الۡخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجۡعَلَ الۡخَبِیۡثَ بَعۡضَہٗ عَلٰی بَعۡضٍ فَیَرۡکُمَہٗ جَمِیۡعًا فَیَجۡعَلَہٗ فِیۡ جَہَنَّمَ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿٪۳۷﴾
تاکہ اللہ گندگی کو پاکیزگی سے چھانٹ کر الگ کرے اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے پھر اس پلندے کو جہنم میں جھونک دے یہی لوگ اصلی دیوالیے ہیں
تاکہ اللہ تعالیٰ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور ناپاکوں کو ایک دوسرے سے ملا دے، پس ان سب کو اکھٹا ڈھیر کر دے پھر ان سب کو جہنم میں ڈال دے۔ ایسے لوگ پورے خسارے میں ہیں
اس لیے کہ اللہ گندے کو ستھرے سے جدا فرمادے اور نجاستوں کو تلے اوپر رکھ کر سب ایک ڈھیر بناکر جہنم میں ڈال دے وہی نقصان پانے والے ہیں
اور یہ سب کچھ اس لئے ہوگا کہ اللہ ناپاک (لوگوں) کو پاک لوگوں سے جدا کر دے اور جو ناپاک ہیں ان کو ایک دوسرے پر تہہ بہ تہہ رکھ کر ڈھیر بنائے اور پھر اس سارے ڈھیر کو جہنم میں جھونک دے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ (نقصان) اٹھانے والے ہیں۔
تاکہ اللہ ناپاک کو پاک سے جدا کر دے اور ناپاک کو، اس کے بعض کو بعض پر رکھے، پس اسے اکٹھا ڈھیر بنا دے، پھر اسے جہنم میں ڈال دے۔ یہی لوگ اصل خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

شکست خوردہ کفار کی سازشیں ٭٭

قریشیوں کو بدر میں شکست فاش ہوئی، اپنے مردے اور اپنے قیدی مسلمانوں کے ہاتھوں میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ابوسفیان اپنا قافلہ اور مال و متاع لے کر پہنچا تو عبداللہ بن ابی ربیعہ، عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ اور وہ لوگ جن کے عزیز و اقارب اس لڑائی میں کام آئے تھے ابو ابوسفیان کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپ دیکھتے ہیں ہماری کیا درگت ہوئی؟ اب اگر آپ رضامند ہوں تو یہ سارا مال روک لیا جائے اور اسی خزانے سے دوسری جنگ کی تیاری وسیع پیمانے پر کی جائے اور انہیں مزا چکھا دیا جائے چنانچہ یہ بات مان لی گئی اور پختہ ہوگئ۔ اسی پر یہ آیت «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» الخ اتری کہ ’ بلاشک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راه سے روکیں سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے، پھر وه مال ان کے حق میں باعث حسرت ہو جائیں گے۔ پھر مغلوب ہو جائیں گے اور کافر لوگوں کو دوزخ کی طرف جمع کیا جائے گا۔ ‘ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت بھی بدر کے بارے میں اتری ہے۔ الفاظ آیت کے عام ہیں گو سبب نزول خاص ہو حق کو روکنے کے لیے جو بھی مال خرچ کرے وہ آخر ندامت کے ساتھ رہ جائے گا۔ دین کا چراغ انسانی پھونکوں سے بجھ نہیں سکتا۔ اس خواہش کا انجام نا مرادی ہی ہے۔ خود اللہ اپنے دین کا ناصر اور حافظ ہے۔ اس کا کلمہ بلند ہو گا، اس کا بول بالا ہو گا، اس کا دین غالب ہو گا کفار منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔

قولہ تعالیٰ: «لِيَمِيزَ اللَّـهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَىٰ بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعًا فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہلِ سعادت کا امتیاز اہلِ شقاوت سے ہے کہ مومن کافر سے ممتاز ہوجائے گا اور یہ بھی محتمل ہے کہ امتیاز سے مراد آخرت کا امتیاز ہو۔ دنیا میں الگ رسوائی اور ذلت ہو گی آخرت میں الگ بربادی اور خواری ہو گی۔ جیتے جی یا تو اپنے سامنے اپنی پستی ذلت نکبت و ادبار اور خوری دیکھ لیں گے یا مرنے پر عذاب نار دیکھ لیں گے۔ پستی و غلامی کی مار اور شکست ان کے ماتھے پر لکھ دی گئی ہے۔ پھر آخری ٹھکانا جہنم ہے تاکہ اللہ شقی اور سعید کو الگ الگ کر دے۔ برے اور بھلے کو ممتاز کر دے یہ تفریق اور امتیاز آخرت میں ہو گی اور دنیا میں بھی۔ فرمان ہے «ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ» ۱؎ [ 10-یونس: 28 ] ‏‏‏‏، ’ قیامت کے دن ہم کافروں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود یہیں اسی جگہ ٹھہرے رہو۔ ‘ اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» ۱؎ [ 30-الروم: 14 ] ‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن یہ سب جدا جدا ہو جائیں گے‘ اور آیت میں ہے «يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ» ۱؎ [ الروم: 43 ] ‏‏‏‏ ’ اس دن یہ منتشر ہو جائیں گے ‘ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ» ۱؎ [ 36-یس: 59 ] ‏‏‏‏ ’ اے گنہگار و تم آج نیک کاروں سے الگ ہو جاؤ۔ ‘ اسی طرح دنیا میں بھی ایک دوسرے سے بالکل ممتاز تھے۔ مومنوں کے اعمال ان کے اپنے ہیں اور ان سے بالکل جدا گانہ «لِيَمِيزَ» کا لام تو دلیل ہو سکتا ہے یعنی کافر اپنے مالوں کو اللہ کی راہ کی روک کیلئے خرچ کرتے ہیں تاکہ مومن و کافر میں علیحدگی ہو جائے کہ کون اللہ کا فرمانبردار ہے اور کون نافرمانی میں ممتاز ہے؟ چنانچہ فرمان ہے «وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّـهِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 166، 167 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ کے وقت جو کچھ تم سے ہوا وہ اللہ کے حکم سے تھا تاکہ مومنوں اور منافقوں میں تمیز ہو جائے ان سے جب کہا گیا کہ آؤ راہ حق میں جہاد کرو یا دشمنوں کو دفع کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم فنون جنگ سے واقف ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے۔ ‘ اور آیت میں ہے «‏‏‏‏مَّا كَانَ اللَّـهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۗ وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 179 ] ‏‏‏‏، یعنی ’ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری موجودہ حالتوں پر ہی چھوڑنے والا نہیں وہ پاک اور پلید کو علیحدہ علیحدہ کرنے والا ہے۔‘

یہ ہی نہیں کہ اللہ تمہیں اپنے غیب پر خبردار کر دے۔ فرمان ہے «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّـهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 142 ] ‏‏‏‏، ’ کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تو اللہ نے تم میں سے مجاہدین کو اور صبر کرنے والوں کو کھلم کھلا نہیں کیا۔ ‘ سورۃ برات میں بھی اسی جیسی آیت موجود ہے تو مطلب یہ ہوا کہ ہم نے تمہیں کافروں کے ہاتھوں میں اس لیے مبتلا کیا ہے اور اس لیے انہیں اپنے مال باطل میں خرچ کرنے پر لگایا ہے کہ نیک و بد کی تمیز ہو جائے۔ «فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» ’ خبیث کو خبیث سے ملا کر جمع کر کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ دنیا و آخرت میں یہ لوگ برباد ہیں۔‘

📖 احسن البیان

37۔ 1 یہ علیحدگی یا تو آخرت میں ہوگی کہ اہل سعادت کو اہل بدبخت سے الگ کردیا جائے گا، جیسا کہ فرمایا۔ (وَامْتَا زُوا الْیَوْ مَ اَتُہاَ الْمُجْرِمُوْنَ) (سورت یس۔ 59) ' اے گناہ گارو! آج الگ ہوجاؤ ' یعنی نیک لوگوں سے اور مجرموں سے یعنی کافروں، مشرکوں اور نافرمانوں کو اکٹھا کرکے سب کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ یا پھر اس کا تعلق دنیا سے ہے۔ یعنی کافر اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے جو مال خرچ کر رہے ہیں، ہم ان کو ایسا کرنے کا موقع دیں گے تاکہ اس طریقے سے اللہ تعالیٰ خبیث کو طیب سے، کافر کو مومن سے اور منافق کو مخلص سے الگ کردے۔ اس اعتبار سے آیت کے معنی ہونگے، کفار کے ذریعے سے ہم تمہاری آزمائش کریں گے، وہ تم سے لڑیں گے اور ہم انہیں ان کے مال بھی لڑائی پر خرچ کرنے کی قدرت دیں گے تاکہ خبیث، طیب سے ممتاز ہوجائے۔ پھر وہ خبیث کو ایک دوسرے سے ملا دے گا یعنی سب کو جمع کردے گا (ابن کثیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت 37) { لِيَمِيْزَ اللّٰهُ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ …: } ناپاک کو پاک سے جدا کرنے سے مراد یا تو قیامت کے دن کفار اور مسلمانوں کو جدا جدا کرکے خبیث کفار کو تہ بہ تہ جمع کرکے جہنم میں پھینکنا ہے، یا دنیا ہی میں جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے سے اہل ایمان اور اہل کفر کو جدا جدا کرنے کے بعد خبیث لوگوں یعنی کفار کو تہ تیغ کرکے جہنم میں پھینکنا ہے اور یہی لوگ ہیں جو اصل خسارا اٹھانے والے ہیں۔
← پچھلی آیت (36) پوری سورۃ اگلی آیت (38) →