بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنفال — Surah Anfal
آیت نمبر 42
کل آیات: 75
قرآن کریم الأنفال آیت 42
آیت نمبر: 42 — سورۃ الأنفال islamicurdubooks.com ↗
اِذۡ اَنۡتُمۡ بِالۡعُدۡوَۃِ الدُّنۡیَا وَ ہُمۡ بِالۡعُدۡوَۃِ الۡقُصۡوٰی وَ الرَّکۡبُ اَسۡفَلَ مِنۡکُمۡ ؕ وَ لَوۡ تَوَاعَدۡتُّمۡ لَاخۡتَلَفۡتُمۡ فِی الۡمِیۡعٰدِ ۙ وَ لٰکِنۡ لِّیَقۡضِیَ اللّٰہُ اَمۡرًا کَانَ مَفۡعُوۡلًا ۬ۙ لِّیَہۡلِکَ مَنۡ ہَلَکَ عَنۡۢ بَیِّنَۃٍ وَّ یَحۡیٰی مَنۡ حَیَّ عَنۡۢ بَیِّنَۃٍ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَسَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۴۲﴾
یاد کرو وہ وقت جبکہ تم وادی کے اِس جانب تھے اور وہ دُوسری جانب پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل) کی طرف تھا اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرارداد ہو چکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کر جاتے، لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لیے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کر چکا تھا اسے ظہُور میں لے آئے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے، یقیناً خدا سُننے والا اور جاننے والا ہے
جب کہ تم پاس والے کنارے پر تھے اور وه دور والے کنارے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے تھا۔ اگر تم آپس میں وعدے کرتے تو یقیناً تم وقت معین پر پہنچنے میں مختلف ہو جاتے۔ لیکن اللہ کو تو ایک کام کر ہی ڈالنا تھا جو مقرر ہو چکا تھا تاکہ جو ہلاک ہو، دلیل پر (یعنی یقین جان کر) ہلاک ہو اور جو زنده رہے، وه بھی دلیل پر (حق پہچان کر) زنده رہے۔ بیشک اللہ بہت سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے
جب تم نالے کے کنا رے تھے اور کافر پرلے کنا رے اور قا فلہ تم سے ترائی میں اور اگر تم آپس میں کوئی وعدہ کرتے تو ضرور وقت پر برابر نہ پہنچتے لیکن یہ اس لیے کہ اللہ پورا کرے جو کام ہونا ہے کہ جو ہلاک ہو دلیل سے ہلاک ہو اور جو جئے دلیل سے جئے اور بیشک اللہ ضرور سنتا جانتا ہے،
جس وقت تم قریب کے ناکہ پر تھے اور وہ دور کے ناکہ پر اور قافلہ تم سے ادھر نیچے (ساحل سمندر پر) تھا اگر تم ایک دوسرے سے وقت مقرر بھی کر لیتے تو بھی تم میں اختلاف ہو جاتا۔ لیکن خدا نے تو اس بات کو پورا کرنا تھا جو (مڈبھیڑ) ہونے والی تھی۔ تاکہ جو ہلاک ہو وہ اتمامِ حجت کے بعد ہلاک ہو اور جو زندہ رہے تو وہ بھی اتمام حجت کے بعد زندہ رہے بے شک اللہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
جب تم قریب والے کنارے پر اور وہ دور والے کنارے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے کی طرف تھا اور اگر تم آپس میں وعدہ کرتے تو ضرور مقرر وقت کے بارے میں آگے پیچھے ہو جاتے اور لیکن تاکہ اللہ اس کام کو پورا کردے جو کیا جانے والا تھا، تاکہ جو ہلاک ہو واضح دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے واضح دلیل سے زندہ رہے اور بے شک اللہ یقینا سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالی نے غزوہ بدر کے ذریعے ایمان کو کفر سے ممتاز کر دیا ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ اس دن تم وادی الدینا میں تھے جو مدینے شریف سے قریب ہے اور مشرک لوگ مکے کی جانب مدینے کی دور کی وادی میں تھے اور ابوسفیان اور اس کا قافلہ تجارتی اسباب سمیت نیچے کی جانب دریا کی طرف تھا اگر تم کفار قریش سے جنگ کا ارادہ پہلے سے کرتے تو یقیناً تم میں اختلاف پڑتا کہ لڑائی کہاں ہو؟‘ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ’ اگر تم لوگ آپس میں طے کر کے جنگ کے لیے تیار ہوتے اور پھر تمہیں ان کی کثرت تعداد اور کثرت اسباب معلوم ہوتی تو بہت ممکن تھا کہ ارادے پست ہو جاتے۔ ‘ اس لیے قدرت نے پہلے سے طے کئے بغیر دونوں جماعتوں کو اچانک ملا دیا کہ اللہ کا یہ ارادہ پورا ہو جائے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بلندی حاصل ہو اور شرک اور مشرکوں کو پستی ملے پس جو کرنا تھا اللہ پاک کر گذرا۔ چنانچہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان تو صرف قافلے کے ارادے سے ہی نکلے تھے اللہ نے دشمن سے مڈبھیڑ کرا دی بغیر کسی تقرر کے اور بغیر کسی جنگی تیاری کے۔ ابوسفیان ملک شام سے قافلہ لے کر چلا ابوجہل اسے مسلمانوں سے بچانے کیلئے مکے سے نکلا۔ قافلہ دوسرے راستے سے نکل گیا اور مسلمانوں اور کافروں کی جنگ ہو گئی اس سے پہلے دونوں ایک دوسرے سے بے خبر تھے ایک دوسرے کو خصوصاً پانی لانے والوں کو دیکھ کر انہیں ان کا اور انہیں ان کا علم ہوا۔

سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم برابر اپنے ارادے سے جا رہے تھے صفراء کے قریب پہنچ کر سیس بن عمرو اور عدی بن ابو الزعباء جہنی کو ابوسفیان کا پتہ چلانے کیلئے بھیجا ان دونوں نے بدر کے میدان میں پہنچ کر بطحاء کے ایک ٹیلے پر اپنی سواریاں بٹھائیں اور پانی کے لیے نکلے۔ راستے میں دو لڑکیوں کو آپس میں جھگڑتے ہوئے دیکھا ایک دوسری سے کہتی ہے تو میرا قرضہ کیوں ادا نہیں کرتی؟ اس نے کہا جلدی نہ کر کل یا پرسوں یہاں قافلہ آنے والا ہے میں تجھے تیرا حق دے دوں گی۔ مجدیٰ بن عمرو بیچ میں بول اٹھا اور کہا یہ سچ کہتی ہے اسے ان دونوں صحابیوں رضی اللہ عنہم نے سن لیا اپنے اونٹ کسے اور فوراً خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ ادھر ابوسفیان اپنے قافلے سے پہلے یہاں اکیلا پہنچا اور مجدی بن عمرو سے کہا کہ اس کنویں پر تم نے کسی کو دیکھا؟ اس نے کہا نہیں البتہ دو سوار آئے تھے اپنے اونٹ اور ٹیلے پر بٹھائے اپنی مشک میں پانی بھر اور چل دئیے۔ یہ سن کر یہ اس جگہ پہنچا مینگنیاں لیں اور انہیں توڑا اور کھجورں کی گھٹلیاں ان میں پا کر کہنے لگا واللہ یہ مدنی لوگ ہیں وہیں سے واپس اپنے قافلے میں پہنچا اور راستہ بدل کر سمندر کے کنارے چل دیا جب اسے اس طرف سے اطمینان ہو گیا تو اس نے اپنا قاصد قریشیوں کو بھیجا کہ اللہ نے تمہارے قافلے مال اور آدمیوں کو بچا لیا تم لوٹ جاؤ یہ سن کر ابوجہل نے کہا نہیں جب یہاں تک ہم آ چکے ہیں تو ہم بدر تک ضرور جائیں گے یہاں ایک بازار لگا کرتا تھا۔ وہاں ہم تین روز ٹھہریں گے وہاں اونٹ ذبح کریں گے۔ شرابیں پئیں گے کباب بنائیں گے تاکہ عرب میں ہماری دھوم مچ جائے اور ہر ایک کو ہماری بہادری اور بے جگری معلوم ہو اور وہ ہمیشہ ہم سے خوف زدہ رہیں۔ لیکن اخنس بن شریق نے کہا کہ بنو زہرہ کے لوگو اللہ تعالیٰ نے تمہارے مال محفوظ کر دیئے تم کو چاہیئے کہ اب واپس چلے جاؤ۔ اس کے قبیلے نے اس کی مان لی یہ لوگ اور بنو عدی لوٹ گئے۔۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:31/3:] ‏‏‏‏

بدر کے قریب پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب، سعد بن وقاص اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم کو خبر لانے کے لیے بھیجا چند اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی ان کے ساتھ کر دیا انہیں بنوسعید بن عاص کا اور بنو حجاج کا غلام کنویں پر مل گیا دونوں کو گرفتار کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان سے سوال کرنا شروع کیا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا قریش کے سقے ہیں انہوں نے ہمیں پانی لانے کیلئے بھیجا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ یہ ابوسفیان کے آدمی ہیں اس لیے انہوں نے ان پر سختی شروع کی آخر گھبرا کر انہوں نے کہدیا کہ ہم ابوسفیان کے قافلے کے ہیں تب انہیں چھوڑا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا اور فرمایا کہ { جب تک یہ سچ بولتے رہے تم انہیں مارتے پیٹتے رہے اور جب انہوں نے جھوٹ کہا تم نے چھوڑ دیا واللہ یہ سچے ہیں یہ قریش کے غلام ہیں۔ ہاں جی بتاؤ قریش کا لشکر کہاں ہے؟} انہوں نے کہا وادی قصویٰ کے اس طرف ٹیلے کے پیچھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ تعداد میں کتنے ہیں؟} انہوں نے کہا بہت ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { آخر کتنے ایک؟ } انہوں نے کہا تعداد تو ہمیں معلوم نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اچھا یہ بتا سکتے ہو ہر روز کتنے اونٹ کٹتے ہیں؟ } انہوں نے کہا ایک دن نو ایک دن دس۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر وہ نو سو سے ایک ہزار تک ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان میں سرداران قریش میں سے کون کون ہیں؟ } انہوں نے جواب دیا کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوالبختری بن ہشام، حکیم بن حزام، نوفل، طعیمہ بن عدی، نضر بن حارث، زمعہ بن اسود، ابوجہل، امیہ بن خلف، منبہ بن حجاج، سہیل بن عمرو، عمرو بن عبدود۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: { لو مکے نے اپنے جگر کے ٹکڑے تمہاری طرف ڈال دیئے ہیں۔} ۱؎ [صحیح مسلم:1779] ‏‏‏‏

بدر کے دن جب دونوں جماعتوں کا مقابلہ شروع ہونے لگا تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک جھونپڑی بنا دیں آپ وہاں رہیں ہم اپنے جانوروں کو یہیں بٹھا کر میدان میں جا کودیں اگر فتح ہوئی تو «الْحَمْدُ لِلَّـه» یہی مطلوب ہے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے جانوروں پر سوار ہو کر انہیں اپنے ساتھ لے کر ہماری قوم کے ان حضرات کے پاس چلے جائیں جو مدینہ شریف میں ہیں وہ ہم سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ کوئی جنگ ہونے والی ہے ورنہ وہ ہرگز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑتے آپ کی مدد کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب نکل کھڑے ہوتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس مشورے کی قدر کی انہیں دعا دی اور اس ڈیرے میں آپ ٹھہر گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور کوئی نہ تھا۔۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:44/3:] ‏‏‏‏ صبح ہوتے ہی قریشیوں کے لشکر ٹیلے کے پیچھے سے آتے ہوئے نمودار ہوئے انہیں دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب باری میں دعا کی کہ { باری تعالیٰ یہ فخر و غرور کے ساتھ تجھ سے لڑنے اور تیرے رسول کو جھٹلانے کیلئے آ رہے ہیں، باری تعالیٰ تو انہیں پست و ذلیل کر۔}

اس آیت کے آخری جملے کی تفسیر سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ یہ اس لیے کہ کفر کرنے والے دلیل ربانی دیکھ لیں گو کفر ہی پر رہیں اور ایمان والے بھی دلیل کے ساتھ ایمان لائیں۔ یعنی آمادگی اور بغیر شرط و قرار داد کے اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور مشرکوں کا یہاں اچانک آمنا سامنا کرا دیا کہ حقانیت کو باطل پر غلبہ دے کر حق کو مکمل طور پر ظاہر کر دے اس طرح کہ کسی کو شک شبہ باقی نہ رہے۔ اب جو کفر پر رہے وہ بھی کفر کو کفر سمجھ کے رہے اور جو ایمان والا ہو جائے وہ دلیل دیکھ کر ایماندار بنے ایمان ہی دلوں کی زندگی ہے اور کفر ہی اصلی ہلاکت ہے۔ جیسے فرمان قرآن ہے «أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 6-الأنعام: 122 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ وہ جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے جلا دیا اور اس کے لیے نور بنا دیا کہ اس کی روشنی میں وہ لوگوں میں چل پھر رہا ہے۔‘ تہمت کے قصہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ ہیں کہ ”پھر جسے ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہو گیا یعنی بہتان میں حصہ لیا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:2966] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ تمہارے تضرع و زاری اور تمہاری دعا و استغفار اور فریاد و مناجات کا سننے والا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم اہل حق ہو تم مستحق امداد ہو تم اس قابل ہو کر تمہیں کافروں اور مشرکوں پر غلبہ دیا جائے۔‘

📖 احسن البیان

42۔ 1 دُنْیَاسے مراد وہ کنارہ جو مدینہ شہر کے قریب تھا۔ قصویٰ کہتے ہیں دور کو۔ کافر اس کنارے پر تھے جو مدینہ سے دور تھا۔ 42۔ 2 اس سے مراد تجارتی قافلہ ہے جو حضرت ابو سفیان کی قیادت میں شام سے مکہ جا رہا تھا اور جسے حاصل کرنے کے لئے ہی دراصل مسلمان اس طرف آئے تھے۔ یہ پہاڑ سے بہت دور مغرب کی طرف نشیب میں تھا، جب کہ بدر کا مقام، جہاں جنگ ہوئی، بلندی پر تھا۔ 42۔ 3 یعنی اگر جنگ کے لئے باقاعدہ دن اور تاریخ کا ایک دوسرے کے ساتھ وعدہ یا اعلان ہوتا تو ممکن بلکہ یقین تھا کہ کوئی فریق لڑائی کئے بغیر ہی پسپائی اختیار کرلیتا لیکن چونکہ اس جنگ کا ہونا اللہ نے لکھ رکھا تھا اس لئے ایسے اسباب پیدا کردیئے گئے کہ دونوں فریق بدر کے مقام پر ایک دوسرے کے مقابل بغیر پیشگی وعدہ وعید کے، صف آرا ہوجائیں۔ 42۔ 4 یہ علت ہے اللہ کی اس تقدیری مشیت کی جس کے تحت بدر میں فریقین کا اجتماع ہوا، تاکہ جو ایمان پر زندہ رہے تو وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے اور اسے یقین ہو کہ اسلام حق ہے کیونکہ اس کی حقانیت کا مشاہدہ وہ بدر میں کرچکا ہے اور جو کفر کے ساتھ ہلاک ہو تو بھی دلیل کے ساتھ ہلاک ہو کیونکہ اس پر یہ واضح ہوچکا ہے کہ مشرکین کا راستہ گمراہی اور باطل کا راستہ ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 42) ➊ {اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا …:} جنگ کا محل وقوع ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ تم جس ارادے سے نکلے تھے کہ ہمیں وہ قافلہ مل جائے گا جو نہایت قیمتی ہے اور جس کے محافظ صرف تیس یا چالیس شخص ہیں، اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایسی جگہ لا کھڑا کیا جہاں لڑائی کے بغیر چارہ نہ تھا۔ {” عُدْوَةٌ “} کنارا۔ {” الدُّنْيَا “ ” دُنُوٌّ “ } (قریب ہونا) میں سے{” أَدْنٰي“} کی مؤنث ہے، قریب ترین، یعنی تم وادی بدر کے اس سرے پر تھے جو مدینہ کے قریب ترین ہے۔ {” الْقُصْوٰى “ ” أَقْصٰي“} کی مؤنث ہے دور ترین، یعنی قریش اسی وادی بدر کے مدینہ سے دور والے کنارے پر تھے۔ {” وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ “} یعنی جس قافلے کی خاطر تم نکلے تھے وہ تم سے نیچے ساحل سمندر پر تھا، جہاں تمھارا پہنچنا اس وقت ممکن نہ تھا اور تم اور قریش کسی پیشگی ارادے کے بغیر ایک ہی وادی کے کناروں پر آ جمع ہوئے تھے، نہ انھیں تمھارا علم تھا نہ تمھیں ان کا اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ حق و باطل کا ٹکراؤ کروا کر حق واضح کر دے۔ اگر تم اور قریش وقت اور جگہ طے کر کے لڑائی کے لیے نکلتے تو یقینا طے کردہ وعدے پر پہنچنے میں کمی بیشی ہو جاتی، یا تم اپنی تعداد اور تیاری کی کمی کی وجہ سے نہ پہنچتے، یا کفار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ رعب سے خائف ہو کر نہ پہنچتے، مگر اللہ تعالیٰ کا تمھیں عین ایک ہی وادی میں لا جمع کرنا اس لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرنا چاہتا تھا وہ پورا کر دے، یعنی مسلمانوں کو فتح اور کفار کو شکست ہو۔ ➋ {لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَيِّنَةٍ …:} یعنی اس لیے کہ کفار کی اتنی کثرت اور تیاری اور مسلمانوں کی قلت اور بے سروسامانی کے باوجود مسلمانوں کی فتح کے ساتھ کفار پر حجت پوری ہو جائے اور اسلام کی حقانیت واضح ہو جائے، اس کے بعد اگر کوئی کافر رہے تو دلیل دیکھ کر کافر رہے اور ہلاکت میں پڑے اور جو کوئی مسلمان ہو تو وہ بھی دلیل دیکھ کر مسلمان ہو اور ہمیشہ کی زندگی حاصل کرے۔
← پچھلی آیت (41) پوری سورۃ اگلی آیت (43) →