بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حیض والی عورت سے مباشرت کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل حیض والی عورت سے مباشرت کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 26
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 1068 سنن دارمی
خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا يَحِلُّ لِي مِنْ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ؟، قَالَ: "لِتَشُدَّ عَلَيْهَا إِزَارَهَا ثُمَّ شَأْنَكَ بِأَعْلَاهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
زید بن اسلم سے مروی ہے: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا کہ میری بیوی کے حالت حیض میں میرے لئے کیا چیز حلال ہے؟ فرمایا: وہ اپنے کپڑے (ازار کو) مضبوطی سے کس لے، پھر اوپر اوپر تم مباشرت کر سکتے ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1068]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 1072] »
اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [المؤطا 95] ، [بيهقي 191/7] ، [المعجم الكبير 10765] ، لیکن سب کی سند ضعیف ہے، مگر اس معنی کی روایات صحیح سند سے بھی مروی ہیں۔ «كما سيأتي» ۔
الحكم: إسناده معضل
حدیث نمبر: 1069 سنن دارمی
خَالِدٌ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: أَرْسَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لِيَسْأَلَهَا: هَلْ يُبَاشِرُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ؟، فَقَالَتْ: "لِتَشُدَّ إِزَارَهَا عَلَى أَسْفَلِهَا ثُمَّ يُبَاشِرُهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عبداللہ بن عبداللہ بن عمر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس قاصد بھیجا کہ وہ ان سے دریافت کرے کہ کیا آدمی اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں مباشرت کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: وہ (حائضہ عورت) نیچے تک اچھی طرح ازار کس لے، پھر شوہر اس سے مباشرت کر لے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1069]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 1073] »
اس روایت کے سب رجال ثقات ہیں۔ دیکھئے: [المؤطا 97] ، [مصنف عبدالرزاق 1241] ، [مصنف ابن أبى شيبه 254/4] و [بيهقي 190/7-191]
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 1070 سنن دارمی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الْحَائِضُ يَأْتِيهَا زَوْجُهَا فِي مَرَاقِّهَا وَبَيْنَ فَخِذَيْهَا، فَإِذَا دَفَقَ، غَسَلَتْ مَا أَصَابَهَا، وَاغْتَسَلَ هُوَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے کہا: حائضہ عورت سے اس کا شوہر ملائم جگہ اور رانوں کے درمیان مباشرت کر سکتا ہے، اگر منی نکل جائے تو وہ اس جگہ کو دھو لے گی اور مرد غسل کرے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1070]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1074] »
اس قول کی سند صحیح ہے، لیکن کہیں اور نہ مل سکی۔ اس کے ہم معنی روایت [مصنف عبدالرزاق 971] میں ہے۔ نیز ابن ابی زائده: یحییٰ بن زکریا اور حماد: ابن ابی سلیمان ہیں۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1067 سے 1070)
«مراق» : نرم جگہ کو کہتے ہیں جو پیڑو کے نیچے ہوتی ہے اور «دفق» بمعنی انزل یعنی انزال ہو جائے۔
اور مباشرت جسم سے جسم لگانے اور چمٹانے کو کہتے ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1071 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ الْكَرِيمِ عَنْ الْحَائِضِ، فَقَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: "لَقَدْ عَلِمَتْ أُمُّ عِمْرَانَ أَنِّي أَطْعُنُ فِي أَلْيَتِهَا، يَعْنِي: وَهِيَ حَائِضٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ام عمران کو معلوم ہے کہ میں حالت حیض میں ان کی سرین میں ٹھوکر لگاتا ہوں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1071]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1075] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ کہیں اور یہ روایت نہیں ملی۔ عبدالکریم: ابن مالک الجزری ہیں۔
وضاحت
(تشریح حدیث 1070)
اس سے معلوم ہوا حائضہ عورت سے استمتاع جائز ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1072 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَطَاءً عَنْ الْحَائِضِ "فَلَمْ يَرَ بِمَا دُونَ الدَّمِ بَأْسًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مالک بن مغول نے کہا: ایک آدمی نے عطاء رحمہ اللہ سے حائضہ عورت (سے استمتاع) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے خون کی جگہ کے علاوہ میں کوئی حرج نہیں بتایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1072]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع مالك بن مغول لم يسمع من عطاء بن أبي رباح، [مكتبه الشامله نمبر: 1076] »
مالک بن مغول کا عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سماع ثابت نہیں، لہذا یہ روایت منقطع ہے، کہیں اور ملی بھی نہیں۔ اس کے ہم معنی [مصنف عبدالرزاق 1242] میں ہے اور معنی تو صحیح ہے۔
الحكم: إسناده منقطع مالك بن مغول لم يسمع من عطاء بن أبي رباح
حدیث نمبر: 1073 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "كُنْتُ إِذَا حِضْتُ أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَّزِرُ، وَكَانَ يُبَاشِرُنِي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب مجھے حیض آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے حکم فرماتے، میں ازار کس لیتی، پھر آپ مجھ سے مباشرت فرماتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1073]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1077] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 300] ، [مسلم 293] و [مسند أبى يعلي 4810]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1074 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ ، عَائِشَةُ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ، قَالَ: سُئِلَتْ عَائِشَةُ مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنْ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ؟، قَالَتْ: "مَا فَوْقَ الْإِزَارِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
