بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2988 — لعان کرنے والے میاں بیوی کے بیٹے کی وراثت کا بیان
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان لعان کرنے والے میاں بیوی کے بیٹے کی وراثت کا بیان حدیث 2988
حدیث نمبر: 2988 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ اللَّهِ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "مِيرَاثُهُ لِأُمِّهِ تَعْقِلُ عَنْهُ عَصَبَةُ أُمِّهِ"، وَقَالَ قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ: لِأُمِّهِ الثُّلُثُ، وَبَقِيَّةُ الْمَالِ لِعَصَبَةِ أُمِّهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (ابن الملاعنہ کی میراث کے بارے میں) کہا: اس کی میراث اس کی ماں کے لئے ہے، ماں کے جو عصبہ ہیں وہ اس سے دیت ادا کریں گے (اگر دیرت ہوتو)۔
اور قتاده رحمہ اللہ نے کہا: حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے: ثلث ماں کے لئے اور باقی مال اس کی ماں کے عصبہ کا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2988]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع إبراهيم لم يسمع عبد الله بن مسعود، [مكتبه الشامله نمبر: 2998] »
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔ حوالہ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11365، 11369] ، [ابن منصور 119] ، [الحاكم 341/4] ، [البيهقي 258/6]
وضاحت
(تشریح احادیث 2981 سے 2988)
کوئی وارث نہ ہونے کی صورت میں کل مال سمیٹنے والے کو عصبہ کہتے ہیں، تفصیل آگے آ رہی ہے۔
الحكم: إسناده منقطع إبراهيم لم يسمع عبد الله بن مسعود
← پچھلی حدیث (2987) باب پر واپس اگلی حدیث (2989) →