بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 5903 — باب: خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور یہ نبوت کا حصہ ہیں۔
کتب صحیح مسلم خواب کا بیان باب: خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور یہ نبوت کا حصہ ہیں۔ حدیث 5903
حدیث نمبر: 5903 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبَا قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي، قَالَ: فَلَقِيتُ أَبَا قَتَادَةَ ، فَقَالَ: وَأَنَا كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا فَتُمْرِضُنِي، حَتَّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا إِلَّا مَنْ يُحِبُّ، وَإِنْ رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشَرِّهَا، وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے عبدربہ بن سعید سے، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی، کہا: بعض اوقات میں ایسا خواب دیکھتا تھا جس سے میں بیمار پڑ جاتا تھا، یہاں تک کہ میری حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: میں بھی بعض اوقات خواب دیکھتا تھا جو مجھے بیمار کر دیتے تھے، یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:اچھا خواب اللہ کی جانب سے ہوتا ہے، جب تم میں سے کوئی شخص اچھا خواب دیکھے تو وہ صرف اس شخص کو بتائے جو (اس سے) محبت کرتا ہو اور اگر ناپسندیدہ خواب دیکھے تو تین بار اپنی بائیں جانب تھوکے اور تین بار شیطان اور اس خواب کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور وہ خواب کسی کو نہ بتائے تو وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرُّؤْيَا/حدیث: 5903]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (5902) باب پر واپس اگلی حدیث (5904) →