میمون بن مہران نے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: حالت حیض میں مرد کے لئے اس کی بیوی سے کیا چیز حلال ہے؟ جواب دیا: جو ازار کے اوپر ہے۔ یعنی صرف اوپر ہی اوپر استمتاع کر سکتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1074]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1078] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 255/4]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1075 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ ، مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ ، مَسْرُوقٍ ، لِعَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ، عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنْ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا؟، قَالَتْ: "كُلُّ شَيْءٍ غَيْرُ الْجِمَاعِ"، قَالَ: قَلْتُ: فَمَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ مِنْهَا إِذَا كَانَا مُحْرِمَيْنِ؟، قَالَتْ:"كُلُّ شَيْءٍ غَيْرُ كَلَامِهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مسروق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ عورت جب حالت حیض میں ہو تو شوہر کے لئے کیا جائز ہے؟ جواب دیا: جماع کے علاوہ ہر چیز جائز ہے۔ عرض کیا: اور جب دونوں احرام میں ہوں تو کیا چیز حرام ہے؟ جواب دیا: ہر چیز حرام ہے سوائے کلام و گفتگو کے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1075]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1079] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ طرفِ اول اوپر گذر چکی ہے۔ «انفرد به الدارمي» ۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1076 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، جَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ ، رَجُلٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "لِإِنْسَانٍ اجْتَنِبْ شِعَارَ الدَّمِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک آدمی سے کہا: خون کی جگہ سے پرہیز کرو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1076]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف والجلد بن أيوب ضعيف والراوي عن عائشة مجهول، [مكتبه الشامله نمبر: 1080] »
جلد بن ایوب ضعیف اور رجل مجہول ہیں، اس لئے اس قول کی سند ضعیف ہے، لیکن معنی صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1240، 1241]
الحكم: إسناده ضعيف والجلد بن أيوب ضعيف والراوي عن عائشة مجهول
حدیث نمبر: 1077 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "إِذَا كَفَّ الْأَذَى يَعْنِي: الدَّمَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عامر شعبی نے کہا: جب گندگی رک جائے۔۔۔ دوسری روایت ہے جب خون رک جائے تو جو چاہو کرو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1077]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1081] »
اس قول کی سند صحیح ہے، اور طبرانی نے [تفسير 284/2] میں ذکر کیا ہے۔ نیز دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 255/4 بسند صحيح]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1078 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "لَا بَأْسَ أَنْ تُؤْتَى الْحَائِضُ بَيْنَ فَخِذَيْهَا وَفِي سُرَّتِهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد نے کہا: حیض والی عورت کی رانوں اور سرة (ناف، ٹنڈی) سے کھیلنے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1078]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث وهو: ابن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 1082] »
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس کا شاہد [مصنف ابن ابي شيبه 256/4] میں موجود ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث وهو: ابن أبي سليم
حدیث نمبر: 1079 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "تُقْبِلُ وَتُدْبِرُ، إِلَّا الدُّبُرَ وَالْمَحِيضَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد نے کہا: دبر اور حیض کی جگہ کے علاوہ آگے پیچھے کہیں سے آؤ۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1079]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث وهو: ابن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 1083] »
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ اور کہیں یہ روایت نہیں ملی۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث وهو: ابن أبي سليم
حدیث نمبر: 1080 سنن دارمی
يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافٍ، فَوَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ، فَقُمْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا لَكِ، أَنَفِسْتِ؟"، قُلْتُ: وَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ، قَالَ:"ذَاكَ مَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ"، قَالَتْ: فَقُمْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي، ثُمَّ رَجَعْتُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"ادْخُلِي فِي اللِّحَافِ"، فَدَخَلْتُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ مجھے حیض آ گیا، میں کھڑی ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا ہوا؟ عرض کیا: وہی ہو گیا جو عورتوں کو ہو جاتا ہے، فرمایا: یہ چیز بنات آدم کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دی ہے، ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پس میں اٹھ کھڑی ہوئی اور میں نے اپنی حالت درست کی، پھر (آپ کے پاک) واپس آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لحاف کے اندر آ جاؤ، لہذا میں داخل ہو گئی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1080]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1084] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 294/6] ، [ابن ماجه 637] ، [مسند أبى يعلی 426/12] ، [مصنف ابن أبى شيبه 254/4] و [مصنف عبدالرزاق 1235]
وضاحت
(تشریح احادیث 1071 سے 1080)
اس حدیث سے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حسنِ معاشرت پر روشنی پڑتی ہے، اور اس میں اُمت کے لئے تعلیم ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تعلیم کی خاطر ہی ایسا فرمایا: «﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى . إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى﴾ [النجم: 3، 4] » یعنی: آپ وہی چیز بتاتے ہیں جس کی آپ کے اوپر وحی کی جاتی ہے، آپ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔
اس سے معلوم ہوا کہ حائضہ عورت کے ساتھ ایک کپڑے اور لحاف میں لیٹنے میں کوئی حرج نہیں، یہ اُمت کے لئے آسانی اور بہت بڑی رخصت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے نبی! ہم نے آپ کو سارے عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1081 سنن دارمی
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: بَيْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعَةٌ فِي الْخَمِيلَةِ إِذْ حِضْتُ، فَانْسَلَلْتُ، فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي، فَقَالَ: "أَنَفِسْتِ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ:"فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ"، قَالَتْ: وَكَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"يَغْتَسِلَانِ مِنْ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ مِنْ الْجَنَابَةِ، وَكَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک چادر میں تھی کہ مجھے حیض آ گیا، میں اپنے کپڑے سنبھال کر چپکے سے نکل آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا حیض آ گیا؟ عرض کیا: جی ہاں، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ نے مجھے بلایا اور میں آپ کے ساتھ اسی چادر میں لیٹ گئی۔ نیز انہوں نے کہا کہ وہ اور رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک تسلے سے باہم غسل جنابت کرتے، اور آپ انہیں روزے کی حالت میں بوسہ دیتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1081]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1085] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 298] ، [مسلم 296] ، [مسند أبى يعلی 6691] و [صحيح ابن حبان 1363]
وضاحت
(تشریح حدیث 1080)
حیض والی عورت کو اپنے ساتھ لٹانا، ایک ساتھ غسل کرنا اور روزے میں بوسہ دینا، یہ ساری چیزیں بیانِ جواز کے لئے تھیں تاکہ اُمّت کو صحیح تعلیم ملے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1082 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، خَالِدٌ ، الشَّيْبَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، مَيْمُونَةَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ فَوْقَ الْإِزَارِ وَهِيَ حَائِضٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بیویوں میں سے کسی کے بھی ساتھ حالت حیض میں ازار کے اوپر سے مباشرت فرما لیتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1082]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1086] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند الموصلي 7082] ، [صحيح ابن حبان 1368] و [بيهقي 191/7]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1083 سنن دارمی
بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، أَبُو إِسْحَاق ، أَبِي مَيْسَرَةَ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَنْ تَشُدَّ عَلَيْهَا إِزَارَهَا، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ: ہم میں سے کسی کو جب حیض آتا تو رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس کے ازار باندھنے کا حکم فرماتے، پھر ان سے مباشرت فرماتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1083]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1087] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ تخریج (1073) پرگذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1084 سنن دارمی
عَبْدُ الصَّمَدِ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاق ، أَبِي مَيْسَرَةَ ، أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ قَالَ: قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: "كُنْتُ أَتَّزِرُ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أَدْخُلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابومیسرہ سے مروی ہے ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا: میں حالت حیض میں ازار کستی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ لحاف میں گھس جاتی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1084]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1088] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بيهقي 314/1] ۔ نیز دیکھئے پچھلی اور آنے والی تخریج (1093)۔ ابومیسرة کا نام عمرو بن شرحبیل ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1085 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ جُبَيْرٍ: مَا لِلرَّجُلِ مِنْ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا؟، قَالَ: "مَا فَوْقَ الْإِزَارِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
یزید بن ابی زیاد سے مروی ہے: ابن جبیر سے پوچھا گیا: جب عورت حالت حیض میں ہو تو مرد کے لئے کیا کچھ حلال ہے؟ فرمایا: ازار کے اوپر اوپر حلال ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1085]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد، [مكتبه الشامله نمبر: 1089] »
یزید بن ابی زیاد کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 254/4]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد
حدیث نمبر: 1086 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ فِي الْحَائِضِ، قَالَ: "الْفِرَاشُ وَاحِدٌ، وَاللُّحُفُ شَتَّى، فَإِنْ كَانُوا لَا يَجِدُونَ، رَدَّ عَلَيْهَا مِنْ لِحَافِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبیده (السلمانی) سے حائضہ کے بارے میں مروی ہے کہ بستر چاہے ایک ہو لیکن لحاف الگ ہونا چاہے، اگر لحاف نہ ہو تو مرد اپنا لحاف اس پر ڈال دے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1086]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1090] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تفسير طبري 382/2] و [تفسير قرطبي 83/3 فى تفسير قوله تعالىٰ: «﴿فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾» بقرة: 222/2]
وضاحت
(تشریح احادیث 1081 سے 1086)
اس روایت میں ہے کہ حائضہ کو مرد کے لحاف سے دور رہنا واجب ہے۔
لیکن یہ قول مرجوح اور شاذ ہے، صحیح حدیث میں ایک ساتھ سونے اور مباشرت یعنی صرف لپٹنے اور چپٹنے کی اجازت ہے، جیسا کہ اگلی روایت نمبر (1088) پر آ رہا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1087 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ لَهُ: "مَا فَوْقَ السَّرَرِ أَوْ السُّرَّةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
شریح (القاضی) نے فرمایا: مرد کے لئے سُرہ سے اوپر کا حصہ ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1087]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1091] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1239] ، [تفسير طبري 384/2]
الحكم: إسناده صحيح