بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جنبی اور حائضہ کے پسینے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل جنبی اور حائضہ کے پسینے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 1058 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ الْجُنُبِ يَعْرَقُ فِي الثَّوْبِ ثُمَّ يَمْسَحُهُ بِهِ، قَالَ: "لَا بَأْسَ بِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن عثمان بن خثیم نے کہا: میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے پوچھا: جنبی کو پسینہ آئے اور وہ کپڑے سے پسینہ پونچھ لے، کہا: کوئی حرج نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1058]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1062] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 191/1] ۔ نیز عبدالوہاب: ابن عبدالمجید ہیں۔
وضاحت
(تشریح حدیث 1057)
اس روایت سے معلوم ہوا وہ کپڑے جو حالتِ جنابت میں پہن لئے ان کو استعمال کرنے اور ان میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1059 سنن دارمی
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ "لَا يَرَى بِعَرَقِ الْجُنُبِ فِي الثَّوْبِ بَأْسًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالله بن عثمان نے کہا: سعید بن جبیر رحمہ اللہ جنبی کے کپڑے میں پسینہ لگ جانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1059]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1063] »
اس قول کی سند حسبِ سابق صحیح ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1060 سنن دارمی
حَمَّادٌ
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ كَانَ "لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ بھی اس میں حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1060]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1064] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 191/1]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1061 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: مَا كُلُّ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَجِدُونَ ثَوْبَيْنِ، فَقَالَ: "إِذَا اغْتَسَلْتَ أَلَسْتَ تَلْبَسُهُ فَذَاكَ بِذَاكَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب ہی اصحاب دو کپڑے یا چادر نہیں رکھتے تھے، انہوں نے کہا: جب دھو لو گے تو کیا تم اس کو پہنو گے نہیں، یہ بالکل اسی طرح ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1061]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1065] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1062 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سُئِلَتْ عَنْ الرَّجُلِ يُصِيبُ الْمَرْأَةَ، ثُمَّ يَلْبَسُ الثَّوْبَ فَيَعْرَقُ فِيهِ، "فَلَمْ تَرَ بِهِ بَأْسًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو عورت سے جماع کرے پھر کپڑا پہن لے، اور اس میں اسے پسینہ بھی آئے، تو انہوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1062]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1066] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 191/1] ، [مصنف عبدالرزاق 1431] و [بيهقي 409/2]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1063 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "لَا بَأْسَ أَنْ يَعْرَقَ الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ فِي الثَّوْبِ يُصَلَّى فِيهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ نے کہا: جنبی یا حائضہ کو جس کپڑے میں پسینہ آئے اس میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1063]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فقد صرح ابن جريج بالتحديث عن عبد الرازق، [مكتبه الشامله نمبر: 1067] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن [مصنف ابن أبى شيبه 191/1] و [مصنف عبدالرزاق ميں 143/6] میں بسند صحیح موجود ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف فقد صرح ابن جريج بالتحديث عن عبد الرازق
حدیث نمبر: 1064 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْجُنُبِ يَعْرَقُ فِي ثَوْبِهِ، قَالَ: "لَا يَضُرُّهُ، وَلَا يَنْضَحُهُ بِالْمَاءِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے جنبی کے بارے میں مروی ہے کہ اس کے کپڑے میں پسینہ لگ جائے، کہا: کوئی حرج نہیں، اور اس پر پانی چھڑکنے کی بھی ضرورت نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1064]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أبي حمزة وهو: ميمون الراعي الأعور، [مكتبه الشامله نمبر: 1068] »
اس قول کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 191/1] ۔ نیز ابوحمزہ کا نام میمون الراعی الاعور ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبي حمزة وهو: ميمون الراعي الأعور
حدیث نمبر: 1065 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْحَائِضِ إِذَا عَرِقَتْ فِي ثِيَابِهَا"فَإِنَّهُ يُجْزِئُهَا أَنْ تَنْضَحَهُ بِالْمَاءِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مروی ہے: حائضہ کو کپڑے میں پسینہ آئے تو اس پر پانی کے چھینٹے مارنا کافی ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1065]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1069] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ ہشام: الدستوائی ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1066 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ كَانَ "يَعْرَقُ فِي الثَّوْبِ وَهُوَ جُنُبٌ، ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو حالت جنابت میں کپڑے میں پسینہ آتا، پھر وہ اسی کپڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1066]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1070] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المؤطا 89] ، [ابن أبى شيبه 191/1] و [مصنف عبدالرزاق 1428]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1067 سنن دارمی
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، هُشَيْمٌ ، هِشَامٍ هُوَ ابْنُ حَسَّانَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ هِشَامٍ هُوَ ابْنُ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ "لَمْ يَكُنْ يَرَى بَأْسًا بِعَرَقِ الْحَائِضِ وَالْجُنُبِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما حائضہ اور جنبی کے پسینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1067]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1071] »
اس روایت میں ہشیم مدلس ہیں اور انہوں نے عنعنہ سے روایت کیا ہے، لیکن عبدالرزاق نے [مصنف 1430] میں بسند صحیح ذکر کیا ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1058 سے 1067)
ان تمام روایات سے یہ ثابت ہوا کہ حیض اور جنابت کی حالت میں کپڑوں میں اگر پسینہ لگ جائے تو کپڑے ناپاک نہیں ہوتے، لہٰذا ان کپڑوں میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، نہ انہیں دھونے کی ضرورت ہے، ہاں منی یا اور کوئی نجاست کپڑے پر لگ جائے تو اس جگہ یا کپڑے کو دھو لینا چاہے۔
واللہ علم۔
الحكم: إسناده صحيح