بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
لعان کرنے والے میاں بیوی کے بیٹے کی وراثت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان لعان کرنے والے میاں بیوی کے بیٹے کی وراثت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 19
حدیث نمبر: 2983 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، سَعِيدٍ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ، قَالَ: "مِيرَاثُهُ لِأُمِّهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے لعان کے بیٹے کے بارے میں کہا کہ اس کی میراث ماں کے لئے ہوگی۔
یعنی ولد الزنا کی طرح باپ اس کا وارث نہ ہوگا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2983]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 2993] »
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن ابراہیم رحمہ اللہ و سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان انقطاع ہے۔ ابومعشر کا نام زیاد بن کلیب ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11368] ، [عبدالرزاق 12479] ، [الحاكم 341/4] ، [البيهقي 258/6]
الحكم: رجاله ثقات غير أنه منقطع
حدیث نمبر: 2984 سنن دارمی
مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، رَجُلًا ، عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ
أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ لِمَنْ مِيرَاثُهُ؟ قَالَ: "لِأُمِّهِ وَأَهْلِهَا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم بن طہمان نے کہا: میں نے سنا ایک آدمی نے عطاء بن ابی رباح سے لعان کرنے والوں کی اولاد کے بارے میں پوچھا کہ ان کی میراث کس کے لئے ہوگی؟ انہوں نے کہا: اس کی ماں اور ماں کی آل اولاد کے لئے ہوگی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2984]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2994] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 12483]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2985 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، حَسَنٌ ، أَبِي سَهْلٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عَلِيٌّ ، ابْنُ مَسْعُودٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ: "تَرَكَ أَخَاهُ لِأُمِّهِ، وَأُمَّهُ لِأَخِيهِ السُّدُسُ، وَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ، ثُمَّ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ، فَيَصِيرُ لِلْأَخِ الثُّلُثُ، وَلِلْأُمِّ الثُّلُثَانِ". وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لِأَخِيهِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُمِّ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابن الملاعنہ (یعنی جو لڑکا لعان کے بعد پیدا ہوا اس کے) بارے میں کہا: جس نے اپنا مادری بھائی اور ماں چھوڑی: مادری بھائی کو چھٹا حصہ اور ماں کے لئے تہائی (ثلث) ہے، پھر باقی ان پر تقسیم ہوگا تو بھائی کے لئے ثلث ہو جائے گا اور ماں کے لئے دو ثلث ہو جائیں گے، اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: بھائی چھٹا حصہ اور جو بچے گا وہ سب ماں کا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2985]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أبي سهل محمد بن سالم، [مكتبه الشامله نمبر: 2995] »
ابوسہل محمد بن سالم کی وجہ سے یہ اثر ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11383] ، [البيهقي 258/6]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبي سهل محمد بن سالم
حدیث نمبر: 2986 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ: تَرَكَ ابْنَ أَخٍ وَجَدًّا، قَالَ: "الْمَالُ لِابْنِ الْأَخِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ سے ابن الملاعنہ کے بارے میں مروی ہے: جس نے بھتیجا اور دادا (یا نانا) کو چھوڑا، کہا کہ سارا مال بھتیجے کا ہوگا۔ (کیونکہ لعان کے بعد دادا کی نسبت صحیح نہیں، لہٰذا وہ وارث نہ ہوں گے۔ واللہ اعلم) [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2986]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أبي سهل محمد بن سالم، [مكتبه الشامله نمبر: 2996] »
ابوسہل کی وجہ سے اس اثر کی سند بھی ضعیف ہے۔ حوالہ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11382]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبي سهل محمد بن سالم
