بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور یہ نبوت کا حصہ ہیں۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم خواب کا بیان باب: خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور یہ نبوت کا حصہ ہیں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 2261 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، ابْنِ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبَا قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا أُعْرَى مِنْهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أُزَمَّلُ، حَتَّى لَقِيتُ أَبَا قَتَادَةَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ حُلْمًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو ناقد، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر، سب نے ابن عیینہ سے روایت کی، الفاظ ابن ابی عمر کے ہیں، کہا: ہمیں سفیان نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی، کہا: میں خواب دیکھتا تھا اور اس سے بخار اور کپکپی جیسی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا تھا، بس میں چادر نہیں اوڑھتا تھا یہاں تک کہ میں حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سنا، آپ نے فرمارہے تھے:(سچا) خواب اللہ کی طرف سے ہے اور (برا) خواب شیطان کی طرف سے، تم میں سے کوئی شخص جب ایسا خواب دیکھے جو اسے برا لگے تو وہ اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دے اور (جو اس نے دیکھا) اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرے تو وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5897]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5897 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، ابْنِ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبَا قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا أُعْرَى مِنْهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أُزَمَّلُ، حَتَّى لَقِيتُ أَبَا قَتَادَةَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ حُلْمًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو ناقد، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر، سب نے ابن عیینہ سے روایت کی، الفاظ ابن ابی عمر کے ہیں، کہا: ہمیں سفیان نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی، کہا: میں خواب دیکھتا تھا اور اس سے بخار اور کپکپی جیسی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا تھا، بس میں چادر نہیں اوڑھتا تھا یہاں تک کہ میں حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سنا، آپ نے فرمارہے تھے:(سچا) خواب اللہ کی طرف سے ہے اور (برا) خواب شیطان کی طرف سے، تم میں سے کوئی شخص جب ایسا خواب دیکھے جو اسے برا لگے تو وہ اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دے اور (جو اس نے دیکھا) اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرے تو وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5897]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2261 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدِ رَبِّهِ ، وَيَحْيَي ابْنَيْ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي قَتَادَةَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، وَعَبْدِ رَبِّهِ ، وَيَحْيَي ابْنَيْ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِمْ قَوْلَ أَبِي سَلَمَةَ: كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا أُعْرَى مِنْهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أُزَمَّلُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان نے آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام محمد بن عبدالرحمن سعید کے دو بیٹوں عبدربہ اور یحییٰ اور محمد بن عمرو بن علقمہ سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، ان سب نے اپنی حدیث میں ابوسلمہ کے اس قول کا ذکر نہیں کیا:میں خواب دیکھتا تھا جس سے مجھ پر بخار اور کپکپی طاری ہو جاتی تھی مگر میں چادر نہیں اوڑھتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5898]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5898 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدِ رَبِّهِ ، وَيَحْيَي ابْنَيْ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي قَتَادَةَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، وَعَبْدِ رَبِّهِ ، وَيَحْيَي ابْنَيْ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِمْ قَوْلَ أَبِي سَلَمَةَ: كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا أُعْرَى مِنْهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أُزَمَّلُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان نے آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام محمد بن عبدالرحمن سعید کے دو بیٹوں عبدربہ اور یحییٰ اور محمد بن عمرو بن علقمہ سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، ان سب نے اپنی حدیث میں ابوسلمہ کے اس قول کا ذکر نہیں کیا:میں خواب دیکھتا تھا جس سے مجھ پر بخار اور کپکپی طاری ہو جاتی تھی مگر میں چادر نہیں اوڑھتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5898]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2261 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا أُعْرَى مِنْهَا، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ: فَلْيَبْصُقْ عَلَى يَسَارِهِ حِينَ يَهُبُّ مِنْ نَوْمِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت بیان کی، ان دونوں کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں:اس سے میں بخار اور کپکپی میں مبتلا ہو جاتا تھا۔یونس کی حدیث میں مزید یہ الفاظ ہیں: وہ جب نیند سے بیدار ہو تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوکے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5899]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5899 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا أُعْرَى مِنْهَا، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ: فَلْيَبْصُقْ عَلَى يَسَارِهِ حِينَ يَهُبُّ مِنْ نَوْمِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت بیان کی، ان دونوں کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں:اس سے میں بخار اور کپکپی میں مبتلا ہو جاتا تھا۔یونس کی حدیث میں مزید یہ الفاظ ہیں: وہ جب نیند سے بیدار ہو تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوکے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5899]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2261 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ "، فَقَالَ: إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا أَثْقَلَ عَلَيَّ مِنْ جَبَلٍ، فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَمَا أُبَالِيهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے کہا: میں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:(سچا) خواب اللہ کی جانب سے ہے اور (برا) خواب شیطان کی طرف سے ہے، جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے برا لگے تو وہ اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دے اور اس (خواب) کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے تو وہ خواب اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔تو (ابوسلمہ نے) کہا: بعض اوقات میں ایسا خواب دیکھتا جو مجھ پر پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہوتا تھا، پھر یہی ہوا کہ میں نے یہ حدیث سنی تو اب میں اس کی پروا نہیں کرتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5900]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5900 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ "، فَقَالَ: إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا أَثْقَلَ عَلَيَّ مِنْ جَبَلٍ، فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَمَا أُبَالِيهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے کہا: میں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:(سچا) خواب اللہ کی جانب سے ہے اور (برا) خواب شیطان کی طرف سے ہے، جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے برا لگے تو وہ اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دے اور اس (خواب) کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے تو وہ خواب اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔تو (ابوسلمہ نے) کہا: بعض اوقات میں ایسا خواب دیکھتا جو مجھ پر پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہوتا تھا، پھر یہی ہوا کہ میں نے یہ حدیث سنی تو اب میں اس کی پروا نہیں کرتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5900]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2261 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، كُلُّهُمْ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَإِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَابْنِ نُمَيْرٍ، قَوْلُ أَبِي سَلَمَةَ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَزَادَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ: وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ اور محمد بن رمح نے لیث بن سعد سے روایت کی، محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں عبدالوہاب ثقفی نے حدیث بیان کی، ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی، ان سب (لیث، عبدالوہاب ثقفی اور عبداللہ بن نمیر) نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت بیان کی، ثقفی کی روایت میں ہے کہ ابوسلمہ نے کہا: میں خواب دیکھا کرتا تھا۔ لیث اور ابن نمیر کی روایت میں حدیث کے آخر تک ابوسلمہ کا جو قول (منقول) ہے وہ موجود نہیں، ابن رمح نے اس حدیث کی روایت میں مزید یہ کہا:وہ جس کروٹ پر لیٹا ہوا تھا اس سے دوسری کروٹ ہو جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5901]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5901 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، كُلُّهُمْ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَإِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَابْنِ نُمَيْرٍ، قَوْلُ أَبِي سَلَمَةَ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَزَادَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ: وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ اور محمد بن رمح نے لیث بن سعد سے روایت کی، محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں عبدالوہاب ثقفی نے حدیث بیان کی، ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی، ان سب (لیث، عبدالوہاب ثقفی اور عبداللہ بن نمیر) نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت بیان کی، ثقفی کی روایت میں ہے کہ ابوسلمہ نے کہا: میں خواب دیکھا کرتا تھا۔ لیث اور ابن نمیر کی روایت میں حدیث کے آخر تک ابوسلمہ کا جو قول (منقول) ہے وہ موجود نہیں، ابن رمح نے اس حدیث کی روایت میں مزید یہ کہا:وہ جس کروٹ پر لیٹا ہوا تھا اس سے دوسری کروٹ ہو جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5901]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2261 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي قَتَادَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالرُّؤْيَا السَّوْءُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَمَنْ رَأَى رُؤْيَا فَكَرِهَ مِنْهَا شَيْئًا، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ لَا تَضُرُّهُ، وَلَا يُخْبِرْ بِهَا أَحَدًا، فَإِنْ رَأَى رُؤْيَا حَسَنَةً، فَلْيُبْشِرْ وَلَا يُخْبِرْ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن حارث نے عبدربہ بن سعید سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا:اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور برا خواب شیطان کی جانب سے ہے، جس شخص نے کوئی خواب دیکھا اور اس میں سے کوئی چیز اس کو بری لگی تو وہ (تین بار) اپنی بائیں جانب تھوکے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے تو وہ خواب اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور یہ خواب وہ کسی کو بیان نہ کرے۔ اگر اچھا خواب دیکھے تو خوش ہو اور صرف اس کو بتائے جو اس سے محبت کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5902]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5902 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي قَتَادَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالرُّؤْيَا السَّوْءُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَمَنْ رَأَى رُؤْيَا فَكَرِهَ مِنْهَا شَيْئًا، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ لَا تَضُرُّهُ، وَلَا يُخْبِرْ بِهَا أَحَدًا، فَإِنْ رَأَى رُؤْيَا حَسَنَةً، فَلْيُبْشِرْ وَلَا يُخْبِرْ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن حارث نے عبدربہ بن سعید سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا:اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور برا خواب شیطان کی جانب سے ہے، جس شخص نے کوئی خواب دیکھا اور اس میں سے کوئی چیز اس کو بری لگی تو وہ (تین بار) اپنی بائیں جانب تھوکے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے تو وہ خواب اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور یہ خواب وہ کسی کو بیان نہ کرے۔ اگر اچھا خواب دیکھے تو خوش ہو اور صرف اس کو بتائے جو اس سے محبت کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5902]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2261 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبَا قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي، قَالَ: فَلَقِيتُ أَبَا قَتَادَةَ ، فَقَالَ: وَأَنَا كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا فَتُمْرِضُنِي، حَتَّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا إِلَّا مَنْ يُحِبُّ، وَإِنْ رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشَرِّهَا، وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے عبدربہ بن سعید سے، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی، کہا: بعض اوقات میں ایسا خواب دیکھتا تھا جس سے میں بیمار پڑ جاتا تھا، یہاں تک کہ میری حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: میں بھی بعض اوقات خواب دیکھتا تھا جو مجھے بیمار کر دیتے تھے، یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:اچھا خواب اللہ کی جانب سے ہوتا ہے، جب تم میں سے کوئی شخص اچھا خواب دیکھے تو وہ صرف اس شخص کو بتائے جو (اس سے) محبت کرتا ہو اور اگر ناپسندیدہ خواب دیکھے تو تین بار اپنی بائیں جانب تھوکے اور تین بار شیطان اور اس خواب کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور وہ خواب کسی کو نہ بتائے تو وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5903]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5903 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبَا قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي، قَالَ: فَلَقِيتُ أَبَا قَتَادَةَ ، فَقَالَ: وَأَنَا كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا فَتُمْرِضُنِي، حَتَّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا إِلَّا مَنْ يُحِبُّ، وَإِنْ رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشَرِّهَا، وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے عبدربہ بن سعید سے، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی، کہا: بعض اوقات میں ایسا خواب دیکھتا تھا جس سے میں بیمار پڑ جاتا تھا، یہاں تک کہ میری حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: میں بھی بعض اوقات خواب دیکھتا تھا جو مجھے بیمار کر دیتے تھے، یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:اچھا خواب اللہ کی جانب سے ہوتا ہے، جب تم میں سے کوئی شخص اچھا خواب دیکھے تو وہ صرف اس شخص کو بتائے جو (اس سے) محبت کرتا ہو اور اگر ناپسندیدہ خواب دیکھے تو تین بار اپنی بائیں جانب تھوکے اور تین بار شیطان اور اس خواب کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور وہ خواب کسی کو نہ بتائے تو وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5903]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2262 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا، فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے برا لگے تو تین بار اپنی بائیں جانب تھوکے اور تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے اور جس کروٹ لیٹا ہوا تھا اسے بدل لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5904]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5904 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا، فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے برا لگے تو تین بار اپنی بائیں جانب تھوکے اور تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے اور جس کروٹ لیٹا ہوا تھا اسے بدل لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5904]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2263 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ تَكْذِبُ، وَأَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا، وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَالرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ: فَرُؤْيَا الصَّالِحَةِ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ، وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ الْمَرْءُ نَفْسَهُ، فَإِنْ رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ، فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ، وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ "، قَالَ: وَأُحِبُّ الْقَيْدَ، وَأَكْرَهُ الْغُلَّ، وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ، فَلَا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ، أَمْ قَالَهُ ابْنُ سِيرِينَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالوہاب ثقفی نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:(قیامت کا) زمانہ قریب آجائے گا تو کسی مسلمان کا خواب جھوٹا نہ نکلے گا۔ تم میں سے ان کے خواب زیادہ سچے ہوں گے جو بات میں زیادہ سچے ہوں گے۔ مسلمان کا خواب نبوت کے پنتالیس حصوں میں سے ایک (پنتالیسواں) حصہ ہے۔ خواب تین طرح کے ہوتے ہیں۔ اچھا خواب اللہ کی طرف سے خوشخبری ہوتا ہے۔ ایک خواب شیطان کی طرف سے غمگین کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اور ایک خواب وہ جس میں انسان خود اپنے آپ سے بات کرتا ہے (اس کے اپنے تخیل کی کار فرمائی ہوتی ہے)۔ اگر تم میں سے کوئی شخص ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کھڑا ہو جائے اور نماز پڑھے اور لوگوں کو اس کے بارے میں کچھ نہ بتائے۔فرمایا:(پاؤں کی) بیڑی (خواب میں دیکھنا) مجھے پسند ہے اور (گلے کا) طوق ناپسند ہے۔ بیڑی دین میں ثابت قدمی (کی علامت) ہے۔(ثقفی نے ایوب سختیانی سے نقل کرتے ہوئے کہا:) تو مجھے معلوم نہیں کہ یہ بات حدیث (نبوی) میں ہے یا بن سیرین نے کہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5905]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5905 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ تَكْذِبُ، وَأَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا، وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَالرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ: فَرُؤْيَا الصَّالِحَةِ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ، وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ الْمَرْءُ نَفْسَهُ، فَإِنْ رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ، فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ، وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ "، قَالَ: وَأُحِبُّ الْقَيْدَ، وَأَكْرَهُ الْغُلَّ، وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ، فَلَا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ، أَمْ قَالَهُ ابْنُ سِيرِينَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالوہاب ثقفی نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:(قیامت کا) زمانہ قریب آجائے گا تو کسی مسلمان کا خواب جھوٹا نہ نکلے گا۔ تم میں سے ان کے خواب زیادہ سچے ہوں گے جو بات میں زیادہ سچے ہوں گے۔ مسلمان کا خواب نبوت کے پنتالیس حصوں میں سے ایک (پنتالیسواں) حصہ ہے۔ خواب تین طرح کے ہوتے ہیں۔ اچھا خواب اللہ کی طرف سے خوشخبری ہوتا ہے۔ ایک خواب شیطان کی طرف سے غمگین کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اور ایک خواب وہ جس میں انسان خود اپنے آپ سے بات کرتا ہے (اس کے اپنے تخیل کی کار فرمائی ہوتی ہے)۔ اگر تم میں سے کوئی شخص ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کھڑا ہو جائے اور نماز پڑھے اور لوگوں کو اس کے بارے میں کچھ نہ بتائے۔فرمایا:(پاؤں کی) بیڑی (خواب میں دیکھنا) مجھے پسند ہے اور (گلے کا) طوق ناپسند ہے۔ بیڑی دین میں ثابت قدمی (کی علامت) ہے۔(ثقفی نے ایوب سختیانی سے نقل کرتے ہوئے کہا:) تو مجھے معلوم نہیں کہ یہ بات حدیث (نبوی) میں ہے یا بن سیرین نے کہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5905]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2263 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَيُعْجِبُنِي الْقَيْدُ، وَأَكْرَهُ الْغُلَّ، وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور حدیث میں کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو مجھے بیڑی (خواب میں دیکھنی) اچھی لگتی ہے۔ اور طوق ناپسند ہے۔ بیڑی دین میں ثابت قدمی (کو ظاہر کرتی) ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:مسلمان کا (سچا) خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک (چھیالیسواں) حصہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5906]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5906 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَيُعْجِبُنِي الْقَيْدُ، وَأَكْرَهُ الْغُلَّ، وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور حدیث میں کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو مجھے بیڑی (خواب میں دیکھنی) اچھی لگتی ہے۔ اور طوق ناپسند ہے۔ بیڑی دین میں ثابت قدمی (کو ظاہر کرتی) ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:مسلمان کا (سچا) خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک (چھیالیسواں) حصہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5906]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة