بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنفال — Surah Anfal
آیت نمبر 33
کل آیات: 75
قرآن کریم الأنفال آیت 33
آیت نمبر: 33 — سورۃ الأنفال islamicurdubooks.com ↗
وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ وَ اَنۡتَ فِیۡہِمۡ ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمۡ وَ ہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ﴿۳۳﴾
اُس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جبکہ تو ان کے درمیان موجود تھا اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دیدے
اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے گا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وه استغفار بھی کرتے ہوں
اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب! تم ان میں تشریف فرما ہو اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں
اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ ان پر عذاب نازل کرے جبکہ آپ ان کے درمیان موجود ہیں اور اللہ ایسا بھی نہیں ہے کہ ان پر عذاب نازل کرے جبکہ وہ استغفار کر رہے ہیں۔
اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ انھیں عذاب دے، جب کہ تو ان میں ہو اور اللہ انھیں کبھی عذاب دینے والا نہیں جب کہ وہ بخشش مانگتے ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور و تکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت بیان کرتا ہے کہ ’ جھوٹ موت بک دیتے ہیں کہ ہاں بھئی ہم نے قرآن سن لیا، اس میں رکھا کیا ہے۔ ہم خود قدر ہیں، اگر چاہیں تو اسی جیسا کلام کہدیں۔ حالانکہ وہ کہہ نہیں سکتے۔‘ اپنی عاجزی اور تہی دستی کو خوب جانتے، لیکن زبان سے شیخی بگھارتے تھے۔ جہاں قرآن سنا تو اس کی قدر گھٹانے کیلئے بک دیا جب کہ ان سے زبردست دعوے کے ساتھ کہا گیا کہ لاؤ اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لاؤ تو سب عاجز ہو گئے۔ پس یہ قول صرف جاہلوں کی خوش طبعی کیلئے کہتے تھے۔ کہا گیا ہے کہ یہ کہنے والا نصر بن حارث ملعون تھا۔ یہ خبیث فارس کے ملک گیا تو تھا اور رستم و اسفند یار کے قصے یاد کر آیا تھا۔ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت مل چکی تھی آپ لوگوں کو کلام اللہ شریف سنا رہے ہوتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوتے تو یہ اپنی مجلس جماتا اور فارس کے قصے سناتا، پھر فخراً کہتا کہو میرا بیان اچھا ہے یا محمد کا؟ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ یہ بدر کے دن قید ہو کر لایا گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی گردن ماری گئی «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اسے قید کرنے والے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ تھے۔ قبہ بن ابی معیط، طعیمہ بن عدی، نصر بن حارث، یہ تینوں اسی قید میں قتل کئے گئے۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا بھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا قیدی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ اللہ عزوجل کی کتاب کے بارے میں زبان درازی کرتا تھا۔} انہوں نے بعد از قتل پھر کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں جسے باندھ کر لایا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ { یا اللہ اپنے فضل سے مقداد کو غنی کر دے۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15993] ‏‏‏‏

آپ خوش ہو گئے اور عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہی میرا مقصد اور مقصود تھا۔ اسی کے بارے میں یہ آیت «وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَـٰذَا ۙ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ» اتری ہے۔ ایک روایت میں طعیمہ کی بجائے مطعم بن عدی کا نام ہے لیکن یہ غلط ہے بدر والے دن وہ تو زندہ ہی نہ تھا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ { اگر آج یہ زندہ ہوتا اور مجھ سے ان قیدیوں کو طلب کرتا تو میں اسے دے دیتا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3139] ‏‏‏‏ اس لیے کہ طائف سے لوٹتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی اپنی پناہ میں مکہ میں لے گیا تھا۔ یہ کفار کہتے تھے کہ قرآن میں سوائے پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیوں کے کیا دھرا ہے انہیں کو پڑھ پڑھ کر لوگوں کو سناتا رہتا ہے۔ حالانکہ یہ محض جھوت بات تھی جو انہوں نے گھڑ لی تھی اسی لیے ان کے اس قول کو نقل کر کے جناب باری نے فرمایا ہے کہ «‏‏‏‏وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَىٰ عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 25-الفرقان: 5، 6 ] ‏‏‏‏ ’ انہیں جواب دے کہ اسے تو آسمان و زمین کی تمام غائب باتوں کے جاننے والے نے اتارا ہے جو غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ توبہ کرنے والوں کی خطائیں معاف فرماتا ہے، اپنے سامنے جھکنے والوں پر بڑے کرم کرتا ہے۔ ‘ پھر ان کی جہالت کا کرشمہ بیان ہو رہا ہے کہ چاہیئے تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ یا اللہ اگر یہ حق ہے تو ہمیں اس کی ہدایت دے اور اس کی اتباع کی توفیق نصیب فرما لیکن بجائے اس کے یہ دعا کرنے لگے کہ ہمیں جلد عذاب کر۔ «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ» ۱؎ [ 29-العنکبوت: 53 ] ‏‏‏‏ بات یہ ہے کہ ’ اللہ کی طرف سے ہرچیز کا وقت مقرر ہے ورنہ اس پر بھی عذاب آ جاتا لیکن اگر تمہارا یہی حال رہا تو پھر بھی وہ دن دور نہیں اچانک ان کی بیخبری میں اپنے وقت پر آ ہی جائے گا۔‘

یہ تو کہا کرتے تھے کہ «‏‏‏‏وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ» ۱؎ [38-ص:16] ‏‏‏‏ ’ ہمارا فیصلہ فیصلے کے دن سے پہلے ہی ہو جائے گا ‘ بطور مذاق عذاب کے واقع ہونے کی درخواست کرتے تھے جو کافروں پر آنے ولا ہے، جسے کوئی روک نہیں سکتا، آیت میں ہے «سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 70-المعارج: 1 - 3 ] ‏‏‏‏ ’ جو اس اللہ کی طرف سے ہو گا جو سیڑھیوں والا ہے۔‘ اگلی امتوں کے جاہلوں کا بھی یہی وطیرہ رہا۔ قوم شعیب نے کہا تھا کہ اے مدعی نبوت اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کو گرا دے۔ اسی طرح ان لوگوں نے کہا۔ ابوجہل وغیرہ نے یہ دعا کی تھی جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ ’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اور انہی میں سے بعض کا استغفار اللہ کے عذاب کی ڈھال ہے۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:4648] ‏‏‏‏ نصر بن حارث بن کلدہ نے بھی یہی دعا کی تھی جس کا ذکر «سَأَلَ سَائِلٌ» میں ہے ان کے اسی قول کا ذکر آیت «‏‏‏‏وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 38-ص: 16 ] ‏‏‏‏، میں ہے اور آیت «‏‏‏‏وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ» ۱؎ [ 6-الأنعام: 94 ] ‏‏‏‏، میں ہے اور آیت «سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ» ۱؎ [ 70-المعارج: 1 - 3 ] ‏‏‏‏، میں ہے۔ غرض دس سے اوپر اوپر آیتیں اس بیان میں ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:231/6] ‏‏‏‏ عمرو بن العاص جنگ احد میں اپنے گھوڑے پر سوار تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ اگر محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ کا لایا ہوا دین حق ہے تو مجھے میرے گھوڑے سمیت زمین میں دھنسا دے گو اس امت کے بیوقوفوں نے یہ تمنا کی لیکن اللہ نے اس امت پر رحم فرمایا اور جواب دیا کہ ایک تو پیغمبر کی موجودگی عام عذاب سے مانع ہے دوسرے تم لوگوں کا استغفار۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:231/6] ‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ مشرک حج میں طواف کے وقت کہتے تھے «لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ» اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: { بس بس یہیں تک بولو آگے نہ بڑھو } لیکن وہ پھر کہتے «اَلاَ شَرِیْكّا هُوَ لَكَ تَمْلِکُهُ وَمَا مَلَك» یعنی ہم حاضر ہیں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں۔پھر کہتے ہاں وہ شریک جو خود بھی تیری ملکیت میں ہیں اور جن چیزوں کو وہ مالک ہیں ان کا بھی اصل مالک تو ہی ہے اور کہتے «غُفْرَانَكَ غُفْرَانَكَ» اے اللہ ہم تجھ سے استغفار کرتے ہیں اے اللہ تو ہمیں معاف فرما۔

