بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3001 — لعان کرنے والے میاں بیوی کے بیٹے کی وراثت کا بیان
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان لعان کرنے والے میاں بیوی کے بیٹے کی وراثت کا بیان حدیث 3001
حدیث نمبر: 3001 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَلِيٍّ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْه فِي وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَجَاءَ عَصَبَةُ أَبِيهِ يَطْلُبُونَ مِيرَاثَه، فَقَالَ: "إِنَّ أَبَاهُ كَانَ تَبَرَّأَ مِنْهُ، فَلَيْسَ لَكُمْ مِنْ مِيرَاثِهِ شَيْءٌ، فَقَضَى بِمِيرَاثِهِ لِأُمِّهِ، وَجَعَلَهَا عَصَبَتَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عکرمہ سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کیا کہ کچھ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس متلاعنین کے لڑکے کا جھگڑا لے کر آئے تو اس (ولد الملاعنہ) کے باپ کی طرف کے لوگ (عصبہ) بھی اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے باپ نے اس سے بیزاری اختیار کی (اس لئے) اس کی میراث میں سے تمہارے لئے کچھ نہیں ہے۔ اور انہوں نے اس کی میراث کا فیصلہ اس (ولد الملاعنہ) کی ماں کے حق میں دیا اور ماں کو اس کا عصبہ قرار دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3001]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب، [مكتبه الشامله نمبر: 3011] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے کیوں کہ سماک کی روایت عکرمہ سے مضطرب ہے، لیکن یہ فیصلہ سہی ہے۔ دیکھئے: [البيهقي 258/6]
وضاحت
(تشریح احادیث 2988 سے 3001)
لعان يا ملاعنہ یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور اس کے حمل کا انکاری ہو، چار گواہ نہ لانے کی صورت میں لعان کے بعد حاکم میاں بیوی کے درمیان تفریق کرا دے گا، اس کی تفصیل کتاب النکاح میں گذر چکی ہے۔
اس صورت میں لڑکا ماں کی طرف منسوب ہوگا اور اس کی میراث ماں اور ماں جائے بھائی اور ماں کے عصبہ کی طرف ہی منتقل ہوگی، باپ کیوں کہ اس کا انکاری تھا اس لئے باپ یا اس کے قریبی اس ولد ملاعن کے وارث نہ ہوں گے۔
ان تمام آثار کا لب لباب یہ ہی ہے جیسا کہ ضعیف حدیث میں ہے: «إنه يرث أمه وترثه» یعنی وہ اپنی ماں کا وارث ہے اور اس کی ماں اس کی وارث ہے۔
جمہور علماءکا اسی پر عمل ہے۔
والله اعلم۔
الحكم: إسناده ضعيف رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب
← پچھلی حدیث (3000) باب پر واپس اگلی حدیث (3002) →