حدیث نمبر: 2987 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي مِيرَاثِ ابْنِ الْمُلَاعَنَة: "لِأُمِّهِ الثُّلُثُ، وَالثُّلُثَانِ لِبَيْتِ الْمَالِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ابن الملاعنہ کی میراث کے بارے میں ہے کہ ماں کے لئے ایک تہائی، باقی دو تہائی بیت المال کے لئے ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2987]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2997] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 12485] ، [البيهقي 258/6]
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2988 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ اللَّهِ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "مِيرَاثُهُ لِأُمِّهِ تَعْقِلُ عَنْهُ عَصَبَةُ أُمِّهِ"، وَقَالَ قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ: لِأُمِّهِ الثُّلُثُ، وَبَقِيَّةُ الْمَالِ لِعَصَبَةِ أُمِّهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (ابن الملاعنہ کی میراث کے بارے میں) کہا: اس کی میراث اس کی ماں کے لئے ہے، ماں کے جو عصبہ ہیں وہ اس سے دیت ادا کریں گے (اگر دیرت ہوتو)۔
اور قتاده رحمہ اللہ نے کہا: حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے: ثلث ماں کے لئے اور باقی مال اس کی ماں کے عصبہ کا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2988]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع إبراهيم لم يسمع عبد الله بن مسعود، [مكتبه الشامله نمبر: 2998] »
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔ حوالہ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11365، 11369] ، [ابن منصور 119] ، [الحاكم 341/4] ، [البيهقي 258/6]
وضاحت
(تشریح احادیث 2981 سے 2988)
کوئی وارث نہ ہونے کی صورت میں کل مال سمیٹنے والے کو عصبہ کہتے ہیں، تفصیل آگے آ رہی ہے۔
الحكم: إسناده منقطع إبراهيم لم يسمع عبد الله بن مسعود
حدیث نمبر: 2989 سنن دارمی
حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَتَادَةُ ، عَلِيًّا ، وَابْنَ مَسْعُودٍ
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ: أَنَّ عَلِيًّا، وَابْنَ مَسْعُودٍ قَالَا فِي وَلَدِ المُلَاعَنَةٍ تَرْكُ جَدَّتِهِ وَإِخْوَتِهِ لأُمِّهِ، قَالَ: "لِلْجَدَّةِ الثُّلُثُ، وَلِلْإِخْوَةِ الثُّلُثَانِ"، وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: لِلْجَدَّةِ السُّدُسُ، وَلِلْإِخْوَةِ لِلْأُمِّ الثُّلُثُ، وَمَا بَقِيَ فَلِبَيْتِ الْمَالِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قتاده رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا علی اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے ولد الملاعنہ کے بارے میں کہا: جس نے جدہ اور اپنے اخیافی (مادری بھائی) چھوڑے، جدہ (ام الام) کے لئے ثلث اور مادری بھائیوں کے لئے باقی بچے دو ثلث ہیں، اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: نانی کو سدس اور مادری بھائیوں کو ثلث، اور جو بچے وہ بیت المال میں جمع ہوگا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2989]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع قتادة لم يسمع من علي ولا من ابن مسعود، [مكتبه الشامله نمبر: 2999] »
قتادہ رحمہ اللہ نے سیدنا علی و سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے نہیں سنا اس لئے یہ اثر منقطع ہے۔ دیگر طرق بھی ضعیف ہیں۔ حوالہ دیکھئے: [ابن منصور 119] ، [البيهقي 258/6، 259]
الحكم: رجاله ثقات غير أنه منقطع قتادة لم يسمع من علي ولا من ابن مسعود
حدیث نمبر: 2990 سنن دارمی
حَجَّاجٌ ، حَمَّادٌ ، يُونُسُ ، وَحُمَيدٌ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ، وَحُمَيدٌ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "تَرِثُهُ أُمُّهُ يَعْنِي: ابْنَ الْمُلَاعَنَةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: اس کی ماں یعنی ابن الملاعنہ کی ماں وارث ہوگی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2990]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3000] »
اس اثر کی سند حسن رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ یہ اثر (3001) پرآگے آ رہی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح إلى الحسن
