بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنفال — Surah Anfal
آیت نمبر 44
کل آیات: 75
قرآن کریم الأنفال آیت 44
آیت نمبر: 44 — سورۃ الأنفال islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذۡ یُرِیۡکُمُوۡہُمۡ اِذِ الۡتَقَیۡتُمۡ فِیۡۤ اَعۡیُنِکُمۡ قَلِیۡلًا وَّ یُقَلِّلُکُمۡ فِیۡۤ اَعۡیُنِہِمۡ لِیَقۡضِیَ اللّٰہُ اَمۡرًا کَانَ مَفۡعُوۡلًا ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿٪۴۴﴾
اور یاد کرو جب کہ مقابلے کے وقت خدا نے تم لوگوں کی نگاہوں میں دشمنوں کو تھوڑا دکھایا اور ان کی نگاہوں میں تمہیں کم کر کے پیش کیا، تاکہ جو بات ہونی تھی اُسے اللہ ظہُور میں لے آئے، اور آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں
جبکہ اس نے بوقت ملاقات انہیں تمہاری نگاہوں میں بہت کم دکھائے اور تمہیں ان کی نگاہوں میں کم دکھائے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کام کو انجام تک پہنچا دے جو کرنا ہی تھا اور سب کام اللہ ہی کی طرف پھیرے جاتے ہیں
او ر جب لڑتے وقت تمہیں کا فر تھو ڑے کرکے دکھائے اور تمہیں ان کی نگاہوں میں تھو ڑا کیا کہ اللہ پو را کرے جو کام ہونا ہے اور اللہ کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے،
وہ وقت یاد کرو۔ کہ جب اللہ نے انہیں تمہاری نگاہوں میں کم کرکے دکھایا۔ اور تمہاری تعداد کو ان کی نظروں میں کم کرکے دکھایا تاکہ اللہ اس کو پورا کرے جو ہو کر رہنا تھا۔ اور تمام معاملات کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے۔
اور جب وہ تمھیں، جس وقت تم مقابل ہوئے، انھیں تمھاری آنکھوں میں تھوڑے دکھاتا تھا اور تمھیں ان کی آنکھوں میں بہت کم کرتا تھا، تاکہ اللہ اس کام کو پورا کر دے جو کیا جانے والا تھا اور سب معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

لڑائی میں مومن کم اور کفار زیادہ دکھائی دئیے ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں مشرکوں کی تعداد بہت کم دکھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے ذکر کیا، یہ چیز ان کی ثابت قدمی کا باعث بن گئی۔ بعض بزرگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے ان کی تعداد کم دکھائی۔ جن آنکھوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے۔ لیکن یہ قول غریب ہے جب قرآن میں «مَنَامِ» کے لفظ ہیں تو اس کی تاویل بلا دلیل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ممکن تھا کہ ان کی تعداد کی زیادتی میں رعب بٹھا دے اور آپس میں اختلاف شروع ہو جائے کہ آیا ان سے لڑیں یا نہ لڑیں؟ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے ہی بچا لیا اور ان کی تعداد کم کر کے دکھائی۔ اللہ پاک دلوں کے بھید سے سینے کے راز سے واقف ہے آنکھوں کی خیانت اور دل کے بھید جانتا ہے۔ خواب میں تعداد میں کم دکھا کر پھر یہ بھی مہربانی فرمائی کہ بوقت جنگ بھی مسلمانوں کی نگاہوں اور ان کی جانچ میں وہ بہت ہی کم آئے تاکہ مسلمان دلیر ہو جائیں اور انہیں کوئی چیز نہ سمجھیں۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں میں نے اندازہ کر کے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ لوگ تو کوئی ستر کے قریب ہوں گے اس نے پورا اندازہ کر کے کہا نہیں کوئی ایک ہزار کا یہ لشکر ہے۔ پھر اسی طرح کافروں کی نظروں میں بھی اللہ حکیم نے مسلمانوں کی تعداد کم دکھائی اب تو وہ ان پر اور یہ ان پر ٹوٹ پڑے۔ تاکہ رب کا کام جس کا کرنا وہ اپنے علم میں مقرر کر چکا تھا پورا ہو جائے کافروں پر اپنی پکڑ اور مومنوں پر اپنی رحمت نازل فرما دے۔ جب تک لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی یہی کیفیت دونوں جانب رہی لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوں سے اپنے بندوں کی مدد فرمائی مسلمانوں کا لشکر بڑھ گیا اور کافروں کا زور ٹوٹ گیا۔ چنانچہ اب تو کافروں کو مسلمان اپنے سے دگنے نظر آنے لگے اور اللہ نے موحدوں کی مدد کی اور آنکھوں والوں کیلئے عبرت کا خزانہ کھول دیا۔ جیسے کہ «‏‏‏‏قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ ۚ وَاللَّـهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَاءُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ» ۱؎ [ 3-آل عمران: 13 ] ‏‏‏‏، میں بیان ہوا ہے۔ پس دونوں آیتیں ایک سی ہیں مسلمان تب تک کم نظر آتے رہے جب تک لڑائی شروع نہیں ہوئی۔ شروع ہوتے ہیں مسلمان دگنے دکھائی دینے لگے۔

