بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حائضہ کے غسل کرنے سے پہلے جماع کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل حائضہ کے غسل کرنے سے پہلے جماع کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 13
حدیث نمبر: 1113 سنن دارمی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَيُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ، وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي الْحَائِضِ "إِذَا طَهُرَتْ مِنْ الدَّمِ لَا يَقْرَبُهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے: حائضہ عورت جب پاک ہو جائے (یعنی حیض کا خون رک جائے) تو جب تک غسل نہ کرے، اس کا شوہر اس کے قریب نہ ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1113]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1117] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 96/1]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1114 سنن دارمی
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَن مُجَاهِدٍ، مِثْلَهُ سَوَاءً.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
دوسری سند سے بھی مجاہد رحمہ اللہ سے ایسے ہی مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1114]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1118] »
یہ سند صحیح ہے کما سبق۔ نیز دیکھئے: اثر رقم (1118)۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1115 سنن دارمی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: سُئِلَ سُفْيَانُ: "أَيُجَامِعُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِذَا انْقَطَعَ عَنْهَا الدَّمُ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ؟، فَقَالَ: لَا، فَقِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ تَرَكَتْ الْغُسْلَ يَوْمَيْنِ أَوْ أَيَّامًا؟، قَالَ: تُسْتَتَابُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ حائضہ عورت کا خون رک جائے تو غسل سے پہلے شوہر اس سے جماع کر سکتا ہے؟ فرمایا: نہیں، دریافت کیا گیا: اگر ایک یا دو دن تک وہ غسل نہ کرے تو؟ فرمایا: توبہ کرائی جائے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1115]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1119] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن کہیں اور یہ روایت نہیں ملی۔ توبہ شاید اس لئے کرائی جائے گی کہ اس نے بلا جواز دو دن تک غسل کر کے نماز نہیں پڑھی۔ واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1116 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ مُجَاهِدٍ "وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ سورة البقرة آية 222، قَالَ: حَتَّى يَنْقَطِعَ الدَّمُ، فَإِذَا تَطَهَّرْنَ سورة البقرة آية 222، قَالَ: إِذَا اغْتَسَلْنَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ نے آیت « ﴿وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ﴾ » [بقرة: 222/2] کے بارے میں کہا: «يَطْهُرْنَ» یعنی جب خون رک جائے اور «فَإِذَا تَطَهَّرْنَ» سے مراد ہے جب وہ غسل کر لیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1116]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 1120] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ تفصیل آگے آرہی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1117 سنن دارمی
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ "حَتَّى يَطْهُرْنَ سورة البقرة آية 222، قَالَ: إِذَا انْقَطَعَ الدَّمُ، فَإِذَا تَطَهَّرْنَ سورة البقرة آية 222، قَالَ: اغْتَسَلْنَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے «‏‏‏‏ ﴿حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾ » ‏‏‏‏ سے مراد ہے جب خون کا آنا منقطع ہو جائے، اور « ﴿فَإِذَا تَطَهَّرْنَ﴾ » فرمایا: یعنی جب غسل کر لیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1117]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1121] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تفسير طبري 385/2] ، [مصنف عبدالرزاق 1272] و [الدر المنثور 260/2]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1118 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا، عَنْ امْرَأَةٍ رَأَتْ الطُّهْرَ: أَيَحِلُّ لِزَوْجِهَا أَنْ يَأْتِيَهَا قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ؟، قَالَ: "لَا حَتَّى تَحِلَّ لَهَا الصَّلَاةُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عثمان بن الاسود نے کہا: میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جس کو حیض آیا: کیا غسل کرنے سے پہلے اس کے شوہر کے لئے جائز ہے کہ اس سے جماع کرے؟ فرمایا: نہیں، جب تک کہ نماز جائز نہیں (جماع بھی جائز نہیں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1118]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1122] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 96/1]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1119 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ هُوَ ابْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَطَاءً، وَمَيْمُونَ بْنَ مِهْرَانَ، وَحَدَّثَنِي حَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: "لَا يَغْشَاهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حماد سے مروی ہے امام ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: جب تک غسل نہ کر لے جماع نہ کرے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1119]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «أثر صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1123] »
یہ اثر صحیح ہے، اور (1113) میں گذر چکا ہے، اور آگے (1123) میں اس کا ذکر آ رہا ہے۔
الحكم: أثر صحيح
حدیث نمبر: 1120 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يَطَأُ امْرَأَتَهُ وَقَدْ رَأَتْ الطُّهْرَ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ، قَالَ: "هِيَ حَائِضٌ مَا لَمْ تَغْتَسِلْ، وَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ، وَلَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا مَا لَمْ تَغْتَسِلْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں مروی ہے جو اپنی بیوی سے پاکی کے بعد غسل کرنے سے پہلے وطی کرے، فرمایا: جب تک غسل نہ کر لے وہ حائضہ کے حکم میں ہے، اور اس کے اوپر کفارہ ہے، اس کو چاہیے کہ غسل کے بارے میں پوچھ لے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1120]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1124] »
اس قول کی سند صحیح ہے، اور (1118) میں گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1121 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "لَا يَغْشَاهَا زَوْجُهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے: ایسی عورت سے اس کا مرد جماع نہیں کرے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1121]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1125] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تفسير طبري 386/2]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1122 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبُو الْخَيْرِ مَرْثَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْخَيْرِ مَرْثَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: "وَاللَّهِ إِنِّي لَا أُجَامِعُ امْرَأَتِي فِي الْيَوْمِ الَّذِي تَطْهُرُ فِيهِ حَتَّى يَمُرَّ يَوْمٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالخیر مرثد الیزنی نے کہا: میں نے سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: قسم الله کی میں اپنی بیوی سے جس دن وہ پاک ہوتی ہے جماع نہیں کرتا حتی کہ ایک اور دن گزر جائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1122]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1126] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور یہ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کا فعل ہے حدیث نہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1123 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى الطُّهْرَ: أَيَأْتِيهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ؟، قَالَ: "لَا، حَتَّى تَغْتَسِلَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے، عورت جب پاکی دیکھے تو اس کا شوہر اس سے ہم بستری کر سکتا ہے یا نہیں؟ فرمایا: جب تک غسل نہ کر لے ہم بستری جائز نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1123]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1127] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ (1113) میں گذر چکی ہے۔ نیز دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1245]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1124 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْمَرْأَةِ يَنْقَطِعُ عَنْهَا الدَّمُ، قَالَ: "إِنْ أَدْرَكَهُ الشَّبَقُ، غَسَلَتْ فَرْجَهَا ثُمَّ يَأْتِيَها".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے ایسی عورت کے بارے میں مروی ہے جس کا خون (حیض) رک جائے، فرمایا: مرد کی شہوت بڑھ جائے تو عورت اپنی شرم گاہ دھو لے، پھر ہم بستری کر لے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1124]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 1128] »
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 96/1]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم
حدیث نمبر: 1125 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ شَرِيكًا وَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: الْمَرْأَةُ يَنْقَطِعُ عَنْهَا الدَّمُ: أَيَأْتِيهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ؟، فَقَالَ: قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ "رَخَّصَ فِي ذَلِكَ لِلشَّبِقِ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَخَافُ أَنْ يَكُونَ أَخَطَأً، وأَخَافُ أَنْ يَكُونَ مِنْ حَدِيثِ لَيْثٍ، لَا أَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: الشَّبِقُ الَّذِي يَشْتَهِي.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
فروة بن ابی المغراء نے خبر دی، میں نے شریک کو کہتے سنا، ان سے ایک آدمی نے سوال کیا: عورت کا خون رک جائے تو غسل کرنے سے پہلے شوہر اس سے ہمبستری کر سکتا ہے؟ فروة نے عبدالملک سے عطاء رحمہ اللہ کے حوالے سے جواب دیا کہ انہوں نے شدت شہوت کے وقت غسل سے پہلے جماع کرنے کی اجازت دی ہے۔ ابومحمد امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے خوف ہے کہ ان سے غلطی ہوئی ہو، اور یہ بجائے عطاء رحمہ اللہ کے لیث بن ابی سلیم سے مروی ہو، کیونکہ عبدالملک سے ایسی کوئی بات مجھے معلوم نہیں۔ ابومحمد رحمہ اللہ نے فرمایا: «الشبق» اس مرد کو کہتے ہیں جسے بہت شہوت ہوتی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1125]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1129] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ «وانفرد به الدارمي» ۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1112 سے 1125)
ان تمام روایات سے ثابت ہوا کہ حیض رک جانے کے بعد غسل کرنے سے پہلے جماع کرنا درست نہیں، ہاں اگر شہوت بہت ہی غالب آجائے تو صفائی ستھرائی کے بعد شوہر جماع کر سکتا ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ غسل کرنے کے بعد جماع کرے۔
کیوں کہ گندگی اور جراثیم سے بچنا حفظانِ صحت کے اصول میں سے ہے جس کی ہمارے دین نے ہمیں تعلیم دی ہے۔
والله اعلم۔
الحكم: إسناده حسن