حدیث نمبر: 2991 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ: أَنَّ النَّخَعِيَّ، وَالشَّعْبِيّ، قَالَا: "تَرِثُهُ أُمُّهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی مثلِ سابق مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2991]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3001] »
اس حدیث کی سند حجاج بن ارطاة کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11405] ، [عبدالرزاق 12486]
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 2992 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَخٍ لِي
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى أَخٍ لِي مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ أَسْأَلُهُ: لِمَنْ قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ؟ فَكَتَبَ إِلَيَّ:"أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: قَضَى بِهِ لِأُمِّهِ هِيَ بِمَنْزِلَةِ أُمِّهِ وَأَبِيهِ. وقَالَ سُفْيَانُ: الْمَالُ كُلُّهُ لِلْأُمِّ هِيَ بِمَنْزِلَةِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن عبيد بن عمیر نے کہا: میں نے بنی زریق میں اپنے بھائی کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابن الملاعنہ کے بارے میں کیا فیصلہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا فیصلہ ماں کے حق میں کیا، کیوں کہ لعان کے بعد ماں ہی لڑکے کے لئے ماں اور باپ کی جگہ ہے۔
اور سفیان نے کہا: سارا مال ماں کے لئے ہوگا کیوں کہ ماں ماں باپ دونوں کے درجہ میں ہوگی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2992]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3002] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 9132، 11374] ، [عبدالرزاق 12476، 12477] ، [الحاكم 341/4] ، [البيهقي 259/6]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2993 سنن دارمی
مُحَمَّدٌ ، سُفْيَانُ ، هِشَامٍ ، الْحَسَنِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ تَرَكَ أُمَّهُ وَعَصَبَةَ أُمِّهِ، قَالَ: "الثُّلُثُ لِأُمِّهِ، وَمَا بَقِيَ فَلِعَصَبَةِ أُمِّهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ سے ابن الملاعنہ کے بارے میں مروی ہے: جس نے اپنے پیچھے اپنی ماں اور ماں کے عصبہ چھوڑے، انہوں نے کہا: ماں کے لئے ثلث ہے اور جو بچے وہ ماں کے عصبہ کے لئے ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2993]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3003] »
اس اثر کی سند حسن رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11383] ، [البيهقي 258/6]
الحكم: إسناده صحيح إلى الحسن
حدیث نمبر: 2994 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَامِرٍ ، عَلِيٍّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ فِي ابْنِ الْمُلاعَنَةِ، قَالا: "عَصَبَتُهُ عَصَبَةُ أُمِّهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا: ابن الملاعنہ کے عصبہ اس کی ماں کے عصبہ ہیں (یعنی وارث موجود نہ ہونے کی صورت میں سارا مال ان کا ہوگا)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2994]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف محمد بن أبي ليلى سيئ الحفظ جدا، [مكتبه الشامله نمبر: 3004] »
اس اثر کی سند میں محمد بن ابی لیلیٰ سیٔ الحفظ جدا ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11375] ، [عبدالرزاق 12482، ومن طريقه الطبراني فى الكبير 390/9، 9663] ، [ابن منصور 120] ، [البيهقي 258/6]
الحكم: إسناده ضعيف محمد بن أبي ليلى سيئ الحفظ جدا
حدیث نمبر: 2995 سنن دارمی
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْحَلَبِيُّ مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا المُعْتَمِر، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُول: "مِيرَاثُ وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ لِأُمِّه، قُلْتُ: فَإِنْ كَانَ لَهُ أَخٌ مِنْ أُمِّه؟ قَالَ: لَهُ السُّدُسُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
یونس نے کہا کہ حسن رحمہ اللہ کہتے تھے: ولد الملاعنہ کی میراث اس کی ماں کے لئے ہے، یونس نے کہا: میں نے کہا اگر اس کا مادری بھائی بھی موجود ہو تو؟ کہا: اگر اس کا مادری بھائی ہو تو اس کے لئے سدس ہوگا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2995]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد إلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3005] »
اس اثر کی سند حسن رحمہ اللہ تک جید ہے۔
الحكم: إسناده جيد إلى الحسن
حدیث نمبر: 2996 سنن دارمی
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: "وَلَدُ الْمُلَاعَنَةِ لِأُمِّه، تَرِثُ فَرِيضَتَهَا مِنْهُ، وَسَائِرُ ذَلِكَ فِي بَيْتِ الْمَالِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام زہری رحمہ اللہ نے بیان کیا: ولد الملاعنہ: اس کی ماں اس کی وارث ہوگی اور اپنا حصہ اس کے مال سے لے گی، اور یہ سب مال بیت المال میں جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2996]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الزهري، [مكتبه الشامله نمبر: 3006] »
اس اثر کی سند زہری رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11370] ، [عبدالرزاق 12484] ، [كنزل العمال 40608]
الحكم: إسناده صحيح إلى الزهري
حدیث نمبر: 2997 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "إِذَا تَلَاعَنَا، فُرِّقَ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَجْتَمِعَا، وَدُعِيَ الْوَلَدُ لِأُمِّهِ، يُقَالُ: ابْنُ فُلَانَةَ، هِيَ عَصَبَتُهُ يَرِثُهَا وَتَرِثُهُ، وَمَنْ دَعَاهُ لِزِنْيَةٍ، جُلِدَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر میاں بیوی لعان کریں تو ان کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی، پھر وہ کبھی بھی میاں بیوی نہ بن سکیں گے، اور لڑکا ماں کی طرف منسوب ہوگا، یہ کہا جائے گا کہ فلاں عورت کا لڑکا ہے، وہ (ملاعنہ عورت) اس لڑکے کے لئے عصبہ ہوگی، وہ لڑکا اس کا وارث ہوگا اور وہ لڑکے کی وارث ہوگی۔ اور جس نے اس لڑکے کو ولد الزنا کا طعنہ دیا تو اس کو کوڑے لگائے جائیں گے۔ (اسّی کوڑے تہمت لگانے کے ہیں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2997]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف موسى بن عبيدة، [مكتبه الشامله نمبر: 3007] »
موسیٰ بن عبید کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11376] ، [عبدالرزاق 12478]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف موسى بن عبيدة
حدیث نمبر: 2998 سنن دارمی
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ:"أَنَّهُ تَرِثُهُ عَصَبَةُ أُمِّهِ، وَهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
شیبانی (سلیمان بن ابی سلیمان) نے شعبی رحمہ اللہ سے ولد المتلاعنین کے بارے میں بیان کیا کہ اس کی ماں کے عصبہ اس کے وارث ہوں گے اور اس کی طرف سے دیت ادا کریں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2998]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 3008] »
اس اثر کی سند شعبی رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11367]
الحكم: إسناده صحيح إلى الشعبي
حدیث نمبر: 2999 سنن دارمی
سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، عَزْرَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ هُوَ الَّذِي لَا أَبَ لَهُ "تَرِثُهُ أُمُّهُ وَإِخْوَتُهُ مِنْ أُمِّهِ، ِوَعَصَبَةُُ أُمِّهِ، فَإِنْ قَذَفَهُ قَاذِف، جُلِدَ قَاذِفُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ولد المتلاعنہ کے بارے میں روایت کیا: جس کا باپ (معلوم) نہ ہو اس کی ماں اور اس کے مادری بھائی اور اس کی ماں کے عصبہ اس کے وارث ہوں گے، اگر اس کو کوئی زنا کی تہمت لگائے گا تو اس کو کوڑے مارے جائیں گے (اسّی کوڑے تہمتِ زنا کے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2999]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى ابن عباس، [مكتبه الشامله نمبر: 3009] »
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک اس اثر کی سند صحیح ہے۔ ہمام: ابن یحییٰ اور عزرہ: ابن عبدالرحمٰن ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 8522] ، [البيهقي 402/7، فى كتاب اللعان، باب سنة اللعان و نفى الولد]
الحكم: إسناده صحيح إلى ابن عباس
حدیث نمبر: 3000 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، النُّعْمَانِ ، مَكْحُولٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ، عَنْ مَكْحُولٍ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مِيرَاثِ وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ لِمَنْ هُوَ؟ قَالَ: جَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لِأُمِّهِ فِي سَبَبِهِ لِمَا لَقِيَتْ مِنْ الْبَلَاءِ، وَلِإِخْوَتِهِ مِنْ أُمِّهِ، وقَالَ مَكْحُول: فَإِنْ مَاتَتْ الْأُمُّ، وَتَرَكَتْ ابْنَهَا، ثُمَّ تُوُفِّيَ ابْنُهَا الَّذِي جُعِلَ لَهَا، كَانَ مِيرَاثُهُ لِإِخْوَتِهِ مِنْ أُمِّهِ كُلُّهُ، لِأَنَّهُ كَانَ لِأُمِّهِمْ وَجَدِّهِمْ، وَكَانَ لِأَبِيهَا السُّدُسُ مِنْ ابْنِ ابْنَتِهِ، وَلَيْسَ يَرِثُ الْجَدُّ إِلَّا فِي هَذِهِ الْمَنْزِلَةِ، لِأَنَّهُ إِنَّمَا هُوَ أَبُ الْأُمِّ، وَإِنَّمَا وَرِثَ الْإِخْوَةُ مِنْ الْأُمِّ أُمَّهُمْ، وَوَرِثَ الْجَدُّ ابْنَتَهُ لِأَنَّهُ جُعِلَ لَهَا، فَالْمَالُ الَّذِي لِلْوَلَدِ لِوَرَثَةِ الْأُمِّ وَهُوَ بِحَوْزَةِ الْجَدُّ وَحْدَهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
نعمان سے مروی ہے مکحول رحمہ اللہ سے ولد الملاعنہ کی میراث کے بارے میں پوچھا گیا کہ کس کے لئے ہوگی؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی میراث کو ماں کے لئے خاص کیا کیوں کہ اس کی وجہ سے ہی وہ اس (لعان کی) مصیبت میں گرفتار ہوئی، اور اس کی (میراث کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے) مادری بھائیوں کے لئے خاص کیا۔
مکحول رحمہ اللہ نے کہا: اگر ماں فوت ہو جائے اور اپنا بیٹا چھوڑ جائے، پھر اس کا بیٹا بھی فوت ہو جائے جس کے لئے میراث تھی، تو اس کی میراث مادری بھائیوں کے لئے ہوگی، کیوں کہ یہ میراث ان (مادری بھائیوں کی) ماں اور نانا کے لئے ہے، اور نانا کے لئے اس کی نواسی کی میراث میں سے چھٹا حصہ ہوگا، اور نانا صرف اسی صورت میں وارث ہوگا اس لئے کہ وہ ماں کا باپ ہے، اور مادری بھائی اپنی ماں کے اور نانا اپنی بیٹی کا وارث ہوگا، کیونکہ اس (متلاعن بیٹے) کی میراث ماں کے لئے ہے، پس جو مال اس لڑکے کا ہے وہ ماں کے وارثین کا ہے، اگر کوئی دوسرا وارث نہ ہوتو کل میراث نانا کے قبضہ میں ہوگی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3000]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده إلى محكول صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3010] »
اس حدیث کی سند مکحول رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2907] ، [ابن أبى شيبه 11364، مختصرًا] و [البيهقي 259/6]
الحكم: إسناده إلى محكول صحيح
حدیث نمبر: 3001 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَلِيٍّ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْه فِي وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَجَاءَ عَصَبَةُ أَبِيهِ يَطْلُبُونَ مِيرَاثَه، فَقَالَ: "إِنَّ أَبَاهُ كَانَ تَبَرَّأَ مِنْهُ، فَلَيْسَ لَكُمْ مِنْ مِيرَاثِهِ شَيْءٌ، فَقَضَى بِمِيرَاثِهِ لِأُمِّهِ، وَجَعَلَهَا عَصَبَتَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عکرمہ سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کیا کہ کچھ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس متلاعنین کے لڑکے کا جھگڑا لے کر آئے تو اس (ولد الملاعنہ) کے باپ کی طرف کے لوگ (عصبہ) بھی اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے باپ نے اس سے بیزاری اختیار کی (اس لئے) اس کی میراث میں سے تمہارے لئے کچھ نہیں ہے۔ اور انہوں نے اس کی میراث کا فیصلہ اس (ولد الملاعنہ) کی ماں کے حق میں دیا اور ماں کو اس کا عصبہ قرار دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3001]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب، [مكتبه الشامله نمبر: 3011] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے کیوں کہ سماک کی روایت عکرمہ سے مضطرب ہے، لیکن یہ فیصلہ سہی ہے۔ دیکھئے: [البيهقي 258/6]
وضاحت
(تشریح احادیث 2988 سے 3001)
لعان يا ملاعنہ یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور اس کے حمل کا انکاری ہو، چار گواہ نہ لانے کی صورت میں لعان کے بعد حاکم میاں بیوی کے درمیان تفریق کرا دے گا، اس کی تفصیل کتاب النکاح میں گذر چکی ہے۔
اس صورت میں لڑکا ماں کی طرف منسوب ہوگا اور اس کی میراث ماں اور ماں جائے بھائی اور ماں کے عصبہ کی طرف ہی منتقل ہوگی، باپ کیوں کہ اس کا انکاری تھا اس لئے باپ یا اس کے قریبی اس ولد ملاعن کے وارث نہ ہوں گے۔
ان تمام آثار کا لب لباب یہ ہی ہے جیسا کہ ضعیف حدیث میں ہے: «إنه يرث أمه وترثه» یعنی وہ اپنی ماں کا وارث ہے اور اس کی ماں اس کی وارث ہے۔
جمہور علماءکا اسی پر عمل ہے۔
والله اعلم۔
الحكم: إسناده ضعيف رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب