أَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا أَوْقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ وَلَا وَجْهَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص کو اس کی سواری نے گرا کر مار دیا وہ احرام کی حالت میں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے (احرام کے) دو کپڑوں میں کفناؤ اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپو۔ بلاشبہ اسے قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2896]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة