بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3520 — ترنم کے ساتھ قرآن پڑھنے کا بیان
کتب سنن دارمی قرآن کے فضائل ترنم کے ساتھ قرآن پڑھنے کا بیان حدیث 3520
حدیث نمبر: 3520 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنِ أَبِي نَهِيكٍ ، سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ". قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: يَسْتَغْنِي، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: النَّاسُ يَقُولُونَ: عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَهِيكٍ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص خوش الحانی سے قرآن نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ ابن عیینہ نے کہا: «لم يتغن» سے مراد «يستغني» ہے۔ ابومحمد امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: ابونہیک کو لوگ عبیداللہ بن ابی نہیک کہتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3520]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3531] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1469، 1470] ، [أبويعلی 689، 748] ، [ابن حبان 120] ، [الحميدي 76، 77] ، [الدورفي فى مسند سعد 127] ، [ابوالفضل الرازي فضائل القرآن 90] ، [ابن كثير فى الفضائل، ص: 186] ، [البيهقي فى شعب الإيمان 2613] ، [أبوعبيد فى الفضائل، ص: 209] و [القضاعي فى مسند الشهاب 1194، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح احادیث 3518 سے 3520)
«مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ» کی تفسیر میں علمائے کرام کی مختلف آراء ہیں، بعض نے کہا: جو قرآن پاک کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، مد و شد کی رعایت نہ کرے بشرطیکہ کوئی حرف کم یا زیادہ نہ ہو اور راگنی کو دخل نہ دے (یعنی گانے کی طرح نہ پڑھے)۔
بعض علماء نے کہا: جو قرآن پڑھ کر دنیا سے یا شعر و سخن سے بے پرواہ نہ ہو جائے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
بعض علماء نے کہا: عرب میں دستور تھا مجلس اور سفر میں گایا کرتے تھے، اب اس کے بدلے میں یہ قرآن پایا کہ قرآن پڑھا جائے، یہی اسلام کا گانا ہے۔
بعض نے کہا: اس سے مراد پکار کر پڑھنا ہے۔
(وحیدی بتصرف)
«لَيْسَ مِنَّا» سے مراد یہ ہے: ایسا شخص جو ترنم سے قرآن نہ پڑھے ہمارے اسلامی طریقے پر نہیں ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (3519) باب پر واپس اگلی حدیث (3521) →