بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1067 — جنبی اور حائضہ کے پسینے کا بیان
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل جنبی اور حائضہ کے پسینے کا بیان حدیث 1067
حدیث نمبر: 1067 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، هُشَيْمٌ ، هِشَامٍ هُوَ ابْنُ حَسَّانَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ هِشَامٍ هُوَ ابْنُ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ "لَمْ يَكُنْ يَرَى بَأْسًا بِعَرَقِ الْحَائِضِ وَالْجُنُبِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما حائضہ اور جنبی کے پسینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1067]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1071] »
اس روایت میں ہشیم مدلس ہیں اور انہوں نے عنعنہ سے روایت کیا ہے، لیکن عبدالرزاق نے [مصنف 1430] میں بسند صحیح ذکر کیا ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1058 سے 1067)
ان تمام روایات سے یہ ثابت ہوا کہ حیض اور جنابت کی حالت میں کپڑوں میں اگر پسینہ لگ جائے تو کپڑے ناپاک نہیں ہوتے، لہٰذا ان کپڑوں میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، نہ انہیں دھونے کی ضرورت ہے، ہاں منی یا اور کوئی نجاست کپڑے پر لگ جائے تو اس جگہ یا کپڑے کو دھو لینا چاہے۔
واللہ علم۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1066) باب پر واپس اگلی حدیث (1068) →