بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3002 — خنثی (ہیجڑے) کی میراث کا بیان
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان خنثی (ہیجڑے) کی میراث کا بیان حدیث 3002
حدیث نمبر: 3002 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، إِسْرَائِيلَ ، عَبْدِ الْأَعْلَى ، مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ ، عَلِيٍّ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى: أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ: فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ مَا لِلرَّجُلِ وَمَا لِلْمَرْأَةِ مِنْ أَيِّهِمَا يُوَرَّثُ، فَقَالَ: "مِنْ أَيِّهِمَا بَالَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
محمد بن علی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ایسے آدمی کے بارے میں جو نہ مرد ہو نہ عورت (یعنی ہیجڑا ہو) اس کو کس حیثیت سے میراث دی جائے گی (مرد کی یا عورت کی)، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جس عضو سے پیشاب نکلے (یعنی پیشاب جس جگہ سے کرے اس کا اعتبار ہو گا، ذکر سے پیشاب کرے تو مرد ورنہ عورت کی میراث پائے گا)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3002]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع (بين محمد بن علي بن الحسين وعلي بن أبي طالب)، [مكتبه الشامله نمبر: 3012] »
محمد بن علی الحسین کا اپنے دادا سے لقاء ثابت نہیں۔ تخریج اگلی حدیث کے تحت آرہی ہے۔
الحكم: رجاله ثقات غير أنه منقطع (بين محمد بن علي بن الحسين وعلي بن أبي طالب)
← پچھلی حدیث (3001) باب پر واپس اگلی حدیث (3003) →