📖 احسن البیان

44۔ 1 تاکہ وہ کافر بھی تم سے خوف کھا کر پیچھے نہ ہٹیں، پہلا واقعہ خواب کا تھا اور یہ دکھلانا عین قتال کے وقت تھا، جیسا کہ الفاظ قرآنی سے واضح ہے۔ تاہم یہ معاملہ ابتدا میں تھا، لیکن جب باقاعدہ لڑائی شروع ہوگئی تو پھر کافروں کو مسلمان اپنے سے دوگنا نظر آتے تھے، جیسا کہ سورة، آل عمران کی آیت 13 سے معلوم ہوتا ہے۔ بعد میں زیادہ دکھانے کی حکمت یہ نظر آتی ہے کہ کثرت دیکھ کر ان کے اندر مسلمانوں کا خوف اور دہشت بیٹھ جائے، جس سے ان کے اندر بزدلی اور پست ہمتی پیدا ہو، اس کے برعکس پہلے کم دکھانے میں حکمت یہ تھی کہ وہ لڑنے سے گریز نہ کریں۔ 44۔ 2 اس سب کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ کیا ہوا تھا، وہ پورا ہوجائے۔ اس لئے اس نے اس کے اسباب پیدا فرما دے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 44) ➊ {وَ اِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِيْۤ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا …:} پہلا واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کا تھا، یہ عین میدان جنگ کا واقعہ ہے، جب جنگ ہونے والی تھی مگر ابھی شروع نہیں ہوئی تھی، کافر مسلمانوں کو تھوڑے نظر آتے تھے، حتیٰ کہ بعض نے دوسرے سے پوچھا، تمھارے خیال میں یہ کتنے ہوں گے؟ اس نے کہا، ستر (۷۰) کے قریب ہوں گے۔ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کی بھی تائید ہو رہی تھی اور یہ بھی کہ مسلمانوں کی ہمت بڑھ جائے اور کفار کی نظر میں مسلمانوں کو کم دکھانے کی حکمت یہ تھی کہ وہ زیادہ تیاری کی ضرورت نہ سمجھیں اور لڑائی سے گریز نہ کریں، بلکہ دونوں فریق ایک دوسرے کو کم سمجھتے ہوئے لڑائی پر آمادہ ہو جائیں۔ یہ شروع کی بات ہے، مگر جب جنگ شروع ہو گئی تو کافروں کو مسلمانوں کی تعداد زیادہ نظر آنے لگی، جیسا کہ آل عمران میں ہے: «وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ يَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَاْيَ الْعَيْنِ» [ آل عمران: ۱۳ ] ” اور دوسری جماعت کافر تھی جو ان (مسلمانوں) کو آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اپنے سے دو گنا دیکھ رہے تھے۔“ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ جنگ شروع ہو گئی، پھر شروع ہونے پر کافروں کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ جلد ہی شکست کھا کر پیچھے کی طرف بھاگنے لگے اور مسلمانوں کے حوصلے بدستور بڑھتے گئے۔ ➋ { لِيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا:} یعنی وہی کہ اسلام کی فتح اور کفر کی شکست ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر معجزانہ دلیل قائم ہو جائے۔ ➌ { وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ:} یعنی وہی جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے اور پھر جب اصل اختیار ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے تو مسلمان کو چاہیے کہ اسی کو اپنا مقصود بنائے۔
← پچھلی آیت (43) پوری سورۃ اگلی آیت (45) →