بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: محرم مر جائے تو کیا کیا جائے؟
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: محرم مر جائے تو کیا کیا جائے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1206 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ، فَقَالَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے عمرو (بن دینار) سے (انہوں نے) سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ ایک شخص اپنے اونٹ سے گر گیا۔ اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے دونوں کپڑوں (احرام کی دونوں چادروں) میں اسے کفن دو اس کا سر نہ ڈھانپو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2891]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2891 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ، فَقَالَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے عمرو (بن دینار) سے (انہوں نے) سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ ایک شخص اپنے اونٹ سے گر گیا۔ اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے دونوں کپڑوں (احرام کی دونوں چادروں) میں اسے کفن دو اس کا سر نہ ڈھانپو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2891]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1206 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادٌ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَأَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، قَالَ أَيُّوبُ: فَأَوْقَصَتْهُ، أَوَ قَالَ: فَأَقْعَصَتْهُ، وَقَالَ عَمْرٌو: فَوَقَصَتْهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ"، قَالَ أَيُّوبُ:" فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا"، وَقَالَ عَمْرٌو:" فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي"،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد نے عمرو بن دینار اور ایوب سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کہا: ایک شخص عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ وقف میں تھا کہ اپنی سواری سے گر گیا ایوب نے کہا اس کی سواری نے اس کی گردن توڑ ڈالی۔۔۔یا کہا: اسے اسی وقت مار ڈالا۔۔۔اور عمرو نے فوقصتہ کہا (اس کی گردن کا منکا توڑ دیا۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی تو فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے کپڑوں میں کفن دو اسے خوشبو نہ لگاؤ نہ اس کا سر ڈھانپو۔ ایوب نے کہا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اسی حالت میں تلبیہ کہتا ہوا اٹھائے گا۔ اور عمرو نے کہا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اٹھائے گا۔ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2892]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2892 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادٌ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَأَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، قَالَ أَيُّوبُ: فَأَوْقَصَتْهُ، أَوَ قَالَ: فَأَقْعَصَتْهُ، وَقَالَ عَمْرٌو: فَوَقَصَتْهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ"، قَالَ أَيُّوبُ:" فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا"، وَقَالَ عَمْرٌو:" فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي"،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد نے عمرو بن دینار اور ایوب سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کہا: ایک شخص عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ وقف میں تھا کہ اپنی سواری سے گر گیا ایوب نے کہا اس کی سواری نے اس کی گردن توڑ ڈالی۔۔۔یا کہا: اسے اسی وقت مار ڈالا۔۔۔اور عمرو نے فوقصتہ کہا (اس کی گردن کا منکا توڑ دیا۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی تو فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے کپڑوں میں کفن دو اسے خوشبو نہ لگاؤ نہ اس کا سر ڈھانپو۔ ایوب نے کہا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اسی حالت میں تلبیہ کہتا ہوا اٹھائے گا۔ اور عمرو نے کہا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اٹھائے گا۔ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2892]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1206 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ: نُبِّئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا كَانَ وَاقِفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَذَكَرَ نَحْوَ مَا ذَكَرَ حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے حدیث بیان کی۔ کہا مجھے سعید بن جبیر سے خبر دی گئی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ وقوف کر رہا تھا اور احرام کی حالت میں تھا (آگے) ایوب سے حماد کی روایت کی مانند حدیث ذکر کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2893]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2893 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ: نُبِّئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا كَانَ وَاقِفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَذَكَرَ نَحْوَ مَا ذَكَرَ حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے حدیث بیان کی۔ کہا مجھے سعید بن جبیر سے خبر دی گئی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ وقوف کر رہا تھا اور احرام کی حالت میں تھا (آگے) ایوب سے حماد کی روایت کی مانند حدیث ذکر کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2893]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1206 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَّ مِنْ بَعِيرِهِ، فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي"،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے عمرو بن دینار نے سعید بن جبیر سے خبر دی انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، فرمایا: ایک شخص احرام کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ آیا وہ اپنے اونٹ سے گر گیا (اس سے) اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو۔ اس کے اپنے (احرام کے) دو کپڑے پہناؤ اس کا سر نہ ڈھانپو بلاشبہ وہ قیامت کے روز آئے گا۔ تلبیہ پکار رہا ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2894]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2894 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَّ مِنْ بَعِيرِهِ، فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي"،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے عمرو بن دینار نے سعید بن جبیر سے خبر دی انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، فرمایا: ایک شخص احرام کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ آیا وہ اپنے اونٹ سے گر گیا (اس سے) اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو۔ اس کے اپنے (احرام کے) دو کپڑے پہناؤ اس کا سر نہ ڈھانپو بلاشبہ وہ قیامت کے روز آئے گا۔ تلبیہ پکار رہا ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2894]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1206 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:" فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا"، وَزَادَ لَمْ يُسَمِّ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ حَيْثُ خَرَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن بکر برسانی نے کہا: ہمیں ابن جریج نے عمرو بن دینار سے خبر دی کہ انہیں سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے خبر دی۔ کہا: ایک شخص احرام کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ آیا۔ (آگے اسی کے مانند ہے مگر (محمد بن بکر نے) کہا بلاشبہ اسے قیامت کے روز تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ اس میں یہ اضافہ کیا کہ سعید بن جبیر نے گرنے کی جگہ کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2895]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2895 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:" فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا"، وَزَادَ لَمْ يُسَمِّ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ حَيْثُ خَرَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن بکر برسانی نے کہا: ہمیں ابن جریج نے عمرو بن دینار سے خبر دی کہ انہیں سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے خبر دی۔ کہا: ایک شخص احرام کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ آیا۔ (آگے اسی کے مانند ہے مگر (محمد بن بکر نے) کہا بلاشبہ اسے قیامت کے روز تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ اس میں یہ اضافہ کیا کہ سعید بن جبیر نے گرنے کی جگہ کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2895]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1206 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا أَوْقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ وَلَا وَجْهَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص کو اس کی سواری نے گرا کر مار دیا وہ احرام کی حالت میں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے (احرام کے) دو کپڑوں میں کفناؤ اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپو۔ بلاشبہ اسے قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2896]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2896 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا أَوْقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ وَلَا وَجْهَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص کو اس کی سواری نے گرا کر مار دیا وہ احرام کی حالت میں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے (احرام کے) دو کپڑوں میں کفناؤ اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپو۔ بلاشبہ اسے قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2896]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1206 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، هُشَيْمٌ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا. ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں ابوبشر نے حدیث سنائی کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص احرام کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور وہ فوت ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے اس کے دو کپڑوں (احرام کی دو چادروں) میں کفن دو نہ اسے خوشبو لگاؤ نہ اس کا سر ڈھانپو بلاشبہ یہ قیامت کے دن اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے بال چپکے ہوئے ہوں گے۔ (جس طرح موت کے وقت احرام کی حالت میں تھے) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2897]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2897 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، هُشَيْمٌ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا. ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں ابوبشر نے حدیث سنائی کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص احرام کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور وہ فوت ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے اس کے دو کپڑوں (احرام کی دو چادروں) میں کفن دو نہ اسے خوشبو لگاؤ نہ اس کا سر ڈھانپو بلاشبہ یہ قیامت کے دن اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے بال چپکے ہوئے ہوں گے۔ (جس طرح موت کے وقت احرام کی حالت میں تھے) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2897]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1206 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَلَا يُمَسَّ طِيبًا، وَلَا يُخَمَّرَ رَأْسُهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے ابوبشر سے حدیث سنائی انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص کو اس کے اونٹ نے (گرا کر) اس (کی گردن) کا منکا توڑ دیا جبکہ وہ (شخص) احرام کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (سفر حج میں شریک) تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے خوشبو نہ لگائی جائے نہ ہی اس کا سر ڈھانپا جائے۔ بلاشبہ اسے قیامت کے روز (احرام کی حالت میں) چپکے ہوئے بالوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2898]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2898 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَلَا يُمَسَّ طِيبًا، وَلَا يُخَمَّرَ رَأْسُهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے ابوبشر سے حدیث سنائی انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص کو اس کے اونٹ نے (گرا کر) اس (کی گردن) کا منکا توڑ دیا جبکہ وہ (شخص) احرام کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (سفر حج میں شریک) تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے خوشبو نہ لگائی جائے نہ ہی اس کا سر ڈھانپا جائے۔ بلاشبہ اسے قیامت کے روز (احرام کی حالت میں) چپکے ہوئے بالوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2898]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1206 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافعٍ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، أَبَا بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافعٍ ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ: أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يُحَدِّثُ:" أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَوَقَعَ مِنْ نَاقَتِهِ فَأَقْعَصَتْهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا يُمَسَّ طِيبًا، خَارِجٌ رَأْسُهُ"، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ حَدَّثَنِي بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ:" خَارِجٌ رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے کہا: میں نے ابوبشر سے سنا وہ سعید بن جبیر سے حدیث بیان کر رہے تھے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ احرام کی حالت میں تھا (اسی دوران میں) وہ اپنی اونٹنی سے گر گیا تو اس نے اسی وقت اسے مار دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے اور اسے دو کپڑوں میں کفن دیا جائے خوشبو نہ لگائی جائے اور اس کا سر (کفن سے) باہر نکلا ہوا ہو۔ شعبہ نے کہا مجھے بعد میں انہوں نے یہی حدیث (اس طرح) بیان کیا کہ اس کا سر اور چہرہ باہر ہو۔ بلاشبہ اسے قیامت کے دن (احرام میں) چپکے بالوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2899]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2899 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافعٍ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، أَبَا بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافعٍ ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ: أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يُحَدِّثُ:" أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَوَقَعَ مِنْ نَاقَتِهِ فَأَقْعَصَتْهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا يُمَسَّ طِيبًا، خَارِجٌ رَأْسُهُ"، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ حَدَّثَنِي بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ:" خَارِجٌ رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے کہا: میں نے ابوبشر سے سنا وہ سعید بن جبیر سے حدیث بیان کر رہے تھے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ احرام کی حالت میں تھا (اسی دوران میں) وہ اپنی اونٹنی سے گر گیا تو اس نے اسی وقت اسے مار دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے اور اسے دو کپڑوں میں کفن دیا جائے خوشبو نہ لگائی جائے اور اس کا سر (کفن سے) باہر نکلا ہوا ہو۔ شعبہ نے کہا مجھے بعد میں انہوں نے یہی حدیث (اس طرح) بیان کیا کہ اس کا سر اور چہرہ باہر ہو۔ بلاشبہ اسے قیامت کے دن (احرام میں) چپکے بالوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2899]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1206 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، زُهَيْرٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَقَصَتْ رَجُلًا رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَنْ يَكْشِفُوا وَجْهَهُ، حَسِبْتُهُ قَالَ: وَرَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ يُهِلُّ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزبیر نے کہا میں نے سعید بن جبیر کو کہتے ہوئے سنا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ایک شخص کی اس کی سواری نے گرا کر گردن توڑ دی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کو حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیں اس کا چہرہ۔۔۔اور میرا خیال ہے کہا۔۔۔اور سر برہنہ رکھیں۔ بلاشبہ قیامت کے دن اسے اس طرح اٹھایا جائے گا کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکار رہا ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2900]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2900 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، زُهَيْرٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَقَصَتْ رَجُلًا رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَنْ يَكْشِفُوا وَجْهَهُ، حَسِبْتُهُ قَالَ: وَرَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ يُهِلُّ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزبیر نے کہا میں نے سعید بن جبیر کو کہتے ہوئے سنا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ایک شخص کی اس کی سواری نے گرا کر گردن توڑ دی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کو حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیں اس کا چہرہ۔۔۔اور میرا خیال ہے کہا۔۔۔اور سر برہنہ رکھیں۔ بلاشبہ قیامت کے دن اسے اس طرح اٹھایا جائے گا کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکار رہا ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2900]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة