خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا يَحِلُّ لِي مِنْ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ؟، قَالَ: "لِتَشُدَّ عَلَيْهَا إِزَارَهَا ثُمَّ شَأْنَكَ بِأَعْلَاهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
زید بن اسلم سے مروی ہے: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا کہ میری بیوی کے حالت حیض میں میرے لئے کیا چیز حلال ہے؟ فرمایا: وہ اپنے کپڑے (ازار کو) مضبوطی سے کس لے، پھر اوپر اوپر تم مباشرت کر سکتے ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1068]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 1072] »
اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [المؤطا 95] ، [بيهقي 191/7] ، [المعجم الكبير 10765] ، لیکن سب کی سند ضعیف ہے، مگر اس معنی کی روایات صحیح سند سے بھی مروی ہیں۔ «كما سيأتي» ۔
الحكم: إسناده معضل