بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ترنم کے ساتھ قرآن پڑھنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قرآن کے فضائل ترنم کے ساتھ قرآن پڑھنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 14
حدیث نمبر: 3520 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنِ أَبِي نَهِيكٍ ، سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ". قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: يَسْتَغْنِي، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: النَّاسُ يَقُولُونَ: عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَهِيكٍ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص خوش الحانی سے قرآن نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ ابن عیینہ نے کہا: «لم يتغن» سے مراد «يستغني» ہے۔ ابومحمد امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: ابونہیک کو لوگ عبیداللہ بن ابی نہیک کہتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3520]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3531] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1469، 1470] ، [أبويعلی 689، 748] ، [ابن حبان 120] ، [الحميدي 76، 77] ، [الدورفي فى مسند سعد 127] ، [ابوالفضل الرازي فضائل القرآن 90] ، [ابن كثير فى الفضائل، ص: 186] ، [البيهقي فى شعب الإيمان 2613] ، [أبوعبيد فى الفضائل، ص: 209] و [القضاعي فى مسند الشهاب 1194، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح احادیث 3518 سے 3520)
«مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ» کی تفسیر میں علمائے کرام کی مختلف آراء ہیں، بعض نے کہا: جو قرآن پاک کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، مد و شد کی رعایت نہ کرے بشرطیکہ کوئی حرف کم یا زیادہ نہ ہو اور راگنی کو دخل نہ دے (یعنی گانے کی طرح نہ پڑھے)۔
بعض علماء نے کہا: جو قرآن پڑھ کر دنیا سے یا شعر و سخن سے بے پرواہ نہ ہو جائے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
بعض علماء نے کہا: عرب میں دستور تھا مجلس اور سفر میں گایا کرتے تھے، اب اس کے بدلے میں یہ قرآن پایا کہ قرآن پڑھا جائے، یہی اسلام کا گانا ہے۔
بعض نے کہا: اس سے مراد پکار کر پڑھنا ہے۔
(وحیدی بتصرف)
«لَيْسَ مِنَّا» سے مراد یہ ہے: ایسا شخص جو ترنم سے قرآن نہ پڑھے ہمارے اسلامی طریقے پر نہیں ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3521 سنن دارمی
جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، مِسْعَرٌ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، طَاوُسٍ
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النَّاسِ أَحْسَنُ صَوْتًا لِلْقُرْآنِ، وَأَحْسَنُ قِرَاءَةً؟ قَالَ: "مَنْ إِذَا سَمِعْتَهُ يَقْرَأُ، أُرِيتَ أَنَّهُ يَخْشَى اللَّهَ"، قَالَ طَاوُسٌ: وَكَانَ طَلْقٌ كَذَلِكَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
طاؤس رحمہ اللہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا آدمی قرآن کے لئے اچھی آواز والا ہے؟ یا اچھی قراءت کرنے والا کون ہے؟ فرمایا: جس کو تم جب پڑھتے ہوئے سنو تو ایسا لگے کہ وہ اللہ سے ڈر رہا ہے۔ طاؤس رحمہ اللہ نے کہا: طلق ایسے ہی تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3521]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الكريم وهو: ابن أبي المخارق، [مكتبه الشامله نمبر: 3532] »
عبدالکریم بن ابی المخارق کی وجہ سے اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 9694] ، [فضائل القرآن لأبي عبيد، ص: 165] ، [حلية الأولياء 19/4] ، [الطبراني فى الكبير 7/11، 10852] ، [ابن كثير فى البداية 243/9] و [المرشد الوجيز لابن شامه، ص: 199]
وضاحت
(تشریح حدیث 3520)
مقصد یہ کہ کس شخص کی آواز یا قراءت اچھی مانی جائے گی؟ فرمایا: جس کی تلاوت سے الله کا ڈر پیدا ہو۔
یہ بھی وارد ہے کہ قرآن کو عرب کے لب و لہجے اور ان کی آواز سے پڑھو، اور گا گا کر گانے کی آواز سے پڑھنے کی ممانعت ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبد الكريم وهو: ابن أبي المخارق
حدیث نمبر: 3522 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، اللَّيْثُ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَمْ يَأْذَنْ اللَّهُ لِشَيْءٍ، مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ"، قَالَ صَاحِبٌ لَهُ: أَرَادَ: يَجْهَرُ بِهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: الله تعالیٰ نے کوئی چیز اتنی توجہ سے نہیں سنی جتنی توجہ سے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بہترین آواز کے ساتھ قرآن مجید پڑھتے سناہے۔ ابوسلمہ کے شاگرد نے کہا: ان کی مراد بلند آواز سے قرآن پڑھنے کی تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3522]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3533] »
یہ اثر اس سند سے ضعیف ہے، لیکن اسی طرح صحیحین میں صحیح سند سے موجود ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5023] ، [مسلم 792] ، [أبويعلی 5959] ، [ابن حبان 751] ، [الحميدي 979] ، [ابن كثير فى فضائل القرآن، ص: 179]
الحكم: إسناده ضعيف ولكن الحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 3523 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، اللَّيْثُ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: "مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ، كَمَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی ویسے ہی مروی ہے جیسے اوپر بیان ہوا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3523]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف وهو موقوف على أبي هريرة، [مكتبه الشامله نمبر: 3534] »
ترجمہ و تخریج اوپر گذرچکی ہے، لیکن یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پرموقوف ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف وهو موقوف على أبي هريرة
حدیث نمبر: 3524 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، اللَّيْثُ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لِأَبِي مُوسَى وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ: "لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے لیے فرماتے تھے، جو قرآن بڑی اچھی آواز سے پڑھتے تھے: ان کو داؤد علیہ السلام جیسی بہترین آواز عطا کی گئی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3524]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح وهو مرسل ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3535] »
یہ روایت مرسل ہے، اور عبداللہ بن صالح ضعیف ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5048] ، [مسلم 793] ، [أبويعلی 7279] ، [ابن حبان 7197] ، [البيهقي 12/3، 231/10] ، [و فى شعب الإيمان 526/2، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح احادیث 3521 سے 3524)
داؤد علیہ السلام کو اچھی آواز (خوش الحان) کا معجزہ دیا گیا تھا، وہ بھی زبور خوش آوازی سے پڑھتے تھے اور ایک عجیب سماں بندھ جاتا تھا، (راز رحمہ اللہ)۔
«مَزَامِيْر مِزْمَار» کی جمع ہے جو ستار اور بجانے کے آلے کا نام ہے، یہاں مراد خوش الحانی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح وهو مرسل ولكن الحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 3525 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، اللَّيْثُ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَيْضًا: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ إِذَا رَأَى أَبَا مُوسَى، قَالَ: "ذَكِّرْنَا رَبَّنَا يَا أَبَا مُوسَى، فَيَقْرَأُ عِنْدَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوسلمہ نے ہی بیان کیا کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ جب بھی سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیکھتے تو فرماتے تھے: اے ابوموسیٰ! ہمارے رب کی یاد تازہ کراؤ، چنانچہ وہ ان کے پاس قرآن کی تلاوت کرتے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3525]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده علتان: ضعف عبد الله بن صالح والانقطاع أبو سلمة لم يسمعه من عمر، [مكتبه الشامله نمبر: 3536] »
اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں: عبداللہ بن صالح ضعیف اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کا لقاء امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں، لہٰذا سند منقطع ہے۔ دیکھئے: [فضائل القرآن لأبي عبيد، ص: 163] ، [فضائل القرآن لابن كثير، ص: 191] ، [ابن حبان 7196] ، [موارد الظمآن بعين الحديث 2264] و [البيهقي 231/10]
الحكم: في إسناده علتان: ضعف عبد الله بن صالح والانقطاع أبو سلمة لم يسمعه من عمر
حدیث نمبر: 3526 سنن دارمی
جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَضَعُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى يَتَغَنَّى وَيَدَعُ أَنْ يَقْرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَفِرُّ مِنْ الْبَيْتِ يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، وَإِنَّ أَصْفَرَ الْبُيُوتِ الْجَوْفُ، يَصْفَرُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم میں سے کسی کو پیر کے اوپر پیر رکھے قرآن کو گاتے ہوئے اور سورہ بقرہ کو چھوڑے ہوئے نہ پاؤں، بیشک شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے، اور بیشک ویران گھر وہ ہیں جن میں کتاب الٰہی نہ پڑھی جائے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3526]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن مسلم الهجري وهو موقوف، [مكتبه الشامله نمبر: 3537] »
ابراہیم بن مسلم الہجری کی وجہ سے اس روایت کی سند ضعیف ہے، اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر یہ روایت موقوف بھی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10073] ، [عبدالرزاق 5998] ، [طبراني فى الأوسط 7762] ۔ لیکن سب کی سند ضعیف ہے۔ یہ اثر اس معنی میں پیچھے متعدد بار سورہ بقرہ کی فضیلت میں گذر چکا ہے: اور جس گھر میں یہ سورت پڑھی جائے اس سے یقیناً شیطان بھاگتا ہے۔ دیکھئے رقم (3411)۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن مسلم الهجري وهو موقوف
حدیث نمبر: 3527 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ آلِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "قَدِمَ سَلَمَةُ الْبَيْذَقُ الْمَدِينَةَ، فَقَامَ يُصَلِّي بِهِمْ، فَقِيلَ لِسَالِمٍ: لَوْ جِئْتَ فَسَمِعْتَ قِرَاءَتَهُ، فَلَمَّا كَانَ بِبَابِ الْمَسْجِدِ، سَمِعَ قِرَاءَتَهُ، رَجَعَ فَقَالَ: غِنَاءٌ غِنَاءٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کے اہل میں سے کسی نے کہا: سالم البيذق مدینہ طیبہ آئے اور نماز پڑھانے لگے تو سالم رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کاش آپ بھی جا کر ان کی قراءت سنتے، چنانچہ جب سالم بن عبداللہ دروازے پر پہنچے اور ان کی قراءت سنی تو واپس لوٹ آئے اور کہا: گانا ہے گانا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3527]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه جهالة وابن جريج قد عنعن وهو مدلس، [مكتبه الشامله نمبر: 3538] »