اسی طلب بخشش کو عذاب کے جلد نہ آنے کا سبب بتایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان میں دو سبب تھے ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے استغفار پس آپ تو چل دیئے اور استغفار باقی رہ گیا۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3082،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ قریشی آپس میں کہا کرتے تھے کہ محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ کو اللہ نے ہم میں سے ہم پر بزرگ بنایا اے اللہ اگر یہ سچا ہے تو تو ہمیں عذاب کر۔ جب ایمان لائے تو اپنے اس قول پر برا ہی نادم ہوئے اور استغفار کیا اسی کا بیان دوسری آیت میں ہے۔ پس انبیاء کی موجودگی میں قوموں پر عذاب نہیں آتا ہاں وہ نکل جائیں پھر عذاب برس پڑتے ہیں اور چونکہ ان کی قسمت میں ایمان تھا اور بعد از ایمان وہ استغفار اہل مکہ کے لیے باعث امن و امان تھا۔ ان دو وجہہ امن میں سے ایک تو اب نہ رہا دوسرا اب بھی موجود ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { مجھ پر دو امن میری امت کیلئے اترے ہیں ایک میری موجودگی دوسرے ان کا استغفار پس جب میں چلا جاؤں گا تو استغفار قیامت تک کیلئے ان میں چھوڑ جاؤں گا۔ } ایک اور حدیث میں ہے کہ شیطان نے کہا اے اللہ مجھے تیری عزت کی قسم میں تو جب تک تیرے بندوں کے جسم میں روح ہے انہیں بہکاتا رہوں گا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ’ مجھے بھی میری جلالت اور میری بزرگی کی قسم جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا۔‘ ۱؎ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:104] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بندہ اللہ کے عذابوں سے امن میں رہتا ہے جب تک وہ اللہ عزوجل سے استغفار کرتا ہے۔} ۱؎ [مسند احمد:20/6:صحیح] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

33۔ 1 یعنی پیغمبر کی موجودگی میں قوم پر عذاب نہیں آتا، اس لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود گرامی ان کے حفظ وامان کا سبب تھا۔ 33۔ 2 اس سے مراد یہ ہے کہ آئندہ مسلمان ہو کر استغفار کریں گے، یا یہ کہ طواف کرتے وقت مشرکین غَفْرَانَکَ رَبَّنَا غْفُرَانَکَ کہا کرتے تھے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 33) ➊ {وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِيْهِمْ:} یعنی جب تک آپ ان میں موجود ہیں اللہ تعالیٰ ان پر کبھی عذاب بھیجنے والا نہیں، کیونکہ اس کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نازل نہیں کرتا جب تک ان کا رسول اور ایمان والے ان میں موجود رہتے ہیں۔ چنانچہ نوح، ہود، صالح اور لوط علیھم السلام کے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔ قوم لوط کے متعلق فرمایا: «{ فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ }» [ الذاریات: ۳۵ ] ”ہم نے اس بستی سے جو بھی مومن تھا نکال لیا۔“ اسی طرح نوح علیہ السلام کو حکم ہوا کہ تمام اہل ایمان کو کشتی میں بٹھا لو، پھر عذاب بڑھنا شروع ہوا۔ دیکھیے سورۂ ہود (۴۰) اور سورۂ مومنون (۲۷) ➋ {وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ …:} یعنی یہ بھی اللہ تعالیٰ کا قاعدہ ہے کہ جب تک کوئی قوم اپنے گناہوں پر نادم ہو کر استغفار کرتی رہتی ہے وہ اسے ہلاک نہیں کرتا۔ یہاں فرمایا: ”جب کہ وہ بخشش مانگتے ہوں۔“ اس کی دو توجیہیں زیادہ معتبر ہیں، ایک تو یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کر جانے کے بعد بھی کچھ مسلمان مجبوراً مکہ میں رہ گئے تھے اور وہ اپنے رب سے استغفار کرتے رہتے تھے، ان کے استغفار کی برکت سے اہل مکہ پر عذاب نہیں آیا، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «{ لَوْ تَزَيَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا }» [ الفتح: ۲۵ ] ”اگر وہ (مومن اور کافر) الگ الگ ہو گئے ہوتے تو ہم ضرور ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے کفر کیا تھا، عذاب دیتے دردناک عذاب۔“ دوسری توجیہ یہ ہے کہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کے علم میں ایسے لوگ موجود تھے جو آئندہ چل کر مسلمان ہوں گے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں گے، اس لیے ان پر ایسا عذاب نہیں آ سکتا تھا جو سب کو سرے سے فنا کر ڈالے۔ اس توجیہہ کی طرف اشارہ بھی سورۂ فتح (۲۵) میں موجود ہے: «{ لِيُدْخِلَ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَآءُ }» ”تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جسے چاہے داخل کرلے۔“
← پچھلی آیت (32) پوری سورۃ اگلی آیت (34) →