بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 5905 — باب: خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور یہ نبوت کا حصہ ہیں۔
کتب صحیح مسلم خواب کا بیان باب: خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور یہ نبوت کا حصہ ہیں۔ حدیث 5905
حدیث نمبر: 5905 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ تَكْذِبُ، وَأَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا، وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَالرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ: فَرُؤْيَا الصَّالِحَةِ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ، وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ الْمَرْءُ نَفْسَهُ، فَإِنْ رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ، فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ، وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ "، قَالَ: وَأُحِبُّ الْقَيْدَ، وَأَكْرَهُ الْغُلَّ، وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ، فَلَا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ، أَمْ قَالَهُ ابْنُ سِيرِينَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالوہاب ثقفی نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:(قیامت کا) زمانہ قریب آجائے گا تو کسی مسلمان کا خواب جھوٹا نہ نکلے گا۔ تم میں سے ان کے خواب زیادہ سچے ہوں گے جو بات میں زیادہ سچے ہوں گے۔ مسلمان کا خواب نبوت کے پنتالیس حصوں میں سے ایک (پنتالیسواں) حصہ ہے۔ خواب تین طرح کے ہوتے ہیں۔ اچھا خواب اللہ کی طرف سے خوشخبری ہوتا ہے۔ ایک خواب شیطان کی طرف سے غمگین کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اور ایک خواب وہ جس میں انسان خود اپنے آپ سے بات کرتا ہے (اس کے اپنے تخیل کی کار فرمائی ہوتی ہے)۔ اگر تم میں سے کوئی شخص ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کھڑا ہو جائے اور نماز پڑھے اور لوگوں کو اس کے بارے میں کچھ نہ بتائے۔فرمایا:(پاؤں کی) بیڑی (خواب میں دیکھنا) مجھے پسند ہے اور (گلے کا) طوق ناپسند ہے۔ بیڑی دین میں ثابت قدمی (کی علامت) ہے۔(ثقفی نے ایوب سختیانی سے نقل کرتے ہوئے کہا:) تو مجھے معلوم نہیں کہ یہ بات حدیث (نبوی) میں ہے یا بن سیرین نے کہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5905]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (5904) باب پر واپس اگلی حدیث (5906) →