اس روایت میں جہالت ہے، اور کسی نسخہ میں سلمہ البيذق ہے کسی میں سالم، نیز ابن جریح کا عنعنہ بھی ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ (”گانے والوں اور اہلِ کتاب کے لب و لہجہ سے قرآن کی تلاوت میں پرہیز کرو، میرے بعد ایک قوم ایسی پیدا ہوگی جو قرآن مجید کو گویوں کی طرح گا گا کر پڑھے گی، یہ تلاوت ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گی، اور ان کے دل فتنوں میں مبتلا ہوں گے“ (او كما قال صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) یعنی ایسی تلاوت قطعاً منع ہے، سالم جو کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے ہیں ان کے والد نہایت سختی سے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی کرتے تھے، اور سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اتباع سے سرمو انحراف یا خلاف ورزی ان پر شاق گذرتی تھی، کوئی بعید نہیں کہ اس قاری کی قراءت سن کر مذکورہ حدیث کے مطابق گویے کی طرح قرآن پڑھنے کو انہوں نے ناپسند کیا اور گھر واپس لوٹ گئے۔
الحكم: إسناده ضعيف فيه جهالة وابن جريج قد عنعن وهو مدلس
حدیث نمبر: 3528 سنن دارمی
أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عُمَرَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ:"أَنَّ أَبَا مُوسَى كَانَ يَأْتِي عُمَرَ، فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ: ذَكِّرْنَا رَبَّنَا، فَيَقْرَأُ عِنْدَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت کیا کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لاتے تو امیر المومنین ان سے فرماتے تھے: ہمارے رب کی یاد دلاؤ، چنانچہ وہ ان کے پاس تلاوت کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3528]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه، [مكتبه الشامله نمبر: 3539] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، ابوسلمہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ہی نہیں۔ پیچھے رقم (3525) پر یہ روایت گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 3529 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ، كَأَذَنِهِ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کسی کو اجازت نہ دی جیسی ایک نبی (خود محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کو خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کی، یعنی بلند آواز سے قرآن پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3529]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3540] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [طبقات ابن سعد 79/1/4] ۔ نیز دیکھئے: مزید تفصیل کے لئے رقم (3522)۔
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3530 سنن دارمی
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، ابْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَقَدْ أُوتِيَ أَبُو مُوسَى مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن بریدہ نے اپنے والد سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو آل داؤد کی سریلی آواز عطا کی گئی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3530]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3541] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ بعض نسخ میں عن ابی بریدہ ہے جو غلط ہے۔ راوی ابن بریدہ ہیں۔ دیکھئے: [مسلم 793] ، [أحمد 349/5] ، [ابن أبى شيبه 9987] ، [البيهقي 230/10] و [الحاكم 7757]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3531 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:"دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَ قِرَاءَةَ رَجُلٍ، فَقَالَ:"مَنْ هَذَا"؟ قِيلَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: "لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو ایک صحابی کی قراءات سنی، فرمایا: یہ کون ہیں؟ عرض کیا گیا: عبداللہ بن قیس (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) ہیں، فرمایا: ان کو آل داؤد کی مزامیر میں (سریلی) آواز عطا کی گئی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3531]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3542] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 1341] ، [ابن حبان 7196] و [موارد الظمآن 2264]
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3532 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، طَلْحَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو اپنی آواز کے ساتھ زینت دو۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3532]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3543] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1468] ، [نسائي 1014] ، [ابن ماجه 1342] ، [أبويعلی 1687، 1706] ، [ابن حبان 749] ، [موارد الظمآن 660] ، [فضائل القرآن لأبي عبيد 160] ، [فضائل القرآن للرازي، ص: 190، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح احادیث 3524 سے 3532)
اس حدیث میں قرآن کو اپنی آواز سے آراستہ کرنے کا مطلب یہی ہے کہ خوش آوازی کے ساتھ قرآن پڑھو، یہ مطلب نہیں کہ میوزک یا گانے کی طرح آواز نکالو۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3533 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، صَدَقَةُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "حَسِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ، فَإِنَّ الصَّوْتَ الْحَسَنَ يَزِيدُ الْقُرْآنَ حُسْنًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے: قرآن اپنی اچھی آواز سے پڑھو کیونکہ اچھی آواز قرآن کو مزید خوشنما بنا دیتی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3533]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3544] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مستدرك الحاكم 575/1]
الحكم: إسناده صحيح