أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَلَا يُمَسَّ طِيبًا، وَلَا يُخَمَّرَ رَأْسُهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے ابوبشر سے حدیث سنائی انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص کو اس کے اونٹ نے (گرا کر) اس (کی گردن) کا منکا توڑ دیا جبکہ وہ (شخص) احرام کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (سفر حج میں شریک) تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے خوشبو نہ لگائی جائے نہ ہی اس کا سر ڈھانپا جائے۔ بلاشبہ اسے قیامت کے روز (احرام کی حالت میں) چپکے ہوئے بالوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2898]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة